Explained with ayahs 1–8
تین سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے زیتون سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، طور سینین وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا بلد الامین سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر بھیجے گئے تھے، تین سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی…
Read the full tafseer →سورة التِّیْن 7
یعنی جب دنیا کے چھوٹے چھوٹے حاکموں سے بھی تم یہ چاہتے ہو اور یہی توقع رکھتے ہو کہ وہ انصاف کریں، مجرموں کو سزا دیں اور اچھے کام کرنے والوں کو صلہ و انعام دیں، تو خدا کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا وہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ اگر تم اس کو سب سے بڑا حاکم مانتے ہو تو کیا اس کے بارے میں تمہارا یہ خیال ہے کہ وہ کوئی انصاف نہ کرے گا ؟ کیا اس سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ برے اور بھلے کو ایک جیسا کر دے گا ؟ کیا اس کی دنیا میں بد ترین افعال کرنے والے اور بہترین کام کرنے والے، دونوں مر کر خاک ہوجائیں گے، اور کسی کو نہ بد اعمالیوں کی سزا ملے گی نہ حسن عمل کی جزا ؟
امام احمد،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فما یکذبک بعد بالدین، پچھلی آیات میں تخلیق انسانی کے کمال اور اس پر حق تعالیٰ کے خاص انعام کا پھر بڑھاپے میں حالات کے انقلاب کا ذکر فرما کر اس آیت میں منکرین قیامت کو تنبیہ کی گئی ہے کہ قدرت الٰہیہ کے ایسے مناظر اور انقلاب دیکھنے کے بعد بھی کیا گنجائش ہے کہ تم آخرت اور قیامت کی تکذیب کرو، کیا اللہ تعالیٰ سب حکومت کرنے والوں پر حاکم نہیں۔
مسئلہ۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة تین پڑھے اور اس آیت پر پہنچے الیس اللہ باحکم الحکمین تو اس کو چاہئے کہ یہ کلمہ کہے بلی وانا علی ذلک من الشھدین اس لئے حضرات فقہاء نے فرمایا کہ یہ کلمہ پڑھنا مستحب ہے۔
تمت سورة التین…
Read the full tafseer →اس آیت کی تاویل مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یوں فرمائی ہے:
’’دوسرے استفہام ’اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ‘ کا مقصد یہ ہے کہ لوگ مجازات کا اقرار کریں اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ گویا پوری بات یوں فرمائی کہ کیا اللہ تعالیٰ تمام حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے؟ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ انسانوں کو یونہی چھوڑ دے گا، ان کے اچھوں اور بروں میں کوئی امتیاز نہ کرے گا۔
’اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ‘ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۶)
(کیا ہم فرماں برداروں کو نافرمانوں کی طرح کر دیں گے، تمہیں کیا ہو گیا ہے! تم کیسے فیصلے کرتے…
Read the full tafseer →8۔ 1 جو کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس کے عدل ہی کا یہ تقاضا ہے کہ وہ قیامت برپا کرے اور ان کی داد رسی کرے جن پر دنیا میں ظلم ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
3: ابو داؤد اور ترمذی کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے پڑھنے کے وقت یہ کہنا مستحب ہے کہ“ بَلٰی وانَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ ا لشَّاہِدِیْنَ ”(کیوں نہیں ؟ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سارے حکمرانوں سے بڑھ کر حکمران ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
“ اے نبی ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیا کوئی معقول شخص عقیدہ آخرت کے بارے میں آپ کو کوئی جھٹلا سکتا ہے ، خصوصاً جب کہ انسانیت کی قدروقیمت ایمان کا بڑا مقام ہے اور یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کا انجام کس قدر گھناﺅنا ہے جو نور سے محروم ہوتے ہیں اور جن کے ہاتھوں سے اللہ کی مضبوط رسی چھوٹ چکی ہوتی ہے۔
