Ayahs 95:1–31۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة التین مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ مالک وابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں تھے آپ نے عشاء پڑھائی اور اس کی دور رکعتوں میں سے ایک میں آیت والتین والزیتون پڑھی میں نے کسی سے ایسی آچھی آواز اور ایسی اچھی قراءت نہیں سنی۔
3۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں عبد بن حمید نے اپنی مسند میں والطبرانی نے عبداللہ بن یزید ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب کی نماز میں سورة والتین والزیتون پڑھی۔
4۔ الخیب نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی تو آپ نے اس میں والتین والزیتون پڑھی۔
5۔ ابن قانع وابن السکن وشیرازی نے الالقاب میں زرعہ بن خلیفہ ؓ سے روایت کیا کہ میں یمامہ سے نبی ﷺ کے پاس آیا آپ نے ہم پر اسلام کو پیش کیا تو ہم نے اسلام قبول کرلیا۔ جب ہم کو صبح کی نماز پڑھائی تو آپ نے آیت والتین والزیتون اور آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر پڑھی۔
6۔ الخطیب وابن عساکر بسند فیہ مجہول نے الزہری سے روایت کیا اور انہوں نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر سورة والتین نازل ہوئی تو آپ اس سے بہت خوش ہوئے یہاں تک کہ آپ نے ہمارے لیے بھی بہت خوشی اور فرحت کا اظہار فرمایا ہم نے ابن عباس ؓ سے اس کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے فرمایا آیت والتین سے مراد ہیں شام کے شہر اور زیتون سے مراد ہے فلسطین کے شہر آیت وطور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا۔ آیت وہذا لبلد الامین اور قسم ہے اس شہر امن والے کی۔ یعنی شہر مکہ۔ آیت لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ؓ بیشک ہم نے انسان کو بڑے عمدہ انداز میں پیدا کیا۔ یعنی انسان سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ آیت ثم رددنہ اسف سفلین پھر ہم نے اسے سب سے نیچے پھینک دیا۔ یعنی لات اور عزی کی عبادت کی وجہ سے آیت الا الذین اٰمنوا وعملوا الصلحت فلہم اجر غیر ممنون مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے سو ان کے یے تو بےانتہا بدلہ ہے۔ یعنی بوبکر، عمر، عثمان اور علی ؓ آیت فما یکذبک بعد بالدین الیس اللہ باحکم الحکمین۔ پھر اس کے بعد آپ کو قیامت کے معاملہ میں کون جھٹلا سکتا ہے کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں میں سے بڑا حاکم نہیں ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان میں نبی بنا کر بھیجا اور آپ کو تقویٰ پر جمع فرمایا۔ أ 7۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والتین سے مراد ہے نوح (علیہ السلام) کی وہ مسجد جو آپ نے جودی پہاڑ پر بنائی آیت والزیتون سے مراد ہے بیت المقدس آیت وطور سینین سے مراد ہے طور کی مسجد آتی وہذ البلد الامین سے مراد ہے مکہ۔ آیت لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددنہ اسفل سفلین۔ ہم نے انسان کو بہترین اعتدال پر پیدا کیا۔ پھر اسے ارذل العمر کی طرف لوٹادیا جاتا ہے یہ اتنا بوڑھا ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اس کی عقل زائل ہوجاتی ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھے تو رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا جب ان کی عقلیں خراب ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی معذوری کا حکم نازل فرمایا کہ ان کے لیے ان کا وہ اجر ہوگا جو وہ اپنی عقلوں کے جانے سے پہلے کیا کرتے تھے آیت فما یکذبک بعد بالدین (پھر اس کے بعد آپ کو قیامت کے بارے میں کون جھٹلا سکتا ہے) یعنی اللہ کے حکم کو کون جھٹلا سکتا ہے۔
8۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والتین والزیتون سے مراد یہ دو مسجدیں ہیں مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ ۔ جہاں سے نبی اکرم ﷺ کو معراج کرائی گئی آیت وطور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) چڑھے تھے۔ آیت وہذا البلد الامین سے مراد ہے مکہ آیت لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم سے مراد ہے تحقیق ہم نے انسان کو سیدھا پیدا کیا اسے اپنے چہرے پر اوندھا اور الٹا پیدا نہیں کیا گیا۔ آیت ثم رددنہ اسف سافلین (پھر ہم نے اسے ارذل العمر کی طرف لوٹادیا ) ۔
سورۃ الم نشرح کی توضیح
9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم وابن عساکر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والتین سے مراد وہ پہاڑ ہے جس پر دمشق ہے آیت والزیتون سے مراد وہ پہاڑ ہے جس پر بیت المقدس ہے آیت وطور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جو شام میں ہے جو بہت متبرک خوبصورت اور درختوں والا ہے۔ آیت وہذا البلد الامین سے مراد ہے مکہ۔ آیت لقد خلقنا الانسان فی احسن نقویم فرمایا اس پر قسم واقع ہوئی ہے آیت ثم رددنہ اسفل سفلین پھر ہم نے اسے جہنم میں لوٹا دیا آیت فما یکذبک بعد بالدین یعنی اس یقین کے بعد کہ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان آچکا ہے آپ کو کون جھٹلا چکا ہے۔
10۔ عبد بن حمید نے ابو عبداللہ الفارسی (رح) سے روایت کیا کہ آیت والتین سے مراد ہے دمشق کی مسجد آیت والزیتون سے مراد ہے بیت المقدس آیت وطور سینین سے مراد ہے موسیٰ (علیہ السلام) کا پہاڑ آیت وہذ البلد الامین سے مراد ہے البلد الحرام یعنی مکہ مکرمہ۔
11۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت والتین سے مراد ہے اصحاب الکہف کی مسجد آیت والزیتون سے مراد ہے ایلیا کی مسجد آیت وطور سینین سے مراد ہے طور کی مسجد آیت وہذ البلد الامین سے مراد ہے مکہ مکرمہ۔
12۔ عبدبن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت والتین والزیتون سے مراد ہے شام کی دو مسجدیں۔ آیت وطور سینین سے طور پہاڑ مراد ہے اور سینین سے مراد ہے خوبصورتی۔
13۔ ابن الضریس وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن عساکر نے کعب احبار ؓ سے والتین الایۃ کے بارے میں روایت کہ التین سے مراد ہے دمشق والزیتون سے مراد ہے بیت المقدس وطور سینین سے وہ پہاڑ مراد ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا آیت وہذا البلد المین سے مراد ہے مکہ مکرمہ۔
14۔ سعید بن منصور نے ابو حبیب الحارث بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ چار پہاڑ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقدس ہیں طور زیتا، طور سینا، طور تینا اور طور تیما اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت والتین والزیتون، وطور سینین، وہذ البلد الامین۔ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طور سینا کی اور اس امن والے شہر کی۔ طور زیتا بیت المقدس ہے، طور سینا طور پہاڑ ہے اور طور تینا دمشق ہے اور طور تیما مکہ ہے۔
15۔ ابن المنذر نے زید بن میسرہ (رح) سے اسی طرھ روایت کے اور اس میں یہ بھی ہے کہ طور سینا وہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا۔
16۔ ابن عساکر نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ والتین سے مراد ہے دمشق اور والزیتون سے مراد ہے فلسطین آتی وہذ البلد الامین سے مراد ہے مکہ مکرمہ۔
17۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والتین والزیتون سے مراد ہے وہ پھل جس کو لوگ کھاتے ہیں آیت وطور سینین میں الطور سے مراد ہے پہاڑ اور سینین سے مراد ہے مبارک۔
