At-Tin 95:5

At-Tin · from ayah 5

95:5

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ ۟ۙثُمَّ رَدَدۡنٰهُ اَسۡفَلَ سَافِلِيۡنَۙ

پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کر دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We return him to the lowest of the low,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tin

All translations of 95:5

پھر اُسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کر دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کر دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہم اسے پستی والوں میں سب سے زیادہ نچلی حالت میں کردیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیردیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم نے اسے پست سے پست تر حالت میں لوٹا دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ہم نے اسے لوٹا کر نیچوں سے سب سے نیچا کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ہم نے اسے ادنیٰ ترین مخلوق کے درجہ میں لوٹا دیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم نے اس کو ادنیٰ درجہ میں ڈال دیا جب کہ وہ خود گرنے والا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ہم نے اس کو الٹا پھیر کر سب نیچوں سے نیچ کردیا (اس کی اپنی غلط روش اور سوء اختیار کی بناء پر)

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم اسے پستوں سے بھی پست کردیتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ہم نے لوٹا دیا اس کو پست ترین حالت کی طرف۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر رفتہ رفتہ اس کی حالت کو بدل کر پست سے پست کردیا

— محترمہ رفعت اعجاز

then We reverted him to the lowest of the low,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then We turned him into the lowest of the low,

— Muhammad Taqi Usmani

then We turned him into the lowest of the low,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then We reduced him to the lowest of the low.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then we reduced him to the lowest of the low,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then We return him to the lowest of the low,

— Saheeh International

and We shall make him the lowest of low

— Muhammad Sarwar

Then We render him the lowest of the low.

— Muhammad Habib Shakir

Thereafter We cause him to return to the lowest of the low,

— Abdul Majid Daryabadi

Then do We abase him (to be) the lowest of the low,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 95:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

تین سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے زیتون سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، طور سینین وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا بلد الامین سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر بھیجے گئے تھے، تین سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التِّیْن 4 مفسرین نے بالعموم اس کے دو معنی بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے اسے ارذل العمر، یعنی بڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قابل نہ رہا۔ دوسرے یہ کہ ہم نے اسے جہنم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا۔ لیکن یہ دونوں معنی اس مقصود کلام کے لیے دلیل نہیں بن سکتے جسے ثابت کرنے کے لیے یہ سورة نازل ہوئی۔ سورة کا مقصود جزا و سزا کے برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے۔ اس پر نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ بڑھاپے کی انتہائی کمزور حالت کو پہنچا دیے جاتے ہیں، اور نہ یہی بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں کا ایک گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔ پہلی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ثم رددنہ اسفل سفلین، پہلے جملے میں ساری مخلوقات اور کائنات سے احسن بنانے کا بیان تھا، اس جملے میں اس کے بالمقابل یہ بتلایا گیا ہے کہ جس طرح وہ اپنی ابتدا اور شباب میں ساری مخلوقات سے زیادہ حسین اور سب سے بہتر تھا آخر میں اس پر یہ حالت بھی آتی ہے کہ وہ بد سے بدتر اور برے سے برا ہوجاتا ہے ظاہر یہ ہے کہ بدتری اور برائی اس کی ظاہری جسمانی حالت کے اعتبار سے بتلائی گئی ہے کہ شباب ڈھلنے کے بعد شکل و صورت بدلنے لگتی ہے بڑھاپا اس کا روپ بالکل بدل ڈالتا ہے، بدہئیت بد شکل نظر آنے لگتا ہے بیکار اور دوسروں پر بار ہو کر رہ جاتا ہے۔ کسی کے کام نہیں آتا، بخلاف دوسرے جانوروں کے کہ وہ آخر تک اپنے کام میں لگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وہ سنت جس کے تحت اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے: ’ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ‘۔ یہ اس سنت کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ فرمایا کہ انسان چونکہ ذی ارادہ ہستی ہے اس وجہ سے اس احسن تقویم کے شرف سے بہرہ یاب رہنا یا اس سے محروم ہو جانا اس کے اپنے رویہ پر منحصر ہے۔ اگر وہ اس کی قدر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے مدارج بلند کرتا ہے اور اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتا بلکہ نیچے ہی کی طرف جھکا رہتا ہے تو اس کو وہ نیچے ہی کی طرف لوٹا دیتا ہے اور بالآخر تمام سرفرازیوں سے محروم ہو کر، لڑکھڑاتا ہوا قعر جہنم میں گر پڑتا ہے۔ ’اَسْفَلَ‘ میرے نزدیک ظرف اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یہ اشارہ ہے انسان کی ارذل العمر کی طرف جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آجاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی گیا گزرا ہوجاتا ہے بعض نے اس سے ذلت و رسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لیے ہے، گویا انسان اللہ اور رسول کی اطاعت سے انحراف کر کے اپنے احسن تقویم کے بلند رتبہ واعزاز سے گرا کر جہنم کے اسفل السافلین میں ڈال لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

