Ayahs 96:1–2یہاں سے سورة العلق شروع ہو رہی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا ہے کہ آپ اپنے رب کا نام لے کر پڑھیے جس نے سب کچھ پیدا فرمایا ہے تعمیم کے لیے مفعول محذوف فرما دیا، نیز رعایت فاصلہ بھی مطلوب ہے اس کی وجہ سے بھی مفعول حذف کیا گیا۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ فرشتے کی آمد سے پہلے رسول اللہ ﷺ غار حرا میں تنہا وقت گزارا کرتے تھے یہ تنہائی آپ کو محبوب تھی متعدد راتیں وہاں گزار کر اپنے گھر حضرت خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لاتے تھے وہ مزید چند دن کے لیے کھانے پینے کا سامان تیار کردیتی تھیں یہ سامان لے کر آپ غار حرا میں واپس چلے جاتے تھے ایک دن آپ غار حرا میں تشریف فرما تھے کہ اچانک فرشتہ آگیا۔ فرشتہ نے کہا ﴿اِقْرَائ﴾ (پڑھیے) آپ نے فرمایا : ما انا بقاری (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں) فرشتے نے آپ کو پکڑ کر خوب اچھی طرح بھینچ دیا، پھر چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے، آپ نے پھر وہی فرمایا کہ میں پڑھا ہو انہیں ہوں، فرشتے نے دوبارہ اسی زور دار طریقے پر بھینچ دیا پھر چھوڑ دیا اور وہی بات کہی کہ پڑھیے، آپ نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، فرشتے نے تیسری بار پھر آپ کو بھینچ دیا، پھر چھوڑ دیا اور اس مرتبہ اس نے یہ پورا پڑھا دیا : ﴿ اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَۚ001 خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ002 اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ003 الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِۙ004 عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْؕ005﴾ آپ نے ان الفاظ کو دہرایا اور غار حرا سے گھبرائے ہوئے واپس تشریف لائے اور حضرت خدیجہ ؓ کے پاس پہنچے ان سے فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھاؤ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ، انہوں نے کپڑا اوڑھا دیا۔ یہاں تک کہ جب خوف و پریشانی کی کیفیت دور ہوگئی تو حضرت خدیجہ ؓ کو پوری بات بتائی۔ (حدیث طویل ہے جو صحیح بخاری صفحہ 3، 4 ج 1 اور صحیح مسلم صفحہ 88: ج 1 پر مذکور ہے)
اس سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی اس میں آیت مذکورہ بالا ہی تھیں۔ قال النووی فی شرح صحیح المسلم ھذا ھو الصواب الذی علیہ الجماھیر من السلف والخلف اس کے کچھ عرصے کے بعد آیات ﴿يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ001 قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ002 وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ003 وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ004 وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ005﴾ نازل ہوئیں اور برابر وحی نازل ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ (صحیح بخاری صفحہ 3: ج 1)
آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تلاوت ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ سے شروع کرنا چاہیے اور سورة ٴ اعراف کی آیت ﴿فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ 0098﴾ سے معلوم ہوا کہ پہلے اعوذ باللہ پڑھا جائے، پہلے استعاذہ پھر بسم اللہ دونوں پر امت کا عمل ہے رسول اللہ ﷺ کا اور صحابہ ؓ اور تابعین کا یہی معمول رہا ہے۔
