Ayahs 96:1–5رسول اللّٰہ ﷺ اور پہلی وحی
تشریح : ان آیات میں پانچ بڑے زبردست حقائق بڑی مختصر آیات میں سمجھائے گئے ہیں۔
1 ۔ نبوت ملنے کا آغاز اور اللہ کا پیغام
2 ۔ اللہ کی عظمت اور قادر مطلق ہونے کا ثبوت۔
3 ۔ انسان کی تخلیق کا ابتدائی راز اور اس کی حقیقت کا بیان۔
4 ۔ رب العزت کی صفات میں سے ایک بڑی صفت اکرام کا ذکر یعنی مہربانی اور حد سے زیادہ رحم کا بیان۔ کہ اس نے انسان کو علم وعرفان سے مالا مال کیا یعنی عقل و فہم اور علم و ارادہ دیا۔
5 ۔ اور انسان کو اتنی عظمت دی کہ اس کو فرشتوں سے زیادہ علم اور فرشتوں سے بڑا درجہ دیا۔
اور ان آیات کے نازل ہونے کا انداز اور واقعہ بڑی تفصیل سے بتایا جا چکا ہے سورت کے تعارف میں۔
یہاں ہم وحی الٰہی جو سب سے پہلی نازل ہوئی اس کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ اسلام میں ناخواندگی کا کوئی تصور نہیں۔ سب سے پہلا حکم ہی پڑھنے کا دیا گیا ہے۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا پہلا ثبوت ہی یہ ہے کہ اس کو فرشتوں سے زیادہ علم دیا گیا اور اس کے علم کی وجہ سے ہی فرشتوں سے اسے سجدہ کروایا گیا۔ اور یہ تمام واقعہ سورة بقرہ میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ (آیات 30 تا 35)
سب سے پہلی وحی الٰہی میں پہلا لفظ ہی پڑھنے کا ہے جو علم کے حصول کی تاکید کرتا ہے۔ دنیا میں انسان کے نائب اللہ ہونے کی شرط بھی یہی تھی کہ وہ علم و عرفان رکھتا تھا۔ اور علمی طور پر علم کی اہمیت یوں بتائی کہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے ساتھ ہی سب سے پہلی درس گاہ '' صفہ '' کے نام سے بنا دی اور آپ ﷺ نے تمام مسلمانوں کے لیے علم کا حصول فرض قرار دیا۔ کیونکہ علم ہی انسانی زندگی کو سنوار سکتا ہے۔ دنیا و دین کی زندگی اور فلاح کا دارومدار علم پر ہی ہے۔ '' علم ایک ایسا پھول ہے جو جتنا زیادہ کھلتا ہے اتنی ہی خوشبو دیتا ہے ''۔
غرض علم اتنا وسیع و عریض خزانہ ہے کہ جس کو بیان کرنا مشکل ہے۔ مختصراً عرض ہے کہ مسلمانوں کی ترقی و کامیابی کی ایک بڑی وجہ ہر قسم کی تعلیمات سے لگاؤ ہی تھا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دور اقتدار میں ہمیشہ تعلیم کو بہت اہمیت دی۔ ہر مسجد میں تعلیم کا بندوبست ضرور ہوتا تھا جہاں بچوں کو دینی و دنیوی تعلیمات دی جاتی تھیں اسی طرح بعض مساجد میں اعلیٰ تعلیم کا بھی بندوبست تھا۔ پھر آہستہ آہستہ مساجد کے علاوہ پورے عالم اسلام میں مدارس ' اعلیٰ مدارس اور جامعات کا جال بچھا دیا گیا جہاں پر غیر مسلم بھی علم حاصل کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام میں شرح خواندگی بہت زیادہ تھی۔ ایک غیر مسلم مورخ ڈوزی لکھتا ہے۔
'' سپین کے تقریباً ہر آدمی کو لکھنا پڑھنا آتا تھا اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب مسیحی پوپ بس علم کے مبادیات ہی جانتا تھا اور یہ مبادیات بھی بڑی حد تک گنتی کے اراکین کلیسا جانتے تھے ''۔
مطالعہ کتب سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے تمام علوم کی بنیاد علم قرآن پر ہی ہے۔ مسلمان علماء فقہاء ' کیمیادان ' محقق ' اور ماہرین علوم نے تحقیقات سے بیشمار حقائق وضع کئے۔
اسلام کی ان دریافتوں کو یورپ نے اپنا کر خوب ترقی کرلی۔ بہر حال سائنس دانوں کی تحقیقات میں ردو بدل ہوتا رہتا ہے جب کہ وحی الٰہی کے ذریعے آنے والا علم جو قرآن اور حدیث میں دیا گیا ہے اس میں کوئی ردو بدل نہیں ہوا اور نہ ہو سکے گا۔ مثال کے طور پر انسان کی پیدائش کے تمام مراحل قرآن پاک میں صاف طور پر بیان کر دئیے گئے ہیں۔ اس سے متعلقہ کئی آیات موجود ہیں جن میں سے ایک میں ابتدائی مرحلے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ '' جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا ''۔ (2 آیت)
اس موضوع پر بڑی تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ وحی الٰہی ہی انسانی علوم وفنون کی بنیاد ہے۔ اور یہ ہی انسان پر اللہ کا سب سے بڑا کرم ہے کہ اس نے اپنی مہربانی سے انسان کو علم و حکمت سے روشناس کیا اور یوں وہ تمام مخلوقات سے ممتاز کردیا گیا۔ اگلی آیت میں انسان کی نااہلی کو بیان کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
Ayahs 96:6–19انسان کی سرکشی اور اس کا انجام
تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے ہیں ڈراوے دیتے ہیں اور دھونس جماتے ہیں۔ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوا کہ ان آیات کا شان نزول ہی وہ واقعہ ہے جو ابو جہل کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ہوا تھا۔
مفسرین مستند روایات کی روشنی میں اس واقعہ کو یوں بیان کرتے ہیں۔ ہوا یوں کہ جب رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ میں نماز پڑھتے تو ابو جہل برا بھلا کہتا اور آپ ﷺ کے ساتھ گستاخی سے پیش آتا۔ جیسا کہ فی زمانہ بھی کسی نومسلم کو ستایا جاتا ہے ابوجہل اپنی حمایتی جماعت کا رعب دیتا تو رب العزت نے فرمایا کہ اگر یہ شخص۔ (یا تمام برے لوگ) ایسی گستاخیوں سے باز نہ آئے تو ہم اس کو گھسیٹ کر جہنم میں داخل کریں گے۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں بھی اس کو یہ سزا ملی کیونکہ جب بدر کی لڑائی میں وہ مارا گیا تو گھسیٹ کر گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کے لیے فرماتا ہے۔ '' کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ دیکھتا ہے۔ (آیت 14)
آیات 14 سے 18 تک ایسے نافرمان ' بیوقوف اور ناعاقبت اندیش لوگوں کے برے انجام کا خوفناک انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور پھر پیارے نبی اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ کبھی کسی صورت بھی باطل اور گمراہی کے راستے پر ہرگز نہ چلنا کیونکہ تم لوگ اس حی القیوم ' قادر مطلق خالق کون و مکان کے بندے ہو جس کا کوئی ثانی نہیں اور جو اس کی راہ اختیار کرے اس کی مدد اور اس کی حفاظت میں رہے اس کو ہرگز کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ بےخوف و خطر پورے یقین اور اعتماد سے اس کی راہ میں چلتے چلو۔
نماز پڑھو اس سے مدد طلب کرو۔ اس سے بڑا نہ کوئی مددگار ہے نہ حافظ و ناصر ہے۔ اسی لیے انسان پوری دنیا سے بلکہ خود اپنے آپ سے بھی بےنیاز ہو کر صرف اللہ کے لیے اس کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ سجدہ انسان کی نفی کردیتا ہے اور اس کے اندر وہ بندگی پیدا کردیتا ہے جو اس کو صرف اللہ سے ڈرنے والا ' کفر اور کسی بھی طاقت سے بےخوف بنا دیتا ہے ایسا شخص قوت و کردار میں انتہائی مضبوط ' پاکیزگی ' خیال کا مجسمہ ' روحانی بلندیوں میں لاجواب اور مضبوط بندہ خدا بن جاتا ہے۔ اس کے اندر اللہ کی محبت رسول ﷺ کی محبت اس قدر بھر جاتی ہے کہ اس کو ہر جگہ اللہ ہی اللہ دکھائی دینے لگتا ہے اور پھر بےاختیار اس کے سامنے جبین نیاز ٹیک دیتا ہے اس ذکر و فکر سے وہ اللہ کے حضور بلند مرتبہ حاصل کرلیتا ہے۔ یہ طاقت انبیا ' اولیاء کو بھی حسب مراتب ملتی رہتی ہے اور عام انسان بھی اللہ کی دی ہوئی اس نعمت کا کچھ تھوڑا بہت حصہ حسب عبادت و ریاضت حاصل کرلیتا ہے۔
نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
ازل اس کے پیچھے ' ابد سامنے
اللہ جو تمام عظمتوں ' برکتوں اور طاقتوں کا سرچشمہ ہے۔ اس سے حصہ لینے کا راستہ صرف ایک ہی ہے کہ اللہ سے خود کو مربوط کرلیں اس کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں۔ تو اس مقصد میں کامیابی کا ذریعہ صرف عبادت و ریاضت ہے اور اس میں اول ترین طریقہ سجدہ ہے۔ ایسا سجدہ جو اس کو مرد کامل ' مقبولِ الٰہی اور آہنی بندہ بنا دے اور وہ اقبال کا ایسا بندہ آہن بن جائے۔
دو نیم اس کی ٹھوکر سے صحرا ' و دریا
سمٹ کر پہاڑ اس کی ہیبت سے رائی
خلاصہ سورة العلق
اس سورة مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ پر پہلئ وحی کے نازل ہونے کا ذکر ہے اس کے بعد ابوجہل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جب وحی کے نزول کے بعد نبی پاک ﷺ نے اللہ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق نماز ادا کی تو ابوجہل نے آپ ﷺ کو روکنا چاہا تو اللہ تعالیٰ کے حکم اور مداخلت سے ایسا نہ کرسکا اللہ تعالیٰ حکم صادر فرماتے ہیں کہ تم میرے حکم کی تعمیل میں سجدہ ریز رہو اگر وہ تمہیں روکنے کے لیے اپنے حامیوں کی ایک جماعت بھی بلالے گا تو ہم آپ ﷺ کی مدد کو فرشتے بھیج دیں گے جو ان کو آپ ﷺ سے دور رکھیں گے آپ ﷺ بےخوف ہو کر نماز ادا کریں اس سلسلہ میں سیدنا ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ بندہ سب سے زیادہ اپنے رب سے اس وقت قریب ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)
اور جو سجدہ سے منہ موڑ دے تو پھر اس کو جہنم کے گڑھے کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔ اللہ کا یہی فرمان ہے۔
الحمد للہ کہ سورت العلق مکمل ہوگئی