الیس اللہ ................ الحکمین (8:95) ” کیا اللہ سب حاکموں میں سے بڑا حاکم نہیں ہے “۔ کہ وہ سب سے بڑا منصف نہیں ہے ، جبکہ وہ لوگوں کے درمیان یوں انصاف کررہا ہے۔ کیا مومنین کا انجام اور کافرین کا یہ انجام حکمت بالغہ پر مبنی نہیں ہے ؟ انصاف واضح ہے ، حکمت نہایت بلند ہے ، یہی وجہ…
Read the full tafseer →6 یعنی اس کی شہنشاہی کے سامنے دنیا کی سب حکومتیں ہیچ ہیں۔ جب یہاں کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں اپنے وفاداروں کو انعام اور مجرموں کو سزا دیتی ہیں تو اس احکم الحاکمین کی سرکار سے یہ توقع کیوں نہ رکھی جائے۔
Read the full tafseer →آیت 8{ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ۔ } ”کیا اللہ تمام حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟“
دنیا میں تم لوگ چھوٹے چھوٹے حاکموں کو دیکھتے ہو کہ وہ اپنے غداروں اور باغیوں کو عبرتناک سزا دیتے ہیں اور اپنے وفاداروں کو انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔ کیا دنیا میں تم نے کوئی ایسا حاکم بھی دیکھا ہے جو اپنے باغیوں اور وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے ؟ اگر دنیا میں محدود اختیار کا مالک کوئی حاکم ایسا نہیں کرتا تو وہ اللہ عزوجل اپنے فرمانبردار بندوں اور نافرمانوں کو کیسے برابر کر دے گا جو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے ؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو احکم الحاکمین نہیں مانتے ہو ؟
مسند احمد ‘ سنن الترمذی ‘ سنن…
Read the full tafseer →9 یعنی دنیا کے بادشاہوں میں بھی عدل کا یہ قانون رائج ہے کہ مجرموں کو سزا دیتے ہیں اور اچھے اور نمایاں کام کرنے والوں کو انعام دیتے ہیں۔ تو اللہ جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس کے ہاں ہی یہ قانون رائج نہ ہوگا ؟ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ یہ دنیا چونکہ دارالعمل ہے اس لیے ان گروہوں کا حساب اسی دنیا میں فوراً نہیں چکا دیا جاتا بلکہ اس جزا و سزا کو آخرت پر مؤخر کردیا گیا ہے جو دارالجزاء ہے۔ البتہ اگر کسی فرد یا کسی قوم کا ظلم حد سے تجاوز کر جائے تو اللہ باقی لوگوں کو اس کے ظلم سے بچانے کی خاطر اس دنیا میں بھی اسے عذاب سے دو چار کرکے اور تباہ کرکے دوسروں کو اس سے بچا لیتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →6۔ یعنی ایسی موٹی بات بھی تیری سمجھ میں نہیں آتی، کہ اللہ تو ہر تصرف پر قادر ہے۔ اور وہی سب حاکموں کے اوپر حاکم ہے، تو وہ آخری عدالت برپا کئے، اور ہر ہر جزئی کا آخری صحیح وصادقہ فیصلہ کئے بغیر کیسے رہ سکتا ہے ؟ یوم الحساب کا وقوع تو حق تعالیٰ کے حاکم اعلی ہونے کا عین قدرتی نتیجہ ہی ہونا چاہیے ما یعنی کون سابسبب ؟ اے فما سبب تکذیب بالجزاء (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ثمر رددناہ اسفل سافلین، مفسرین نے بالعموم اس کے دو مطلب بیان کئے ہیں ایک یہ کہ ہم نے اسے ارذل العمر یعنی بڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قال نہ رہا، دوسرے یہ کہ ہم نے اسے جہنم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا، لیکن یہ دونوں معنی اس مقصود کلام کے لئے دلیل نہیں بن سکتے جسے ثابت کرنے کے لئے یہ سورت نازل ہوئی ہے، سورت کا مقصد جزا اور سزا کے برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے اس پر نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ بڑھاپے کی انتہائی کمزور حالت کو پہنچا دیئے جاتے ہیں اور نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں کا ایک گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا…
