At-Tin 95:7

At-Tin · from ayah 7

95:7

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ ۟ؕفَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالدِّيۡنِ‏

تو (اے آدم زاد) پھر تو جزا کے دن کو کیوں جھٹلاتا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So what yet causes you to deny the Recompense?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tin

All translations of 95:7

پس (اے نبیؐ) اس کے بعد کون جزا و سزا کے معاملہ میں تم کو جھٹلا سکتا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو (اے آدم زاد) پھر تو جزا کے دن کو کیوں جھٹلاتا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر (اے انسان) وہ کیا چیز ہے جو تجھے جزاء و سزا کو جھٹلانے پر آمادہ کر رہی ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اب کیا چیز تجھے انصاف کے جھٹلانے پر باعث ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس کے بعد کون ہے جو آپ کو دین (یا قیامت اور جزا و سزا) کے بارے میں جھٹلاتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اس کے بعد کون سی چیز تجھے جزا کے بارے میں جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس کے بعد جزا و سزا کے بارے میں آپ کو کون جھٹلا سکتا ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اب کیا ہے جس سے تم جزاء و سزا کو جھٹلاتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو کیا چیز ہے جو اس (قدر واضح بیان) کے بعد بھی تجھے (اے منکر انسان) جزا و سزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

تو کون سی چیز تجھ سے جزاء کی تکذیب کر ارہی ہے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس کے بعد کیا چیز تجھے آمادہ کرتی ہے جزا و سزا کے انکار پر ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اے آدم زاد ! پھر تو جزا کے دن کو کیوں جھٹلاتا ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Who, then, can give the lie to you, (O Prophet), about the Reward and the Punishment?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, what can make you, after all this, to deny the Requital?

— Muhammad Taqi Usmani

So, what can make you, after all this, to deny the Requital?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then what causes you to deny after this the Recompense

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So who henceforth will give the lie to thee about the judgment?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So what yet causes you to deny the Recompense?

— Saheeh International

After (knowing) this, what makes you still disbelieve in the Day of Judgment?

— Muhammad Sarwar

Then who can give you the lie after (this) about the judgment?

— Muhammad Habib Shakir

What hencefort shall make thee belie the Requital?

— Abdul Majid Daryabadi

Then what can, after this, contradict thee, as to the judgment (to come)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 95:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

تین سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے زیتون سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، طور سینین وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا بلد الامین سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر بھیجے گئے تھے، تین سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التِّیْن 6 دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " پس (اے انسان) اس کے بعد کیا چیز تجھے جزا و سزا کو جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے "۔ دونوں صورتوں میں مدعا ایک ہی رہتا ہے۔ یعنی جب یہ بات علانیہ انسانی معاشرے میں نظر آتی ہے بہترین ساخت پر پیدا کی ہوئی نوع انسانی میں سے ایک گروہ اخلاقی پستی میں گرتے گرتے سب نیچوں سے نیچ ہوجاتا ہے، اور دوسرا گروہ ایمان و عمل صالح اختیار کر کے اس گراوٹ سے بچا رہتا ہے اور اسی حالت پر قائم رہتا ہے جو بہترین ساخت پر انسان کے پیدا کیے جانے سے مطلوب تھی، تو اس کے بعد جزا و سزا کو کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے ؟ کیا عقل یہ کہتی ہے کہ دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

فما یکذبک بعد بالدین، پچھلی آیات میں تخلیق انسانی کے کمال اور اس پر حق تعالیٰ کے خاص انعام کا پھر بڑھاپے میں حالات کے انقلاب کا ذکر فرما کر اس آیت میں منکرین قیامت کو تنبیہ کی گئی ہے کہ قدرت الٰہیہ کے ایسے مناظر اور انقلاب دیکھنے کے بعد بھی کیا گنجائش ہے کہ تم آخرت اور قیامت کی تکذیب کرو، کیا اللہ تعالیٰ سب حکومت کرنے والوں پر حاکم نہیں۔ مسئلہ۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة تین پڑھے اور اس آیت پر پہنچے الیس اللہ باحکم الحکمین تو اس کو چاہئے کہ یہ کلمہ کہے بلی وانا علی ذلک من الشھدین اس لئے حضرات فقہاء نے فرمایا کہ یہ کلمہ پڑھنا مستحب ہے۔ تمت سورة التین…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ‘ اس آیت کی تاویل مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یوں فرمائی ہے: ’’اس آیت کی تاویل میں دو قول ہیں: ’فَمَا یُکَذِّبُکَ‘ الآیۃ کی تاویل: ایک یہ کہ پس اے انسان!ان واضح شہادتوں کے بعد کیا چیز ہے جو جزا کے بارے میں تیری تکذیب کرتی ہے۔ یہ تاویل مجاہد نے اختیار کی ہے جب ان سے کہا گیا کہ اس میں تو مخاطب آنحضرت ہیں تو انھوں نے فرمایا: معاذ اللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، اس میں مخاطب انسان ہے۔ زمخشری نے یہی تاویل اختیار کی ہے لیکن وہ ’یُکَذِّبُ‘ میں ’تکذیب‘ کے معنی ’حمل علی التکذیب‘ یعنی تکذیب پر ابھارنے کے لیے لیتے ہیں۔ اگر یہ معنی ثابت ہو جائیں تو یہ تاویل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

