Ayah 96:1خلاصہ تفسیر
اقراء سے مالم یعلم تک سب سے پہلے وحی ہے جس کے نزول سے نبوت کی ابتدا ہوئی جس کا قصہ حدیث شیخین میں یہ کہ عطاء نبوت کے قریب زمانے میں آپ کو از خود خلوت پسند ہوگئی، آپ غار حرا میں تشریف لیجا کر کئی کئی شب رہتے، ایک روز دفعتہً جبرئیل ؑ تشریف لائے اور آپ سے کہا کہ اقراء یعنی پڑھئے، آپ نے فرمایا ماانا بقاری، یعنی میں کچھ پڑھا ہوا نہیں، انہوں نے خوب آپ کو زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور پھر کہا اقرائ، آپ نے پھر وہی جواب دیا، اسی طرح تین بار کیا پھر آخر میں دبانے کے بعد چھوڑ کر کہا اقراء الی مالم یعلم
اے پیغمبر ﷺ آپ (پر جو) قرآن (نازل ہوا کرے گا جس میں اس وقت کی نازل ہونے والی کیجئے جیسا کہ اس آیت میں اذا قرات القرآن فاستعذ باللہ بخ میں قرآن کے ساتھ اعوذ باللہ پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور ان دونوں امر سے جو اصل مقصود ہے یعنی توکل و استعانت وہ تو واجب ہے اور زبان سے کہہ لینا مسنون و مندوب ہے اور گو اصل مقصود ہے یعنی توکل وستعانت وہ تو واجب ہے اور زبان سے کہہ لینا مسنون و مندوب ہے اور گو اصل مقصود کے اعتبار سے اس آیت کے نزول کے وقت بسم اللہ کا آپ کو معلوم ہونا ضروری نہیں لیکن بعض روایات میں اس سورت کے ساتھ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا نازل ہونا بھی آیا ہے۔ اخرجہ الواجدی عن عکرمتہ والحسن انھما قالا اول مانزل بسم اللہ الرحمٓن الرحیم و اول سورة اقراء اخرجہ ابن جزیرہ وغیرہ عن ابن عباس انہ قال اول مانزل جبرئیل ؑ علی النبی ﷺ قال یا محمد استعذثم قل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کذا فی روح المعانی اور ان آیتوں میں جو قراة کو اسم الٰہی کے ساتھ افتاحت کرنے کا حکم ہوا ہے اس حکم میں خود ان آیتوں کا داخل ہونا ایسا ہے کہ جیسے کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ اسمع ما اقول لک یعنی میں جو کچھ تجھ سے کہوں تو اس کو سن، تو خود اس جملہ کے سننے کا حکم کرنا بھی اس کو مقصود ہے پس حاصل یہ ہوگا کہ خواہ ان آیتوں کو پڑھو یا جو آیات بعد میں نازل ہوں گی ان کو پڑھو سب کی قرات اسم الٰہی سے ہونا چاہئے اور آپ کو بعلم ضروری معلوم ہوگیا کہ یہ قرآن اور وحی ہے اور حدیثوں میں جو آپ کا ڈر جانا اور ورقہ ابن نوفل سے بیان کرنا آیا ہے وہ بوجہ شبہ کے نہ تھا بلکہ خوف وہیبت وحی سے اضطراری تھا اور ورقہ سے بیان کرنا مزید اطمینان و زیارت ایقان کے لئے تھا نہ عدم ایقان کے سبب، اور معلم متعلم سے ابجد شروع کرانے کے وقت کہتا ہے کہ ہاں پڑھ، پس اس سے تکلیف مالا یطاق لازم نہیں آتی اور آپ کا عذر فرمایا تو اس وجہ سے ہے کہ آپ کو اس جملے کے معنے متعین نہ ہوئے ہوں کہ مجھ سے کیا پڑھوانا چاہتے ہیں اور یہ امر کوئی خلاف شان نہیں ہے یا باوجود تعیین مراد کے اس سبب سے ہے کہ قرات کا استعمال اکثر لکھی ہوئی چیز کو پڑھنے کے معنے میں آتا ہے تو آپ نے بوجہ صرف شناس نہ ہونے کے یہ عذر فرمایا ہو اور حضرت جبرئیل ؑ کا دبانا بظن غالب واللہ اعلم بحقیقتہ الحال اس لئے ہوگا کہ آپ کے اندر بار وحی کے تحمل کی استعداد پیدا کردیں اور لفظ رب سے اشارہ اس طرف ہے کہ ہم آپ کی مکمل تربیت کریں گے اور نبوت کے درجات اعلیٰ پر پہنچا دیں گے آگے رب کی صفت ہے یعنی وہ ایسا رب ہے) جس نے (مخلوقات کو) پیدا کیا (اس وصف کی تخصیص میں یہ نکتہ ہے کہ حق تعالیٰ کی نعمتوں میں اول ظہور اس نعمت کا ہوتا ہے تو تذکیر میں اس کا مقدم ہونا مناسب ہے اور نیز خلق دلیل ہے خالق پر اور سب سے اہم اور اقدم معرفت خالق ہے آگے بطور تخصیص بعد تعمیم کے ارشاد ہے کہ) جس نے (سب مخلوقات میں سے بالخصوص) انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا (اس تخصیص بعد تعمیم میں اشارہ ہی کہ نعمت خلق میں بھی عام مخلوقات سے زیادہ انسان پر انعام ہے کہ اس کو کس درجہ تک ترقی دی کہ صورت کیسی بنائی، عقل و علم سے مشرف بنایا، پس انسان کو زیادہ شکر اور ذکر کرنا چاہئے اور تخصیص علق کی شاید اس لئے ہے کہ یہ ایک برزخی حالت ہے کہ اس کے قبل نطفہ اور غذا و عنصر ہے اور اس کے بعد مضغہ اور ترکیب عظام و نفخ روح ہی پس گویا وہ جمعی احوال متقدمہ ومتاخرہ کے درمیان ہے آگے قرارت کو مقصود اہم قرار دینے کے لئے ارشاد ہے کہ آپ قرآن پڑھا کیجئے (حاصل یہ کہ پہلے امر یعنی اقراباسم ربک سے یہ شبہ نہ کیا جاوے کہ یہاں اصل مقصود ذکر اسم اللہ ہے بلکہ قرات خود بھی فی نفسہا مقصود ہے کیونکہ تبلیغ کا ذریعہ یہی قرات ہے اور تبلیغ ہی اصل کام صاحب وحی کا ہے پس اس تکرار میں آپ کی نبوت اور مامور بالتبلیغ ہونے کا اظہار بھی ہوگیا) اور (آگے اس عذر کو رفع کردینے کی طرف اشارہ ہے جو آپ نے اول جبرئیل ؑ سے پیش کیا