Read the full tafseer →الیس اللہ باحکم الحاکمین . نفی کا استفہام انکاری ہے اور نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے۔ اس لیے یہ کلام گزشتہ
کلام کی تائید اور تاکید ہے) (یعنی معنوی حیثیت سے اس کی تاکید ہے) مطلب یہ ہے کہ وہ خدا جس نے تخلیق کی اور پھر انسان کو اسفل ترین بنا دیا ‘ کیا وہ بناوٹ اور تدبیر کا سب سے بڑا حاکم نہیں اور جب ایسا ہے تو کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے اور سزا و جزا دینے کی قدرت نہیں رکھتا (ضرور رکھتا ہے) یا یہ مطلب ہے کہ کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں (ضرور ہے) لہٰذا وہی تمہارے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کریگا جو تمہاری تکذیب کرتے ہیں۔ کذا قال مقاتل
بہرحال یہ جملہ یا تو رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لیے ہے کہ کفار جو صرف عناد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
(4۔ 5) ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے اور پھر آخرت میں اس کو دوزخ میں داخل کردیں گے مثلاً ولید بن مغیرہ اور کلدہ کا فر، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اولاد آدم کو عمدہ سانچہ میں ڈھالا ہے، پھر جب وہ اپنی جوانی پوری کرلیتا ہے تو اسے پستی کی عمر کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ اب وہی نیکیاں کار آمد آتی ہیں جو وہ اپنی جوانی میں کرچکا ہوتا ہے
البتہ جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے اس قدر ثواب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا کہ ان کی نیکیوں کا سلسلہ بڑھاپے اور مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔ تو اے ولید یا یہ کہ اے کلدہ ان تما باتوں کو سن کر پھر کون سی چیز تجھ کو قیامت کو جھٹلانے پر…
Read the full tafseer →(الیس اللہ باحکم الحکمین :) کوئی معمولی سا انصاف کرنے والا ہو وہ بھی اپنے اختیار میں جزا و سزا کا اہتمام کئے بغیر نہیں رہے گا، تو اللہ جو سب حاموں سے بڑا حاکم ہے، وہ اس کا اہتمام کیوں نہیں کرے گا ؟
ترمذی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جب تم میں سے کوئی سورت ”والتین والزیتون“ پڑھے اور ”الیس اللہ باحکم الحکمین“ پر پہنچے تو کہے :(بلی وانا علی ذلک من الشاھدین) (ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة والتین : 3338)”کیوں نہیں ! اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں۔“ مگر یہ روایت صحیح نہیں، کیونکہ ترمذی ؒ نے فرمایا کہ ابوہریرہ ؓ سے ایک اعرابی نے یہ روایت بیان کی ہے…
Read the full tafseer →الیس اللہ باحکم الحاکمین۔
اس نے جو بھی چیز پید ا کی اس کی صنعت میں کیا وہ سب سے محکم حاکم نہیں ؟ ایک قول یہ کیا گیا حق کا فیصلہ کرنے اور مخلوق میں عدل کرنے کے اعتبار سے احکم الحاکمین نہیں ؟ اس میں کلام مقدر ہے کہ کفار میں سے جو صانع قدیم کا اعتراف کرتے ہیں ان کی طرف روئے سخن ہے استفہام کا ہمزہ جب حرف نفی پر داخل ہو جب کہ کلام میں آگاہی کا معنی موجود ہو تو وہ کلام مثبت ہوجاتی ہے جس طرح کہا، الستم خیر من رکب المطایا، جو لوگ سواریوں پر سوار ہوئے ان میں تے تم یقینا بہترین ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ دونوں آیات آیت سیف سے منسوخ ہوگئی ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ثابت ہیں کیونکہ دونوں کے درمیان…
Read the full tafseer →42۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی الیس اللہ باحکم الحکمین کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں اس کے بارے میں ہمیں یہ ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ اس آیت کو یوں فرمایا کرتے تھے آیت بلی وانا علی ذلک من الشہدین یعنی کیوں نہیں اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔
43۔ عبد بن حمید نے صالح ابو الخلیل ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ جب اس آیت الیس اللہ باحکم الحکمین پر پہنچتے تھے تو فرماتے سبحانک فبلی (اے اللہ تیرے ذات ہر عیب ونقص سے پاک ہے کیوں نہیں آپ باحکم الحکمین ہیں۔
سورۃ تین کی آخری آیت کا جواب
44۔ الترمذی وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص آیت والتین والزیتون پڑھے۔ اور…
Read the full tafseer →[اَلَيْسَ اللّٰهُ : کیا اللہ نہیں ہے ][ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ : تمام حاکموں کا سب سے بڑا حاکم ]
Read the full tafseer →﴿اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ (رح) 008﴾ (کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے ؟ ) یہ استفہام تقریری ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ کائنات میں دیکھنے سے یہ پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ سب حاکموں کا حاکم ہے سب پر اسی کی حکومت ہے تکوینی طور پر بھی سب اسی کے اختیارات ہیں اور تشریعی طور پر بھی سب اسی کے بھیجے ہوئے دین کے پابند ہیں جو وہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے یہاں دنیا میں بھی اسی کا حکم نافذ ہے اور آخرت میں بھی اسی کے فیصلے نافذ ہوں گے۔ ﴿وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَقِّ وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (رح) 0075﴾
فائدہ : حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
شہادت اشجار واماکن برخالقیت رب العالمین ومبداء ومعاد انسان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والتین والزیتون ...... الی ......... باحکم الحکمین “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں حضور اکرم ﷺ کو جن خاص انعامات سے نوازا گیا تھا، ان کا ذکر تھا۔
آپ ﷺ کے قلب کو وحی الہی اور منصب رسالت کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے لئے کھول دیا اور آپ کے حوصلہ کو اس قدر بلند اور قلب مبارک کو وسیع کردیا کہ اس میں علوم ومعارف اور حقائق وحکم کے سمندر سماگئے، اور آپ کا نام بلند کردیا۔ اور شان اس قدر اونچی کہ اس سے بڑھ کر کسی عظمت وبلندی کا تصور نہیں ہوسکتا، اب اس مناسبت سے اس سورت میں انجیر وزیتوں جیسے عظیم المنفعۃ پھلوں اور درختوں اور…
Read the full tafseer →8:۔ ” الیس اللہ “ یہ دلیل عقلی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام بادشاہوں میں سب سے بڑا بادشاہ ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے اس کا یہ فیصلہ ہے کہ حشر و نشر اور جزاء سزا حق ہے۔
سورة التین ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
موضوع
اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم اٹھا کر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔ اس سے بہتر صورت اللہ نے کسی مخلوق کو عطا نہیں فرمائی۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر انسان اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتا ہے۔ تو واقعی وہ کائنات کی بہترین ہستی ہے اور اگر وہ ان فرائض کی بجا آوری نہیں کرتا۔ تو پھر اس سے بڑھ کر ذلیل چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔ ایسا انسان کائنات کی حقیر سے حقیر چیز سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔
چار چیزوں کی قسم
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا والتین والزیتون قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی ، عربی زبان میں تین انجیر کو…
