Al-Alaq 96:1

96. Al-Alaqالعلق

The Clot · Meccan · 19 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

96:1

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ ۟ۚاِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ خَلَقَ‌ۚ

(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Recite in the name of your Lord who created -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Alaq

All translations of 96:1

پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پڑھو اپنے پروردگار کا نام لے کر جس نے سب کچھ پیدا کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھئے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پڑھ اپنے اس خداوند کے نام سے جس نے پیدا کیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پڑھو اپنے اس رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا فرمایا ہے (اس ساری مخلوق کو)

— مولانا اسحاق مدنی

آپ پڑئیے اپنے پروردگار کے نام سے کے ساتھ۔ جس نے (سب کو) پیدا کیا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پڑھیے اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پڑھ اپنے رب کے نام سے جو سب کا بنانے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Recite in the name of your Lord Who created,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Read with the name of your Lord who created (every thing) ,

— Muhammad Taqi Usmani

Read with the name of your Lord who created (every thing) ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Read! In the Name of your Lord Who created.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Read: In the name of thy Lord Who createth,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Recite in the name of your Lord who created -

— Saheeh International

(Muhammad), read in the name of your Lord who created (all things).

— Muhammad Sarwar

Read in the name of your Lord Who created.

— Muhammad Habib Shakir

Recite thou in the name of thy Lord Who hath created -

— Abdul Majid Daryabadi

Proclaim! (or read!) in the name of thy Lord and Cherisher, Who created-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 96:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتا پھر آپ نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہی عبادت میں گذارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں شروع شروع میں وحی آیہ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا اقرا یعنی پڑھئیے آپ فرماتے ہیں، میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا پڑھو میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں اس نے مجھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العلق 1 جیسا کہ ہم نے دیباچہ میں بیان کیا ہے، فرشتے نے جب حضور سے کہا کہ پڑھو، تو حضور نے جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے وحی کے یہ الفاظ لکھی ہوئی صورت میں آپ کے سامنے پیش کیے تھے اور انہیں پڑھنے کے لیے کہا تھا۔ کیونکہ اگر فرشتے کی بات کا مطلب یہ ہوتا کہ جس طرح میں بولتا جاؤں آپ اسی طرح پڑھتے جائیں، تو حضور کو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ سورة العلق 2 یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھو، یا بالفاظ دیگر بسم اللہ کہو اور پڑھو۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ اس وحی کے آنے سے پہلے صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب جانتے اور مانتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اقراء سے مالم یعلم تک سب سے پہلے وحی ہے جس کے نزول سے نبوت کی ابتدا ہوئی جس کا قصہ حدیث شیخین میں یہ کہ عطاء نبوت کے قریب زمانے میں آپ کو از خود خلوت پسند ہوگئی، آپ غار حرا میں تشریف لیجا کر کئی کئی شب رہتے، ایک روز دفعتہً جبرئیل ؑ تشریف لائے اور آپ سے کہا کہ اقراء یعنی پڑھئے، آپ نے فرمایا ماانا بقاری، یعنی میں کچھ پڑھا ہوا نہیں، انہوں نے خوب آپ کو زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور پھر کہا اقرائ، آپ نے پھر وہی جواب دیا، اسی طرح تین بار کیا پھر آخر میں دبانے کے بعد چھوڑ کر کہا اقراء الی مالم یعلم اے پیغمبر ﷺ آپ (پر جو) قرآن (نازل ہوا کرے گا جس میں اس وقت کی نازل ہونے والی کیجئے جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اقْرَا‘ بطریق دعوت سنانے کے معنی میں: لفظ ’اقْرَا‘ (پڑھو) صرف اسی مفہوم میں نہیں آتا جس مفہوم میں ایک استاد اپنے شاگرد سے کہتا ہے: پڑھو!، بلکہ یہ ’اقْرَا عَلی الناس‘ یا ’اُتل علی الناس‘ یعنی دوسروں کو بطریق دعوت سنانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ لفظ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ان کفار کو مخاطب کر کے جو قرآن کے سنانے میں مزاحم ہوتے تھے، فرمایا ہے: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَأَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ (الاعراف ۷: ۲۰۴) ’’جب قرآن سنایا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ سورۂ بنی اسرائیل میں ہے: وَإِذَا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 یہ سب سے پہلی وحی ہے جو نبی ﷺ پر اس وقت آئی جب آپ غار حرا میں مصروف عبادت تھے، فرشتے نے آ کر کہا، پڑھ آپ ﷺ نے فرمایا، میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں، فرشتے نے آپ ﷺ کو پکڑ کر زور سے بھینچا اور کہا پڑھ، آپ ﷺ نے پھر وہی جواب دیا۔ اس طرح تین مرتبہ اس نے آپ ﷺ کو بھینچا (تفصیل کے لئے دیکھئے صحیح بخاری بدء الوحی، مسلم، باب بدء الوحی، اقرا) جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے وہ پڑھ، جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: اس سورت کی پہلی پانچ آیتیں سب سے پہلی وحی ہے، جو آنحضرت ﷺ پر غار حرا میں نازل ہوئی، آپ نبوت سے پہلے کئی کئی دن اس غار میں عبادت کیا کرتے تھے، ایک روز اسی دوران حضرت جبرئیل ؑ آپ کے پاس آئے، اور آپ کو دبایا اور کہا کہ ”پڑھو“ آپ نے فرمایا کہ ”میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں“ یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا، پھر حضرت جبرئیل نے یہ پانچ آیتیں پڑھیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اقرا باسم .................................... علم بالقلم (1:96 تا 4) ” پڑھو (اے نبی) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “۔ اس وحی کو لے کر حضور ﷺ واپس آئے اور حال یہ تھا کہ آپ کانپ رہے تھے۔ آپ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس پہنچے اور ان سے کہا ” مجھے چادراوڑھاﺅ“ مجھے چادر اوڑھاﺅ“۔ تو انہوں نے آپ کو چادر اوڑھادی۔ یہاں تک کہ آپ کا خوف دور ہوا۔ پھر آپ نے حضرت خدیجہ ؓ سے کہا مجھے کیا ہوگیا ہے اور پھر آپ نے ان کو پوری کہانی سنائی اور کہا میں تو ڈر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یہ پانچ آیتیں (اقرا سے مالم یعلم تک) قرآن کی سب آیتوں اور سورتوں سے پہلے اتریں۔ آپ ﷺ " غار حرا " میں خدائے واحد کی عبادت کر رہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر آئے اور آپ ﷺ کو کہا " اقرا " (پڑھیے) آپ ﷺ نے فرمایا۔ " ماانا بقاری (میں پڑھا ہوا نہیں) جبرائیل (علیہ السلام) نے کئی بار آپ ﷺ کو زور زور سے دبایا، اور بار بار وہی لفظ " اقرا " کہا۔ آپ ﷺ وہی " ما انا بقاری " جواب دیتے رہے۔ تیسری مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) نے زور سے دبا کر کہا۔ " اقرا باسم ربک " بعنی اپنے رب کے نام کی برکت اور مدد سے پڑھیے۔ مطلب یہ ہے کہ جس رب نے ولادت سے اس وقت تک آپ ﷺ کی ایک عجیب اور نرالی شان سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

