96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 96:1

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا

اقرا . پڑھو ‘ یہ قراءت کا امر ہے اور مفعول محذوف ہے یعنی قرآن پڑھو۔ باسم ربک . اللہ کے نام سے آغاز کرتے ہوئے یا تبرک حاصل کرتے ہوئے یعنی بسم اللہ کہو ‘ پھر قرآن پڑھو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ باسم ربک مقام مفعول میں ہوا اور باء زائد ہو یعنی اپنے رب کے نام کو پڑھو۔ آیت میں اسم ربک فرمایا۔ اسم اللہ نہیں فرمایا کیونکہ اللہ ذات واجب الوجود کا عَلَم (اسم مخصوص) ہے اور ذات کی معرفت کا طریقہ صرف یہ ہے کہ اس کے آثار وصفات پر غور کیا جائے اور صفات میں سے ہم سے واضح ترین تعلق صرف تخلیق و ربوبیت کا ہے ‘ اللہ کی صفت تخلیق و ربوبیت کا جو اثر ہم پر نمایاں ہے وہ بتارہا ہے کہ تمام ممکنات زوال پذیر ہیں اور ممکنات کا زوال ان کے حادث ہونے کی نشانی ہے اور ہر حادث کے لیے پیدا کرنے والے کی ضرورت ہے جو ازالی ‘ ابدی ہو اور نقصان وزوال اور تغیر احوال کی آمیزش سے پاک ہو۔ اس لیے معرفت ذات کے لیے معرفت ربوبیت ہی (اوّل ترین شرط) لازم ہے لیکن صوفیہ نے اسماء وصفات سے قطع نظر کر کے اسم ذات (اللہ) کو اختیار کیا ہے کیونکہ طریقت کا سفر ذات واجب پر ایمان رکھنے کے بعد ہی شروع ہوتا ہے ‘ اس لیے صوفی کے حق میں اسم ذات ہی اولیٰ ہے ‘ اسم ذات میں تمام صفات اجمالی طور پر آجاتی ہیں۔ یہ تمام صفات کو حاوی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اسم ذات ہی ذات سے زیادہ قرب رکھتا ہے اور صوفی کا مقصود اصلی ذات ہی ہے۔ طیبی نے لکھا ہے کہ اقراء میں مطلق قراءت کا حکم ہے ‘ کیا پڑھو۔ اس کی کوئی تخصیص نہیں (یعنی قرآن وغیرہ کوئی معین مفعول محذوف بھی نہیں ہے) نفس فعل (عدم تعیین مفعول میں) الف لام جنسی کی طرح ہے اور باسم میں باء استعانت کی ہے (زائد نہیں ہے) اور یہ جملہ رسول اللہ ﷺ کے اس قول کا جواب ہے جو آپ ﷺ نے کہا تھا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں (کیسے پڑھوں ؟ ) مطلب یہ ہے کہ پڑھو ‘ مگر اپنی قوت اور علم کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے رب کی مدد سے۔ طیبی کی تشریح پر باسم ربک میں لفظ اسم زائد ہوگا جیسے سبح اسم ربک میں اسم زائد ہے۔ الذی خلق . وہ رب جس نے پیدا کیا۔ یہ رب کی صفت ہے جو رب کے معنی کی توضیح کر رہی ہے کیونکہ تخلیق ‘ ربوبیت کا تقاضا ہے ‘ ربوبیت کا معنی ہی ہے کہ کسی چیز کو (عدم یا) نقص سے کمال کی طرف تدریحاً لایا جائے۔ خَلَقَ کا مفعول مذکور نہیں تاکہ ہر چیز کی مخلوقیت معلوم ہوجائے۔ (اگر کوئی خاص مفعول ذکر کیا جاتا تو شبہ ہوتا کہ شاید اسی کو خدا نے پیدا کیا ہے اور دوسری چیزیں یا تو مخلوق نہیں یا کسی دوسرے کی پیدا کی ہوئی ہیں) اور مخلوق میں سے ایک مخلوق میں پڑھنے کی طاقت بھی ہے (یہ بھی اللہ نے ہی پیدا کی ہے) یا (یوں کہا جائے کہ) خَلَقَ اگرچہ فعل متعدی ہے لیکن اسکو فعل لازم کی طرح استعمال کیا گیا (کیونکہ فعل سے اس جگہ مراد ہے معنئ مصدر یثبوتی) گویا الذی خلق سے مراد ہے وہ خدا جس کی صفت مخصوص تخلیق وتکوین ہے ‘ کسی دوسرے میں اس صفت کا پایا جانا ممکن نہیں۔
Ayah 96:2

