96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 96:1

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

آپ پڑئیے اپنے پروردگار کے نام سے کے ساتھ،1۔ جس نے (سب کو) پیدا کیا ہے

1۔ (اس قرآن کو جو آپ ﷺ پر اب نازل ہونا شروع ہوا ہے) سورة اقرأ کی یہ ابتدائی پانچ آیتیں سب سے پہلی وحی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی، آپ ﷺ کی عمر مبارت جب قریب چالیس کے پہنچی تو آپ ﷺ کی طبیعت زیادہ خلوت پسند ہوگئی اور شہر مکہ سے متصل ایک پہاڑی حرا نامی کے غار میں آپ اکثر جا کرمعتکف رہنے لگے، جیسا کہ مرتاض زاہدوں کا اکثر معمول ہے۔ آپ ﷺ کی امانت ودیانت، آپ کا تقوی واخلاص، آپ ﷺ کا حسن خلق پہلے ہی سے قوم میں مسلم تھا، ایک شب میں کہ وہ رمضان 13 ق، ؁ھ (جولائی 610 ء۔ ) کی کوئی تاریخ تھی کہ دفعۃ فرشتہ اعظم حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے نمودار ہو کر آپ ﷺ سے فرمایا کہ (آیت) ” اقرأ یعنی پڑھیے۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ماانا بقاری میں تو پڑھنا نہیں جانتا، اس پر انہیں نے آپ ﷺ کو اپنے سے لپٹایا اور بھینچا، اور پھر اسی طرح مکالمہ ومعانقہ کا اعادہ ہوا، گویا بار وحی کے اٹھانے کے لئے جن قوتوں کی ضرورت ہے وہ ملکوتی واسطہ سے بشری جسم میں پوری طرح سرایت کردی گئیں، اور تیسری بار کی تکرار کے بعد پوری پانچ آیتیں اقرأ سے لے کر (آیت) ” مالم یعلم “۔ تک فرشتہ اعظم نے پڑھ کر رسول اعظم ﷺ کو سنا دیں۔ ہیبت وحی سے خصوصا جب کہ اس کا بالکل پہلا تجربہ تھا، تاثر اور خوف ورعشہ بالکل طبعی تھا (اسی اضطراری جسمانی کیفیت کو بعض بےدانشوں نے عظمت رسول کے منافی سمجھا ہے) آپ ﷺ نے گھر آکر رفیق زندگی حضرت خدیجہ ؓ سے ماجرا بیان فرمایا، انہیں نے تسلی دی، اور آپ ﷺ ان کے مشورہ سے ورقہ بن نوفل کے پاس گئے جو اس وقت کے عابد وزاہد موحد مسیحی تھے۔ اور ان کے بیان سے آپ ﷺ کے ایقان کو تقویت مزید پہنچی، جیسا بعض دفعہ استاد کامل کو اپنے ایک شاگرد کے تائیدی بیان سے ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” اقرأ “۔ لفظ قرأت مطلق پڑھنے کے معنی بھی آتا ہے اور تحریر کے پڑھنے کے معنی میں بھی، اس لئے رسول اللہ ﷺ کا حرف ناشناس ہونے کی بناء پر قرأت سے معذرت کرنا بھی بالکل صحیح تھا۔ (آیت) ” ربک “۔ رب کا لفظ لانے میں اشارہ ہے ہم آپ ﷺ کی کمال تربیت کریں گے، اور آپ ﷺ کو اعلی سے اعلی مرتبہ تک پہنچائیں گے۔
Ayah 96:2

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ہے،2۔

2۔ (آیت) ” الذی خلق “۔ یہاں یہ یاد دلادیا کہ ربوبیت مطلق وہی کررہا ہے جو ساری کائنات کا خالق بھی ہے۔ جو سب کو محض اپنی قدرت سے نیستی سے ہستی میں لے آیا ہے۔ (آیت) ” خلق ...... علق “۔ اور پھر انسان کو یاد دلادیا ہے کہ اپنی اصل کو نہ بھولے۔ ساری مخلوق کی خلقت کے بعد انسان کا نام تبصریح لینا نعمت عامہ کے بعد نعمت خاصہ پر توجہ دلانا ہے۔ (آیت) ” الذی خلق “۔ کے بعد کل شیء محذوف ہے۔ تقدیرہ خلق کل شیء فیتناول کل مخلوق (مدارک)
Ayahs 96:3–4