آیت 4{ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ } ”جس نے تعلیم دی ہے قلم کے ساتھ۔“ گویا عام انسانی تعلیم کا ذریعہ قلم ہے ‘ جبکہ حضور ﷺ کی تعلیم کے لیے فرشتہ مقرر ہوا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 آغاز وحی میں ہی تین اہم سوالوں کا جواب :۔ ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جبرئیل نے غارحرا میں جو وحی آپ پر پیش کی۔ وہ مکتوب شکل میں تھی۔ ورنہ آپ کو جواب میں ما انا بقاری (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں) کہنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اگر کوئی استاد کسی بچہ کو یا شاگرد کو زبانی پڑھائے تو اسے ایسا فقرہ جواب میں کہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ وحی کا آغاز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے کیا گیا۔ کائنات کی تخلیق کس نے کی ؟ کیسے ہوئی ؟ انسان کا اس کائنات میں کیا مقام ہے ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ابتدائے نوع انسانی سے ہی صاحب فکر انسانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے ہیں۔ اسی سوال کا جواب سب سے پہلے دیا گیا اور بتایا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ (اس قرآن کو جو آپ ﷺ پر اب نازل ہونا شروع ہوا ہے) سورة اقرأ کی یہ ابتدائی پانچ آیتیں سب سے پہلی وحی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی، آپ ﷺ کی عمر مبارت جب قریب چالیس کے پہنچی تو آپ ﷺ کی طبیعت زیادہ خلوت پسند ہوگئی اور شہر مکہ سے متصل ایک پہاڑی حرا نامی کے غار میں آپ اکثر جا کرمعتکف رہنے لگے، جیسا کہ مرتاض زاہدوں کا اکثر معمول ہے۔ آپ ﷺ کی امانت ودیانت، آپ کا تقوی واخلاص، آپ ﷺ کا حسن خلق پہلے ہی سے قوم میں مسلم تھا، ایک شب میں کہ وہ رمضان 13 ق، ؁ھ (جولائی 610 ء۔ ) کی کوئی تاریخ تھی کہ دفعۃ فرشتہ اعظم حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے نمودار ہو کر آپ ﷺ سے فرمایا کہ (آیت) ” اقرأ یعنی پڑھیے۔ آپ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پڑھو (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے مخلوق کو پیدا کیا جنس انسان کو دم بستہ سے علق، علقۃ کی جمع ہے اور وہ دم بستہ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے پڑھو، یہ پہلے اقراء کی تاکید ہے، آپ ﷺ کا رب بڑا کریم ہے اس کی برابری کوئی نہیں کرسکتا، (وربک) اقراء کی ضمیر سے حال ہے، جس نے قلم کے ذریعہ لکھنا سکھایا اور سب سے پہلے جس نے قلم سے لکھا وہ ادریس (علیہ الصلوۃ والسلام) ہیں جنس انسان کو وہ علم سکھایا جسے وہ سکھانے سے پہلے نہیں جانتا تھا، (مثلاً ) ہدایت اور کتابت اور صنعت وغیرہ، درحققیت انسان سرکشی کرتا ہے اس بنا پر کہ وہ خود کو مال کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اقرا . پڑھو ‘ یہ قراءت کا امر ہے اور مفعول محذوف ہے یعنی قرآن پڑھو۔ باسم ربک . اللہ کے نام سے آغاز کرتے ہوئے یا تبرک حاصل کرتے ہوئے یعنی بسم اللہ کہو ‘ پھر قرآن پڑھو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ باسم ربک مقام مفعول میں ہوا اور باء زائد ہو یعنی اپنے رب کے نام کو پڑھو۔ آیت میں اسم ربک فرمایا۔ اسم اللہ نہیں فرمایا کیونکہ اللہ ذات واجب الوجود کا عَلَم (اسم مخصوص) ہے اور ذات کی معرفت کا طریقہ صرف یہ ہے کہ اس کے آثار وصفات پر غور کیا جائے اور صفات میں سے ہم سے واضح ترین تعلق صرف تخلیق و ربوبیت کا ہے ‘ اللہ کی صفت تخلیق و ربوبیت کا جو اثر ہم پر نمایاں ہے وہ بتارہا ہے کہ تمام ممکنات زوال پذیر ہیں اور ممکنات…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر یہ سورت نازل ہوئی کہ اے پیغمبر آپ قرآن کریم اپنے رب کا نام لے کر پڑھا کیجیے جس نے مخلوقات کو پیدا کیا، اور اولاد آدم کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا آپ نے جبریل امین سے فرمایا : کیا پڑھوں تو جبریل امین نے اس سورت کی پہلی چار آیات کو پڑھیں اور فرمایا کہ آپ قرآن پاک پڑھا کیجئے آپ کا رب بڑا کریم و حلیم ہے جس نے نوشتہ قلم سے تعلیم دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اقرا باسم ربک الذی خلق : پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم دینے سے پڑھنے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ (2) اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دیتے وقت اپنے رب ہونے اور پیدا کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، کیونکہ سب سے پہلی اور بڑی نعمت پیدا کرنا ہے، باقی تمام نعمتیں اس کے بعد ہیں، خلق ہی نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ دوسری نعمت رب ہونا، یعنی پرورش کرنا ہے۔ یعنی ان نعمتوں والی ہستی کے نام کی برکت سے پڑھ، اس کی برکت سے تو قاری بھی بن جائے گا۔ (3) ”الذی خلق“ (جس نے پیدا کیا) کا مفعول حذف کردیا گیا ہے کہ کسے پیدا کیا ؟ یعنی جب پیدا کرنا اس کا کام ہے، تو پھر یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کسے پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اقراء باسم ربک کا معنی ہے قرآن حکیم میں سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اپنے رب کے نام سے شروع کرتے ہوئے پڑھیے وہ یہ کہ ہر سورت کے آغاز میں بسم اللہ شریف پڑھیے، باسم ربک میں باء کا محل حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے ایک قول یہ کیا گیا، باء علی کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی، اقراء علی اسم ربک یوں جملہ بولا جاتا ہے، فعل کذا باسم اللہ، فعل کذا علی اسم اللہ، اس نے اللہ کے نام سے شروع کرتے ہوئے یہ کام کیا، اس تعبیر کی صورت میں مقرومحذوف ہے یعنی قرآن پڑھو اور اللہ کے نام سے شروع کرو، ایک قوم کا یہ کہنا ہے اسم ربک سے مراد قرآن ہے پس وہ کہتا ہے، اقراء باسم ربک، مراد ہے، اقراء اسم ربک، باء زائدہ ہے جس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–19

