Ayah 96:12 آغاز وحی میں ہی تین اہم سوالوں کا جواب :۔ ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جبرئیل نے غارحرا میں جو وحی آپ پر پیش کی۔ وہ مکتوب شکل میں تھی۔ ورنہ آپ کو جواب میں ما انا بقاری (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں) کہنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اگر کوئی استاد کسی بچہ کو یا شاگرد کو زبانی پڑھائے تو اسے ایسا فقرہ جواب میں کہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
وحی کا آغاز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے کیا گیا۔ کائنات کی تخلیق کس نے کی ؟ کیسے ہوئی ؟ انسان کا اس کائنات میں کیا مقام ہے ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ابتدائے نوع انسانی سے ہی صاحب فکر انسانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے ہیں۔ اسی سوال کا جواب سب سے پہلے دیا گیا اور بتایا گیا کہ کائنات از خود ہی مادہ سے پیدا نہیں ہوگئی۔ نہ یہ حسن اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ بلکہ کائنات کی ایک ایک چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی کے نام سے یعنی بسم اللہ کہہ کر آپ ﷺ یہ وحی پڑھنا شروع کیجیے۔
Ayah 96:23 یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اس کائنات میں انسان کا کیا مقام ہے ؟ اور جواب یہ ہے کہ جیسے کائنات کی ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے، ویسے ہی انسان بھی اللہ کی مخلوق ہے۔ مخلوق کو یہ کسی طرح جائز نہیں کہ وہ اپنے ہی جیسی مخلوق کے آگے سرجھکائے۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک معجز نما طریق سے پیدا کیا۔ استقرار حمل کے بعد وہ ایک بےجان لوتھڑا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے کئی مراحل گزارے۔ اس لوتھڑے پر اس کے اعضاء کے نقش و نگار بنائے۔ جسم کے اندرونی اعضاء پیدا کیے پھر اس میں کئی طرح کی ظاہری اور باطنی قوتیں پیدا کرکے اسے ماں کے پیٹ سے باہر نکالا۔
Ayah 96:34 اللہ اکرم کس لحاظ سے ہے ؟ جس نے انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی زندگی کی بقا کے وہ تمام اسباب مہیا کردیئے جو اس غرض کی تکمیل کے لیے ضروری تھے۔ پھر انسان کو ان اسباب سے کام لینے اور انہیں استعمال کرنے کا طریقہ بھی اس کی فطرت میں رکھ دیا۔ اسی پروردگار کا نام لے کر آپ پڑھیے۔
Ayah 96:45 انسان کی بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ وہ صاحب علم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ مہربانی فرمائی کہ اسے قلم کے استعمال کا طریقہ سکھایا۔ جس سے علم کی وسیع پیمانے پر اشاعت ہوسکتی ہے اور لکھی ہوئی چیز کسی عالم کی موت کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔ اور اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو علم اور کتابت کے فن کا طریقہ الہام نہ کرتا تو انسان کی علمی قابلیتیں سمٹ کر انتہائی محدود رہ جاتیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عام دستور ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ جو علم انبیاء کو بذریعہ وحی عطا فرماتا ہے وہ انسانی علوم سے بلند تر اور ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہوتا ہے۔ یہ استثنائی صورت ہے اور بالخصوص رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے قلم کے ذریعہ علم نہیں سکھایا جس میں کفار کے کئی اعتراضات کے جواب اور کئی دیگر مصلحتیں تھیں جن کا قرآن نے جابجا ذکر کردیا ہے۔
Ayahs 96:5–66 انسان جب ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے اس وقت وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ اسے قلم کے استعمال سے پہلے ہی بہت سی باتیں سکھا دیتا ہے۔ یہ پہلی وحی کی آخری آیت ہے جس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ آپ ﷺ کو وہ علم دیا جارہا ہے جو جاننے کے لیے آپ ﷺ عرصہ سے بےتاب تھے اور اس نے آپ کو اپنا نبی بنا لیا ہے۔
Ayah 96:77 آیت نمبر 6 اور آیت نمبر 7 میں انسانوں کی اکثریت یا خدا فراموش انسان کی ایک عام خصلت بیان کی گئی ہے کہ جب کسی کو سیر ہو کر کھانے کو ملنے لگتا ہے اور اس پر خوش حالی کا دور آتا ہے تو وہ اپنے جیسے انسانوں کو درکنارا اپنے خالق ومالک کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اور اس کی سرکشی اور بغاوت پر اتر آتا ہے۔
