Ayah 96:11 ۔ پڑھنا پڑھانا وہی معتبر اور مفید ہے جو رب کے نام کے ساتھ ہو : سو ارشاد فرمایا گیا پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ، یہ پہلا حکم اور پہلی وحی ہے جس سے آنحضرت ﷺ کو حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے نوازا گیا، اور اس میں پڑھنے اور علم حاصل کرنے سے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں تحصیل اور اکتساب علم کا معاملہ کس قدر عظمت و اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہاں پر یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہاں پر صرف پڑھنے کا حکم و ارشاد نہیں فرمایا گیا بلکہ اپنے رب کے نام کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور رب کے نام کے ساتھ پڑھنے ہی میں دنیا و آخرت کی سب خیرات و برکات مضمر ہیں۔ پس جو پڑھنا اس کے نام سے کٹ کر اور اس سے ہٹ کر ہوگا اس کی دین حق کی نگاہ میں کوئی قدروقیمت نہیں، والعیاذ باللہ۔ حضرات علماء و مفسرین کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ سورة علق کی یہ پہلی پانچ آیتیں یعنی مالم یعلم تک سب سے پہلی وحی ہے، جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی، جبکہ آپ اپنی عادت شریفہ کے مطابق غار حرا میں تشریف فرما تھے، جہاں آپ اپنے رب کی عبادت و بندگی کے لیے مسلسل کئی کئی دن تک قیام فرمایا کرتے تھے، تو آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی، اور آپ سے فرمایا گیا " اقراء " پڑھو، تو آپ نے فرمایا " ما انا بقاری " میں پڑھا ہوا نہیں، میں پڑھنا نہیں جانتا، تین مرتبہ آپ نے ایسے ہی فرمایا تو پھر حضرت جبریل امین نے آپ کو اپنے سینے سے لگا کر زور سے بھینچا اور ان آیات کریمہ کی تلقین فرمائی تو آپ نے پڑھنا شروع کردیا، سو اس پہلی وحی کے اثر و نتیجہ میں آپ پر سخت قسم کا خوف طاری ہوگیا، تب حضرت خدیجہ الکبری نے آپ کو تسلی دی، اور آپ کو آپ کی عمدہ صفات اور آپ کے کریمانہ اخلاق یاد دلاکر فرمایا کہ ہستی کے ایسے اور ایسے اخلاق اور یہ اور یہ صفات ہوں اللہ تعالیٰ اس کو کبھی ضائع نہیں فرماتا، پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو اس وقت اہل کتاب کے ایک بڑے عالم تھے، انہوں نے بھی سارا ماجرا سننے کے بعد آپ کو تسلی دی اور منصب رسالت پر فائز ہونے کی بشارت سے نوازا، جیسا کہ احادیث و سیرت کی کتابوں میں یہ سب کچھ بتفصیل مذکور و مسطور ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ، پس اہل بدعت اپنے خود ساختہ عقائد کی بناء پر ان الفاظ و روایات کی جو دور راکار تاویلات کرتے ہیں وہ سب " ھباء منثورا " ہیں، ان کی نہ کوئی اصل اور حقیقت ہے اور نہ کوئی قدروقیمت، سوائے ان لوگوں کی تحریفانہ ذہنیت کی عکاسی کے، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف " باسم ربک " کی تصریح سے جیسا کہ ہم نے ابھی اوپر بھی عرض کیا یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ دین حنیف کی نگاہ میں پڑھنا پڑھانا وہی معتبر ہے جو رب تعالیٰ کے نام پاک اور اس کی یاد دلشاد کے ساتھ ہو۔ پس جو پڑھنا پڑھانا رب خالق کے نام پاک سے ہٹ کر اور اس کی یاد دلشاد سے کٹ کر ہو والعیاذ باللہ وہ خیر وبرکت سے محروم ہے اور اس کی دین حنیف کی نگاہ میں کوئی قدرو قیمت نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور نفس شیطان کے ہر مکرو فریب سے محفوظ رکھے، آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا علیہ۔
2 ۔ قرآن حکیم کی عظمت شان کے ایک خاص کا ذکر وبیان : سو اس سے قرآن حکیم کی عظمت شان کے اس خاص پہلو کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ حضرت خالق جل مجدہ کا کلام ہے، پس نہ یہ کسی بشر کا کلام ہے اور نہ کسی سائل کی درخواست، بلکہ یہ اس ذات اقدس و اعلی کا کلام ہے جس نے پیدا فرمایا اپنی ساری مخلوق کو، یعنی خلق فعل ماضی کا جو مفعول بہ ذکر نہیں فرمایا گیا تو یہ مفید عموم و شمول ہے اور امر واقع بھی یہی ہے کہ مخلوق ساری کی ساری اسی وحدہ لا شریک کی پیدا فرمائی گئی ہے، اس پوری کائنات اور اس کی ہر چیز کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لا شریک ہے، اور وہ مالک بھی وہی سبحانہ وتعالی۔ پس جو اس پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے خالق ومالک ہے اس کے لیے یہ امر کیا اور کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ کہ وہ بغیر کسی ظاہری سبب اور دنیاوی استاد کے واسطہ و ضرورت کے آپ کو اے پیغمبر یونہی از خود سب کچھ سکھلا اور پڑھا دے، سبحانہ وتعالی۔ بہرکیف حکم فرمایا گیا کہ اس رب کے نام کے ساتھ یعنی اس کا نام لے کر پڑھو، جس نے اس ساری مخلوق کو پیدا فرمایا، اور اس کو نیست سے ہست کیا، اس کے نام کے ساتھ یعنی بسم اللہ کہہ کر پڑھو کہ اس کا نام بڑا ہی برکتوں والا ہے، اسی سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ حضور ﷺ اسی وحی کے آنے سے پہلے بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا رب جانتے اور مانتے تھے، اس لیے یہ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آئی کہ آپ کا رب کون ہے ؟ بکہ یہ کہا گیا کہ اپنے رب کا نام لے کر پڑھو۔ بہرکیف اس ارشاد سے یہ نہایت اہم تنبیہ فرما دی گئی ہے کہ اس کلام حکیم کو اپنے خداوند خالق ومالک کے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے پیش کرو، تاکہ لوگوں کو اس حقیقت سے آگہی ہوجائے کہ ان کو جو کلام سنایا جارہا ہے وہ براہ راست رب دو جہاں کا کلام ہے یہ داعی کا اپنا کلام ہے اور نہ ہی یہ کسی بشر اور انسان کا کلام ہوسکتا ہے، اور نہ اس کی حیثیت کسی سائل کی درخواست کی ہوسکتی ہے کہ اس کے رد کرنے سے والعیاذ باللہ العظیم کوئی فرق نہ پڑتا ہو، بلکہ یہ اس کائنات کے خالق ومالک ہے جس کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور بندوں کے ذمے یہ فرض ہے کہ وہ اس کے حکم و ارشاد کے آگے سر تسلیم خم ہوجائیں اور بلا چون و شرا اس کی تعمیل کریں، جو لوگ ایسا کریں گے وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوں گے، اور جو اس سے انحراف کریں گے وہ انتہائی ہولناک خسارے میں مبتلا ہوں گے، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، جل وعلا۔
Ayah 96:23 ۔ انسانی تخلیق میں خاص اہتمام کا ذکر وبیان : سو انسانی تخلیق میں اہتمام کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے پیدا کیا انسان کو ایک حقیر پھٹکی سے۔ " علق " کے بارے میں عام طور پر حضرات مفسرین کہتے ہیں کہ یہ علقہ کی جمع ہے جس کے معنی خون کے لوتھڑے کے آتے ہیں، لیکن یہ بات اس لفظ کا مادہ اشتقاق اور اس کے اصل اور حقیقی معنی و مفہوم سے جوڑ نہیں کھاتی، کیونکہ ع ل ق کے مادے میں لگنے، چپکنے اور جڑنے وغیرہ کے مفاہیم پائے جاتے ہیں، اور یہ بات اس کے تمام مشتقات میں بطور قدر مشرک پائی جاتی ہے جیسے علاقہ، تعلق اور علائق وغیرہ۔ سو " علق " دراصل خون کی اس پھٹکی اور تھکے کو کہا جاتا ہے جو مادہ تولید کے رحم مادر کی دیوار کے ساتھ لگنے کے کچھ ہی بعد بنتی ہے، اور یہ بالکل ابتدائی مرحلہ میں ہوتا ہے، پھر اس کے بعد یہ بڑھتے بڑھتے خون کا لوتھڑا بنتی ہے، اور پھر اس کے بعد یہ اگلے مرحلے طے کرتی ہے، جو کہ حضرت حق جل مجدہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے، سو انسانی تخلیق کے ان ابتدائی مراحل کی اس تذکیرو یاد دہانی میں انسان کے لیے بہت بڑے اور اہم درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں، مگر مختصر طور پر اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے خون کی اس معمولی سی پھٹکی سے ایسا انسان بنا کھڑا کیا جو کہ باقی تمام مخلوق کا مخدوم ومطاع اور اپنے خالق کی قدرت بےنہایت اور عنایت بےغایت کے شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے ایک حقیر نطفے سے وجود پذیر ہونے والے اور تکمیل پانے والے اس انسان کو اس نے عقل و خرد کی نعمت سے نوازا اور اس کو " سمیع وبصیر " بنایا، وہ آخر اس کو دوبارہ کیوں پیدا نہیں کرسکتا، نیز یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ قدرت کی صناعی کا مظہر و شاہکار یہ انسان اور اس کی حکمتوں بھری تخلیق و ایجاد کا مظہر اور اس مخدوم کائنات کا وجود اور اس کی تخلیق عبث و بیکار ہو ؟ نیز یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس اہتمام سے پیدا ہونے والے انسان کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا نہ کوئی حساب کتاب ہو ؟ اور نہ اس کے وجود اور تخلیق پر کوئی صلہ و نتیجہ مرتب ہو ؟ یہ چیز اس قادر مطلق اور حکیم مطلق جل جلالہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ اور اس کی رحمت شاملہ کے تقاضوں کے خلاف ہے، سبحانہ و تعالی۔ پس عقل و نقل اور فطرت و ہدایت سب کا تقاضا ہے کہ یوم حساب قائم ہو، اور یہ انسان دوبارہ اٹھ کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دے، اور اس کا بھرپور صلہ و بدلہ اور پھل پائے، اچھی کمائی کا چھا، اور بری کا برا۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں، اور بھر پور طریقے سے پورے ہوں، سو انسان کی تخلیق اور اس کا وجود قدرت کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے، جس میں بڑے بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ بہرکیف اس سے اس اہتمام کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو انسان کی تخلیق میں پایا جاتا ہے اور جو قطرے سے گہر ہونے تک ان تمام مراحل میں پایا جاتا ہے۔ اللھم فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام و یا ارحم الرحمین، جل وعلا۔
Ayahs 96:3–44 ۔ رب کے کرم و احسان کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا پڑھو اور تمہارا رب بڑا ہی کرم وال ا ہے، اتنا بڑا کہ اس کے کرم و عطا کی کوئی حد نہیں، پھر اس کا نام پاک لے کر پڑھنے سے آپ کو علم کی بےمثال و لازوال دولت سے سرفرازی کیوں نصیب نہ ہوگی، جل مجدہ و تبارک اسمہ، اور اس کے کرم بےپایاں کا ایک مظہر خود یہ انسان ہے، جس کو اس نے ایک حقیر ترین مادے سے وجود بخشا، ایک حقیر ترین حالت سے ابتداء کر کے اس کو اعلی ترین مقام تک پہنچایا، مضغہ محض سے ترقی دے کر اس کو صاحب فہم و ادراک بنایا، پھر اس کو علم کے نور سے منور کیا جو کہ ایک عظیم الشان نور اور بےمثال دولت اور مخلوق کی بلند ترین صفت ہے، اور اس نے انسان کو ان عظیم الشان انعامات سے نوازا اور از خود محض اپنی شان کرم و عطا سے نوازا اور ان کی طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغٰر نوازا، تو وہ آپ کو اے پیغمبر علم کی اس عظیم الشان اور بےمثال دولت سے کیوں نہیں نوازے گا، جبکہ آپ اسی کے نام کے ساتھ پڑھیں گے۔ نیز اس میں یہ درس بھی پایا جاتا ہے کہ اس اکرم الاکرمین کی بارگاہ اقدس و اعلی سے منہ موڑنے والے سے بڑھ کر بدبخت اور کون ہوسکتا ہے۔ اللھم فکرمک نرجو بکل حال من الاحوال وفی کل لحظۃ من الحظات فی الحیاۃ۔
