Ayah 96:1(1) اے پیغمبر ! آپ اپنے اس پروردگار کے نام کی برکت سے اور اس کا نام لے کر قرآن کو پڑھیے جس نے سب کو پیدا کیا۔ یعنی قرآن شروع کرنے سے قبل بسم اللہ الرحمن الرحیم بشرطیکہ بسم اللہ بھی اس وقت نازل ہوگی ہو پڑھ لیا کرو۔ یا یہ کہ اللہ کے نام کی مدد حاصل کرنے کی حالت میں قرآن پڑھا کرو۔ ہوسکتا ہے کہ بازائدہ ہو اور یہ مطلب ہو کہ اپنے پروردگار کا نام پڑھیے جس نے سب کو بنایا، وہی تمام کائنات کا خالق ہے اور سب خوبیوں اور بھلائیوں کا پیدا کرنے والا ہے جس میں قرات کی صفت بھی آگئی یعنی وہی آپ میں قراءت کی صفت بھی پیدا کردے گا آگے اسی خالقیت کی اور وضاحت فرمائی۔
Ayah 96:2(2) اس نے انسان کو پیدا کیا ایک جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے - جس نے نطفہ کو ترقی دے کر علق بنایا اور پھر ترقی دے کر انسان بنایا اسی طرح وہ آپ کی ہر طرح کی ترقی کا ضامن ہے آپ کو اس کی فکر نہ کرنی چاہیے کہ میں امی ہوں اور پڑھا ہوا نہیں ہوں ہم تمام ترقیوں کے ضامن ہیں اور جملہ کمالات سے آپ کو مکمل کرنے والے ہیں۔ آگے پھر قراءت کی تاکید کی ہے۔
Ayah 96:3(3) آپ قرآن پڑھا کیجئے اور آپ کا پروردگار بڑا کرم کرنے والا ہے - ہوسکتا ہے کہ پہلی قرات اپنے نفس کے لئے ہو اور دوسری قراءت تبلیغ اور امت کی تعلیم کے لئے ہو، آگے جملہ مستانفہ ہے کہ آپ کا پروردگار بہت کرم کرنے والا ہے جو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے آپ کی تربیت جس طرح کی گئی ہے اس سے آپ کی استعداد کا کمال ظاہر ہے پھر مبدا فیاض میں کوئی بخل نہیں اس لئے آپ کو جو کچھ عطا کیا جائے اس پر کوئی تعجب نہیں وہ ایسا کرم کرنے والا ہے کہ
Ayah 96:4(4) اس نے قلم سے تعلیم دی یعنی پڑھے لکھوں کو نوشتہ قلم سے تعلیم دی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول جبرئیل وحی لائے تو یہی پانچ آیتیں حضرت نے کبھی پڑھا نہ تھا فرمایا کہ قلم سے بھی علم دیتا ہے یوں بھی وہی دے گا۔
Ayah 96:5(5) اس نیانسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہیں جانتا تھا - یعنی ایک قلم ہی پر کیا موقوف اس نے انسان کو مختلف ذرائع سے وہ وہ چیزیں سکھائیں اور بتائیں جن کو وہ بالکل نہیں جانتا تھا ۔ روحانی تعلیم کی تو کوئی انتہا ہی نہیں۔ مادی تعلیم کی یہ حالت ہے کہ ہر روز نئی نئی چیزیں اور نئی نئی قوتیں معلوم ہورہی ہیں اور ہر روز ان کا سلسلہ جاری ہے خود انسان نے انسان کی تباہی کے وہ سامان مہیا کئے ہیں کہ العیاذ باللہ
غرض حقیقی طور پر تو علوم کا افاضہ ہم سے ہوتا ہے اگرچہ آپ لکھنا نہیں جانتے اور نہ پڑھنا جانتے ہیں لیکن جب ہم نے آپ کو امر گیا ہے تو ہم دوسرے ذرائع سے آپ کو قراءت اور حفظ علوم پر قدرت عطا فرمائیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا اور اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی نبوت اور آپ کے پیغمبر ہونے کا اظہار بلکہ کھلی ہوئی دلیل ہے۔
آگے نبی کے دشمنوں اور نبوت کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت ہے۔