18۔ فریابی وعبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والتین والزیتون سے مراد ہے وہی پھل جس کو لوگ کھاتے ہیں آیت وطور سینین میں طور سے مراد ہے پہاڑ اور سینین سے مراد ہے مبارک آیت وہذا لبلد الامین سے مراد ہے مکہ آیت لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم یعنی ہم نے انسان کو انتہائی حسین صورت میں پیدا فرمایا۔ آیت ثم رددنہ اسف سفلین پھر ہم نے اسکو جہنم میں لوٹا دیا۔ آیت الا الذین اٰمنوا وعملو الصلحت مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ آیت فلہم اجر غیر ممنون۔ سو ان کے لیے بےانتہا بدلہ ہے۔ یعنی ان کے لیے بلا حساب اجر ہے۔
19۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وطور سینین سے مراد ہے خوبصورتی۔
20۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے ؓ سے روایت کیا کہ سینین حبشہ کی زبان میں حسن اور خوبصورت کو کہتے ہیں۔
21۔ عبد بن حمید نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت والتین والزیتون وطور سینین سے وہ پہاڑ مراد ہے جس پر انجیر اور زیتون ہیں۔
22۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ خزیمہ بن ثابت ؓ اور وہ انصاری نہیں انہوں نے نبی ﷺ سے البلد الامین کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ مکہ مکرمہ ہے۔
23۔ عبد بن حمید وابن الانباری نے المصاحف میں عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی تو انہوں نے پہلی رکعت میں آیت والتین والزیتون وطور سینین پڑھی اور اسی طرح یہ عبداللہ ؓ کی قراءت میں ہے۔ ور دوسری رکعت میں آیت الم تر کیف فعل ربک باصحب الفیل اور لایلف قریش پڑھیں اور ان دونوں کو اکٹھا پڑھا۔ اور بلدن آواز سے قراءت کی میں نے اندازہ لگایا کہ انہوں نے اپنی آواز کو بیت اللہ کی تعظیم کے لیے بلند کیا۔
Ayah 95:424۔ سعید بن منصور وابن جریر وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم یعنی ہم نے انسان کو بہترین اعتدال پر پیدا کیا آیت ثم رددنہ اسفل سفلین۔ یعنی پھر ہم نے اسے نکمی عمر کی طرف لوٹادیا۔ آیت الا الذین اٰمنوا وعملوا الصلح فلہم اجر غیر ممنون۔ مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک امعال کیے تو ان کے لیے ایسا اجر ہے جو کم نہیں ہوگا۔ پھر فرماتے ہیں جب مومن نکمی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور وہ جو جوانی میں نیک عمل کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا اجر لکھ دیں گے جتنا وہ اپنی صحت اور جوانی میں کیا کرتا تھا۔ اور جو اعمال اس نے بڑھاپے میں کیے وہ اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے اور اس پر گناہ نہیں لکھے جاتے جو اس نے ارذل العمر پر پہنچنے کے بعد کیے تھے۔
25۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتی لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو انسان کے سوا اس کے چہرے کے بل الٹا اور اوندھا پیدا کیا۔ آیت ثم رددنہ اسف سافلین۔ پھر ہم اس کو ارذل العمر کی طرف لوٹادیا آیت الا الذین اٰمنوا وعملوا الصلح الایۃ۔ یعنی جو بھی آدمی نیک عمل کرتا تھا۔ اتنی قوت اور جوانی کی حالت میں پھر وہ بڑھاپے کی وجہ سے اس سے عاجز آجائے تو اس کے لیے اسی عمل کا اجر جاری رہتا ہے جو وہ جوانی میں کیا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ مرجائے۔
26۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ والتین سے یہی انجیر مراد ہے والزیتون سے یہی زیتون مراد ہے آیت وطور سینین میں الطور سے مراد ہے پہاڑ اور حبشہ کی زبان میں سینین سے مراد ہے خوبصورتی یعنی خوبصورت پہاڑ آیت واہذا البلد الامین سے مراد ہے مکہ۔ آیت لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم یعنی انسان کو جوان اور مضبوط پیدا کیا۔ آیت ثم رددنہ اسفل سافلین پھر ہم نے اسے لوٹا دیا نکمی عمر کی طرف آیت الا الذین اٰمنوا وعملوا الصلحت فلہم اجر غیر ممنون۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیں گے اور اس کا مواخذہ نہیں فرمائیں گے جب وہ ارذل العمر کی طرف لوٹ جائے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ ان میں سے جو ارذل العمر کی طرف لوٹ جائے تو اس کے لیے اس عمل کا اجر جاری رہتا ہے جو وہ اپنی صحت اور جوانی میں عمل کرتا تھا۔ اور وہ اجر ختم ہونے والا نہیں۔ اور نہ اس کے ساتھ اس پر احسان رکھا جائے گا۔
