Ayahs 96:1–19لغات القرآن۔
اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔
تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل ہوا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس روایت کا خلاصہ یہ ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ وحی سے پہلے آپو کو رویائے صادقہ یعنی سچے خوابوں کی کیفیت عطا کی گئی۔ آپ رات کو جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح کو دن کی روشنی کی طرح اسی طرح واقع ہوجاتا تھا۔ اس کے بعد آپ تنہائی پسند ہوگئے۔ آپ کئی کئی دن کا کھانا اور پانی لے کر مکہ کے ان پہاڑوں کی طرف نکل جاتے جن پہاڑوں نے مکہ کو گھیرا ہو ا ہے۔
ایک دن جب آپ جبل نور کے غار حرا میں گذشتہ انبیاء کے طریقے پر عبادت کر رہے تھے کہ اچانک ایک فرشتہ (جبرئیل ) نے آکر کہا ’ اقرا “ پر ھئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے انتہائی سادگی سے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس فرشتے نے آگے بڑھ کر مجھے اس قدر زور سے بھینچا کہ میں پسینہ پسینہ ہوگیا اور اس کا بھینچنا میرے لئے ناقابل برداشت ہوگیا۔ اس کے بعد اس نے پھر کہا ’ اقرا “ پڑھئیے۔ آپ کا پھر وہی جواب تھا۔ اس فرشتے نے پھر مجھے بھینچا اور چھوڑ کر کہا ’ اقرا “ ۔ میں نے تیسری مرتبہ بھی وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ پھر اس فرشتے نے کہا ”……“ اور پھر مالم یعلم تک پانچ آیات پڑھائیں۔ ان آیات کو پڑھنے کے بعد آپ وحی کی شدت سے کانپنے لگے۔ غار حراء سے گھر تشریف لائے۔
ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا کہ مجھے اڑھا دو ، مجھے اڑھا دو ۔ حضرت خدیجہ ؓ نے گرم کپڑے اڑھا دئیے۔ جب آپ نے کچھ دیر آرام فرمایا تو آپ نے اپنی محبوب رفیقہ حیات ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبر ؓ سے فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ یہ۔ شاید اس وقت حضرت خدیجہ ؓ گھبرا گئی ہوں گی لیکن اس موقع پر حضرت خدیجہ کے الفاظ آپ کے اخلاق کریمانہ اور سیرت پاک کی بہترین تشریح ہیں۔ حضرت خدیجہ نے کہا اللہ آپ کو رسوا نہیں کرسکتا کیونکہ آپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی یعنی بہترین معاملہ کرتے ہیں۔ سچ بولتے اور امانتیں ادا کرتے ہیں۔ جو بےسہارا ہیں مجبور ہیں آپ ان کا سہارا بن کر ان کا بوجھ برداشت کرتے ہیں۔ مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے ہیں۔ بھلے کاموں میں لوگوں کی مدد کریت ہیں۔ پھر اس کے بع دانجیل کے ایک برے عالم ورقہ ابن نوفل کے پاس آپ کو لے کر گئیں اس وقت ورنہ ابن نوفل بہت بوڑھے، کمزور اور آنکھوں سے محروم ہوچکے تھے۔
ام المومنین نے فرمایا کہ واقعہ سننے کے بعد ( کہ ایک فرشتہ آیا تھا اور اس نے مجھے چند جملے سکھائے تھے) ورقہ ابن نوفل نے کہا کہ یہ تو وہی ناموس (فرشتہ ) تھا جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ پر نازل ہوا تھا۔ ورقہ ابن نوفل سمجھ گئے کہ انجیل میں جس آخری نبی کے متعلق بیان کیا گیا ہے وہ آپ ہی ہیں۔ ورقہ نے کہا اے کاش میں آپ کے اعلان نبوت کے وقت قوی اور مضبوط جوان ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو (اس شہر مکہ سے) نکال دے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے (بڑی حیرت سے کہا) کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص وہ چیز ( حق و صداقت کی بات) لے کر آیا ہو اور اس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔
ورقہ نے کہا اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو میں آپ کی پوری مدد کروں گا۔ لیکن زیادہ عرصہ نہ گزارا تھا کہ ورقہ ابن نوفل کا انتقال ہوگیا۔
امام بخاری نے اپنی ” صحیح بخاری “ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے جو روایت نقل کی ہے اس کا خلاصی عرض کردیا گیا۔ اس سے پہلے کہ ان پانچ آیتوں کی تشریح عرض کی جائے جو سب سے پہلی وحی تھی یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ ورقہ ابن نوفل جو توریت، زبور، انجیل کو لکھتے تھے اور ان کے بڑے ماہر عالم تھے انہوں سابقہ کتابوں سے آپ کی زندگی کے متعلق پیشین گوئیوں کا علم تھا اس لئے انہوں نے اس بات کا ذکر کردیا کہ ایک وقت آئے گا جب آپ کو بےاندازہ چاہنے والی قوم حق وصدات کی آواز بلند کرنے کی وجہ سے شہر مکہ سے نکال دے گی۔
سوال یہ ہے کہ موجودہ کتاب مقدس ( توریت، زبور، انجیل) میں سے وہ ساری پیشین گوئیاں کہاں غائب ہوگئیں ؟ تو اس کا بہت سادہ جواب ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے اپنی کتابوں میں اس قدر تبدیلیاں کی ہیں کہ آج ان کی اصلی شکل تک بگر کر رہ گئی ہے اور ان کتابوں میں سے ساری سچائیوں کو نکال پھینکا گیا ہے۔
سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات کی تشریح اور تفصیل
اقرا ……… اپنے اس رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا۔ اس آیت میں سب سے پہلے تو ’ اقرا “ فرمای اجس کا مقصد یہ ہے کہ دین اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ اللہ نے جو اپنا کلام نازل فرمایا ہے اس کو پڑھا جائے، سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔
دوسرے یہ کہ اس آیت میں صرف پیدا کرنے کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان اور پوری کائنات کو پیدا کیا ہے۔
خلق الانسان من علق۔ جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ یعنی پوری کائنت کی تخلیق بھی اسی نے کی ہے اور انسان کو بھی ایک جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔ علق کے معنی جمے ہوئے خون کے آتے ہیں۔ جو آدمی کے اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے درمیان کیفیت کا اظہار ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو مٹی اور نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ پھر وہ نطفہ علقہ بن جاتا ہے یعنی
جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرلیتا ہے پھر وہ مضگہ بنتا ہے یعنی وہی جما ہوا خون گوشت اور ہڈیوں مین تبدیل ہوجاتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ اور پھر وہ انسانی شکل اختیار کرکے اس دنیا میں لایا جاتا ہے۔
اقرا وربک الاکرم۔ اس رب کے نام سے پڑھئے جو مہربان، فیاض اور درگزر کرنے والا کریم ہے۔ اس جگہ پھر ایک مرتبہ ” اقرا “ فرمایا جس کا مقصد تاکید کرنا ہے کہ اسی کے نام سے پڑھو۔ اکرم کی صفت سے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور کرم کرنے والا ہے۔ اس نے کائنات اور انسان کو اپنی کسی غرض یا مقصد کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ اس میں سراسر انسان ہی کے فائدے ہیں یہ تو اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندے پر اس قدر مہربانی فرمائی ہے۔
اب بندے کا کام ہے یہ ہے کہ اپنے خالق ومالک اللہ کا احسان مان کر صرف اسی کی عبادت و بندگی کرے کیونکہ سب کو لوٹ کر آخر کار اسی کی طرف جانا ہے۔ جہاں وہ انسان کے ہر اچھے عمل کا بہترین اجر عطا فرمائے گا۔