7۔ 1 یہ انسان سے خطاب ہے کہ اللہ نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا اور وہ تجھے اور اس کے برعکس ذلت میں گرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس کے بعد بھی تو قیامت اور جزا کا انکار کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–8

3: ابو داؤد اور ترمذی کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے پڑھنے کے وقت یہ کہنا مستحب ہے کہ“ بَلٰی وانَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ ا لشَّاہِدِیْنَ ”(کیوں نہیں ؟ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سارے حکمرانوں سے بڑھ کر حکمران ہے)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

“ اے نبی ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیا کوئی معقول شخص عقیدہ آخرت کے بارے میں آپ کو کوئی جھٹلا سکتا ہے ، خصوصاً جب کہ انسانیت کی قدروقیمت ایمان کا بڑا مقام ہے اور یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کا انجام کس قدر گھناﺅنا ہے جو نور سے محروم ہوتے ہیں اور جن کے ہاتھوں سے اللہ کی مضبوط رسی چھوٹ چکی ہوتی ہے۔ الیس اللہ ................ الحکمین (8:95) ” کیا اللہ سب حاکموں میں سے بڑا حاکم نہیں ہے “۔ کہ وہ سب سے بڑا منصف نہیں ہے ، جبکہ وہ لوگوں کے درمیان یوں انصاف کررہا ہے۔ کیا مومنین کا انجام اور کافرین کا یہ انجام حکمت بالغہ پر مبنی نہیں ہے ؟ انصاف واضح ہے ، حکمت نہایت بلند ہے ، یہی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی او آدمی ! ان دلائل کے بعد کیا سبب ہے جس کی بناء پر سلسلہ جزاء و سزا کا انکار کیا جاسکتا ہے ؟ یا یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہوگا۔ یعنی ایسے صاف بیانات کے بعد کیا چیز ہے جو منکرین کو جزاء کے معاملہ میں تمہاری تکذیب پر آمادہ کرتی ہے خیال کرو ! انسان کو اللہ نے پیدا کیا اور بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا۔ اس کا قوام ایسی ترکیب سے بنایا کہ اگر چاہے تو نیکی اور بھلائی میں ترقی کر کے فرشتوں سے آگے نکل جائے، کوئی مخلوق اس کی ہمسری نہ کرسکے۔ چناچہ اس کے کامل نمونے دنیا نے شام، بیت المقدس، کوہ طور اور مکہ معظمہ میں اپنے اپنے وقت پر دیکھ لئے جن کے نقش قدم پر اگر آدمی چلیں تو انسانی کمالات اور دارین کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ۔ } ”تو اس کے بعد کیا چیز تجھے آمادہ کرتی ہے جزا و سزا کے انکار پر ؟“ تو اے جزا و سزا کے منکر انسان ! جب تو خود دیکھ رہا ہے کہ دنیا میں تمام انسان ایک جیسے نہیں ہیں ‘ ان میں کچھ بہت اعلیٰ سیرت و کردار کے مالک ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں ‘ تو اس صورت حال میں کیا عقل اور انصاف کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اچھوں کو ان کی اچھائی اور محنت کا پھل ملے اور بروں کو ان کی برائی اور نافرمانی کی سزا دی جائے ؟ یہ ایسی سیدھی سادی بات ہے جو عام ذہنی سطح کا ایک انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔ تو یہ سب کچھ دیکھنے سننے اور سمجھنے کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 یعنی یہ بات تو ہر ایک کے مشاہدہ میں آرہی ہے کہ بنی نوع انسان دو گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اس کی اکثریت اسفل السافلین کی پستیوں میں گری ہے اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے احسن تقویم پر ہونے کے تقاضے پورے کیے۔ کیا یہ دونوں گروہ ایک جیسے ہوسکتے ہیں یا ان کے اعمال کے نتائج ایک ہی جیسے ہوسکتے ہیں ؟ پھر کیا اس بات سے انکار کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ اچھے عمل کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیا جانا چاہیے یا بدکردار لوگوں کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جانی چاہیے ؟ اور یہی چیز نظریہ آخرت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ یعنی اللہ کی قدرت کے اتنے شواہد دیکھ کر بھی اے ناشکر گزارا اور کافر انسان، تو آخر کس دلیل سے یوم جزاء کا منکر ہورہا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–8