1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِقْرَاْ : آپ ﷺ پڑھیئے ][ بِاسْمِ رَبِكَ الَّذِي : اپنے اس رب کے نام کے ساتھ جس نے ][ خَلَقَ : پیدا کیا (ہر چیز کو)] نوٹ 1: علماء کی اکثریت کا اتفاق ہے کہ وحی کی ابتدا سورة علق کی ابتدائی پانچ آیات سے ہوئی ہے۔ بعض حضرات نے سورة مدثر کو اور بعض نے سورة فاتحہ کو پہلی سورت قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورة علق کی پانچ آیات نازل ہونے کے بعد نزول قرآن کچھ عرصہ تک موقوف رہا۔ اس کے بعد پھر اچانک حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سامنے آئے اور سورة مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ اس وقت بھی رسول اللہ ﷺ پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو سورة علق کے نزول کے وقت پیش آئی تھی۔ اس لحاظ سے اس کو بعض حضرات نے پہلی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

یہاں سے سورة العلق شروع ہو رہی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا ہے کہ آپ اپنے رب کا نام لے کر پڑھیے جس نے سب کچھ پیدا فرمایا ہے تعمیم کے لیے مفعول محذوف فرما دیا، نیز رعایت فاصلہ بھی مطلوب ہے اس کی وجہ سے بھی مفعول حذف کیا گیا۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ فرشتے کی آمد سے پہلے رسول اللہ ﷺ غار حرا میں تنہا وقت گزارا کرتے تھے یہ تنہائی آپ کو محبوب تھی متعدد راتیں وہاں گزار کر اپنے گھر حضرت خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لاتے تھے وہ مزید چند دن کے لیے کھانے پینے کا سامان تیار کردیتی تھیں یہ سامان لے کر آپ غار حرا میں واپس چلے جاتے تھے ایک دن آپ غار حرا میں تشریف فرما تھے کہ اچانک فرشتہ آگیا۔ فرشتہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” اقرا “ ، باء استعانت کے لیے ہے اپنے اس پروردگار کی مدد سے پڑھ جس نے پیدا کیا۔ جو لوگ ایسے کافی و شافی بیان کے بعد بھی نہیں مانتے ان کو چھوڑئیے ان کی ایذاء و شر انگیزی کی پرواہ مت کیجئے بس اللہ کے نام سے قرآن کی تلاوت و تبلیغ میں لگے رہئے۔ قرآن کی تلاوت حق پر استقامت کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