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا

خلق الانسان . بظاہر یہ جملہ مستانفہ ہے۔ سابق جملہ سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ اللہ نے کیا چیز پیدا کی ‘ اس سوال کا جواب اس جملہ میں دے دیا کہ انسان کو پیدا کیا ‘ انسان کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیوں کیا۔ اس کی وجوہ متعدد ہیں۔ 1) انسان ساری کائنات کا مجموعہ ہے۔ جو کچھ اس بڑے سنسار میں موجود ہے ‘ وہ سب انسان میں موجود ہے۔ اسی لیے انسان کو عالم صغیر کہا جاتا ہے۔ پس انسان کو پیدا کرنے کے یہ معنی ہوئے کہ سارے جہان کی ہر چیز کو پیدا کردیا۔ 2) انسان اشرف المخلوقات ہے ‘ انوار ذات وصفات کے انعکاس کی (خود پر) قابلیت رکھتا ہے۔ معرفت کا مستحق ہے اور معرفت خداوندی ہی تخلیق کائنات کی غرض ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وما خلقت الجن والانس الاّ لیبعدون۔ یعنی جنات اور انسان کو میں نے صرف اپنی معرفت کے لیے پیدا کیا۔ حدیث قدسی میں ہے : لولاک لما خلقت الافلاک ولما اظھرت الربوبیۃ۔ اگر تم (پیدا کیے جانے والے) نہ ہوتے تو میں افلاک کو پیدا نہ کرتا اور اپنی ربوبیت کا اظہار نہ کرتا۔ اس حدیث میں صرف رسول اللہ ﷺ کو مخاطب بنایا گیا ہے کیونکہ معرفت الٰہیہ کے لحاظ سے آپ بنی نوع انسان کے فرد اکمل تھے۔ دوسری حدیث میں آیا ہے : کنت کنزًا مخفیًا فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق۔ میں چھپا خزانہ تھا۔ میں نے اپنی شناخت کرانی پسند کی ‘ اس لیے مخلوق کو پسند کیا۔ پس آیت میں انسان کے خصوصی ذکر کی وجہ انسان کے شرف کو ظاہر کرنا اور یہ بتانا مقصود ہے کہ انسان ہی تخلیق کائنات کا مقصد ہے۔ 3) انسان ہی تکالیف شرعیہ کا مکلف اور ضوابط الٰہیہ کا مامورِ اوّل ہے۔ وہی دوسروں کے حال اور اپنے حال میں فرق سمجھتا ہے۔ پس اپنے احوال کے تغیر کو دیکھ کر صانع کی ہستی پر استدلال اسکے لیے معرفت الٰہیہ کے حصول کا قریب ترین ذریعہ ہے (اسلئے اسکی تخلیق کا بیان کیا) ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ پہلے خَلَقَ کا مفعول محذوف ہو یعنی خَلَقَک اس نے تم کو پیدا کیا۔ اب سوال ہوسکتا تھا کہ کس چیز سے پیدا کیا تو دوسرا جملہ بطور استیناف فرما دیا کہ جنس انسان کو علق سے پیدا کیا (پس تمہاری تخلیق بھی علق سے ہوئی) یہ بھی احتمال ہے کہ پہلے جملہ کا مفعول الانسان محذوف ہو اور دوسرا خلق الانسان اسکی تاکید اور توضیح ابہام ہو اور اس سے عظمت انسانی کا اظہار مقصود ہو اور تخلیق انسانی کے متعلق کلام کو مخاطب کے دل نشین بنانا غرض ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ الانسان سے مراد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت مبارکہ ہو اور خصوصیت ذکر کی وجہ آپ ﷺ کا شرف ہو یا اس وجہ سے آپ ﷺ کی خصوصیت ہو کہ آپ ہی کلام کے مخاطب ہیں۔ من علق . علق ‘ علقۃٌ کی جمع ہے۔ الانسان چونکہ جنس ہے (جس کے اندر جمعیت کا مفہوم ہے ‘ اس لیے بجائے علقۃ کے علق بصیغۂ جمع ذکر کیا۔ خلق الانسان من نطفۃٍ ۔ خلق الانسان ھن ترابٍ کی بجائے خلق الانسان من علقٍ کہنے کی وجہ یا تو مقطع آیات کے تناسب کی رعایت ہے یا تخلیقی کیفیت جو مختلف دوروں سے گزرتی ہے۔ ان تمام دوروں میں وسطی دور کو اختیار کرنے سے تمام احوال تخلیق کی طرف اشارہ ہے کیونکہ (سب سے پہلے) انسان مٹی سے بنایا گیا پھر انسانی بدن کے اندر پہنچنے والی غذائیں کثیر تغیرات کے بعد منی کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ پھر نطفہ ‘ بستہ خون ہوجاتا ہے پھر جامد خون ‘ بوٹی بن جاتا ہے پھر ہڈیاں بنتی ہیں ‘ پھر ہڈیوں پر گوشت کا لباس پہنایا جاتا ہے پھر روح پھونکی جاتی ہے اور انسان ہوجاتا ہے۔ جامد خون یعنی لوتھڑا ہونے کا درمیانی درجہ ہے اور اس سے گزشتہ اور آئندہ تغیرات کی طرف اشارہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 96:3