ثمر رددناہ اسفل سافلین، مفسرین نے بالعموم اس کے دو مطلب بیان کئے ہیں ایک یہ کہ ہم نے اسے ارذل العمر یعنی بڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قال نہ رہا، دوسرے یہ کہ ہم نے اسے جہنم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا، لیکن یہ دونوں معنی اس مقصود کلام کے لئے دلیل نہیں بن سکتے جسے ثابت کرنے کے لئے یہ سورت نازل ہوئی ہے، سورت کا مقصد جزا اور سزا کے برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے اس پر نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ بڑھاپے کی انتہائی کمزور حالت کو پہنچا دیئے جاتے ہیں اور نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں کا ایک گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فما یکذبک بعد بالدین . اس آیت میں کلام کا رخ موڑ کر انسان کو مخاطب کیا اور فرمایا : اے انسان ! کیا باعث ہے کہ تو تکذیب جزا کر رہا ہے یا یہ مراد ہے کہ کس چیز نے تجھ کو کاذب بنایا ہے کہ تو برخلافِ حق ‘ حشر و نشر اور جزا و سزا کا منکر ہے باوجودیکہ تیرے اندر خود ایسی کھلی دلیلیں موجود ہیں کہ جس نے تجھے پیدا کیا اور طاقتور بنایا ‘ پھر کمزور کیا اور مردہ بنایا۔ وہ دوبارہ تجھ کو زندہ کرنے اور کیے کرائے کی سزا و جزا دینے پر قادر ہے۔ اس صورت میں استفہام ‘ زجر اور انکار کے لیے ہوگا۔ یعنی تجھے تکذیب جزا و سزا نہ کرنی چاہیے یا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور ما نفی کے لیے ہے یا استفہام انکاری کے لیے ‘ نفی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–8

(4۔ 5) ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے اور پھر آخرت میں اس کو دوزخ میں داخل کردیں گے مثلاً ولید بن مغیرہ اور کلدہ کا فر، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اولاد آدم کو عمدہ سانچہ میں ڈھالا ہے، پھر جب وہ اپنی جوانی پوری کرلیتا ہے تو اسے پستی کی عمر کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ اب وہی نیکیاں کار آمد آتی ہیں جو وہ اپنی جوانی میں کرچکا ہوتا ہے البتہ جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے اس قدر ثواب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا کہ ان کی نیکیوں کا سلسلہ بڑھاپے اور مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔ تو اے ولید یا یہ کہ اے کلدہ ان تما باتوں کو سن کر پھر کون سی چیز تجھ کو قیامت کو جھٹلانے پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فما یکذبک بعد بالدین : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا، پھر بعض نے تو اس ساخت کے تقاضوں کے مطاق ایمان اور عمل صالح اختیار کیا اور بعض نافرمانی کی وجہ سے ”اسفل السلافلین“ ٹھہرے۔ ان دونوں کے عمل کا لازمی نتیجہ ہے کہ ایک دن ایسا ہو جس میں ہر ایک کو نیکی اور بدی کی جزا و سزا دی جائے۔ اتنی واضح دلیل کے بعد اے انسان ! تجھے کون سی چیز آمادہ کر رہی ہے کہ تو جزا کو جھٹلا دے ؟ اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے :”اے نبی ! اس کے بعد کون ہے جو تجھے جزا کے بارے میں جھٹلائے ؟“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فمایکذبک بعد بالدین۔ خطاب کافر کو ہے مقصود اسے شرمندہ کرنا اور الزام حجت ہے اے انسان جب تو نے پہچان لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے احسن تقویم میں پیدا کیا وہ تجھے ارذل عمر کی طرف لوٹائے گا اور تجھے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرے گا تو وہ کون سی چیز ہے جو تجھے دوبارہ اٹھانے اور اجزا کو جھٹلانے پر برانگیختہ کرتی ہے جبکہ حضرت محمد نے تجھے اس بارے میں آگاہ کیا ایک قول یہ کیا گیا تھا کہ خطاب نبی کریم کو ہے یعنی یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کچھ آیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ احکم الحاکمین ہے یہی معنی قتادہ سے بھی منقول ہے قتادہ اور فراء نے کہا، معنی ہے اے رسول اس بیان کے بعد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

41۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے منصور (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مجاہد (رح) سے کہا کہ آتی فما یکذبک بعد بالدین پھر اس کے بعد آپ کو کون جھٹلاتا ہے اور ارأیت الذی یکذب بالدین کیا آپ نے اس کو دیکھا جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے کیا ان دونوں سے نبی ﷺ مراد لیے گئے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے فرمایا اللہ کی پناہ ! بیشک اس سے انسان مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَمَا يُكَذِّبُكَ : تو کیا چیز (دلیل) جھٹلا سکتی ہے آپ ﷺ کو ][ بَعْدُ : اس کے بعد ][ بِالدِّيْنِ : بدلے کے بارے میں ] نوٹ 4: آیت۔ 7 ۔ 8 کا مفہوم یہ ہے کہ بہترین ساخت پر پیدا کیے ہوئے انسانوں میں سے ایک گروہ اعمالِ بد اختیار کرنے کے نتیجے میں اخلاقی پستیوں میں گرتے گرتے سب نیچوں سے بھی نیچے چلا جاتا ہے اور دوسرا گروہ اعمال صالحہ اختیار کرنے کے نتیجے میں اسی حالت پر قائم رہتا ہے جو بہترین ساخت پر انسان کو پیدا کرنے سے مطلوب تھی۔ اس کے بعد بدلے کو کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے۔ کیا عقل یہ کہتی ہے کہ دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں ہو۔ جب دنیا کے چھوٹے چھوٹے حاکموں سے تم یہ چاہتے ہو کہ وہ انصاف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بالدِّيْنِؕ007﴾ (سو اے انسان اس کے بعد تجھے کیا چیز قیامت کا جھٹلانے والا بنا رہی ہے) ۔ مطلب یہ ہے کہ اے انسان تجھے اپنی تخلیقی حالت معلوم ہے کہ کس طرح پیدا کیا گیا اور تجھے کیسی حسین تقویم میں وجود بخشا گیا تو ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوتا رہا۔ یہ سب دیکھتے ہوئے اور خالق کائنات جل مجدہ کی قدرت کو سمجھتے ہوئے اس بات کا کیسے منکر ہو رہا ہے کہ مرنے کے بعد اٹھائے جائیں گے اور ایمان اور کفر اور اعمال کی جزا و سزا ملے گی۔ یہ سب تخلیقی احوال دیکھ کر تجھے اللہ کی قدرت کا یقین نہیں آتا جسے ان چیزوں پر قدرت ہے جو تیرے سامنے ہیں اسے دوبارہ زندہ کر کے محاسبہ اور مواخذہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

شہادت اشجار واماکن برخالقیت رب العالمین ومبداء ومعاد انسان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والتین والزیتون ...... الی ......... باحکم الحکمین “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں حضور اکرم ﷺ کو جن خاص انعامات سے نوازا گیا تھا، ان کا ذکر تھا۔ آپ ﷺ کے قلب کو وحی الہی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے لئے کھول دیا اور آپ کے حوصلہ کو اس قدر بلند اور قلب مبارک کو وسیع کردیا کہ اس میں علوم ومعارف اور حقائق وحکم کے سمندر سماگئے، اور آپ کا نام بلند کردیا۔ اور شان اس قدر اونچی کہ اس سے بڑھ کر کسی عظمت وبلندی کا تصور نہیں ہوسکتا، اب اس مناسبت سے اس سورت میں انجیر وزیتوں جیسے عظیم المنفعۃ پھلوں اور درختوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ ” فما یکذبک “ یہ جواب قسم پر متفرع ہے مذکورہ بالا بیان کے بعد کونسی چیز تمہیں حشر و نشر اور جزاء وسزا کے انکار پر آمادہ اور مجبور کرتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا انسان کو احسن تقویم میں پیدا کرنا اور ایک قطرہ آب سے ایسی عظیم الشان اور خوبیوں میں ساری مخلوق سے اعلی وارفع مخلوق پیدا کرلینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس لیے حشر و نشر اور جزاء وسزا کا انکار نہایت ہی قابل تعجب بات ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

