خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۟ۚخَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Created man from a clinging substance.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۟ۚخَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Created man from a clinging substance.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Alaq
جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا
اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔
آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا، پڑھو
اس نے انسان کو (رحمِ مادر میں) جونک کی طرح معلّق وجود سے پیدا کیا،
اس نے انسان کو ایک جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔
(اور) انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا
پیدا کیا انسان کو خون کے تھکے سے
اس نے پیدا فرمایا انسان کو خون کی ایک حقیر قسم کی پھٹکی سے
جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ہے۔
انسان کو پیدا کیا ہے اس جونک کی طرح کی چیز سے جو رحم مادر میں چمٹ گئی تھی۔
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔ (جمے ہوئے خون)۔
created man from a clot of congealed blood.
He created man from a clot of blood.
He created man from a clot of blood.
He has created man from a clot.
Createth man from a clot.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Created man from a clinging substance.
He created man from a clot of blood.
He created man from a clot.
Hath created man from a clot!
Created man, out of a (mere) clot of congealed blood:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–5
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتا پھر آپ نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہی عبادت میں گذارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں شروع شروع میں وحی آیہ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا اقرا یعنی پڑھئیے آپ فرماتے ہیں، میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا پڑھو میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں اس نے مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة العلق 4 کائنات کی عام تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد خاص طور پر انسان کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس حقیر حالت سے اس کی تخلیق کی ابتدا کر کے اسے پورا انسان بنایا۔ علق جمع ہے علقہ کی جس کے معنی جمے ہوئے خون کے ہیں۔ یہ وہ ابتدائی حالت ہے جو استقرار حمل کے بعد پہلے چند دنوں میں رونما ہوتی ہے، پھر وہ گوشت کی شکل اختیار کرتی ہے اور اس کے بعد بتدریج اس میں انسانی صورت بننے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الحج آیت 5۔ حواشی 5 تا 7)
Read the full tafseer →خلق الانسان من علق، الذی خلق میں پوری کائنات کی تخلیق کا بیان ہا تھا خلق الانسان میں اشرف المخلوقات انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا کہ غور سے دیکھو تو پوری کائنات و مخلوقات کا خلاصہ سان ہے جہاں وہ جو کچھ ہے اس کی نظائر انسان کے وجود میں مجود ہیں اس لئے انسان کو عالم اصغر ہا اجتا ہے اور انسان کی تخصیص بالذکر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبوت و رسالت اور قرآن کے نازل کرنے کا مقصد احکام الٰہیہ کی تنقید و تعمیل ہے وہ انسان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ علق کے معنے منجمد خون کے ہیں انسان کی تخلیق پر مختلف دور گزرے اور گزرتے ہیں اس کی ابتداء مٹی اور عناصر سے ہے پھر نطفہ سے اس کے بعد علقہ یعنی منجمد خون بنتا ہے پھر…