27۔ عبد بن حسن (رح) سے آیت والتین والزیتون کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری یہی انجیر مراد ہے جس کو تم کھاتے ہو اور تمہاری یہی زیتون مراد ہے جس کو تم نچوڑتے ہو۔ آیت لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا فرمایا آیت ثم رددنہ اسفل سافلین پھر ہم اس کو لوٹا دیتے ہیں جہنم کی آگ میں۔
28۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم یعنی حسین صورت میں آیت ثم رددنہ اسفل سافلین۔ یعنی پھر ہم نے اس کو لوٹادیا جہنم میں انتہائی بری شکل میں۔
29۔ الفریابی وعبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم یعنی ہم انسان کو انتہائی حسین شکل میں پیدا فرمایا ثم رددنہ اسف سافلین پھر ہم نے اسے ارذل العمر کی طرف لوٹادیا۔ جب وہ اس نکمی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کے لیے اس عمل کی مثل اجر لکھا جاتا ہے جو وہ صحت کی حالت میں کیا کرتے تھے۔
Ayah 95:530۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ثم رددناہ اسفل سافلین کے بارے میں بتائیے۔ تو فرمایا اس سے مراد ہے وہ کافر ہے جو جوانی سے بڑھاپے تک کافر رہا اور بڑھاپے سے جنم تک پہنچ گیا پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے علی بن ابی طالب ؓ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا
فاضحوا لدی دار الجحیم بمعزل عن الشعث والعدوان فی اسفل السفل
ترجمہ : پس وہ پراگندگی اور عداوت کے سبب دار جہنم کے سب سے اسفل درکہ میں علیحدہ ہوگئے
31۔ عبد بن حمید ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم رددنہ اسفل سافلین سے مراد ارذل العمر ہے۔
32۔ الحاکم وصححہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص قرآن پڑھے گا وہ نکمی عمر کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا۔ اسی کو فرمایا آیت ثم رددنہ اسفل سافلین الا الذین اٰمنوا وعملو الصلحت یعنی سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے قرآن مجید پڑھا وہ نکمی عمر کی طرف نہیں لوٹیں گے۔
33۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ جس نے قرآن مجید پڑھا وہ نکمی عمر کی طرف نہیں لوٹے گا۔ پھر یہ آیت پڑھی لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددنہ اسفل سافلین الا الذین اٰمنو اوعموا لصلحت یعنی وہ ایسا نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (یعنی سب کچھ بھول جائے)
34۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم رددنہ اسفل سافلین سے مراد ایسا بڑھاپا آئے جس میں اس کے لیے کوئی طاقت باقی نہیں رہتی آیت لکیلا یعلم بعد علم شیئا (الحج آیت 5) تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور وہ اس منزل تک نہیں پہنچے گا جو قرآن کریم پڑھتا رہا۔ اسی کو فرمایا آیت الا الذین اٰمنوا الایۃ کہ اس سے مراد قرآن والے ہیں۔
35۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثم رددنہ اسفل سافلین یعنی ہم ان کو لوٹا دیتے ہیں بڑھاپے اور کمزوری کی طرف اور جب عمل سے کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے تو اس کے لیے اس عمل کا اجر لکھا جاتا ہے جو وہ اپنی جوانی میں کیا کرتا تھا۔
Ayah 95:6بیماری وسفر کی وجہ سے متروک اعمال پر ثواب
36۔ ابن مردویہ نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بندہ خیر اور نیکی کے راستہ پر ہو پھر وہ بیمار ہوجائے یا سفر پر نکلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہ عمل لکھ دیتے ہیں جو وہ گھر میں کیا کرتا تھا پھر یہ آیت پڑھی آیت فلہم اجر غیر ممنون۔ ان کے لیے لازوال اجر ہے۔