موضوع اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم اٹھا کر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔ اس سے بہتر صورت اللہ نے کسی مخلوق کو عطا نہیں فرمائی۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر انسان اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتا ہے۔ تو واقعی وہ کائنات کی بہترین ہستی ہے اور اگر وہ ان فرائض کی بجا آوری نہیں کرتا۔ تو پھر اس سے بڑھ کر ذلیل چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔ ایسا انسان کائنات کی حقیر سے حقیر چیز سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ چار چیزوں کی قسم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا والتین والزیتون قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی ، عربی زبان میں تین انجیر کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِ۝ 7 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–8

ترکیب ¦ فما استفہامیۃ ای شی وقیل بمعنی من یکذبک الکاف مفعول یکذب و فاعلہ ضمیر یرجع الیٰ ماوالباء للسببیۃ فی بالدین وانطرف متعلق بالفعل۔ اللہ فاعل لیس ‘ باحکم الحاکمین خبرھا والا استفھام اذا دخل علی النفی صار الکلام ایجا با و تقریرا فما یکذبک الخ قال الفراء تقدیرہ فمن یکذبک یا محمد بعد ظھور ھذہ الدلائل بالدین وقیل الخطاب للانسان والمعنی فما الذی یلجئک بعد ظھور الامرایھا الانسان الی تکذیب الجزاء۔ تفسیر ¦ جب اے انسان ! تجھے یہ معلوم ہوگیا کہ حق نے تجھے عمدہ اور بہتر سے بہتر انداز اور شان میں پیدا کیا ہے اور پھر تیری حالت کو باعتبار ظاہر کے بھی ایسا پلٹا ہے کہ بوڑھا ہوجاتا ہے ‘ نہ آنکھوں میں نور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ ۔ (التین : 7) پس، ( اے پیغمبر) آپ کو کون جھٹلا سکتا ہے اس کے بعد جزاء و سزا کے معاملہ میں۔ ) متذکرہ بالا حقیقت کے قبول کرلینے کے بعد روزجزا کی تکذیب کا کیا موقع ہے امامِ قرطبی نے اس آیت کا ایک مفہوم قتادہ اور فراء سے نقل کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ قیامت کے برپا ہونے اور اس روزنیک و بد کو جزاء و سزا کا جو نظریہ آپ نے پیش کیا ہے، کون عقل مند اس کی تکذیب کرسکتا ہے۔ یعنی جب ہر دیکھنے والی نگاہ دیکھ رہی ہے اور ہر سوچنے والا دماغ اندازہ کررہا ہے کہ نوع انسانی میں سے جس گروہ نے بھی انبیائے کرام کے طریقے کو چھوڑ کر خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کو اپنا وطیرہ بنایا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : ایمان کے بنیادی اجزا میں تیسرا بڑا جز یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر یہ یقین رکھے کہ مرنے کے بعد اسے زندہ ہونا اور اپنے رب کی بارگاہ میں پیش کیا جانا ہے۔ آخرت کے عقیدے میں جس قدر تازگی اور پختگی ہوگی اسی قدر ہی انسان ایمان کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس لیے ایمان اور صالح اعمال کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا کہ اے انسان ! تو کس طرح قیامت کو جھٹلاتا ہے ؟ کیا تو نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ تمام حاکموں سے بڑا حاکم ہے۔ اس کے حاکم اور عادل ہونے کا تقاضا ہے کہ وہ قیامت قائم کرے تاکہ ایماندار اور صالح اعمال کرنے والوں کو بہترین جزا دے جس میں کبھی کمی نہیں ہوگی اور ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ (پھر کون سی چیز تم کو قیامت کے بارے میں منکر بنا رہی ہے) اس میں خطاب انسان کو بطریق التفات فرمایا گیا ہے۔ تکذیب قیامت کی کیا وجہ ؟ یعنی اس قطعی بیان کے بعد تمہاری تکذیب قیامت کا سبب کیا ہے۔ اور جزاء پر روشن دلیل آچکی پھر یہ تکذیب کیوں ؟ معنی یہ ہے۔ بلاشبہ انسان کی خلقت نطفہ سے کی گئی پھر درست کر کے انسان بنادیا گیا اور تدریجی طور پر اس کو بڑھاتے رہے۔ یہاں تک کہ مکمل و درست حدتک پہنچ گیا۔ پھر اس کو گھٹایا یہاں تک کہ ارذل عمر میں داخل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اس سے واضح دلیل اور کیا ہوگی جو ان تمام مراحل سے تخلیق انسانی کو گزار کر تکمیل تک پہنچا سکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” فما یکذبک “ اے انسان ! ” بعد “ یعنی اس دلیل وبرہان کے بعد ” بالدین “ حساب وجزاء کا اور معنی یہ ہے کہ وہ اپنی صورت اور جوانی اور بڑھاپے میں غور وفکر نہیں کرتا کہ وہ عبرت حاصل کرے اور کہے بیشک جس نے یہ کیا وہ اس پر قادر ہے کہ مجھ اٹھائے اور میرا محاسبہ کرے۔ پس کون آپ کی تکذیب کرتا ہے بدلہ دیئے جانے کی ان دلائل کے بعد۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ انجیر اور زیتون یہی مشہور دونوں پیڑ ہیں طور سینین اور طور سینا اس پہاڑ کا نام ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا تعالیٰ سے باتیں کیں تھی۔ بلدامین سے مراد مکہ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو بلکہ جانروں تک کو ہر طرح کا امن ہے۔ اب اس قسم کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے لیکن سفیان ثوری کا قول اوپر گزر چکا کہ تفسیر کے باب میں جب مجاہد کا قول مل جائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے کسی دوسرے کے قول کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ تفسیر سیکھنے کی غرض سے مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تیس دفعہ قرآن شریف پڑھا ہے اور ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِ ) پس اے انسان کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا اور سزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہوسکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہے کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جس کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(7) انسان کے ضمیر پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا اور انسان کے ضمیر پر ایک دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس سب کے بعد کون سی چیز تجھے ( اے انسان) جزا و سزا کی تکذیب پر آمادہ کرتی ہے ؟ یکزبک میں موجود ضمیر خطاب کے مرجع میں دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد عام انسان اور ہر مخاطب ہو، جیسا کہ تر جمہ کے اندر اختیار کیا گیا ہے اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ یہ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہو ( روح، ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) نتیجہ و مآل دونوں کا تقریبا ایک ہی بنتا ہے کہ جب تمہارے سامنے اے انسان یہ واضح شہادتیں پائی جاتی ہیں اور جب تمہارے سامنے انسانوں کے یہ دونوں نمونے موجود ہیں،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