سورت کے شروع میں اولاً مخلوق کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کیونکہ ساری مخلوق اللہ جل شان کی ربوبیت کا مظہر ہے پھر خصوصی طور پر انسان کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا فرمایا لہٰذا انسان کو اپنے رب کی طرف بہت زیادہ متوجہ ہونا چاہیے اپنے خالق اور پروردگار کے ذکر میں اور اس کی نعمتوں کے شکر میں لگا رہے گو دوسرے حیوانات بھی نطفہ منی سے پیدا ہوتے ہیں لیکن ان میں وہ عقل اور شعور و ادراک نہیں ہے جو کہ انسان کو عطا فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 96:3–5﴿اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ003﴾ (آپ پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے) ﴿الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِۙ004﴾ (جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا) ۔ ﴿عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْؕ005﴾ (اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا) ۔ ارشاد فرمایا کہ آپ پڑھیے، اس کا خیال نہ کیجئے کہ آپ نے مخلوق سے نہیں پڑھا۔ آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے اسے علم دینے کے لیے اسباب کی حاجت نہیں ہے اس نے قلم کے ذریعہ سکھایا اور جسے چاہا بغیر قلم کے بھی سکھا دیا انسانوں کے پاس جو علم ہے سارا استاد اور کتاب اور قلم ہی سے تو نہیں ہے جس ذات پاک نے اسباب کے ذریعہ علم دیا اسے بلا اسباب بھی علم دینے پر قدرت ہے آپ کو جو علم دیا ہے بغیر قلم عطا فرمایا ہے۔
Ayahs 96:6–7روایت احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئیں۔ ابو جہل کو رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ دشمنی تھی رسول اللہ ﷺ مسجد حرام میں تشریف لاتے تھے اور نماز ادا فرماتے تھے ایک دن ابو جہل نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ محمد ﷺ مٹی میں اپنا چہرہ ملائیں گے (یعنی سجدہ میں جائیں گے) تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اس نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ کی گردن مبارک پر پاؤں رکھنے کے لیے آگے بڑھا فوراً الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور وہ ہاتھوں کو اس طرح ہلا رہا تھا جیسے کسی چیز سے بچاؤ کر رہا ہو، لوگوں نے کہا کیا ہوا ؟ کہنے لگا کے میرے اور محمد ﷺ کے درمیان آگ کی ایک خندق ہے اور ڈراؤنی حالت ہے اور بازوؤں والی مخلوق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ مجھ سے قریب ہوجاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو کر کے اچک لیتے۔ اس پر آیت کریمہ ﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤىۙ006﴾ سے آخر سورت تک نازل ہوئیں۔ (رواہ مسلم صفحہ 372: ج 2)
اب سبب نزول جاننے کے بعد آیات کا مطلب اور ترجمہ سمجھ لیجئے ﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤىۙ006﴾ (یہ تحقیقی بات ہے کہ انسان ضرور ضرور سرکشی اختیار کرلیتا ہے) یعنی آدمیت کی حد سے نکل جاتا ہے اور اپنے کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اپنے خالق کی نافرمانی اور سرکشی میں لگ جاتا ہے۔ ﴿ اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ007﴾ (اس کا یہ سرکشی پر اتر آنا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی دیکھتا ہے) یعنی مال اور دولت کی وجہ سے یوں سمجھتا ہے کہ اب مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے میں ہی سب کچھ ہوں، حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی نے سب کچھ دیا ہے وہ دے بھی سکتا ہے اور چھین بھی سکتا ہے۔ سرکش انسان پیدا کرنے والے، مال دینے والے کی طرف بالکل متوجہ نہیں ہوتا۔
Ayah 96:8﴿ اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ008﴾ (اے مخاطب بیشک تجھے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے) یہ سرکشی کرنے والا بھی اپنے رب کی طرف واپس ہوگا، دنیاوی مالداری کو نہ دیکھے اور اموال دنیا پر نظر کر کے اپنے رب کو نہ بھولے کیونکہ ہر حال میں مرنا ہے مر کر جہاں جائے گا وہاں مال و اولاد کوئی کسی کے کام نہ آئیں گے۔