تھا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس کے لئے ارشاد فرمایا کہ) آپ کا رب بڑا کریم ہے (جو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور وہ ایسا ہے) جس نے (لکھے پڑھوں کو نہشتہ) قلم سے تعلیم دی (اور عموماً و مطلقاً) انسان کو (دوسرے ذرائع سے) ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہ جانتا تھا (مطلب یہ کہ اول تو تعلیم کچھ کتابت میں منحصر نہیں کیونکہ دوسرے طریقوں سے بھی تعلیم کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، ثانیاً اسباب مؤ ثر بالذات نہیں، مسبب حقیقی اور علم دینے والے ہم ہیں، پس گو آپ لکھنا نہیں جانتے مگر ہم نے جب آپ کو قرات کا امر کیا ہے تو ہم دوسرے ذریعہ سے آپ کو قرات اور حفظ علوم وحی پر قدرت دیدیں گے چنانچہا یسا ہی ہوا، پس ان آیات میں آپ کی نبوت اور اس کے مقدمات و متمات کا پورا بیان ہوگیا اور چونکہ صاحب نبوت کی مخالفت غایت درجہ کا گناہ اور شنیع امر ہے اس لئے آئندہ آیات میں جن کا نزول آیات اولیٰ سے ایک مدت کے بعد ہوا ہے آپ کے ایک خاص مخالف یعنی ابوجہل کی مذمت عام الفاظ سے ہے جس میں دوسرے مخالفین بھی شامل ہو اویں، جس کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک بار ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھتے دیکھا کہنے لگا کہ میں آپ کو اس سے بار ہا منع کرچکا ہوں، آپ نے اس کو جھڑک دیا تو کہنے لگا کہ مکہ میں سب سے بڑا مجمع میرے ساتھ ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر اب کی بار نماز پڑھتے دیکھوں گا تو نعوذ باللہ آپ کی گردن پر پاؤں رکھدوں گا چناچہ ایک بار اس قصد سے چلا مگر قریب جا کر رک گیا اور پیچھے ہٹنے لگا، لوگوں نے وجہ پوچھی کہنے لگا مجھ کو ایک خندق آگ کی حائل معلوم ہوئی اور اس میں پر دار چیزیں نظر آئیں آپ نے فرمایا وہ فرشتے تھے اگر اور آگ کی حائل معلوم ہوئی اور اس میں پر دار چیزیں نظر آئیں آپ نے فرمایا وہ فرشتے تھے اگر اور آگے آتا تو فرشتے اس کو بوٹی بوٹی کر کے نوچ ڈالتے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کذافی الدارالمنشور عبن الصحاح وغیرہامن کتب الحدیث ارشاد ہے کہ) سچ مچ بیشک (کافر) آدمی حد (آدمیت) سے نکل جاتا ہے اس وجہ سے کہ اپنے آپ کو (ابنائے جنس سے) مستغنی دیکھتا ہے (کقولہ تعالیٰ ولوبسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا الخ حالانکہ اس استغناء پر سرکشی حماقت ہے کیونکہ کسی کو گو مخلوق سے من وجہ استغنا ہو بھی جاوے لیکن حق تعالیٰ سے استغفاء تو کسی حال میں نہیں ہوسکتا حتیٰ کہ آخر میں) اے مخاطب (عام) تیرے رب ہی کیطرف سب کا لوٹنا ہوگا (اور اس وقت بھی مثل حالت حیات کے اس کی قدرت کے احاطہ میں گھرا ہوگا اور اس حالت میں جو اس کو طغیان کی سزا ہوگی اس سے بھی کہیں نہ بھاگ سکے گا پس ایسا عاجز ایسے قادر سے کب مستغنی ہوسکتا ہے تو اپنے کو مستغنی سمجھنا اور اس کی بنا پر سرکشی کرنا بڑی بیوقوفی ہے، آگے بصورت استفہام تعجب ہے اس کی سرکشی پر یعنی) اے مخاطب (عام) بھلا اس شخص کا حال تو بتلا جو (2 مارے) ایک (خاص) بندے کو منع کرتا ہے جب وہ (بندہ) نماز پڑھتا ہے (مطلب یہ کہ اس شخص کا حال دیکھ کر تو بتلا کہ اس سے زادہ عجیب بات بھی کوئی ہے حاصل یہ کہ نمازی کو نماز سے روکنا نہایت ہی بری اور عجیب بات ہے، آگے اسی تعجب کی تاکید وتقویت کے لئے مکرر فرماتے ہیں کہ) اے مخاطب (عام) بھلا یہ تو بتلا کہ اگر وہ بندہ (جس کو نماز سے روکا گیا ہے) ہدایت پر ہو (کہ جو کمال لازمی ہے) وہ (دوسروں کو بھی) تقویٰ کی تعلیم دیتا ہو (جو کمال متعدی یعنی دوسروں کی نفع رسانی ہے اور شاید کلمہ تردید لانے سے اشارہ اس طرف ہو کہ اگر ان میں سے ایک صفت بھی ہوتی تب بھی منع کرنے والے کی مذمت کے لئے کافی تھی چہ جائیکہ دونوں ہوں اور) اے مخاطب (عام) بھلا یہ تو بتلا کہ اگر وہ شخص (منع کرنے والا دین حق کو) جھٹلاتا ہو اور (دین حق سے) روگردانی کرتا ہو (یعنی نہ عقیدہ رکھتا ہو اور نہ عمل، یعنی اول تو یہ دیکھو کہ نماز سے منع کرنا کتنا برا ہی پھر بالخصوص یہ دیکھو کہ جب منع کرنے والا ایک گمراہ اور جس کو منع کر رہا ہے وہ ہدایت کا اعلیٰ نمونہ ہے تو یہ کتنی عجیب بات ہے۔ آگے اس منع کرنے پر اس کو وعید ہے یعنی) کیا اس شخص کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ (اس کی سرکشی اور اس سے پیدا ہونے والے اعمال کو) دیکھ رہا ہے (اور اس پر سزا دے گا، آگے اس پر زجر ہے یعنی اسکو) ہرگز (ایسا) نہیں (کرنا چاہئے اور) اگر یہ شخص (اپنی اس حرکت سے) باز نہ آوے گا تو ہم (اس کو) پٹھے پکڑ کر جو کہ دروغ اور خطا میں آلودہ پٹھے ہیں (جہنم کی طرف) گھسیٹیں گے (ناصیہ سر کے اگلے بالوں کو کہا جاتا ہے جن کو اردو میں پٹھے بولتے ہیں اس کی صفت میں کا ذبہ خاطہ مجازاً فرمایا اور اس کو جو اپنے مجمع پر گھمنڈ ہے اور ہمارے پیغمبر کو دھمکاتا ہے) سو یہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے (اگر اس نے ایسا کیا تو) ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلا لیں گے (چونکہ اس نے نہیں بلایا اس لئے اللہ نے ان فرشتوں کو بھی نہیں بلایا کماروی الطبری عن قتادہ مرسلاً قال النبی ﷺ لوفعل ابوجہلم لاخذتہ الملئکتہ الزبانیہ عیاناً آگے پھر زیارت زجر کے لئے اس کو تنبیہ ہے کہ اس کو) ہرگز (ایسا نہیں (کرنا چاہئے مگر) آپ (اس نالائق کی ان حرکتوں کی کچھ پرواہ کیجئے اور) اس کا کہنا نہ مانیئے (جیسا اب تک بھی نہیں مانا) اور (بدستور) نماز پڑھتے رہئے اور (خدا کا) قرب حاصل کرتے رہئے (اس میں ایک لطیف وعدہ ہے کہ حق تعالیٰ آپ کو ان لوگوں کے ضرر سے محفوظ رکھے گا کیونکہ نماز سے قرب ہوتا ہے اور قرب موجب عظمت ہے الالحکمتہ خاصہ پس ایسے امور کی طرف ذرا التفات نہ کیجئے اپنے کام میں لگے رہئے۔)
معارف و مسائل
وحی نبوت کی ابتداء اور سب سے پہلے وحی۔ صحیحین اور دوسری معتبر روایات سے ثابت اور جمہور سلف و خلف کا اس پر اتفاق ہے کہ وحی کی ابتدا سورة علق یعنی اقراء سے ہوتی ہے اور اس سورة کی ابتدائی پانچ آتیں مالم یعلم تک سب سے پہلے نازل ہوئیں۔ بعض حضرات نے سورة مدثر کو سب سے پہلی سورت قرار دیا ہے اور بعض نے سورة فاتحہ کو۔ امام بغوی نے فرمایا کہ جمہور سلف وخلف کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ سب سے پہلے سورة اقراء کی پانچ آیتیں نازل ہوئیں (کذاروی فرمایا کہ جمہور سلف و خلف کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ سب سے پہلے سورة اقراء کی پانچ آیتیں نازل ہوئیں (کذاروی عن ابن عباس و الزہری و عمرو بن دینار، در منشور) اور جن حضرات نے سورة مدثر کو پہلی سورت فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اقراء کی پانچ آیتیں نازل ہونے کے بعد نزول قرآن میں ایک مدت تک توقف رہا جس کو زمانہ فترت کا کہا جاتا ہے اور وحی کی تاخیر و توقف سے رسول اللہ ﷺ کو سخت رنج و غم پیش آیا اس کے بعد اچانک پھر حضرت جبرئیل امین سامنے آئے اور سورة مدثر کی آیتیں نازل ہوئیں اس وقت بھی آنحضرت ﷺ پر نزول وحی اور ملاقات جبرئیل سے وہ ہی کیفیت طاری ہوئی جو سورة اقراء کے نزول کے وقت پیش آئی تھی جس کا بیان آگے آ رہا ہے جس طرح فترت کے بعد سب سے پہلے سورة مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اس لحاظ سے اس کو بھی پہلی سورت کہہ سکتے ہیں اور سورة فاتحہ کو جن حضرات نے پہلی سورت فرمایا ہے اس کی بھی ایک وجہ ہے وہ یہ کہ مکمل سورت سب سے پہلے سورة فاتحہ ہی نازل ہوئی اس سے پہلے چند سورتوں کی متفرق آیات ہی کا نزول ہوا تھا (مظہری) صحیحین کی ایک طویل حدیث میں نبوت اور وحی کی ابتدا کا واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا کہ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر سلسلہ وحی رویائے صالحہ یعنی سچے خوابوں سے شروع ہوا جس کی کیفیت یہ تھی کہ جو کچھ آپ خواب میں دیکھتے بالکل اس کے مطابق واقعہ پیش آتا اور اس میں کسی تعبیر کی بھی ضرورت نہ تھی، صبح کی روشنی کی طرح واضح طور پر خواب میں دیکھا ہوا واقعہ سامنے آجاتا تھا۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو مخلوق سے یکسوئی اور خلوت میں عبادت کرنے کا داعیہ قوی پیش آیا جس کے لئے آپ نے غار حرا کو منتخب فرمایا (یہ غار مکہ مکرمہ کے قبرستان جنتہ المعلیٰ سے کچھ آگے ایک پہاڑ پر ہے جس کو جبل النور کہا جاتا ہے اس کی چوٹی دور سے نظر آتی ہے) حضرت صدیقہ فرماتی ہیں کہ آپ اس غار میں جا کر راتوں کو رہتے اور عبادت کرتے تھے جب تک اہل و عیال کی خبر گیری کی ضرورت پیش نہ آتی وہیں مقیم رہتے تھے اور اس وقت کے لئے آپ ضروری توشہ لیجاتے تھے اور پھر توشہ ختم ہونے کے بعد حضرت خدیجہ ام المومنین کے پاس تشریف لاتے اور مزید کچھ دنوں کے لئے توشہ لیجاتے یہاں تک کہ آپ اسی غار حرا میں تھے کہا اچانک آپ کے پاس حق یعنی وحی پہنچی۔ (غار حراء میں خلوت گزینی کی مدت میں علماء کا اختلاف ہے۔ صحیحین کی روایت ہے کہ آپ نے ایک ماہ یعنی پورے ماہ رمضان اس میں قیام فرمایا۔ ابن اسحٰق نے سیرت میں اور زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا کہ اس سے زیادہ مدت کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے اور یہ عبادت جو آپ غار حراء میں نزول وحی سے پہلے کرتے تھے اس وقت نماز وغیرہ کی تعلیم تو ہوئی نہ تھی، بعض حضرات نے فرمایا کہ نوح اور ابراہیم اور عیسیٰ (علیہم السلام) کی شرائع کے مطابق عبادت کرتے تھے مگر نہ کسی روایت سے اس کا ثبوت ہے اور نہ آپ کے امی ہونے کی وجہ سے یہ احتمال صحیح ہے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ اس وقت آپ کی عبادت محض مخلوق سے انقطاع اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ خاص اور تفکر کی تھی (مظہری)
حضرت صدیقہ فرماتی ہیں کہ وحی آنے کی صورت میں ہوئی کہ فرشتہ یعنی جبرئیل امین آپ کے پاس آیا اور آپ سے کہا اقراء یعنی پڑھئے، آپ نے فرمایا ما انا بقاری یعنی میں پڑھنے والا نہیں ہوں (کیونکہ آپ امی تھے، اور جبرئیل امین کے قول اقراء کی مراد آپ پر اس وقت واضح نہ تھی کہ کیا اور کس طرح پڑھوانا چاہتے ہیں کیا کوئی لکھی ہوئی تحریر دیں گے جس کو پڑھنا ہوگا اس لئے اپنے امی ہونے کا عذر کردیا) حضرت صدیقہ کی روایت میں ہی کہ آپ نے فرمایا کہ میرے اس جواب پر جبرئیل امین نے مجھے آغوش میں لے کر اتنا دبایا کہ مجھے اس کی تکلیف محسوس ہونے لگی اس کے بعد مجھے چھوڑ دیا اور پھر وہی بات کہی اقراء میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں تو پھر جبرئیل امین نے دوبارہ آغوش میں لے کر اتنا دبایا کہ مجھے اس کی تکلیف محسوس ہونے لگی پھر چھوڑ دیا اور تیسری مرتبہ پھر کہا اقراء میں نے پھر وہی جواب دیا مانا بقادی تو تیسری مرتبہ پھر آغوش میں دبایا پھر چھوڑ کر کہا، اقراء باسم اربک الذی خلق، خلق الانسان من علق، اقراو ربک الاکرم، الذی علم بالقلم، علم الانسان مالم یعلم
قرآن کی یہ (سب سے پہلی پانچ) آیتیں لے کر آپ گھر واپس تشریف لائے آپ کا دل کانپ رہا تھا حضرت خدیجہ کے پاس آ کر فرمایا زملونی زملونی مجھخ ڈھانپو مجھے ڈھانپو (حضرت خدیجہ نے آپ پر کپڑے ڈالے) یہاں تک کہ یہ ہیبت کی کیفیت رفع ہوئی (یہ کییت اور کپکپی جبرئیل ؑ کے خوف سے نہیں تھی کیونکہ آپ کی شان اس سے بہت بلند وبالا ہے بلکہ اس وحی کے ذریعہ جو نبوت و رسالت کی ذمہ داری آپ کو سونپی گئی اس کا بارگراں محسوس فرمانے اور ایک فرشتہ کو اس کی اصلی ہئیت میں دیکھنے سے طبعی طور پر یہ ہیبت کی کیفیت پیدا ہوئی)
حضرت صدیقہ فرماتی ہیں کہ افاقہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ کو غار حرا کا پورا واقعہ سنایا اور فرمایا کہ اس سے مجھ پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ مجھے اپنی جان کا خوف ہوگیا۔ حضرت خدیجہ ام المومنین نے عرض کیا کہ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ناکام نہ ہونے دیں گے کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ بوجھ میں دبے ہوئے لوگوں کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں۔ بیروزگار آدمی کو کسب پر لگا دیتے ہیں مہمانوں کی مہمانداری کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کی امداد کرتے ہیں (حضرت خدیجہ لکھی پڑھی اتون تھیں ان کو شاید کتب سابقہ توریت و انجیل سے یا اس کے علماء سے یہ بات معلوم ہوئی ہوگی کہ جس شخص کے اخلاق و عادات ایسے کریمانہ ہوں وہ محروم و ناکام نہیں ہوا کرتا اس لئے اس طریقے سے رسول ﷺ کو تسلی دی)
اس کے بعد حضرت خدیجہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ ابن نوفل کے پاس لے گئیں یہ زمانہ جاہلیت ہی میں بت پرستی سے تائب ہو کر نصراین ہوگئے تھے (کیونکہ اس وقت کا دین حق یہی تھا) ورقہ ابن نوفل (لکھے پڑھے آدمی تھے عبرانی زبان بھی جانتے تھے اور عربی تو ان کی مادری زبان تھی) وہ عبرانی زبان میں بھی لکھتے تھے اور انجیل کو عربی زبان میں لکھتے تھے اور اس وقت وہ بہت بوڑھے تھے، بڑھاپے کی وجہ سے بینائی جاتی رہی تھی، حضرت خدیجہ نے ان سے کہا کہ میرے چچا زاد بھائی ذرا اپنے بھتیجے کی بات تو سنو۔ ورقہ ابن نوفل نے آنحضرت ﷺ سے حال دریافت کیا تو آپ نے غار حرا میں جو کچھ دیھا تھا بیان کردیا۔ ورقہ بن نوفل نے سنتے ہی کہا کہ یہ وہ ہی ناموس یعنی فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ پر اتارا تھا کا سش میں آپ کی نبوت کے زمانے میں قوی ہوتا، اور کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کی قوم آپ کو (وطن سے) نکالے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے (تعجب سے پوچھا) کیا میری قوم مجھے نکال دے گی، ورقہ نے کہا کہ بلا شبہ نکالے گی کیونکہ جب بھی کوئی آدمی وہ پیغام حق اور دین حق لے کر آتا ہے جو آپ لائے ہیں تو اس کی قوم نے اس کو ستایا ہے اور اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا مگر ورقہ اس کے چند ہی روز کے بعد انتقال کرگئے اور اس واقعہ کے بعد وحی قرآن کا سلسلہ رک گیا (بخاری ومسلم) فترت وحی کی مدت کے متعلق سہیلی کی روایت ہے کہ ڈھائی سال تک رہی اور بعض روایات میں تین سال کی مدت بیان کی گئی ہے (مظہری)