Read the full tafseer →یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں تمام کائنات کے پیدا کیے جانے کا ذکر ہوا۔ اب یہ خاص اہتمام کے ساتھ انسان کے پیدا کیے جانے کی طرف اشارہ ہے۔ انسان کی خلقت کے ابتدائی مراحل کی یاددہانی سے مقصود: ’عَلَقٌ‘ خون کی پھٹکی یا تھکے کو کہتے ہیں۔ انسان کی خلقت کے ابتدائی مراحل کی یاددہانی قرآن میں جگہ جگہ فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ حج، سورۂ مومنون، سورۂ سجدہ، سورۂ قیامہ اور سورۂ دہر وغیرہ میں۔ ہم ہر جگہ تمام اہم الفاظ کی بھی وضاحت کرتے آ رہے ہیں اور اس خاص پہلو کی طرف بھی ہم نے توجہ دلا دی ہے جو اس یاددہانی سے پیش نظر ہے۔ اس سے مقصود بالعموم تین حقیقتوں کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے: o ایک یہ کہ جس…
Read the full tafseer →2۔ 1 مخلوقات میں سے بطور خاص انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا جس سے اس کا شرف واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: اس سورت کی پہلی پانچ آیتیں سب سے پہلی وحی ہے، جو آنحضرت ﷺ پر غار حرا میں نازل ہوئی، آپ نبوت سے پہلے کئی کئی دن اس غار میں عبادت کیا کرتے تھے، ایک روز اسی دوران حضرت جبرئیل ؑ آپ کے پاس آئے، اور آپ کو دبایا اور کہا کہ ”پڑھو“ آپ نے فرمایا کہ ”میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں“ یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا، پھر حضرت جبرئیل نے یہ پانچ آیتیں پڑھیں۔
Read the full tafseer →اس کے بعد اس کائنات میں انسان کی تخلیق اور انسانی دور کے آغاز کی حقیقت کو لیا گیا۔ خلق الانسان من علق (2:96) ” جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی “۔ خون کے ایک نکتے سے ، جو جامد تھا اور رحم کی دیواروں کے ساتھ چیک کیا تھا۔ یہ تھا انسان کی پیدائش کا نقطہ آغاز جس کی ساخت بہت سادہ ہے ، اس انداز تخلیق سے دو باتیں آتی ہیں ، ایک یہ کہ اللہ بڑا کریم ہے اور دوسری یہ اس کی قدرت خود اس کی تخلیق سے عیاں ہے ، کرم یہ ہے کہ اس نے خون کے جمے ہوئے اس نکتے ، خوردبنی نکتے کو انسان کے مقام تک پہنچایا جو پڑھتا پڑھاتا ہے۔
Read the full tafseer →9 جمے ہوئے خون میں نہ حس ہے نہ شعور، نہ علم، نہ ادراک، محض جماد لا یعقل ہے، پھر جو خدا جمادلا یعقل کو انسان عاقل بناتا ہے، وہ ایک عاقل کو کامل اور ایک امی کو قاری و عالم نہیں بناسکتا۔ یہاں تک قرات کا امکان ثابت کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو کچھ مشکل نہیں کہ تم کو باوجود امی ہونے کے قاری بنا دے، آگے اس کی فعلیت اور وقوع پر متنبہ فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 4{ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ } ”جس نے تعلیم دی ہے قلم کے ساتھ۔“ گویا عام انسانی تعلیم کا ذریعہ قلم ہے ‘ جبکہ حضور ﷺ کی تعلیم کے لیے فرشتہ مقرر ہوا۔
Read the full tafseer →3 یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اس کائنات میں انسان کا کیا مقام ہے ؟ اور جواب یہ ہے کہ جیسے کائنات کی ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے، ویسے ہی انسان بھی اللہ کی مخلوق ہے۔ مخلوق کو یہ کسی طرح جائز نہیں کہ وہ اپنے ہی جیسی مخلوق کے آگے سرجھکائے۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک معجز نما طریق سے پیدا کیا۔ استقرار حمل کے بعد وہ ایک بےجان لوتھڑا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے کئی مراحل گزارے۔ اس لوتھڑے پر اس کے اعضاء کے نقش و نگار بنائے۔ جسم کے اندرونی اعضاء پیدا کیے پھر اس میں کئی طرح کی ظاہری اور باطنی قوتیں پیدا کرکے اسے ماں کے پیٹ سے باہر نکالا۔