Ayahs 96:9–10﴿ اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰىۙ009 عَبْدًا اِذَا صَلّٰى ؕ0010﴾ ( اے مخاطب تو بتا کہ جو شخص بندہ کو منع کرتا ہے جب وہ نماز پڑھتا ہے اس کا کیسا عجیب اور قبیح حال ہے) ۔
Ayahs 96:11–12﴿ اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ0011﴾ (مخاطب تو ہی بتا کہ بندہ ہدایت پر ہے اور تقویٰ کا حکم دیا ہے اس کو نماز سے روکنا کتنی بڑی قبیح اور شنیع بات ہے) ۔
Ayahs 96:13–14﴿اَرَءَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ0013﴾ (اے مخاطب تو بتادے کہ اگر یہ نماز سے روکنے والا شخص حق کو جھٹلاتا ہو اور حق سے اعراض کرتا ہو تو اس کا کیا انجام ہوگا) ہر شخص غور کرلے، صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : وتقدیم نظم الایة ارایت الذی ینھی عبدا اذا صلی وھو علی بالھدی وامر بالتقوی والناھی مکذب متول عن الایمان فما اعجب من ھذا، ا ھ
عربی میں لفظ ارایت محاورہ کے اعتبار سے اخبرنی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یہاں تین جگہ لفظ ارایت وارد ہوا ہے جو ہر صاحب فہم و بصیرت کو خطاب ہے، ہر سمجھنے والا بتائے کہ جو شخص نماز پڑھنے والے کو نماز سے روکتا ہے اور یہ نماز پڑھنے والا خود ہدایت پر رہتے ہوئے دوسروں کو تقویٰ کا حکم دیتا ہے اس کو نماز سے روکنے والے کا عمل کیسا ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہونا چاہیے ؟ جو شخص جھٹلانے والا اور اعراض کرنے والا ہے پھر اوپر سے نماز پڑھنے والے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے اس کا انجام سوچ لیا جائے پھر اس انجام کو اجمالی طور پر یوں بیان فرمایا کہ ﴿ اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ؕ0014﴾ (کیا اسے معلوم نہیں ہے بیشک اللہ دیکھتا ہے) جب اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے اور اسے نماز پڑھنے والے اور نماز سے روکنے والے کی حالت کا علم ہے تو وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدل دے دے گا۔ نمازی کو نماز کا ثواب ملے گا اور نماز سے روکنے والے کو روکنے کی سزا ملے گی اور عذاب ہوگا۔
ایک دن ایسا ہوا کہ ابو جہل نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا تو آپ نے ابوجہل کو جھڑک دیا۔ اس پر ابو جہل نے کہا (کہ مجھے جھڑکتے ہو) میں پوری وادی کو گھوڑوں سے اور فوجی لوگوں سے بھر دوں گا اس پر آیات ذیل نازل ہوئیں۔
Ayahs 96:15–18﴿كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ 1ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بالنَّاصِيَةِۙ0015 نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ0016﴾ (خبردار اگر یہ شخص اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کو پکڑ کر گھسیٹ لیں گے جو پیشانی جھوٹی ہے خطاکار ہے) ۔ ﴿ فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗۙ0017﴾ (سو جب وہ عذاب میں مبتلا ہو اپنی مجلس والوں کو بلا لے) ﴿ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَۙ0018﴾ (ہم عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے) جن کے سامنے اس کا کوئی بس نہیں چل سکتا۔ معالم التنزیل میں زجاج سے نقل کیا ہے کہ زبانیۃ سے دوزخ کے فرشتے مراد ہیں جنہیں سورة التحریم میں ﴿غلاظ شداد﴾ فرمایا ہے۔ نیز حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اگر ابو جہل اپنی مجلس والوں کو بلا لیتا تو اللہ تعالیٰ کے زبانیۃ فرشتے اسے پکڑ لیتے۔ لفظ زبانیہ زبن سے ماخوز ہے جو دفع کرنے کے معنی میں آتا ہے چونکہ دوزخ پر مقررہ فرشتے دوزخیوں کو دھکے دے دے کر دوزخ میں ڈالیں گے اس لیے ان کو زبانیہ فرمایا۔﴿كَلَّا ﴾ اس شخص کا ایسی حرکتیں کرنا اچھا نہیں ہے ان سے باز آجائے۔