یوم الحساب کیوں ضروری ہے ؟ تشریح : یہ سورت انسان کی روحانی مادی زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے رازوں کو بیان کرتی ہے۔ مثلاً انسان کا احسن تقویم ہونا یعنی شکل و صورت ' بناوٹ اور کردار اور منصب میں تمام قسم کی مخلوقات سے بہترین ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا اسی مقصد کے تحت اس کا حساب کتاب لے کر سزا و جزا ملنا ضروری ہے۔ اس بات کو اور بھی پکا کرنے کے لیے اللہ رب العٰلمین چار مشہور اور خاص صفات رکھنے والی چیزوں کی قسم کھاتے ہیں۔ وہ چار چیزیں بھی اپنی خصوصیات کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو منتخب کیا گیا ہے۔ پہلی چیز ہے انجیر :۔ اس کی بناوٹ حیران کن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة التین۔ آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی کہ دونوں پھل ہیں جو انسانی بدن کو حسین بناتے ہیں خون صاف کرتے ہیں معدہ درست کرتے ہیں اعضاء رئیسہ کو طاقت بخشتے ہیں اور چہرے پر بشاشت لاتے ہیں اور قسم ہے طور پہاڑ کی اور اس شہر امین کی کہ یہ دونوں تجلیات ذاتی کامرکز ہونے کے سبب باطنی اور قلبی خوبصورتی عطا کرتے ہیں یعنی یہ چاروں کہ دو حسن ظاہر کا سبب ہیں اور دو کمال باطن کا اس بات پر گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو سب سے خوبصورت پیدا فرمایا شکل و صورت ، اعضا وپیوند ، عقل وخرد ، فکر و شعور ، اور باطنی طور پر ان کمالات کا حامل کہ یہ مشت عبار عشق الٰہی کا دعوی کرے اس قدرحسین امتزاج کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب خطاب کافر سے ہو اور اگر خطاب نبی ﷺ سے ہوا تو ترجمہ یوں ہوگا۔ ”(اے پیغمبر) یہ سب باتیں جان کر کون ہے جو آپ کو (قیامت کے روز) بدلہ ملنے کے باب میں جھٹلائے ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(95:7) فما یکذبک بعد بالدین : ما استفہامیہ ہے ما بمعنی من یکذبک میں ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر ہے۔ اور یکذب میں ضمیر فاعل من کی طرف راجع ہے۔ بالدین میں باء سببیہ ہے۔ بعد (ظرف) متعلق بالفعل ہے (بعد کو اضافت لازمی ہے جب بغیر اضافت کے آئے گا تو ضمہ پر مبنی ہوگا یعنی بعد آئے گا) ۔ فراء کے نزدیک تقدیر کلام ہے :۔ فمن یکذبک (یا محمد) بعد ظھور ھذہ الدلائل بالدین ۔ قیامت یا جزاء کے متعلق ان دلائل کے بعد آپ کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ الدین : کے معنی ہیں۔ جزائ، اطاعت، شریعت، یوم الدین۔ روز قیامت۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ التین۔ انجیر۔ الزیتون۔ زیتون۔ طور سنیین۔ طور سینا۔ صحرائے سینا۔ بلد الامین۔ امن والا شہر۔ احسن۔ بہترین۔ تقویم۔ بناوٹ۔ سانچہ۔ رددنا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ اسفل زیادہ نیچے ۔ غیر ممنون۔ نہ ختم ہونے والا۔ تشریح : اس سورت سے پہلے رسول اکرم ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور شان رسالت کو بیان فرمایا تھا۔ سورة التین میں تین مقدس مقامات کی قسم کھا کر جو جلیل القدر پیغمبرون کی طرف منسوب ہیں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اتنا عظیم درجہ عطا کیا جو کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں یہ۔ اسے علم و عقل، فہم و فراست، اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور قابلیتوں سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–8