Ayah 96:56 ۔ دولت علم سے سرفرازی کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا، قلم کے واسطے سے بھی اور اس کے بغیر الہام وغیرہ کے دوسرے طریقوں سے بھی، پھر وہ آپ کو اے پیغمبر علم اور قرات کی دولت سے کیوں نہ نوازے گا ؟ سو اس نے اپنے کرم سے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا، انسان کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن قرآن حکیم کے اولین مخاطب چونکہ امی عرب ہی تھے، اس لیے اس کا پہلا اور اہم مصداق یہی لوگ تھے سو ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے جہالت اور جاہلیت کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیے ان پر خاص فضل فرمایا کہ اس مالک الملک نے قرآن حکیم کے ذریعے ان پر اپنی کامل ہدایت اور آخری وحی نازل فرمائی، اس لیے ان پر اس کا حق ہے کہ وہ دل و جان سے اس کی قدر کریں اور آگے بڑھ کر اس کی دعوت پر لبیک کہیں، لیکن یہ ہیں کہ الٹا اس سے منہ موڑتے اور اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سو یہ کتنی بڑی بےانصافی اور کس قدر ناشکری ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر قائم رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین۔
Ayah 96:67 ۔ منکرین و مکذبین کے مزاعم باطلہ کی تردید : سو منکرین و مکذبین کے مزاعم باطمہ کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا اور " کلا " کے حرف ردع کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا کہ نور حق و ہدایت سے محروم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، نیز یہ کہ حق کو جھٹلانے اور اس سے منہ موڑنے کی نہ کوئی معقول وجہ ہے نہ ہوسکتی ہے، کہ حق بہرحال حق اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور دنیا و آخرت کی سعادتوں اور کامرانیوں کا ضامن و کفیل ہے، ور جھٹلانے والے جو اس کو جھٹلاتے ہیں تو وہ محض اپنی سرکشی اور عناد کی بنا پر جھٹلاتے ہیں، جو کہ ان کی اپنی شقاوت و بدبختی کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، سو کلا کے اس کلمہ زجر و تنبیہ سے منکروں کی حجت بازیوں اور ان کی سخن سازیوں کی قلعی کھول دی گئی کہ یہ لوگ اپنی اس طرح کی باتوں سے اصل حقیقت پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں ورنہ اس انکار و تکذیب کی کوئی وجہ نہیں، اور اس طرح ایسے لوگ خود اپنی محرومی کا سامان کرتے ہیں، اور وہ بھی اس طور پر کہ ان کو اس کا کوئی احساس و شعور ہی نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف۔
Ayah 96:78 ۔ طغیانی و سرکشی خرابی و فساد کی جڑ بنیاد والعیاذ باللہ : ارشاد فرمایا گیا اور خرابی و فساد کی جڑ بنیاد کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ بیشک انسان بڑا سرکش ہوجاتا ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو بےنیاز سمجھنے لگتا ہے اور وہ حدود وطاعت و بندگی سے باہر نکل جاتا ہے، جبکہ وہ اپنے آپ کو نور حق سے مستغنی اور بےنیاز سمجھنے لگتا ہے اور اس طرح وہ تباہی اور بربادی کی راہ پر چل نکلتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان بدبخت منکروں کے رویے کو آشکار فرما دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت و عنایت کی قدر کرنے اور دل و جان سے اس کی طرف لپکنے اور آگے بڑھنے کی بجائے انہوں نے الٹا تمردو سرکشی سے کام لیا، اور کفر و انکار اور تکذیب حق کا راستہ اپنایا، والعیاذ باللہ۔ اور اس طرح یہ لوگ اس نور حق و ہدایت سے سرفرازی کی بجائے دائمی ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں جاگرے، والعیاذ باللہ۔ سو بندے کا کمال اور اس کی شان کبر و غرور اور سرکشی وعناد میں نہیں بلکہ اس کی خیریت قبول حق اور رجوع الی اللہ میں ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ بہرکیف اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کشی و طغیانی اور اعراض و روگردانی و فساد کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس سے واضھ فرما دیا گیا کہ استغناء یعنی بےنیازی کا گھمنڈ باعث محرومی اور موجب ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ انسان سرکش ہوجاتا ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو غنی اور بےنیاز سمجھنے لگتا ہے، یعنی اپنے دنیاوی مال و دولت اور جاہ و منصب وغیرہ کی بنا پر اور اس طرح مادی دنیا کے یہ عارضی فوائد و منافع اس کے لیے ابدی خسران و ہلاکت کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں، اور یہ دنیاوی مال و دولت اور جاہ و مرتبت کا سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ پہلو ہے کہ اہل باطل اس سے اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتے ہیں اور اس طرح وہ حق و ہدایت کے نور سے ہمیشہ کے لیے محروم اور مطرود ہوجاتے ہیں، والعیاذ باللہ العزیز الرحمن۔ روایات کے مطابق یہاں سے یعنی آیت نمبر 6 سے لے کر اس سورة کریمہ کے آخر تک کا سارا حصہ ابو جہل لعین کے بارے میں نازل ہوا اور اس پر تقریبا سب ہی مفسرین کرام کا اجماع ہے، سو ان آیات کریمات کا اصل اور اولین مصداق اگرچہ وہی بدبخت ہے، مگر حکم بہرحال عام ہے اور ایسے لوگوں اور ہر شخص کو شامل ہے جو ان کرتوتوں کے حامل ہوں گے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں، کہ یہاں پر کسی خاص شخص کا نام نہیں لیا گیا بلکہ عام الفاظ سے ذکر فرمایا گیا ہے اور عام قاعدہ و ضابطہ یہی ہے کہ " العبرۃ لعموم اللفظ لا لخصوص المورد " یعنی اعتبار الفاظ کے عموم و شمول کا ہوتا ہے، مورد یعنی شان نزول کا نہیں۔ سو ان کلمات کا عموم و شمول جہاں تک پہنچے گا وہ سب اس کے مصداق میں داخل ہوں گے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں، نیز اس سے یہ درس بھی دیا گیا ہے کہ اعتبار ذوات و اشخاص کا نہیں اوصاف و اخلاق کا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین وفی کل ان و حین وھو العزیز الرحیم، ذوا القوۃ المتین۔
