96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 96:1–5

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے سب کچھ بنایا

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جس نے آدمی کو خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے لکھنا سکھایا

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

جس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا کہ جس کو وہ جانتا ہی نہ تھا۔

ترکیب ¦ اقرء عند المجھور بسکون الھمزۃ ھو امر من القراءۃ وعند البعض بفتح الراء علی انہ قلب الھمزۃ الفًا ثم حذفھا للامر۔ ومفعول اقرء محدوف ای مایوحی الیک باسم ربک متعلق بمحذوف وھو حال ای اقراء متلبسًا باسم ربک۔ وقال ابو عبیدۃ الباء زائدۃ فھو مفعول اقرء والاسم صلۃ ایضاً والمعنی اذکرربک وقیل الباء بمعنی علیٰ والمعنی اقرء ما تیلی علیک علی اسم اللہ۔ وقیل الباء للاستعانۃ ای مستعینًا بہ۔ الذی الخ الجملۃ صفۃ لربک خلق الانسان الجملۃ تفسیر للجملۃ الاولیٰ وھی الذی خلق وقیل تخصیص بعد التعمیم۔ تشریفا للانسان لمافیہ من بدیع الخلق وعجیب الصنع من علق الجار متعلق بخلق والعلق جمع علقۃ م وھی الدم الجامد واذا اجری فھو المسفوح۔ ولم یقل من نطفۃٍ اومن علقۃٍ رعاینًا للفواصل۔ اقراء تاکید و تقریر للاول۔ وربک موصوف الاکرم صفۃ الذی موصول علم بالقلم صنۃ واجملۃ صفۃ ثانیۃ فالموصوف مع الصفات مبتدء علم الانسان الخ الجملۃ خبر و المبتدء مع الخبر جملہ اسمیۃ وھی حال من ضمیر اقراء۔ تفسیر ¦ یہ سورة بھی بلا خلاف مکہ میں نازل ہوئی ہے اور قرآن میں سے جو سب سے پہلے سورة نازل ہوئی یہی ہے اور یہی جمہور صحابہ وتابعین کا قول ہے اور صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کتب حدیث کی روایت صحیحہ اسی بات کو ثابت کر رہی ہیں۔ اس کے بعد سورة فاتحہ پھر نون نازل ہوئی پھر مزمل پھر مدثر اور اس بحث کو ہم مقدمہ تفسیر میں لکھ آئے ہیں اور اس میں انیس آیات ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ سب سے اول سورة فاتحہ نازل ہوئی۔ اور جابر ؓ سے منقول ہے کہ سب سے اول سورة مدثر نازل ہوئی سو یہ روایت اس قول کے مخالف نہیں کس لیے کہ سب سے اول اس سورة اقراء کی یہی پانچ آیات ما لم یعلم تک نازل ہوئی تھیں اور پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی اور پھر چھ مہینے تک وحی بند ہوگئی پھر سب سے اول مدثر نازل ہوئی اور لگاتار قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا۔ پس حضرت علی ؓ جو سب سے اول الحمد کا نازل ہونا الرشاد فرماتے ہیں وہ نماز اور تعلیم کے بارے میں ہے اور جابر ؓ جو مدثر کو اول کہتے ہیں اس لحاظ سے کہتے ہیں کہ وحی بند ہونے کے بعد جو سب سے اول نازل ہوا وہ یہی سورة تھی۔ اس سورة مبارکہ کے نازل ہونے کی کیفیت صحیح بخاری میں یوں مروری ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ اول آنحضرت ﷺ کو سچے خواب دکھائی دینے لگے۔ پھر جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے وہی بات صبح کی سفیدی کی طرح پیش آتی تھی اس کے بعد آپ کو خلوت نشینی کی طرف رغبت ہوگئی (کیونکہ ابتداء میں فراغ خاطر لوگوں کے ساتھ میل جول ترک کئے بغیر میسر نہیں آتا) پھر آپ حراء پہاڑ کے ایک غار میں جا کر عبادت کیا کرتے تھے چند رات دن وہاں رہا کرتے پھر گھر میں آکر خدیجہ بیوی ؓ کے پاس کھانے پینے کا سامان لے جایا کرتے یہاں تک کہ اسی غار حرا میں تھے کہ فرشتہ وحی لے کر آپ کے سامنے آیا اور کہا کہ پڑھو آپ نے فرمایا کہ پڑھنا نہیں جانتا پھر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے فرشتہ نے پکڑ کر بھینچ لیا اور بڑے زور سے بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور پھر کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا۔ پھر دوبارہ مجھے پکڑ کر بھینچا زور سے پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا پھر تیسری بار مجھے پکڑا اور بہت زور سے بھینچا پھر چھوڑ دیا اور کہا اقراء باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقراء وربک الاکرم الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ کہ پڑھ اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا بنایا انسان کو خون کے لوتھڑے سے پڑھ اور تیرے رب کریم نے جس نے قلم سکھائی انسان کو وہ بتایا جو جانتا نہ تھا۔ اس واقعہ میں چند نکتہ ہیں : (1) کمالات میں ترقی بتدریج کرنا بنی آدم کی فطرت میں ہے اور اسی فطری قاعدے پر آنحضرت ﷺ کو اول خواب یعنی رویائے صادقہ کے ذریعہ سے علوم غیب کا القا ہوتا رہا تاکہ اور اسرار غیب اور ملکیت کبریٰ حاصل ہونے کی رفتہ رفتہ عادت ہوجائے۔ اس کے بعد اب دوسرا مرتبہ ترقی کا شروع ہوا وہ یہ ہے کہ عالم بیداری میں بحالت فراغ قلبی عالم ملکوت کا مشاہدہ ہونے لگا۔ اس لیے آپ کو خلوت و عزلت کا شوق ہوا تب آپ غار حرا 1 ؎ میں بیٹھے جب اس عرصہ میں الواث بشریہ و کدورات بہیمیہ سے آئینہ باطن بالکل پاک و صاف ہوگیا تو عیاناً جبرئیل امین تشریف لائے جو عالم ملکوت کے بادشاہ 2 ؎ ہیں۔ یہ ترقی کا تسیرا مرتبہ تھا (2) یہ کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ کو پڑھنے کو کہا تو آپ نے تین بار یہ کہا کہ میں پڑھ نہیں سکتا یا میں نہیں پڑھتا جو ماانا بقاری کا ترجمہ ہے۔ اس میں سر یہ ہے کہ گو آپ بھی صاحب کمال تھے اور جو وہ پڑھاتے تھے آپ کے نزدیک آسان تھا۔ مگر جب ملکیت کبریٰ کا ظہور اتم ہوا اور عالم غیب کے علوم سامنے آئے تو اگلا کمال اور فصاحت و بلاغت اس طرح لا شے ہوگئی کہ جس طرح آفتاب کے سامنے ستاروں کے نور لاشے ہوجاتے ہیں اور یہ آپ پر ایک بار عظیم معلوم ہونے لگا۔ اس لیے جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ کو تین بار لے کر بھینچا اور یہ ایک قسم کی توجہ ہے جس کو توجہ اتحادی کہتے ہیں اس کے سبب وہ بار گراں آسان ہوگیا اور جو پڑھایا پڑھنے لگے۔ واضح ہو کہ صوفیہ کرام کے نزدیک توجہ کی چار قسم ہیں : (اول) تاثیر انعکاسی اس میں کامل کا عکس مرید میں چمک جاتا ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کوئی عطر مل کر کسی مجلس میں آوے اور ہمنشینوں کے دماغ میں اس کی خوشبو پہنچے مگر یہ اثر پائیدار نہیں اس کے اٹھ جانے سے اٹھ جاتا ہے بعد میں باقی نہیں رہتا (دوم) تاثیر القائی کہ اپنا اثر مریدوں پر ڈال دے اور وہ جب تک کوئی مانع نہ ہو قائم بھی رہے۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ کوئی چراغ جلا کر لاوے اور دوسرا اس سے اپنی بتی روشن کرے۔ سو یہ جب تک ہو اور بارش وغیرہ کا صدمہ نہ پہنچے قائم رہے گی اور جس قدر اپنا تیل ہے اس کی مقدار پر روشن رہے گی۔ یہ اول سے قوی ہے۔ (سوم) تاثیر اصلاحی کہ مرشد اپنی روحانی طاقت سے مرید کے باطن کی اصلاح کر دے اور لطائف جاری ہوجاویں اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کوئی کاریگر کسی حوض کی نالیوں اور پانی کے آنے کی جگہ کو اور فوارہ کو صاف کر دے اور پانی ڈال کر فوارہ کو رواں کر دے یہ اول سے بھی قوی ہے۔ لیکن یہ بھی اسی وقت تک جاری ہے کہ جب تک حوض میں پانی ہے اور نیز جس قدر پانی آنے کی نالیوں میں وسعت ہے اور جب تک ان نالیوں میں بہیمیت کا کوڑا کرکٹ نہیں آیا ہے۔ (چہارم) تاثیر اتحادی جو سب سے قوی تاثیر ہے اور وہ یہ کہ مرشد کامل اپنے روحانی زور سے مرید کو اپنے ضمن میں لے کر اپنی روح کو اس کی روح سے ایک کر دے اور جو کچھ کمالات اس کی روح میں ہیں وہ اس میں بھی آجاویں یہ سب سے اعلیٰ تاثیر ہے اور اس میں بار بار استفادہ کی حاجت نہیں رہتی۔ اور یہ کوئی محال بات نہیں روحانی طاقتور کا تو کیا ذکر ہے بعض پرند جانوروں میں ایسی تاثیر ہے کہ وہ دوسرے چھوٹے جانوروں کو ایک مدت میں اپنا سا ہی کردیتے ہیں اور ان کے توالد و تناسل کا یہی طریقہ ہے۔ یہ توجہ اتحادی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول کریم ﷺ پر کی تھی اور اس توجہ میں یہ کوئی ضرور نہیں کہ ہمیشہ اتحاد ظاہری و باطنی باقی رہے۔ (3) یہ کہ اس کے بعد آپ پر ایک عجیبحالت طاری تھی کہ بدن کانپ رہا تھا اس حالت میں آپ گھر تشریف لائے۔ اور آپ کو بیوی خدیجہ ؓ محض اپنی محبت شوہری کے جوش میں اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں کہ ان کو یہ کیا بات پیش آئی ہر چندہ خود خدیجہ ؓ نے بھی تسلی بخش الفاظ کہے تھے کہ آپ غریب و بیکس کے چارہ ساز ‘ مہمان نواز ‘ حق پسند ہیں آپ کو کوئی آسیب و آفت خدا نہیں پہنچائے گا مگر پھر بمقتضائے محبت دل نے نہ مانا اور ورقہ پاس لے گئیں۔ یہ ورقہ عیسوی مذہب کا عمر رسیدہ اور نیک شخص تھا تاکہ ان سے اصلی حالت دریافت کریں۔ ورقہ نے سب قصہ سن کر کہا کہ یہ ناموس اکبر ہے جو حضرت موسیٰ اور انبیاء اولو العزم کے پاس آیا کرتا تھا کہ کوئی خوف کی بات نہیں اور کاش میں اس وقت جوان ہوتا اور جبکہ تیری قوم تجھے یہاں سے نکالے گی تو میں مدد کرتا۔ آپ نے فرمایا کیا میری قوم مجھے نکال دے گی ؟ ورقہ نے کہا ایسا کون نبی ہے کہ جس کے ساتھ اس کی قوم نے ایسا نہیں کیا۔ پھر چند روز کے بعد ورقہ مرگیا اس لرزہ آنے میں یہ حکمت تھی کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ یہ غار کا قصہ بناوٹی ہے بلکہ اس کے آثار ظاہر جسم پر لوگوں نے دیکھ لیے اور ورقہ بھی حضرت پر ایمان لانے کے بعد چند روز میں مرگئے تاکہ کوئی یہ گمان نہ کرے یہ شریعت و احکام ورقہ سے سیکھے تھے۔ 1 ؎ پہاڑ مکہ سے منیٰ کی جانب تخمیناً دو میل دور ہے۔ اسی میں وہ غار ہے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قبول نوت خلوت گزیں ہوئے تھے اور یہیں وحی کا آنا شروع ہوا اور سب سے اول سورة اقراء کی یہ آیات نازل ہوئی 12 منہ 2 ؎ یہ شبہ کرنا (کہ اس سے پہلے آپ نے عیانا جبرئیل کو دیکھا نہ تھا پھر جب وہ سورة اقراء کی وحی لے کر غار حرا میں آئے اور آپ سے بار بار پڑھنے کی تاکید کرنے لگے تو آپ نے کیونکر پہچان لیا کہ یہ جبرئیل ہیں ممکن ہے کہ کوئی جن بھوت ہو ‘ محض خام خیال ہے کس لیے کہ جس کا اداراک باطن اس درجہ بڑھ جاوے کہ اس کو عیاناً ملائکہ دکھائی دینے لگیں اس کے نزدیک ان کا پہچان لینا بعینہ ایسا ہے کہیسا دوپہر میں آفتاب کا پہچان لینا جہاں دلیل کی ضرورت نہیں (اب میں) اس مقام پر حضرت عیسیٰ و موسیٰ (علیہما السلام) کی ابتدائی حالت اہل کتاب کی مسلم کتابوں سے دکھا کہ موازانہ کرتا ہوں تاکہ کسی متعصب کو نکتہ چینی کا موقع نہ ملے۔ انجیل متی کے تیسرے باپ کے اخیر میں ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) و اصطباغ پایا یعنی ان کے مرید ہوئے اور مریدی کی رسم ادا کی جو دریا میں غوطہ مارنا تھا اور جب دریا سے اوپر آیا تو اس کے لیے آسمان کھل گیا اور خدا کی روح کبوتر کی مانند اتری اور اپنے اوپر آتے دیکھا اور آسمان سے آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے پھر چوتھے باپ کے اول میں ہے۔ تب عیسیٰ روح کے وسیلہ سے بیابان میں لائے گئے تاکہ انہیں شیطان آزمائے اور جب چالیس دن اور چالیس رات روزہ رکھ چکے آخر بھوکے ہوئے تب آزمائش کرنے والے نے ان کے پاس آکے کہا کہ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو کہہ کہ یہ پتھر روٹی بن جاوے۔ مسیح (علیہ السلام) نے جواب دے کر ٹال دیا پھر شیطان حضرت مسیح کو ہیکل یعنی بیت المقدس کے کنگورے پر چڑھا لے گیا اور کہا تو اپنے آپ کو نیچے گرا دے اگر سچا ہے تو فرشتے اٹھا لیں گے ٹھیس بھی نہ لگے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش نہ کرنی چاہیے۔ تیسری بار پھر آزمایا کہ ایک بلند پہاڑ پر چڑھا کر دنیا کی ساری بادشاہتیں اور اس کی شان و شوکت دکھا کر کہا اگر تو مجھے سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دے دوں تب مسیح (علیہ السلام) نے فرمایا اے شیطان دور ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تو خدا وند اپنے خدا کو سجدہ کر اور اس اکیلے 1 ؎ کی بندگی کر۔ تب شیطان چھوڑ گیا اور مسیح (علیہ السلام) جلیل کو چلے گئے اور کغر ناحوم میں جارہے اور منادی کرنے لگے۔ انتہٰی ملخصایہ ترقی اس ترقی سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہوئی کم درجہ پر ہے۔ اول تو آنحضرت صلعم کسی کے مرید نہیں ہوئے نہ کسی کے ہاتھ سے اصطباغ پایا بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے نہ کبوتر کی شکل میں ان پر روح اتری بلکہ عیاناً ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی بابت یہ ہے۔ تب اس نے گلے کو بیابان کے ایک طرف ہانک دیا اور خدا کے پہاڑ حوریب کے نزدیک آیا اس وقت خداوند کا فرشتہ ایک بوٹے میں سے آگ کے شعلہ میں اس پر ظاہر ہوا اس نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بوٹا آگ میں روشن ہے اور وہ جل نہیں جاتا تب موسیٰ نے کہا میں اب نزیک جائوں اور اس بڑے منظر کو دیکھوں کہ یہ بوٹا کیوں نہیں جل جاتا۔ جب خدا وند نے دیکھا کہ وہ نزدیک آیا تو خدا نے اسے بوٹے کے اندر سے پکارا کہ اے موسیٰ نزدیک مت آ اپنے پائوں سے جو تا اتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے پھر اس نے کہا کہ میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہیم کا خدا اور اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔ الخ۔ توریت سفر خروج باب 3۔ یہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے درخت میں سے تجلی کی مگر وہ تجلی جو غار حرا میں میں ہوئی تھی اس سے کہیں بڑھ کی تھی۔ 1 ؎ افسوس آج عیسائی تین کی بندگی کرتے ہیں۔ 