37۔ بخاری نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بندہ بیمار ہوجائے یا سفر پر نکلے تو اللہ تعالیٰ اسکے لیے وہی اجر لکھ دیتے ہیں جو وہ حالت صحت اور مقیم ہونے کی حالت میں کیا کرتا تھا۔
38۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فلہم اجر غیر ممنون کے بارے میں فرمایا کہ وہ اجر منقطع نہیں ہوتا جو دائیں طرف والافرشتہ لکھتا ہے اگر اس نے نیک عمل کیا تو اسے دائیں طرف والا فرشتہ لکھتا ہے اور اگر وہ کمزوری کی وجہ سے وہ عمل نہ کرسکے۔ تو بھی اس کے لیے وہ نیک عمل دائیں طرف والا لکھ دیتا ہے۔ اور بائیں طرف والا فرشتہ رک جاتا ہے اور وہ برائی نہیں لکھتا اور جس شخص نے قرآن پڑھا ہے اسے ارذل العمر کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جانے۔
39۔ ابن عساکر نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بندہ بیمار ہوجاتا ہے تو بائیں طرف والے فرشتے سے کہا جاتا ہے اپنی قلم کو اٹھالے یعنی کوئی گناہ نہ لکھ اور دائیں طرف والے سے کہا جاتا ہے کہ تو اس کا وہ نیک عمل کھ جو وہ کیا کرتا تھا۔ کیونکہ میں اس کو خوب جانتا ہوں کیونکہ میں نے اس کو قید کر رکھا ہے۔
40۔ الطبرانی نے شداد بن اوس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب میرے مومن بندوں میں سے کوئی بندہ کسی آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے پھر وہ اسی آزمائش میں میری حمدوثنا بیان کرے۔ تو وہ اپنے لیٹنے کی جگہ سے گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو کر اٹھتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اس کو جنا۔ اور رب عزوجل فرماتے ہیں بیشک میں نے ہی اس کو روک رکھا ہے اور میں نے ہی اس کو آزمائش میں مبتلا کیا پس تم اس کے لیے وہ لکھتے رہو جو تم اس سے پہلے اس کی صحت کی حالت میں لکھا کرتے تھے۔
Ayah 95:741۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے منصور (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مجاہد (رح) سے کہا کہ آتی فما یکذبک بعد بالدین پھر اس کے بعد آپ کو کون جھٹلاتا ہے اور ارأیت الذی یکذب بالدین کیا آپ نے اس کو دیکھا جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے کیا ان دونوں سے نبی ﷺ مراد لیے گئے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے فرمایا اللہ کی پناہ ! بیشک اس سے انسان مراد ہے۔
Ayah 95:842۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی الیس اللہ باحکم الحکمین کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں اس کے بارے میں ہمیں یہ ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ اس آیت کو یوں فرمایا کرتے تھے آیت بلی وانا علی ذلک من الشہدین یعنی کیوں نہیں اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔
43۔ عبد بن حمید نے صالح ابو الخلیل ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ جب اس آیت الیس اللہ باحکم الحکمین پر پہنچتے تھے تو فرماتے سبحانک فبلی (اے اللہ تیرے ذات ہر عیب ونقص سے پاک ہے کیوں نہیں آپ باحکم الحکمین ہیں۔
سورۃ تین کی آخری آیت کا جواب
44۔ الترمذی وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص آیت والتین والزیتون پڑھے۔ اور یہ پڑھے آیت الیس اللہ باحکم الحکمین تو اس کو چاہیے کہ آیت بلا وانا علی ذلک من الشہدین (کیوں نہیں اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں) ۔
45۔ ابن مردویہ نے جابر رضی الہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تو آیت والتین والزیتون پڑھے اور پھر یہ بھی پڑھے آیت الیس اللہ باحکم الحکمین تو یوں کہہ ” بلی “ کیوں نہیں
46۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب آپ آیت الیس اللہ باحکم الحکمین پڑھتے تو پھر یوں کہتے سبحانک اللہم فبلی (اے اللہ تیری ذات ہر عیب ونقص سے پاک ہے کیوں نہیں (آپ ہی احکم الحاکمین ہیں) ۔