Al-Alaq 96:4

Al-Alaq · from ayah 4

96:4

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۟ۙالَّذِىۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ

جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who taught by the pen -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Alaq

All translations of 96:4

جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس نے قلم سے لکھنا سکھایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس نے قلم کے ذریعے (لکھنے پڑھنے کا) علم سکھایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس نے تعلیم دی قلم کے واسطہ سے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس نے سکھایا (پڑھایا انسان کو) قلم کے ذریعے

— مولانا اسحاق مدنی

جس نے قلم کے ذریعہ سے تعلیم دی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس نے تعلیم دی ہے قلم کے ساتھ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا

— محترمہ رفعت اعجاز

who imparted knowledge by means of the pen.

— Muhammad Taqi Usmani

who imparted knowledge by means of the pen.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who has taught by the pen.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who taught by the pen -

— Saheeh International

who, by the pen, taught the human being:

— Muhammad Sarwar

Who taught (to write) with the pen

— Muhammad Habib Shakir

Who hath taught mankind by the pen -

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 96:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتا پھر آپ نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہی عبادت میں گذارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں شروع شروع میں وحی آیہ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا اقرا یعنی پڑھئیے آپ فرماتے ہیں، میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا پڑھو میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں اس نے مجھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العلق 5 یعنی یہ اس کا انتہائی کرم ہے کہ اس حقیر ترین حالت سے ابتدا کر کے اس نے انسان کو صاحب علم بنایا جو مخلوقات کی بلند ترین صفت ہے، اور صرف صاحب علم ہی نہیں بنایا، بلکہ اس کو قلم کے استعمال سے لکھنے کا فن سکھایا جو بڑے پیمانے پر علم کی اشاعت، ترقی، اور نسلا بعد نسل اس کے بقا اور تحفظ کا ذریعہ بنا۔ اگر وہ الہامی طور پر انسان کو قلم اور کتابت کے فن کا یہ علم نہ دیتا تو انسان کی علمی قابلیت ٹھٹھر کر رہ جاتی اور اسے نشو و نما پانے، پھیلنے اور ایک نسل کے علوم دوسری نسل تک پہنچنے اور آگے مزید ترقی کرتے چلے جانے کا موقع ہی نہ ملتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

الذی علم بالقلم تخلیق انسانی کے بعد اس کی تعلیم کا بیان ہے کیونکہ تعلیم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز اور تمام مخلوقات سے اشرف و اعلیٰ بناتی ہے پھر تعلیم کی عام صورتیں دو ہیں ایک زبانی تعلیم دوسرے بذریعہ قلم تحریر و خط سے ابتدائے سورت میں لفظ اقراء میں اگرچہ زبانی تعلیم ہی کی ابتدا ہے مگر اس آیت میں جہاں تعلیم دینے کا بیان آیا ہے اس میں قلمی تعلیم کو مقدم کر کے بیان فرمایا ہے۔ تعلیم کا سب سے پہلا اور اہم ذریعہ قلم اور کتابت ہے۔ ایک صحیح حدیث حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لما خلق اللہ الخلق کتب فی کتابہ فھو عندہ فوق العرش، ان رحمتی غلبت غضبی،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مزید احسان اور ایک تنبیہ: اس اہتمام خاص کی طرف یہاں ’عَلَّمَ بِالْقَلَمِ‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ عربوں پر ایک عظیم احسان ہوا۔ اول تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وحی کو محفوظ کرنے کا یہ اہتمام اس سے پہلے کسی قوم کے لیے بھی نہیں کیا گیا، ثانیاً اہل عرب امی ہونے کے باعث قلم کے استعمال سے اچھی طرح واقف نہ تھے لیکن قرآن کی بدولت انھوں نے اس کے ذریعہ وہ عظیم آسمانی خزانہ محفوظ کیا جو صرف انہی کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لیے سرمایۂ زندگی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–9

4۔ 1 قلم کا معنی ہے قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے۔ اس لیے آلہ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: اس سورت کی پہلی پانچ آیتیں سب سے پہلی وحی ہے، جو آنحضرت ﷺ پر غار حرا میں نازل ہوئی، آپ نبوت سے پہلے کئی کئی دن اس غار میں عبادت کیا کرتے تھے، ایک روز اسی دوران حضرت جبرئیل ؑ آپ کے پاس آئے، اور آپ کو دبایا اور کہا کہ ”پڑھو“ آپ نے فرمایا کہ ”میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں“ یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا، پھر حضرت جبرئیل نے یہ پانچ آیتیں پڑھیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–4