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے

اقراء . تاکید اور مبالغہ کیلئے دوبارہ اقرأ فرمایا۔ اوّل اقرأ مطلق ہے اور دوسرا تبلیغ کیلئے یا نماز میں (قرآن) پڑھنے کا حکم دینے کیلئے ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ باسم ربک اس اقرأ سے متعلق ہو اور پہلا اقرأ فعل لازم کی طرح استعمال کیا گیا ہو ‘ اس وقت اقرأ کا معنی ہوگا قاری بن جاؤ ‘ گویا دوسرا اقرأ جملہ مستانفہ ہوگا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا : میں نہیں پڑھونگا اور کس طرح پڑھ سکتا ہوں (جبکہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں) اسکے جواب میں اللہ نے فرمایا : پڑھو اور بسم اللہ کر کے قرآن پڑھو۔ اس مطلب کی تقدیر پر رسول اللہ ﷺ کا قول : ما انا بقاری جو جبرئیل کے اقرأ کہنے کے جواب میں تھا ‘ استفہامیہ ہوگا اور مَا نفی کیلئے نہیں بلکہ سوال کیلئے ہوگا اور (قبائل) مضر کے محاورہ کے مطابق بقاری میں باء زائد ہوگی اور بقَارِی . اَنَا کی خبر ہوگی۔ (یعنی کیا میں قاری ہوں کیا میں پڑھا ہوا ہوں) یہ بھی احتمال ہے کہ پہلی مرتبہ جو رسول اللہ ﷺ نے ما انا بقاری فرمایا تھا ‘ اس میں مَا نفی کیلئے ہو اور جبرئیل ( علیہ السلام) کے دبانے کے بعد جو فرمایا ‘ اس میں استفہامیہ ہو۔ و ربک الاکرم . واؤ حالیہ ہے ربک مبتداء ہے۔ الاکرم مبتداء کی صفت یا خبر ہے۔ الاکرم کا معنی یہ ہے کہ (ساری کائنات میں) جس کریم کا وجود مانا جائے وہ ہر ایک سے زیادہ کریم ہے ‘ خواہ کریم کا وجو واقعی ہو یا محض فرضی ہو کیونکہ وہ بغیر کسی (ذاتی) غرض کے اتنا ایسا اور اتنے مقامات سے دیتا ہے کہ اس کی گنتی اور شمار ممکن نہیں اور بندوں کی نادانی (شرک ‘ ناشکری اور نافرمانی کی اس سلسلہ میں پروا نہیں کرتا ‘ سب بیہودگیوں) کو برداشت کرتا ہے ‘ پھر یا تو (قابل عفو گناہوں کو) معاف کردیتا ہے یا فوری انتقام نہیں لیتا باجو ودی کہ (بندوں کی نافرمانیوں کو) جانتا ہے اور فوری سزا دینے کی پوری قدرت اس کو ہے (ہاں ! آخرت میں اگر چاہے گا تو سزا دے گا) یا اکرم (اسم تفضیل) سے مراد ہے کریم (صفت مشبہ) ۔ علماء نے کہا ہے کہ صفات خداوندی میں افعل اور فعیل کا ایک ہی معنی ہے یعنی حقیقت میں اللہ ہی کریم ہے ‘ اس کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں۔ دوسرے چونکہ اللہ کی صفت کریم و رحمت کا آئینہ ہیں اس لیے مجازاً ان کو کریم و رحیم وغیرہ کہہ دیا جاتا ہے۔
Ayah 96:4

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا

الذی علم بالقلم . بعض علماء نے کہا کہ عَلَّم کا مفعول محذوف ہے اور بالقلم کا تعلق اسی مفعول سے ہے یعنی علم الخط بالقلم۔ اللہ نے قلم سے لکھنے کا طریقہ سکھایا تاکہ علوم اور آسمانی کتابیں مفید ہو سکیں اور مدت تک باقی رہ سکیں اور دور کی چیزوں کی اطلاع ہو سکے ‘ سب سے پہلے تعلیم تحریر کا ذکر تحریر کی عظمت کو ظاہر کر رہا ہے کیونکہ سیکھنے کی اصل غرض یہ ہے کہ سیکھنے والا یاد رکھے اور علوم باقی رہیں اور علوم کا تحفظ اکثر تحریر کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سب سے اوّل لکھنے والے حضرت ادریس ( علیہ السلام) تھے (یعنی تحریر حرفی حضرت ادریس ( علیہ السلام) کی ایجاد ہے) ۔ میں کہتا ہوں کہ بظاہر بالقلم ‘ علم سے متعلق ہے یعنی قلم کے ذریعہ سے اللہ نے علوم سکھائے۔ چونکہ تعلیم بالقلم ہر طریقۂ تعلیم سے مقدم ہے اس لیے سب سے پہلے اسی کا ذکر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا۔ (الحدیث) یہ تذکرہ سورة نٓ والقلم میں گزر چکا ہے۔ الذی علّم بالقلم۔ پورا جملہ یا تو ربّک کی اوّل خبر ہے یا (اوّل خبر الاکرم ہے اور یہ) دوسری خبر ہے یا الاکرم صفت اوّل ہے اور یہ جملہ دوسری صفت ہے جو تکریم کے معنی کی وضاحت کے لیے لایا گیا ہے۔ کیونکہ علوم سکھانا اور افادۂ علوم کے ذرائع کی تعلیم دینا اللہ کا بڑا کرم ہے۔
Ayah 96:5