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

آپ (قرآن) پڑھا کیجئے اور آپ کا پروردگار بڑاکریم ہے ،

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے قلم کے ذریعہ سے تعلیم دی ہے،3۔

3۔ یعنی جس نے پڑھے لکھے ہوؤں کے لیے تعلیم کا واسطہ قلم کر بنایا۔ (آیت) ” ربک الاکرم “۔ وہ جس نعمت سے جسے چاہے سرفراز کرے، چناچہ آپ ﷺ کو اس نے خاص ترین نعمت سے نوازا۔ (آیت) ” اقرا “۔ ابھی اوپر آچکا تھا، اب دوبارہ تاکید مضمون کے لیے لایا گیا۔
Ayah 96:5

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

(جس نے) انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دے دی جنہیں وہ نہیں جانتے تھے،4۔

4۔ نوع بشر کو ماضی وحال میں جو کچھ بھی معلوم ہوا ہے، یا آئندہ جو کچھ بھی معلوم ہوسکے گا، یہ سب اگر فیضان الہی کا پرتو نہیں تو اور کیا ہے ؟ انسان کو اپنے جن جن علوم وفنون، معارف وصنائع پر ناز ہے، یہ سب اگر حق تعالیٰ ہی کے سکھائے ہوئے، بتائے ہوئے، سمجھائے ہوئے نہیں تو اور کیا ہیں ؟ قرآن مجید نے یہاں ایس گہری حقیقت کو یاد دلایا ہے۔ (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے مراد جنس انسانی ہے۔ (آیت) ” مالم یعلم “۔ سے مراد بعض نے وہ قواعد علمی لئے ہیں جن سے ہر مجہول معلوم بن سکتا ہے، اور بعض نے وہ اسرار وعلوم نبوت مراد لیے ہیں، جن کے لئے عقل و حواس بشری کافی نہ تھے صرف حق تعالیٰ نے انہیں رسول پر وحی کرکے سارے انسانوں تک پہنچا دیئے۔
Ayahs 96:6–7

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

ہاں ہاں بیشک انسان حد سے نکل جاتا ہے

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

اس بناء پر کہ اپنے کو مستغنی سمجھتا ہے،5۔

5۔ یہاں یہ بتایا کہ انسان کے حد عبودیت سے نکل جانے اور سرکشی اور طغیان کی اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے کو اپنے خالق کی طرف سے بےنیاز سمجھنے لگتا ہے۔ (آیت) ” کلا “۔ ہمیشہ تردید ہی کے معنی میں نہیں، بلکہ کبھی زور وتاکید کے موقع پر ” یقیناً “ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ وقد جاء بمعنی حقا (ابوالبقاء)
Ayah 96:8

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

تیری واپسی تیرے پروردگار ہی کی طرف ہوگی،6۔

6۔ (تو اے مخاطب تو اس پروردگار سے مستغنی کیسے رہ سکتا ہے ؟ ) قلب میں انابت وشکستگی پیدا کرنے کا اس سے زیادہ مؤثر کوئی طریقہ نہیں کہ استحضار اپنے اسی انجام وعاقبت کا ہوتا رہے۔
Ayahs 96:9–10

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

کیا اس شخص کا حال تو نے دیکھا جو بندہ (خاص) کو روکتا ہے ،

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

جب وہ نماز پڑھتا ہے،7۔

7۔ (اور وہ روکنے والا نماز اور عبادت کو مبغوض رکھتا ہے) (آیت) ” عبدا “۔ بندۂ خاص سے اشارہ رسول اللہ ﷺ کی جانب ہونا بالکل ظاہر ہے، اور روکنے والے سے مراد ابوجہل سے لی گئی ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی مقتضائے شرعی ہی سے کسی کو نماز سے روکا جائے تو ظاہر ہے کہ وہ اس وعید میں نہیں آتا۔
Ayahs 96:11–12

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

کیا تو نے دیکھا کہ وہ بندہ اگر حق پر ہو ،

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا وہ تقوی کی ہدایت کررہا ہو،8۔

8۔ (تو اسے عبادت سے روکنا کس درجہ اپنی شقاوت وخباثت کا ثبوت دینا ہے) (آیت) ” ان ..... بالتقوی “۔ یعنی وہ بندہ، کمالات لازمی ومتعدی کا جامع ہو۔
Ayah 96:13