Ayah 96:6(6) سچ تو یہ ہے کہ انسان حد سے بڑھ جاتا ہے - یعنی آدمیت اور انسانیت کی حد سے نکل جاتا ہے۔
Ayah 96:7(7) اس سبب سے کہ وہ اپنے کو توانگر اور بےنیاز دیکھتا ہے ۔ یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی ہے جب اس نے اپنے آپ کو مالدار اور مال میں بڑھا ہوا دیکھا تو لگاتکبر کرنے اور یہ سمجھا کہ میں اب اللہ تعالیٰ سے بھی بےنیاز ہوں حالانکہ کوئی کتنا ہی دولت مند ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔
اس نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا کہ میں اس کو کئی بار منع کرچکا ہوں لیکن یہ باز نہیں آتا اب کے اگر نماز پڑھتے دیکھا تو میں اس کی گردن پر پائوں رکھ کر کھڑا ہوجائوں گا میرے ساتھی اور میرے حمایتی بہت ہیں اس پر حق تعالیٰ نے اس کی مذمت فرمائی چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 96:8(8) بے شک اے مخاطب تیرے پروردگار کی ہی حضور میں سب کو پلٹ کر جانا ہے - جب اس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے تو اس سے کوئی کس طرح مستغنی اور بےنیاز ہوسکتا ہے جس طرح اس زندگی میں اس کی قدرت سے خارج نہیں اسی طرح اس زندگی میں بھی اسی کے احاطہ قدرت میں گھرا ہوا ہے پھر بھلا اس سے کوئی سرکش اور متکبر کیسے بےنیاز ہوسکتا ہے۔
Ayah 96:9(9) اے مخاطب بھلا تونے اس شخص کو بھی دیکھا جو نماز سے روکتا اور منع کرتا ہے۔
Ayah 96:10(10) ایک خاص بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے - مطلب یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نماز پڑھتے ہیں تو یہ نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے یہ ابوجہل خبیث کی حالت ہے کہ ایک دن جب آپ نماز ادا کررہے تھے وہ بےادبی کی نیت سے چلا مگر قریب جاکر لوٹ آیا کسی نے دریافت کیا ان کی گردن پر کیوں نہیں کھڑا ہوگیا کہنے لگا میں نے وہاں پہنچ کر ایک آگ کی خندق دیکھی اورر اس میں کچھ پر دار چیزیں دیکھیں اس لئے میں لوٹ آیا۔
Ayah 96:11(11) اے مخاطب بھلا یہ تو بتا اگر وہ بندہ صحیح راہ پر قائم ہو۔
Ayah 96:12(12) یاوہ پرہیز گاری کی عام تعلیم دیتا ہو اور تقویٰ کا حکم کرتا ہو۔ یعنی اگر اس نمازی بندے میں دونوں باتوں میں سے ایک بات بھی ہوتی تب بھی اس کو نماز سے روکنے والا قابل مذمت تھا حالانکہ یہاں نماز پڑھنے والے میں دونوں باتیں موجود ہیں وہ ہدایت پر بھی ہے اور تقویٰ پر عمل کرنے کی تعلیم بھی دیتا ہے پھر اس کو روکنے والا کس قدر مذمت کا مستحق ہوگا۔
Ayah 96:13(13) اے مخاطب بھلا یہ تو بتا اگر یہ نماز سے روکنے والا دین حق کی تکذیب کرتا ہو اور اس دین حق کو قبول کرنے سے روگردانی کرتا ہو - تو پھر جو شخص کس قدر قابل نفرت ومذمت اور مستحق وعید ہے یعنی اپنی تو یہ حالت ہے کہ دین کا مکذب اور دین سے منہ موڑنے والا اور اس پر خبیث نماز پڑھنے سے اس شخص کو روکتا ہے جو ہدایت پر بھی ہے اور تقویٰ کا حکم بھی دیتا ہے بعض حضرات نے دوسری طرح ترجمہ اور تفسیر کی ہے۔ ارئیت ان کان علی الھدیٰ سے وتونی تک پوری آیت سے ابوجہل ہی کو مراد لیا ہے یعنی اگر یہ نماز سے روکنے والا ہدایت پر ہوتا اور پرہیزگاری کی باتوں کا مشورہو دیا کرتا تو کیا اچھا ہوتا اور اس نے تکذیب اور روگردانی کی تو ہم کو کیا نقصان پہنچا۔
چنانچہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نیک راہ پر ہوتا بھلے کام سکھاتا تو کیا اچھا آدمی ہوتا اب جو منہ موڑا تو ہمارا کیا بگاڑا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ فرمایا وہ بھی بعض تفاسیر میں موجود ہے صاحب مدارک نے یہی قول اختیار کیا ہے اور ہم نے جو کچھ اخذ کیا ہے وہ صاحب خازن سے کیا ہے اور ہمارا ماخذتفسیر خازن ہے بہرحال دونوں معنی کی گنجائس ہے ۔ وللناس فیما یعشقون مذاھب۔
Ayah 96:14(14) کیا اس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے - یعنی کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی شرارت کو اور اس کی سرکشی اور نماز سے روکنے کو دیکھ رہا ہے یہاں بھی بعض حضرات نے دوسرے طور پر معنی کئے ہیں یعنی کیا پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے خشوع اور خضوع اور ابو جہل کی مخالفت کے باوجود نماز پڑھنے کو دیکھ رہا ہے۔
ہم عرض کرچکے ہیں کہ ہم نے تفسیر خازن سے ان آیات کی تفسیر کی ہے اگرچہ یہ واقعہ ہے کہ آیت الم یعلم بان اللہ یریٰ ترغیب اور ترہیب دونوں کو شامل ہے اور یہ گنجائش ہے کہ صاحب مدارک کی تفسیر کے موافق ترجمہ کیا جائے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 96:15(15) ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے اچھا اگر یہ شخص باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی یعنی پیشانی کے بال پکڑ کر اس کو گھسیٹیں گے۔
Ayah 96:16(16) وہ پیشانی جو جھوٹی اور خطاکار ہے - حضرت حق تعالیٰ کی طرف سے ابوجہل کو دھمکی اور جھڑکی ہے کہ اس کو ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے اور ہمارے پیغمبر کی عبادت میں خواہ وہ نماز ہو یا تبلیغ ہو اس کو مداخلت نہیں کرنا چاہیے اچھا اگر وہ اپنی ان حرکات ناشائستہ سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ گھسیٹیں گے۔
پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچنا انتہائی ذلت کی نشانی ہے یعنی جہنم میں ڈال دیں گے اس کی پیشانی جھوٹی اور خطاکار ہے ہوسکتا ہے کہ یہ تذلیل دنیا میں بھی ہو اور آخرت میں بھی ہو جیسا کہ بدر میں ہوا کہ اس کو قتل کرنے کے بعد اس کے کان میں رسی باندھ کر عبداللہ بن مسعود ؓ اس کو گھسیٹتے ہوئے حضور ﷺ کی خدمت میں لائے اور آپ کے سامنے ڈال دیا۔ اور آختر میں بھی اس کی تذلیل کی جائیگی یعنی فرشتے اس کے بال پکڑ کر اس کو گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے اور کہا جائیگا۔
ذق انک انت العزیز الکریم کما م فی الدخان اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف آخرت کی تذلیل کی طرف اشارہ ہو۔
یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ ناصیہ کی طرف کاذبہ اور خاطہ کی اسناد مجازی ہے اصل مراد ابوجہل کی ذات ہے وہ جھوٹا اور خطا کار تھا ۔ ناصیہ کا ترجمہ ہندی زبان ماتھا ہے جس کو زبان کی شستگی کے اعتبار سے پیشانی کہتے ہیں لیکن عربی میں ناصیہ سر کے اس چوتھائی حصہ کو کہتے ہیں جو سر کے آگے کا حصہ ہے اور جس پر مغیرہ بن شعبہ ؓ کی روایت میں سر کے مسح کا ذکر آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور اپنے ناصیہ پر مسح کیا اور ظاہر ہے کہ آیت میں لنسفعا بالنا صیۃ سے مراد سرکے اسی حصہ کے بال ہیں جس طرح گھوڑے اور گدھے بلکہ دوسرے چوپایوں کی چوٹی پکڑ کر بس میں کرلیا کرتے ہیں۔ اسی لئے بعض حضرات نے ناصیہ کے ترجمے میں چوٹی اور بعض نے پٹھے کئے ہیں یہ ترجمہ اصل میں مقدم شعرالواس کا ہے یعنی سر کے وہ بال جو آگے کے حصے میں ہوتے ہیں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) کے ترجمے میں بموئے پیشانی ہے۔
بہرحال مراد ابوجہل کی توہین و تذلیل ہے آگے اس خبیث وبدباطن کی ایک اور اور دھمکی اور بدزبانی کا جواب ہے کیونکہ وہ عام طریقے سے کہا کرتا تھا کہ میرا اتنا اثر ہے کہ میں چاہوں تو مکہ کی سرزمین کو فوجوں سے بھردوں۔ لیکن میرے ہم نشین اور میری مجلس کے بیٹھنے والے ہی محمد اور اس کے ساتھیوں کے لئے کافی ہیں جس دن چاہوں اپنے دوستوں سے ان کو ختم کرادوں اسی کا جواب فرمایا۔
Ayah 96:17(17) اس سے کہو یہ اپنی مجلس کے ہم نشینوں کو بلالے - یعنی جن پر گھمنڈ کرتا ہے ان کو پکار کر بلالے۔
Ayah 96:18(18) ہم بھی دوزخ کے فرشتوں کو بلالیں گے - یعنی یہ اپنی مجلس کے دوستوں اور حمائیتوں کو بلالے اور ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
لودعانادیہ لاخذتہ زبانیۃ اللہ عن قتادۃ مرسلاً یا وہ فرشتے مراد ہیں جن کا ذکر سورة تحریمہ میں گزرا ہے۔ غلاظ شداد۔ زبانیہ زبن سے مشتق ہے جس کے معنی دفع کرنے کے ہیں یعنی اہل جہنم کو جہنم میں دھکیلتے ہوئے لے جائیں گے یا جو جہنم سے نکلنے کی کوشش کرے گا اس کو دفع کرکے واپس کردیں گے آگے نبی کریم ﷺ کو خطاب فرماتے ہیں۔
Ayah 96:19(19) نہیں نہیں آپ اس کا کہنا نہ مانیے اور سجدہ کرتے رہیے اور اللہ کا قرب حاصل کرتے رہیے - یعنی نماز پڑھتے رہیے اور نماز کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجئے کیونکہ سجہ بندے کو اللہ تعالیٰ سے بہت قریب کردیتا ہے۔
اہل تصوف کی بعض کتابوں میں نظر سیگزرا ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا تھا کہ بندہ آپ سے کس حالت میں زیادہ قریب ہوتا ہے ارشاد ہوا جب بھوکا ہوتا ہو اور جب وہ سجدہ کرتا ہے یعنی بندے کی یہ دو حالتیں اس کو ہم سے زیادہ قریب کردیتی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بار ابوجہل حضرت ﷺ کو نماز میں دیکھ چلا کہ بےادبی کرے وہاں نہ پہنچا تھا کہ جھپکا لگا پروں کا ڈر کر الٹے پائوں پھرا پھر کبھی یہ خیال نہ کیا۔ معلوم ہوا کہ سجدے میں بندہ اللہ سے نزدیک ہوتا ہے۔
تم تفسیر سورة العلق