Ayah 95:1والتین والزیتون . حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ حسن بصری ‘ ابراہیم ‘ عطاء ‘ مقاتل اور کلبی نے کہا : (التین اور الزیتون
سے مراد) یہی انجیر ہیں جن کو تم کھاتے ہو اور یہی زیتون کے پھل ہیں جن کا روغن نکالتے ہو۔ انجیر کی قسم کھانے کی خصوصی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ ایسا میوہ ہے کہ اس کے اندر گٹھلی نہیں ہوتی (گویا) جنت کے پھلوں کے مشابہ ہے۔
ثعلبی نے اور ابو نعیم نے طب میں ایک مجہول اسناد کے ساتھ حضرت ابوذر ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ انجیر بواسیر کو کھو دیتا ہے اور نقرس کو فائدہ دیتا ہے۔ زیتون ایک بابرکت درخت ہے جس کا پھل روغنی ہوتا ہے اور روغن سالن کی جگہ بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ عکرمہ ؓ نے کہا : تینؔ اور زیتونؔ دو پہاڑ ہیں۔ قتادہ ؓ نے کہا : تینؔ وہ پہاڑ ہے جس پر دمشق آباد ہے اور زیتون مسجد بیت المقدس ہے۔ ابو محمد بن کعب نے کہا : اصحاب کہف کی مسجد تینؔ ہے اور ایلیا زیتونؔ ہے۔
Ayah 95:2و طور سینین . طور وہ پہاڑ جس پر اللہ نے موسیٰ سے کلام فرمایا تھا۔ یہ مصر اور ایلہ کے درمیان واقع ہے۔ ضحاک
نے سینین کو نبطی لفظ قرار دیا ہے جس کا معنی ہے خوبصورت یا اچھا۔ مقاتل نے کہا : جس پہاڑ پر پھلدار درخت ہوں اس پہاڑ کو نبطی زبان میں سینین اور سینا کہتے ہیں۔ عکرمہ ؓ نے کہا : وہ خطبہ جہاں طور واقع ہے اس کو سینین اور سینا کہا جاتا ہے۔ بعض نے اس کو سریانی لفظ کہا ہے جس کا معنی ہے ‘ گھنے درختوں کا پہاڑ ‘ کسی نے حبشی لفظ کہا ہے۔ مجاہد نے کہا : سینین کا معنی ہے ‘ برکت یعنی برکت والا پہاڑ۔ قتادہ نے کہا اچھا (یاخوبصورت) پہاڑ۔ کلبی نے کہا : سینین کا معنی ہے درخت یعنی درختوں والا پہاڑ۔ بعض نے کہا : یہ ایک خاص پتھر ہوتا ہے ‘ اس قسم کے پتھر کوہ طور کے قریب تھے ‘ اس لیے طور کی سینین کی طرف اضاف کردی گئی۔
Ayah 95:3و ھذا البلد الامین . الامین : امانت والا۔ امین ‘ مال امانت کی حفاظت رکھتا ہے (امین کے پاس مال محفوظ اور
مامون رہتا ہے) اس لیے اس کو امین کہتے ہیں یا (امن سے مشتق ہے اور) اسم فاعل کے معنی میں ہے یعنی جو اس میں داخل ہوتا ہے ‘ اس کو یہ شہر امن دیتا ہے یا اسم مفعول کے معنی میں ہے یعنی جو اس میں داخل ہوتا ہے ‘ مامون ہوتا ہے۔
بلد امین سے مراد مکہ ہے ‘ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں مکہ مقام امن تھا۔ اللہ نے ان چیزوں کی قسم اس لیے کھائی کہ (یہ تمام مقامات برکت والے ہیں) انجیر اور زیتون کی پیدائش گاہ ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت گاہ ‘ انبیاء کی قرار گاہ اور نزول وحی کا مقام ہے۔ طور وہی جگہ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پکارا گیا تھا اور مکہ میں تو اللہ کا باحرمت گھر اور رسول اللہ ﷺ کی پیدائش گاہ اور منزل وحی ہے۔
Ayah 95:4لقد خلقنا الانسان . ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ الانسان سے جنس انسان مراد ہے (کوئی ہو) ۔
فی احسن تقویم . بہترین ساخت میں۔ تقویم بروزن تفعیل۔ قیام اور قوام سے ماخوذ ہے۔ قیام اور قوام
اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کا ثبات اور تقوم ہو (صحاح) میں کہتا ہوں کہ قوام وہ چیز ہے جس سے کسی کا تحقق (یعنی حقیقت کی ساخت) ہو ‘ انسان کے اندر بیرونی جہان کی ساری چیزیں موجود ہیں۔ اس میں عالم روح کے نازک حقائق بھی ہیں اور عالم خلق کے عناصر بھی اور نفس ناطقہ بھی جو عالم عناصر کی پیداوار ہے۔ اسی جامعیت کی وجہ سے کل سنسار کی خصوصیات اس میں موجود ہیں۔ اس کے اندر ملکی صفات بھی ہیں اور درندوں کے اوصاف بھی اور چوپاؤں کی کیفیات بھی اور شیطانی خبائث بھی۔ یہ ان صفات کاملہ سے متصف ہے جو الٰہی حیات ‘ علم ‘ قدرت ‘ ارادہ ‘ شنوائی ‘ بینائی کلام اور محبت۔ غرض تمام صفات الوہیت کا پر تو ہیں۔ یہ نور عقل سے آراستہ ہے۔ یہ انوار ظلی اور صفاتی اور ذاتی کا قابل ہے۔ اسی لیے اس کو خلعت خلافت پہنائی گئی اور اسی کیلئے انی جاعلٌ فی الارض خلیفۃ فرمایا گیا۔