12 منہ کس لیے کہ وہاں کسی ناسوتی شکل میں تجلی نہ تھی اور بلا کیف تھی اور تجلی کے بعد ناموس اکبر عیاناً دکھلائی دیا۔ اسی فرق اور امتیاز کو خدا تعالیٰ سورة نجم میں اور دیگر سورتوں میں جتلاتا ہے کہ ولقد رآہ بالافق المبین فاستویٰ وھوبا لافق الاعلیٰ ثم دنا فتدلیٰ فکان قاب قوسین اور ادنیٰ فاوحی الی عبدہ ما اوحیٰ ماکذب الفواد ماری افتمارونہ علی ما یرٰی۔ کہ محمد (ﷺ) نے جبرئیل کو آسمان کے کنارے پر عیاناً دیکھا اور جبرئیل جبکہ بلند کنارے پر تھے سنبھلے اور نزدیک ہوتے گئے یہاں تک کہ کمانوں کے فاصلے کے برابر یا اس سے بہی کم قریب آکر ہمارے بندہ کو جو کچھ وحی کرنا تھا وحی کیا (سورئہ اقراء کی یہ آیات) اور محمد ﷺ کے دل کو اطمینان ہوگیا۔ پھر کیا اے لوگو ! جو کچھ انہوں نے دیکھا اس میں شک کرتے اور جھگڑتے ہو۔ رہا ورقہ کے پاس جانا یہ ایک انسانی فطرت کے باعث تھا اور ورقہ جانتے تھے اس لیے ایمان لے آئے۔ اب ہم آیات کی تفسیر کرتے ہیں اقراء باسم ربک کہ اے نبی پڑھ اپنے رب کے نام سے۔ اس کے دو معنی ہیں : اول یہ کہ باسم میں ب زائد ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ پڑھ اپنے رب کا نام یعنی اس کو یاد کر۔ اور اسم کا لفظ اس مقام میں اس لیے آیا کہ ذات حق کی طرف ابتدائی حالت میں بغیر ملاحظہ صفات کے رسائی نہیں اور اسم میں صفات کا ملاحظہ ہوتا ہے اور اس لیے اس کے بعد منجملہ اور صفات کے صفت الذی خلق ذکر کی یعنی وہ جو پیدا کرتا ہے اور اس میں شان ربوبیت بھی جلوہ گر ہے جو اول میں باسم ربک میں ظاہر کی گئی ہے اور اس لیے بسم اللہ نہ کہا بلکہ باسم ربک فرمایا تاکہ ذات بحت کا ملاحظہ ابتدا میں شاق نہ ہو اور نیز ربک کے لفظ میں تسلی بھی ہے کہ کسی اجنبی کے نام یاد کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا بلکہ تمہارے اس خالق کا کہ جس نے اب تک تمہاری ظاہری اور باطنی پرورش کی اور کرتا ہے اور کرے گا اور یہ اس کی صفت ربوبیت ہی کا تقاضا ہے کہ تم کو تعلیم سے ترقی دے کر مخلوق کا ہادی بنانا چاہتا ہے۔ رب کا نام پڑھنا ہے یعنی اس کا ذکر کرنا۔ عام ہے کہ زبان سے مع تعداد ہو یا بےتعداد یا محض قلب سے مگر اصل مقصود اس صفت کا استغراق اور مراقبہ ہے تاکہ اس آسان رستہ سے شاہد مقصود تک پہنچے اور اس آئینہ سے اس کے جمال باکمال کا نظارہ کرے اور فی الحقیقت جملہ صفت باری سے اس صفت ربوبیت کی طرف جس قدر انسان کیا کل مخلوق کو فطرتاً دل بستگی ہے اس قدر اور سے نہیں کیونکہ دل تو اس کا مشاہدہ ہر دم کرتا ہے کہ کسی دلیل برہان یا کسی کے اظہار وبیان پر موقوف نہیں جس قدر جس کو ادراک ہے اسی قدر وہ اپنے اندر اس کی شان پرورش کو ملاحظہ کرسکتا ہے۔ دوم اس میں جو مخلوق اور خالق میں رابطہ ہے اس کا بھی کامل اظہار ہے۔ انسانی محاورے میں لفظ رب کی جگہ کبھی پیار سے باپ کا لفظ مستعمل ہوتا ہے کس لیے کہ باپ میں بھی اپنے بچہ کے لیے ربوبیت کا ایک جلوہ ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اسی لحاظ سے اللہ تعالیٰ پر اس لفظ کا استعمال کیا اور اے میرے رب ! کی جگہ اے میرے باپ کہا مگر ان کے بعد عیسائیوں نے یہی سمجھ لیا کہ دراصل حضرت عیسیٰ خدا تعالیٰ کے بیٹے اور وہ ان کا باپ ہے (اور یہ بھی معنی ہیں) کہ ب باسم ربک میں استعانت کے لیے ہے جیسا کہ کتبت بالقلم میں۔ اس تقدیر پر یہ معنی ہوئے کہ پڑھ اپنے رب کے نام کی مدد سے۔ کیا پڑھ ؟ قرآن یا یوں کہو جو کچھ تجھے سنایا جاوے اور جو کچھ تجھ پر وحی کیا جاوے۔ فائدہ : ہرچند حضرت انبیاء (علیہم السلام) خصوصاً سید المرسلین ﷺ ازل ہی میں پڑھائے جاتے ہیں اور مدرسہ الٰہی میں اعلیٰ درجہ کی تعلیم پا کر دنیا میں مخلوق کو پڑھانے اور سدھارنے آتے ہیں مگر ظہور ان کا اس عالم میں پیکر انسانی میں ہوتا ہے تاکہ اس مجانست سے بنی نوع انسان بآسانی تعلیم پا سکیں اور پیکر انسانی یہی خاک و آب وغیرہ عالم ناسوت کے کثیف اجزاء میں جن کی خاصیت جہل اور نسیان اور لذات حسیہ پر فریفتگی ہے اس لیے آنحضرت ﷺ کے دل کو بلوغ سے پہلے ہی سینہ چاک کرکے آب قدس سے دھو دیا گیا تھا تاکہ لذات حسیہ کی فریفتگی اور جملہ تلویثات دور ہوجاویں اور بلوغ کے بعد ایک دوسرا عالم شروع ہوتا ہے۔ اس لیے بعد بلوغ بھی قلب مبارک کو آب قدس سے دھویا تاکہ تمام عمر خصائصِ ہیولانیت سے پاک اور مبرا رہیں پھر جب عالم ناسوتی میں عہدئہ رسالت کبریٰ عطا ہوا تو جبرئیل ( علیہ السلام) نے عیاناً غار حرا میں وہ کچھ پڑھایا کہ اولین و آخرین کے جملہ علوم آپ کے بحر علوم کا ایک قطرہ ہوگئے اور ایسا پڑھایا کہ آپ نے اندھوں کی آنکھیں کھول دیں ‘ دلوں کے حجاب اٹھا دیے ‘ مردہ اجسام میں نئی روح پھونک دی ‘ جہلاء کو علوم کا چشمہ بنا دیا ‘ کما قال تعالیٰ یتلوا علیہم آیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ اور دراصل پڑھانے والا اللہ تعالیٰ تھا جبرئیل ایک واسطہ درمیانی تھا اس لیے کمال پر پہنچ کر جبرئیل سے بھی بڑھ گئے اور اسی بات کی طرف باسم ربک الخ میں اشارہ ہے کیونکہ یہ انکشاف علوم اسم ربک کی برکت تھی اول اسم ربک فرمایا تھا کہ رب کی شان ربوبیت جس میں تعلیم علوم بھی ہے اپنے اندر غور کرنے سے ظاہر ہوجاوے یہ شبہ انفس ہے۔ اس کے بعد آفاق کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرماتا ہے الذی خلق کہ جس نے تمام مخلوق کو بنایا۔ اپنی ذات میں ربوبیت کا جلوہ دیکھنے کے بعد کہ اس نے میرے ظاہر اور باطن میں کیا کیا صنعتیں صرف کی ہیں اور پھر کس طرح ہر لحظہ ان کی تکمیل کے اسباب بہم پہنچا رہا ہے۔ مخلوق میں غور کرنے سے اور بھی حیرت ہوتی ہے اور مخلوق میں سے انسان سب سے زیادہ نمونہ ربوبیت ہے اس لیے اس کے بعد فرمایا خلق الانسان من علق وہ رب کہ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا۔ علق علقہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں خون بستہ۔ مختلف غذائوں نے ہضم کے بعد جسم میں ایک نیا رنگ بدلا اور سب کا عطر کھینچ کر ایک دوسرا جوہر تیار ہوا جس کو منی کہتے ہیں جس میں جملہ کمالات جو تدریجاً ظاہر ہوں گے ودیعت رکھے ہوئے ہیں یہ پہلا استحالہ یا اول ترقی تھی اس کے بعد جب وہ منی عورت کے رحم میں جاتی ہے تو چند روز کے بعد خون بستہ ہوجاتی ہے یہ دوسرا استحالہ ہوا۔ پھر یہ خون چند روز کے بعد ترقی کرکے گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کو مضغہ کہتے ہیں یہ تیسرا استحالہ ہوا۔ اب صناع حقیقی اس میں سے مختلف اجزاہاتھ پائوں ‘ سر ‘ دل دماغ نمودار کرتا ہے اور ہر ایک عضو کی خاصیتیں اس کو عطا کرتا ہے اب منی کے اندر جو کمالات و دیعت تھے خوب ظاہر ہونے لگے اب ایک ہی مادہ سے مختلف اجزاء بنانا اور ان میں یہ حیرت انگیز نقاشی کرنا کیا طبیعت جسمِ بےتمیز کا فعل ہے ؟ ہرگز نہیں پھر کیا ماں با کی کاریگری ہے ہرگز نہیں ان کو تو خبر بھی نہیں کہ اندر کیا ہو رہا ہے اور اب تک بھی جو جو مصلحتیں اور حکمتیں اس کے اعضا میں رکھی ہیں ان کی بھی تشریح سے بڑے بڑے اطباء عاجز ہیں۔ قدرت کے بنائے ہوئے اعضاء میں کوئی جوڑ نہیں لگا سکتے اور نہ کسی میں کوئی زائد قوت رکھ سکتے ہیں پھر ماں باپ بےعلم کو کیا تمیز پھر یہ کون کاریگر ہے اور کس کے مبارک ہاتھ اس اندھیر کوٹھری میں یہ حیرت بخش کاریگری کرتے ہیں ؟ اسی قادر مطلق اور حکیم برحق کے۔ یہ چوتھا استحالہ تھا۔ اس کے بعد اس میں حیات یعنی جان ڈالی جاتی ہے اور وہیں اس کے تعذیہ و تنمیہ کے سامان وہ رب حقیقی مہیا کرتا ہے اور رحم ہی میں یہ پورے انسان بن جاتے ہیں یہ پانچواں استحالہ تھا۔ الغرض جب وہ منی اتنی الٹی پلٹیوں کے بعد انسان ہوجاتی ہے اور حضرت انسان رحم سے باہر آتے ہیں تب اس پر ربوبیت کا اظہاریوں ہوتا ہے کہ اول تو اسی جسم میں اس کے لیے غذا تیار کی۔ ماں کی پستانوں میں دودھ پیدا کیا۔ اس مرتبہ میں اس سے بڑھ کر نہ کوئی غذا مفید ہے نہ آسان ہے۔ پھر اس کو بھی دودھ پینا اور منہ سے چوسنا سکھایا۔ جب اس عرصہ میں اس کی اور بھی تکمیل ہوگئی اور اس کے جسم میں دوسری غذا کے لیے قابلیت پیدا ہوگئی ‘ دانت نکل آئے ‘ معدہ میں قوت آگئی ‘ دوڑ پھر کر ہضم کرنے کا سامان بھی بہم پہنچ گیا تو دنیا بھر کا الوان نعمت سے بھرا ہوا دستر خوان اس کے لیے بچھا دیا گیا۔ اب جو چاہیں کھائیں جو چاہیں پئیں۔ اب بولنے بھی لگے ‘ حس ادراک بھی کرنے لگے اور اس میدان میں ترقی کرتے چلے یہاں تک کہ عقل ہیولانی کے تنگ دائرہ سے نکل کر عقل بالفعل اور عقل کل تک جا پہنچے۔ اب تو زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگے۔ ان جملہ مراتب کو لحاظ کرے تو اس کی شان ربوبیت کا کامل جلوہ نظر آنے لگے اور یہ بھی جان لے کہ اس کی ربوبیت کا سلسلہ یہیں تک ختم نہیں ہوا بلکہ ایک دوسرے عالم تک جاتا ہے جس کے لیے علوم روحانیہ پڑھائے جاتے ہیں۔ فائدہ : منی کے مادہ کا ذکر چھوڑ کر خون بستہ کا ذکر کرنا اس وجہ سے ہوگا کہ ماں کے رحم میں آکر خون بستہ ہوجانا اول استحالہ ہے اور یہیں سے انسان کی عمارت شروع ہوتی ہے اور نیز عمارت تمام ہونے کے بعد بھی خون ہے کے زور پر قائم رہتی ہے۔ اسی سے اجزائے تحلیل شدہ پھر تیار ہوتے جاتے ہیں اور اسی سے روح نفسانی اور حیوانی و طبعی بنتی ہے وہ ہی روح انسانی یعنی نفس ناطقہ کا مرکب ہے۔ بھلا کوئی کاریگر کسی مادہ سے ایسا خون بنا کر تو دکھا دے۔ مضامین مذکورہ بالا جو شان ربوبیت یاد دلاتے ہیں ذکر فرما کر پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اقراء پڑھ یہ کلمہ تاکید کے لیے دوبارہ استعمال کیا۔ فائدہ : مفسرین نے اس کلمہ کے دوبارہ آنے کی بہت سی حکمتیں بتائی ہیں از انجملہ یہ ہے کہ اول بار جو اقرء فرمایا تھا اس سے مراد خود کا پڑھنا تھا کس لیے کہ آپ بظاہر امی تھے پھر جب تک کہ پہلے آپ کو نہ پڑھایا جاوے تب تک آپ اوروں کو کیا پڑھا سکتے تھے۔ اس لیے اس کے بعد دوسرا اقراء فرمایا کہ اب آپ لوگوں کو پڑھائیں آپ ہی استاد الکل فے الکل ہیں۔ یہ دستار فضیلت آپ ہی کے سر مبارک پر قضاء و قدر کے ہاتھوں نے باندھی ہے۔ از انجملہ یہ ہے کہ اقراء اول سے علوم باطنیہ کے پڑھنے کی طرف اشارہ ہے اوراقرائِ ثانیہ سے علوم ظاہرہ کی طرف یا برعکس۔ از انجملہ یہ کہ اقراء اول کی اقرء دوم تاکید ہے جیسا کہ کہتے ہیں پڑھ پڑھ اور یہ اس لیے کہ آپ نے بھی کئی بار انکار ما انا بقاریئکہہ کر کیا تھا۔ یہ پڑھانا پڑھنے والے کے لیے ایک بڑا بھاری کام ہے بغیر مدد غیبی کے ہو نہیں سکتا۔ اس لیے مدد غیبی کا بھروسا دلانے کے لیے اس کے بعد یہ بھی فرما دیا وربک الاکرم کہ تیرا رب کریم ہے اس کرم اور فضل پر بھروسہ رکھو اس کا کرم اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ! ضرور تمہاری دستگیری کرے گا اور یہ بھاری کام تمہارے لیے آسان ہوجاوے گا۔ اور اس کے کرم کا یہ ثبوت ہے کہ الذی علم بالقلم اس نے انسان کو قلم یعنی لکھنا سکھا دیا وہ مطالبات جو ذہن میں ہوتے ہیں قلم کے ذریعہ سے کاغذ پر ثبت ہوجاتے ہیں جن کو لکھنے والا بھی سمجھ سکتا ہے اور بھولی بات کو لکھی دیکھ کر یاد کرلیتا ہے اور دوسرا شخص بھی گو سیکڑوں ہزاروں برس گزر گئے ہوں مگر لکھی ہوئی بات کو سمجھ لیتا ہے اور ایک کے سینے کا مضمون دوسرے کے سینہ میں مرتکز ہوجاتا ہے۔ قلم پر نہ صرف سلطنت تجارت و حرفت کا دارومدار ہے بلکہ دینی امور بھی قلم کے ذریعے سے آئندہ نسلوں تک بحفاظت پہنچتے ہیں۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی کتابیں اور ان کے علوم اور اسی طرح اولیائِ کرام کے فیوض و برکات جو پچھلوں کو پہنچے اور پہنچ رہے ہیں قلم ہی کے ذریعہ سے۔ اس لیے قلم کے محامد میں لوگوں نے بہت کچھ عمدہ مضامین لکھے ہیں۔ اور دوسرا ثبوت اس کے کرم کا یہ ہے کہ علم الانسان مالم یعلم کہ انسان کو جس کی حقیقت بیان ہوچکی ہے کہ وہ خون کی ایک پھٹکی سے بنا ہے وہ چیزیں سکھائیں کہ جن کو وہ جانتا نہ تھا۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اسرار غیب بتائے۔ بندوں کی تجارت اور دنیاوی انتظام کے قانون سکھائے ‘ عرفاء کو مواجید و اشواق کے رستے بتائے ‘ ذات وصفات کے علوم عطا کئے ‘ حکماء کو صدہا علوم اور علوم کے اصول سکھائے۔ جن سے انہوں نے دنیا میں وہ وہ عجائب فنون ایجاد و اختراع کئے جو حیرت بخش ہیں۔ عام ہے کہ قلم کے ذریعہ سے یا خود اس کے دل میں القاء کئے ہیں۔ ان آیات میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تعلیمِ الٰہی کے دو طریقے ہیں ایک تعلیم قلم یعنی تعلیم کتابی یہ کسی دوسرے کا فیض ہوتا ہے جو پڑھنے والے کو حاصل ہوا کرتا ہے۔ دوم تعلیم روحانی یا لدنی جو وحی والہام کے ذریعے سے انبیاء کو ہوتی اور قرآن تعلیم لدنی ہے اور یہ قلم کے ذریعہ سے پچھلوں تک متوارث ہوتا رہے گا۔ بعض عرفاء فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد قلم اعلیٰ ہے یعنی روح اعظم جو واسطہ ہے علوم غیبیہ کا۔ اس کے ذریعے سے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو جانتا نہ تھا۔ فائدہ : انسان کو جن وسائل سے علم آتا ہے بہت سے ہیں۔ ازانجملہ قلم ہے جس کا ذکر ہوا ‘ از انجملہ حواس ظاہرہ و باطنہ ہیں۔ یہ جزئیات مادیات کے علم میں کام آتے ہیں۔ از انجملہ استدلال و نظر و فکر ہے جو چند معلومات کے مرتب کرنے سے مجہول چیز معلوم ہوجاتی ہے۔ از انجملہ کشف ہے۔ از انجملہ رویائِ صادقہ ہیں ‘ از انجملہ وحیٔ الہام ہے۔ نجوم و رمل و جفر علم معین یقین کے ذرائع نہیں ان سے جو حاصل ہوتا ہے وہ ظن ہے اور وہ کار آمد ہیں۔ اب ان بےانتہا نعمتوں کے بدلہ میں انسان اپنے منعم سے کیا کرتا ہے۔
Ayahs 96:6–14

