اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ۟ۙاِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Recite, and your Lord is the most Generous -
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ۟ۙاِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Recite, and your Lord is the most Generous -
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Alaq
پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم واﻻ ہے
پڑھو، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کرم والا ہے۔
اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم،
پڑھیئے اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے،
پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔
پڑھیے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے
پڑھ اور تیرا رب بڑا ہی کریم ہے ،
پڑھو اور آپ کا رب بڑا ہی کرم والا ہے
آپ (قرآن) پڑھا کیجئے اور آپ کا پروردگار بڑاکریم ہے
پڑھیے اور آپ کا ربّ بہت کریم ہے۔
پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے
Recite: and your Lord is Most Generous,
Read, and your Lord is the most gracious,
Read, and your Lord is the most gracious,
Read! And your Lord is the Most Generous.
Read: And thy Lord is the Most Bounteous,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Recite, and your Lord is the most Generous -
Recite! Your Lord is the most Honorable One,
Read and your Lord is Most Honorable,
Recite thou: And thy Lord is the Most Bounteous,
Proclaim! And thy Lord is Most Bountiful,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–5
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتا پھر آپ نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہی عبادت میں گذارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں شروع شروع میں وحی آیہ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا اقرا یعنی پڑھئیے آپ فرماتے ہیں، میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا پڑھو میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں اس نے مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة العلق 4 کائنات کی عام تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد خاص طور پر انسان کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس حقیر حالت سے اس کی تخلیق کی ابتدا کر کے اسے پورا انسان بنایا۔ علق جمع ہے علقہ کی جس کے معنی جمے ہوئے خون کے ہیں۔ یہ وہ ابتدائی حالت ہے جو استقرار حمل کے بعد پہلے چند دنوں میں رونما ہوتی ہے، پھر وہ گوشت کی شکل اختیار کرتی ہے اور اس کے بعد بتدریج اس میں انسانی صورت بننے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الحج آیت 5۔ حواشی 5 تا 7)
Read the full tafseer →اقرا و ربک الاکرم یہاں لفظ اقرا کو مکرر لایا گیا ہے جس کی ایک وجہ خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے اور یہ بھی کا جاسکتا ہے کہ پہلا اقرا تو خود آپ کے پڑھنے کے لئے فرمایا تھا، یہ دوسرا تبلیغ و دعوت اور لوگوں کو کہ تخلیق عالم اور تخلیق انسان میں اللہ تعالیٰ کی اپنی کوئی غرض اور نفع نہیں بلکہ یہ سب بتقاضائے جو دو کرم ہے کہ بےمانگ کائنات کو جود کی نعمت عظمیٰ عطا فرمائی۔
Read the full tafseer →اہل عرب پر عظیم احسان: یہ ’اِقْرَاْ‘ سابق ’اِقْرَاْ‘ سے بدل کے طور پر آیا ہے اور یہ اسی حکم کی تاکید ہے جو اوپر دیا گیا ہے البتہ اس میں اظہار احسان کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ قریش اللہ تعالیٰ کے اس فضل عظیم کی قدر کریں کہ اس نے ان کی ہدایت کے لیے تعلیم بالقلم کا اہتمام فرمایا۔ یہ امر واضح رہے کہ اس سے پہلے بنی اسماعیل کے پاس حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل کی تعلیمات سے متعلق اگر کچھ روایات تھیں تو وہ زبانی روایات کی شکل میں تھیں اور امتداد زمانہ سے ان کی شکل بھی متغیر ہو چکی تھی۔ دوسرے انبیاء کی تعلیمات بھی زبانی ہی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو احکام عشرہ تو ضرور لکھ کر دیے گئے لیکن موجودہ…
