Explained with ayahs 1–8
تین سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے زیتون سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، طور سینین وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا بلد الامین سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر بھیجے گئے تھے، تین سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی…
Read the full tafseer →سورة التِّیْن 5
جن مفسرین نے اسفل سافلین سے مراد بڑھاپے کی وہ حالت کی ہے جس میں انسان اپنے ہوش حواس کھو بیٹھتا ہے وہ اس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ " مگر جن لوگوں نے اپنی جوانی اور تندرستی کی حالت میں ایمان لا کر نیک اعمال کیے ہوں ان کے لیے بڑھاپے کی اس حالت میں بھی وہی نیکیاں لکھی جائیں گی اور انہی کے مطابق وہ اجر پائیں گے۔ ان کے اجر میں اس بات پر کوئی کمی نہ کی جائے گی کہ عمر کے اس دور میں ان سے وہ نیکیاں صادر نہیں ہوئیں "۔ اور جو مفسرین اسفل سافلین کی طرف پھیرے جانے کا مطلب جہنم کے ادنی ترین درجہ میں پھینک دیا جانا لیتے ہیں ان کے نزدیک اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ " ایمان لا کر عمل صالح…
Read the full tafseer →اس تفسیر پر اگلی آت میں جو مؤمنین صالحین کے استثناء یعنی الا الذین امنو وعملو الصلحت قلھم اجر غیر ممنون کا ذکر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان پر بڑھاپے میں کے حالات اور عجز و درماندگی نہیں آتی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس جسمانی بیکاری اور مادی خرابی کا نقصان ان کو نہیں پہنچتا بلکہ نقصان صرف ان لوگو کو پہنچتا ہے جنہوں نے اپنی ساری فکر اور توانائی اسی مادی درستی پر خرچ کی تھی وہ اب ختم ہوگئی اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں بخلاف مؤمنین صالحین کے کہ ان کا اجر وثواب کبھی قطع ہونیوالا نہیں۔ اگر دنیا میں بڑھاپے کی بیماری کمزوری اور عجز سے سابقہ بھی پڑا تو آخرت میں ان کے لئے درجات عالیہ اور راحت ہی راحت…
Read the full tafseer →ان لوگوں کی صفت جو ہلاکت سے محفوظ رہتے ہیں: ’اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی صفت بیان ہوئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ اس ہلاکت سے محفوظ رکھتا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ’احسن تقویم‘ پر پیدا کیے جانے کی قدر و قیمت سمجھتے اور ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرنے کی توفیق پاتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نیچے نہیں پھینکتا بلکہ ان کو عزت و رفعت بخشتا ہے اور وہ ایک ابدی زندگی میں ابدی انعام سے نوازے جاتے ہیں۔
’غَیْرُ مَمْنُوْنٍ‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ اس کے معنی غیرمنقطع اور دائم کے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کی تاویل اس سے مختلف بھی کی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7۔ 1 یہ انسان سے خطاب ہے کہ اللہ نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا اور وہ تجھے اور اس کے برعکس ذلت میں گرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس کے بعد بھی تو قیامت اور جزا کا انکار کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
3: ابو داؤد اور ترمذی کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے پڑھنے کے وقت یہ کہنا مستحب ہے کہ“ بَلٰی وانَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ ا لشَّاہِدِیْنَ ”(کیوں نہیں ؟ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سارے حکمرانوں سے بڑھ کر حکمران ہے)
Read the full tafseer →الاالذین ............................ الصلحت (6:95) ” سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے “۔ تو یہ وہ لوگ ہیں جو فطرت کی راہ پر سیدھے قائم رہتے ہیں اور ایمان اور عمل صالح کے ساتھ اپنی فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور پھر اس کمال تک پہنچتے ہیں جو ان کے لئے مقدر کردیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اکمل الکاملین بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے۔