اقرا باسم ربک الذی خلق، باسم ربک میں لفظ اسم بڑھانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ قرآن جب بھی پڑھیں اللہ کا نام لے کر یعنی بسم اللہ الرحمٰن الرحم پڑھ کر شروع کریں جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے، دوسرا اشارہ اس میں اس عذر کے جواب کا ہے جو آپ نے پیش کیا تھا کہ میں قاری نہیں، باسم ربک کے لفظ سے اس طرف اشارہ کیا گیا کہ اگرچہ آپ اپنی موجودہ حالت کے اعتبار سے امی ہیں لکھے پڑھے نہیں، مگر آپ کے رب کو سب قدرت ہے وہ امی شخص کو اعلیٰ علوم اور خطابت کا سلیقہ اور فصاحت و بلاغت کا وہ درجہ دے سکتا ہے کہ جس کے سامنے بڑے بڑے لکھے پڑھے عاجز ہوجائیں جیسا کہ بعد میں اس کا ظہور (مظہری) اور اس جگہ اللہ تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے لفظ رب کو خصوصیت سے اختیار کرنے میں اس مضمون کی مزید تائید و تاکید ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ آپ کا پروردگار ہے ہر طرح کی تربیت کرتا ہے وہ امی ہونے کے باوجود آپ سے پڑھوا بھی سکتا ہے الذی خلق صفات الہیہ میں سے اس جگہ صفت تخلیق کو خصوصیت سے ذکر کرنے میں شاید یہ حکمت ہو کہ مخلوقات پر جیسے انعامات و احسانات حق تعالیٰ کے ہیں ان میں سب سے پہلا انعام اس کو وجود عطا کرنا ہغے جو تخلیق ربانی کے ذریعہ عطا ہوتا ہے، اور اس جگہ خلق کا مفعول یعنی جس چیز کو پیدا کیا وہ ذکر نہیں کی گئی اس میں اشارہ عموم کی طرف ہے کہ ساری ہی کائنات اس کی مخلوق ہیں۔
Ayah 96:2خلق الانسان من علق، الذی خلق میں پوری کائنات کی تخلیق کا بیان ہا تھا خلق الانسان میں اشرف المخلوقات انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا کہ غور سے دیکھو تو پوری کائنات و مخلوقات کا خلاصہ سان ہے جہاں وہ جو کچھ ہے اس کی نظائر انسان کے وجود میں مجود ہیں اس لئے انسان کو عالم اصغر ہا اجتا ہے اور انسان کی تخصیص بالذکر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبوت و رسالت اور قرآن کے نازل کرنے کا مقصد احکام الٰہیہ کی تنقید و تعمیل ہے وہ انسان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ علق کے معنے منجمد خون کے ہیں انسان کی تخلیق پر مختلف دور گزرے اور گزرتے ہیں اس کی ابتداء مٹی اور عناصر سے ہے پھر نطفہ سے اس کے بعد علقہ یعنی منجمد خون بنتا ہے پھر مضغہ گوشت پھر ہڈیاں وغیرہ پیدا کی جاتی ہیں علقہ ان تمام ادوار تخلیق میں ایک درمیانہ حالت ہے اس کو اختیار کر کے اس کے اول و آخر کی طرف اشارہ ہوگیا۔
Ayah 96:3اقرا و ربک الاکرم یہاں لفظ اقرا کو مکرر لایا گیا ہے جس کی ایک وجہ خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے اور یہ بھی کا جاسکتا ہے کہ پہلا اقرا تو خود آپ کے پڑھنے کے لئے فرمایا تھا، یہ دوسرا تبلیغ و دعوت اور لوگوں کو کہ تخلیق عالم اور تخلیق انسان میں اللہ تعالیٰ کی اپنی کوئی غرض اور نفع نہیں بلکہ یہ سب بتقاضائے جو دو کرم ہے کہ بےمانگ کائنات کو جود کی نعمت عظمیٰ عطا فرمائی۔
Ayahs 96:4–5الذی علم بالقلم تخلیق انسانی کے بعد اس کی تعلیم کا بیان ہے کیونکہ تعلیم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز اور تمام مخلوقات سے اشرف و اعلیٰ بناتی ہے پھر تعلیم کی عام صورتیں دو ہیں ایک زبانی تعلیم دوسرے بذریعہ قلم تحریر و خط سے ابتدائے سورت میں لفظ اقراء میں اگرچہ زبانی تعلیم ہی کی ابتدا ہے مگر اس آیت میں جہاں تعلیم دینے کا بیان آیا ہے اس میں قلمی تعلیم کو مقدم کر کے بیان فرمایا ہے۔
تعلیم کا سب سے پہلا اور اہم ذریعہ قلم اور کتابت ہے۔ ایک صحیح حدیث حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لما خلق اللہ الخلق کتب فی کتابہ فھو عندہ فوق العرش، ان رحمتی غلبت غضبی، یعنی اللہ تعالیٰ نے ازل میں جب مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں جو عرش پر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے یہ کلمہ لکھا کہ ”میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔“
اور حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اول ماخلق اللہ القلم فقال لھم اکتب فکتب مایکون الی یوم القیمة فھو عندہ فی الذکر فوق عرشہ، یعنی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اس کو حکم دیا کہ لکھے، اس نے تمام چیزیں جو قیامت تک ہونے والی تھیں لکھدیں، یہ کتاب اللہ تعالیٰ کے پاس عرش پر ہے (قرطبی)
قلم کی تین قسمیں۔ علماء نے فرمایا ہے کہ عالم میں قلم تین ہیں۔ ایک سب سے سے پہلا قلم جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور تقدیر کائنات لکھنے کا اس کو حکم دیا، دوسرے فرشتوں کے قلم جس سے وہ تمام ہونے والے واقعات اور ان کی مقادیر کو نیز انسانوں کے اعمال کو لکھتے ہیں۔ تیسرے عام انسانوں کے قلم جن سے وہ اپنے کلام لکھتے اور اپنے مقاصد میں کام لیتے ہیں اور کتابت درحقیقت بیان کی ایک قسم ہے اور بیان انسان کی مخصوص صفت ہے (قرطبی) امام تفسیر مجاہد نے ابوعمرو سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات میں چار چیزیں اپنے دست قدرت سے خود بنائیں اور ان کے سوا باقی مخلوقات کے لئے حکم دین کن یعنی ہو جاوہ موجود ہوگئیں۔ یہ چار چیزیں یہ ہیں۔ قلم، عرش، جنت عدن، آدم ؑ