احسن تقویم کا ترجمہ بعض لوگوں نے احسن صورت کیا ہے کیونکہ تقدیم مصدر ہے ‘ جس کا معنی ہے معتدل (متوازن) بنانا۔ قاموس میں ہے : قومتہٗ میں نے اس کو معتدل بنا دیا۔ قویم اور مستقیم سیدھا ‘ ہموار۔ آیت میں مصدر اسم مفعول کے معنی میں ہے یا قویم (بروزن فعیل) کے معنی میں ہے یعنی انسان کو بہترین صورت اور متوازن ‘ درست ساخت میں بنایا کیونکہ علاوہ انسان کے ہر چوپایہ کی فطری ساخت واژگونی کے ساتھ ہے۔ صرف انسان دراز قامت اور صاف جلد والا ہے اور اپنے ہاتھ سے کھانا کھاتا ہے۔
Ayah 95:5ثم رددنہ . پھر ہم نے اس کو کردیا۔
اسفل سافلین . نیچے والوں سے بھی نچلا۔
بغوی نے برعایت مقام اس کو نکرہ قرار دیا ہے جو عموم جنسی کے لیے مفید ہے (یعنی سب نچلوں سے نیچے) اور اگر اس کو عموم جنسی کے لیے نہ قرار دیا جائے تو مہملہ ہوگا جو جزئیہ کے حکم میں ہوتا ہے (یعنی بعض سافلین سے اسفل) اس وقت جائز ہوگا کہ بعض نیچے طبقہ والے انسان سے بھی اسفل ہوں 1 ۔
آیت : خلقنا الانسان فی احسن تقویم . ثم رددنٰہ اسفل سافلین کی تائید اس فرمان نبوی ﷺ سے ہوتی ہے جو صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ ہر بچہ کی پیدائش فطرت اسلام پر ہوتی ہے ‘ پھر اس کے ماں ‘ باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی بنا دیتے ہیں ‘ یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ فرق آیت و حدیث میں اتنا ہے کہ آیت میں انسان کو اسفل بنا دینے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی ہے لیکن یہ نسبت تخلیقی ہے کیونکہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے اور حدیث میں یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دینے کی نسبت ماں ‘ باپ کی طرف کی گئی ہے مگر یہ نسبت کسبی ہے کیونکہ انسان اپنے اعمال کا کا سب (فاعل) ہے۔
سافلین سے مراد شاید وہ دردندے ‘ چرندے اور شیاطین ہیں جن کی سرشتی استعداد ہی اللہ نے پست بنائی ہے کہ نہ ان کے لیے کسی انسانی کمال کو حاصل کرنا ممکن ہے ‘ نہ مراتب قرب اور انوار رحمانیہ تک چڑھنا۔ سافل کی جمع سالم سافلین ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ (اگرچہ درندے ‘ چرندے ‘ پرندے وغیرہ ذی عقل نہیں مگر شیاطین ‘ جنات تو حامل عقل ہیں) غیر ذی عقل پر اصحاب عقل کو تغلیب دے دی گئی ‘ پس انسان جب اپنی صلاحیتوں کو تباہ کردیتا ہے ‘ منعم کا شکر نہیں کرتا ‘ کامیابی اور رضائے خداوندی کے اسباب فراہم نہیں کرتا اور کفر و ناشکری وغیرہ کو اختیار کرتا ہے جو غضب الٰہی کی موجب اور داعی ہے تو اللہ اس کو ہر خبیث سے زیادہ خبیث ‘ ہر ذلیل سے زیادہ ذلیل اور کتوں ‘ سوروں بلکہ شیطان سے زیادہ بدحال اور بدمآل کردیتا ہے۔ حضرت انس ؓ کی حدیث میں آیا ہے کہ کافر کے لیے جنت کی طرف
ایک دریچہ کھول دیا جاتا ہے وہ اہل جنت اور موجودات جنت کو دیکھتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے ‘ ان چیزوں کو دیکھ جن کو اللہ نے تیری طرف سے موڑ دیا ہے ‘ پھر دوزخ کی طرف ایک دریچہ کھول دیا جاتا ہے۔ (الحدیث)
اِس حدیث کو ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے ‘ ایسا کرنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مؤمن کو پوری مسرت اور
..............