الذی علم بالقلم۔ جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔ یعنی اس نے قلم کے ذریعہ آدمی کو وہ علوم سکھائے جن کو وہ پہلے سے نہ جانتا تھا۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قل کو پیدا کیا۔ اللہ نے قلم کو حکم دیا کہ وہ لکھے۔ چناچہ اس نے ان تمام چیزوں کو جو قیامت تک ہونے والی تھین وہ لکھ دیں۔ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کے پاس عرش پر موجود ہے۔ (قرطبی) ۔
اس میں اللہ نے اس قلم کی قسم بھی کھائی ہے جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جن سے وہ تمام ہونے والے واقعات اور لوگوں کے حالات کو لکھتے ہیں ۔ اور اس قلم کی بھی قسم کھائی ہے جس کے ذریعہ ایک آد می اپنے دلی جذبات کو نوک قل پر لاتا ہے۔ امام تفسیر حضرت مجاہد نے حضرت ابو عمرو سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات میں چار چیزوں کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے۔ ان کے علاوہ ساری مخلوق کے لئے حکم دیا ” کن “ ہوجا اور وہ موجود ہوگئیں۔
چار چیزیں جنہیں اللہ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے وہ یہ ہیں۔
1۔ قلم۔ 2۔ عرش۔ 2۔ جنت عدن۔ 4۔ اور حضرت آدم علیہ السلام۔ (قرطبی)
حضرت قتادہ نے فرمایا ہے کہ قلم اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر قلم نہ ہوتا تو نہ کوئی دین قائم رہتا اور نہ دنیا کے کاروبار درست ہوتے۔ یہ قلم ہی کی برکت ہے کہ جس کے ذریعہ تمام آسمانی اور انسانی علوم محفوظ ہیں۔ جن حضرات نے قرٓان کریم کی تفاسیر، حدیث رسول ﷺ اور ہزاروں لاکھوں کتابیں لکھی ہیں، انسانی تاریخ کو محفوظ کیا ہے یہ سب قلم ہی کی وجہ سے ہے۔ اگر قلم نہ ہوتا تو یہ علمی ذخیرہ ایک نسل سے دوسری نسل تک کیسے پہنچتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جہالت کے اندھیروں کو دین اسلام کی روشنی نے ہی دور کیا ہے۔ اگر قرآن و سنت کی روشنی میں ہمارے اکابر اور بزرگ محنت نہ کرتے تو ا اج بھی دنیا میں جہالت کے اندھیرے ہی ہوتے ۔ آج جہاں بھی علم کی روشنی ہے وہ سب کا سب فیض نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اور آپ کی امت کے مخلص علماء سے وابستہ ہے جس کا ذریعہ قلم ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے اور قلم کے ذریعہ ساری دنیا کے اندھیرے دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
علم الانسان ما لم یعلم۔ اللہ نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ جانتا نہ تھا۔ قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا گیا اللہ نے تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ سے اس طرح پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان نے جب اس دنیا میں قدم رکھا تو اسے کچھ بھی علم نہ تھا۔ اسے جو کچھ حاصل ہوا وہ اللہ کے دینے سے ہی حاصل ہوا ہے۔ انسان کو تعلیم دینے والا صرف اللہ ہے اور اسی نے دنیا میں علوم کے لاتعداد ذرائع پیدا کئے ہیں جن سے انسان ہر آن کچھ نہ کچھ سیکھتا ہی رہتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے کائنات کو اور انسان کو پیدا کیا۔ پوری کائنات میں اسی کا کرم ہے۔ اور اس کا سب سے بڑا کرم یہ ہے کہ انسان کو قلم کے ذریعہ ایسے علوم سکھائے ہیں جن سے وہ قطعاً ناواقف تھا۔