Ayahs 96:8–99 ۔ سب کا رجوع اللہ تعالیٰ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ آخر کار لوٹنا سب کو تمہارے رب ہی کی طرف ہے کہ آنا بھی ہر کسی کا ادھر ہی سے ہوا تھا اور جانا بھی ادھر ہی ہوگا، نہ آنا اپنی مرضی اور اختیار سے تھا، اور نہ جانا اپنی مرضی و اختیار سے ہوگا کہ ہم سب ملکیت اور مال بہرحال اسی خالق کل اور مالک مطلق کا ہیں، جیسا کہ " انا للہ وانا الیہ راجعون " کے دعائیہ کلمات میں بھی یہی درس دیا گیا ہے، اور وہاں جانے کے بعد ہر کسی نے اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور پورا پورا بدلہ پانا ہوگا، پس جنہوں نے دنیاوی زندگی کی اس مختصر و محدود فرصت کو اپنے رب کی رضا کے مطابق گزارا ہوگا اور اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے سعی و کوشش کی ہوگی اور اپنی زندگی اس کی اطاعت و فرمانبرداری اور عبادت و بندگی میں گزاری ہوگی، وہ وہاں پر کامیاب اور فائز المرام ہوں گے اور وہاں کی حقیقی کامیابیوں اور ابدی سعادت سے سرشار ہوں گے، جس کے نتیجے میں ان کو جنت کی ان ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا، اور نہ ہی کسی دل پر ان کا گزر ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محض اپنے فضل و کرم سے ایسا ہی بننا نصیب فرمائے، اور جنت کی ان سدا بہار نعمتوں سے سرفراز فرمائے۔ آمین ثم آمین، اور اس کے برعکس جن لوگوں نے ایمان و اطاعت اور عبادت و بندگی کی بجائے طغیان و سرکشی کی زندگی گزاری ہوگی اور انہوں نے اپنے خالق ومالک سے منہ موڑ کر نفسانی خواہشات کی پیروی ہی کو اپنا مقصود بنایا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم۔ ان کو بھی وہیں جانا ہوگا اور مجبورا جانا ہوگا، وہاں جاکر ان کو اپنی زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا، وہاں کے طرح طرح کے ہولناک عذابوں اور دوزخ کی دہکتی آگ بھڑکتی آگ کی شکل میں ہمیشہ کے لیے بھگتنا ہوگا، کیونکہ کفر ونکار کا نتیجہ و انجام یہی ہوتا ہے، والعیاذ باللہ العزیز الرحمن۔ اور اس روز اس انجام سے بچنے کے لیے نہ انسان کے پاس اپنی کوئی قوت و طاقت ہوگی اور نہ دوسرا کوئی کچھ مدد کرسکے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ (الطارق 9، 10 پ 30) یعنی جس دن بھید آزمائے جائیں گے تو اس روز نہ انسان کے پاس نہ اپنی کوئی مدد ہوگی اور نہ ہی اس کا کوئی مددگار ہوگا، بلکہ اس روز معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۃ قدرت و اختیار میں ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ " یعنی اس روز معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۃ قدرت و اختیار میں ہوگا۔ پس ہمیشہ اپنے اس خالق ومالک کے ساتھ اپنا تعلق صحیح رکھنے کی فکر و کوشش میں رہنا چاہیے اپنے ظاہر کے اعتبار سے بھی اور اپنے باطن کے حساب سے بھی۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayahs 96:10–1110 ۔ صفت عبدیت ایک نہایت ہی محمود و مطلوب صفت : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا تم نے دیکھا نہیں اس شخص کو جو روکتا ہے اللہ کے بندے کو جبکہ وہ نماز پڑھتا ہے ؟ " یعنی کیا تم نے اس کے حال پر غور نہیں کیا کہ وہ کتنا بڑا شقی اور کس قدر بدبخت ہے کہ خود اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنا تو درکنار، وہ دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہے۔ صحیحین وغیرہ کی روایات میں ہے کہ ایسا ابو جہل لعین نے کیا تھا، جیسا کہ اگلے حواشی میں آرہا ہے، اس لیے حضرات مفسرین کرام کا اجماع و اتفاق ہے کہ ان آیات کریمہ کا اولین مصداق ابو جہل ہی ہے، انسان پر سب سے بڑا، سب سے پہلا، سب سے مقدم اور سب سے اہم جو حق واجب ہوتا ہے وہ اس کے اس خالق ومالک کا حق ہے، جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کو نیست سے ہست کیا، اور اس کو خلعت وجود سے نوازا اور اس کو ظاہری اور باطنی اتنی اور قدر عظیم الشان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں، اور جن میں انسان سر تا پا ڈوبا ہوا ہے، اور اس خالق ومالک کا حق اس کی عبادت و بندگی ہے، جس کا سب سے اہم مظہر نماز ہے، سو جو کوئی بندے کو نماز سے روکے اس سے بڑھ کر شقی و بدبخت اور کون ہوسکتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین۔ بہرکیف استکبار کے اس جرم کی سنگینی مزید کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ روکتا ہے ایک عظیم الشان بندہ خدا کو، یعنی " عبدا " کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لے ہے۔ ( محاسن التاویل وغیرہ) اور مراد ہیں اس سے امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ ، جن جیسی دوسری کوئی ہستی خداوند تعالیٰ کی اس پوری خدائی میں نہ کبھی ہوئی نہ ہوگی اور آپ عبدیت کاملہ کا بےمثل نمونہ اور عظیم الشان مظہر تھے، سو عبدیت و بندگی اور اس میں کمال ہی وہ وصف ہے جو کہ ایک بندہ کے لیے سب سے بڑا اعزاز اور شرف ہے، اسی لیے قرآن حکیم میں آپ ﷺ کو بابجا اسی وصف سے ذکر فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورة بقرہ آیت نمبر 23 میں ارشاد ہوتا ہے وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۠ وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ یعنی اگر تم لوگوں کو کوئی شک ہو اس کتاب کے بارے میں جو ہم نے نازل کی ہے اپنے خاص بندے پر۔ سورة انفال آیت نمبر 41 میں ارشاد فرمایا گیا اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ یعنی اگر تم لوگ ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جس کو ہم نے اتار ہے اپنے خاص بندے پر فیصلے کے دن۔ سورة الاسراء آیت نمبر 1 میں فرمایا گیا سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ ۔ یعنی پاک ہے وہ ذات جو لے گئی رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک۔ اور سورة الکہف آیت نمبر 1 میں ارشاد فرمایا گیا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا۔ یعنی سب تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے اپنے اس بندہ خاص پر اس کتاب کو نازل فرمایا۔ اور سورج جن آیت نمبر 19 میں ارشاد فرمایا گیا وّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا۔ یعنی جب کھڑا ہوتا ہے اللہ کا خاص بندہ، سو اس طرح کی نصوص کریمہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ عبدیت کی صفت ایک خاص صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں محمود و مطلوب ہے اور عبدیت و بندگی میں کمال پیدا کرنا ہی روزے کی اصل معراج اور اس کی عظمت ہے، مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت ہیں کہ گویا پیغمبر کی اسی عبدیت اور بشریت کے انکار پر گویا ادھار کھائے بیٹھے ہیں، اور یہاں تک یہ لوگ اس کے لیے نصوص کتاب و سنت میں طرح طرح کی تحریفات کا ارتکاب کرتے ہیں، اور دعوی ہے عشق و محبت کا، جبکہ حق اور حقیقت نفس الامری عقل و نقل کی روشنی میں اور نصوص کتاب و سنت کے مطابق یہی ہے کہ آنجناب نہ صرف یہ کہ عبد و بشر تھے بلکہ عبدیت کاملہ اور بشریت صادقہ کے ایسا کامل و مکمل اور منفرد نمونہ تھے جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ اس سے قبل کبھی دیکھی گئی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی ممکن ہوسکتی ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ ومن والاہ الی یوم العرض علی اللہ واللقاء۔ بہرکیف یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ روکنے والا منکر شخص کتنا بڑا شقی اور کس قدر بدبخت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان اور پاکیزہ بندہ کو نماز جیسے عظیم الشان فریضہ کی ادائیگی سے روکتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال وسواء و انحراف من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار۔
Ayah 96:1211 ۔ منکر و سرکش انسان کی قلب و ضمیر پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکر و سرکش انسان کے قلب وضمیر پر ایک دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا اگر وہ بندہ خدا راہ راست پر ہوا اور وہ پرہیزگاری کی تقلین کرتا ہو، جیسا کہ فی الواقع ایسے ہی ہے، تو پھر اس بندہ خدا کو اس راہ حق و صواب سے روکنا کس قدر ظلم اور کتنا جڑم ہے، یہاں پر کلمہ اور کے ذریعے ان دونوں باتوں کے درمیان جس تردید کو بیان فرمایا گیا ہے اس میں بلاغت یہ ہے کہ اگر ان دونوں میں سے ایک بات بھی ہو تو اس کو روکنا کتنا بڑا جرم اور کس قدر سنگ دلی ہے، تو پھر کیا حال ہوگا اس صورت میں جبکہ اس بندہ خاص میں یہ دونوں ہی باتیں پائی جاتی ہوں کہ وہ راہ حق و صواب پر بھی ہو اور دوسروں کو تقوی و پرہیزگاری کی تلقین و تبلیغ بھی کرتا ہو، تو اس صورت میں اس کو اپنے خالق ومالک کے حضور سجدہ ریزی کے اس عمل سے روکنا کس قدر سنگین جرم ہوگا، والعیاذ باللہ۔ سو یہ ان دونوں آیتوں کا ایک مطلب و مفہوم ہے، اور یہ اس اساس پر ہے کہ " کان " کی ضمیر کا مرجع " عبدا " کو قرار دیا جائے، جس سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں اور یہی قول جمہور کا ہے، جب کہ وہ دوسرا قول و احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ کان کی اس ضمیر کا مرجع وہی روکنے والا (ناہی) ہو، جو " الذی ینھی " کا مصداق ہے، تو اس صورت میں معنی و مطلب یہ ہوگا کہ اگر یہ شخص دوسروں کو راہ حق سے روکنے کی بجائے خود راہ حق و صواب پر ہوتا اور تقوی کی تلقین کرتا تو یہ خود اس کے لیے کتنا اچھا ہوتا، حضرات اہل علم میں سے کچھ نے اسی احتمال کو اپنایا ہے، (روح، ابن کثیر، المراغی، المحاسن، الجامع، الصفوۃ وغیرہ) احتمال بہرحال ان دونوں ہی کا موجود ہے۔ والعلم عنداللہ، سبحانہ و تعالیٰ فلہ الحمد ولہ الشکر۔