فلھم .................... ممنون (6:95) ” ان کے لئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے “۔ یعنی دائمی اور نہ رکنے اور نہ کٹنے والا۔ وہ لوگ جو اپنی فطرت کو نیچے سے نیچے گرالیتے ہیں ، تو وہ نیچے ہی گرتے چلے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ جہنم کے بھی سب سے نچلے…
Read the full tafseer →4 جو کبھی کم یا ختم نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 6{ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے“
اب مذکورہ پستی سے صرف وہی لوگ نکل پائیں گے جو اپنے شعور و حواس سے کام لیتے ہوئے اپنے خالق اور معبود کو پہچانیں گے یعنی اس پر ایمان لائیں گے اور پھر محنت کر کے اپنے کردار و عمل کو اس کی منشاء ومرضی کے مطابق ڈھالیں گے ‘ یعنی اعمال صالحہ کا اہتمام کریں گے۔
{ فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۔ } ”تو ان کے لیے ایسا اجر ہوگا جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔“
Read the full tafseer →7 یعنی بنی نوع انسان کی اکثریت ایسی ہی تھی جو احسن تقویم پر برقرار رہنے کے بجائے اسفل السافلین کی پستی تک جا پہنچی۔ پھر انہی قوموں پر اللہ کے عذاب آتے رہے اور وہ تباہ و برباد ہوتی رہیں۔ نبی ہمیشہ اس وقت مبعوث کیے جاتے ہیں جب کوئی قوم اسفل السافلین کی پستیوں میں جاگرتی ہے پھر ان انبیاء پر بھی تھوڑے ہی لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔ پھر ان ایمان لانے والوں اور اعمال صالح بجا لانے والوں کی نسلیں بھی بعد میں انتشار، شرکیہ عقائد یا ایسے عقائد و اعمال میں مبتلا ہوجاتی ہے جو ایمان بالآخرت کو عملاً باطل بنا دیتے ہیں اور صرف وہی لوگ محفوظ رہتے ہیں جو انبیاء پر صحیح طور پر ایمان لاتے، صحیح عقائد پر قائم…
Read the full tafseer →4۔ یعنی انسان اپنا بہترین قوام قائم رکھ سکتا ہے، بشرطیکہ وہ قانون الہی پر چلتا رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ثمر رددناہ اسفل سافلین، مفسرین نے بالعموم اس کے دو مطلب بیان کئے ہیں ایک یہ کہ ہم نے اسے ارذل العمر یعنی بڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قال نہ رہا، دوسرے یہ کہ ہم نے اسے جہنم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا، لیکن یہ دونوں معنی اس مقصود کلام کے لئے دلیل نہیں بن سکتے جسے ثابت کرنے کے لئے یہ سورت نازل ہوئی ہے، سورت کا مقصد جزا اور سزا کے برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے اس پر نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ بڑھاپے کی انتہائی کمزور حالت کو پہنچا دیئے جاتے ہیں اور نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں کا ایک گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا…
Read the full tafseer →الا الذین امنوا و عملوا الصلحت . یہ استثناء متصل ہے کیونکہ نیکو کار مؤمن دوزخ کی طرف نہیں لوٹائے
جائیں گے اور نہ بدترین حالت کی طرف ان کو لے جایا جائے گا۔
فلھم . پس صالح الاعمال مؤمنوں کے لیے۔
اجر غیر ممنون . لازوال ثواب ہوگا یا ایسا اجر ہوگا جس کا ان پر احسان نہیں رکھا جائے گا۔ فَلَھُمْ میں فاء
سببی ہے اور جملہ علت استثناء کے مقام میں ہے کہ استثناء کو پختہ کر رہا ہے۔ بعض علماء نے آیت کی تشریح اس طرح کی ہے کہ ہم نے انسان کو احسن تقوم یعنی متوازن ترین صورت اور درست ترین حالت میں پیدا کیا کہ جو کچھ وہ چاہتا ہے اس کو بسہولت مل جاتا ہے۔ تمام حیوانات بلکہ جنات و شیاطین اور بحر و بر اس کے مطیع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
(4۔ 5) ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے اور پھر آخرت میں اس کو دوزخ میں داخل کردیں گے مثلاً ولید بن مغیرہ اور کلدہ کا فر، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اولاد آدم کو عمدہ سانچہ میں ڈھالا ہے، پھر جب وہ اپنی جوانی پوری کرلیتا ہے تو اسے پستی کی عمر کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ اب وہی نیکیاں کار آمد آتی ہیں جو وہ اپنی جوانی میں کرچکا ہوتا ہے