Read the full tafseer →2۔ (آیت) ” الذی خلق “۔ یہاں یہ یاد دلادیا کہ ربوبیت مطلق وہی کررہا ہے جو ساری کائنات کا خالق بھی ہے۔ جو سب کو محض اپنی قدرت سے نیستی سے ہستی میں لے آیا ہے۔ (آیت) ” خلق ...... علق “۔ اور پھر انسان کو یاد دلادیا ہے کہ اپنی اصل کو نہ بھولے۔ ساری مخلوق کی خلقت کے بعد انسان کا نام تبصریح لینا نعمت عامہ کے بعد نعمت خاصہ پر توجہ دلانا ہے۔ (آیت) ” الذی خلق “۔ کے بعد کل شیء محذوف ہے۔ تقدیرہ خلق کل شیء فیتناول کل مخلوق (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پڑھو (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے مخلوق کو پیدا کیا جنس انسان کو دم بستہ سے علق، علقۃ کی جمع ہے اور وہ دم بستہ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے پڑھو، یہ پہلے اقراء کی تاکید ہے، آپ ﷺ کا رب بڑا کریم ہے اس کی برابری کوئی نہیں کرسکتا، (وربک) اقراء کی ضمیر سے حال ہے، جس نے قلم کے ذریعہ لکھنا سکھایا اور سب سے پہلے جس نے قلم سے لکھا وہ ادریس (علیہ الصلوۃ والسلام) ہیں جنس انسان کو وہ علم سکھایا جسے وہ سکھانے سے پہلے نہیں جانتا تھا، (مثلاً ) ہدایت اور کتابت اور صنعت وغیرہ، درحققیت انسان سرکشی کرتا ہے اس بنا پر کہ وہ خود کو مال کی…
Read the full tafseer →خلق الانسان . بظاہر یہ جملہ مستانفہ ہے۔ سابق جملہ سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ اللہ نے کیا چیز پیدا کی ‘ اس سوال کا جواب اس جملہ میں دے دیا کہ انسان کو پیدا کیا ‘ انسان کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیوں کیا۔ اس کی وجوہ متعدد ہیں۔ 1) انسان ساری کائنات کا مجموعہ ہے۔ جو کچھ اس بڑے سنسار میں موجود ہے ‘ وہ سب انسان میں موجود ہے۔ اسی لیے انسان کو عالم صغیر کہا جاتا ہے۔ پس انسان کو پیدا کرنے کے یہ معنی ہوئے کہ سارے جہان کی ہر چیز کو پیدا کردیا۔ 2) انسان اشرف المخلوقات ہے ‘ انوار ذات وصفات کے انعکاس کی (خود پر) قابلیت رکھتا ہے۔ معرفت کا مستحق ہے اور معرفت خداوندی ہی تخلیق کائنات کی غرض ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر یہ سورت نازل ہوئی کہ اے پیغمبر آپ قرآن کریم اپنے رب کا نام لے کر پڑھا کیجیے جس نے مخلوقات کو پیدا کیا، اور اولاد آدم کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا آپ نے جبریل امین سے فرمایا : کیا پڑھوں تو جبریل امین نے اس سورت کی پہلی چار آیات کو پڑھیں اور فرمایا کہ آپ قرآن پاک پڑھا کیجئے آپ کا رب بڑا کریم و حلیم ہے جس نے نوشتہ قلم سے تعلیم دی۔
Read the full tafseer →(خلق الانسان من علق :) رحم میں قرار پکڑنے کے بعد نطفہ سب سے پہلے ”علقہ“ کی شکل اختیار کرتا ہے۔”علق یعلق“ (س) چمٹنے کو کہتے ہیں۔ ”علقہ“ جما ہوا خون، جو رحم کی دیوار کے کسی حصے سے چپک جاتا ہے۔ ”علقہ“ کا دوسرا معنی جونک ہے، وہ بھی کسی نہ کسی کو چمٹ جاتی ہے۔ خون کی وہ پھٹکی شکل و صورت میں جونک سے ملتی جلتی ہوتی ہے، اس میں نہ جان ہوتی ہے نہ شعور اور نہ عقل و علم۔ پھر اللہ تعالیٰ اس حقیر سی پھٹکی سے انسان جیسی عظیم مخلوق پیدا فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →خلق الانسان من علق۔ الانسان سے مراد ابن آدم ہے علق سے مراد خون ہے، یہ علقۃ کی جمع ہے علقہ سے مراد جامد خون ہے جب وہ چلے تو اسے مسفوح کہتے ہیں یہاں علق فرمایا، اور جمع کا صیغہ ذکر کیا، کیونکہ الانسان سے مراد بھی جمع ہے سب کے سب نطفہ کے بعد علق سے پیدا کیے گئے، العلقہ ترخون کا ایک حصہ ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ اپنی رطوبت کی وجہ سے ہراس چیز کے ساتھ چمت جاتا ہے جو اس پر گزرتی ہے جب وہ خشک ہوجائے تو وہ علقہ نہیں ہوتا، شاعر نے کہا : ترکناہ یخر علی یدیہ یمج علیھما علق الوتین۔ ہم نے اسے یوں چھوڑا وہ اس کے سامنے منہ کے بل گرتا ہے شہ رگ اس پر خون کی کلی کرتی ہے۔ انسان کا خصوصا ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →[خَلَقَ الْانسَان : اس نے پیدا کیا انسان کو ][ مِنْ عَلَقٍ : ایک چمٹے ہوئے خون سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یہاں سے سورة العلق شروع ہو رہی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا ہے کہ آپ اپنے رب کا نام لے کر پڑھیے جس نے سب کچھ پیدا فرمایا ہے تعمیم کے لیے مفعول محذوف فرما دیا، نیز رعایت فاصلہ بھی مطلوب ہے اس کی وجہ سے بھی مفعول حذف کیا گیا۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ فرشتے کی آمد سے پہلے رسول اللہ ﷺ غار حرا میں تنہا وقت گزارا کرتے تھے یہ تنہائی آپ کو محبوب تھی متعدد راتیں وہاں گزار کر اپنے گھر حضرت خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لاتے تھے وہ مزید چند دن کے لیے کھانے پینے کا سامان تیار کردیتی تھیں یہ سامان لے کر آپ غار حرا میں واپس چلے جاتے تھے ایک دن آپ غار حرا میں تشریف فرما تھے کہ اچانک فرشتہ آگیا۔ فرشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
3:۔ ” خلق الانسان “ انسان کو اللہ نے جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، کیونکہ رحم مادر میں نطفہ سب سے پہلے ” علقہ “ (جمے ہوئے خون) کی شکل اختیار کرتا ہے۔ جبکہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” فخلقنا النطفۃ علقۃ “ (مومنون رکوع 1) ۔ ” اقرا “ اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ ” وربک الاکرم “ تیرا رب بڑا کریم ہے جو مجرموں کو فورًا نہیں پکڑتا۔ ” الذی علم بالقلم “ اس نے ایک چھوٹی سی چیز یعنی قلم کے ذریعے سے تعلیم دی۔ کیونکہ تمام کتابیں قلم ہی سے لکھی جاتی ہیں۔ اس طرح قلم تعلیم و تعلم کا ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وحی کی ابتداء بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور ﷺ کا عطائے نبوت کا وقت قریب آ گیا تو حبب الیہ الخلآء آپ تنہائی پسند فرمانے لگے۔ شہر سے دور نکل جاتے اور تنہائی میں اللہ کا ذکر کرتے۔ آپ کا عام معمول یہ ہوگیا تھا کہ جبل نور پر واقع غار حرا میں تشریف لے جاتے اور چار پانچ دن یا ہفتہ بھر وہیں قیام فرماتے۔ بعض اوقات آپ مہینہ بھر بھی ٹھہر جاتے۔ جب گھر تشریف لاتے تو ام المئومنین حضرت خدیجہ آپ کو توشہ وغیرہ باندھ دیتیں اور پھر تنہائی میں قیام پذیر ہوجاتے۔ نزول وحی سے چھ ماہ قبل آپ کو رئویائے صادقہ یعنی ایسے سچے خوا ب آنے لگے جو کچھ خواب میں دیکھتے اس کا نتیجہ روز روشن کی طرح سامنے آجاتا تو یہ وہ غیر…