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا

علم الانسان مالم یعلم . اللہ نے عقل اور (عملی و علمی) قوّ تیں پیدا کیں (اندرونی اور بیرونی) دلائل قائم کیے (انبیاء کے پاس) وحی بھیجی (اولیاء اور صلحاء امت کو) الہام کیا (عوام و خواص کے) ذہنوں میں بدیہی علوم پیدا کیے (آسمانی) کتابیں نازل کیں ‘ پیغمبروں کو بھیجا ‘ اخبار متواترہ کے ذریعہ سے اطلاعات بہم پہنچائیں اور ان تمام ذرائع سے انسان کو وہ علوم سکھائے ‘ جن سے وہ ناواقف تھا۔ اگر الاکرم اور الذی کو ربک کی صفات مانا جائے تو یہ جملہ خبریہ ہوگا اور اگر الذیہ علم بالقلم کو خبر کہا جائے تو یہ جملہ اس سے بدل ہوگا۔ علّم بالقلم میں چونکہ تعمیم مفعول مقصود تھی ‘ اسلئے کوئی خاص مفعول ذکر نہیں کیا لیکن علم کو بالقلم کے ساتھ مقید کردیا اور علم الانسان مالم یعلم میں مفعول تو ذکر کردیا مگر بالقلم کی شرط ذکر نہیں کی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسری کائنات ‘ انسانی علم کا ایک حصہ ہے (انسان کو دوسری کائنات سے زیادہ علم دیا گیا ہے) کیونکہ پہلی آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہو یا دوسری مخلوق (ملائکہ وغیرہ) سب کو قلم کے ذریعہ سے علم دیا ہے اور قلم سے دیا ہوا علم تمام کا تمام لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ کوئی چھوٹی ‘ بڑی اور تر و خشک چیز ایسی نہیں کہ لوح محفوظ سے چھوٹ گئی ہو ‘ سب لوح محفوظ میں لکھی ہوئی موجود ہے ‘ لیکن انسان کو دیا ہوا علم مکتوب لوح محفوظ کے علاوہ بھی ہے۔ اللہ نے فرمایا : وعلم ادم الاسمآء کلھٍا۔ (اگر علم آدم صرف وہی ہوتا جو لوح محفوظ میں تحریر ہے تو فرشتے آدم کے سوال کا جواب کیوں نہ دے سکتے) حقیقت ذات باری تعالیٰ کا علم حصولی نہیں بلکہ لوح محفوظ میں اسکی سمائی ہو سکے اور قلم اس کو لکھ لے وہ تو علم حضوی کی ایک شاخ ہے بلکہ اس کائنات سے و راء حقیقت خداوندی کے بعد انسان کو ذات موہوم کے سوائے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایک شاعر کا قول ہے۔ ؂ فان من جودک الدنیا ومن فیھا ومن علومک علم اللوح والقلم ” دنیا اور جو کوئی دنیا میں ہے تیری سخاوت کا ایک جزء ہے اور علم لوح و قلم تیرے ہی علوم کا ایک حصہ ہے۔ “ جملہ و ربک الاکرم ‘ اقرأ کی ضمیر فاعل سے حال ہے ‘ جب رسول اللہ ﷺ نے امر قراءت کے جواب میں ما انا بقاری کہا تو آپ ﷺ سے کہا گیا : اقرأ و ربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم۔ یعنی اپنے اس ربِّ کریم کی مدد کے ساتھ پڑھئے جس نے قلم کے ذریعہ سے علوم کی تعلیم دی اور آدم یا ہر نبی کو وہ علوم سکھائے جن سے وہ ناواقف تھا ‘ وہی تم کو بھی پڑھنا سکھا دے گا ‘ اگرچہ تم پڑھے ہوئے نہیں ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ الانسان سے مراد محمد ﷺ ہوں۔ گویا جب رسول اللہ ﷺ نے ما انا بقاری کہا اور (ہر بار) جبرئیل ( علیہ السلام) نے آپ کو پکڑ کر اتنی زور سے دبایا کہ آپ ( علیہ السلام) بےطاقت ہوگئے اوراقرا کہا تو تین بار اقرا کہنے سے اللہ نے آپ کو اوّلین و آخرین سب کے علوم عطا فرما دیئے کیونکہ بندوں کے تمام افعال کا خالق تو اللہ ہی ہے (وہی نہ جاننے والے کو علم دیتا ہے اور نہ پڑھ سکنے والے کو پڑھنا سکھاتا ہے) اس کے بعد اپنے انعام کا ذکر کیا اور فرمایا : علم الانسان مالم یعلم۔ ایک اور آیت میں آیا ہے : و علّمک مالم تکن تعلم۔ یعنی تم کو وہ علم عطا کیا جس سے تم ناواقف تھے۔ ایک شبہ مالم یعلم کہنے کا کیا فائدہ ؟ تعلیم تو نامعلوم چیز کی ہوتی ہے ‘ تعلیم معلوم کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا (تحصیل حاصل ناممکن ہے) ۔ ازالۂ شبہ عجز انسان کی صراحت کرنی مقصود ہے تاکہ وہ اپنی نادانی کا اعتراف کرے اور نعمت علم کا شکر گزار ہو۔ مواہب لدنیہ میں ایک روایت مذکور ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے سامنے خوبصورت ترین شکل اور پاکیزہ ترین خوشبو کے ساتھ نمودار ہوئے اور کہا : محمد ﷺ ! تم کو اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم جن و انس کے لیے رسول (بنا کر بھیجے گئے) ہو ‘ ان کو کلمۂ لا الٰہ الاّ اللہ کی دعوت دو پھر جبرئیل نے اپنا پاؤں زمین پر مارا ‘ فوراً پانی کا ایک چشمہ ابل پڑا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اس سے خود وضو کیا اور رسول اللہ ﷺ کو (اسی طرح) وضو کرنے کا حکم دیا (حضور ﷺ نے بھی وضو کیا) حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کو بھی (اپنے ساتھ) نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ اس طرح جبرئیل ( علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کو وضو اور نماز کی تعلیم دی پھر خود آسمان پر چڑھ گئے اور رسول اللہ ﷺ (واپس آئے) راستہ میں جس پتھر ‘ ڈھیلے اور درخت کی طرف سے گزرتے تھے وہ کہتا تھا : السلام علیکم یا رسول اللہ ﷺ آخر حضرت خدیجہ ؓ کے پاس پہنچے اور ان سے واقعہ بیان کیا۔ حضرت خدیجہ ؓ انتہائی مسرت سے مدہوش ہوگئیں ‘ پھر آپ ﷺ نے ان کو وضو کرنے کا حکم دیا اور ان کو ساتھ لے کر اسی طرح نماز پڑھی جس طرح آپ کو ساتھ لے کر جبرئیل ( علیہ السلام) نے پڑھی تھی۔ پس سب سے پہلے یہی دو رکعت نماز فرض ہوئی ‘ پھر سفر میں تو اللہ نے اس کو اسی طرح ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا اور اقامت کی حالت میں پوری چار کردیا۔ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ معراج سے پہلے رسول اللہ ﷺ یقیناً نماز پڑھتے تھے اور صحابہ بھی اسی طرح پڑھتے تھے۔ اختلافی مسئلہ یہ ہے کہ پنجگانہ نمازوں سے پہلے کوئی فرض نماز تھی یا نہ تھی۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ طلوع اور غروب سے پہلے نماز (فجر و عصر) فرض تھی۔ ابن حجر (رح) نے لکھا ہے کہ سب سے اوّل دعوت توحید اور (مشرکین کو عذاب سے) ڈرانا واجب ہوا ‘ پھر اتنا قیام شب جس کا ذکر سورة مزمل کے اوّل میں آیا ہے واجب ہو ‘ پھر سورة مزمل کے آخری حکم نے قیام شب کی اتنی مقدار کو منسوخ کردیا جس کا ذکر اوّل سورت میں آیا ہے ‘ پھر مکہ میں شب معراج کے اندر پنجگانہ نمازوں کی فرضیت سے قیام شب کا وجوب منسوخ ہوگیا۔ روایت مذکورہ میں جو یہ آیا ہے کہ حضرت جبرئیل ﷺ نے رسول اللہ ﷺ کو وضو سکھایا اور وضو کرنے کا حکم دیا تو ان الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ معراج سے پہلے وضو فرض ہوگیا تھا۔ واللہ اعلم ابن المنذر نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ابوجہل نے لوگوں سے پوچھا : کیا محمد ﷺ تمہاری موجودگی میں خاک پر چہرہ رگڑتا ہے ؟ (سجدہ کرتا ہے) جواب دیا گیا : ہاں۔ ابوجہل بولا : لات و عزیٰ کی قسم ! اگر میں نے اس کو ایسا کرتے دیکھ لیا تو پاؤں سے اس کی گردن روند ڈالوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں رگڑ دوں گا ‘ اس پر اللہ نے نازل فرمایا۔
Ayah 96:6