کلا ان الانسان سے اقترب تک آیات کا عام مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں آدمی کی سرکشی اور نافرمانی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بےنیاز سمجھتا ہے یعنی اگر اس کو دنیا کی ذرا سی دولت یا سرداری مل جاتی ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اب ہر شخس میرا محتاج ہے اور میں کسی کا محتاج نہیں ہوں۔ وہ ہر شخس کو اپنے قدموں پر جھکائے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ آدمئی دنیا میں کتنا جئے گا کب تک زندہ رہے گا آخر کار اس کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ایسے متکبر آدمی کو کسی کی عبادت اور نیکی برداشت نہیں ہوتی بلکہ وہ اس کر وکنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر نیک اور بھلی بات کو جھٹلاتا ہر سچائی سے منہ پھیر پھیر کر چلتا ہے اور اگر چند لوگ اس کے ساتھ ہیں تو اس گروہ پر ناز کرتے ہوئے یہ کہت ا ہے کہ و میں جب چاہوں گا اپنے لوگوں کے ذریعہ جو چاہے کر گزروں گا فرمایا کہ آدمی کا اس طرح سوچنا انتہائی غلط ہے کیونہ اگر وہ اپنے گروہ کو بلانے کی بات کرتا ہے تو اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اگر عذاب کے فرشتوں کو آواز دے دی اور اس کے فرشتے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹے ہوئے جہنم میں لے جا کر ڈال دیں گے تو کوئی شخص یا گروہ اس کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے گا۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے شخص کی بات کو نہ تو کوئی اہمیت دی جائے اور نہ مانا جائے بلکہ اپنے رب کا قرب حاصل کرنے کے لئے اس کے سامنے جھکا جائے اسی کو سجدے کئے جائیں تو اسی میں انسان کی عظمت ہے۔ یہ تو ان ا ایات کا عام مفہوم سمجھ میں آتا ہے لیکن مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ آیات خاص طور پر ابو جہل جیسے متکبر آدمی کو اس کی غلطیوں پر آگاہ کرنے کے لئے نازل کی گئی ہیں۔
ابوجہل مکہ مکرمہ میں ایک خوش حال، تیز طرار اور مکار آدمی تھا۔ اس کی چرب زبانی اور دنیاوی اثرو رسوخ کی وجہ سے کچھ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہوگئے تھے جو اس کی بات سنتے تھے۔ مال و دولت، چرب زبانی کچھ لوگوں کا گروہ بن جانے سے وہ اس گھمنڈ اور دھوکے میں مبتلا ہوگیا تھا کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ ہر شخص اس کا محتاج ہے۔ جب نبی کریم ﷺ کو ایک خاص طریقے پر نماز پڑھتے دیکھا تو وہ پہلے پریشان سا ہوجاتا تھا۔ پھر اس نے کہا کہ اے محمد ﷺ اگر تم نے آئندہ بیت اللہ میں نماز پر ھی اور میں نے تمہیں پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو تمہاری گردن کو اپنے پاؤں سے کچل ڈالوں گا۔ اس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میرا گروہ بہت بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کی اس گستاخی کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے نماز پڑھنے والے کو بھی اور نماز سے روکنے والے کو بھی۔ فرمایا کہ اگر اس شخص یعنی ابوجہل نے اپنی حرکتوں کو نہ چھوڑا تو ہم اس کو اس کی پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر جہنم کی طرف گھسیٹ کرلے جائیں گے۔ اور اگر وہ اپنے گروہ کی دھمکی دیتا ہے تو وہ اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنے سب حمایتوں کو بلالے۔ ہم بھی ان فرشتوں کو بلا لیتے ہیں جن کو اللہ نے عذاب دینے کے لئے مقرر کر رکھا ہے۔ کیا وہ شخص اللہ اور اس کے فرشتوں کا مقابلہ کرسکے گا ؟ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ اس شخص کی باتوں پر دھیان نہ دیجئے۔ کوئی فکر نہ کیجئے۔ آپ نمازیں پڑھیے اور سجدوں کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کیجئے۔ آپ کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ابوجہل جنگ بدر میں مارا گیا اور نبی کریمو کے انورات پھیلتے ہی چلے گئے اور ساری دنیا آپ کے فیض سے روشنی ہوگئی اور روشن ومنور رہے گی۔