البتہ جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے اس قدر ثواب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا کہ ان کی نیکیوں کا سلسلہ بڑھاپے اور مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔ تو اے ولید یا یہ کہ اے کلدہ ان تما باتوں کو سن کر پھر کون سی چیز تجھ کو قیامت کو جھٹلانے پر…
Read the full tafseer →(الا الذین امنوا و عملوا الصلحت…: اور اگر یہ احسن تقویم کے مطابق ایمان لا کر عمل صالح کرے تو اس کو ایسا اجر ملے گا جو کبھی نمنقطع نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →الا الذین آمنوا وعملوالصالحات فلھم اجر غیرممنون۔
ان کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی اور ان کی برائیاں مٹادی جائیں گی یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہا، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں بڑھاپے نے آلیاتوبڑھاپے میں انہوں نے جو عمل کیے ان پر ان کا کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ ضحاک نے ان سے یہ قول نقل کیا ہے بندہ جب جوانی میں زیادہ نمازیں پڑھتا ہے زیادہ روزے رکھتا ہے اور صدقات دیتا ہے پھر جوانی میں جو اعمال کیا کرتا تھا ان سے کمزور ہوجاتا ہے تو اللہ تعایل اسے ان اعمال کا اجر دیتا رہتا ہے جو وہ جوانی میں کیا کرتا تھا۔ حدیث طیبہ میں نے نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اذاسافر العبد اومرض کتب اللہ لہ مثل ماکان یعمل مقیما…
Read the full tafseer →بیماری وسفر کی وجہ سے متروک اعمال پر ثواب
36۔ ابن مردویہ نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بندہ خیر اور نیکی کے راستہ پر ہو پھر وہ بیمار ہوجائے یا سفر پر نکلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہ عمل لکھ دیتے ہیں جو وہ گھر میں کیا کرتا تھا پھر یہ آیت پڑھی آیت فلہم اجر غیر ممنون۔ ان کے لیے لازوال اجر ہے۔
37۔ بخاری نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بندہ بیمار ہوجائے یا سفر پر نکلے تو اللہ تعالیٰ اسکے لیے وہی اجر لکھ دیتے ہیں جو وہ حالت صحت اور مقیم ہونے کی حالت میں کیا کرتا تھا۔
38۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ…
Read the full tafseer →[اِلَّا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ][ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انھوں نے عمل کیے نیکیوں کے ][ فَلَهُمْ اَجْرٌ: تو ان کے لیے ایک ایسا اجر ہے جو ][ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ : غیر منقطع ہے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا ﴿ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ﴾ (الآیۃ) (مگر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بڑا ثواب ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا) ۔
اوپر جو ﴿ ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَۙ005﴾ کی تفسیر کی گئی اس کے مطابق مفسرین نے اس استنثاء کا یہ مطلب بتایا ہے کہ مومنین اور صالحین بندے بڑھاپے کی حالت کو پہنچ کر بھی ناکام نہیں رہتے وہ ایمان پر جمے رہتے ہیں ان کے ایمان اور اعمال کی وجہ سے ان کا ثواب جاری رہتا ہے اور یہ اجر موت کے بعد انہیں مل جائے گا جو کبھی ختم نہ ہوگا (مطلب یہ ہوا کہ کافر اپنی قوت اور طاقت اور جوانی سے دھوکہ کھا کر ایمان اور اعمال صالحہ سے دور رہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
شہادت اشجار واماکن برخالقیت رب العالمین ومبداء ومعاد انسان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والتین والزیتون ...... الی ......... باحکم الحکمین “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں حضور اکرم ﷺ کو جن خاص انعامات سے نوازا گیا تھا، ان کا ذکر تھا۔
آپ ﷺ کے قلب کو وحی الہی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے لئے کھول دیا اور آپ کے حوصلہ کو اس قدر بلند اور قلب مبارک کو وسیع کردیا کہ اس میں علوم ومعارف اور حقائق وحکم کے سمندر سماگئے، اور آپ کا نام بلند کردیا۔ اور شان اس قدر اونچی کہ اس سے بڑھ کر کسی عظمت وبلندی کا تصور نہیں ہوسکتا، اب اس مناسبت سے اس سورت میں انجیر وزیتوں جیسے عظیم المنفعۃ پھلوں اور درختوں اور…