Read the full tafseer →اَلَيْسَ اللہُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ 8 ۧ
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ترکیب ¦ فما استفہامیۃ ای شی وقیل بمعنی من یکذبک الکاف مفعول یکذب و فاعلہ ضمیر یرجع الیٰ ماوالباء للسببیۃ فی بالدین وانطرف متعلق بالفعل۔ اللہ فاعل لیس ‘ باحکم الحاکمین خبرھا والا استفھام اذا دخل علی النفی صار الکلام ایجا با و تقریرا فما یکذبک الخ قال الفراء تقدیرہ فمن یکذبک یا محمد بعد ظھور ھذہ الدلائل بالدین وقیل الخطاب للانسان والمعنی فما الذی یلجئک بعد ظھور الامرایھا الانسان الی تکذیب الجزاء۔
تفسیر ¦ جب اے انسان ! تجھے یہ معلوم ہوگیا کہ حق نے تجھے عمدہ اور بہتر سے بہتر انداز اور شان میں پیدا کیا ہے اور پھر تیری حالت کو باعتبار ظاہر کے بھی ایسا پلٹا ہے کہ بوڑھا ہوجاتا ہے ‘ نہ آنکھوں میں نور…
Read the full tafseer →اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ ۔ (التین : 8)
(کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے۔ )
اس سوال کے جواب میں ہدایت مضمر ہے
ہر احساس اور عقل رکھنے والا شخص دنیا میں چھوٹے سے چھوٹے حاکم سے بھی یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی حکومت میں عدل و انصاف سے کام لے۔ وہ اچھے کام کرنے والوں کو صلہ دے اور برے کام کرنے والوں کو سزا دے۔ جو قانون توڑے اس پر قانون شکنی کا مقدمہ قائم ہو اور اس کے جرم کی اسے سزا دی جائے۔ اور جو قانون کا احترام اور اطاعت کرے اسے اس کی جزاء ملے۔ تو اگر یہ توقع اور یہ مطالبہ چھوٹے سے چھوٹے حاکم سے حق اور عقل کا مطالبہ ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ سب سے بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فہم القرآن
ربط کلام : ایمان کے بنیادی اجزا میں تیسرا بڑا جز یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر یہ یقین رکھے کہ مرنے کے بعد اسے زندہ ہونا اور اپنے رب کی بارگاہ میں پیش کیا جانا ہے۔
آخرت کے عقیدے میں جس قدر تازگی اور پختگی ہوگی اسی قدر ہی انسان ایمان کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس لیے ایمان اور صالح اعمال کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا کہ اے انسان ! تو کس طرح قیامت کو جھٹلاتا ہے ؟ کیا تو نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ تمام حاکموں سے بڑا حاکم ہے۔ اس کے حاکم اور عادل ہونے کا تقاضا ہے کہ وہ قیامت قائم کرے تاکہ ایماندار اور صالح اعمال کرنے والوں کو بہترین جزا دے جس میں کبھی کمی نہیں ہوگی اور ان…
Read the full tafseer →8 : اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ (کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہیں) اس میں کفار کو وعید سنائی گئی۔ وہ ان کے متعلق فیصلہ فرمائے گا جس کے یہ حقدار ہیں۔ الحاکمینیہ الحکم سے لیا گیا جس کا معنی فیصلہ کرنا ہے۔
Read the full tafseer →8 ۔” الیس اللہ باحکم الحاکمین “ فیصلہ کرنے والوں میں سے زیادہ فیصلہ کرنے والا ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اے محمد ! ( ﷺ ) آپ کے درمیان اور اہل تکذیب کے درمیان فیصلہ کریں گے اور ہم تک روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ” والتین والزیتون “ پڑھی پھر اس کے آخر ” الیس اللہ باحکم الحاکمین “ تک پہنچ گیا۔ پس چاہیے کہ وہ کہے کیوں نہیں اور میں اس پر گواہوں میں سے ہو۔ برائ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے تو عشاء کی دو رکعتوں میں سے پہلی میں ” والتین والزیتون “ کی قرات کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ انجیر اور زیتون یہی مشہور دونوں پیڑ ہیں طور سینین اور طور سینا اس پہاڑ کا نام ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا تعالیٰ سے باتیں کیں تھی۔ بلدامین سے مراد مکہ ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو بلکہ جانروں تک کو ہر طرح کا امن ہے۔ اب اس قسم کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے لیکن سفیان ثوری کا قول اوپر گزر چکا کہ تفسیر کے باب میں جب مجاہد کا قول مل جائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے کسی دوسرے کے قول کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ تفسیر سیکھنے کی غرض سے مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے تیس دفعہ قرآن شریف پڑھا ہے اور ہر…
Read the full tafseer →(اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ ) کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بےکار اور مہمل چھوڑ دیا جائے ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکاجائے ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیاجائے ؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کوئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کرسکتے بہترین طیرقے سے ان کی پرورش کی، ضرور ان کو گھر کیط رف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت وانتہا جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →(8) اللہ تعالیٰ تمام حاکموں سے بڑا حاکم، سبحانہ وتعالی : سو انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور غافلوں کی تنبیہ و تذکیر کے لیے ان کے دلوں پر ایک اور دستک کے طور پر بطور سوال و استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ؟ " اور استفہام ظاہر ہے کہ تقریری ہے۔ یعنی ہاں یقینا وہ اور صرف وہی ہے جو " احکم الحاکمین " یعنی سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو جب دنیا کے عام حاکموں سے بھی یہ توقع رکھی جاتی ہے اور ان کے منصب و مقام کا تقاضا بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لیں، اور نیک و بد کے درمیان فرق وتمیز کا انتظام کریں، اور ایسا نہ کرنا ظلم و بےانصافی سمجھا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
یوم الحساب کیوں ضروری ہے ؟
تشریح : یہ سورت انسان کی روحانی مادی زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے رازوں کو بیان کرتی ہے۔ مثلاً انسان کا احسن تقویم ہونا یعنی شکل و صورت ' بناوٹ اور کردار اور منصب میں تمام قسم کی مخلوقات سے بہترین ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا اسی مقصد کے تحت اس کا حساب کتاب لے کر سزا و جزا ملنا ضروری ہے۔ اس بات کو اور بھی پکا کرنے کے لیے اللہ رب العٰلمین چار مشہور اور خاص صفات رکھنے والی چیزوں کی قسم کھاتے ہیں۔ وہ چار چیزیں بھی اپنی خصوصیات کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو منتخب کیا گیا ہے۔
پہلی چیز ہے انجیر :۔ اس کی بناوٹ حیران کن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة التین۔
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی کہ دونوں پھل ہیں جو انسانی بدن کو حسین بناتے ہیں خون صاف کرتے ہیں معدہ درست کرتے ہیں اعضاء رئیسہ کو طاقت بخشتے ہیں اور چہرے پر بشاشت لاتے ہیں اور قسم ہے طور پہاڑ کی اور اس شہر امین کی کہ یہ دونوں تجلیات ذاتی کامرکز ہونے کے سبب باطنی اور قلبی خوبصورتی عطا کرتے ہیں یعنی یہ چاروں کہ دو حسن ظاہر کا سبب ہیں اور دو کمال باطن کا اس بات پر گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو سب سے خوبصورت پیدا فرمایا شکل و صورت ، اعضا وپیوند ، عقل وخرد ، فکر و شعور ، اور باطنی طور پر ان کمالات کا حامل کہ یہ مشت عبار عشق الٰہی کا دعوی کرے اس قدرحسین امتزاج کہ…