Read the full tafseer →3۔ 1 آپ ﷺ نے فرمایا میں تو قاری ہی نہیں اللہ نے فرمایا، اللہ بہت کرم والا ہے پڑھ، یعنی انسانوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرنا اس کا وصف خاص ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: اس سورت کی پہلی پانچ آیتیں سب سے پہلی وحی ہے، جو آنحضرت ﷺ پر غار حرا میں نازل ہوئی، آپ نبوت سے پہلے کئی کئی دن اس غار میں عبادت کیا کرتے تھے، ایک روز اسی دوران حضرت جبرئیل ؑ آپ کے پاس آئے، اور آپ کو دبایا اور کہا کہ ”پڑھو“ آپ نے فرمایا کہ ”میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں“ یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا، پھر حضرت جبرئیل نے یہ پانچ آیتیں پڑھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اقرا وربک ............................ مالم یعلم (3:96 تا 5) ” پڑھو ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “۔ انسان کی تخلیق کے بعد ، یہ اس میں بہت بڑی تبدیلی تھی لیکن یہ کر کستا ہے ، وہ بڑا کریم ہے ، اس لئے اللہ نے ایک خوردبینی نکتے میں یہ تغیر رونما کردیا کہ وہ کامل انسان کے بعد عالم انسان بن گیا ، یہ اس قدر عظیم تبدیلی ہے کہ اس سے سرچکرا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان آیات میں اسلام کا نظریہ تعلیم بھی واضح کیا گیا ہے ، رب نے انسان کو تعلیم ” قلم “ کے ساتھ دی۔ کیونکہ اس وقت بھی اور آج بھی انسان کی زندگی میں قلم اہم اور موثرذریعہ تعلیم…
Read the full tafseer →10 یعنی آپ ﷺ کی تربیت جس شان سے کی گئی، اس سے آپ ﷺ کی کامل استعداد اور لیاقت نمایاں ہے جب ادھر سے استعداد میں قصور نہیں اور ادھر سے مبداء فیاض میں بخل نہیں بلکہ وہ تمام کریموں سے بڑھ کر کریم ہے۔ پھر وصول فیض میں کیا چیز مانع ہوسکتی ہے ضرور ہے کہ یونہی ہو کر رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 4{ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ } ”جس نے تعلیم دی ہے قلم کے ساتھ۔“ گویا عام انسانی تعلیم کا ذریعہ قلم ہے ‘ جبکہ حضور ﷺ کی تعلیم کے لیے فرشتہ مقرر ہوا۔
Read the full tafseer →4 اللہ اکرم کس لحاظ سے ہے ؟ جس نے انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی زندگی کی بقا کے وہ تمام اسباب مہیا کردیئے جو اس غرض کی تکمیل کے لیے ضروری تھے۔ پھر انسان کو ان اسباب سے کام لینے اور انہیں استعمال کرنے کا طریقہ بھی اس کی فطرت میں رکھ دیا۔ اسی پروردگار کا نام لے کر آپ پڑھیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ یعنی جس نے پڑھے لکھے ہوؤں کے لیے تعلیم کا واسطہ قلم کر بنایا۔ (آیت) ” ربک الاکرم “۔ وہ جس نعمت سے جسے چاہے سرفراز کرے، چناچہ آپ ﷺ کو اس نے خاص ترین نعمت سے نوازا۔ (آیت) ” اقرا “۔ ابھی اوپر آچکا تھا، اب دوبارہ تاکید مضمون کے لیے لایا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پڑھو (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے مخلوق کو پیدا کیا جنس انسان کو دم بستہ سے علق، علقۃ کی جمع ہے اور وہ دم بستہ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے پڑھو، یہ پہلے اقراء کی تاکید ہے، آپ ﷺ کا رب بڑا کریم ہے اس کی برابری کوئی نہیں کرسکتا، (وربک) اقراء کی ضمیر سے حال ہے، جس نے قلم کے ذریعہ لکھنا سکھایا اور سب سے پہلے جس نے قلم سے لکھا وہ ادریس (علیہ الصلوۃ والسلام) ہیں جنس انسان کو وہ علم سکھایا جسے وہ سکھانے سے پہلے نہیں جانتا تھا، (مثلاً ) ہدایت اور کتابت اور صنعت وغیرہ، درحققیت انسان سرکشی کرتا ہے اس بنا پر کہ وہ خود کو مال کی…