Read the full tafseer →خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ 2 ۚ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ اقرء عند المجھور بسکون الھمزۃ ھو امر من القراءۃ وعند البعض بفتح الراء علی انہ قلب الھمزۃ الفًا ثم حذفھا للامر۔ ومفعول اقرء محدوف ای مایوحی الیک باسم ربک متعلق بمحذوف وھو حال ای اقراء متلبسًا باسم ربک۔ وقال ابو عبیدۃ الباء زائدۃ فھو مفعول اقرء والاسم صلۃ ایضاً والمعنی اذکرربک وقیل الباء بمعنی علیٰ والمعنی اقرء ما تیلی علیک علی اسم اللہ۔ وقیل الباء للاستعانۃ ای مستعینًا بہ۔ الذی الخ الجملۃ صفۃ لربک خلق الانسان الجملۃ تفسیر للجملۃ الاولیٰ وھی الذی خلق وقیل تخصیص بعد التعمیم۔ تشریفا للانسان لمافیہ من بدیع الخلق وعجیب الصنع من علق الجار متعلق بخلق والعلق جمع علقۃ م وھی الدم الجامد واذا…
Read the full tafseer →خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ (العلق : 2) (پیدا کیا انسان کو خون کے ایک لوتھڑے سے۔ ) انسان کی تخلیق سے اس کے مقصد زندگی کی یاددہانی پہلی آیت میں کائنات کی عام تخلیق کا ذکر فرمانے کے بعد خاص طور پر انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ انسان ہی اس کائنات کا گل سرسبد ہے۔ خلافتِ ارضی کا تاج اسی کے سر پر رکھا گیا ہے۔ اسی کے ذریعے سے زمین پر اللہ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ اور تنفیذ ہوتی ہے۔ اور اسی کی بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری رسول بھیجا اور یہ کتاب نازل کی جارہی ہے۔ لیکن اس کی بےبصری کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر غیر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ وہ عناصرِکائنات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے اور اسی نے انسان کو قلم کے ذریعے لکھنا پڑھنا سکھلایا ہے۔ سورة التّین کے آخر میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، اس نے اپنا حکم قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا ہے جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ نبوت سے پہلے حضرت محمد ﷺ مکہ کے قریب غار حرا میں تشریف فرما تھے کہ اچانک جبریل امین آئے اور اس نے آپ کے سامنے اس سورت کی ابتدائی پانچ تلاوت کیں۔ نبی ﷺ نے اس واقعہ کی تفصیل سے یوں بیان فرمائی ہے۔ (وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْوَحْیِ ۔۔ فَرَجَعَ بِھَا رَسُوْلُ…
Read the full tafseer →تخلیق انسانی : 2 : خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (اور جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا) اس میں تخلیق کیلئے انسان کی تخصیص اس کے شرف کی وجہ سے ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ قرآن بھی انسان ہی کی طرف اتارا گیا ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ الذی خلق الانسان مراد لیں۔ البتہ یہ کہنا پڑے گا کہ اولاً تو مبہم طور پر ذکر کیا۔ پھر تفسیر کے ساتھ تذکرہ اس کی عظمت تخلیق کو ظاہر کرنے کیلئے اور عجائبات فطرت بتلانے کیلئے کیا مِنْ عَلَقٍ یہاں جمع لائے۔ اس طرح نہیں فرمایا۔ من علقۃٍ کیونکہ انسان معنی کے اعتبار سے جمع ہے۔
Read the full tafseer →2 ۔” خلق الانسان “ یعنی ابن آدم کو۔ ” من علق “ علقۃ کی جمع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ اکثر مفسرین کے قول کے موافق سب سے پہلے اقراء سے مالم یعلم تک یہی پانچ آیتیں نازل ہوئی ہیں پھر سورة نون والقلم۔ مسند امام احمد صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں جو حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ نزول وحی سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچے خواب دکھانے شروع کئے پھر آپ ﷺ کو تنہائی کا شوق ہوا۔ چناچہ غار حرا میں جا کر آپ ایک مہینہ تک تنہا رہے اور اللہ کی عبادت کیا کرتے۔ اسی تنہائی میں جبرئیل (علیہ السلام) یہ پانچ آیتیں لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے کہا پڑھو۔ آپ ﷺ نے جواب دیا میں تو کچھ پڑھنا نہیں جانتا۔ اس پر حضرت جبرئیل نے آپ ﷺ کو تین دفعہ دبوچا اور یہ پانچوں آیتیں آپ ﷺ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