علم کتابت سب سے پہلے دنیا میں کس کو دیا گیا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ سب سے پہلے یہ فن کتابت ابوالبشر حضرت آدم کو سکھایا گیا تھا اور سب سے پہلے انہوں نے لکھنا شروع کیا (کعب احبار) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سب سے پہلے یہ فن حضرت ادریس ؑ کو ملا ہے اور سب سے پہلے کاتب دنیا میں وہی ہیں (ضحاک) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر شخص جو کتابت کرتا ہے وہ تعلیم منجانب اللہ ہی ہے۔
خط و کتابت اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ قلم اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر یہ تو ہوتا تو نہ کوئی دین قائم رہتا نہ دنیا کے کاروبار درست ہوتے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ان چیزوں کا علم دنی اجن کو وہ نہیں جانتے تھے اور ان کو جہل کی اندھیری سے نور علم کی طرف نکالا اور علم کتابت کی ترغیب دی کیونکہ اس میں بیشمار اور بڑے منافع ہیں جن کا اللہ کے سوا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ تمام علوم و حکم کی تدوین اور اولین و آخرین کی تاریخ اس کے حالات و مقامات اور اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کتابیں سب قلم ہی کے ذریعہ لکھی گئیں اور رہتی دنیا تک باقی رہیں گی، اگر قلم نہ ہو تو دنیا و دین کے سارے ہی کام مختل ہوجائیں۔
علمائے سلف و خلف نے ہمیشہ خط و کتابت کا بہت اہتمام کیا ہے۔ علمائے سلف و خلف نے ہمیشہ تعلیم خط و کتابت کا بڑا اہتمام کیا ہے جس پر ان کی تصانیف کے عظیم الشان ذخائر آج تک شاید ہیں۔ افسوس ہے کہ ہمارے اس دور میں علماء و طلباء نے اس اہم ضرورت کو ایسا نظر انداز کیا ہے کہ سینکڑوں میں دوچار آدمی مشکل سے تحریر کتابت کے جاننے والے نکلتے ہیں فی اللہ المشت کے۔
رسول اللہ ﷺ کو کتابت کی تعلیم نہ دینے کا راز۔ حق تعالیٰ جل شانہ، نے خاتم الانبیاء ﷺ کی شان کو لوگوں کے فکر و قیاس سے بالاتر بنانے کے لئے آپ کی جائے پیدائش سے لے کر آپ کے ذاتی حالات تک سب ایسے بنائے تھے کہ جن میں کوئی انسان اپنی ذاتی کوشش و محنت سے کوئی کمال حاصل نہیں کرسکتا۔ جائے پیدائش کے لئے عرب کا صحرا تجویز ہوا جو متمدن دنیا اور علم و حکمت کے گہواروں سے بالکل کٹا ہوا تھا اور راستے اور مواصلات اتنے دشوار گزار تھے کہ شام و عراق اور مصر وغیرہ کے متمدن شہروں سے یہاں کے لوگوں کا کوئی جوڑ نہ تھا، اسی لئے عرب سب کے سب ہی امیین کہلاتے ہیں، ایسے ملک اور ایسے قبائل میں آپ پیدا ہوئے اور پھر حق تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ عرب کے لوگوں میں جو خال خال کوئی علم و حکمت اور خط و کتابت سیکھ لیتا تھا، آپ کو اس کے سیکھنے کا بھی موقع نہ دیا گیا، ان حالات میں پیدا ہونے والے انسان سے علم و حکمت اور اخلاق فاضلہ اس کے سیکھنے کا بھی موقع نہ دیا گیا، ان حالات سے پیدا ہونے والے انسان سے علم و حکمت اور اخلاق فاضلہ عالیہ کا کس کو تصور ہوسکتا ہے۔ اچانک حق تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا اور علم و حکمت کا غیر منقطع سلسلہ آپ کی زبان مبارک پر جاری فرما دیا، فصاحت و بلاغت میں عرب کے بڑے بڑے شعراء و بلغار آپ کے سامنے عاجز ہوگئے یہ ایک ایسا کھلا ہوا معجزہ تھا کہ ہر آنکھوں والا اس کو دیکھ کر یہ یقین کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپ کے کمالات انسانی سعی و عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے غیبی عطیات ہیں، خط و کتابت کی تعلیم نہ دینے میں بھی یہی حکمت تھی۔ (ماخوذ از قرطبی)
علم الانسان مالم یعلم، اس سے پہلی آیت میں تعلیم کے ایک خاص ذریعہ کا ذکر تھا جو عام طور پر تعلیم کے لئے استعمال ہوتا ہے یعنی قلمی تعلیم۔