2: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ جو لوگ مومن نہ ہوں، وہ دنیا میں چاہے کتنے خوبصورت رہے ہوں، آخرت میں وہ انتہائی نچلی حالت کو پہنچ جائیں گے، کیونکہ انہیں دوزخ میں ڈالا جائے گا، اسی لیے آگے ان انسانوں کا استثناء کیا گیا ہے جو ایمان لائیں، اور نیک عمل کریں۔ اور اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہر انسان بڑھاپے میں جا کر انتہائی خستہ حالت کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کی خوبصورتی بھی جاتی رہتی ہے، اور طاقت بھی جواب دے جاتی ہے، اور آئندہ کسی اچھی حالت کے واپس آنے کی انہیں کوئی امید نہیں ہوتی، کیونکہ وہ آخرت کے قائل ہی نہیں ہوتے۔ البتہ نیک مسلمان چاہے اس بڑھاپے کی بری حالت کو پہنچ جائیں،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم رددنہ ........................ سفلین (5:95) ” پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے نیچوں سے نیچا کردیا “۔ اس قدر نیچے کہ بہائم بھی اس سے بلند نظر آنے لگے ، وہ ایسے انسانوں کے مقابلے میں سیدھی راہ پر نظر آنے لگے کیونکہ وہ فطرت پر قائم ہوتے ہیں ، ان کو اللہ کی تسبیح وتہلیل کا الہام ہوتا ہے اور وہ اس کرہ ارض پر جس مقصد کے لئے پیدا کیے گئے ہیں اسے پورا کرتے رہتے ہیں حالانکہ اس انسان کو دوسرے بہائم کے مقابلے میں نہایت ہی اچھی ساخت پر پیدا کیا گیا تھا ، لیکن یہ رب تعالیٰ کا انکار کرنے لگا اور ایسے گہرے گڑھے میں گرا کہ اس سے زیادہ اور کوئی گہرائی اور گراوٹ نہ رہی۔ لقد خلقنا ........................ تقویم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اس کو لائق بنایا فرشتوں کے مقام کا۔ پھر جب منکر ہوا تو جانوروں سے بدتر ہے۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ ثُمَّ رَدَدْنٰــہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ۔ } ”پھر ہم نے لوٹا دیا اس کو پست ترین حالت کی طرف۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس عظیم المرتبت مخلوق کی روح کو اس کے جسد خاکی میں بٹھا کر نیچے دنیا میں بھیج دیا۔ لیکن واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر جہالت کی تاریکی میں نہیں بلکہ ہدایت کے اجالے میں بھیجا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے کامیابی اور ناکامی کے راستوں کا شعور بھی عطا کیا ‘ اس کی فطرت میں نیکی و بدی کی تمیز بھی ودیعت کی اور وقتاً فوقتاً وہ براہ راست ہدایات بھی بھیجتا رہا : { وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹـھُمْ اَنْفُسَھُمْط } الحشر : 19 کہ تم ان لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 انسان تمام مخلوق سے پست کیسے ؟ یعنی اگر انسان اپنی ان خداداد ذہنی صلاحیتوں اور جسمانی قوتوں کو برائی کے راستے میں استعمال کرے اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر اتر آئے تو انسان حیوانوں کی سطح سے بھی نیچے گر جاتا ہے وہ اس طرح کہ حیوانوں کو اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کی تمیز نہیں بخشی اور انسان اگر اس تمیز کے ہوتے ہوئے بھی اسے استعمال نہ کرے تو جانوروں سے بدتر ٹھہرا۔ لیکن انسان تو اخلاقی لحاظ سے اتنی پستی میں جاگرتا ہے جس کا حیوانوں میں تصور بھی محال ہے۔ انسانی معاشرے میں حرص، طمع، خودغرضی، شہوت پرستی، نشہ بازی، کمینہ پن، ظلم و بربریت، لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت جیسی برائیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (اگر وہ اپنے قوی کا صحیح استعمال نہیں کرتا) یہ پستی تمامتر روحانی، اخلاقی ودینی اعتبار سے ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–8