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

کیا تو نے یہ دیکھا کہ وہ (دوسراشخص) اگر جھٹلارہا ہو اور روگردانی کرتا ہو ؟ ،9۔

9۔ (تو اس کی یہ روک تھام کس درجہ شقاوت وخباثت پر دال ہوگی ! ) ان کذب وتولی “۔ کذب کا تعلق اعتقاد سے ہے، اور ” تولی “۔ کا عمل سے۔ یعنی عقیدہ وعمل دونوں کے اعتبار سے وہ ضال کا مل ہو۔
Ayah 96:14

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

کیا اسے خبر نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے،10۔

10۔ چناچہ اس کے اس طغیان کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس پر اسے پوری سزا بھی دے گا۔
Ayahs 96:15–16

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

ہاں ہاں، اگر یہ شخص باز نہ آیا تو ہم اپنے پیشانی (کے بل) پکڑ کر گھسیٹیں گے ،

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

پیشانی (بھی کیسی ؟ ) دورغ وخطا میں آلودہ،11۔

11۔ ہر زبان کے اسلوب بیان الگ الگ ہوتے ہیں۔ جس طرح اردو محاورہ میں ” سر پر غرور “ خرام ناز “ وغیرہ چلے ہوئے ہیں عربی محاورہ میں پیشانی کو خطا آلود ودروغ آلود کہنے کا رواج ہے۔ (آیت) ” لنسفعابالناصیۃ “۔ یہ پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹنا کنایہ ذلت و خواری سے ہے۔ (آیت) ” لئن لم ینتہ “۔ سے فقہاء مفسرین نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ توبہ ہر حال میں مقبول اور موجب دفع عذاب ہے (آیت) ” خاطءۃ “۔ یعنی اپنے فہم اور اعمال میں خطاکار۔
Ayahs 96:17–18

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

اچھا تو یہ اپنے ہم جلسہ لوگوں کو بلالے ،

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلاتے ہیں،12۔

12۔ (تو یہ مجرم اپنے دل کا حوصلہ نکال دیکھے اور معلوم کرلے کہ وہ کتنے پانی میں ہے) ابوجہل وغیرہ کو بڑا اپنے جتھے پر تھا۔ انہیں سے کہا جارہا ہے کہ اپنے جتھے والوں کو بلادیکھیں۔ (آیت) ” الزبانیۃ “۔ لفظی معنی پیادوں یا سپاہیوں کے ہیں۔ مراد دوزخ کے ملائکہ عذاب سے لی گئی ہے۔ والزبانیۃ ھم الشرط فی کلام العرب .... والمراد ملائکۃ العذاب (کشاف)
Ayah 96:19

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

خبردار ! آپ اس کا کہا نہ مانئے اور نماز پڑھتے رہئے اور قرب حاصل کرتے رہئے،13۔

13۔ (کہ قرب حاصل کرنے کا ذریعہ یہی نماز و عبادت ہے) (آیت) ” کلا لا تطعہ “۔ یعنی جس طرح اب تک آپ ﷺ نے ان موذیوں خاطؤں کا کہا نہیں ملانا ہے آئندہ بھی ان کے بہکانے دھمکانے، کسی چیز میں نہ آئیے گا، اور اس حکم کی بڑی تاکید جانے رہیے۔ (آیت) ” واسجد “۔ سجود سے یہاں مراد نماز و عبادت ہی سمجھی گئی ہے۔ وعند اکثر اھل التاویل ارادبہ صل وتوقرعلی عبادۃ اللہ تعالیٰ فعلا وابلاغا (کبیر) (آیت) ” واقترب “۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ سجدہ میں نیت ثواب و تقرب واجب ہے۔ مفسر تھانوی رحمۃ اللہ علیہنے کہا ہے کہ (آیت) ” واسجد واقترب “۔ میں ضمنا یہ وعدہ لطیف بھی شامل ہے۔ کہ حق تعالیٰ آپ ﷺ کو ان لوگوں کے ضرر سے محفوظ رکھے گا، کیونکہ نماز سے قرب حاصل ہوتا ہے، اور قرب موجب عصمت ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ خشوع جو سجدہ کی روح ہے وہی اصل مدار قرب ہے۔