Ayah 96:19﴿لَا تُطِعْهُ﴾ اے رسول ﷺ آپ اس کی بات نہ مانیے نماز نہ چھوڑیئے اور ایمان اور اعمال خیر سے جو یہ روکتا ہے اس میں اس کی اطاعت نہ کیجئے وَ اسْجُدْ (اور اپنے رب کے لیے سجدہ کرتے رہو) ﴿وَ اقْتَرِبْ 0019﴾ (اور اپنے رب کا قرب حاصل کرتے رہیے) اس میں خوب زیادہ نماز پڑھنے کا حکم فرمایا جس میں تکثیر سجدات کا حکم بھی آجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب سجدہ کی حالت میں ہو لہٰذا تم خوب زیادہ دعا کیا کرو۔ (رواہ مسلم صفحہ 191: ج 1) حضرت ربیعہ بن کعب ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات گزارا کرتا تھا ایک مرتبہ (نماز تہجد کے لیے) میں نے آپ کی خدمت میں وضو کا پانی اور دوسری ضرورت کی چیزیں حاضر کردیں، آپ نے فرمایا مانگو کیا مانگتے ہو میں نے کہا میں یہ چاہتا ہوں کہ جنت میں آپ کے ساتھ رہوں، آپ نے فرمایا اس کے علاوہ اور کچھ ؟ میں نے کہا کہ میرا تو یہی مطلوب ہے آپ نے فرمایا اچھا تو اپنے نفس کے مقابلہ میں میری مدد کرو خوب سجدے کیا کرو۔ (رواہ مسلم صفحہ 193: ج 1) مطلب یہ ہے کہ انسان کا نفس آگے بڑھنے نہیں دیتا اور صرف دعا پر بھروسہ کرنا چاہیے تم بھی محنت کرو میں بھی دعا کروں گا نفس سستی کرے تو اس کی بات نہ ماننا خوب ہمت اور محنت کے ساتھ سجدوں کی کثرت کرتے رہنا، بندہ کے پاس اپنا عجز و نیاز اور تذلل اور شان عبدیت کا عملی اقرار ظاہر کرنے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنے اشرف الاعضاء یعنی سر کو ارذل العناصر یعنی مٹی پر رکھ دے اور اپنے رب کریم کے حضور اپنی ذات کو بالکل ذلیل کر کے پیش کر دے۔ اسی لیے حضرات اکابر نے فرمایا ہے کہ نماز کے ارکان میں سب سے بڑا رکن سجدہ ہی ہے اسی لیے ہر رکعت میں قیام اور رکوع ایک ایک بار اور سجدہ دو بار ہے۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ آیات بالا ابو جہل لعین کی بےادبی اور بدتمیزی اور گستاخی پر نازل ہوئیں اس کے بارے میں جو ﴿لَنَسْفَعًۢا بالنَّاصِيَةِۙ﴾ فرمایا ہے اس سے اس کی دنیا کی ذلت بھی مراد لی جاسکتی ہے بدر کی لڑائی میں وہ دیگر مشرکین مکہ کے ساتھ بڑے طمطراق اور فخر و غرور کے ساتھ آیا اور بری طرح مقتول ہوا۔ اگر آیت کریمہ سے یہ دنیا والی سزا مراد لی جائے تو پیشانی پکڑ کر گھسیٹنے سے ذلیل کرنا مراد ہوگا اور روح المعانی میں یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ جنگ بدر کے موقعہ پر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے جب اس کا سر کاٹ دیا اور خدمت عالی میں حاضر کرنے کے لیے اٹھانا چاہا تو اٹھا نہ سکے لہٰذا انہوں نے ابو جہل کے کان میں سوراخ کیا اور اس میں دھاگہ ڈال کر کھینچتے ہوئے لے گئے۔
اور آخرت کا عذاب اور وہاں کی ذلت مراد لی جائے تو وہ بھی مراد لے سکتے ہیں۔ سورة المومن میں فرمایا ہے ﴿فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَۙ0070 اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ 1ؕ يُسْحَبُوْنَۙ0071 فِي الْحَمِيْمِ 1ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَۚ0072﴾ (سو عنقریب جان لیں گے جبکہ طوق ان کے گردنوں میں ہوں گے کھولتے ہوئے پانی میں کھینچے جائیں گے پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے) ۔
اور سورة الرحمٰن میں فرمایا ہے ﴿يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بالنَّوَاصِيْ وَ الْاَقْدَامِۚ0041﴾ (مجرمین کو ان کی پیشانیوں سے اور قدموں سے پکڑ لیا جائے گا) ۔
نَاصِیَۃٍ (پیشانی) کو کاذِبَۃٍ سے موصوف فرمایا اس سے پوری شخصیت مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس شخص کا ہر ہر جزو ہر ہر عضو جھوٹا اور خطاکار ہے۔