Ayah 96:1312 ۔ منکر انسان کے قلب و ضمیر پر ایک دستک کا ذکر وبیان : سو منکر انسان کے قلب و ضمیر پر ایک اور دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا دیکھو تو سہی کہ اگر یہ شخص جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہی گیا ( تو اس کا کیا بنے گا ؟ ) سو ان دونوں شرطوں کا جواب محذوف ہے اور اس کے حذف میں بلاغت کا یہ پہلو اور اسلوب کار فرما ہے کہ اس شرط کا جواب اس قدر عظیم الشان اور تنا ہولناک ہے کہ احاطہ بیان سے باہر ہے، تو کیا ایسا شخص پھر بھی اپنے اس عمل و کردار سے باز نہیں آتا ؟ اسی بناء پر اس شخص کے حال اور اس کے انجام و مآل کے بارے میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا تم دیکھو تو سہی اور حقیقت امر کے بارے میں سوچو اور غور و فکر کرو کہ ایسا شخص حق کا انکار اور اس کی تکذیب کر کے اور راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر کس قدر ہولناک انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اس طرح ایسا شخص اپنے لیے جہنم کا دروازہ خود اپنے ہی ہاتھوں کھول رہا ہے اور اپنے لیے ایسے انجام کا سامان کررہا ہے جس کی خطورت و ہولناکی کا بیان حیطہ الفاظ وبیان سے باہر ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح ایسے منکر اور متکبر انسان کے قلب و ضمیر پر ایک اور دستک دی گئی ہے اور ان کو جھنجھوڑا گیا ہے تاکہ ایسا شخص ہوش کے ناخن لے اور اپنے اس ہولناک انجام سے بچ جائے جس کی طرف یہ اپنے عمل و کردار کے ذریعے بڑھ رہا ہے، سو یہ اسی سے بچ جائے، قبل اس سے کہ اس کا موقع اور فرصت اس کے ہاتھ سے نکل جائے، سو اس تنبیہ و تذکیر میں بھی خدائے رحمان و رحیم کی صفت رحمت و عنایت کی شان جھلکتی ہے۔ سبحانہ و تعالی، پس عقل و نقل دونوں تقاضا ہے کہ اسی خداوند قدوس کی رضا و خوشنودی کا حصول اور اس سے سرفرازی کے تقاضوں کو ہمیشہ اور ہر حال میں پیش نظر رکھا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید،
Ayahs 96:14–1513 ۔ اصلاح احوال کے لیے ایک انقلاب آفریں درس : سو منکر انسان کو تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ شخص جانتا نہیں اس حقیقت کو اللہ دیکھتا ہے سب کچھ ؟ وہ اپنے محبوب کی مظلومیت کو بھی دیکھ رہا ہے، اور ان ظالم و سرکش لوگوں کے ظلم و سرکشی کو بھی اور سی کے مطابق اس کے یہاں سے ہر ایک کو اس کے کیے کرائے کا بدلہ ملے گا، پس اس ظالم و سرکش کو چاہیے کہ وہ خود دیکھ لے کہ میں کدھر جارہا ہوں، اور کس برے انجام کی طرف بڑھ رہا ہوں، والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ سرکشوں اور منکروں کی وہ ساری تعدیاں اور زیادتیاں دیکھ رہا ہے، جو وہ حق اور داعی حق کے بارے میں کر رہے ہیں، سو وہ وقت آنے پر ان کا بدلہ ضرور لے گا، کیونکہ وہ رحمن و رحیم اور ستار و کریم ہونے کے ساتھ ساتھ عادل اور عزیز و ذو انتقام بھی ہے، اور اس کی رحمت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ظلم و زیادتی کرنے والوں کو ان کے کیے کرائے کی پوری پوری سزا دے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، سو اس ارشاد میں یہ درس بھی ہے کہ انسان ہمیشہ اس بات کو اپنے پیش نظر رکھے کہ میرا معاملہ میرے رب کے ساتھ کیسا ہے کہ اصل جوابدہی میں نے اس کے یہاں ہی کرنی ہے۔ اور وہ ہر حال میں میرے ساتھ ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ (الحدید 4 پ 27) یعنی " وہ اپنے علم لا محدود اور اپنی قدرت بےپایاں کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہے "۔ اس لیے نہ تمہاری کوئی حالت اور کیفیت اس کے احاطہ علم سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ ہی تم کسی طرح اس کے دائرہ قدرت سے خارج ہوسکتے ہو، پس عقل و نقل سب کا تقاضا ہے کہ انسان ہر مقام پر اور ہر معاملے میں یہ سوچے کہ میرا معاملہ میرے رب کے ساتھ کیسا ہے، کیا وہ میرے اس کام سے راضی ہوگا ؟ یا ناراض ؟ اگر وہ راضی ہوگا تو میں یہ کام کروں گا نہیں تو نہیں کروں گا۔ سو اصلاح احوال کے لیے یہ ایک ایسا انقلاب آفریں درس اور عظیم الشان ضابطہ ہے کہ اس سے انسان خودبخود بدل جاتا ہے اور اس میں انقلاب آجاتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 96:16–1714 ۔ منکروں اور متکبروں کو ان کے ہولناک انجام سے آگہی : سو منکروں اور متکبروں کو ان کے ہولناک انجام سے آگہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ایسا شخص باز نہ آیا تو ہم ضرور اس کو گھسیٹیں گے اس کی پیشانی کے بالوں کو پکڑ کر، جس طرح کہ کسی جانور کو گھسیٹا جاتا ہے، یا کسی قیدی کے ساتھ اس کی تذلیل کے لیے کیا جاتا ہے۔ چناچہ اس کے کچھ ہی بعد یہ لعین ابو جہل بدر میں ذلت کے ساتھ قتل ہو کر اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہا، اور اس کو اسی طرح گھسیٹ کر دوسرے مردود و مقتول کفار کے ساتھ ایک گڑھے (قلیب بدر) میں ڈال دیا گیا، اور اس سے بھی بڑھ کر اس کی اصل اور کامل تذلیل آخرت میں ہوگی، جہاں پر اس کو انتہائی تذلیل و تحقیر کے ساتھ دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ میں پھینکا جائے گا۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ ناصیہ کا لفظ اگرچہ اپنی اصل کے اعتبار سے پیشانی کے لیے موضوع ہے، لیکن کبھی اس کا اطلاق بطور مجاز پیشانی کے بالوں پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے اور اس میں بلاغت یہ ہے کہ جس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ لیا جائے وہ پکڑ لیا جائے وہ پکڑنے والے کے ہاتھ میں بالکل لاچار اور بےبس ہوجاتا ہے، سو ایسے ہی اس طرح کے ملعون لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ کے سامنے عاجز و بےبس ہیں اور جب وہ قادر مطلق ایسے ملعونوں کو ان کے کیے کرائے کے بدلے میں پکڑے گا تو یہ اس کے سامنے بالکل بےبس اور لاچار ہوں گے، اور ان کے لیے چھوٹنے اور نکل بھاگنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اس سے ایسے سرکشوں کو نہایت تند و تیز اور سخت الفاظ سے وعید سنائی گئٰ ہے کہ اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو ان کو اس ہولناک انجام سے دور چار ہونا پڑے گا۔ اور چہرہ چونکہ انسانی جسم کے اشرف الاعضاء میں سے ہے اس لیے کسی کو اس سے پکڑ کر گھسیٹنا اس کی سخت ترین تذلیل و تحقیر کا باعث ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