وحی کی ابتداء بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور ﷺ کا عطائے نبوت کا وقت قریب آ گیا تو حبب الیہ الخلآء آپ تنہائی پسند فرمانے لگے۔ شہر سے دور نکل جاتے اور تنہائی میں اللہ کا ذکر کرتے۔ آپ کا عام معمول یہ ہوگیا تھا کہ جبل نور پر واقع غار حرا میں تشریف لے جاتے اور چار پانچ دن یا ہفتہ بھر وہیں قیام فرماتے۔ بعض اوقات آپ مہینہ بھر بھی ٹھہر جاتے۔ جب گھر تشریف لاتے تو ام المئومنین حضرت خدیجہ آپ کو توشہ وغیرہ باندھ دیتیں اور پھر تنہائی میں قیام پذیر ہوجاتے۔ نزول وحی سے چھ ماہ قبل آپ کو رئویائے صادقہ یعنی ایسے سچے خوا ب آنے لگے جو کچھ خواب میں دیکھتے اس کا نتیجہ روز روشن کی طرح سامنے آجاتا تو یہ وہ غیر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۝ 1 ۚ قرأ والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ اقرء عند المجھور بسکون الھمزۃ ھو امر من القراءۃ وعند البعض بفتح الراء علی انہ قلب الھمزۃ الفًا ثم حذفھا للامر۔ ومفعول اقرء محدوف ای مایوحی الیک باسم ربک متعلق بمحذوف وھو حال ای اقراء متلبسًا باسم ربک۔ وقال ابو عبیدۃ الباء زائدۃ فھو مفعول اقرء والاسم صلۃ ایضاً والمعنی اذکرربک وقیل الباء بمعنی علیٰ والمعنی اقرء ما تیلی علیک علی اسم اللہ۔ وقیل الباء للاستعانۃ ای مستعینًا بہ۔ الذی الخ الجملۃ صفۃ لربک خلق الانسان الجملۃ تفسیر للجملۃ الاولیٰ وھی الذی خلق وقیل تخصیص بعد التعمیم۔ تشریفا للانسان لمافیہ من بدیع الخلق وعجیب الصنع من علق الجار متعلق بخلق والعلق جمع علقۃ م وھی الدم الجامد واذا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۔ (العلق : 1) (اے پیغمبر، پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ ) شانِ نزول اور آیت کا مفہوم آنحضرت ﷺ غارِ حرا کی تنہائی میں اہل دنیا سے بالکل کٹ کر اللہ تعالیٰ سے لو لگائے گہرے تفکر میں مستغرق تھے کہ اچانک فرشتہ آپ کے پاس آیا اور آپ سے کہا، اقرأ ” پڑھیے “ آپ نے فرمایا مَااَنَابِقَارِیٍٔ ” میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ “ کیونکہ فرشتے کے کہنے سے آپ پر یہ بات واضح نہ ہوسکی کہ وہ کیا چیز پڑھنے کے لیے آپ سے کہہ رہا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ لکھی ہوئی آیات آپ کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔ لیکن ان روایات کی سند پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی۔ اس پر فرشتے نے آپ کو اپنی آغوش…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے اور اسی نے انسان کو قلم کے ذریعے لکھنا پڑھنا سکھلایا ہے۔ سورة التّین کے آخر میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، اس نے اپنا حکم قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا ہے جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ نبوت سے پہلے حضرت محمد ﷺ مکہ کے قریب غار حرا میں تشریف فرما تھے کہ اچانک جبریل امین آئے اور اس نے آپ کے سامنے اس سورت کی ابتدائی پانچ تلاوت کیں۔ نبی ﷺ نے اس واقعہ کی تفصیل سے یوں بیان فرمائی ہے۔ (وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْوَحْیِ ۔۔ فَرَجَعَ بِھَا رَسُوْلُ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (اے پیغمبر آپ قرآن اپنے رب کا نام لے کر پڑھا کیجئے) قول ابن عباس ؓ و مجاہد (رح) : یہ اترنے والی سب سے پہلی سورت ہے۔ قول جمہور رحمہم اللہ : سب سے پہلی مکمل سورت فاتحہ اتری پھر سورة القلم۔ بِاسْمِ رَبِّکَ یہ حال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ ای اقرأ مفتحا باسم ربک پڑھ اس حال میں کہ تم اپنے رب کے نام سے شروع کرنے والے ہو۔ باسم اللہ کہو پھر پڑھو۔ الذی خلق۔ خَلَقَ کا مفعول ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ معنی یہ ہے : الذی حصل منہ الخلق۔ وہ ذات جس سے تخلیق حاصل ہوئی اور اس کو چنا اس کے سوا کوئی خالق نہیں۔ نمبر 2۔ اس کی تقدیر کلام یہ ہے : خلق کل شئی۔ وہ جس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