قال صاحب الروح ویفید انہ لشدة کذبہ خطاہٴ کان کل جزء من اجزائہ یكذّب ویخطی
اس سورت میں ﴿كَلَّا﴾ تین جگہ آیا ہے عربی زبان میں یہ لفظ ردع یعنی جھڑکنے اور روکنے کے لیے آتا ہے اور کبھی کبھی حقًّا کے معنی میں بھی آتا ہے پہلی جگہ حَقًّا کے معنی میں اور دوسری اور تیسری جگہ زجر و توبیخ کے لیے لایا گیا ہے یعنی جس شخص کی یہ حرکتیں ہیں اسے ان حرکتوں سے بچنا لازم ہے۔
لَنَسْفَعًا مصاحف میں الف کے ساتھ مکتوب ہے جو صیغہ جمع متکلم بالام تاکید و نون خفیفہ ہے سفع یسفع سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے شدت کے ساتھ کھینچنا نون خفیفہ کو الف کے ساتھ لکھا گیا ہے اس پر وقف کریں گے تو الف ہی کے ساتھ وقف کیا جائے گا یعنی نون واپس نہیں آئے گا جیسا کہ ﴿وَ لَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ 0032﴾ میں نون خفیفہ کو تنوین کی صورت میں لکھا گیا ہے اس کے آخر میں بھی الف ہے، اس پر بھی الف کے ساتھ وقف کیا جائے گا۔
فائدہ : آیت کریمہ ﴿ اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰىۙ009 عَبْدًا اِذَا صَلّٰى ؕ0010﴾ سے معلوم ہوا کہ نماز پڑھنے سے روکنا مسلمان کا کام نہیں ہے، یہ کام رسول اللہ ﷺ کے دشمن ابو جہل نے کیا تھا جس پر سورة العلق کی آیات نازل ہوئیں۔ بہت سے لوگ جو مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں اپنی اولاد کو فرض نماز تک پڑھنے سے روکتے ہیں اور ایسے کاموں میں لگا دیتے ہیں جس میں نماز فرض کے اوقات آجاتے ہیں اور محکمے والے یا کمپنی والے نماز پڑھنے کا موقع نہیں دیتے اگر کسی لڑکے کو اس کا احساس ہو کہ فرائض ضائع ہو رہے ہیں اور ماں باپ سے کہے کہ میں اس کام کو چھوڑتا ہوں تو کہتے ہیں ایک تو ہی رہ گیا ہے ملاں بننے کے لیے ؟ کتنی دنیا ہے جو نماز نہیں پڑھتی تو نے ہی نہ پڑھی تو کیا ہوجائے گا ؟ (یہ نہیں سمجھتے کہ فرض نماز چھوڑنے والوں کے لیے دوزخ کا داخلہ ہے) اسی طرح کمپنیوں کے ذمہ دار بڑے بڑے تاجر نہ خود نماز پڑھتے ہیں نہ ملازمین کو نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں اگر کوئی شخص نماز کی بات کرے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا نقصان ہوگا قضاء نماز گھر جا کر پڑھ لینا اول تو ایسی جگہ ملازمت کرنا ہی حرام ہے جہاں فرائض ضائع ہوتے ہیں اور ایسی کمپنیوں کا ذمہ دار بننا جن میں نماز پڑھنے کا موقع نہ دیا جائے یہ بھی حرام ہے لوگ دنیا کے نقصان کو دیکھتے ہیں نماز کی دینی و دنیاوی برکات، آخرت کے فوائد اور عذاب سے نجات اور بےانتہا اجر وثواب کو نہیں دیکھتے۔
بندہ مومن کی ذمہ داری تو یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دونوں فریضوں کو انجام دے نہ یہ کہ نماز پڑھنے والوں کو نماز سے روک دے ایک نماز ہی پر کیا منحصر ہے شریعت کے تقاضوں کے مطابق ہر گناہ سے روکنا لازم ہے ہر گناہ سے بھی روکیں اور نیکیوں کا بھی حکم کرتے رہیں اگر کوئی شخص حرام روزی کماتا ہو اور کوئی عالم بتادے کہ یہ پیشہ حرام ہے اور فلاں کاروبار کی آمدن حرام ہے اور کوئی نوجوان اس کو چھوڑنے لگے اور حلال کے لیے فکر مند ہوجائے تو ماں باپ اور دوسرے رشتہ دار اور دوست احباب اس سے کہتے ہیں کہ تجھے تقویٰ کا ہیضہ ہوگیا ہے۔ دنیا میں کون ہے جو حلال کھا رہا ہے وغیرہ وغیرہ، حالانکہ دوسروں کے حرام کھانے سے اپنے لیے حرام کھانا حلال نہیں ہوجاتا۔ فتفکروا یا اھل الاسلام
فائدہ : اس سورت کی آخری آیت سجدہ تلاوت کی آیت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پر سجدہ فرمایا تھا۔
كما روی مسلم (صفحہ 215: ج 1) عن ابی ھریرة قال سجدنا مع النبی ﷺ فی اذا السماء انشقت واقرا باسم ربك۔
وھذا آخر تفسیر سورة العلق، والحمد للہ الذی خلق والصلٰوة
والسلام علی رسولہ الذی صدع بالحق، من امن بہ اطمئن من البخس والرھق