ثمر رددناہ اسفل سافلین، مفسرین نے بالعموم اس کے دو مطلب بیان کئے ہیں ایک یہ کہ ہم نے اسے ارذل العمر یعنی بڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قال نہ رہا، دوسرے یہ کہ ہم نے اسے جہنم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا، لیکن یہ دونوں معنی اس مقصود کلام کے لئے دلیل نہیں بن سکتے جسے ثابت کرنے کے لئے یہ سورت نازل ہوئی ہے، سورت کا مقصد جزا اور سزا کے برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے اس پر نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ بڑھاپے کی انتہائی کمزور حالت کو پہنچا دیئے جاتے ہیں اور نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں کا ایک گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم رددنہ . پھر ہم نے اس کو کردیا۔ اسفل سافلین . نیچے والوں سے بھی نچلا۔ بغوی نے برعایت مقام اس کو نکرہ قرار دیا ہے جو عموم جنسی کے لیے مفید ہے (یعنی سب نچلوں سے نیچے) اور اگر اس کو عموم جنسی کے لیے نہ قرار دیا جائے تو مہملہ ہوگا جو جزئیہ کے حکم میں ہوتا ہے (یعنی بعض سافلین سے اسفل) اس وقت جائز ہوگا کہ بعض نیچے طبقہ والے انسان سے بھی اسفل ہوں 1 ؂۔ آیت : خلقنا الانسان فی احسن تقویم . ثم رددنٰہ اسفل سافلین کی تائید اس فرمان نبوی ﷺ سے ہوتی ہے جو صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ ہر بچہ کی پیدائش فطرت اسلام پر ہوتی ہے ‘ پھر اس کے ماں ‘ باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی بنا دیتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–8

(4۔ 5) ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے اور پھر آخرت میں اس کو دوزخ میں داخل کردیں گے مثلاً ولید بن مغیرہ اور کلدہ کا فر، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اولاد آدم کو عمدہ سانچہ میں ڈھالا ہے، پھر جب وہ اپنی جوانی پوری کرلیتا ہے تو اسے پستی کی عمر کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ اب وہی نیکیاں کار آمد آتی ہیں جو وہ اپنی جوانی میں کرچکا ہوتا ہے البتہ جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے اس قدر ثواب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا کہ ان کی نیکیوں کا سلسلہ بڑھاپے اور مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔ تو اے ولید یا یہ کہ اے کلدہ ان تما باتوں کو سن کر پھر کون سی چیز تجھ کو قیامت کو جھٹلانے پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ثم رددنہ اسفل سفلین : اس بہترین بناوٹ میں اس کی شکل و صورت کا حسن، اس کی عقل، اس کی فطرت پر پیدائش اور وہ سب کچھ شامل ہے جو کسی حیوان کو حاصل نہیں۔ پھر اگر وہ اس عقل اور فطرت کے تقاضوں پر عمل نہ کرے بلکہ انسانیت سے اتر کر حیوانیت میں جا گرے اور شہوت و غضب اور دوسری حیوانی صفات سے مغلوب ہوجائے، تو اس سے زیادہ نیچا اور ذلیل کوئی نہیں، کیو کہ پھر وہ اس حد تک گر جاتا ہے کہ کوئی حیوان نہیں بھی گرتا ، حتیٰ کہ وہ اپنے مالک و خالق کو بھی بھول جاتا ہے، اس کے ساتھ شریک بنانے لگتا ہے اور زمین میں ایسا فساد برپا کرتا ہے جو کوئی حیوان بھی نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ آگ ہے اور اس میں گرنے والوں سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