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

بیشک انسان تو سرکشی کر رہا ہے۔

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

اس لیے کہ اپنے آپ کو بےپروا جان رہا ہے۔

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

پھر کرلو تو تیرے رب ہی کے پاس جانا ہے۔

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

تم نے اس کو بھی دیکھا جو روکتا ہے۔

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

بندے کو نماز سے

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو سہی اگر وہ راہ پر ہوتا

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا پرہیزگاری سکھاتا۔

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو سہی اگر اس نے جھٹلایا اور منہ موڑ لیا

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

تو کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔

ترکیب ¦ کلا فیہا اقوال (1) انھا بمعنی حقاد ھو مذہب الکسائی۔ لانہ لیس قبلھا رولا بعدھا شیء تکون کلار دًالہ ذکرہ الجر جانی صاحب النظم (2) روع دزجر لمن کفر الغامہ تعالیٰ بطغیا نہ وان لم یتقدم لہ ذکر (3) مذھب ابی حبان انھا بمعنی اَلَا التنبیہ نحوالا انھم ھم المفسدون فیقف علی ما قبلھا و علی الاول الوقف علیھا ان راہ بالنصب قال الاخفش اصلہ لان راہ فخذفت اللام کما یقال انکم لتطغون أن رایتم غناء کم۔ وقال ابن الصائغ ھو مفعول لہ ای یطغی لذاک۔ والرویۃ ھٰھنا بمعنی العلم ولو کانت بصریۃ لا تمنع الجمع بین الضمیرین فی فعلھا لشیء واحد لان ذلک من خواص علم و مثلہ فالمفعول الاول الضمیر فی رآء والثانی استغنیٰ الرجعیٰ والرجوع والمرجع کلھا مصادر۔ والرجعیٰ علی وزن فعلٰی۔ ارایت فی المواضع الثلاثۃ بمعنی اخبرنی لان الرؤتہ سبب الاخبار عن المرئ فاقیم مقام الاستفھام والخطاب لکل من یصلح لہ۔ ارایت فاعلہ الضمیر المستترفیہ ای انت الذی موصول ینہی الضمیر الراجع فیہ الی الموصول فاعلہ عبدا مفعولہ اذا صلـٰی متعلق بینھٰی والموصول مع الصلۃ مفعول لرئیت والجملۃ الشرطیۃ (ان کان علی الہدی معطوف علیہ اوا مر بالتقوی معطوف) مفعولہ الثانی و جواب الشرط محذوف یدل علیہ قولہ الم یعلم الخ واریت الثانی زائدۃ مکررۃ للتوکید ارایت الثالث مفعولہ الاول محذوف ان کذب و تولیٰ شرط الم یعلم الخ جو ابہ وا لشرط مع الجواب مفعولہ الثانی ان قلت کیف صح ان یکون الم یعلم جوابا للشرط قلت کما صح فی قولک ان احسن الیک زید ھل نحن الیہ۔ الکشاف۔ تفسیر ¦ کیا شکر گزاری اور نیاز مندی کرتا ہے یا سرکشی اس کا بیان ان آیات میں ہے۔ کلا نہیں نہیں انسان شکر گزاری نہیں کرتا بلکہ ان الانسان لیطغٰی انسان سرکشی کرتا ہے۔ اور یہ کس لیے کرتاے ان راہ استغنٰی کہ وہ اپنے آپ کو اس منعم کا محتاج اور دست نگر نہیں سمجھتا جانتا ہے کہ اب مجھے کیا پروا ہے مجھ میں زور ہے تو ایسا ‘ میرے پاس مال و اسباب ہے تو یہ کچھ ‘ اور مجھے علم و عقل ہے تو یہ کچھ۔ جس کے آگے تمام حیوانات میرے غلام اور عناصر میرے خدمت گار ہیں۔ میں بجلی کی طاقت کو بس میں لا کر تار کے ذریعہ سے پل بھر میں سیکڑوں کوس اپنا مضمون پہنچا سکتا ہوں میرا الہام بھی کچھ کم نہیں۔ کہربائی طاقتوں سے وہ وہ حیرت انگیز کام کرسکتا ہوں کہ جو کوئی اور نہیں کرسکتا۔ ابخراتِ مائیہ کے زور سے ہزاروں من بوجھ کھینچنے والی تیز چلنے والی ریل بنا سکتا ہوں۔ بخارات کو بس میں کرکے کیسی کیسی مشین چلا سکتا ہوں ‘ سمندر کے سفر کے لیے میں نے اپنے علم اور عقل سے وہ وہ سامان بہم پہنچائے کہ سمندر پر میری حکومت ہوگئی اور انسانی علاج میں میں نے وہ وہ نسخے بہم پہنچائے کہ جن کو سن کر حیرت ہوجاوے۔ میں ہڈی کی جگہ اور ہڈی لگا سکتا ہوں اور بدن میں خون جدید پہنچا کر قوی کرسکتا ہوں۔ میں نے بارش کی حقیقت معلوم کرلی۔ اب جب چاہو چند گولے چھو و دوں ان کے ابخرات اوپر کو جا کر بادل بن جائیں اور پانی برسنے لگے۔ میں بجلی بنا سکتا ہوں نوشادر اور جست اور تانبے کو ترکیب ¦ خاص سے ملا دوں تو وہی کڑک وہی چمک ہونے لگے۔ اب میں آسمان کی طرف یہی غبارہ میں بیٹھ کر اڑنے لگا ہوں۔ میں نے وہ وہ دوربینیں ایجاد کی ہیں کہ جن سے عالم غیب کا مشاہدہ ہوجاتا ہے۔ لاکھوں کوس کے ستارے میرے سامنے آجاتے ہیں وہاں کی چیزیں مجھے خوب دکھائی دیتی ہیں۔ میں نے معاش میں وہ وہ کار آمد چیزیں ایجاد کی ہیں اور وہ وہ پُر لطف مکان بنانے جانتا ہوں کہ کوئی کیا بنائے گا۔ وہ وہ باجے ایجاد کئے ہیں کہ چابی دینے سے خود بخود گھڑیوں بجتے ہیں اور سننے والے کو محو کردیتے ہیں ہماری کو ٹھی کا فرنیچر یعنی سامان کچھ جنت کے سامانوں سے کم نہیں۔ اب بھی میں بہت سی چیزوں کی تحقیق میں سرگرم ہوں پھر دیکھئے میں کیا ہوجاتا ہوں۔ خدا خدا ارے کہاں ہے مجھے کوئی دوربین خوردبین یا اور کسی آلہ سے تو دکھائے۔ فلسفہ جدید کہتا ہے۔ یہ ایک انسان کا خیال ہے جو پشت در پشت چلا آیا ہے عالم اجسام مادہ کے سبب موجود ہے۔ آپ ہی چیزیں بگڑتی بنتی ہیں۔ جیسا کہ دریا کے جوش میں پانی کے لیے بلبلے اٹھتے اور بیٹھ جاتے ہیں۔ مرنے کے بعد کس نے روح کو دیکھا ہے وہ تو قطعاً مرجاتی ہے۔ پھر آخرت اور ثواب و عقاب کا جھگڑا محض ریفارمروں نے لوگوں کے سمجھانے ڈرانے کے لیے بنا لیا ہے اور اس بغیر ان کا کام بھی نہیں چلتا تھا۔ یہ ہے وہ انسان بدبخت ‘ نمک حرام کی سرکشی جس نے اس خون کی بوند کو ایسا بنایا اور یہ کچھ سکھایا آج اس سے اکڑتا ہے اور یہ سرکشی علیٰ قدر مراتب ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔ مکہ کے کافر اور مشرک اپنے حوصلہ کے موافق کرتے تھے آج کل جو علوم جدید اور نیا فلاسفہ پھیلایا گیا اور عمدہ عمدہ سامان معاش بہم پہنچے تو صاف صاف بغاوت کی ٹھہرا دی حالانکہ ابھی تو اس نمک حرام کو لاکھو اں حصہ بھی نہیں بتایا ہے یہ خود جانتا ہے کہ فلسفہ حال اور اس کی تحقیق کسی حد پر جا کر ٹھہرا نہیں گئی ہے ہر روز اور ہر سال نئی نئی باتیں معلوم ہوتی جاتی ہیں جن باتوں کا اگلے سال یقین تھا اب ان کو غلط بتایا جاتا ہے۔ الغرض جن جن نعمتوں پر شکر کرنا چاہیے تھا انہیں پر اکڑنے لگا۔ کوئی حسن پر ‘ کوئی حسب و نسب پر ‘ کوئی مال و جاہ پر ‘ کوئی علم و ذہن پر ‘ کوئی اولاد و لشکر و تخت پر بعض۔ مفسرین انسان سے مراد آیت میں خاص انسان لیتے ہیں۔ مکہ کے کفار ابوجہل وغیرہ۔ اس بیان کے بعد انسانی سرکشی کو باطل کرتا ہے۔ فقال ان الی ربک الرجعٰی کہ بیشک تیرے رب کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ہر پھر کر اسی کی طرف آنا ہوتا ہے۔ اس کے دو معنی ہیں اول یہ کہ موت سے تو کسی کو بھی انکار نہیں۔ جن حکیموں فلسفوں نے یہ کچھ ایجاد و اختراع کئے ہیں آخر وہ بھی اپنی صحت اور جوانی کی بقا کی کوئی تدبیر نہیں کرسکے۔ دیکھ رہے ہیں کہ عمر رواں ہاتھ سے چلی جارہی ہے ‘ تندرستی اور جوانی کا قافلہ لٹ رہا ہے ‘ یکے بعد دیگر اس کے قویٰ جواب دیتے چلے جاتے ہیں۔ آخر ایک روز یہ سرکش لمبے چوڑے دعوے کرنے والا بھی چل دیتا ہے ‘ بےحس و حرکت ہو کر گر پڑتا ہے اب اس کی روح خدا کے پاس جاتی ہے اپنے کئے کا بدلا پاتی ہے۔ دوم یہ کہ باوجود ان نعمتوں اور ان علوم کے جو اس کو خدا نے تعلیم کئے اور جن پر یہ سرکشی کرنے لگا اور منعم سے اکڑ بیٹھا جب آن کر اس کی کوئی تدبیر بگڑتی ہے تو پھر خدا ہی سوجھتا ہے۔ اسی طرح وہ لشکر جن کے اسلحہ جنگ پر ناز تھا شکست کھاتا ہے اور کوئی تدبیریں نہیں پڑتی تو خدا ہی کی طرف دل دوڑتا ہے بڑے بڑے حکیم و ڈاکٹر جو اعجاز مسیحا کے مدعی تھے جب تدبیر بگڑتی ہے اور کچھ بن نہیں آتی تو وہی سوجھتا ہے۔ بہرطور ہر حال اور شان میں اگر غور سے دیکھا جائے تو انسان پر تمام تدابیر اور زوروں کے بعد ایک ایسی حالت بھی آتی ہے کہ جہاں بجزنا چاری کے اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہی وہ حالت ہے کہ جس کو رب کی طرف رجوع کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جن کی اندرونی آنکھیں روشن ہیں وہ تو اس وقت بھی دل سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور خواب غفلت سے بیدار ہو کر جان لیتے ہیں کہ تمام اسباب کا سلسلہ ایک مسبب الاسباب کے ہاتھ میں ہے۔ مگر جو گمراہ ازلی ہیں اور بالکل تیرہ باطن ہیں اور بہائم سے زیادہ ان میں باطنی حس و ادراک نہیں وہ اس حالت میں بھی کہ جو رجوع الی اللہ کی حالت ہے دل سے رجوع نہیں ہوتے اور اسی گمراہی کے جال میں پھنسے رہتے ہیں۔ منجملہ اس کے سر کشی کی ایک حرکت بدیہہ بھی ہے اریت الذی ینہٰی عبدا اذا صلیٰ کہ بندے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے۔ یعنی اللہ کے بندوں کو نماز اور رجوع الی اللہ سے روکتا ہے۔ آپ تو رکا ہوا تھا ہی اوروں کو بھی روکتا ہے۔ یہ گمراہی اور سرکشی کا کمال درجہ ہے۔ ابوجہل لعین نے بھی ایسا ہی رسول کریم ﷺ کے ساتھ کیا تھا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے پیچھے سے آکر گلے میں پٹکا ڈال کر اس زور سے کھینچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آنکھیں نکل آئیں اور کہا کہ اگر پھر کبھی تجھے کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھوں گا تو گردن توڑ ڈالوں اور بلال ؓ جو غلام تھے جب تک اس کی ملک میں تھے ان کو نماز سے روکتا تھا۔ اس وجہ سے مفسرین نے کہہ دیا کہ یہ آیات ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی۔ فائدہ : نماز سے روکنے سے وہی روکنا مراد ہے جو عبادتِ الٰہی کا مخالف بن کر روکے۔ ورنہ بےقاعدہ اگر کوئی نماز پڑھے جیسا کہ اوقات مکروہ میں یا غضب کی زمین میں یا فرائض و سنن کے علاوہ اور زیادہ نوافل میں نوکر یا بیوی مصروف ہو کر حرج کار کرے تو یہ روکنا وہ روکنا نہیں۔ اب یہ بتاتا ہے کہ بجائے اس سرکشی کے اس کو یہ کرنا تھا۔ فقال ارایت ان کان علی الہدٰی اور امر بالتقوٰی کہ اے دیکھنے والے دیکھ تو سہی وہ ناشکر متکبر باغی بن کر جو اوروں کو یہی خدا کی طرف رجوع ہونے سے روکتا ہے اگر بجائے اس گمراہی اور سرکشی کے خود ہدایت پر ہوتا یعنی سیدھی راہ چلتا جو انبیاء کی راہ ہے اور اس سے بھی ترقی کرکے اوروں کو بھی تقوٰی و پرہیزگاری کی ہدایت کرتا حکم دیتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ گمراہی اور سرکشی کے بدلے ہدایت پر ہوتا اور لوگوں کے روکنے کے بدلے اُ ن کو بھی ہدایت کرتا مہدی اور ہادی ہوتا تو کیا بگڑ جاتا بر خلاف اس کے ضال و مضل بن گیا۔ نعمت کی شکر گزری یہ ہے نہ وہ۔ فائدہ : لفظ وجس کے معنی یا کے ہیں انفصال حقیقی کے لیے نہیں صرف منع خلو کے لیے ہے کہ ان میں سے ایک نہ ایک بات ضرور کرنی تھی اور جو دونوں ہوتیں تو اور اچھا ہوگا مگر وہ بدنصیب تو ادھر آتا ہی نہیں اس بات کو اس جملہ میں ارشاد فرماتا ہے ارایت ان کذب وتولی الم یعلم بان اللہ یریٰ دیکھ تو سہی اگر اس بدبخت نے ارشاد الٰہی کو جو اسی کی بہترین کے لیے تھا بجائے تصدیق کرنے کے جھٹلا دیا اور منہ موڑ لیا ہے تو کیا یہ نہیں جانتا کہ اللہ بھی دیکھ رہا ہے۔ خلاصہ کلام اگر وہ خود بھی ہدایت پر ہوتا اور دوسروں کو بھی اور جو اس نے جھتلا دیا اور منہ موڑ لیا تو بھی خدا نیکی بدی کا بدلہ دیتا ہے پھر جو بندہ نیکی سے روکتا اور بدی کرتا ہے کیا اس نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا دیکھتا نہیں ضرور دیکھتا ہے۔ اس میں اجمالی طور پر اعتقادات کی جزاء و سزا کی طرف اشارہ ہے اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ حق سبحانہ لطیف وخبیر ہے کوئی جوہر اور کوئی عرض اس کے علم سے باہر نہیں اور علم بھی علم حضوری کہ نہ ذہول ہے نہ نسیان اور یہ اس لیے کہ وہ خالق ہے اور جواہر و اعراض مخلوق ہیں اور علت کو معلول کا علم حضوری ہوتا ہے اور یہ بھی ثابت کہ وہ عادل ہے پھر اس کے نزدیک محسن اور مسی ‘ نیک اور بد برابر کیونکر ہوسکتے ہیں اور قادر بھی ہے اور قدرت کاملہ کا ثبوت اس کے خالق ہونے سے بخوبی ہے۔ پھر قادر بھی ہو ‘ عادل بھی ہو ‘ عالم بھی ہو کہ اعمال تو اعمال دلوں کے خطرات بھی اس کو معلوم ہوں پھر اگر وہ نیک کو جزا اور بد کو سزا نہ دے تو عالم کی بادشاہی تو بڑی چیز ہے ایک گھر پر بھی حکومت نہیں کرسکتا اس لیے جس طرح اس کے فضل کا مقتضٰی یہ تھا کہ اس نے انسان کو یہ یہ نعمتیں عطا کیں اور علم کی دستار اس کے سر پر باندھ کر اور مخلوق کا سردار بنایا اسی طرح اس کے عدل و انصاف کا بھی یہ تقاضا ہے۔ کہ ان نعمتوں کے شکر کرنے والے کو دنیا میں یا مرنے کے بعد جزائِ خیر عطا کرے اور وہ کیا ہے حیات جادونی اور سرور ابدی۔ اور شکر یہ کیا ہے ایمان لانا اور نیک کام کرنا اور یہ خیال رکھنا کہ مجھے اللہ جل جلالہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور دل سے اس محسن کی محبت کرنا اور ناشکری کیا ہے کفر اور طغیان اور نیکی سے اوروں کو بھی روکنا تو اس کی سزا جہنم ہے۔ چناچہ اگلی آیتوں میں اسی کی تصریح فرماتا ہے۔
Ayahs 96:15–19