15 ۔ جھوٹ اور خطا کاری کی پیشانی کی نشاندہی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکر متکبر انسان کی پیشانی جھوٹ اور خطا کاری کی پیشانی ہے، والعیاذ باللہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی جھوٹی اور خطا کار پیشانی کو پکڑ کر۔ مراد ایسی پیشانی والا خطا کار شخص والعیاذ باللہ اور یہاں " خاطئہ " فرمایا گیا ہے " مخطئۃ " نہیں کیونکہ " خاطئہ " اصل میں اس کو کہا جاتا ہے جو اپنے قصد و ارادہ سے خطا کا ارتکاب کرے اور مخطئہ اس کو کہا جاتا ہے جس سے خطا بھول چوک کے طور پر سرزد ہوجائے۔ ( صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) اور گرفت اسی جرم پر ہوتی ہے جس میں کرنے والے کا قصد و ارادہ پایا جاتا ہو، اور جو خطا بلا قصد و ارادہ ہوجائے اس پر کوئی گرفت و پکڑ نہیں ہوتی، جیسا کہ حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے، یہاں پر یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ آدمی کی پیشانی کے لیے سب سے بڑا شرف و اعزاز یہ ہے کہ اس میں اس کے خالق ومالک کے حضور سجدہ ریزیوں کا نشان ہو، سو اگر کوئی شخص اس شرف سے محروم ہو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایسا شقی اور بدبخت ہو کہ خدو سجدہ ریز ہونے کی بجائے دوسروں کو بھی اپنے خالق ومالک کے حضور سجدہ کرنے سے روکتا ہو تو ایسا شخص لائق ہے کہ اس کو اس کی پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جائے، اور گھسیٹ کر پوری تذلیل کے ساتھ دوزخ کے اس انتہائی ہولناک گڑھے میں جھونک دیا جائے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرو متکبر انسان کی پیشانی جھوٹ اور خطا کاری کی پیشانی ہوتی ہے، وہ تو اپنے کبر و غرور کی بنا پر اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہے، مگر ہوتا اس کے برعکس یہ ہے کہ اس کا کذب و خطا کاری اس کی پیشانی پر اس طرح عیاں ہوتے ہیں کہ گویا اس کی پیشانی کذب و خطا کاری کا سائن بورڈ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا اکرم الاکرمین۔
Ayah 96:1816 ۔ منکر و متکبر انسان کو ایک چیلنج : سو منکر و متکبر انسان کے بت پندار پر چوٹ لگاتے ہوئے اس کو چیلنج کے طور پر ارشاد فرماما گیا کہ اس موقع پر وہ بلالے اپنے حامیوں کی ٹولی کو جس پر اس کو بڑا گھمنڈ اور ناز تھا، صحیح احادیث اور تفسیری روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ جب ابو جہل لعین نے آنحضرت ﷺ کو نماز سے روکا تو آپ نے اس کو فورا جھڑک دیا تو اس پر اس لعین نے بپھر کر آپ سے کہا محمد ﷺ تم کس برتے پر مجھ سے اس طرح بات کرتے ہو ؟ میں تو اس وادی کا سب سے بڑا جتھے دار ہوں، اور اپنے اسی کبر و غرور کی بنا پر اس نے ایک مرتبہ قسم کھا کر کہا اگر میں نے محمد کو زمین پر سجدہ کرتے دیکھا تو میں اس کی گردن پر اپنا پاؤں رکھ دوں گا، اور اس کو ایسا دباؤں گا کہ یہ زمین کے اندر گھس جائے ( والعیاذ باللہ) چناچہ ایک مرتبہ اپنے اسی برے ارادے کی تکمیل کے لیے یہ لعین آنحضرت ﷺ کی طرف بڑھا لیکن لوگوں نے دیکھا کہ وہ فورا پیچھے بھاگ رہا ہے اور اپنے دونون ہاتھوں سے اپنے چہرے کو کسی چیز سے بچا رہا ہے، لوگوں نے جب اس سے اس کا سبب پوچھا تو اس نے خوف کے عالم کہا کہ مجھے اپنے اور محمد کے درمیان آگ سے بھری ہوئی ایک خندق اور کچھ عجیب سے مخلوق اور بہت سے پر نظر آئے، اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ لعین آگے بڑھتا تو فرشتے دیکھتے ہی دیکھتے اس کو پکڑ کر اس کا انگ انگ الگ کردیتے اور اس کو تکا بوٹی کردیتے، (ابن جریر، ابن کثیر، فتح القدیر، محاسن التاویل، صفوۃ البیان، جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، قرطبی، مراغی، مدارک وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کبر و غرور اور سرکشی و طغیانی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا باعث ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔ بہرکیف اس سے منکر و متکبر انسان کو اس کے انجام کے بارے میں تنبیہ و تذکیر فرمائی گئی ہے کہ یہ بلا لے اپنے حامیوں کی ٹولی کو اور ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو، پھر دیکھ لیا جائے گا کہ غلبہ کس کا ہوتا ہے، " زبانیہ " جمع ہے " زبنیہ " کی جس کے معنی ہیں دوزخ کے داروغے اور وہاں کے پہرے دار اور یہ لفظ مشتق و ماخوذ ہے " زبن " سے، جس سے معنی دھکے دے کر دفع اور دور کرنے کے آتے ہیں، اسی سے بیع مزابنہ ماخوذ ہے، یعنی یہ وہ سخت اور تند خو فرشتے ہوں گے جو دوزخ پر مقرر ہوں گے اور جو دنیاوی بادشاہوں کے حڑ اس اور چوابداروں کی طرح دوزخیوں کو دھکے دے کر اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچا رہے ہوں گے، والعیاذ باللہ العزیز الرحمن۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہم ایسے سرکشوں کے مقابلے میں اور ان کی سرکوبی کے لیے ہم اپنے ایسے کارندوں کو بلالیں گے جو ان کی صحیح طور پر اور بھر پور طریقے سے خبر لیں گے جس کے بعد ان کو اپنا مآل و انجام خود معلوم ہوجائے گا، اور اس وقت ان کی کون کسر سب نکل جائے گی، والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، جل جلالہ وعم نوالہ۔