لقد خلقنا الانسان فی۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ سافلین۔ اس میں دو مسئلے ہیں : انسان سے مراد اور انسان کا حسن و جمال۔ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان، لقد خلقنا الانسان۔ جواب قسم ہے انسان سے مراد کافر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے ایک قول یہ کیا گیا اس سے مراد کلدہ بن اسید ہے اس تعبیر کی صورت میں یہ موت کے بعد دوبارہ اٹھائیں جانے کے انکار کرنے والوں کے حق میں نازل ہوئی، ایک قول یہ کیا گیا انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہے۔ احسن تقویم سے مراد اس کا اعتدال اور سیدھی قامت ہے عام مفسرین کی یہی رائے ہے اس کی تعبیر میں جتنے قول بھی کیے گئے ہیں سب سے اچھا یہی ہے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

30۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ثم رددناہ اسفل سافلین کے بارے میں بتائیے۔ تو فرمایا اس سے مراد ہے وہ کافر ہے جو جوانی سے بڑھاپے تک کافر رہا اور بڑھاپے سے جنم تک پہنچ گیا پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے علی بن ابی طالب ؓ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا فاضحوا لدی دار الجحیم بمعزل عن الشعث والعدوان فی اسفل السفل ترجمہ : پس وہ پراگندگی اور عداوت کے سبب دار جہنم کے سب سے اسفل درکہ میں علیحدہ ہوگئے 31۔ عبد بن حمید ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم رددنہ اسفل سافلین سے مراد ارذل العمر ہے۔ 32۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ رَدَدْنٰهُ : پھر ہم نے لوٹایا اس کو ][ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ : پست ہونے والوں کا سب سے پست ] نوٹ 3: اس کے آگے آیت۔ 5 ۔ میں فرمایا کہ پھر ہم نے اس کو لوٹا دیا پست ترین لوگوں میں۔ یہ مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے کہ پست ترین مخلوق میں یعنی درندوں سے بھی بدتر۔ (مرتب) ۔ مفسرین نے عام طور پر اس آیت کے دو معنی بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے اسے ارذل العمر یعنی بڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قابل نہ رہا۔ دوسرے یہ کہ ہم نے اسے جہنم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا۔ لیکن اس سورة کا مقصود جزاوسزا کے برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے۔ اس لیے یہ دونوں معنی اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَۙ005﴾ (پھر ہم انسان کو نیچے درجہ والوں سے بھی نیچی حالت میں لوٹا دیتے ہیں) ۔ بعض مفسرین کرام نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ شانہ نے اچھی صورت میں پیدا فرمایا اچھے سے اچھے سانچے میں ڈھال دیا حسن و جمال کا پیکر بنا دیا، وہ قوت اور طاقت کے ساتھ جیتا رہا اور اپنے ناز و انداز دکھاتا رہا پھر جب اللہ تعالیٰ نے بڑھاپا دیا تو بہت گئی گزری حالت میں ہوگیا، نظر بھی کمزور، کان بھی بہرے، دل میں خفقان اور بھولو نسیان، دماغ بیکار، شعور اور ادراک ختم، قد جھک گیا، كمر کمان بن گئی، ٹانگیں لڑکھڑانے لگیں، دوسروں پر وبال، خدمت کا محتاج، یہ بدحالی بڑھاپے میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

شہادت اشجار واماکن برخالقیت رب العالمین ومبداء ومعاد انسان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والتین والزیتون ...... الی ......... باحکم الحکمین “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں حضور اکرم ﷺ کو جن خاص انعامات سے نوازا گیا تھا، ان کا ذکر تھا۔ آپ ﷺ کے قلب کو وحی الہی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے لئے کھول دیا اور آپ کے حوصلہ کو اس قدر بلند اور قلب مبارک کو وسیع کردیا کہ اس میں علوم ومعارف اور حقائق وحکم کے سمندر سماگئے، اور آپ کا نام بلند کردیا۔ اور شان اس قدر اونچی کہ اس سے بڑھ کر کسی عظمت وبلندی کا تصور نہیں ہوسکتا، اب اس مناسبت سے اس سورت میں انجیر وزیتوں جیسے عظیم المنفعۃ پھلوں اور درختوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