ذریعہ علم صرف قلم نہیں بلکہ بیشمار ذرائع ہیں۔ اس آیت میں اس کا ذکر ہے کہ اصل تعلیم دینے والا اللہ تعالیٰ سبحانہ ہے اور اس کے لئے ذرائع تعلیم بیشمار ہیں، کچھ قلم ہی کیساتھ مخصوص نہیں اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ علم دیا جس سے وہ پہلے ناواقف تھا، اس میں قلم یا کسی دوسرے ذریعہ تعلیم کا ذکر نہ فرمانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ حق تعالیٰ کی یہ تعلیم انسان کی ابتداء آفرنیشن سے جاری ہے کہ اول اس میں عقل پیدا کی جو سب سے بڑا ذریعہ لم ہے، انسان اپنی عقل سے خود بغیر کسی تعلیم کے بہت سی چیزیں سمجھتا ہے پھر اس کے پس و پیش میں اپنی قدرت کاملہ کے ایسے مناظر اور دلائل قدتر رکھ دیئے جن کا مشاہدہ کر کے وہ اپنی عقل سے اپنے پیدا کرنے والے کو پہچان سکے۔ پھر وحی اور الہام کے ذریعہ بہت سی چیزوں کا علم انسان کو عطا فرمایا اور بہت سی ضروری چیزوں کا علم انسان کے ذہن میں خود بخود پیدا فرما دیا جس میں کسی زبان یا قلم کی تعلیم کا دخل نہیں، ایک بےشعور بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے ساتھ ہی اپنی غذا کے مرکز یعنی ماں کی چھاتیوں کو پہچان لیتا ہے پھر چھاتی سے دودھ اتارنے کے لئے منھ کو دبانا (اس کو کس نے سکھایا اور کو نسکھا سکتا تھا، پھر اس کو ایک ہنر رونے کا اللہ تعالیٰ نے اول ولادت ہی سے سکھا دیا، بچے کا یہ رونا اس کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے اس کو روتا ہوا دیکھ کر ماں باپ اس فکر میں پڑجاتے ہیں کہ اس کو کیا تکلیف ہے۔ اس کی بھوک پیاس، سردی، گرمی کی سب ضروریات اسی رو دینے سے ہی پوری ہوتی ہیں۔ یہ رونے کی تعلیم اس نومولود کو کون کرسکتا تھا اور کس طرح کرتا۔ یہ سب وہبی علم ہے جو اللہ تعالیٰ ہر جاندار کے خصوصاً انسان کے ذہن میں پیدا فرما دیتا ہے۔ اس ضروری علم کے بعد پھر زبانی عتلیم پھر قلبی تعلیم کے ذریعہ اس کے علوم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور مالم یعلم یعنی جس کو وہ نہیں جانتا تھا اس کے کہنے کی بظاہر کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ عادة تعلیم تو اسی چیز کی ہوتی ہے جس کو انسان نہیں چاہتا اس کے فرمانے میں اشارہ اس طرف ہے کہ اس خداداد علم و ہنر کو انسان اپنا ذاتی کمال نہ سمجھ بیٹھے، مالم یعلم سے اشارہ فرما دیا کہ انسان پر ایک ایسا وقت بھی آیا ہے جب وہ کچھ نہیں جانتا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے ہے اخرجکم من بطون امھتکم لاتعلمون شیاً یعنی اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے بطن سے ایسی حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، معلوم ہوا کہا نسان کو بھی جو بھی علم و ہنر ملا ہے وہ اس کا ذاتی نہیں بلکہ سب خالق ومالک کا عطیہ ہے۔ (مظہری) اور بعض حضرات مفسرین نے اس آیت میں انسان سے حضرت آدم یا نبی کریم ﷺ کو مراد قرار دیا ہے کیونکہ آدم ؑ سب سے پہلے انسان ہیں جن کو تعلیم دی گی وعلم ادم الاسمآء کلھا اور نبی کریم ﷺ وہ آخری پیغمبر ہیں جن کی تعلیم میں تمام انبیاء سابقین کے علوم اور لوح و قلم کے علوم شامل ہیں کما قال ومن علومک علم اللوح والقلم
یہاں تک سورة اقراء کی پانچ آیتیں سب سے پہلے نازل ہوئیں، اس کے بعد کی آیتیں کافی عرصہ کے بعد نازل ہوئی ہیں کیونکہ باقی آیتیں آخر سورت تک ابوجہل کے ایک واقعہ کے متعلق ہیں اور ابتداء وحی و نبوت میں تو مکہ میں کوئی بھی آپ کا مخالف نہ تھا سب آپ کو امین کے لقب سے پکارتے تھے اور محبت و تعظیم کرتے تھے، ابوجہل کی مخالفت اور دشمنی خصوصاً نماز پڑھنے سے روکنے کا واقعہ جو آگے آنے والی آیات میں مذکور ہے ظار ہے کہ اس وقت کا ہے جب رسول اللہ ﷺ نے نبوت و دعوت کا اعلان فرمایا اور شب معراج میں آپ کو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔
Ayahs 96:6–7کلا ان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی، اس آیت کا روئے سخن اگرچہ ایک خاص شخص یعنی ابوجہل کی طرف ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی مگر عنوان عام رکھا ہے جس میں عام انسانوں کی ایک کمزوری بیان کی گئی وہ یہ ہے کہ انسان جب تک دوسروں کا محتاج رہتا ہے تو سیدھا چلتا ہے اور جب اس کو یہ گمان ہوجائے کہ میں کسی کا محتاج نہیں سب سے بےنیاز ہوں تو اس کے نفس میں طغیان یعنی سرکشی وغیرہ اور دوسروں پر ظلم وجور کے رجحانات پیدا ہوجاتے ہیں، جیسا کہ عموماً مالداروں اور اقتدار حکومت والوں اور اولاد و احباب یا خدام کی کثرت رکھنے الوں میں اس کا بکثرت مشاہدہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمول اور جماعت جتھے کی طاقت میں مست ہو کر کسی کو نظر میں نہیں لاتے، چونکہ ابوجہل کا بھی یہی حال تھا کہ مکہ مکرمہ کے خوشحال لوگوں میں سے تھا اور اس کے قبیلے بلکہ پورے شہر کے لوگ اس کی تعظیم و تکریم کرتے اور بات مانتے تھے وہ بھی اسی پندار میں مبتلا ہوا یہاں تک کہ سید الانبیاء اور اشرف الخلائق کی شان میں گستاخی کر بیٹھا۔ اگلی آیت میں ایسے سرکشوں کے برے انجام پر تنبیہ ہے۔
