Ayahs 95:1–8یوم الحساب کیوں ضروری ہے ؟
تشریح : یہ سورت انسان کی روحانی مادی زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے رازوں کو بیان کرتی ہے۔ مثلاً انسان کا احسن تقویم ہونا یعنی شکل و صورت ' بناوٹ اور کردار اور منصب میں تمام قسم کی مخلوقات سے بہترین ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا اسی مقصد کے تحت اس کا حساب کتاب لے کر سزا و جزا ملنا ضروری ہے۔ اس بات کو اور بھی پکا کرنے کے لیے اللہ رب العٰلمین چار مشہور اور خاص صفات رکھنے والی چیزوں کی قسم کھاتے ہیں۔ وہ چار چیزیں بھی اپنی خصوصیات کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو منتخب کیا گیا ہے۔
پہلی چیز ہے انجیر :۔ اس کی بناوٹ حیران کن حد تک انسان سے مشابہت رکھتی ہے۔ انجیر اور زیتون کے بیجوں کا سائز تقریباً وہی ہے جو مردانہ سپرم کے خلیے کی مادہ عورت کے تخم سے ہے۔ اس کی قوت بخش غذائیت بنیادی خوراک کا ذریعہ ہے۔ انجیر کی بناوٹ میں انسانی حیات کے دو بنیادی سیال مادے ' دودھ اور خون سے بہت مشابہت رکھتے ہیں اور یہ انسان کے لیے انتہائی مفید اور صحت بخش غذا ہے۔
دوسری چیز ہے زیتون :۔ یہ صرف انسانوں کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ جانور اسے نہیں کھاتے اور یہ انسان کے لیے انتہائی کارآمد اور قوت بخش غذا ہے۔ ثابت ہوا ہے کہ یہ انسانی دماغ ' دل اور جنسی خلیوں کو مضبوط کرنے میں بہت بڑا حصہ رکھتا ہے۔ کیونکہ اس میں بہترین مفید کیمیائی اجزا پائے جاتے ہیں۔
تیسری چیز ہے طورسینین :۔ یہ وہ سرسبز اور مبارک علاقے ہیں جن کا تعلق شام اور فلسطین سے ہے۔ انتہائی صحت افزا مقامات ہیں۔ انہیں علاقوں میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کی گئی اور یوں اس مقدس علاقے کی قسم کھائی گئی۔
چوتھی چیز ہے شہر امن : یعنی شہر مکہ یہ دنیا کا مقدس ترین شہر ہے اور زمانہ جاہلیت میں بھی یہاں چار مہینے امن کے مقرر تھے۔ اس شہر کے امن کے لیے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی ' اے میرے رب اس کو پر امن شہر بنا۔ (بقرہ :126)
کون نہیں جانتا کہ شہر مکہ ہی ہے جو مسلمانوں کے لیے مرکز کا نشان ہے۔ دنیا بھر سے مسلمان حج کے فرض کو پورا کرنے کے لیے اسی شہر مکہ کا رخ کرتے ہیں جہاں خانہ کعبہ موجود ہے۔ اور جہاں انسان حیوان بلکہ نباتات کو بھی تلف کرنا منع ہے۔ تو ثابت ہوگیا کہ یہ چاروں چیزیں انسان کی طرح اپنے اپنے حلقہ میں اعلی مقام رکھتی ہیں اور اس اعلی تخلیق یعنی جو احسن تقویم ہے یعنی '' انسان '' سے قریبی مماثلت رکھتی ہیں۔ اسی لیے ان کی قسم رب العزت نے کھائی ہے۔ اب ذرا '' احسن تقویم '' انسان کی بات ہوجائے۔
انسان اللہ تعالیٰ کا بہترین شاہکار ہے کیونکہ انسان کو اس نے اپنے نائب کا درجہ دیا اور مسجود ملائک بنایا لہذا اس کا جسمانی و روحانی دونوں طرح سے مکمل ترین اور خوبصورت ترین ہونا ضروری ہے۔ انسانی جسم میں تمام حیاتیاتی عناصر موجود ہیں۔ انسانی جسم کا ہر حصہ حیرت انگیز بناوٹ کا مظہر ہے۔ مثلاً '' دماغ '' اپنی ساخت ' حجم اور کام کے لحاظ سے بہترین ذخیرہ یا سٹور کہلاتا ہے۔ '' جـگر '' کا خلیہ ایسے کیمیکل بناتا ہے جو ہر قسم کے زہر کی کیمیائی ساخت کو تبدیل کرسکتا ہے۔ اسی طرح سفید خلیے یہ ہراس نقصان دہ خلیے کو معلوم کرلیتے ہیں جو انسان کے لیے نقصان دہ ہو اور یہ بہترین پہرے دار ان اجنبی خلیوں کو تباہ کردیتے ہیں۔ اسی طرح جنسی ریکارڈ ' یہ انتہائی پیچیدہ کارڈ ہے جو سپرم کے اندر ہر انسان کے چہرے کی تصویر ' تقدیر ' جنس ' فنگر پر نٹس تک پہلے ہی سے کوڈ (درج) کر دئیے جاتے ہیں۔
D.N.A جینی رازوں کو انتہائی کمال سے ایک نقطے کے دس لاکھویں حصہ میں درج کردیا جاتا ہے۔ یہ مالیکیول کی حیرت انگیز تخلیق ہے۔ غرض انسان کے جسم کا ہر حصہ آنکھ ' کان ' ناک ' ہاتھ ' پیر ' دل و دماغ غرض ہر چیز انتہائی عجیب و غریب اور بہترین تخلیق کا نمونہ ہے۔ کس قدرخوبصورتی اور احتیاط سے بنایا گیا ہے۔ پھر انسان کو عقل دی ارادہ دیا اور سمجھانے کے لیے قرآن نازل کیا اور تشریح کے لیے پیغمبر ﷺ کو مبعوث کیا۔
پھر بھی کچھ نافرمان لوگ راہ سے بھٹک جاتے ہیں اور یوں خود کو انسانیت کے بہترین درجے سے نیچے گرا کر انتہائی گہرائیوں میں گرادیتے ہیں مگر جو عقل و ارادہ کو ٹھیک سمت میں رکھ کر اللہ کے فرمانبردار نیک بندے ہوتے ہیں اور بلندیوں تک پہنچ کر سرخرو ہوتے ہیں۔ تو یہ انصاف کس طرح ہوسکتا ہے کہ اگر اچھے برے ایک ہی انجام کو پہنچ جائیں۔ یہ اللہ کی حکمت اور انصاف کے بالکل خلاف ہے اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ '' تو اے آدم زاد ! پھر تو جزا کے دن کو کیوں جھٹلاتا ہے ؟ کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ''۔ (آیات 8-7)
خلاصہ سورة التین
ہمیں زندگی گزارتے ہوئے اپنے انجام پر نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ ہمارے چاروں طرف بیشمار مسائل ' خواہشات اور آزمائشیں ہیں ان سب سے بہترین طریقہ سے نمٹ کر بہترین راستہ اور مقام حاصل کرنا ہی ہمیں زیب دیتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ '' موت مومن کو تحفہ کے طور پر پیش کی جاتی ہے ''۔ اور وہ اس کو خوشی سے قبول کرتا ہے۔
نشان مرد مومن باتوگویم
چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست
علامہ اقبال (رح)
بفضل اللہ سورة التین مکمل ہوئی۔ الحمد للہ