Read the full tafseer →6:۔ ” الا الذین “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کیے ان کے لیے آخرت میں کبھی ختم نہ ہونے والا اجر وثواب ہے۔ جنت میں ان کو جو نعمتیں ملیں گی وہ کبھی ختم نہ ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
موضوع
اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم اٹھا کر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔ اس سے بہتر صورت اللہ نے کسی مخلوق کو عطا نہیں فرمائی۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر انسان اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتا ہے۔ تو واقعی وہ کائنات کی بہترین ہستی ہے اور اگر وہ ان فرائض کی بجا آوری نہیں کرتا۔ تو پھر اس سے بڑھ کر ذلیل چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔ ایسا انسان کائنات کی حقیر سے حقیر چیز سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔
چار چیزوں کی قسم
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا والتین والزیتون قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی ، عربی زبان میں تین انجیر کو…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ 6 ۭ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ترکیب ¦ فما استفہامیۃ ای شی وقیل بمعنی من یکذبک الکاف مفعول یکذب و فاعلہ ضمیر یرجع الیٰ ماوالباء للسببیۃ فی بالدین وانطرف متعلق بالفعل۔ اللہ فاعل لیس ‘ باحکم الحاکمین خبرھا والا استفھام اذا دخل علی النفی صار الکلام ایجا با و تقریرا فما یکذبک الخ قال الفراء تقدیرہ فمن یکذبک یا محمد بعد ظھور ھذہ الدلائل بالدین وقیل الخطاب للانسان والمعنی فما الذی یلجئک بعد ظھور الامرایھا الانسان الی تکذیب الجزاء۔
تفسیر ¦ جب اے انسان ! تجھے یہ معلوم ہوگیا کہ حق نے تجھے عمدہ اور بہتر سے بہتر انداز اور شان میں پیدا کیا ہے اور پھر تیری حالت کو باعتبار ظاہر کے بھی ایسا پلٹا ہے کہ بوڑھا ہوجاتا ہے ‘ نہ آنکھوں میں نور…
Read the full tafseer →اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُمَمْنُوْنٍ ۔ (التین : 6)
(بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ )
یہ لوگ احسن تقویم کے مصداق ہیں
اللہ تعالیٰ کے عظیم رسولوں کا نمونہ سامنے رکھ دینے کے بعد یہ واضح فرما دیا کہ جو اشخاص اور جو گروہ بھی ان نفوسِ قدسیہ کے پیش کردہ حقائق سے منہ موڑتے ہیں اور ان کے کھولے ہوئے صراط مستقیم پر چلنے سے انکار کردیتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کو اپنا چلن بنا لیتے ہیں اور دنیا ہی کو زندگی اور حاصل زندگی سمجھ کر زندگی گزارتے ہیں وہ بالآخر بدترینِ خلائق بنے بغیر نہیں رہتے۔ لیکن…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ذلّت اور پستی سے بچنے والے لوگوں کا کردار اور انعام۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرما کر اسے بہترین عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ذات باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہی ذات ہے جس نے موت اور زندگی بنائی تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہترین عمل کرتا ہے۔ (الملک : 2) اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہ صرف بہترین عمل کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ اس کی سہولت کے لیے ہر دور میں انسانوں میں بہترین انسانوں کو اپنا رسول منتخب کیا اور انہیں لوگوں کے لیے نمونہ بنایا تاکہ وہ لوگوں کو بہترین تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں ان میں آخری رسول حضرت محمد ﷺ ہیں جن کے بارے میں ارشاد ہے…
Read the full tafseer →6 : اِلَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ (لیکن جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لئے اس قدر ثواب ہے۔ جو کبھی منقطع نہ ہوگا) یہاں فلھمؔ میں فاء کو داخل فرمایا۔ سورة انشقاق میں فاؔ کے بغیر لائے۔ تاکہ دونوں لغتوں کو جمع کردیا جائے۔ پہلی صورت میں استثناء متصل ہے اور دوسری صورت میں منقطع ہے یعنی لیکن وہ لوگ جو صالح ایمان والے بوڑھے ہیں ان کا ثواب منقطع ہونے والا نہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے جوانی میں طاعات کی ہیں۔ اور بڑھا پے میں وہ بڑھا پے کے ابتداء پر صابر و شاکر ہیں۔ اور مشقتیں اٹھا رہے ہیں اور فریضہ عبودیت پر قائم و دائم ہیں۔