رسول اللہ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے ؟ پس جبرائیل پیغام الٰہی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں جبرائیل بار بار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ) اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا پھر انسان کو خاص کرکے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا۔ فرمایا ( مِنْ عَلَقٍ ) خون کے لوتھڑے سے…
Read the full tafseer →3 ۔ انسانی تخلیق میں خاص اہتمام کا ذکر وبیان : سو انسانی تخلیق میں اہتمام کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے پیدا کیا انسان کو ایک حقیر پھٹکی سے۔ " علق " کے بارے میں عام طور پر حضرات مفسرین کہتے ہیں کہ یہ علقہ کی جمع ہے جس کے معنی خون کے لوتھڑے کے آتے ہیں، لیکن یہ بات اس لفظ کا مادہ اشتقاق اور اس کے اصل اور حقیقی معنی و مفہوم سے جوڑ نہیں کھاتی، کیونکہ ع ل ق کے مادے میں لگنے، چپکنے اور جڑنے وغیرہ کے مفاہیم پائے جاتے ہیں، اور یہ بات اس کے تمام مشتقات میں بطور قدر مشرک پائی جاتی ہے جیسے علاقہ، تعلق اور علائق وغیرہ۔ سو " علق " دراصل خون کی اس پھٹکی اور تھکے کو کہا جاتا ہے جو مادہ تولید کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
رسول اللّٰہ ﷺ اور پہلی وحی تشریح : ان آیات میں پانچ بڑے زبردست حقائق بڑی مختصر آیات میں سمجھائے گئے ہیں۔ 1 ۔ نبوت ملنے کا آغاز اور اللہ کا پیغام 2 ۔ اللہ کی عظمت اور قادر مطلق ہونے کا ثبوت۔ 3 ۔ انسان کی تخلیق کا ابتدائی راز اور اس کی حقیقت کا بیان۔ 4 ۔ رب العزت کی صفات میں سے ایک بڑی صفت اکرام کا ذکر یعنی مہربانی اور حد سے زیادہ رحم کا بیان۔ کہ اس نے انسان کو علم وعرفان سے مالا مال کیا یعنی عقل و فہم اور علم و ارادہ دیا۔ 5 ۔ اور انسان کو اتنی عظمت دی کہ اس کو فرشتوں سے زیادہ علم اور فرشتوں سے بڑا درجہ دیا۔ اور ان آیات کے نازل ہونے کا انداز اور واقعہ بڑی تفصیل سے بتایا جا چکا ہے سورت کے تعارف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 5 قتادہ کہتے ہیں کہ ’ دقلم اللہ تعالیٰ کی بات بڑی نعمت ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو کوئی دین قائم ہوتا اور نہ زندگی کی اصلاح ہوئی (فتح القدیر) شاہ صاحب فرماتے ہیں :’ حضرت ﷺ نے کبھی لکھا پڑھا نہ تھا۔ فرمایا کہ قلم سے بھی وہی علم دیتا ہے۔ یوں عقبی وہی دے گا۔ “ (موضع)
Read the full tafseer →(96:2) خلق الانسان من علق۔ جملہ سابقہ کی تفسیر ہے۔ علق عام خون وہ خون جو زیادہ سرخ ہو، یا جما ہوا خون۔ خون کی پھٹکی جو منی سے پیدا ہوتی ہے۔ جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، خون شریعت میں بھی نجس ہے اور حکمت کی رو سے بھی ذلیل، ایسی ذلیل چیز سے اشرف المخلوقات کو بنادیا ہے اور شرافت کا جوہراس میں بھردیا پھر اللہ سے بڑھ کر قدرت والا کون ہوسکتا ہے ، اور کس کے نام میں اس سے زیادہ برکت ہوسکتی ہے یہاں اس بات کی انسان کو تعلیم ہے کہ اللہ کی قدرتوں پر نظر کیا کرو اور اس کے کمالات کا نقشہ دل میں جمایا کروتا کہ اس کی عبادت کی طرف دل متوجہ ہو اور شرک کفر سے ہمیشہ نفرت رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
