Ayah 96:17 یہ پانچ آیتیں (اقرا سے مالم یعلم تک) قرآن کی سب آیتوں اور سورتوں سے پہلے اتریں۔ آپ ﷺ " غار حرا " میں خدائے واحد کی عبادت کر رہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر آئے اور آپ ﷺ کو کہا " اقرا " (پڑھیے) آپ ﷺ نے فرمایا۔ " ماانا بقاری (میں پڑھا ہوا نہیں) جبرائیل (علیہ السلام) نے کئی بار آپ ﷺ کو زور زور سے دبایا، اور بار بار وہی لفظ " اقرا " کہا۔ آپ ﷺ وہی " ما انا بقاری " جواب دیتے رہے۔ تیسری مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) نے زور سے دبا کر کہا۔ " اقرا باسم ربک " بعنی اپنے رب کے نام کی برکت اور مدد سے پڑھیے۔ مطلب یہ ہے کہ جس رب نے ولادت سے اس وقت تک آپ ﷺ کی ایک عجیب اور نرالی شان سے تربیت فرمائی جو پتہ دیتی ہے کہ آپ ﷺ سے کوئی بہت بڑا کام لیا جانے والا ہے کیا وہ آپ ﷺ کو ادھر میں چھوڑ دے گا ؟ ہرگز نہیں۔ اسی کے نام پر آپ ﷺ کی تعلیم ہوگی جس کی مہربانی سے تربیت ہوئی ہے۔
8 یعنی جس نے سب چیزوں کو پیدا کیا، کیا وہ تم میں صفت قرات پیدا نہیں کرسکتا۔
Ayah 96:29 جمے ہوئے خون میں نہ حس ہے نہ شعور، نہ علم، نہ ادراک، محض جماد لا یعقل ہے، پھر جو خدا جمادلا یعقل کو انسان عاقل بناتا ہے، وہ ایک عاقل کو کامل اور ایک امی کو قاری و عالم نہیں بناسکتا۔ یہاں تک قرات کا امکان ثابت کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو کچھ مشکل نہیں کہ تم کو باوجود امی ہونے کے قاری بنا دے، آگے اس کی فعلیت اور وقوع پر متنبہ فرماتے ہیں۔
Ayah 96:310 یعنی آپ ﷺ کی تربیت جس شان سے کی گئی، اس سے آپ ﷺ کی کامل استعداد اور لیاقت نمایاں ہے جب ادھر سے استعداد میں قصور نہیں اور ادھر سے مبداء فیاض میں بخل نہیں بلکہ وہ تمام کریموں سے بڑھ کر کریم ہے۔ پھر وصول فیض میں کیا چیز مانع ہوسکتی ہے ضرور ہے کہ یونہی ہو کر رہے۔
Ayah 96:411 حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں کہ " حضرت نے کبھی لکھا پڑھا نہ تھا، فرمایا کہ قلم سے بھی علم وہی دیتا ہے یوں بھی وہی دے گا۔ " اور ممکن ہے ادھر بھی اشارہ ہو کہ جس طرح مفیض و مستفیض کے درمیان جبرائیل (علیہ السلام) محض ایک واسطہ ہیں۔ جس طرح قلم کا توسط اس کو مستلزم نہیں کہ وہ مستفیض سے افضل ہوجائے۔ ایسے ہی یہاں حقیقت جبرائیلیہ کا حقیقت محمدیہ سے افضل ہونا لازم نہیں آتا۔
Ayah 96:512 یعنی انسان کا بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے تو کچھ نہیں جانتا۔ آخر اسے رفتہ رفتہ کون سکھاتا ہے۔ بس وہی رب قدیر جو انسان کو جاہل سے عالم بناتا ہے، اپنے ایک امی کو عارف کامل بلکہ تمام عارفوں کا سردار بنا دے گا۔
Ayahs 96:6–713 یعنی آدمی کی اصل تو اتنی ہے کہ جمے ہوئے خون سے بنا اور جاہل محض تھا۔ خدا نے علم دیا، مگر وہ اپنی اصل حقیقت کو ذرا یاد نہیں رکھتا دنیا کے مال و دولت پر مغرور ہو کر سرکشی اختیار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے کسی کی پرواہی نہیں۔