Read the full tafseer →6 ۔ پھر استثناء کرتے ہوئے فرمایا ” الا الذین امنوا “ کیونکہ وہ جہنم کی طرف نہ لوٹائے جائیں گے اور جو پہلے قول کے قائل ہیں انہوں نے کہا ہم اس کو ” اسفل سافلین “ کی طرف لوٹائیں گے ۔ ان کی عقل چلی جائے گی اور عمل ختم ہوجائیں۔ پس ان کی کوئی نیکی نہ لکھی جائے گی وہ لوگ جو ایمان لائے۔” وعملوا الصالحات “ کیونکہ ان کے لئے بڑھاپے اور جسم جواب دینے کے بعد اس کی مثل ہوگا جو وہ جوانی اور تندرستی کی حالت میں عمل کرتے تھے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ چند لوگوں کی جماعت ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں نکمی عمر کی طرف لوٹائے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر نازل کیا اور خبر دی کہ ان کے اعمال کا اجر ہوگا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ انجیر اور زیتون یہی مشہور دونوں پیڑ ہیں طور سینین اور طور سینا اس پہاڑ کا نام ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا تعالیٰ سے باتیں کیں تھی۔ بلدامین سے مراد مکہ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو بلکہ جانروں تک کو ہر طرح کا امن ہے۔ اب اس قسم کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے لیکن سفیان ثوری کا قول اوپر گزر چکا کہ تفسیر کے باب میں جب مجاہد کا قول مل جائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے کسی دوسرے کے قول کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ تفسیر سیکھنے کی غرض سے مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تیس دفعہ قرآن شریف پڑھا ہے اور ہر…
Read the full tafseer →( فَلَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ ) پس ان کے لیے ان اعمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور منقطع نہ ہونے والا اجر ہے بلکہ ان کے لی وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہوگا وہ ایسی نعمتوں بھری جنت میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔
Read the full tafseer →(6) کامیاب وفائز المرام لوگوں کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کامیاب اور فائز المرام لوگوں کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے، کہ ان کے لیے ایک عظیم الشان اجر ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوگا، سو اس میں سچے ایمان والوں اور عمل کی پونجی رکھنے والوں کے دائمی اجر وثواب کا مژدہ جانفزا ہے کہ کلمہ طیبہ کی مثال اس شجرہ طیبہ کی سی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے، " توتی اکلھا کل حین باذن ربھا " پھر زندگی بھر کی اپنی ہے، تصدیق اور ان پر ایمان و یقین کی برکت سے ایسے لوگ ہمیشہ اور ہر لمحہ فیضیاب ہوتے رہتے ہیں، اس کی کمائی اور سعادت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
یوم الحساب کیوں ضروری ہے ؟
تشریح : یہ سورت انسان کی روحانی مادی زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے رازوں کو بیان کرتی ہے۔ مثلاً انسان کا احسن تقویم ہونا یعنی شکل و صورت ' بناوٹ اور کردار اور منصب میں تمام قسم کی مخلوقات سے بہترین ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا اسی مقصد کے تحت اس کا حساب کتاب لے کر سزا و جزا ملنا ضروری ہے۔ اس بات کو اور بھی پکا کرنے کے لیے اللہ رب العٰلمین چار مشہور اور خاص صفات رکھنے والی چیزوں کی قسم کھاتے ہیں۔ وہ چار چیزیں بھی اپنی خصوصیات کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو منتخب کیا گیا ہے۔
پہلی چیز ہے انجیر :۔ اس کی بناوٹ حیران کن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التین۔