(ف 4) ہم نے انسان کو کیسے اچھے سانچے میں ڈھالا، اور کیسی کی کچھ قوتیں اور ظاہری وباطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کی ہیں دل ایک ایسی چیز عنایت ہوئی ہے کہ اگر اس کو صاف کرلیا جائے تو محبوب حقیقی کے جمال کا آئنہ بن جائے ، آگے فرمایا کہ ہم نے انسان کو ہرنیچی سے نیچی حالت یعنی بڑھاپے کی طرف پھیردیا جس سے بدن ضعیف ، اعضا ناکارہ، عقل ناقص، پشت خم بال سفید ہوجاتے ہیں ، جلد میں جھریاں پڑجاتی ہیں اپنی ضروریات انجام دینے میں مجبور ہوتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ جب اس سے اچھی شکل و صورت کی شکرگزاری نہ کی اور نافرمانی پر جمارہا اور ایمان نہ لایا تو جہنم کے اسفل ترین درجات کو ہم نے اس کاٹھکانہ کردیا، آگے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[7] یعنی جب ایک گروہ اخلاقی پستی میں گرتے گرتے پستی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور دوسرا گروہ ایمان اور عمل صالح اختیار کر کے اس گراوٹ سے بچا رہتا ہے تو اس کے بعد جزاوسزا کو کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے۔ کیا عقل یہ کہتی ہے کہ دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں ہوگا اور پستی میں گرنے والوں کو کوئی سزا نہ دی جائے اور اس سے بچ کر پاکیزہ زندگی گزارنے والوں کو نہ کوئی جزا ؟۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