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے

کلا . جو مشرک حد (حقانیت) سے آگے بڑھ کر رسالت کے منکر تھے اور نماز سے روکتے تھے ‘ انکو بازداشت کی گئی اگرچہ اسکا ذکر کلام میں نہیں مگر (سیاق) کلام یا حال اس پر دلالت کر رہا ہے یا کلاّ کا معنی ہے حقًّا اس سے آئندہ کلام کی حقانیت کا اظہار ہوتا ہے۔ ان الانسان . (اگرچہ الانسان میں الف لام جنسی ہے لیکن) اس میں بعض افراد کا لحاظ پیش نظر ہے ‘ اسلئے مراد ابوجہل ہے۔ لیطغی . ابوجہل کفر میں اور اللہ کے مقابل غرور میں حد سے بڑھ رہا ہے۔
Ayah 96:7

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

جب کہ اپنے تیئں غنی دیکھتا ہے

ان راہ استغنی . اس لیے کہ وہ اپنے کو غنی پاتا ہے ‘ ان سے پہلے لام مقدر ہے پس ان رای علت طغیان ہوگا یا اس سے پہلے لفظ وقت محذوف ہوگا۔ اس وقت رویت طغیان کے لیے ظرف زمان ہوگی ‘ یعنی احساس استغناء کے وقت وہ طغیان کرتا ہے۔ رویت سے مراد ہے دل سے دیکھنا (یعنی پانا اور احساس کرنا) آنکھوں سے دیکھنا مراد نہیں ہے ‘ ورنہ مرفوع اور منصوب دونوں ضمیروں کا مرجع ایک ہی ہوگا اور یہ ناممکن ہے ‘ ابوجہل کو مال مل جاتا تھا تو وہ کھانے ‘ پہننے اور سواری میں (دوسروں پر) اپنا امتیاز قائم کرتا تھا۔
Ayah 96:8

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

ان الی ربک الرجعی . رجعٰی بروزن بشرٰی مصدر ہے۔ یہ جملہ مفید تہدید و تخویف ہے اور مستانفہ ہے (سوال ہوتا تھا کہ پھر اس طاغی کا انجام کیا ہے ‘ تو یہ جواب دیا گیا) ۔ کلام کا رخ موڑ کر اسی طاغی انسان کو خطاب کیا۔ الرجعٰی میں الف لام مضاف الیہ کے عوض ہے۔ یعنی اے طاغی ! تیری واپسی تیرے رب ہی کی طرف ہوگی وہ تجھے اس طغیان کی سزا دے گا۔
Ayah 96:9