[2] یعنی نطفے سے جما ہوا خون اور خون سے گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے، جس پر ایک وقت آتا ہے کہ آدمی کا پورا نقشہ بنادیا جاتا ہے اور ایک وقت ہوتا ہے کہ بنانے سے پہلے ناقص صورت میں گر جاتا ہے یعنی اسقاط حمل کی صورت میں۔
Read the full tafseer →(2) اس نے انسان کو پیدا کیا ایک جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے - جس نے نطفہ کو ترقی دے کر علق بنایا اور پھر ترقی دے کر انسان بنایا اسی طرح وہ آپ کی ہر طرح کی ترقی کا ضامن ہے آپ کو اس کی فکر نہ کرنی چاہیے کہ میں امی ہوں اور پڑھا ہوا نہیں ہوں ہم تمام ترقیوں کے ضامن ہیں اور جملہ کمالات سے آپ کو مکمل کرنے والے ہیں۔ آگے پھر قراءت کی تاکید کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 2۔ اس وصف کی تخصیص میں یہ نکتہ ہے کہ نعمت کے لحاظ سے انسان پر حق تعالیٰ کا تمام دوسری مخلوقات سے زیادہ انعام و اکرام ہے کہ عقلہ سے کہ جماد محض تھا اس کو کس درجہ تک ترقی دی کہ صورت بنائی عقل و علم سے مشرف فرمایا، پس انسان کو زیادہ شکر اور ذکر کرنا چاہئے اور تخصیص علق کی شاید اس لئے ہے کہ یہ ایک برزخی حالت ہے کہ اس کے قبل نطفہ اور غذا و عنصر ہے اور اس کے بعد مضغہ اور ترکیب عظام و نفخ روح ہے۔
Read the full tafseer →جس نے انسان کو خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا 2 ؎ غور کرو کہ کتاب ہدیٰ کا یہ پہلا سبق ہے اور جس کو یہ سبق یاد کرایا جا رہا ہے اگر وہ اتنا اناڑی ہوتا تو اس سے کیا وہ خاک سمجھتا ہے کہ بڑے بڑے فلاسفر اور علم الابدان کے ماہر آج تک اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ ان پہلی آیات کریمات نے رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کی وضاحت کردی ہے اور صرف خاموشی کے ساتھ کردی ہے اور سمجھنے والے سمجھ رہے ہیں کہ انسانیت جتنے علوم کو سیکھ سکتی ہے وہ سارے کے سارے علوم اللہ نے اس شخصیت کے ضمیر میں رکھ دیئے ہیں اور ضمیروحی الٰہی کے صرف پہلے ہی نظارے سے اس طرح ابھر آیا ہے کہ اس نے سارے علوم کی بات سمجھنے اور بات کرنے کی صلاحیت…
Read the full tafseer →Verse [ 2] خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ (Created man from a clot of blood.) The previous verse referred to the creation of macrocosm, the large or entire universe in general. In this verse, the phrase is khalaqa'l-insan which refers to the creation of microcosm 'the best, noblest or most honourable creation', Man. If analysed carefully, we notice that man is the epitome of macrocosm or the large universe. He is a small scale representation, analogue, or miniature of the large and complex universe. Another reason why man has been particularly mentioned is that the purpose of Prophet-hood,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
4 After making mention generally of the creation of the universe, mention has been made of man in particular, saying how Allah made him a perfect tnan starting his creation from an insignificant and humble state. 'Alaq is plural of 'alaqah, which means congealed blood. This is the primary state of the embryo which appears a few days after conception. Then it assumes the form of a lump of flesh, then afterwards it gradually takes human shape. (For details, see AI-Hajj: 5 and the corresponding E.N.'s 5 to 7) .
Read the full tafseer →