Ayah 96:814 یعنی اول بھی اس نے پیدا کیا اور آخر بھی اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ اسی وقت اس تکبر اور خود فراموشی کی حقیقت کھلے گی۔
Ayahs 96:9–1015 یعنی اس کی سرکشی اور تمرد کو دیکھو کہ خود کو تو اپنے رب کے سامنے جھکنے کی توفیق نہیں، دوسرا بندہ اگر خدا کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اسے بھی نہیں دیکھ سکتا۔ ان آیات میں اشارہ ابو جہل ملعون کی طرف ہے۔ جب وہ حضرت کو نماز پڑھتے دیکھتا تو چڑاتا اور دھمکاتا تھا۔ اور طرح طرح سے ایذائیں پہنچانے کی سعی کرتا تھا۔
Ayahs 96:11–131 یعنی نیک راہ پر ہوتا بھلے کام سکھاتا تو کیا اچھا آدمی ہوتا۔ اب جو منہ موڑا تو ہمارا کیا بگاڑا۔ کذا فی موضح القرآن وللمفسرین اقوال فی تفسیر ھا من شاء الاطلاع علیھا فلیراجع، روح المعانی۔
Ayah 96:142 یعنی اس ملعون کی شرارتوں کو اور اس نیک بندے کے خشوع و خضوع کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔
Ayah 96:153 یعنی رہنے دو ! یہ سب کچھ جانتا ہے، پر اپنی شرارت سے باز نہیں آتا۔ اچھا اب کان کھول کر سن لے کہ اگر اپنی شرارت سے باز نہ آیا تو ہم اس کو جانوروں اور ذلیل قیدیوں کی طرح سر کے بل پکڑ کر گھسیٹیں گے
Ayah 96:164 یعنی جس سر پر یہ چوٹی ہے وہ جھوٹ اور گناہوں سے بھرا ہوا ہے گویا اس کا دروغ اور گناہ بال بال میں سرایت کر گیا ہے۔
Ayahs 96:17–185 ابوجہل نے ایک مرتبہ حضرت محمد ﷺ کو نماز سے روکنا چاہا۔ آپ ﷺ نے سختی سے جواب دیا۔ کہنے لگا کہ کیا آپ ﷺ جانتے نہیں کہ مکہ میں سب سے بڑی مجلس میری ہے۔ اس پر فرماتے ہیں کہ اب وہ مجلس والے ساتھیوں کو بلالے۔ ہم بھی اس کی گو شمالی کے لئے اپنے سپاہی بلاتے ہیں۔ دیکھیں کون غالب رہتا ہے۔ چند روز بعد " بدر " کے میدان میں دیکھ لیا کہ اسلام کے سپاہیوں نے اسے گھسیٹا اور آخرت میں جب دوزخ کے فرشتے اس کو نہایت ذلت کے ساتھ جہنم رسید کریں گے۔ روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ ابو جہل حضرت کو نماز میں دیکھ کر چلا کہ بےادبی کرے، وہاں پہنچانہ تھا کہ گھبرا کر پیچھے ہٹا اور لوگوں کے دریافت کرنے پر کہا کہ مجھے اپنے اور محمد ﷺ کے درمیان ایک آگ کی خندق نظر آئی جس میں کچھ پر رکھنے والی مخلوق تھی۔ میں گھبرا کر واپس آگیا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ (ملعون) ذرا آگے بڑھتا فرشتے اس کی بوٹی بوٹی جدا کردیتے۔ گویا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اس کو " سندع الزبانیۃ " کا ایک چھوٹا سا نمونہ دکھلادیا۔ (تنبیہ) اکثر مفسرین نے " زبانیۃ " سے دوزخ کے فرشتے مراد لئے ہیں۔
Ayah 96:196 یعنی آپ ﷺ اس کی ہرگز پروانہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے۔ جہاں چاہو شوق سے اللہ کی عبادت کرو اور اس کی بارگاہ میں سجدے کرو اور اس کی بارگاہ میں سجدے کر کے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ " بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ سے نزدیک ہوتا ہے۔ "