Ayah 96:88 رُجْعٰی بمعنی لوٹ کر واپس جانے کا مقام، یعنی انسان دنیا میں خواہ کتنی ہی سرکشی اختیار کرلے۔ بالآخر اسے اپنے پروردگار کے پاس جانا پڑے گا۔ اس وقت اسے معلوم ہوجائے گا کہ اس کی اس متکبرانہ روش کا انجام کیسا ہوتا ہے ؟
Ayahs 96:9–139 آپ کے بیت اللہ میں نماز پڑھنے پر ابوجہل کا سیخ پا ہونا اور متعدد بار حملے کرنا :۔ ایک دفعہ ابو جہل نے قریشی سرداروں سے کہا : محمد ﷺ تم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ خاک آلود کرتا ہے۔ (یعنی بیت اللہ میں نماز ادا کرنے کے دوران سجدہ کرتا ہے) لوگوں نے کہا : ہاں کہنے لگا : لات و عزیٰ کی قسم ! اگر میں نے اسے اب اس حال میں دیکھ لیا تو اس کی گردن روند ڈالوں گا اور اس کا چہرہ مٹی پر رگڑ دوں گا۔ اس کے بعد جب اس نے آپ کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھا تو اس برے ارادے سے آپ کی طرف بڑھا۔ پھر اچانک پیچھے ہٹنے لگا۔ سرداران قریش نے جب اپنے رئیس کو اس حال میں دیکھا تو حیرانی سے پوچھا : ابوالحکم کیا ہوا ؟ وہ گھبرایا ہوا کہنے لگا : کہ میرے اور محمد ﷺ کے درمیان ایک خوفناک آگ حائل ہوگئی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو بتایا کہ اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے (بخاری، کتاب التفسیر۔ تفسیر لئن لم ینتہ، نیز مسلم کتاب صفۃ القیامۃ والجنہ والنار)
نیز ایک دفعہ ابو جہل اپنے اہل مجلس سے کہنے لگا کہ : محمد ﷺ نے ہمارے معبودوں کی تذلیل اور بزرگوں کی توہین کرکے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اب میں نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ جب اسے نماز میں دیکھوں گا۔ اس کا سر ایک بھاری پتھر سے کچل دوں گا۔ پھر تم خواہ بنو عبدمناف سے میری حفاظت کرو یا مجھے بےیارو مددگار چھوڑو اس کے ساتھیوں نے کہا : ہم تجھے بےیارو مددگار نہ چھوڑیں گے۔ تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو چناچہ جب صبح ہوئی اور آپ ﷺ حسب ِ دستور نماز ادا کرنے لگے تو وہ اپنے پروگرام کے مطابق ایک بھاری پتھر اٹھا کر آگے بڑھا اور آپ ﷺ کے سجدہ میں جانے کا انتظار کرنے لگا۔ قریب پہنچا ہی تھا کہ پھر پیچھے ہٹنے لگا۔ اس کا رنگ اڑ گیا اور وہ بدحواسی کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے پتھر بھی نیچے نہ پھینک سکا۔ اس کے دوستوں نے پوچھا : ابوالحکم ! یہ کیا ماجرا ہے ؟ اس کے حواس ٹھکانے آئے تو کہنے لگا : کیا بتاؤں۔ ایک کریہہ المنظر اونٹ آڑے آگیا تھا۔ اس اونٹ جیسی کھوپڑی، اس جیسی گردن اور اس اونٹ کے دانتوں جیسے دانت میں نے آج تک نہیں دیکھے یہ اونٹ مجھے نگل جانا چاہتا تھا (ابن ہشام 1: 298، 299)
خ ایذا پہنچانے والے کافروں کے حق میں آپ کی بد دعا :۔ ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل اور اس کے ساتھی بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو جہل اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرکے کہنے لگا : تم میں سے کون ہے جو فلاں شخص کے ہاں ذبح شدہ اونٹنی کا بچہ دان اٹھا لائے۔ اور محمد ﷺ جب سجدہ میں جائے تو اس کی پیٹھ پر رکھ دے ؟ عقبہ بن ابی معیط جھٹ بول اٹھا کہ یہ کام میں کروں گا چناچہ وہ گیا اور بچہ دان اٹھا لایا۔ پھر جب آپ سجدہ میں گئے تو اسے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں ان کے مقابلہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے کچھ بھی نہ کرسکتا تھا۔ کاش ! میں آپ ﷺ کی کچھ مدد کرسکتا یہ منظر دیکھ کر ابو جہل اور اس کے ساتھی ہنستے ہنستے ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے اور آپ ﷺ اتنے بوجھ کی وجہ سے اپنا سر اٹھا بھی نہ سکتے تھے۔ اتنے میں کسی نے سیدہ فاطمہ ؓ کو خبر کردی۔ وہ آئیں اور آپ ﷺ کی گردن سے بچہ دانی کو اٹھا کر پرے پھینک دیا اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں۔ آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھایا پھر تین بار فرمایا : اللھم علیک بقریش (اے اللہ ان قریشیوں سے تو خود نمٹ لے) یہ کلمات سن کر وہ لوگ سہم گئے۔ کیونکہ انہیں اس بات کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ آپ ﷺ کی بددعا رنگ لاکے رہے گی۔ پھر آپ ﷺ نے اس مجمع کے چھ آدمیوں کے نام لے کر انہیں بددعا دی اور فرمایا : یا اللہ ! ابو جہل سے نمٹ لے، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن امیہ، امیہ بن خلف اور عتبہ بن ابی معیط سے نمٹ لے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں : اس اللہ کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ یہ سب لوگ بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور بدر کے کنوئیں میں پھینکے گئے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب دعاء النبی علی المشرکین)
