96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 96:1–19

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ اپنے رب کا نام لے کر پڑھا کیجیے جس نے پیدا کیا

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

آپ قرآن پڑھا کیجیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے قلم سے تعلیم دی

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہیں جانتا

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

یہ واقعی بات ہے کہ بلاشبہ انسان سرکشی کرتا ہے

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

اس وجہ سے کہ اپنے کو مستغنی سمجھتا ہے

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

اے مخاطب بیشک تیرے رب کی طرف لوٹنا ہے

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

اے مخاطب تو اس شخص کا حال بتادے جو بندہ کو روکتا ہے

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

جب وہ نماز پڑھتا ہے

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

اے مخاطب یہ بتادے کہ اگر وہ بندہ ہدایت پر ہو

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا وہ تقویٰ کا حکم کرتا ہو

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

اے مخاطب ! تو بتادے اگر وہ جھٹلاتا ہو اور روگردانی کرتا ہو

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

خبردار کیا اس نے یہ نہیں جانا کہ بیشک اللہ دیکھتا ہے

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں اگر یہ شخص باز نہ آیا تو ہم ایسی پیشان کو جو جھوٹی ہے

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

خطاکار ہے پکڑ کر گھسیٹیں گے

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

سو چاہیے کہ اپنی مجلس کو بلالے

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم عذاب کے فرشتوں کو بلالیں گے

