96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 96:1–2

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جس نے (عالم کو پیدا کیا) جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا

رسول اللہ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے ؟ پس جبرائیل پیغام الٰہی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں جبرائیل بار بار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ) اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا پھر انسان کو خاص کرکے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا۔ فرمایا ( مِنْ عَلَقٍ ) خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا) ۔ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی لازم ہے کہ وہ امر ونہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے سرانجام دیتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔
Ayahs 96:3–10

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

مگر انسان سرکش ہوجاتا ہے

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

جب کہ اپنے تئیں غنی دیکھتا ہے

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو منع کرتا ہے

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے

(اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک ہے بہت زیادہ کرم و احسان اور بےپایاں جودو والا ہے جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور (الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۝ۭ ) قلم کے ذریعے سے سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا اس کو سماعت بصارت اور عقل سے بہرور کیا اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے اسے قرآن کی تعلیم دی حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا جس کے ذریعے سے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا ہے جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا مگر انسان نے اپنے ظلم اور جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خودبھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔
Ayah 96:11

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر یہ راہ راست پر ہو

اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے (اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَي الْهُدٰٓى) بندہ جب نماز پڑھے اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے مجھے بتا بھلا نماز پڑھنے والابندہ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو۔
Ayah 96:12

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا پرہیزگاری کا حکم کرے (تو منع کرنا کیسا)

(اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى) یا دوسروں کو حکم دیتا ہوں تقوی کا۔ کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے ؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنت نہیں ؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقوی کے خلاف حکم دیتا ہے۔
Ayah 96:13

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

اور دیکھ تو اگر اس نے دین حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا (تو کیا ہوا)

(اَرَءَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى) بھلا بتاؤحق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو۔ اور حکم سے منہ موڑا ہو کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا۔ ؟
Ayahs 96:14–15

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے ؟

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

دیکھو تو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اسکی) پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے

(اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے جو عمل کرتا ہے وہ اور جو فعل وہ سرانجام دیتا ہے ؟ اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا (كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ ڏ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ ) جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے۔
Ayah 96:16

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

یعنی اس جھوٹے خطا کار کی پیشانی کے بال

(نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ) پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔
Ayah 96:17

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلا لے

(فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗ ) یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہوچک ہے اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگر ہیں تاکہ وہ اس عزاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔
Ayah 96:18

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی اپنے مؤکلان دوزخ کو بلائیں گے

(سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ ) ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کی سزا دینے کے لیے جہنم کے دارغوں کو بلالیں گے پھر وہ دیکھے گا کہ کون سافریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔
Ayah 96:19

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور سجدے کر کے قرب (خدا) حاصل کرتے رہنا

یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے رہ اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی دے اور نہ اس کی نہی پر عمل ہی کرے چناچہ فرمایا (كَلَّا ۭ لَا تُطِعْهُ ) دیکھ اس کی اطاعت نہ کرنا۔ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے۔ (وَاسْجُدْ ) اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجئے (وَاقْتَرِبْ ) سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادات سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجئے کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔ یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہ کو نماذ پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