Ayah 96:1917 ۔ منکرین کے لیے زجر و توبیخ کا ذکر وبیان : سو منکرین و مکذبین سے ان کے لیے زجر و توبیخ کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، جیسا کہ اس شقی اور بدبخت کا زعم اور گھمنڈ ہے، اس کے مقابلے میں کوئی نہیں آسکتا، اس طرح سمجھنا محض اس کا بےبنیاد زعم اور گھمنڈ ہے، وقت پڑنے پر نہ یہ اپنے جتھے کو بلا اور پکار سکے گا، اور نہ ہی وہ اس کے کچھ کام آسکیں گے، اور نہ ہی ایسے لوگ اس بل بوتے کے ہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت حق کا مقابلہ کرسکیں یا راستہ روک سکیں، البتہ اس طرح ایسے لوگ اپنی شقاوت و بدبختی کے ٹھپے کو ہی پکار کر رہے ہیں، والعیاذ باللہ۔ پس آپ اے پیغمبر نہ کسی ایسے شخص کی کوئی پرواہ کریں اور نہ اس کی آواز پر کان دھریں، بلکہ آپ اپنے رب کے بھروسے پر اپنا مشن جاری رکھیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " فلا تطع المکذبین " یعنی آپ کبھی بات نہیں ماننا ایسے جھٹلانے والوں کی، نیز دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا " فلا تطع منھم اثما او کفورا " یعنی آپ کبھی بات نہیں ماننا ان میں سے کسی بدکار یا ناشکرے کی۔ پس اگر کوئی سر پھرا اور سرکش آپ کو اپنے خالق ومالک کے حضور سجدہ ریز ہو کر اس قرب کے شرف سے مشرف ہونے سے روکے تو بھی اس کی بات نہ ماننا، جاؤ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ قرآن حکیم نے جگہ جگہ نماز ہی کو حصول صبر و عزیمت اور باب نصرت و حمایت کو کھولنے کے لیے اصل کلید بتایا ہے اور سجدہ چونکہ نماز کا سب سے اعلی و اشرف رکن ہے اس لیے یہاں پر اسی کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے اور اسی کو قرب خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ بتایا گیا ہے، سو ا سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ یہ کسی کی مجال نہیں کہ وہ آپ کو اس چیز سے روک دے جو تمہاری زندگی کی غایبت اور اپنے خالق ومالک سے رابطہ وتعلق کا واحد ذریعہ و وسیلہ ہے، اگر کوئی بدبخت ایسے کرتا ہے تو تم اس کے شر سے بچنے کے لیے خداوند قدوس ہی سے اس کی پناہ کی دعا و درخواست کرو، جس کا واحد طریقہ اس کے حضور سربسجود ہوجانا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
18 ۔ رب کے حضور سجدہ ریزی اس کے قرب سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور سجدہ کرتے جاؤ اپنے رب کے حضور اور اس کا قرب حاصل کرتے جاؤ۔ کہ یہی سب سے بڑا مقصود اور اصل کامیابی ہے اور حدیث شریف میں وارد ہے کہ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ سجدہ میں ہوتا ہے، اور ظاہر ہے کہ ہونا بھی ایسے ہی چاہیے کہ سجدہ کی کیفیت سب سے بڑی عاجزی کی کیفیت ہے جس کا اظہار بندہ اپنے خالق ومالک کے حضور کرتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے کہ جب اس انسان اور اس کی اس پیشانی اور اعضاء سجدہ اور اس کے ظاہر و باطن کے تمام قوی اپنے خالق ومالک کے حضور جھک جاتے ہیں تو یہ اس کے خاص افضال و انعامات کا مورد و مستحق بن جاتا ہے، اور جب اس پوری کائنات کا جس میں یہ انسان رہتا بستا ہے اور اس سے طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتا ہے اور بےحدو حساب فائدے اٹھاتا ہے جب اس سب کا خالق بھی بلا شرکت غیرے وہی وحدہ لا شریک ہے اور مالک و متصر بھی وہی ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو پھر عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہوگا، جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ظلم عظیم ہے اور غیر اللہ کے آگے جھکنا اور سجدہ ریز ہونا جہاں انسان اور اس کے شرف و مکان اور مرتبہ و مقام کی توہین و تذلیل ہے وہاں یہ کھلی بےانصافی اور صریح ظلم بھی ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں اس سے متعلق ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر واضح اور واشگاف الفاظ میں اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا " ان الشرک لظلم عظیم " یعنی بلاشبہ شرک قطعی طور پر بہت بڑا ظلم ہے۔ والعیاذ باللہ۔ مگر افسوس کہ اس سب کے باوجود آج کتنے ہی کلمہ گو ایسے ہیں جو شرک کے اس ظلم عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں، اور دن رات کرتے ہیں اور برسر عام اور دھڑلے سے کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ بلکہ انہوں نے اس کو دنیا کمانے اور پیٹ بھرنے اور پیسے بٹورنے کے ایک مستقل کاروبار کے طور پر اپنا رکھا ہے۔ طرح طرح کے ناموں سے مختلف " سرکاریں " گھڑی اور بنائی جاتی ہیں اور وہاں پر سجدے ہوتے ہیں، طواف کیے جاتے ہیں، پھیرے مانے جاتے ہیں، چکر لگائے جاتے ہیں، ڈالیاں پیش کی جاتی ہیں، اور کھلے عام حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے غیر اللہ کو پوجا پکارا جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر بھی دعوی ہے ایمان و یقین کا اور دم بھرا جاتا ہے توحید وسنت کے علمبردار ہونے کا۔ فالی اللہ المشتکی وھو المستعان وعلیہ التکلان فی کل حٰن و ان فلا حول ولا قوۃ الا بہ جل وعلا۔