Read the full tafseer →“3 کہ تم یہ سمجھو کہ وہ بندوں کو ان کے اچھے یا برے کاموں کا کوئی بدلہ دے گا یا وہ انہیں دوبارہ پیدا نہ کرسکے گا ؟ “ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم یہ سورة پڑھو اور الیس اللہ باحکم الحاکمین پر پہنچو تو یہ کہو ’ دبلی وانا علی ذلک لمن الشاھدین کیوں نہیں اور میں اس کی شہادت دینے والوں میں سے ہوں “ (فتح القدیر بحوالہ ترمذی ۔ ابن مردویہ)
Read the full tafseer →(95:8) الیس اللہ باحکم الحکمین : سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم، پھر کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے۔
الیس : ہمزہ استفہامیہ۔ لیس فعل ناقص ماضی واحد مذکر غائب۔ بمعنی نہیں ہے۔ اس فعل سے ماضی کی پوری گردان آتی ہے ۔ لیکن مضارع ، امر۔ اسم فاعل، اسم مفعول اس سے مشتق نہیں ہے۔
اللہ فاعل اور باحکم الحاکمین اس کی خبر۔
احکم۔ حکم سے اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ بہتر حکم کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔
التین۔ انجیر۔ الزیتون۔ زیتون۔ طور سنیین۔ طور سینا۔ صحرائے سینا۔ بلد الامین۔ امن والا شہر۔ احسن۔ بہترین۔ تقویم۔ بناوٹ۔ سانچہ۔ رددنا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ اسفل زیادہ نیچے ۔ غیر ممنون۔ نہ ختم ہونے والا۔
تشریح : اس سورت سے پہلے رسول اکرم ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور شان رسالت کو بیان فرمایا تھا۔ سورة التین میں تین مقدس مقامات کی قسم کھا کر جو جلیل القدر پیغمبرون کی طرف منسوب ہیں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اتنا عظیم درجہ عطا کیا جو کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں یہ۔ اسے علم و عقل، فہم و فراست، اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور قابلیتوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
(ف 4) ہم نے انسان کو کیسے اچھے سانچے میں ڈھالا، اور کیسی کی کچھ قوتیں اور ظاہری وباطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کی ہیں دل ایک ایسی چیز عنایت ہوئی ہے کہ اگر اس کو صاف کرلیا جائے تو محبوب حقیقی کے جمال کا آئنہ بن جائے ، آگے فرمایا کہ ہم نے انسان کو ہرنیچی سے نیچی حالت یعنی بڑھاپے کی طرف پھیردیا جس سے بدن ضعیف ، اعضا ناکارہ، عقل ناقص، پشت خم بال سفید ہوجاتے ہیں ، جلد میں جھریاں پڑجاتی ہیں اپنی ضروریات انجام دینے میں مجبور ہوتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ جب اس سے اچھی شکل و صورت کی شکرگزاری نہ کی اور نافرمانی پر جمارہا اور ایمان نہ لایا تو جہنم کے اسفل ترین درجات کو ہم نے اس کاٹھکانہ کردیا، آگے فرمایا…
Read the full tafseer →[8] یعنی جب دنیا کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں بھی اپنے وفاداروں کو انعام اور مجرموں کو سزائیں دیتی ہیں توا للہ احکم الحاکمین سے یہ توقع کیوں نہ رکھی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
اس وقت جبکہ دنیا میں انسانیت کی توہین ہورہی تھی ۔ اور انسانیت کے لئے خود انسانوں کے دلوں میں کوئی جذبہ عزت واحترام نہ تھا ۔ اس وقت جب پتھر پوجتے تھے ۔ درخت محترم تھے ۔ دریامقدس تھے ۔ قبریں اور مزار قابل عزت وشرف تھے ۔ انسان کی حیثیت محض حقیر پجاری کی تھی ۔ اس وقت جبکہ کلیسا سے اس کو ابدی وازلی گنہگار کا سرٹیفکیٹ مل چکا تھا اور ہندو نقطہ نگاہ سے اس کی تناسخ کے آہنی چکر سے رہائی ناممکن تھی اور یہ موجود زندگی نتیجہ قرار دی جارہی تھی سابقہ کئی ہزار گناہوں کا ۔ اسلام اٹھا اور ان سے انسانی شرف وفضیلت کے عالم بوسیدہ کو پھر سے جلا دی اور علی الاعلان کہا کہ انسان کو بہترین انداز میں پیدا کیا گیا ہے ۔…