Ayahs 96:14–1510 یعنی ایک طرف تو اللہ کا ایک بندہ اللہ کی عبادت میں مصروف ہے، وہ خود بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ دوسروں کو بھی اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرنے کا حکم دیتا ہے۔ دوسری طرف اللہ کا باغی ہے دعوت حق کو ٹھکراتا ہے اور از راہ تکبر منہ پھیر کر چل دیتا ہے پھر وہ اپنے آپ کو حق پر بھی سمجھتا ہے۔ ذرا سوچو ! اس اللہ کے باغی کی عقل پر پتھر نہیں پڑگئے۔ اسے یہ بھی خیال نہیں آتا کہ کسی کے اعمال خواہ اسے ناپسند ہوں بہرحال اسے اللہ کی عبادت سے کبھی نہ روکنا چاہیے۔ پھر وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اللہ اس کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس اللہ کے باغی کو بھی۔ ان میں سے جو شخص جس سلوک کا مستحق ہوگا اللہ اس سے ویسا ہی سلوک کرے گا۔
Ayahs 96:16–1711 یعنی اس کی پیشانی یا دماغ میں تکبر کا جو خناس سمایا ہوا ہے۔ اگر وہ اپنی ایسی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ہم اس کی بدکردار اور بد طینت پیشانی کو ذلیل مجرموں کی طرح پیشانی کے بالوں سے گھسیٹ کر جہنم رسید کردیں گے۔
Ayah 96:1812 اس آیت کا سبب نزول درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (کعبہ میں) نماز پڑھا کرتے تھے۔ ابو جہل آیا اور کہنے لگا : کیا میں تمہیں اس کام سے منع نہیں کرچکا۔ تین بار اس نے یہ الفاظ دہرائے۔ نبی اکرم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو اسے سخت سست کہا۔ ابو جہل کہنے لگا : یہ تو تم جانتے ہو کہ کسی کے ہم نشین مجھ سے زیادہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ وہ اپنے ہم نشین بلا لے، ہم دوزخ کے فرشتے بلاتے ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اگر وہ اپنے ہم نشین بلاتا تو اللہ کے فرشتے اسے پکڑ لیتے (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
خ زبانیہ کا لغوی مفہوم :۔ الزبانیۃ۔ زبانیہ سے مراد بالاتفاق دوزخ کے عذاب دینے والے فرشتے ہیں۔ زبانی العقرب بمعنی بچھو کا ڈنگ۔ اس لحاظ سے ایسے فرشتے مراد ہیں جو سخت دکھ دینے والے اور بےرحم ہونگے۔ نیز زبانیۃ سے مراد پولیس بھی ہے اور یہ قتادۃ کا قول ہے اور زبن کے معنی دھکے دے کر نکال دینا بھی ہے۔ جیسے بادشاہوں اور بڑے لوگوں کے ہاں چوبدار ہوتے ہیں جو اس غرض سے رکھے جاتے ہیں کہ جس سے سرکار ناراض ہو اسے دھکے مار کر نکال دیں۔ مراد یہ ہے کہ ابو جہل اپنی مجلس کے لوگوں کو جس پر اسے بڑا ناز ہے بلاکر دیکھ لے ہم عذاب دینے والے فرشتوں سے ان کی بری طرح گت بنادیں گے۔
Ayah 96:1913 سجدہ کی فضیلت :۔ یعنی اس بدکردار شخص کی بات مان کر کعبہ میں نماز کی ادائیگی سے رکنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اسی طرح نماز ادا کرتے رہو۔ جیسے پہلے ادا کرتے رہے ہو۔ واضح رہے کہ یہاں سجدہ سے مراد صرف سجدہ نہیں بلکہ نماز ہے اور عربوں کا قاعدہ ہے کہ وہ کسی چیز کا جزء اشرف بول کر اس سے کل یا اصل چیز مراد لیتے ہیں اور بتایا یہ جارہا ہے کہ آپ ﷺ جس قدر نمازیں ادا کریں گے اتنا ہی زیادہ اللہ کا قرب حاصل ہوگا۔ لہذا نمازیں بکثرت ادا کیا کیجیے۔ سجدہ کی فضیلت سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ ربیعہ بن کعب اسلمی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہاں ہی رات کو رہا کرتا اور آپ ﷺ کے پاس حاجت اور وضو کے لیے پانی لایا کرتا۔ ایک دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا : مانگ کیا مانگتا ہے۔ میں نے عرض کیا جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت چاہتا ہوں آپ نے پوچھا : کچھ اور بھی ؟ میں نے عرض کیا : بس یہی کچھ چاہتا ہوں آپ نے فرمایا : اچھا تو کثرت سجود کو اپنے اوپر لازم کرلو اور اس طرح اس سلسلہ میں میری مدد کرو (مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ باب فضل السجود والحث علیہ)
2۔ اس سورة کے اختتام پر بھی سجدہ تلاوت کرنا چاہیے۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سورت ( اِذَا السَّمَاۗءُ انْشَقَّتْ ۙ ) 84 ۔ الانشقاق :1) اور سورة اقراء میں سجدہ کیا۔