Read the full tafseer →اقراء . تاکید اور مبالغہ کیلئے دوبارہ اقرأ فرمایا۔ اوّل اقرأ مطلق ہے اور دوسرا تبلیغ کیلئے یا نماز میں (قرآن) پڑھنے کا حکم دینے کیلئے ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ باسم ربک اس اقرأ سے متعلق ہو اور پہلا اقرأ فعل لازم کی طرح استعمال کیا گیا ہو ‘ اس وقت اقرأ کا معنی ہوگا قاری بن جاؤ ‘ گویا دوسرا اقرأ جملہ مستانفہ ہوگا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا : میں نہیں پڑھونگا اور کس طرح پڑھ سکتا ہوں (جبکہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں) اسکے جواب میں اللہ نے فرمایا : پڑھو اور بسم اللہ کر کے قرآن پڑھو۔ اس مطلب کی تقدیر پر رسول اللہ ﷺ کا قول : ما انا بقاری جو جبرئیل کے اقرأ کہنے کے جواب میں تھا ‘ استفہامیہ ہوگا اور مَا نفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر یہ سورت نازل ہوئی کہ اے پیغمبر آپ قرآن کریم اپنے رب کا نام لے کر پڑھا کیجیے جس نے مخلوقات کو پیدا کیا، اور اولاد آدم کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا آپ نے جبریل امین سے فرمایا : کیا پڑھوں تو جبریل امین نے اس سورت کی پہلی چار آیات کو پڑھیں اور فرمایا کہ آپ قرآن پاک پڑھا کیجئے آپ کا رب بڑا کریم و حلیم ہے جس نے نوشتہ قلم سے تعلیم دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(1) اقرا و ربک الاکرم…: رسول اللہ ﷺ کے دہشت زدہ ہوجانے کی وجہ یس دوبارہ فرمایا، پڑھ ! تجھے وہ پڑھا رہا ہے جس سے زیادہ کرم والا کوئی نہیں۔ (2) یہ اس کے کرم کی انتہا ہے کہ اتنی حقیر چیز سے پیدا ہونے والے انسان کو علم جیسی بلند ترین صفت سے نواز دیا، بلکہ قلم کے ساتھ علم سکھایا، جس سے علم محفوظ ہوتا اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے۔ یہ نہ ہوتا تو علم محدود اور پھر معدوم ہوجاتا۔
Read the full tafseer →اقراء وربک الاکرم۔ اقراء یہ تاکید کے لیے ہے کلام مکمل ہوئی پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا اور فرمایا، وربک الاکرم، یہاں الاکرم کریم کے معنی میں ہے کلبی نے کہا، معنی ہے بندوں کے جاہلانہ طرز عمل پر حلم کرتا ہے انہیں جلدی سزا نہیں دیتا پہلامعنی معنوی طور پر زیادہ مناسب ہے کیونکہ جب جو نعمتیں پہلے ہوئیں ان کا ذکر کیا تو ان کے وسیلہ سے اپنے کرم پر دلالت کی ایک قول یہ کیا گیا ہے، اقراء وربک کا معنی ہے اے محمد پڑھیے جب کہ آپ کا رب تیری مدد کرے گا اور تجھے سمجھادے گا اگرچہ آپ پڑھے ہوئے نہیں اور الاکرم کا معنی ہے وہ بندوں کی جہالتوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →[اِقْرَاْ : آپ ﷺ پڑھیئے ][ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ : اور آپ ﷺ کا رب ہی سب سے زیادہ کریم ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
﴿اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ003﴾ (آپ پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے) ﴿الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِۙ004﴾ (جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا) ۔ ﴿عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْؕ005﴾ (اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا) ۔ ارشاد فرمایا کہ آپ پڑھیے، اس کا خیال نہ کیجئے کہ آپ نے مخلوق سے نہیں پڑھا۔ آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے اسے علم دینے کے لیے اسباب کی حاجت نہیں ہے اس نے قلم کے ذریعہ سکھایا اور جسے چاہا بغیر قلم کے بھی سکھا دیا انسانوں کے پاس جو علم ہے سارا استاد اور کتاب اور قلم ہی سے تو نہیں ہے جس ذات پاک نے اسباب کے ذریعہ علم دیا اسے بلا اسباب بھی علم دینے پر قدرت ہے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