5:۔ ” ثم رددناہ “ باغیوں اور سرکشوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ انسان کو ہم نے ظاہری اور باطنی خوبیوں سے نوازا۔ مگر جب اس نے عقل و خرد سے کام نہ لے کر ہماری اطاعت سے سرتابی کی تو ہم نے اس کو جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں دھکیل دیا۔ یعنی ہم نے اس کے لیے اس کی سزا کا فیصلہ کردیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

موضوع اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم اٹھا کر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔ اس سے بہتر صورت اللہ نے کسی مخلوق کو عطا نہیں فرمائی۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر انسان اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتا ہے۔ تو واقعی وہ کائنات کی بہترین ہستی ہے اور اگر وہ ان فرائض کی بجا آوری نہیں کرتا۔ تو پھر اس سے بڑھ کر ذلیل چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔ ایسا انسان کائنات کی حقیر سے حقیر چیز سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ چار چیزوں کی قسم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا والتین والزیتون قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی ، عربی زبان میں تین انجیر کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ۝ 5 ۙ رد الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( رد د ) الرد ( ن ) اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے ) لوگوں سے اس کا عذاب تو ہمیشہ کے لئے ٹلنے والا ہی نہیں ۔ سفل السُّفْلُ : ضدّ العلو، وسَفُلَ فهو سَافِلٌ ، قال تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ والتین الوا وللقسم والزیتون وطور سینین وھذا لبلدالامین معطوف علیہ لقد خلقنا الانسان الجملۃ المصدرۃ بلام التاکید وقد الی آخرھا جواب القسم۔ والقسم مع جو ابہ جملۃ فعلیۃ۔ والمراد بالتین والزیتون عند المجھور الشجرتان المعروفتان وقیل الجبلان وقیلا البلدان و طور جھل کلم اللہ علیہ موسیٰ (علیہ السلام) فی ناحیۃ الشمال والغرب من العرب وھو مضاف الی سینین عند الخاۃ سینین و سیناء اسمان للمکان الذی حصل فیہ الجبل المذکور۔ وقال ابو علی الفارسی سینین فعلیل کر رت اللام التیھی نون فیہ ولم ینصرف سینسین کمالم ینصرف سیناء لا نہ علم للبقعۃ وعجمی ای سریانی ولذا اختلفت عادۃ العرب فی تعریبہ فقیل سینین وقیل سینا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ رَدَدْنٰـہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ ۔ (التین : 5) (پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیا۔ ) دین سے انحراف آدمی کو پست ترین حالت میں پہنچا دیتا ہے جو چیز جتنی بلندی سے گرتی ہے اتنی ہی زیادہ شکست و ہلاکت کا شکار ہوتی ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے غیرمعمولی صلاحیتوں اور خصوصیتوں سے نوازا۔ اسے ایسے ملکات دیئے گئے جن کے سامنے تمام مخلوقات جھک گئیں، اسے ایسی بلند عزمی عطا کی گئی کہ بلندیاں اس کے سامنے ہیچ ہوگئیں، اس کے عشق کی آگ نے ہر آگ کو سرد کردیا، اس کے قلب و دماغ کی وسعتوں کے سامنے سمندروں کی وسعتیں سمٹ گئیں۔ چناچہ جب تک وہ اپنی ان صلاحیتوں سے صحیح کام لیتا رہا اللہ تعالیٰ نے فضل و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : الم نشرح کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جونہی فراغت میسر ہو تو آپ اپنے رب کو یاد کیا کریں۔ التّین کی ابتداء میں چار قسمیں اٹھانے کے بعد ہر انسان کو یہ بات باور کروائی ہے کہ جس طرح اسے بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، اسی طرح انسان کو بہتر سے بہتر اعمال کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہترین اعمال کا خلاصیہ یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے حکم کو یاد رکھا جائے۔ رب کریم نے اس سورة مبارکہ میں انسان کو اس کے مقام اور مرتبے کا احساس دلانے کے لیے چار چیزوں کی قسمیں اٹھائی ہیں۔ انجیر اور زیتون کی قسمیں اٹھائیں جس میں انجیر اور زیتون کے فوائد کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ بیت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : ثُمَّ رَدَدْنٰہٗ اَسْفَلَ سَافِلِیْنَ (پھر ہم اس کو پستی کی حالت والوں سے بھی بہت نیچے کردیتے ہیں) یعنی پھر اس کے معاملے کا انجام جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت عظیمہ کا شکریہ ادا نہیں کیا جو نعمت اللہ تعالیٰ نے شاندارخلقت اور درست اعضاء کی صورت میں دی تھی تو ہم نے اس کو سب نیچوں سے نیچے کردیا۔ وہ پست جو خلقت و ترکیب میں اس سے نیچے ہیں وہ جہنمی لوگ ہیں۔ نمبر 2۔ اہل جہنم میں جو سب سے نیچے درجات والے ہیں ان میں شامل کردیا۔ نمبر 3۔ اس درست قامت اور حسن صورت کے بعد اس کو حسن صورت و شکل میں سب سے کم کی طرف لوٹا دیا۔ یہاں تک کہ کمرکو جھکا کر کبڑا کردیا۔ بالوں کی سیاہی کو سفیدی سے بدل ڈالا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” ثم رددناہ اسفل سافلین “ مراد ہے کہ بڑھاپے اور نکمی عمر کی طرف تو اس کی عقل ناقص اور بدن کمزور ہوجاتا ہے اور سافلون کمزور لوگ، اپاہج اور بچے۔ پس بوڑھا آدمی بھی ان لوگوں میں سے ہوجاتا ہے اور اسفل سافلین نکرہ ہے جنس کو عام ہے جیسا کہ تو کہے فلان اکرم قائم اور عبداللہ ؓ کے مصحف میں ” اسفل السافلین “ ہے اور حسن، قتادہ اور مجاہد رحمہم اللہ فرماتے ہیں یعنی پھر ہم اس ک وآگ کی طرف لوٹاتے ہیں یعنی ” اسفل السافلین “ کی طرف کیونکہ اس کے طبقات بعض دوسرے بعض سے نیچے ہیں۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں یعنی آگ کی طرف بری صورت یعنی خنزیر کی صورت میں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ انجیر اور زیتون یہی مشہور دونوں پیڑ ہیں طور سینین اور طور سینا اس پہاڑ کا نام ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا تعالیٰ سے باتیں کیں تھی۔ بلدامین سے مراد مکہ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو بلکہ جانروں تک کو ہر طرح کا امن ہے۔ اب اس قسم کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے لیکن سفیان ثوری کا قول اوپر گزر چکا کہ تفسیر کے باب میں جب مجاہد کا قول مل جائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے کسی دوسرے کے قول کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ تفسیر سیکھنے کی غرض سے مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تیس دفعہ قرآن شریف پڑھا ہے اور ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–5