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے

ارء یت الذی ینھی . ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل آگیا اور نماز سے روکا۔ اس سلسلہ میں ارء یت۔ سے کاذبۃ خاطءۃ تک آیات کا نزول ہوا۔ ارء یت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور استفہام تقریری ہے یعنی قَدْ کے معنی میں ہے اور مقصود یہ ہے کہ مخاطب اقرار کرے یا استفہام کرے یا استفہام سے مقصود یہ ہے کہ جو کچھ اس نے دیکھا اس کو بیان کرے (یعنی نفس رویت کے متعلق سوال نہیں ہے کہ تم نے دیکھا یا نہیں دیکھا بلکہ جس چیز کو دیکھا ‘ اس کو پوچھنا مقصود ہے) مؤخر الذکر صورت استفہام تعجب کے مقام میں ہوتی ہے۔ رویت سے مراد رویت قلب ہے اور افعال قلوب کے دو مفعول ہوتے ہیں جو معنوی لحاظ سے باہم مبتداء اور خبر ہوتے ہیں ‘ یہاں مقصود اس نسبت کا اقرار کرانا ہے جو دونوں مفعولوں کے درمیان ہے اور اسی نسبت کو ظاہر کرنے کی طلب ہے۔ الذی ینھٰی سے مراد ابوجہل اور عبدًا سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ ارء یت مخاطب کا صیغہ ہے اور عبداً اذا صلّٰی کا ذکر بصورتِ غائب ہے۔ کلام کے رخ کو موڑ کر بجائے کاف خطاب کے لفظ عبد کو ذکر کرنے سے مقصود ہے کمال عبودیت کی صراحت اور رسول اللہ ﷺ کا واضح طور پر برحق ہونا کیونکہ کمال عبودیت کا تقاضا ہے ‘ عبادت ‘ پھر عبادت سے روکنے والے کے کمال طغیان کا بھی اس سے اظہار مقصود ہے۔
Ayah 96:10

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے

عبد اذا صلی الّذی سے صلّٰی تک ارء یت کا پہلا مفعول ہے اور دوسرا مفعول کیف یطعّٰی محذوف ہے۔ مگر حکم مذکور میں ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا : ارء یت الّذی ینھٰی عبدًا اذا صلّٰی کیف یطغٰی۔
Ayah 96:11

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر یہ راہِ راست پر ہو

ارء یت . رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے۔ اے محمد ﷺ ! کیا تم کو معلوم ہے کہ۔ ان کان علی الھدی . اگر وہ بندہ ہدایت پر ہو ‘ نماز پڑھنے میں۔
Ayah 96:12

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا پرہیز گاری کا حکم کرے (تو منع کرنا کیسا)

او امر بالتقوی . یا پرہیزگاری کا حکم دے رہا ہو ‘ جبکہ وہ توحید اور نماز کی طرف لوگوں کو دعوت دے رہا ہے (یعنی نماز پڑھنے اور توحید کی دعوت دینے میں اگر وہ بندہ حق پر ہو تو اس روکنے والے کا نتیجہ کیا ہوگا ‘ یقیناً اس وقت یہ تباہ ہوگا) ۔ ان آیات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ابوجہل نے دونوں چیزوں کی روک کی تھی ‘ نماز پڑھنے کی بھی اور دعوت توحید کی بھی لیکن پہلے جملہ میں صرف نہی صلوٰۃ کا ذکر کیا (ممانعت توحید کا ذکر نہیں کیا) کیونکہ اس جگہ دونوں کا ذکر کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ دعوت بالفعل تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ نہی العبد سے مراد عام ممانعت ہو ‘ نماز کی ممانعت ہو یا کسی دوسری چیز کی اور رسول اللہ ﷺ کے عمومی احوال (اس وقت) انہی دونوں چیزوں پر محصور تھے۔ تکمیل نفس کے لیے عبادت اور دوسروں کی تکمیل کے لیے دعوت توحید (پس نہی عبد کا انحصار صرف ممانعت نماز میں نہ ہوگا بلکہ دعوت توحید کی ممانعت بھی اسی نہی میں داخل ہوگی) بہرحال جملہ ان کان شرط ہے اور جزا محذوف ہے۔ سیاق کا تقاضا یہی ہے مثلاً اگر رسول اللہ ﷺ کا ہدایت پر ہونا اور دعوت توحید دینا حق ہے تو پھر ابوجہل اس کی ممانعت کیسے کرتا ہے ‘ یا یہ ممانعت کرنے والا ہلاک ہوجائے گا ‘ یا یہ بندہ کامیاب ہوجائے گا ‘ وغیرہ۔ جملہ شرطیہ ارء یتَ کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے اور آئندہ ارءیت بھی اسی کی طرح ہے ‘ اس کے دو مفعولوں کے قائم مقام بھی جملۂ شرطیہ ہے۔
Ayah 96:13

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

اور دیکھو تو اگر اس نے دین حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا (تو کیا ہوا)

ارء یت ان کذب و تولی . یعنی اے محمد ﷺ ! بتاؤ تو کہ اگر یہ حق سے روکنے والا تمہاری تکذیب کر رہا ہے اور ایمان سے منہ موڑ رہا ہے تو اللہ کے عذاب سے کیسے بچے گا ‘ یقیناً ہلاک ہوگا۔
Ayah 96:14