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

خبردار اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی ڈب پکڑ کر گھسیٹین گے۔

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

جو جھوٹا اور گناہ گار ہے

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

لے اب بلانے کا اپنی مجلس کو

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی اپنے پیادے بلاتے ہیں

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

خبردار۔ اس کا کہنا نہ مانیو اور سجدہ کرو اور نزدیک ہوجائو۔

ترکیب ¦ کلا۔ زجر للناہی عن الصلوٰۃ والخیرات۔ لئن شرطیۃ واللام مؤطۃ للقسم ای واللہ لئن لم ینتہ عما ھو علیہ شرط النسفعاء الخ جواب الشرط۔ واصلہ لنسفعن۔ صیغۃ جمع المتکلم مع لام التاکیدونون الخفیفۃ للتاکید۔ السفع القبض علی الشیء وجذبہ ‘ بشدۃ (کشیدن) یقال سفع یسفع (سفع موئے پیشانی گرفتن (عع بفجتھما) یقال بہ سفعۃ من الشیطان ای مس و سوختن آتش و سموم روی داد رنگ گردانیدن۔ (سفعہ بالضم سیاہی کہ بسرخی زند) صراح و قریٔ لنسفعن بنون مشددۃٍ ونون المخفۃ تبدل بالالف فی الوقف لسکونھا وانفتاح ماقبلھا۔ وکتبت فی المصحف بالا لف علی حکم الوقف۔ ولما علم انھا نا صیۃ المذکور اکتفٰی ابلام العہدء عن الاضافۃ فقیل بالناصیۃ ناصیۃ بدل من الناصیۃ و جاز بدلھا عن المعرفۃ لا نھا وصف بکا ذبۃ خاطئۃ فاسقتبلت بقائدۃٍ وصارت کالمعرفۃ وقرءت ناصیۃ بالرفع علی انھا خبر مبتدء ایھی وقرءت بالنصب علی الذم۔ ووصف الناصیۃ بالکذب والخطاء وھما لصا جھا علی الاسناد والمجازی للمبالغۃ والنصایۃ شعر مقدم الراس۔ النادی المجلس الذی ینتدی فیہ القوم ای یجتمعون المراد اھل النادی (نداء بالکسر والمد آواز دادن و خواندن و قدیضم ایضاً مثل دعا ورغاء مناداۃ مثلہ وتنا دوا ای نادیٰ بعضھم بعضا ندی ندوۃ نادی منتدیٰ انجمن) صراح الزبانیۃ قال الکسائی والا خفش وعیسیٰ بن عمر و جمع زابن وقال ابو عبیدہ جمع زبینۃ۔ و قیل زبانی بتشدید الیاء وقیل ھو اسم الجمع لا واحد لہ من لفظہ کعباد یہ وابابیل۔ واصل الزبن الدفع فالعرب تلطلق ھذالا سم علی من اشتد بطشۃ قال قتادہ ھم الشرط قرء الجمھور سندع بالنون ولم یرسم الواو کما فی قولہ یوم یدع الداع۔ تفسیر ¦ کلا۔ خبردار یہ اس ناشکر کو جھڑکی ہے۔ واضح ہو کہ لفظ کلا کے کلام عرب میں کئی معنی ہیں۔ کبھی بمعنی بیشک و تحقیق کے آتا ہے کبھی حرف تنبیہ کی جگہ مستعمل ہوتا ہے جیسا کہ الا اس کے معنی ہیں دیکھو۔ کبھی تنبیہ دز جرو توبیخ کے لیے آتا ہے جس کے معنی ہیں خبردار۔ یا نہیں نہیں اس جگہ اس معنی میں مستعمل ہے اور یہ کلمہ قرآن مجید کے نصف اول میں مستعمل نہیں ہوا نصف اخیر بالخصوص آیات و سورة مکیہ میں آیا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ مکہ کے لوگ کفر و بدکاری اور بیہودہ گوئی پر اصرار اور ہٹ دھرمی زیادہ کرتے تھے۔ اس جھڑکی کے بعد فرماتا ہے لئن لم ینتہ لنفعًا بالناصیۃ ناصیۃ کاذبۃٍ خاطئۃٍ اگر وہ بدکیش ناشکر کافر اس پر بھی باز نہ آیا تو ہم اس کی ڈب پکڑ کر کھینچیں کے یعنی پیشانی کے بال پکڑ کر جو خطا کار اور چھوٹی پیشانی ہے۔ فائدہ : پیشانی پکڑ کر گھسیٹنے سے مراد سر کا ذلیل و خوار کرنا ہے۔ دنیا اور آخرت میں۔ انجام کار ایسے متکبر و کافر سخت رسوا اور بہت ذلیل ہوتے ہیں۔ خدائے جبار ان کے سب زور توڑ دیا کرتا ہے۔ کوئی تدبیر نفع نہیں دیتی اور جو کسی مصلحت سے دنیا میں چند روز مہلت بھی دی تو مرنے کے بعد تو یہی سزا ہے سفع کے معنی گھسیٹنے کے بھی ہیں اور سیاہی کو بھی کہتے ہیں اس لیے دوسرے معنی پر خیال کرکے علماء نے یوں مطلب بیان کیا ہے کہ ہم اس کو روسیاہ کردیں گے۔ فائدہ : پیشانی سر میں ایک نمود کی چیز ہے اور سرہی تمام غرور اور بطالت کا خزانہ ہے اس لیے ذلیل کرنے میں پیشانی کا ذکر کیا اور اس لفظ سے تعبیر کیا اور چونکہ یہ پیشانی یعنی سر غرور اور خیالات بیہودہ کا مخزن ہے دماغ ہی میں یہ لغویت ہوتی ہے۔ اس لیے اس کو خاطیہ یعنی خطا کار کہا یعنی غلط خیالات کا مخزن اور اس میں جھوٹی تمنائیں بھی ہوتی ہیں کہ جس طرح دنیا میں ہم نے عزت حاصل کی خدا کے ہاں بھی حاصل کریں گے اور یہ بھی کہتے تھے کہ ہم کو کون سزا دے سکتا ہے اس لیے اس کو کاذبہ یعنی جھوٹی بھی فرمایا یعنی وہ علوم جو اس کو راہ حق سے روکے ہوئے تھے بطالت و کذب تھے۔ بعض فرماتے ہیں کہ پیشانی خاطئہ کاذبہ ہونے سے مجازا پیشانی والا مراد ہے۔ فائدہ : خاطی اور مخطی میں فرق ہے۔ اول وہ جو دیدہ دانستہ کوئی برا کام یا غلطی کاری کرے۔ دوم وہ جو بھولے سے۔ اول کی سزا جہنم ہے جیسا کہ ایک جگہ فرمایا ہے من غسلین لا یکلہ الا الخاطئون۔ دوسرا قابل درگزر ہے جیسا کہ اس آیت سے سمجھا جاتا ہے ربنا لا تؤاخذنا ان نسیان او اخطانا کہ اے ہمارے رب بھول اور نادانستہ خطا پر ہمیں نہ پکڑنا۔ اگر اس پر بھی بس نہ ہو اور یہ سمجھے کہ ہم کو کون پکڑ سکتا ہے جیسا کہ ابوجہل لعین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خانہ کعبہ میں نماز اور قرآن پڑھنے سے روکا اور دھمکی دی کہ اب دیکھوں گا تو گردن توڑ ڈالوں گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کے قہر سے ڈرو۔ وہ چاہے تو تیری گردن توڑ ڈالے۔ اس پر اس نے کہا میری گردن کون توڑ سکتا ہے اگر میں اپنے اعوان و انصار تو کیا ہر وقت مجلس اور دربار کے بیٹھنے والوں کو بھی کہوں اور ان کو بلائوں تو آدمیوں سے جنگل بھر دوں۔ اسی طرح ہر سرِ پر غرور کو خیال ہوتا ہے تو حق سبحانہ فرماتا ہے جب اس کی پیشانی کو پکڑ کر گھسیٹیں اور اس کو ذلیل و خوار کرنا چاہیں تو فلیدع نادیہ وہ اپنی مجلس اور اعوان و انصار کو بلا لے دیکھیں کون آکر ہمارے مقابلے میں اس کو بچاتا ہے ؟ کس لیے کہ سندع الزبانیہ ہم بھی اپنے جلادوں کو بلائے لیتے ہیں خدا تعالیٰ کے جلادو قہر الٰہی کے فرشتے ہیں جن کے مقابلے کی کسی کو بھی طاقت نہیں اور نیز وہ حوادث و ہولناک وقائع ہیں جو دنیا میں پیش آتے ہیں اور پھر کسی کے ٹالے نہیں ٹلتے۔ وباء ‘ قحط ‘ بیماری ‘ تنگ دستی ‘ بےعزتی ‘ نفاق باہمی ‘ بزدلی ‘ سوئِ تدبیر ‘ کاہلی ‘ غلبہ اعداد وغیرہ بھی آسمانی جلاد ہیں۔ فائدہ 4 : پھر جب ایک بار حسب دستور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے تو ابو جہل لعین نے دیکھا اور حملہ کرنے کے لیے بڑھا۔ جب قریب آیا تو کسی چیز کو ہاتھوں سے ہٹاتا ہوا پچھلے پائوں جلدی سے لوٹا۔ لوگوں نے دیکھ کر پوچھا تو کہا میرے اور اس کے درمیان ایک آگ کی خندق تھی اور پروں کی آواز معلوم ہوتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بخدا اگر وہ میرے ہاتھ لگاتا تو اس کو فرشتے اچک لے جاتے اور تم سب کے سامنے پرزے پرزے کر ڈالتے (رواہ مسلم و احمد و نسائی وغیر ہم) آخرش آنحضرت ﷺ کا فرمودہ پیش آیا۔ بدر کی لڑائی میں اس واقعہ کے بعد ابوجہل بہت سے بہادروں کو لے کر نبی کریم ﷺ کے مقابلے میں نکلا حالانکہ اس کی جمعیت سہ چند تھی مگر جب قہرمانِ الٰہی نازل ہوا تو اس کی مجلس و جلیس کچھ کام نہ آئے اور بہت سے مارے گئے اور بہت بھاگے اور بہت سے گرفتار ہوئے اور یہ بھی زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا اور ابن مسعود ؓ نے اس کی گردن کاٹی اور کان میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے لائے اور ایک گڑھے میں لا کر ڈال دیا گیا۔ خدا کے قہر سے ڈرتا رہے۔ آج وہ پر غرور جھوٹی اور خطا کار پیشانی کس ذلت سے میدان میں بدر میں گھسیٹی گئی۔ اس تہدید کے بعد اہل اللہ کی طرف روئے سخن کرتا ہے کلا کہ ہرگز ہرگز لاتطعہ اس کافر دکیش ناشک رکا کہنا نہ مان جو تجھے نماز و تقرب و عبادات الٰہی سے روکتا ہے بلکہ اسجد اپنے رب کو کہ جس نے تجھے یہ نعمتیں دیں علم دیا جسدہ کر اور اس کے آگے جھک۔ بندہ کی یہی سعادت مندی ہے کہ اپنے آقا اور مہسن کے اگے جھکے۔ سجدہ سے مراد بعض علماء کے نزدیک نماز ہے اس افضل جزء سے کل کو تعبیر کیا اور اس کی افضل ہونے کی یہ وجہ ہے کہ وہ سر پر غرور کہ جس کو ناشکر اونچا رکھتا ہے اپنے رب کے آگے سجدے میں رکھ دیا جاتا ہے اور یہ انسان کے تمام جسم میں افضل جزء ہے یہ کمال نیاز مندی کی دلیل ہے اور اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بندہ جب اپنے رب کو سجدہ کرتا رہتا ہے تو نہایت قریب ہوجاتا ہے (رواہ مسلم) اور اسی لیے غیر اللہ کے لیے سجدہ حرام ہوگیا۔ بلکہ جو جھلکنا سجدہ سی مشابہت رکھے اس کو بھی فقہاء نے حرام لکھا ہے۔ اور اے بندے ! اس سجدہ سے اقترب اس کا قرب حاصل کرنا۔ بندہ جس قدر اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اسی قدر قرب حاصل ہوتا ہے اور سجدہ افضل عبادت ہے اس لیے اس میں تقرب بھی زیادہ ہے اس لیے اپنے رب کو سجدہ کرنا تمام صالحین کی قدیم عادت ہے۔ بعض انبیاء (علیہم السلام) کی شریعت میں صرف سجدہ کرنا ہی نماز تھا۔ اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ کرنا واجب ہے اور حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم ﷺ اس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا کرتے تھے اور یہ قرآن کے مواقع سجود میں سے اخیر موقع ہے۔ فائدہ : بعض مفسرین فرماتے کہ کلالئن لم ینتۃ الخ خاص ابوجہل کے لیے نازل ہوا ہے۔ اور خطاب کے صیغوں سے نبی کریم ﷺ مخاطب ہیں۔