نزول کے اعتبار سے پہلی سورت کون سی ہے تفسیر :” اقراباسم ربک الذی خلق “ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ سب سے پہلی سورت ” اقراباسم ربک “ نازل ہوئی۔ اکثر اہل تفسیر کا اسی پر اتفاق ہے۔ سورة ” اقرا مالم یعلم “ تک سب سے اول نازل ہوئی تھی۔ یہ کل آیات کا پانچواں حصہ ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ پر وحی کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا۔ آپ ﷺ جو خواب بھی دیکھتے تھے، وہ صبح کی پو پھٹنے کی طرح (سامنے) آجاتا تھا۔ کچھ مدت کے بعد آپ ﷺ تخلیہ پسند بنادیئے گئے اور غار حرا میں خلوت گزیں ہونے لگے۔ وہاں آپ متعدد راتیں بغیر گھر آئے، عبادت میں گزارتے تھے (مگر) کھانے کا سامان ساتھ لے جاتے تھے (جب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ اکثر مفسرین کے قول کے موافق سب سے پہلے اقراء سے مالم یعلم تک یہی پانچ آیتیں نازل ہوئی ہیں پھر سورة نون والقلم۔ مسند امام احمد صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں جو حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ نزول وحی سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچے خواب دکھانے شروع کئے پھر آپ ﷺ کو تنہائی کا شوق ہوا۔ چناچہ غار حرا میں جا کر آپ ایک مہینہ تک تنہا رہے اور اللہ کی عبادت کیا کرتے۔ اسی تنہائی میں جبرئیل (علیہ السلام) یہ پانچ آیتیں لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے کہا پڑھو۔ آپ ﷺ نے جواب دیا میں تو کچھ پڑھنا نہیں جانتا۔ اس پر حضرت جبرئیل نے آپ ﷺ کو تین دفعہ دبوچا اور یہ پانچوں آیتیں آپ ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

رسول اللہ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے ؟ پس جبرائیل پیغام الٰہی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں جبرائیل بار بار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ) اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا پھر انسان کو خاص کرکے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا۔ فرمایا ( مِنْ عَلَقٍ ) خون کے لوتھڑے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1 ۔ پڑھنا پڑھانا وہی معتبر اور مفید ہے جو رب کے نام کے ساتھ ہو : سو ارشاد فرمایا گیا پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ، یہ پہلا حکم اور پہلی وحی ہے جس سے آنحضرت ﷺ کو حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے نوازا گیا، اور اس میں پڑھنے اور علم حاصل کرنے سے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں تحصیل اور اکتساب علم کا معاملہ کس قدر عظمت و اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہاں پر یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہاں پر صرف پڑھنے کا حکم و ارشاد نہیں فرمایا گیا بلکہ اپنے رب کے نام کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور رب کے نام کے ساتھ پڑھنے ہی میں دنیا و آخرت کی سب خیرات و برکات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

رسول اللّٰہ ﷺ اور پہلی وحی تشریح : ان آیات میں پانچ بڑے زبردست حقائق بڑی مختصر آیات میں سمجھائے گئے ہیں۔ 1 ۔ نبوت ملنے کا آغاز اور اللہ کا پیغام 2 ۔ اللہ کی عظمت اور قادر مطلق ہونے کا ثبوت۔ 3 ۔ انسان کی تخلیق کا ابتدائی راز اور اس کی حقیقت کا بیان۔ 4 ۔ رب العزت کی صفات میں سے ایک بڑی صفت اکرام کا ذکر یعنی مہربانی اور حد سے زیادہ رحم کا بیان۔ کہ اس نے انسان کو علم وعرفان سے مالا مال کیا یعنی عقل و فہم اور علم و ارادہ دیا۔ 5 ۔ اور انسان کو اتنی عظمت دی کہ اس کو فرشتوں سے زیادہ علم اور فرشتوں سے بڑا درجہ دیا۔ اور ان آیات کے نازل ہونے کا انداز اور واقعہ بڑی تفصیل سے بتایا جا چکا ہے سورت کے تعارف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–4