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

کیااس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے

الم یعلم بان اللہ یری . استفہام انکاری ہے ‘ نفی کا انکار اثبات ہوتا ہے ‘ استفہام کی غرض زجر اور وعید عذاب ہے۔ الم یعلم کا معنی ہوا قَدْ عَلِمَ اور یَرٰی کا معنی ہے یعلم یعنی وہ جانتا ہے کہ اللہ اس بات سے بھی واقف ہے کہ طاغی ہدایت اور دعوت توحید سے روکتا ہے ‘ حق کی تکذیب کرتا ہے ‘ ایمان سے خود روگرداں ہے اور اس بات سے بھی واقف ہے کہ بندۂ خاص ہدایت پر ہے اور توحید کی دعوت دے رہا ہے اور اللہ کے علم کے مطابق سزا و جزا ملنی لازم ہے پس (علم کا نتیجہ لازمہ چونکہ جزا و سزا ہے اس لیے) لفظ رویت (بمعنی علم) سے لازم رویت یعنی جزا و سزا مراد ہے۔ پس (ہمارے کلام سے معلوم ہوگیا کہ) یہ چار جملے ہیں۔ صاحب بحر مواج نے ایسا ہی لکھا ہے ‘ مگر اس نے الم یعلم جملۂ شرطیہ دوم کی جزا قرار دیا ہے اور پہلے شرطیہ کی جزاء کو محذوف مانا ہے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اوّل ارء یت اور تیسرے ارء یت میں تو خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہی ہے اور دوسرے ارء یت میں خطاب کافر کو ہے اور یہ روئے خطاب کی تبدیلی ایسی ہی ہے جیسے حاکم کبھی ایک فریق کو خطاب کرتا ہے اور کبھی دوسرے فریق کو۔ شیخ جلال الدین محلی نے آیات کی تشریح اس طرح کی ہے : اے مخاطب ! تجھے تعجب ہونا چاہیے کہ یہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے باوجودیکہ جس کو روکتا ہے وہ ہدایت پر ہے اور تقویٰ کا حکم دیتا ہے اور روکنے والا مکذب ہے اور ایمان سے منہ موڑنے والا ہے ‘ اس تشریح پر بھی یہ چار جملے ہوں گے۔ بعض لوگوں نے آیات کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ اے محمد ﷺ ! دیکھو تو کہ جو شخص بندہ کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے ‘ ہم نے (نماز پڑھنے میں) تمہاری طرف سے اس کو کیسا پھیر دیا۔ اے محمد ﷺ ! دیکھو تو اگر ابوجہل ہدایت پر ہوجاتا یا تقویٰ کا (دوسروں کو) حکم دیتا تو اسی کیلئے بہتر ہوتا۔ اے محمد ﷺ ! دیکھو تو اگر ابوجہل نے تمہاری تکذیب کی اور ایمان سے منہ موڑا (تو اسی کا نتیجہ خراب ہوگا) میں اسکو ضرور عذاب دونگا ‘ کیا اسکو معلوم نہیں کہ اللہ اس (کی ان حرکات) سے واقف ہے اور اسکے کرتوت کی اس کو سزا دیگا۔ تین مرتبہ اَرَءَ یْتَ کی تکرار اور صرف ایک مرتبہ ذکر پر اکتفا نہ کرنا اور آخری دونوں شرطیہ جملوں کو الذی ینھٰی پر معطوف نہ بنا دینا ‘ انتہائی تعجب کے اظہار کیلئے ہے۔ بیضاوی نے اس طرح مطلب لکھا ہے ‘ بتاؤ تو کہ یہ شخص جو اللہ کے بندہ کو نماز سے روکتا ہے ‘ کیا یہ نماز سے روکنے میں ہدایت پر ہے ‘ یا بت پرستی کا جو یہ حکم دیتا ہے یہ تقویٰ کا حکم ہے یا یہ حق کی تکذیب کرتا ہے اور راستی سے روگرداں ہے ‘ کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ اس کے احوال ہدایت و ضلالت سے واقف ہے اور اللہ کو اسکے حال کی اطلاع ہے۔ اس مطلب پر پوری آیات کا ایک جملہ ہوجائے گا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ تقدیر کلام اس طرح ہے ‘ دیکھو تو کیسے تعجب کی بات ہے کہ بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو یہ اس کو روکتا ہے حالانکہ وہ بندہ ہدایت پر ہے اور تقویٰ کا حکم دیتا ہے اور یہ روکنے والا مکذب اور ایمان سے روگرداں ہے۔ بیضاوی کے نزدیک الذی ینھٰی ‘ ارء یْت کا پہلا مفعول ہے اور دونوں شرطیے دوسرا مفعول ہیں اور دوسرے شرطیہ کی جزاء الم یعلم بان اللہ یرٰی ہے اور پہلے شرطیہ کی جزاء محذوف ہے لیکن بغوی کے نزدیک پہلا شرطیہ ینھٰی کے مفعول سے اور دوسرا شرطیہ ینھٰی کے فاعل سے حال ہے اور الم یعلم جملۂ مستنافہ وعیدیہ ہے اور یعلم کی ضمیر الذی ینھٰی کی طرف راجع ہے۔
Ayah 96:15

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

دیکھو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اس کی) پیشانی کے بال پکڑ گھسیٹیں گے