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی کہ دونوں پھل ہیں جو انسانی بدن کو حسین بناتے ہیں خون صاف کرتے ہیں معدہ درست کرتے ہیں اعضاء رئیسہ کو طاقت بخشتے ہیں اور چہرے پر بشاشت لاتے ہیں اور قسم ہے طور پہاڑ کی اور اس شہر امین کی کہ یہ دونوں تجلیات ذاتی کامرکز ہونے کے سبب باطنی اور قلبی خوبصورتی عطا کرتے ہیں یعنی یہ چاروں کہ دو حسن ظاہر کا سبب ہیں اور دو کمال باطن کا اس بات پر گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو سب سے خوبصورت پیدا فرمایا شکل و صورت ، اعضا وپیوند ، عقل وخرد ، فکر و شعور ، اور باطنی طور پر ان کمالات کا حامل کہ یہ مشت عبار عشق الٰہی کا دعوی کرے اس قدرحسین امتزاج کہ…
Read the full tafseer →ف 1 اگر سفل سافلین سے ارذل العمر یعنی بڑھاپا مراد لیا جائے تو اس استثناء کا مطلب یہ ہوگا کہ مومن اگر بڑھاپے میں نیک عمل نہ کرسکے تو ان سے ان عملوں کا ثواب ملتا رہے گا جو وہ جوانی اور تندرستی کی حالت میں کیا کرتا تھا۔ مگر ححافظ ابن قیم نے دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے یعنی کہ جو لوگ منکر ہوتے ہیں وہ تو جانوروں سے بھی بدتر ہوتے ہیں اور ان ٹھکانا دوزخ ہوجاتا ہے، لیکن جو لوگ اپنی خداد صلاحیتوں سے کام لے کر ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں، انہیں آخرت میں بےانتہا ثواب ملے گا۔
Read the full tafseer →(95:6) الا الذین امنوا وعملوا الصلحت۔ یہ استثناء متصل ہے کیونکہ نیکوکار مومن دوزخ کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے اور نہ بدترین حالت کی طرف انہیں لے جایا جائے گا۔
فلہم : میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب صالح الاعمال مؤمنوں کے لئے ہے اورسببیہ ہے۔ یعنی بہ سبب ان کے صالح اعمال کے (ان کو اجر غیر ممنون ملے گا) ۔
اجر غیر ممنون : اجر بدلہ، صلہ، ثواب، مزدوری۔ غیر کا استعمال مختلف جگہ مختلف معنوں میں ہوا ہے۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال چار طور پر ہوا ہے۔
(1) صرف نفی کے لئے۔ جیسے ھو فی الخصام غیر مبین (43:18) دلیل پیش کرنے کے وقت، مناظرہ کرنے کے وقت وہ کھول کر بیان نہیں کرسکتا۔
(2) لفظ الا کی طرح صرف استثناء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔
التین۔ انجیر۔ الزیتون۔ زیتون۔ طور سنیین۔ طور سینا۔ صحرائے سینا۔ بلد الامین۔ امن والا شہر۔ احسن۔ بہترین۔ تقویم۔ بناوٹ۔ سانچہ۔ رددنا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ اسفل زیادہ نیچے ۔ غیر ممنون۔ نہ ختم ہونے والا۔
تشریح : اس سورت سے پہلے رسول اکرم ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور شان رسالت کو بیان فرمایا تھا۔ سورة التین میں تین مقدس مقامات کی قسم کھا کر جو جلیل القدر پیغمبرون کی طرف منسوب ہیں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اتنا عظیم درجہ عطا کیا جو کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں یہ۔ اسے علم و عقل، فہم و فراست، اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور قابلیتوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
(ف 4) ہم نے انسان کو کیسے اچھے سانچے میں ڈھالا، اور کیسی کی کچھ قوتیں اور ظاہری وباطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کی ہیں دل ایک ایسی چیز عنایت ہوئی ہے کہ اگر اس کو صاف کرلیا جائے تو محبوب حقیقی کے جمال کا آئنہ بن جائے ، آگے فرمایا کہ ہم نے انسان کو ہرنیچی سے نیچی حالت یعنی بڑھاپے کی طرف پھیردیا جس سے بدن ضعیف ، اعضا ناکارہ، عقل ناقص، پشت خم بال سفید ہوجاتے ہیں ، جلد میں جھریاں پڑجاتی ہیں اپنی ضروریات انجام دینے میں مجبور ہوتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ جب اس سے اچھی شکل و صورت کی شکرگزاری نہ کی اور نافرمانی پر جمارہا اور ایمان نہ لایا تو جہنم کے اسفل ترین درجات کو ہم نے اس کاٹھکانہ کردیا، آگے فرمایا…
Read the full tafseer →[6] یعنی اہل ایمان جنہوں نے اپنی زندگی عمل صالح کے سانچے میں ڈھال لی وہ پستی میں گرنے سے بچ گئے اور اسی احسن تقویم پر قائم رہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا تھا۔ اس لئے وہ بےانتہا اجر کے مستحق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
