96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsاحسن البیان

Ayah 96:1

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا (1)

1۔ 1 یہ سب سے پہلی وحی ہے جو نبی ﷺ پر اس وقت آئی جب آپ غار حرا میں مصروف عبادت تھے، فرشتے نے آ کر کہا، پڑھ آپ ﷺ نے فرمایا، میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں، فرشتے نے آپ ﷺ کو پکڑ کر زور سے بھینچا اور کہا پڑھ، آپ ﷺ نے پھر وہی جواب دیا۔ اس طرح تین مرتبہ اس نے آپ ﷺ کو بھینچا (تفصیل کے لئے دیکھئے صحیح بخاری بدء الوحی، مسلم، باب بدء الوحی، اقرا) جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے وہ پڑھ، جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
Ayah 96:2

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ (1)

2۔ 1 مخلوقات میں سے بطور خاص انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا جس سے اس کا شرف واضح ہے۔
Ayah 96:3

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے (1)

3۔ 1 آپ ﷺ نے فرمایا میں تو قاری ہی نہیں اللہ نے فرمایا، اللہ بہت کرم والا ہے پڑھ، یعنی انسانوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرنا اس کا وصف خاص ہے۔
Ayahs 96:4–9

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔ (1)

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو بےپرواہ (یا تونگر) سمجھتا ہے۔

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

یقیناً لوٹنا تیرے رب کی طرف ہے۔

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

(بھلا) اسے بھی تو نے دیکھا جو بندے کو روکتا ہے۔

4۔ 1 قلم کا معنی ہے قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے۔ اس لیے آلہ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔
Ayah 96:10

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

جبکہ وہ بندہ نماز ادا کرتا ہے (1)۔

10۔ 1 مفسرین کہتے ہیں کہ روکنے والے سے مراد ابو جہل ہے جو اسلام کا شدید دشمن تھا۔
Ayah 96:11

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

بھلا بتلا تو اگر وہ ہدایت پر ہو (1)

11۔ 1 یعنی جس کو یہ نماز پڑھنے سے روک رہا ہے، وہ ہدایت پر ہو۔
Ayah 96:12

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا پرہیزگاری کا حکم دیتا ہو۔ (1)

12۔ 1 یعنی اخلاص، توحید، اور عمل صالح کی تعلیم، جس سے جہنم کی آگ سے انسان بچ سکتا ہے تو کیا یہ چیزیں (نماز، روزہ وغیرہ) ایسی ہیں کہ ان کی مخالفت کی جائے اور اس پر اس کو دھمکیاں دی جائیں۔
Ayah 96:13

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو (1)

13۔ 1 یعنی یہ ابو جہل اللہ کے پیغمبر کو جھٹلاتا ہو اور ایمان منہ سے پھیرتا ہو (مجھے بتلاؤ)
Ayah 96:14

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔ (1)

3۔ 1 مطلب یہ ہے کہ یہ شخص جو مذکورہ حرکتیں کر رہا ہے کیا نہیں جانتا کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے وہ اس کو اسکی سزا دے گا۔
Ayah 96:15

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے (1)

15۔ 1 یعنی نبی ﷺ کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دونگا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کرونگا) نبی ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے (صحیح بخاری)
Ayahs 96:16–17

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے۔

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

یہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے۔

(5) پیشانی کی یہ صفات بطور مجاز ہیں، جھوٹی ہے اپنی بات میں، خطاکار ہے اپنے فعل میں۔
Ayahs 96:18–19

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلا لیں گے۔

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

خبردار ! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجدہ کر اور قریب ہوجا۔

(6) حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل گزرا تو کہ اے محمد ! ﷺ میں نے تجھے نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ اور آپ ﷺ سے سخت دھمکی آمیز باتیں کیں، آپ ﷺ نے کڑا جواب دیا تو کہنے لگا اے محمد ! ﷺ تو مجھے کس چیز سے ڈراتا ہے ؟ اللہ کی قسم، اس وادی میں سب سے زیادہ میرے حمایتی اور مجسل والے ہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابن عباس ؓ عنھما فرماتے ہیں، اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتا تو اسی وقت ملائکہ عذاب اسے پکڑ لیتے۔ (ترمذی، تفسیر سورة اقرأ مسند أحمد 329/1 و تفسیر ابن جریر) اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ اس نے آگے بڑھ کر آپ ﷺ کی گردن پر پیر رکھنے کا رادہ کیا کہ ایک دم الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کرنے لگا، اس سے کہا گیا، کیا بات ہے ؟ اس نے کہا کہ " میرے اور محمد (صلی اللہ علیہ صلم) کے درمیان آگ کی خندق، ہولناک منظر اور بہت سارے پر ہیں " رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اگر یہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کی بوٹی بوٹی نوچ لیتے (کتاب صفۃ القیامۃ، باب ان الأنسان لیطغیٰ) الزبانیۃ، داروغے اور پولیس۔ یعنی طاقتو لشکر، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