Ayahs 96:1–2رسول اللہ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے ؟ پس جبرائیل پیغام الٰہی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں جبرائیل بار بار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ) اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا پھر انسان کو خاص کرکے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا۔ فرمایا ( مِنْ عَلَقٍ ) خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا) ۔ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی لازم ہے کہ وہ امر ونہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے سرانجام دیتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔
Ayahs 96:3–10(اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک ہے بہت زیادہ کرم و احسان اور بےپایاں جودو والا ہے جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور (الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۭ ) قلم کے ذریعے سے سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا اس کو سماعت بصارت اور عقل سے بہرور کیا اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے اسے قرآن کی تعلیم دی حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا جس کے ذریعے سے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا ہے جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا مگر انسان نے اپنے ظلم اور جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خودبھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔
Ayah 96:11اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے (اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَي الْهُدٰٓى) بندہ جب نماز پڑھے اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے مجھے بتا بھلا نماز پڑھنے والابندہ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو۔
Ayah 96:12(اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى) یا دوسروں کو حکم دیتا ہوں تقوی کا۔ کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے ؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنت نہیں ؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقوی کے خلاف حکم دیتا ہے۔
Ayah 96:13(اَرَءَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى) بھلا بتاؤحق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو۔ اور حکم سے منہ موڑا ہو کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا۔ ؟
Ayahs 96:14–15(اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے جو عمل کرتا ہے وہ اور جو فعل وہ سرانجام دیتا ہے ؟ اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا (كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ ڏ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ ) جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے۔
Ayah 96:16(نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ) پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔
Ayah 96:17(فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗ ) یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہوچک ہے اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگر ہیں تاکہ وہ اس عزاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔
Ayah 96:18(سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ ) ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کی سزا دینے کے لیے جہنم کے دارغوں کو بلالیں گے پھر وہ دیکھے گا کہ کون سافریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔
Ayah 96:19یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے رہ اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی دے اور نہ اس کی نہی پر عمل ہی کرے چناچہ فرمایا (كَلَّا ۭ لَا تُطِعْهُ ) دیکھ اس کی اطاعت نہ کرنا۔ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے۔ (وَاسْجُدْ ) اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجئے (وَاقْتَرِبْ ) سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادات سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجئے کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔ یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہ کو نماذ پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