3:۔ ” خلق الانسان “ انسان کو اللہ نے جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، کیونکہ رحم مادر میں نطفہ سب سے پہلے ” علقہ “ (جمے ہوئے خون) کی شکل اختیار کرتا ہے۔ جبکہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” فخلقنا النطفۃ علقۃ “ (مومنون رکوع 1) ۔ ” اقرا “ اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ ” وربک الاکرم “ تیرا رب بڑا کریم ہے جو مجرموں کو فورًا نہیں پکڑتا۔ ” الذی علم بالقلم “ اس نے ایک چھوٹی سی چیز یعنی قلم کے ذریعے سے تعلیم دی۔ کیونکہ تمام کتابیں قلم ہی سے لکھی جاتی ہیں۔ اس طرح قلم تعلیم و تعلم کا ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وحی کی ابتداء بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور ﷺ کا عطائے نبوت کا وقت قریب آ گیا تو حبب الیہ الخلآء آپ تنہائی پسند فرمانے لگے۔ شہر سے دور نکل جاتے اور تنہائی میں اللہ کا ذکر کرتے۔ آپ کا عام معمول یہ ہوگیا تھا کہ جبل نور پر واقع غار حرا میں تشریف لے جاتے اور چار پانچ دن یا ہفتہ بھر وہیں قیام فرماتے۔ بعض اوقات آپ مہینہ بھر بھی ٹھہر جاتے۔ جب گھر تشریف لاتے تو ام المئومنین حضرت خدیجہ آپ کو توشہ وغیرہ باندھ دیتیں اور پھر تنہائی میں قیام پذیر ہوجاتے۔ نزول وحی سے چھ ماہ قبل آپ کو رئویائے صادقہ یعنی ایسے سچے خوا ب آنے لگے جو کچھ خواب میں دیکھتے اس کا نتیجہ روز روشن کی طرح سامنے آجاتا تو یہ وہ غیر…
Read the full tafseer →اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ 3 ۙ قرأ والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ اقرء عند المجھور بسکون الھمزۃ ھو امر من القراءۃ وعند البعض بفتح الراء علی انہ قلب الھمزۃ الفًا ثم حذفھا للامر۔ ومفعول اقرء محدوف ای مایوحی الیک باسم ربک متعلق بمحذوف وھو حال ای اقراء متلبسًا باسم ربک۔ وقال ابو عبیدۃ الباء زائدۃ فھو مفعول اقرء والاسم صلۃ ایضاً والمعنی اذکرربک وقیل الباء بمعنی علیٰ والمعنی اقرء ما تیلی علیک علی اسم اللہ۔ وقیل الباء للاستعانۃ ای مستعینًا بہ۔ الذی الخ الجملۃ صفۃ لربک خلق الانسان الجملۃ تفسیر للجملۃ الاولیٰ وھی الذی خلق وقیل تخصیص بعد التعمیم۔ تشریفا للانسان لمافیہ من بدیع الخلق وعجیب الصنع من علق الجار متعلق بخلق والعلق جمع علقۃ م وھی الدم الجامد واذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ (العلق : 3، 4) (پڑھیے، اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔ ) سابقہ مضمون کی تاکید اور اللہ تعالیٰ کے ایک احسان کا تذکرہ یہ اقرأ سابق اقرأ سے بدل کے طور پر آیا ہے اور یہ اسی حکم کی تاکید ہے جو اوپر دیا گیا ہے۔ البتہ اس میں اظہارِاحسان کا پہلو غالب ہے۔ خطاب چونکہ آنحضرت ﷺ کو ہے اس لیے براہ راست آپ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کا یہ کلام لوگوں کو پڑھ کر سنایئے اور ساتھ ہی اس بات کا احساس توانا رکھئے کہ جس طرح پروردگار نے آپ کی غیرمعمولی تربیت کے ذریعے آپ کے اندر بےپناہ صلاحیتوں کا خزانہ رکھ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے اور اسی نے انسان کو قلم کے ذریعے لکھنا پڑھنا سکھلایا ہے۔ سورة التّین کے آخر میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، اس نے اپنا حکم قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا ہے جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ نبوت سے پہلے حضرت محمد ﷺ مکہ کے قریب غار حرا میں تشریف فرما تھے کہ اچانک جبریل امین آئے اور اس نے آپ کے سامنے اس سورت کی ابتدائی پانچ تلاوت کیں۔ نبی ﷺ نے اس واقعہ کی تفصیل سے یوں بیان فرمائی ہے۔ (وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْوَحْیِ ۔۔ فَرَجَعَ بِھَا رَسُوْلُ…
Read the full tafseer →3 : اِقْرَاْ وَرَبُّّکَ الْاَکْرَمُ (آپ قرآن پڑھا کیجئے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے) ایسا کریم کہ ہر کریم سے بڑھ کر کرم میں اس کو کمال حاصل ہے۔ وہ اپنے بندوں پر انعامات برساتا ہے۔ ناشکری و انکار نعمت کے باوجود ان پر سزا اتارنے میں جلد بازی نہیں کرتا۔ گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب سے بڑی کرم نوازی یہی ہے کہ وہ علمی فائدہ پہنچائے۔ اسی لئے فرمایا