Ayah 96:8ان الی ربک الرجعی، رجعی مثل بشریٰ کے اسم مصدر ہے۔ معنے یہ ہیں کہ سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اس کے ظاہر معنے تو یہی ہیں کہ مرنے کے بعد سب کو اللہ کے پاس جانا اور اچھے برے اعمال کا حساب دینا ہی اس وقت اس طغیانی اور سرکشی کے انجام بد کو آنکھوں سے دیکھ لیگا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اس جملے میں مغرور انسان کے غرور کا علاج بتلایا گیا ہو کہ اے احمق تو اپنے آپ کو سب سے بےنیاز خود مختار سمجھتا ہے اگر غور کرے گا تو اپنی ہر حالت بلکہ ہر حرکت و سکون میں تو اپنے آپ کو رب تعالیٰ کا محتاج پائیگا، اگر اس نے تجھے کسی انسان کا محاتج بظاہر نہیں بنایا تو کم از کم اس کو تو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا تو ہر چیز میں محتاج ہے اور انسانوں کی محتاجی سے بےنیاز سمجھنا بھی صرف ظاہری مغالطہ ہی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مدنی الطبع بنایا ہے وہ اکیلا اپنی ضروریات میں سے کسی ایک ضرورت کو بھی پورا نہیں کرسکتا، اپنے ایک لقمہ کو دیکھے تو پتہ چلے گا کہ ہزاروں انسانوں اور جانوروں کی محنت شاقہ اور مدت دراز تک کام میں لگے رہنے کا نتیجہ یہ لقمہ تر ہے جو بےفکری کے ساتھ نگل رہا ہے اور اتنے ہزاروں انسانوں کو اپنی خدمت میں لگا لینا کسی کے بس کی بات نہیں، یہی حال اس کے لباس اور تمام دوسری ضروریات کا ہے کہ ان کے مہیا کرنے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں اور جانوروں کی محنت کا دخل ہے جو تیرے غلام نہیں اگر تو ان سب کو تنخواہیں دے کر بھی چاہتا کہ اپنے اس کام کو پورا کرے تو ہرگز تیرے بس میں نہ آتا، ان باتوں میں غور و فکر انسان پر یہ راز کھولتا ہے کہ اس کی تمام ضروریات کے مہیا کرنے کا نظام خود اس کا بنایا ہوا نہیں بلکہ خالق کائنات نے اپنی حکمت بالغہ سے بنایا اور چلایا ہے کسی دل میں ڈال دیا کہ زمین میں کشات کا کام کرے، کسی کے دل میں یہ پیدا کردیا کہ وہ لکڑی اور نجاری کا کام کرے، کسی کے دل میں لوہار کے کام کی رغبت ڈال دی، کسی کو محنت مزدوری کرنے ہی میں راضی کردیا، کسی کو تجارت و صنعت کی طرف راغب کر کے انسانی ضروریات کے بازار لگا دیئے۔ نہ کوئی حکومت اس کا نظم قانون سے کرسکتی تھی نہ کوئی فرد۔ اس لئے اس غور فو کر کا لازمی نتیجہ الی ربک الرجع ہے یعنی انجام کار سب چیزوں کا حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے تابع ہونا مشاہدہ میں آجاتا ہے۔
Ayahs 96:9–14ارءیت الذی ینھی عبداً اذا صلی، اس آیت سے آخر سورة تک ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہی کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھنے کا حکم دیا اور آپ نے نماز پڑھنا شروع کی تو ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا اور دھمکی دی کہ آئندہ نماز پڑھیں گے اور سجدہ کریں گے تو وہ معاذ اللہ آپ کی گردن کو پاؤں سے کچل دے گا، اس کے جواب اور اس کو زجر کرنے کے لئے یہ آیات آئی ہیں ان میں فرمایا الم یعلم بان اللہ یریٰ یعنی کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، یہاں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس کو دیکھ رہا ہے اس لئے عام اور شامل ہے کہ نماز پڑھنے والی بزرگ ہستی کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس سے روکنے والے بدبخت کو بھی اور یہاں صرف اس جملہ پر اکتفا کیا گیا کہ ہم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں، آگے دیکھنے کے بعد کیا حشر ہوگا اس کے ذکر نہ کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ہولناک انجام قابل تصور نہیں۔
Ayahs 96:15–18لنسفعام بالنارصیتہ سفع مصدر سے مشتق ہے جس کے معنے سختی کے ساتھ کھینچنے کے ہیں اور ناصیتہ سر کے اگلے بالوں کو کہا جاتا ہے جو پیشانی کے اوپر ہوتے ہیں جس شخص کے پیشانی کے بال کسی کے ہاتھ میں آجائیں وہ اس کے ہاتھ میں مجبور و مقہور ہو کر رہ جاتا ہے۔
Ayah 96:19کلا لا تطعہ و اسجد و اقترب یہ نبی کریم ﷺ کو ہدایت ہے کہ ابوجہل کی بات پر کان نہ دھریں اور سجدہ اور نماز میں مشغول رہیں کہ یہی اللہ تعالیٰ کے قرب کا راستہ ہے۔
سجدے کی حالت میں قبولیت دعائ۔ ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اقرب مایکون العبد من ربہ وہوساجد فاکتروا الدعائ، یعنی بندہ اپنے رب سے قریب تر اس وقت ہوتا ہے جبکہ وہ سجدہ میں ہو اس لئے سجدہ میں بہت دعا کیا کرو اور ایک دوسری صحیح حدیث میں یہ لفظ بھی آئے ہیں فانہ قمن ان یستجاب لکم، یعنی سجدے کی حالت میں دعا قبول ہونے کے لائق ہے۔
مسئلہ۔ نفل نمازوں کے سجدہ میں دعا کرنا ثابت ہے، بعض روایات حدیث میں اس دعا کے خاص الفاظ بھی آئے ہیں وہ الفاظ ماثورہ پڑھے جائیں تو بہتر ہے۔ فرائض میں اس طرح کی دعائیں ثابت نہیں، کیونکہ فرائض میں اختصار مطلوب ہے۔
مسئلہ۔ اس آیت کو پھڑنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔ صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت پر سجدہ تلاوت کرنا ثابت ہے۔ واللہ اعلم
تمت سورة العلق 5 رمضان سہ 1391 ھ