کلا . نماز سے روکنے والے مکذب کو بازداشت ہے ‘ وہ ہرگز ایسا نہ کرے۔ لئن لم ینتہ . اگر وہ کار خیر کو روکنے اور تکذیب حق کرنے اور ایمان سے روگرداں ہونے سے باز نہ آئے گا۔ لنسفعا . تو ہم پکڑ کر کھینچیں گے ‘ یہ لفظاً جواب قسم ہے اور معنیً شرط کی جزاء نون تاکید ساکن (لَنَسْفَعَنْ ) کو بصورتِ تنوین لکھا جاتا ہے (یہی اس جگہ رسم خط ہے) سفعٌ کا معنی ہے کسی چیز کو پکڑنا اور زور سے کھینچنا ‘ مطلب یہ ہے کہ ہم اس کو کھینچ کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔ بالناصیۃ . اس کی پیشانی کے بالوں سے ‘ الف لام مضاف الیہ کے عوض ہے۔ الناصیۃ۔ سر کا اگلا حصہ یعنی پیشانی۔
Ayah 96:16

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

یعنی اس جھوٹے خطاکار کی پیشانی کے بال

ناصیۃ کاذبۃ خاطءۃ . جھوٹی گناہگار پیشانی۔ کاذبۃ اور خاطءۃ پیشانی کی صفت مجازاً ہے اور ناصیۃٍ ‘ الناصیۃ سے بدل ہے۔ ترمذی (رح) اور ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس کی روایت نقل کی ہے اور ترمذی (رح) نے اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے ‘ ابوجہل آگیا اور کہنے لگا : کیا میں نے تجھے اس (نماز) سے منع نہیں کردیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جھڑک دیا ‘ کہنے لگا تو خوب جانتا ہے کہ مکہ میں میری چوپال (نشست گاہ ‘ مجلس) سے بڑی کوئی چوپال نہیں (یعنی میرا جتھا بڑا ہے) تو مجھے جھڑکتا ہے۔ خدا کی قسم ! میں اس وادی کو تیرے خلاف اعلیٰ گھوڑوں کے سواروں اور نوجوان پیادوں سے بھر دوں گا ‘ اس پر مندرجہ ذیل آیت اتری۔
Ayah 96:17

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلالے

فلیدع نادیہ . نادی وہ اونچا مقام جہاں قوم والے جمع ہوتے ہیں۔ اس جگہ مراد ہیں نادی والے یعنی قوم ‘ قبیلہ ‘ نادی سے پہلے یا لفظ اہل محذوف ہے یعنی اہل نادی (اس وقت مجاز بالحذوف ہوگا) یا نادی کی طرف نسبت مجازاً ہے (اس وقت مجاز بالاسناد ہوگا) مطلب یہ ہے کہ (جب اس کو اپنے جتھے پر غرور ہے تو) اپنے کنبے ‘ قبیلے کو بلا لے۔
Ayah 96:18

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گے

سنع الزبانیۃ . ہم زبانیہ کو بلا لیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زبانیہ سے مراد ہیں جہنم کے زبانیہ (کارندے) زجاج نے کہا : وہ درشت خو ‘ سخت مزاج ملائکہ ہیں۔ زبانیہ زبنٰی کی یا زبنیۃ بروزن عفریۃ کی جمع ہے ‘ اس کا مادہ زبن ہے۔ زبنٌ کا معنی ہے دفع کرنا۔ کلام میں شرط محذوف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر وہ اپنے کنبے ‘ قبیلے والوں کو بلا لیتا تو جہنم کے کارندے علی الاعلان آنکھوں دیکھتے ‘ اس کو پکڑ لیتے۔ محلی نے اس قول کو حدیث مرفوع کہا ہے۔
Ayah 96:19

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور قربِ (خدا) حاصل کرتے رہنا

کلا . یقیناً ایسا ہوگا کہ اگر اس نے اپنے کنبہ والوں کو بلایا تو ہم زبانیہ کو بلائینگے یا معنی ہے کہ یقیناً یہ اپنے جتھے کو نہیں بلوا سکے گا۔ لا تطعہ . تم اس کی بات نہ مانو ‘ یعنی نماز نہ چھوڑو۔ یہ جملہ مستنافہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے سوال ہو سکتا تھا کہ جب یہ روکتا ہے تو میں کیا کروں ؟ اس کا جواب دے دیا کہ اس کی بات مت مانو۔ واقترب . اور نماز کے ذریعہ سے اللہ کا قرب حاصل کرو۔ ابوداؤد وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب سے بہت قریب ہوتا ہے۔ پس دعا زیادہ کرو۔ سورۂ انشقت میں سجدۂ تلاوت کے مبحث میں ہم لکھ چکے ہیں کہ اس جگہ لفظ اسجد اللہ کی طرف سے سجدۂ تلاوت کا حکم ہے اور رسول اللہ ﷺ کا عمل اسکی دلیل ہے کیونکہ مسلم نے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اذا السماء انشقت اوراقرأ میں سجدہ کیا۔ جمہور کے نزدیک اسجد کا عطف چونکہ لاتطعہ پر ہے اس لیے اس سجدہ سے مراد نماز ہے ‘ جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔ پس یہ نماز پڑھنے کا حکم ہے (سجدہ کا حکم نہیں ہے) اور رسول اللہ ﷺ نے جو اقرأ میں سجدہ کیا تو آپ ﷺ کے عمل کا اتباع سنت ہے۔ اس سے سجدۂ اقرأ کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے ‘ وجوب نہیں۔ سورۃ العلق ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