اور جس امر پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ) ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے یعنی کامل تخلیق، متناسب اعضا اور بلند قامت کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ظاہر اور باطن میں جس چیز کا محتاج ہے اس سے محروم نہیں۔ ان عظیم نعمتوں کے باوجود جن کا شکر کیا جانا چاہیے اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف ور لہو لعب میں مشغول ہے لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹادیا یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے سوائے ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(5) نور حق سے محرومی ہر خیر سے محرومی، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نور حق و ہدایت سے انحراف و سرتابی کا نتیجہ و انجام ذلت و رسوائی اور ہلاکت و تباہی ہے، والعیاذ باللہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم نے اس کو الٹا کر کے سب نیچوں سے نیچا کردیا۔ اس کے اپنے سوء اختیار اور راہ حق و ہدایت سے اعراض و استکبار کی بنا پر، والعیاذ باللہ کہ اس نے نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو خود ہر خیر سے محروم اور سب سے زیادہ ذلیل و خوار کردیا، یہاں تک کہ یہ سب نیچوں سے نیچ ہو کر دوسرے انسان بلکہ اس سے بھی آگے اپنے سے کم تر درجہ کی مخلوق حیوانات، نباتا اور جمادات تک کی پوجا کرنے لگ جاتا ہے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