Read the full tafseer →(8) کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے - یعنی کیا اس کی حکومت اور اس کی شہنشاہی تمام حکومتوں اور بادشاہوں سے بڑی نہیں ہے پھر جب معمولی بادشاہ بھی اپنی رعایا اور اپنے ماتحتوں کی خدمات کا صلہ عنایت کرنے کے لئے ایک دن مقرر کرتے ہیں اور انعامات دیتے ہیں اور مجرموں کو سزا دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ جو احکم الحاکمین ہے اگر اس نے قیامت کا دن سزاوجزا کے لئے مقرر کیا ہے تو اس کے تسلیم کرنے میں کیوں اشکال پیش آرہا ہے۔
حدیث میں آتا ہے جب نبی کریم ﷺ والتین کی آخری آیت پڑھتے تو فرماتے۔
بلی وانا علی ذلک من الشاھدین یعنی بیشک میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ تمام مجازی حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہیں۔
تم تفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 10۔ شروع سورت میں چار چیزیں مقسم بہ ہیں، دو درخت کثیر النفع اور بقعہ کثیر البرکت کہ ایک مقام ہے تکلیم موسیٰ (علیہ السلام) کا، دوسرا آپ کا مولد و مسکن و محل نزول وحی، اور درختوں کی قسم کو مقصود سے مناسبت ظاہر ہے کہ درخت کو بھی اسی طرح نشو ونما ہوتا ہے، پھر سوکھ کر کٹنے کے قابل ہوجاتا ہے اور چونکہ یہاں بیان تھا اشرف المخلوقات کا اس لئے قسم بھی اشرف الاشجار کی مناسب ہوئی، اور طور اور بلد امین دونوں محل وحی ہیں تو مجازات آخرت سے ان کو زیادہ مناسبت ہوئی کہ وحی سے علم مجازاة کا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →تو ہی بتا کہ کیا اللہ سب حاکموں کا بڑا حاکم نہیں ہے
8 ؎ انسان خواہ کتنا ہی ظالم اور غیر عادل ہوجائے لیکن اس کی خواہش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ عدل و انصاف ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ طبعاً اس بات کو کبھی پسند نہیں کرتا کہ عدل و انصاف نہ ہو وہ ظالم ہو کر مظلوم بننے کی سعی و کوشش کرے گا لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتا اور اسی طرح دنیا کے کسی حاکم سے اس کو عدل و انصاف کی توقع ہوتی ہے اور اس کے خلاف کو وہ کبھی پسند نہیں کرتا اگر وہ ظلم و ستم پر اتر آئے تو انسان اس سے نفرت کرنے لگتا ہے اور اگر وہ کرسکے اور حالات اس کو اجازت دیں تو وہ چاہتا ہے کہ اس کا تاج و تخت بھی چھین لے اگر یہ صحیح ہے تو تم خود بتائو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ (So, what can make you, after all this, to deny the Requital?...95:7). In the preceding verses man is made to realise that Allah created him, He bestowed on him special favours and the revolution that He brought about in his old age. Man will move from stage to stage, finally reaching the grave and the Hereafter. But he rejects the Hereafter, as a result he is warned. He has seen the scenes of Divine omnipotence and revolutions - how dare he denies and rejects the Hereafter! Is Allah not the Greatest Ruler of all the rulers? [ 8]
Ruling
Sayyidna Abu…
Read the full tafseer →7 That is, "When you want and expect even the petty judges of the world to do justice, punish the culprits and reward the doers of good, what is your opinion about God? Is He not the greatest of all judges? If you think he is the . greatest of all judges, do you think that He will not do any justice? Do you expect that He will treat the good and the evil alike? Will those who commit the vilest of deeds in the world and those who perform righteous deeds, both end in the dust: neither will any be punished for his evil deeds, nor any be rewarded for his good works''"
Imam Ahmad, Tirmidhi, Abu…
Read the full tafseer →