1 مہملہ وہ جملہ ہے جس میں کُل یا بعض کی کوئی علامت نہ ہو مگر احتمال دونوں کا ہو اور ظاہر ہے کہ اگر مہملہ کو کلیہ قرار دیا جائے گا تب کلیہ کے ذیل میں جزئیہ صادق آئے گا اور اگر کلیہ نہ قرار دیا جائے اور جزئیہ مانا جائے تب تو جزئیہ کا صادق ہونا ظاہر ہی ہے مثلا : الانسان ظلومٌ میں الف لام جنسی ہے اور یہ جملہ مہملہ ہے۔ اب اگر ہر انسان ظلوم ہو تو بعض انسان بدرجۂ اولیٰ ظلوم ہوں گے اور جزئیہ ضرور صادق آئیگا اور اگر بعض انسان ظلوم ہوں ‘ بعض نہ ہوں تب بھی جزئیہ صادق ہوگا ‘ اسی وجہ سے مہملہ کو جزئیہ کی قوّت میں کہا جاتا ہے۔
کافر کو کامل حسرت ہو۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت میں کوئی اس وقت تک نہ جائے گا جب تک اس کو اس کی دوزخ والی جگہ نہ دکھا دی جائے ‘ یہ دوزخ والی جگہ اس کے لیے اس وقت ہوتی جب وہ بدی کا مرتکب ہوتا ‘ ایسا اس لیے کیا جائے گا کہ وہ زیادہ شکر ادا کرے اور دوزخ میں کوئی اس وقت تک نہ جائے گا جب تک اس کو اس کی جنت والی جگہ نہ دکھا دی جائے ‘ یہ جگہ اس کے لیے اس وقت ہوتی جب وہ نیکو کار ہوتا ‘ ایسا اس کی حسرت بڑھانے کے لیے کیا جائے گا۔
لیکن شیاطین (اور جانوروں) کی حالت ایسی نہیں ہوگی ‘ کیونکہ ان کے اندر جنت میں داخل ہونے کی (فطری) صلاحیت ہی نہیں ہے۔ حسن ‘ مجاہد اور قتادہ نے اسفل سافلین سے مراد دوزخ قرار دیا ہے کیونکہ دوزخ کے (مختلف طبقات ہوں گے) بعض درجات بعض سے اسفل ہوں گے۔ ابو العالیہ نے کہا : یعنی ہم اس کو دوزخ کی طرف خنزیر وغیرہ کی بدترین صورت میں لے جائیں گے۔
Ayah 95:6الا الذین امنوا و عملوا الصلحت . یہ استثناء متصل ہے کیونکہ نیکو کار مؤمن دوزخ کی طرف نہیں لوٹائے
جائیں گے اور نہ بدترین حالت کی طرف ان کو لے جایا جائے گا۔
فلھم . پس صالح الاعمال مؤمنوں کے لیے۔
اجر غیر ممنون . لازوال ثواب ہوگا یا ایسا اجر ہوگا جس کا ان پر احسان نہیں رکھا جائے گا۔ فَلَھُمْ میں فاء
سببی ہے اور جملہ علت استثناء کے مقام میں ہے کہ استثناء کو پختہ کر رہا ہے۔ بعض علماء نے آیت کی تشریح اس طرح کی ہے کہ ہم نے انسان کو احسن تقوم یعنی متوازن ترین صورت اور درست ترین حالت میں پیدا کیا کہ جو کچھ وہ چاہتا ہے اس کو بسہولت مل جاتا ہے۔ تمام حیوانات بلکہ جنات و شیاطین اور بحر و بر اس کے مطیع فرمان ہیں۔ پھر انسان کو یعنی انسان کے بعض افراد کو انتہائی پیرانہ سالی اور بدترین عمر کی وجہ سے سافلوں سے بھی اسفل بنا دیا۔ سافلین (پست اور نچلے) سے مراد ہیں بہت کمزور اور اپاہج اور بچے (زیادہ بوڑھا آدمی ان سے بھی نیچے پہنچ جاتا ہے) کیونکہ پیر فروت کے ہوش و حواس جب درست نہ رہیں ‘ بدنی طاقت کمزور ہوجائے ‘ عوارض اور امراض غالب آجائیں تو وہ ہر کمزور سے زیادہ کمزور ہوجاتا ہے۔ اس تفسیر پر الاّ الذینَ اٰمنوا میں استثناء منقطع ہوگا یعنی الاّ کا معنی لیکن ہوگا اور استدراک یعنی اس خیال کو دفع کرنے کے لیے ہوگا جو کلام سے پیدا ہوتا ہے۔ خیال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عام انسان کی یہ کیفیت ہوجاتی ہے تو انتہائی بوڑھا اور کھوسٹ ہونے کے بعد مؤمن بھی ایسا بدحال ہوجاتا ہوگا اور ایسی زندگی مؤمن کے لیے وبال ہوجاتی ہوگی ‘ اس خیال کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ ہاں جن اہل ایمان نے اس ناکارہ عمر کو پہنچنے سے پہلے قوت اور جوانی کی حالت میں نیک اعمال کیے ہوں ان کا اجر (پیرانہ سالی اور ضعف جسمانی و عقلی کی وجہ سے) منقطع نہیں ہوجاتا جیسے اعمال صالحہ قوت و جوانی کی حالت میں تھے ‘ ویسے ہی اس ناکارہ عمر میں پہنچنے کے بعد ان کے لیے لکھے جاتے ہیں۔ ضحاک (رح) نے کہا : (یعنی) اجر بغیر عمل کے۔