Read the full tafseer →3 ۔” اقرائ “ اس کا تکرار کیا تاکید کے لئے۔ پھر استیناف کرتے ہوئے فرمایا ” وربک الاکرم “ کلبی (رح) فرماتے ہیں بندوں کی جہالت پر بردبار ہے ان کو جلدی سزا نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ اکثر مفسرین کے قول کے موافق سب سے پہلے اقراء سے مالم یعلم تک یہی پانچ آیتیں نازل ہوئی ہیں پھر سورة نون والقلم۔ مسند امام احمد صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں جو حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ نزول وحی سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچے خواب دکھانے شروع کئے پھر آپ ﷺ کو تنہائی کا شوق ہوا۔ چناچہ غار حرا میں جا کر آپ ایک مہینہ تک تنہا رہے اور اللہ کی عبادت کیا کرتے۔ اسی تنہائی میں جبرئیل (علیہ السلام) یہ پانچ آیتیں لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے کہا پڑھو۔ آپ ﷺ نے جواب دیا میں تو کچھ پڑھنا نہیں جانتا۔ اس پر حضرت جبرئیل نے آپ ﷺ کو تین دفعہ دبوچا اور یہ پانچوں آیتیں آپ ﷺ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
(اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک ہے بہت زیادہ کرم و احسان اور بےپایاں جودو والا ہے جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور (الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۭ ) قلم کے ذریعے سے سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا اس کو سماعت بصارت اور عقل سے بہرور کیا اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے اسے قرآن کی تعلیم دی حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4 ۔ رب کے کرم و احسان کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا پڑھو اور تمہارا رب بڑا ہی کرم وال ا ہے، اتنا بڑا کہ اس کے کرم و عطا کی کوئی حد نہیں، پھر اس کا نام پاک لے کر پڑھنے سے آپ کو علم کی بےمثال و لازوال دولت سے سرفرازی کیوں نصیب نہ ہوگی، جل مجدہ و تبارک اسمہ، اور اس کے کرم بےپایاں کا ایک مظہر خود یہ انسان ہے، جس کو اس نے ایک حقیر ترین مادے سے وجود بخشا، ایک حقیر ترین حالت سے ابتداء کر کے اس کو اعلی ترین مقام تک پہنچایا، مضغہ محض سے ترقی دے کر اس کو صاحب فہم و ادراک بنایا، پھر اس کو علم کے نور سے منور کیا جو کہ ایک عظیم الشان نور اور بےمثال دولت اور مخلوق کی بلند ترین صفت ہے، اور اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
رسول اللّٰہ ﷺ اور پہلی وحی تشریح : ان آیات میں پانچ بڑے زبردست حقائق بڑی مختصر آیات میں سمجھائے گئے ہیں۔ 1 ۔ نبوت ملنے کا آغاز اور اللہ کا پیغام 2 ۔ اللہ کی عظمت اور قادر مطلق ہونے کا ثبوت۔ 3 ۔ انسان کی تخلیق کا ابتدائی راز اور اس کی حقیقت کا بیان۔ 4 ۔ رب العزت کی صفات میں سے ایک بڑی صفت اکرام کا ذکر یعنی مہربانی اور حد سے زیادہ رحم کا بیان۔ کہ اس نے انسان کو علم وعرفان سے مالا مال کیا یعنی عقل و فہم اور علم و ارادہ دیا۔ 5 ۔ اور انسان کو اتنی عظمت دی کہ اس کو فرشتوں سے زیادہ علم اور فرشتوں سے بڑا درجہ دیا۔ اور ان آیات کے نازل ہونے کا انداز اور واقعہ بڑی تفصیل سے بتایا جا چکا ہے سورت کے تعارف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 5 قتادہ کہتے ہیں کہ ’ دقلم اللہ تعالیٰ کی بات بڑی نعمت ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو کوئی دین قائم ہوتا اور نہ زندگی کی اصلاح ہوئی (فتح القدیر) شاہ صاحب فرماتے ہیں :’ حضرت ﷺ نے کبھی لکھا پڑھا نہ تھا۔ فرمایا کہ قلم سے بھی وہی علم دیتا ہے۔ یوں عقبی وہی دے گا۔ “ (موضع)
Read the full tafseer →(96:3) اقرا وربک الاکرم : اقرا دوبارہ تاکید کے لئے لایا ہے واؤ حالیہ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف۔ الاکرم سفت، بڑا کریم۔ کرم سے جس کے معنی باعزت ہونے اور سخاوت کرنے کے ہیں۔ اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ وربک الاکرم ضمیر اقراء سے حال ہے۔ پڑھ۔ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →(ف 2) دوبارہ پڑھنے کا حکم تاکید کے لیے ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوبارہ قرات کے حکم سے مراد یہ ہے کہ تبلیغ اور امت کی تعلیم کے لیے پڑھئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