ف 5 قتادہ کہتے ہیں کہ ’ دقلم اللہ تعالیٰ کی بات بڑی نعمت ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو کوئی دین قائم ہوتا اور نہ زندگی کی اصلاح ہوئی (فتح القدیر) شاہ صاحب فرماتے ہیں :’ حضرت ﷺ نے کبھی لکھا پڑھا نہ تھا۔ فرمایا کہ قلم سے بھی وہی علم دیتا ہے۔ یوں عقبی وہی دے گا۔ “ (موضع)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(96:1) اقرأ باسم ربک الذی خلق : اقرا۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر قراء ۃ (باب فتح و نصر) مصدر سے تو پڑھ۔ اقرا کا مفعول ہے۔ ای اقرأ ما یوحی الیک۔ یعنی پڑھ جو تجھے وحی کیا جاتا ہے۔ باسم ربک متعلق بمحذوف، ب استعانت کے لئے ہے۔ حرف جار۔ اسم مجرور۔ مضاف، ربک مضاف مضاف الیہ۔ مل کر مضاف الیہ۔ اپنے رب کے نام کے ساتھ۔ الذی خلق : موصول و صفت مل کر جملہ صفت ہوا ربک کی۔ ترجمہ ہوگا :۔ پڑھ اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے (سب کچھ) پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اکثر مفسرین کے نزدیک یہ سورت سب سے پہلے نازل ہوئی اور اس کی پانچ آیتیں اقرا سے مالم یعلم تک قرآن کی سب آیتوں اور سورتوں سے پہلے اتریں، حضور غار حرا میں خدائے واحد کی عبادت کررہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر آئے اور حضور کو کہا، اقراء پڑھیے، آپ نے فرمایا ماانا بقاری جبرائیل (علیہ السلام) نے سینہ سے لگاکربہت زور سے دبایا، پھر چھوڑ کر اقراء کہا پھر آپ نے وہی جواب دیا ، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، پھر جبرائیل کے ساتھ ساتھ حضور نے اقراء سے مالم یعلم تک پڑھا۔ نزول وحی کا آغاز۔ قرات کی ابتداء دبااللہ کے نام سے ہو، اس تقدیر پر آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قرات کی ابتداء بسم اللہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) اے پیغمبر ! آپ اپنے اس پروردگار کے نام کی برکت سے اور اس کا نام لے کر قرآن کو پڑھیے جس نے سب کو پیدا کیا۔ یعنی قرآن شروع کرنے سے قبل بسم اللہ الرحمن الرحیم بشرطیکہ بسم اللہ بھی اس وقت نازل ہوگی ہو پڑھ لیا کرو۔ یا یہ کہ اللہ کے نام کی مدد حاصل کرنے کی حالت میں قرآن پڑھا کرو۔ ہوسکتا ہے کہ بازائدہ ہو اور یہ مطلب ہو کہ اپنے پروردگار کا نام پڑھیے جس نے سب کو بنایا، وہی تمام کائنات کا خالق ہے اور سب خوبیوں اور بھلائیوں کا پیدا کرنے والا ہے جس میں قرات کی صفت بھی آگئی یعنی وہی آپ میں قراءت کی صفت بھی پیدا کردے گا آگے اسی خالقیت کی اور وضاحت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اقراء سے مالم یعلم تک سب سے اول کی وحی ہے جس کے نزول سے نبوت کی ابتداء ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر ! اپنے رب کا نام لے کر پڑھو جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا 1 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کی عمر مبارک چالیس برس کے قریب قریب ہوچکی تھی اور اسی دوران آپ ﷺ کے اب تک کے تاملات نے قوم نے آپ ﷺ کا ذہنی اور فکری فاصلہ بہت وسیع کردیا تھا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کو تنہائی محبوب ہوگئی ، چناچہ آپ ﷺ ستو اور پانی لے کر مکہ سے کوئی دو میل دور کوہ حرا کے ایک غار میں جا رہتے۔ یہ ایک مختصر سا غار ہے جس کا طول چار گز اور عرض پونے دو گز ہے۔ یہ نیچے کی جانب زیادہ گہرا نہیں ہے بلکہ ایک مختصر راستے کے بازو میں اوپر کی چٹانوں کے باہم ملنے سے ایک تو تل کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ آپ ﷺ جب وہاں تشریف لے جاتے تو کئی کئی روز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Beginning of The Qur’ anic Revelation It is universally agreed that the first five verses of Surah Al-` Alaq or Iqra' mark the very beginning of Qur’ anic revelation. [ Baghawi ]. Bukhari, Muslim, other authentic sources and overwhelming consensus of scholars, ancient and modern, all concur on this point. However, some scholars state that Surah Al-Muddaththir was the first Surah to be revealed, and yet others say that Surah Al-Fatihah [ The Opening ] was revealed first. It is possible to reconcile between these different views as follows: After the revelation of Surah Al-` Alaq or Iqra',…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 As we have explained in the Introduction, when the Angel said to the Holy Prophet, "Read", the latter replied, "I cannot read!"" This indicates that the Angel had presented these words of the Revelation before him in the written form and had asked him to read them. For if the Angel had meant that he should repeat what he recited, he should not have replied, saying "I cannot read!" 2 "Read in the name of your Lord": Bismillah and read. This shows that the Holy Prophet (upon whom be peace) even before the coming down of this Revelation regarded and acknowledged Allah alone as his Lord. That…

Read the full tafseer →