95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 95:1

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

قسم انجیر کی اور زیتون کی9

9 انجیر اور زیتون دونوں چیزیں نہایت کثیر المنافع اور جامع الفوائد ہونے کی وجہ سے انسان کی حقیقت جامعہ کے ساتھ خصوصی مشابہت رکھتے ہیں۔ اسی لئے " لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم " کے مضمون کو ان دونوں کی قسم سے شروع کیا۔ اور بعض محققین کہتے ہیں کہ یہاں " التین " اور " الزیتون " سے دو پہاڑوں کی طرف اشارہ ہے جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے۔ گویا ان درختوں کی قسم مقصود نہیں بلکہ اس مقام مقدس کی قسم کھائی ہے جہاں یہ درخت بکثرت پائے جاتے ہیں اور وہی مولد و مبعث حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ہے۔
Ayahs 95:2–3

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اور طور سینین کی

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

اور اس شہر امن والے کی1

1 " طور سینین " یا " طور سینا " وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے شرف ہم کلامی بخشا۔ اور " امن والا شہر " مکہ معظمہ ہے جہاں سارے عرب عالم کے سردار حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے اور اللہ کی سب سے بڑی اور آخری امانت (قرآن کریم) اول اسی شہر میں اتاری گئی۔ تورات کے آخر میں ہے " اللہ طور سینا سے آیا اور ساعیر سے چمکا (جو بیت المقدس کا پہاڑ ہے) اور فاران سے بلند ہو کر پھیلا۔ " (فاران مکہ کے پہاڑ ہیں) ۔
Ayah 95:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

ہم نے بنایا آدمی خوب سے اندازے پر2

2 یعنی یہ سب مقامات متبرکہ جہاں سے ایسے ایسے اولوالعزم پیغمبر اٹھے گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو کیسے اچھے سانچے میں ڈھالا، اور کیسی کچھ قوتیں اور ظاہری و باطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کی ہیں۔ اگر یہ اپنی صحیح فطرت پر ترقی کرے تو فرشتوں سے گوئے سبقت لے جائے۔ بلکہ مسجود ملائکہ بنے۔
Ayah 95:5

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر پھینک دیا اس کو نیچوں سے نیچے3

3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اس کو لائق بنایا فرشتوں کے مقام کا۔ پھر جب منکر ہوا تو جانوروں سے بدتر ہے۔ "
Ayah 95:6

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

مگر جو یقین لائے اور عمل کیے اچھے سو ان کے لیے ثواب ہے بےانتہا4

4 جو کبھی کم یا ختم نہ ہوگا۔
Ayah 95:7

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

پھر تو اس کے پیچھے کیوں جھٹلائے بدلہ ملنے کو5

5 یعنی او آدمی ! ان دلائل کے بعد کیا سبب ہے جس کی بناء پر سلسلہ جزاء و سزا کا انکار کیا جاسکتا ہے ؟ یا یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہوگا۔ یعنی ایسے صاف بیانات کے بعد کیا چیز ہے جو منکرین کو جزاء کے معاملہ میں تمہاری تکذیب پر آمادہ کرتی ہے خیال کرو ! انسان کو اللہ نے پیدا کیا اور بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا۔ اس کا قوام ایسی ترکیب سے بنایا کہ اگر چاہے تو نیکی اور بھلائی میں ترقی کر کے فرشتوں سے آگے نکل جائے، کوئی مخلوق اس کی ہمسری نہ کرسکے۔ چناچہ اس کے کامل نمونے دنیا نے شام، بیت المقدس، کوہ طور اور مکہ معظمہ میں اپنے اپنے وقت پر دیکھ لئے جن کے نقش قدم پر اگر آدمی چلیں تو انسانی کمالات اور دارین کی کامیابی کے اعلیٰ ترین مقامات پر پہنچ جائیں۔ لیکن انسان خود اپنی بدتمیزی اور بد عملی سے ذلت و ہلاکت کے گڑھے میں گرتا اور اپنی پیدائشی بزرگی کو گنوا دیتا ہے۔ کسی ایماندار اور نیکوکار انسان کو اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ نیچے نہیں گراتا بلکہ اس کے تھوڑے عمل کا بےاندازہ صلہ مرحمت فرماتا ہے۔ کیا ان حالات کے سننے کے بعد بھی کسی کا منہ ہے جو دین فطرت کے اصول اور جزاء و سزا کے ایسے معقول قاعدوں کو جھٹلا سکے ؟ ہاں ایک ہی صورت تکذیب وانکار کی ہوسکتی ہے کہ دنیا کو یونہی ایک بےسرا کارخانہ فرض کرلیا جائے۔ جس پر نہ کسی کی حکومت ہو نہ یہاں کوئی آئین و قانون جاری ہو، نہ کسی بھلے برے پر کوئی گرفت کرسکے، اس کا جواب آگے دیتے ہیں " الیس اللّٰہ باحکم الحکمین۔ "
Ayah 95:8

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم6

6 یعنی اس کی شہنشاہی کے سامنے دنیا کی سب حکومتیں ہیچ ہیں۔ جب یہاں کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں اپنے وفاداروں کو انعام اور مجرموں کو سزا دیتی ہیں تو اس احکم الحاکمین کی سرکار سے یہ توقع کیوں نہ رکھی جائے۔