[2] یعنی نطفے سے جما ہوا خون اور خون سے گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے، جس پر ایک وقت آتا ہے کہ آدمی کا پورا نقشہ بنادیا جاتا ہے اور ایک وقت ہوتا ہے کہ بنانے سے پہلے ناقص صورت میں گر جاتا ہے یعنی اسقاط حمل کی صورت میں۔
Read the full tafseer →(3) آپ قرآن پڑھا کیجئے اور آپ کا پروردگار بڑا کرم کرنے والا ہے - ہوسکتا ہے کہ پہلی قرات اپنے نفس کے لئے ہو اور دوسری قراءت تبلیغ اور امت کی تعلیم کے لئے ہو، آگے جملہ مستانفہ ہے کہ آپ کا پروردگار بہت کرم کرنے والا ہے جو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے آپ کی تربیت جس طرح کی گئی ہے اس سے آپ کی استعداد کا کمال ظاہر ہے پھر مبدا فیاض میں کوئی بخل نہیں اس لئے آپ کو جو کچھ عطا کیا جائے اس پر کوئی تعجب نہیں وہ ایسا کرم کرنے والا ہے کہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 2۔ اس وصف کی تخصیص میں یہ نکتہ ہے کہ نعمت کے لحاظ سے انسان پر حق تعالیٰ کا تمام دوسری مخلوقات سے زیادہ انعام و اکرام ہے کہ عقلہ سے کہ جماد محض تھا اس کو کس درجہ تک ترقی دی کہ صورت بنائی عقل و علم سے مشرف فرمایا، پس انسان کو زیادہ شکر اور ذکر کرنا چاہئے اور تخصیص علق کی شاید اس لئے ہے کہ یہ ایک برزخی حالت ہے کہ اس کے قبل نطفہ اور غذا و عنصر ہے اور اس کے بعد مضغہ اور ترکیب عظام و نفخ روح ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! پڑھیے آپ ﷺ کا رب بڑی ہی بزرگی والا ہے 3 ؎ ( اقرا) تو پڑھ قراءۃ سے جس کے معنی پڑھنے کے ہیں ۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ اس لفظ نے یہ بات خود بخود واضح کردی کہ کوئی چیز آپ کے سامنے کسی چیز پر لکھی ہوئی پیش کی گئی تھی خواہ وہ کچھ تھی آپ کے سامنے پیش کی گئی تب ہی تو یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ (اقرا) پڑھ اور تب ہی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اور اس کے بعد جب ( اقرا باسم ربک الذی خلق) پڑھا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو پڑھنا شروع کردیا لیکن یہ پہلا تجربہ ہے جس سے ابھی مکمل طور پر طبیعت نہیں کھلی اور توجہ اس طرح مبذول ہی نہیں ہوئی اور انجام کار جب جبریل (علیہ…
Read the full tafseer →Verse [ 3] اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (Read, and your Lord is the most gracious.) The command iqra' [ Read ] has been repeated in this verse for two reasons: The first command in verse [ 1] was for the Holy Prophet himself to read or recite. The second command in this verse is to proclaim, convey, communicate and teach or preach. It is not inconceivable that the command iqra' is repeated by deliberate design for emphasis. The Divine attribute al-Akram 'the Most Gracious' signifies that Allah did not create the world or man for any ulterior motive, for selfish motivation or for His own…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
4 After making mention generally of the creation of the universe, mention has been made of man in particular, saying how Allah made him a perfect tnan starting his creation from an insignificant and humble state. 'Alaq is plural of 'alaqah, which means congealed blood. This is the primary state of the embryo which appears a few days after conception. Then it assumes the form of a lump of flesh, then afterwards it gradually takes human shape. (For details, see AI-Hajj: 5 and the corresponding E.N.'s 5 to 7) .
Read the full tafseer →