یوم الحساب کیوں ضروری ہے ؟ تشریح : یہ سورت انسان کی روحانی مادی زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے رازوں کو بیان کرتی ہے۔ مثلاً انسان کا احسن تقویم ہونا یعنی شکل و صورت ' بناوٹ اور کردار اور منصب میں تمام قسم کی مخلوقات سے بہترین ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا اسی مقصد کے تحت اس کا حساب کتاب لے کر سزا و جزا ملنا ضروری ہے۔ اس بات کو اور بھی پکا کرنے کے لیے اللہ رب العٰلمین چار مشہور اور خاص صفات رکھنے والی چیزوں کی قسم کھاتے ہیں۔ وہ چار چیزیں بھی اپنی خصوصیات کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو منتخب کیا گیا ہے۔ پہلی چیز ہے انجیر :۔ اس کی بناوٹ حیران کن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة التین۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی کہ دونوں پھل ہیں جو انسانی بدن کو حسین بناتے ہیں خون صاف کرتے ہیں معدہ درست کرتے ہیں اعضاء رئیسہ کو طاقت بخشتے ہیں اور چہرے پر بشاشت لاتے ہیں اور قسم ہے طور پہاڑ کی اور اس شہر امین کی کہ یہ دونوں تجلیات ذاتی کامرکز ہونے کے سبب باطنی اور قلبی خوبصورتی عطا کرتے ہیں یعنی یہ چاروں کہ دو حسن ظاہر کا سبب ہیں اور دو کمال باطن کا اس بات پر گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو سب سے خوبصورت پیدا فرمایا شکل و صورت ، اعضا وپیوند ، عقل وخرد ، فکر و شعور ، اور باطنی طور پر ان کمالات کا حامل کہ یہ مشت عبار عشق الٰہی کا دعوی کرے اس قدرحسین امتزاج کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–5

ف 17 شاہ صاحب لکھتے ہیں :” اسے لائق بنایا فرشتوں کے مقام کا جب منکر ہو تو جانوروں سے بدتر۔ “ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(95:5) ثم رددنہ اسفل سافلین : ثم تراخی وقت کے لئے یا تراخی فی الرتبہ کے لئے۔ رددنا ماضی جمع متکلم رد (باب نصر) مصدر سے۔ ہم نے لوٹا دیا۔ ہم نے پھیر دیا۔ ہم نے واپس کردیا۔ یہاں بمعنی جعلنا (ہم نے بنادیا) ہے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ اسفل السافلین۔ مضاف مضاف الیہ۔ (اسفل ۔ اعلی کی ضد ہے۔ سب سے نیچا۔ سفول سے جس کے معنی نیچے ہونے کے ہیں افعل التفضیل کا صیغہ ہے) مل کر رددنا کا مفعول ثانی ہے۔ اسفل السافلین کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) یہ مفعول (ہ) سے حال ہے۔ اس صورت میں تقدیر کلام ہوگا :۔ رددنہ حال کو نہ اسفل سافلین : ای ارذل۔ اس حال میں کہ وہ ان سب سے رذیل ترین ہوگا۔ (2) یہ بھی جائز…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ التین۔ انجیر۔ الزیتون۔ زیتون۔ طور سنیین۔ طور سینا۔ صحرائے سینا۔ بلد الامین۔ امن والا شہر۔ احسن۔ بہترین۔ تقویم۔ بناوٹ۔ سانچہ۔ رددنا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ اسفل زیادہ نیچے ۔ غیر ممنون۔ نہ ختم ہونے والا۔ تشریح : اس سورت سے پہلے رسول اکرم ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور شان رسالت کو بیان فرمایا تھا۔ سورة التین میں تین مقدس مقامات کی قسم کھا کر جو جلیل القدر پیغمبرون کی طرف منسوب ہیں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اتنا عظیم درجہ عطا کیا جو کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں یہ۔ اسے علم و عقل، فہم و فراست، اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور قابلیتوں سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–8