عوفی کی روایت میں ابن عباس کا قول آیا ہے جس کو ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کچھ لوگ ناکارہ عمر کو پہنچ گئے تھے۔ جب انکے ہوش و حواس درست نہ رہے تو انکا حکم رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا تو اللہ کی طرف سے انکی معذوری میں یہ فیصلہ نازل ہوا کہ اوسان خطا ہونے سے پہلے جو (اچھے) اعمال انہوں نے کیے تھے ‘ انکے لیے (اِس بدحواسی کے زمانہ کے اعمال کا) اجر (بھی ویسا ہی) ہے۔
بغوی نے عکرمہ ؓ کا قول لکھا ہے کہ جب اللہ نے اس شیخ فرتوت کا خاتمہ (حواس) بہترین اعمال پر کردیا تو اب زیادتی عمر سے اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔
عاصم احول نے بروایت عکرمہ ؓ حضرت ابن عباس ؓ کا قول بیان کیا : الا الذین امنوا و عملوا الصلحٰت (یعنی) وہ لوگ جو قرآن پڑھتے ہیں ‘ ان کو ناکارہ ‘ بدترین عمر تک نہیں پہنچایا جاتا۔ جلال الدین محلی نے لکھا ہے کہ مؤمن اگر اتنی عمر کو پہنچ جائے کہ عمل سے عاجز ہوجائے تب بھی اس کے لیے عمل کا اجر لکھا جاتا ہے۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب مسلمان کسی جسمانی مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اللہ فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ اس کے لیے (اب بھی) وہی نیک عمل لکھ جو وہ (صحت کی حالت میں) کرتا تھا۔ حضرت عمر ؓ سے بھی ایسی ہی حدیث مروی ہے۔ دونوں روایتیں بغوی نے نقل کی ہیں اور بخاری نے مریض و مسافر کے بارے میں ایسی ہی حدیث حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے بیان کی ہے۔
ایک سوال بلاغت کلام کا تقاضا ہے کہ مخاطب اگر کسی حکم کا منکر ہو (اور اس حکم کو ثابت کرنا مقصود ہو) تو درجۂ انکار کے مطابق ثبوت حکم کو : پختگی سے بیان کیا جائے اور اسی قدر حرف تاکید کا استعمال کیا جائے (اور اگر مخاطب منکر نہ ہو تو کلام کو سادہ رنگ میں بغیر تاکید کے بول دیا جائے) انسان کا بہترین صورت میں مخلوق ہونا اور پھر کسی ‘ کسی کا ناکارہ عمر کو پہنچنا اور کمزور ہوجانا ‘ کھلی ہوئی بات ہے۔ اسکا کوئی بھی منکر نہیں ‘ پھر کیا وجہ کہ اللہ نے اس کلام کو قسم اور لام تاکید اور حرف قد کے ساتھ مؤکد کیا (یہ تاکید بلاغت کے خلاف ہے) ۔
جواب اگر کسی چیز کی دلیل واضح ہو اور مدلول کا انکار کیا جائے تو گویا دلیل کا انکار ہوگا کیونکہ ایک دوسرے کو مستلزم ہے ‘ احوال انسانی کا انقلاب دوسری زندگی اور جزاء و سزا ہونے کی واضح دلیل ہے۔ پس جو شخص دوسری زندگی اور جزا و سزا کا منکر ہے وہ گویا احوال انسانی کے تغیر کا منکر ہے۔ کافر دوسری زندگی کے منکر تھے تو گویا انسانی احوال کے غیر کا بھی انکو انکار ہوا۔ اسلئے کلام کو تاکید کے ساتھ پیش کیا۔