اس وقت جبکہ دنیا میں انسانیت کی توہین ہورہی تھی ۔ اور انسانیت کے لئے خود انسانوں کے دلوں میں کوئی جذبہ عزت واحترام نہ تھا ۔ اس وقت جب پتھر پوجتے تھے ۔ درخت محترم تھے ۔ دریامقدس تھے ۔ قبریں اور مزار قابل عزت وشرف تھے ۔ انسان کی حیثیت محض حقیر پجاری کی تھی ۔ اس وقت جبکہ کلیسا سے اس کو ابدی وازلی گنہگار کا سرٹیفکیٹ مل چکا تھا اور ہندو نقطہ نگاہ سے اس کی تناسخ کے آہنی چکر سے رہائی ناممکن تھی اور یہ موجود زندگی نتیجہ قرار دی جارہی تھی سابقہ کئی ہزار گناہوں کا ۔ اسلام اٹھا اور ان سے انسانی شرف وفضیلت کے عالم بوسیدہ کو پھر سے جلا دی اور علی الاعلان کہا کہ انسان کو بہترین انداز میں پیدا کیا گیا ہے ۔…
Read the full tafseer →(6) مگر ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے میں آدمی بچوں کے اور اپاہجوں کی حالت سے بھی نیچے گر جاتا ہے اور ضعف وقوۃ اور ظاہری خوبی سب جاتی رہتی ہے سروساقد کمان بن جاتا ہے۔ دانت ٹوٹنے سے چہرہ بگڑ جاتا ہے ہوش و حواس میں فرق آجاتا ہے عقل صحیح نہیں رہتی اس کو فرمایا پھر پھینک دیا اس کو نیچوں سے نیچے اعمال میں کمی ہوجاتی ہے اس ردی حالت پر لوٹا دینے سے یہ وہم ہوتا کہ شاید آخرت میں بھی یہی حالت ہوگی اور بوڑھوں کی وہاں بھی حالت ردی اور خراب ہوگی اس لئے فرمایا جو لوگ اہل ایمان ہیں اور نیک اعمال کے پابند رہے ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 10۔ شروع سورت میں چار چیزیں مقسم بہ ہیں، دو درخت کثیر النفع اور بقعہ کثیر البرکت کہ ایک مقام ہے تکلیم موسیٰ (علیہ السلام) کا، دوسرا آپ کا مولد و مسکن و محل نزول وحی، اور درختوں کی قسم کو مقصود سے مناسبت ظاہر ہے کہ درخت کو بھی اسی طرح نشو ونما ہوتا ہے، پھر سوکھ کر کٹنے کے قابل ہوجاتا ہے اور چونکہ یہاں بیان تھا اشرف المخلوقات کا اس لئے قسم بھی اشرف الاشجار کی مناسب ہوئی، اور طور اور بلد امین دونوں محل وحی ہیں تو مجازات آخرت سے ان کو زیادہ مناسبت ہوئی کہ وحی سے علم مجازاة کا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →مگر ہاں ! جو لوگ ایمان لائے اور مناسب حال اعمال کیے ان کے لیے نیک بدلہ ہے
6 ؎ وہ لوگ جو سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور اچھے اعمال کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اس ہلاکت سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور بلا شبہ وہی لوگ ہیں کہ وہ احسن تقویم پر پیدا ہونے کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں اور ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرنے کی توفیق پاتے ہیں ۔ لاریب یہی وہ لوگ ہیں جو اہل انسانیت کی لاج رکھتے ہیں اس کے دامن شرف پر کوئی داغ نہیں لگنے دیتے اور اپنے خالق کے ذکر کی شمع روشن رکھتے ہیں ، اس کے احکام کی بجا آوری میں سر گرم عمل رہتے ہیں ، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کا شوق ان کو دن رات بےچین رکھتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو صحیح…
Read the full tafseer →إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ (except those who believed and did righteous deeds, because for them there is a reward never ending....95:6). The foregoing interpretation of the preceding verse should not be misunderstood. The exceptive sentence does not mean that the believers will not attain to decrepit old age. It would not be correct to exclude the believers from this, because some of them are also overcome by the senility of old age. The sense, however, is that they do not suffer a big harm due to their physical or mental…
Read the full tafseer →5 The commentators who have taken asfala safilin to imply the state of extreme old age when man loses his sense and reason, interpret this verse to mean: "But the people who in the prime and strength of their age believed and did righteous deeds would have in this old age too the same righteous deeds credited for them and will be rewarded accordingly. No reduction will be made in their rewards on the ground that they could not perform those righteous deeds in that period of Iife". And the commentators who construe reversal to safilin to imply being cast into the lowest stage of Hell interpret…
Read the full tafseer →