(ف 4) ہم نے انسان کو کیسے اچھے سانچے میں ڈھالا، اور کیسی کی کچھ قوتیں اور ظاہری وباطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کی ہیں دل ایک ایسی چیز عنایت ہوئی ہے کہ اگر اس کو صاف کرلیا جائے تو محبوب حقیقی کے جمال کا آئنہ بن جائے ، آگے فرمایا کہ ہم نے انسان کو ہرنیچی سے نیچی حالت یعنی بڑھاپے کی طرف پھیردیا جس سے بدن ضعیف ، اعضا ناکارہ، عقل ناقص، پشت خم بال سفید ہوجاتے ہیں ، جلد میں جھریاں پڑجاتی ہیں اپنی ضروریات انجام دینے میں مجبور ہوتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ جب اس سے اچھی شکل و صورت کی شکرگزاری نہ کی اور نافرمانی پر جمارہا اور ایمان نہ لایا تو جہنم کے اسفل ترین درجات کو ہم نے اس کاٹھکانہ کردیا، آگے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[5] یعنی بہترین ساخت پر پیدا کئے جانے کے بعد جب انسان اپنے جسم اور ذہن کی طاقتوں کو برائی کے لئے استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے برائی ہی کی توفیق دیتا ہے اور اسے گراتے گراتے گراوٹ کی انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

اس وقت جبکہ دنیا میں انسانیت کی توہین ہورہی تھی ۔ اور انسانیت کے لئے خود انسانوں کے دلوں میں کوئی جذبہ عزت واحترام نہ تھا ۔ اس وقت جب پتھر پوجتے تھے ۔ درخت محترم تھے ۔ دریامقدس تھے ۔ قبریں اور مزار قابل عزت وشرف تھے ۔ انسان کی حیثیت محض حقیر پجاری کی تھی ۔ اس وقت جبکہ کلیسا سے اس کو ابدی وازلی گنہگار کا سرٹیفکیٹ مل چکا تھا اور ہندو نقطہ نگاہ سے اس کی تناسخ کے آہنی چکر سے رہائی ناممکن تھی اور یہ موجود زندگی نتیجہ قرار دی جارہی تھی سابقہ کئی ہزار گناہوں کا ۔ اسلام اٹھا اور ان سے انسانی شرف وفضیلت کے عالم بوسیدہ کو پھر سے جلا دی اور علی الاعلان کہا کہ انسان کو بہترین انداز میں پیدا کیا گیا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

ف 9۔ یعنی وہ خوبصورتی اور قوت مبدل بہ قبح و ضعف ہوجاتا ہے اور برے سے برا ہوجاتا ہے، اس سے مقصود کمال قبح کا بیان کرنا ہے جس سے قدرت علی الاعادہ پر کافی استدلال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیا 5 ؎ ( اسفل) سب سے نیچا اعلیٰ کی ضد سفول سے جس کے معنی نیچے ہونے کے ہیں ۔ افعل التفضیل کا صیغہ ( سافلین) نیچے ہونے والے سفول سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت نصب و جر ۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتا جو اپنی قدم النظیر صلاحیتوں کو غلط استعمال کرتا ہے اور عقل و بصیرت کے سارے چراغ گل کردیتا ہے اور ہوائے نفس کی پیروی میں لگ جاتا ہے یا اپنے خالق اور مالک کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیتا ہے اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیتا ہے تو اسے اس جرم کی سزا بھی بڑی سخت دی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

ثُمَّ رَ‌دَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ (then We turned him into the lowest of the low...95:5). In the preceding sentence, it was stated that man is created in the best composition and is the most beautiful being. In the prime of his life, man is brimming with strength and vigour and all his faculties are functioning at their best. As opposed to that, this sentence states that when man ages, he physically grows weaker and his health deteriorates all the time. He even begins to lose his physical beauty. He no longer has a good-looking and attractive face. He begins to look uglier. He becomes…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 The commentators in general have given two meanings of this: (1) That We reversed him to the miserable state of old age in which he was no longer able to think and understand and work; and (2) that We reversed him to the lowest stage of Hell. But these two meanings cannot be an argument for the object for the confirmation of which this Surah was revealed. The Surah is meant to reason out the truth of the judgement in the Hereafter. On this, neither has this tact any bearing that some human beings are caused to reach the most miserable state of old age, nor that a section of human beings…

Read the full tafseer →