Ayah 95:7فما یکذبک بعد بالدین . اس آیت میں کلام کا رخ موڑ کر انسان کو مخاطب کیا اور فرمایا : اے انسان ! کیا
باعث ہے کہ تو تکذیب جزا کر رہا ہے یا یہ مراد ہے کہ کس چیز نے تجھ کو کاذب بنایا ہے کہ تو برخلافِ حق ‘ حشر و نشر اور جزا و سزا کا منکر ہے باوجودیکہ تیرے اندر خود ایسی کھلی دلیلیں موجود ہیں کہ جس نے تجھے پیدا کیا اور طاقتور بنایا ‘ پھر کمزور کیا اور مردہ بنایا۔ وہ دوبارہ تجھ کو زندہ کرنے اور کیے کرائے کی سزا و جزا دینے پر قادر ہے۔
اس صورت میں استفہام ‘ زجر اور انکار کے لیے ہوگا۔ یعنی تجھے تکذیب جزا و سزا نہ کرنی چاہیے یا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور ما نفی کے لیے ہے یا استفہام انکاری کے لیے ‘ نفی کے لیے ہوگا تو یہ مطلب ہوگا کوئی چیز تم کو جھٹلانے والی نہیں اور استفہام کے لیے ہوگا تو یہ مطلب ہوگا ‘ کون چیز تمہاری دروغ گوئی پر دلالت کر رہی ہے یعنی جب تمہاری سچائی پر کھلی دلیلیں موجود ہیں تو کون چیز تمہارے قول جزا کو جھوٹا قرار دے سکتی ہے (معنوی لحاظ سے) اس آیت کی نظیر آیت : قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ہے۔
بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں مَا بمعنی مَنْ ہے اور استفہام تعجب کے لیے ہے یعنی تمہاری سچائی کی ان شہادتوں کے بعد کون شخص تم کو جھوٹا کہہ سکتا ہے۔
Ayah 95:8الیس اللہ باحکم الحاکمین . نفی کا استفہام انکاری ہے اور نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے۔ اس لیے یہ کلام گزشتہ
کلام کی تائید اور تاکید ہے) (یعنی معنوی حیثیت سے اس کی تاکید ہے) مطلب یہ ہے کہ وہ خدا جس نے تخلیق کی اور پھر انسان کو اسفل ترین بنا دیا ‘ کیا وہ بناوٹ اور تدبیر کا سب سے بڑا حاکم نہیں اور جب ایسا ہے تو کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے اور سزا و جزا دینے کی قدرت نہیں رکھتا (ضرور رکھتا ہے) یا یہ مطلب ہے کہ کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں (ضرور ہے) لہٰذا وہی تمہارے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کریگا جو تمہاری تکذیب کرتے ہیں۔ کذا قال مقاتل
بہرحال یہ جملہ یا تو رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لیے ہے کہ کفار جو صرف عناد اور خصومت کے زیر اثر تمہاری تکذیب کرتے ہیں اس سے تم کو کبیدہ خاطر نہ ہونا چاہیے ‘ یا کافروں کے لیے (عذاب کی) دھمکی ہے یا یہ جملہ گزشتہ جملہ کی علت کی بجائے ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ اے انسان ! تجھے تکذیب نہ کرنی چاہیے کیونکہ اللہ احکم الحاکمین ہے وہ تجھے عذاب نہ دینے کا حکم دیدے گا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص (سورۃ) التین پڑھے اور آخر میں الیس اللہ باحکم الحاکمین تک پہنچے تو اس کے بعد ہی اس کو کہنا چاہیے : بلٰی وانا علٰی ذٰلک من الشاھدین۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت براء ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ایک سفر میں تھے ‘ آپ ﷺ نے عشاء کی نماز کے اندر ایک رکعت میں والتین والزیتون پڑھی۔ (رواہ البخاری) واللہ اعلم سورة التین ختم ہوئی