95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 95:1–3

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

انجیر کی قسم اور زیتون کی

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اور طور سینین کی

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

اور اس امن والے شہر کی

(1۔ 3) قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور کہا گیا ہے کہ یہ شام میں دو مسجدیں ہیں یا یہ کہ دو پہاڑ ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ ”تین“ اس پہاڑ کا نام ہے جس پر ”بیت المقدس“ ہے اور ”زیتون ‘ اس پہاڑ کا نام ہے ج سپر دمشق ہے۔ اور قسم ہے جبل کی یہ مدین میں ایک پہاڑ ہے جس پر موسیٰ ؑ کو شرف کلامی نصیبت ہوئی۔ قبطی زبان میں ہر ایک پہاڑ کو طور کہتے ہیں اور سینین اس پہاڑ کو جس پر عمدہ درخت ہوں اور اس امن والے شہر یعنی مکہ مکرمہ کی۔
Ayahs 95:4–8

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کردیا

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے بےانتہا اجر ہے

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

تو (اے آدم زاد !) پھر تو جزا کی دن کو کیوں جھٹلاتا ہے ؟

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

کیا خدا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

(4۔ 5) ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے اور پھر آخرت میں اس کو دوزخ میں داخل کردیں گے مثلاً ولید بن مغیرہ اور کلدہ کا فر، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اولاد آدم کو عمدہ سانچہ میں ڈھالا ہے، پھر جب وہ اپنی جوانی پوری کرلیتا ہے تو اسے پستی کی عمر کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ اب وہی نیکیاں کار آمد آتی ہیں جو وہ اپنی جوانی میں کرچکا ہوتا ہے البتہ جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے اس قدر ثواب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا کہ ان کی نیکیوں کا سلسلہ بڑھاپے اور مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔ تو اے ولید یا یہ کہ اے کلدہ ان تما باتوں کو سن کر پھر کون سی چیز تجھ کو قیامت کو جھٹلانے پر آمادہ کر رہی ہے کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم اور عادل نہیں۔ شان نزول : ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ الخ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو حضور ﷺ کے زمانہ میں ذلیل ترین عمر کو پہنچ گئے تھے تو حضور ﷺ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا جب کہ ان کی عقلیں جا چکیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر نازل فرمایا کہ جو حضرات عقلیں زائل ہونے سے پہلے عمل صالح کرچکے ہیں ان کے لیے ان کا اجر ہے۔