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

ہر گز نہیں آپ اس کا کہنا نہ مانئے اور نماز پڑھتے رہیے اور قرب حاصل کرتے رہے

1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور ان لوگوں نے کہا یہ اس کا آغاز ہے جو حراء کے دن نازل کیا گیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعداس کے آخر کو نازل فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ 4۔ ابن جریر والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل وصححہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ قرآن میں سب سے پہلے اقراء باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ وحی کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا 5۔ عبدالرزاق واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابن جریر وابن الانباری فی المصاحف وابن مردویہ والبیہقی نے ابن شہاب کے طریق سے عروہ بن الزبیر سے روایت کیا اور انہوں نے ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا۔ آپ جو خواب بھی دیکھتے تھے وہ صبح کے نور کی طرح صاف ظاہر ہوجاتاھتا۔ پھر آپ کے نزدیک گوشہ نشینی پسندیدہ بنادی گئی اور آپ غار حرا میں علیحدگی اختیار کرنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ اپنے گھروالوں کے پاس آنے سے پہلے کئی کئی راتیں وہاں عبادت میں مشغول رہتے اور آپ اس کے لیے کھانے کا سامان ساتھ لے جاتے تھے۔ جب کھانا ختم ہوجاتا۔ پھر خدیجہ ؓ کے پاس آکر حسب سابق کھانے کا سامان لے جاتے یہاں تک کہ حق آگیا۔ ار آپ کے پاس ایک فرشتے نے آکر کہا اقراء پڑھیے۔ میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ تو اسنے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے دبایا یہاں تک کہ مجھے بہت تکلیف ہوئی پھر اس نے مجھے چھوڑدیا اور کہا اقراء پڑھیے۔ میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ پھر اس نے دوبارہ مجھے پکڑا اور خوب دبایا۔ یہاں تک کہ مجھے خاصی تکلیف ہوئی پھر اس نے مجھے پکڑا اور تیسری بار مجھے دبایا یہاں تک کہ مجھے خاصی تکلیف ہوئی پھر اس نے مجھے چھوڑا اور کہا تیسری بار آیت اقراء باسم ربک الذی خلق، خلق الانسان من علق، اقراء وربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم۔ اپنے رب کے نام سے پڑھیے، جس نے سب کو پیدا کیا، انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کرم والا ہے جس نے قلم سے سکھایا انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا) الآیۃ۔ رسول اللہ ﷺ ان آیات کے ساتھ لوٹ کر گھر آئے اس وقت آپ کا دل کانپ رہا تھا خدیجہ بنت خویلد کے پاس پہنچ کر فرمایا ممجھے چادر اڑھا دو مجھے چادر اڑھاؤ۔ انہوں نے آپ کو چادر اڑھا دی یہاں تک کہ آپ سے خوف اور ڈر ختم ہوگیا پھر آپ نے یہ واقعہ خدیجہ ؓ کو بتایا اور فرمایا مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہے۔ خدیجہ ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ہرگز ایسا نہی ہوسکتا۔ اللہ آپ کو کبھی رسوا نہی کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ یتیموں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں۔ نااروں اور فقیروں کو عطا فرماتے ہیں مہمانوں کی عزت و تکریم کرتے ہیں اور آفات حق کے خلاف مددگار رہتے ہیں۔ اس کے بعد خدیجہ ؓ آپ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسید بن عبدالقزیٰ کے پاس لے گئیں۔ ورقہ جاہلیت کے زمانہ میں عیسائی ہوگیا تھا وہ عبرانی زبان میں کتاب لکھتا اور انجیل میں سے عبرانی زبان میں لکھتا رہا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ لکھیں۔ وہ بہت بوڑھا اور نابینا آدمی تھا۔ خدیجہ ؓ نے ان سے کہا میرے چچا کے بیٹے اپنے بھتیجے سے سنو۔ ورقہ نے کہا بھتیجے تو نے کیا دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا بتادیا۔ ورقہ نے کہا یہ وہی ناموس ہے جس کو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا تھا۔ کاش میں خوف اور گھبراہٹ کے وقت موجود ہوں کاش وہ اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا وہ مجھے نکال دیں گے ورقہ نے کہا ہاں ! جو بھی ایسا پیغام لے کر آیا جس کے ساتھ آپ تشریف لائے۔ اس کے ساتھ عداوت اور دشمنی رکھ گئی، میں اس وقت زندہ رہا تو میں آپ کی بہت طاقتور مدد کروں گا پھر ورقہ زیادہ دیر تک زندہ نہ رہا اور مرگیا اور وحی بھی رک گئی۔ ابن شہاب (رح) نے کہا اور مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رح) نے بتایا کہ جابر بن عبداللہ انصاری ؓ نے فرمایا اور وہ فترۃ الوحی کے بارے میں بیان کر رہے تھے تو انہوں نے اپنی گفتگو میں فرمایا اسی اثنا میں کہ پس یعنی رسول اللہ ﷺ چل رہے تھے اچانک آسمان سے ایک آواز سنی۔ میں نے اپنی نگاہ کو اوپر اٹھایا اچانک وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا۔ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور میں گھر میں واپس لوٹ آیا اور کہا مجھے چادر اڑھاؤ تو اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا المدثر قم فانذر، وربک فکبر، وثیابک فطہر والرجز فاہجر (المدثر آیت 5) اے کپڑے میں لپٹنے والے اٹھو ! پھر کافروں کو ڈراؤ۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور میل کچیل دور کرو پھر وحی رک گئی اور مسلسل رکی رہی۔ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت 6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے سورت محمد ﷺ پر اقراء باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 7۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقراء باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر ن والقلم نازل ہوئی۔ 8 ابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلی چیز قرآن میں سے پانچ آیتیں نازل ہوئیں آیت اقرء باسم ربک الذی خلق سے لے کر آیت مالم یعلم تک۔ 9۔ ابن ابی شیبہ نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقراء باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر سورة ن نازل ہویء۔ 10۔ ابن الانباری نے المصاحف میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اقراء باسم ربک کے بعد جو سب سے پہلے نازل ہوا وہ ن والقلم اور یا ایہا المدثر اور والضحی ہے۔ 11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے زہری اور عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ حراء میں تھے، اچانک ایک فرشتہ ریشم کا کپڑا لے کر آیا۔ اس میں لکھا ہوا تھا آیت اقراء باسم ربک الذی خلق سے لے کر آیت ما لم یعلم تک۔ 12۔ الحاکم نے عمرو کے طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ حراء میں تھے۔ ، اچانک ایک فرشتہ ان کے پاس ریشم کے کپڑے کے ساتھ آیا جس میں لکھا ہوا تھا آیت اقراء باسم ربک الذی خلق سے لے کر آیت مالم یعلم تک۔ 13۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابو نعیم نے الدلائل میں عبداللہ بن شداد ؓ سے روایت کیا کہ جبریل (علیہ السلام) محمد ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ اور خوب دبایا اور فرمایا اے محمد ﷺ پڑھیے۔ آپ نے فرمایا میں کیا پڑھوں۔ تو انہوں نے آپ کو اپنے ساتھ لگایا۔ پھر فرمایا اے محمد ! پڑھیے۔ آپ نے فرمایا میں کیا پڑھوں ؟ تو انہوں نے کہا پڑھیے۔ آیت اقراء باسم ربک الذی خلق۔ یہاں تک کہ آیت مالم یعلم تک پہنچے۔ پھر آپ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آئے اور فرمایا اے خدیجہ ! میں اس کو دیکھ رہا ہوں جو مجھے پیش آیا تو خدیجہ ؓ نے فرمایا ہرگز نہیں اللہ کی قسم آپ کا رب آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرے گا اور کبھی آپ کو کوئی تکلیف دہ امر پیش نہیں آئے گا پھر خدیجہ ؓ آپ کو ورقہ کے پاس لے آئیں اور اس کو ساراواقعہ بتایا تو اس نے کہا اگر تو سچ کہتی ہے تو یقیناً تیرے شوہر نبی ہے اور اس کو اپنی امت کی طرف ضرور تکلیف پہنچے گی۔ اگر میں نے ان کو پالیا تو میں ضرور ان پر ایمان لاؤں گا۔ پھر آپ کے پاس آنے سے جبریل (علیہ السلام) نے دیر لگائی۔ تو خدیجہ ؓ نے کہا میں نہیں دیکھتی ہوں مگر یہ کہ تیرا رب تجھ سے ناراض ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت والضحی، والیل اذا سجی، ماودعک ربک وما قلی۔ 14۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت خدیجہ ؓ نے ایک ماہ تک اعتکاف کیا وہ مہینہ رمضان کے موافق پڑگیا۔ تو رسول اللہ ﷺ باہر نکلے اور انہوں نے السلام علیکم کو سنا۔ خدیجہ ؓ نے کہا میں نے گمان کیا یہ کوئی جن ہے آپ نے فرمایا تم کو بشارت ہو کیونکہ یہ سلام خیر ہے پھر دوسرے دن دیکھا کہ جبریل (علیہ السلام) سورج پر ہیں ان کا ایک پر مشرق میں تھا اور ایک پر مغرب میں تھا۔ پھر فرمایا تو اس سے خوفزدہ ہوگیا اور اپنے اہل و عیال کی طرف ارادہ کرتے ہوئے چل پڑا۔ اچانک آپ نے جبریل (علیہ السلام) اپنے اور دروازہ کے درمیان پایا پھر فرمایا مجھ سے انہوں نے بات کی یہاں تک کہ اس سے مانوس ہوگیا پھر اس نے مجھ سے ایک خاص جگہ کا وعدہ کیا تو میں وعدہ کی جگہ پر آیا۔ اور جبریل (علیہ السلام) نے مجھے روک لیا اور جب میں نے نے لوٹنے کا ارادہ کیا۔ اچانک ان کے ساتھ میکائیل (علیہ السلام) تھے جبریل زمین کی طرف نیچے اترے اور میکائیل آسمان اور زمین کے درمیان رہے۔ مجھے جبریل ﷺ نے پکڑا اور اور گدی کے درمیان سے مجھے زور سے پکڑا اور میرے پیٹ کو پھاڑا۔ اور اس میں سے جو اللہ نے چاہا نکالا۔ پھر اس کو سونے کے ایک طشت میں دھویا پھر اس کو پیٹ میں واپس رکھ دیا۔ پھر مجھے الٹا کیا جیسے برتن کو الٹا کیا جاتا ہے۔ پھر میری پیٹھ پر مہر لگائی یہاں تک کہ میں نے مہر کے چھونے کو پایا پھر مجھ سے فرمایا آیت اقراء باسم ربک الذی خلق اور میں نے کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی۔ انہوں نے میرے حلق کو پکڑا۔ یہاں تک کہ میں رونے کے قریب ہوگیا۔ پھر مجھ سے فرمایا اقراء باسم ربک الذی خلق سے لے کر آیت ما لم یعلم تک پھر فرمایا اس کے بعد میں کوئی چیز نہیں بھولا۔ پھر جبریل نے میرا وزن ایک آدمی کے ساتھ کیا اور اس کے برابر رہا پھر دوسرے کے ساتھ وزن کیا اور میں اس کے برابر ہوگیا پھر سو آدمی کے ساتھ میرا وزن کیا تو میکائیل (علیہ السلام) نے فرمایا ان کی امت ان کی مطیع اور فرمانبردار ہے قسم ہے کعبہ کے رب کی۔ پھر فرمایا میں اپنے گھر کی طرف آیا مجھے جو کوئی پتھر یا درخت نہیں ملا۔ مگر اس نے کہا السلام علیکم یارسول اللہ ! یہاں تک کہ جب میں خدیجہ ؓ کے پاس آیا اس نے بھی کہا السلام علیکم یارسول اللہ ! حضرت عمر ؓ کا قبول اسلام 15۔ الطبرانی نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا مانگی اے اللہ ! اسلام کو غلبہ عطا فرما عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ انہوں نے پہلی رات اپنی بہن کو مارا۔ اور وہ یہ پڑھ رہی تھی آیت اقراء باسم ربک الذی خلق۔ یہاں تک کہ ان کو یہ گمان ہوا کہ اسے قتل کردیا ہے پھر سحر کے وقت میں اٹھے تو ان کی آواز سنی کہ وہ پڑھ رہی تھی آیت اقراء باسم ربک الذی خلق۔ یہ سن کر فرمایا اللہ کی قسم نہ یہ شعر ہے نہ ہی گھنگھناہٹ ہے یہ کہہ کر وہ چل دئیے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور بلال ؓ کو دروازے پر پایا درواز کو دھکیلا بلال ؓ نے کہا کون ہے ؟ فرمایا عمر بن خطاب ؓ ہوں۔ انہوں نے فرمایا میں تیرے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لوں۔ بلال ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ عمر بن خطاب درو وازے پر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے عمر ؓ کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمایا ہے تو اس کو دین میں میں داخل کردے گا۔ بلال ؓ سے فرمایا دروازہ کھول دو رسول اللہ ﷺ نے اس کے دونوں پاؤں کو پکڑا اور جھنجھوڑا اور فرمایا تو کیا چاہتا ہے اور تو کس لیے آیا ہے عمر ؓ نے جواب دیا آپ مجھ پر وہ دین پیش کیجیے جس کی طرف آپ بلاتے ہیں آپ نے فرمایا تو گواہی دے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمد عبدہ ورسولہ۔ تو عمر ؓ اس جگہ ایمان لے آئے اور فرمایا اب باہر نکلو یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کھلے عام اعلانیہ طور پر کرو۔ 16۔ عب بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت الذی علم بالقلم یعنی قلم اللہ کی طرف سے عظیم نعمت ہے اگر قلم نہ ہوتا تو دین قائم نہ رہتا اور نہ زندگی کی اصلاح ہوتی اور فرمایا آیت علم الانسان مال یعلم انسان کو وہ چیز سکھائی جو وہ نہ جانتا تھا یعنی لکھنا سکھایا۔ 17۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن بی احاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دو بھوکے ایسے ہیں جو سیر نہیں ہوتے۔ علم والا اور دنیا والا اور وہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ علم والا وہ اضافہ کرتا رہتا ہے اللہ کی رضا مندی میں پھر یہ آیت پڑھی انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء (فاطر آیت 28) بیشک اللہ اس کے بندوں میں سے عالم ہی ڈرتے ہیں اور دنیا والا بڑھتا رہتا ہے اپنی سرکشی میں پھر یہ آیت پڑھی آیت کلا ان الانسان لیطغی ان راہ استغنی بیشک آدمی سرکش ہوجاتا ہے جبکہ اپنے آپ کو غنی پاتا ہے۔ 18۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید والبخاری وابن جریر وابن مردویہ وابن المنذر وابو نعیم والبیہقی معا فی الدلائل ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو جہل نے کہا اگر میں نے محمد ﷺ کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ضرور اس کی گردن رونڈالوں گا۔ نبی اکرم ﷺ کو یہ بات پہنچی تو فرمایا اگر اس نے ایسا کیا تو فرشتے اس کو ظاہرا پکڑ لیں گے۔ 19۔ ابن ابی شیبہ واحمد والترمذی وصححہ وابن المنذر وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے گھے ابو جہل آیا اور کہا کیا میں تجھ کو اس سے منع نہیں کیا تھا۔ کیا میں نے تجھ کو اس سے منع نہیں کیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے نماز ختم فرمائی اور اس کو خوب ڈانٹا۔ ابو جہل نے کہا بیشک تو جانتا ہے کہ کوئی آدمی نہیں ہے کہ جس کے مددگار اور ہم نشین مجھ سے زیادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت فلیدع نادیہ سندع الزبانیہ پس وہ اپنی مجلس والوں بلالے ہم بھی موکلین دوزخ والوں کو بلالیں گے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر وہ اپنی مجلس والوں کو بلاتا تو اس کو اللہ کے دوزخو کے کارندے پکڑ لیتے۔ ابو جہل کی بدبخی کا ذکر 20۔ ابن جریر والطبرانی فی الاوسط واب نعیم نے الدلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو جہل نے کہا اگر مقام ابراہیم کے پاس محمد ﷺ نماز پڑھنے کے لیے لوٹے تو میں ان کو قتل کردوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت اقراء باسم ربک الذی خلق یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے آیت لنسفا بالناصیۃ ناصیۃ کاذبۃ خاطءۃ فلیدع نادیہ سندع الزبانیۃ۔ تو ہم پریشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے پیشانی جھوٹی خطاکار پس وہ اپنی مجلس والوں کو بلالے ہم بھی موکلین دوزخ والوں کو بلالیں گے۔ اور نبی اکرم ﷺ نماز پڑھنے کے لیے تشریف لائے تو کہا گیا کیا وہ آپ کو روک سکتا ہے تو آپ نے فرمایا جو میرے اور اس کے درمیان ہے وہ سیاہ ہوگیا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر وہ حرکت کرتا تو یقیناً فرشتے اس کو پکڑ لیتے اور لوگ اس کی طرف دیکھتے۔ 21۔ البزار والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی نے عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت کیا کہ میں ایک دن مسجد میں تھا۔ ابوجہل متوجہ ہوا اور کہا مجھ پر اللہ کی قسم ہے ! اگر میں نے محمد ﷺ کو سجدہ کرتا ہوا دیکھ لیا تو میں ان کی گردن کو اتاردوں گا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی طرف نکلا یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا اور آپ کو ابو جہل کی بات بتائی گئی۔ آپ غصہ ہو کر نکلے یہاں تک کہ مسجد میں تشریف لائے اور بڑی جلدی سے دروازے میں داخل ہوئے اور ایک دیوار کے ساتھ جالگے۔ میں نے کہا یہ شر کا دن ہے چناچہ میں کمبل لپیٹا اور آپ کے پیچھے ہولیا۔ رسول اللہ ﷺ یہ آیت اقراء باسم ربک الذی خلق پڑھتے ہوئے داخل ہوئے جب ابوجہل کی حالت پر پہنچے تو یہ پڑھا آیت کلا ان الانسان لیطغی ہرگز نہیں بیشک آدمی سرکش ہوجاتا ہے اور کسی انسان نے ابوجہل سے کہا اے ابو الحکم (ابوجہل کی کنیت ہے) یہ محمد ﷺ ہیں ابو جہل نے کہا۔ کیا تم وہ نہیں دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں۔ اللہ کی قسم آسمان کے افق کو مجھ پر بند کردیا گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ سورة کے آخر پر پہنچے تو سجدہ فرمایا۔ 22۔ احمد ومسلم والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ابو جہل نے کہا کیا محمد ﷺ تمہارے درمیان کے سوا کہیں سجدہ کرسکتا ہے لوگوں نے کہا ہاں ! پھر ابو جہل نے کہا لات اور عزی کی قسم ! اگر میں اس کو اسی طرح نماز پڑھتا دیکھ لو تو یقیناً میں اس کی گردن کو رونڈالوں گا اور ان کے چہرے کو خاک آلود کردوں گا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے تاکہ آپ کی گردن کو رونڈ ڈالے مگر وہ ان کے پاس سے الٹے پاؤں واپس آیا اور اپنے ہاتھوں سے بچاؤ کر رہا تھا۔ اس سے پوچھا گیا تجھے کیا ہوا۔ کہنے لگا میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق ہے اور یہ پروں والے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میرے قریب آتا تو اس کے ایک ایک عضو کو فرشتے اچک لیتے اور اللہ تعالیٰ نے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت کلا ان الانسان لیطغی سے لے کر سورة کے آخر تک ہرگز نہیں بیشک آدمی سرکش ہوجاتا ہے آیت فلیدع نادیہ پس وہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے یعنی اپنی قوم کو آیت سندع الزبانیۃ ہم بھی دوزخ کے کارندوں کو بلالیں گے یعنی فرشتوں کو۔ 23۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ارأ یت الذی ینہی عبدا اذا صلی۔ کیا آپ نے اس کو دیکھا جو منع کرتا ہے ایک بندے کو جبکہ وہ نماز پڑھتا ہے یعنی ابوجہل بن ہشام۔ جب اس نے رسول اللہ ﷺ پیٹھ مبارک پر اونٹ کا اوجھ پھینک دیا اس حال میں کہ وہ اللہ جل شانہ کو سجدہ کر رہے تھے۔ 24۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارأیت الذی ینہی عبدا اذا صلی اللہ کے دشمن ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی اس وجہ سے کہ اس نے کہا تھا اگر میں نے محمد ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ لیا تو میں ان کی گردن کو روند ڈالوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں آیت ارأ یت الذی ینہی عبدا اذا صلی ارأیت ان کان علی الہدی او امر بالتقوی کیا آپ نے دیکھا جو منع کرتا ہے ایک بندے کو جبکہ وہ نماز پڑھتا ہے۔ بھلا دیکھو تو سہی اگر وہ ہدایت پر ہوتا یا پرہیزگار سکھاتا۔ یعنی محمد ﷺ آیت ارأیت ان کذب وتولی بھلا دیکھو تو سہی اگر اس نے جھٹلایا اور منہ موڑا یعنی ابو جہل نے آیت فلیدع نادیہ پس وہ اپنی مجلس والوں کو بلالے یعنی اپنی قوم اور اپنے قبیلے کو آیت سندع الزبانیہ تو ہم بھی جہنم کے فرشتوں کو بلالیں گے کلام عرب میں الزبانیہ پولیس کو کہتے ہیں۔ 25۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارأیت الذی ینہی عبدا اذا صلی یعنی ابوجہل نے منع کیا محمد ﷺ کو جب آپ نماز پڑھ رہے تھے آیت فلیدع نادیہ پس وہ اپنے خاندان کو بلالے آیت سندع الزبانیۃ اور ہم بھی فرشتوں کو بلالیں گے۔ 26۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لنسفعا بالناصیۃ۔ ہم ضرور گھسیٹیں گے یعنی ہم ضرور پکڑ لیں گے۔ 27۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 28۔ ابن جریر عن ابن عباس وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن حرث (رح) سے روایت کیا زبانیہ وہ فرشتے ہیں کہ جن کے پاؤں زمین میں ہیں اور ان کے سر آسمان میں ہیں۔ 29۔ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ آیت وسجد اور سجدہ کیجیے اے محمد ﷺ آیت وقتبر اور اے ابوجہل تو قریب ہوا اللہ تعالیٰ اس کو دھمکی دے رہے ہیں۔ 39۔ عبدالرزاق و سعید بن منصورنے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا آیت واسجد واقترب اور سجدہ کیجیے اور ہم سے قریب ہوجائیے۔ 31۔ ابن سعد نے عثمان بن ابو العاص ؓ سے روایت کیا کہ آخر کلام جو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمائی جب آپ نے مجھے طائف کا عامل بنایا وہ یہ تھی کہ آپ نے مجھ سے فرمایا لوگوں کے لیے نماز کو ہلکا اور آسان کرو یہاں تک کہ قراءت کہ وقت میں اقراء باسم ربک الذی خلق اور اس جیسی سورتیں قرآن میں سے پڑھو۔