اس وقت جبکہ دنیا میں انسانیت کی توہین ہورہی تھی ۔ اور انسانیت کے لئے خود انسانوں کے دلوں میں کوئی جذبہ عزت واحترام نہ تھا ۔ اس وقت جب پتھر پوجتے تھے ۔ درخت محترم تھے ۔ دریامقدس تھے ۔ قبریں اور مزار قابل عزت وشرف تھے ۔ انسان کی حیثیت محض حقیر پجاری کی تھی ۔ اس وقت جبکہ کلیسا سے اس کو ابدی وازلی گنہگار کا سرٹیفکیٹ مل چکا تھا اور ہندو نقطہ نگاہ سے اس کی تناسخ کے آہنی چکر سے رہائی ناممکن تھی اور یہ موجود زندگی نتیجہ قرار دی جارہی تھی سابقہ کئی ہزار گناہوں کا ۔ اسلام اٹھا اور ان سے انسانی شرف وفضیلت کے عالم بوسیدہ کو پھر سے جلا دی اور علی الاعلان کہا کہ انسان کو بہترین انداز میں پیدا کیا گیا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) پھر ان واضح دلائل کے بعد اے انسان وہ کونسی چیز ہے جو قیامت کی تکذیب پر تجھ کو آمادہ کررہی ہے اور قیامت کا منکر بنارہی ہے - یعنی ہماری قدرت کو دیکھنے اور قرآنی دلائل سننے کے بعد بھی وہ کون سی چیز ہے جو تجھ کو قیامت کے انکار و تکذیب پر مجبور کرتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی اس دقرت کو کہ اس نے کس طرح بچہ سا پیدا کیا پھر آہستہ آہستہ کس طرح پروان چڑھایا اور آخر عمر میں کس طرح ایک ایک کرکے وہ چیزیں واپس ہوگئیں کیا اب بھی اے انسان تجھ کو تامل ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت اور بعث پر قدرت نہیں رکھتا آخر وہ کیا چیز ہے جو تجھ کو قیامت کے انکار پر ابھارتی اور مجبور کرتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ خطاب نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–8

ف 10۔ شروع سورت میں چار چیزیں مقسم بہ ہیں، دو درخت کثیر النفع اور بقعہ کثیر البرکت کہ ایک مقام ہے تکلیم موسیٰ (علیہ السلام) کا، دوسرا آپ کا مولد و مسکن و محل نزول وحی، اور درختوں کی قسم کو مقصود سے مناسبت ظاہر ہے کہ درخت کو بھی اسی طرح نشو ونما ہوتا ہے، پھر سوکھ کر کٹنے کے قابل ہوجاتا ہے اور چونکہ یہاں بیان تھا اشرف المخلوقات کا اس لئے قسم بھی اشرف الاشجار کی مناسب ہوئی، اور طور اور بلد امین دونوں محل وحی ہیں تو مجازات آخرت سے ان کو زیادہ مناسبت ہوئی کہ وحی سے علم مجازاة کا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس کے بعد کونسی چیز تجھ کو اے مخاطب جزا اور سزا کے معاملہ میں جھٹلاتی ہے 7 ؎ زیر نظر آیت میں مخاطب عام انسان ہے اور اس طرح اس کو مخاطب کر کے گویا پوچھا جا رہا ہے کہ اے انسان ! کیا وجہ ہے اس کی کہ تو تکذیب جزا کررہا ہے ؟ ذرا بتا کہ کس چیز نے تجھ کو کاذب بنایا ہے کہ تو حق کے خلاف حشر و نشر اور جزا اور سزا منکر ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر کتنی ایسی کھلی دلیلیں موجود ہیں کہ جس نے تجھے پیدا کیا اور جو تیرا خالق ہے اس نے تجھے کمزور پیدا کیا پھر طاقتور بنایا اور پھر کمزور کیا اور مردہ کردیا اور تعجب ہے کہ اس مرنے کے بعد اگر وہ چاہے دوبارہ زندہ کرے تو اس بات ہی سے انکار کر دے آخر اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ (So, what can make you, after all this, to deny the Requital?...95:7). In the preceding verses man is made to realise that Allah created him, He bestowed on him special favours and the revolution that He brought about in his old age. Man will move from stage to stage, finally reaching the grave and the Hereafter. But he rejects the Hereafter, as a result he is warned. He has seen the scenes of Divine omnipotence and revolutions - how dare he denies and rejects the Hereafter! Is Allah not the Greatest Ruler of all the rulers? [ 8] Ruling Sayyidna Abu…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 Another translation of this verse can be: "What can after this (O man) make you deny the judgement ?" In both cases the intention and purpose remains the same. That is when it is a common observation in human society that a section of mankind which has been created in the best of moulds and nature, is rendered lowest of the low because of moral degradation, and the other section remains secure by adopting the path of constant faith and righteousness in view of its being created in the best of moulds and nature how can judgement be denied after this ? Does common sense require that the end…

Read the full tafseer →