اقرا وربک ............................ مالم یعلم (3:96 تا 5) ” پڑھو ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “۔ انسان کی تخلیق کے بعد ، یہ اس میں بہت بڑی تبدیلی تھی لیکن یہ کر کستا ہے ، وہ بڑا کریم ہے ، اس لئے اللہ نے ایک خوردبینی نکتے میں یہ تغیر رونما کردیا کہ وہ کامل انسان کے بعد عالم انسان بن گیا ، یہ اس قدر عظیم تبدیلی ہے کہ اس سے سرچکرا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان آیات میں اسلام کا نظریہ تعلیم بھی واضح کیا گیا ہے ، رب نے انسان کو تعلیم ” قلم “ کے ساتھ دی۔ کیونکہ اس وقت بھی اور آج بھی انسان کی زندگی میں قلم اہم اور موثرذریعہ تعلیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں کہ " حضرت نے کبھی لکھا پڑھا نہ تھا، فرمایا کہ قلم سے بھی علم وہی دیتا ہے یوں بھی وہی دے گا۔ " اور ممکن ہے ادھر بھی اشارہ ہو کہ جس طرح مفیض و مستفیض کے درمیان جبرائیل (علیہ السلام) محض ایک واسطہ ہیں۔ جس طرح قلم کا توسط اس کو مستلزم نہیں کہ وہ مستفیض سے افضل ہوجائے۔ ایسے ہی یہاں حقیقت جبرائیلیہ کا حقیقت محمدیہ سے افضل ہونا لازم نہیں آتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

آیت 4{ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ } ”جس نے تعلیم دی ہے قلم کے ساتھ۔“ گویا عام انسانی تعلیم کا ذریعہ قلم ہے ‘ جبکہ حضور ﷺ کی تعلیم کے لیے فرشتہ مقرر ہوا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 انسان کی بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ وہ صاحب علم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ مہربانی فرمائی کہ اسے قلم کے استعمال کا طریقہ سکھایا۔ جس سے علم کی وسیع پیمانے پر اشاعت ہوسکتی ہے اور لکھی ہوئی چیز کسی عالم کی موت کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔ اور اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو علم اور کتابت کے فن کا طریقہ الہام نہ کرتا تو انسان کی علمی قابلیتیں سمٹ کر انتہائی محدود رہ جاتیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عام دستور ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ جو علم انبیاء کو بذریعہ وحی عطا فرماتا ہے وہ انسانی علوم سے بلند تر اور ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہوتا ہے۔ یہ استثنائی صورت ہے اور بالخصوص رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 3–4

3۔ یعنی جس نے پڑھے لکھے ہوؤں کے لیے تعلیم کا واسطہ قلم کر بنایا۔ (آیت) ” ربک الاکرم “۔ وہ جس نعمت سے جسے چاہے سرفراز کرے، چناچہ آپ ﷺ کو اس نے خاص ترین نعمت سے نوازا۔ (آیت) ” اقرا “۔ ابھی اوپر آچکا تھا، اب دوبارہ تاکید مضمون کے لیے لایا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پڑھو (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے مخلوق کو پیدا کیا جنس انسان کو دم بستہ سے علق، علقۃ کی جمع ہے اور وہ دم بستہ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے پڑھو، یہ پہلے اقراء کی تاکید ہے، آپ ﷺ کا رب بڑا کریم ہے اس کی برابری کوئی نہیں کرسکتا، (وربک) اقراء کی ضمیر سے حال ہے، جس نے قلم کے ذریعہ لکھنا سکھایا اور سب سے پہلے جس نے قلم سے لکھا وہ ادریس (علیہ الصلوۃ والسلام) ہیں جنس انسان کو وہ علم سکھایا جسے وہ سکھانے سے پہلے نہیں جانتا تھا، (مثلاً ) ہدایت اور کتابت اور صنعت وغیرہ، درحققیت انسان سرکشی کرتا ہے اس بنا پر کہ وہ خود کو مال کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی علم بالقلم . بعض علماء نے کہا کہ عَلَّم کا مفعول محذوف ہے اور بالقلم کا تعلق اسی مفعول سے ہے یعنی علم الخط بالقلم۔ اللہ نے قلم سے لکھنے کا طریقہ سکھایا تاکہ علوم اور آسمانی کتابیں مفید ہو سکیں اور مدت تک باقی رہ سکیں اور دور کی چیزوں کی اطلاع ہو سکے ‘ سب سے پہلے تعلیم تحریر کا ذکر تحریر کی عظمت کو ظاہر کر رہا ہے کیونکہ سیکھنے کی اصل غرض یہ ہے کہ سیکھنے والا یاد رکھے اور علوم باقی رہیں اور علوم کا تحفظ اکثر تحریر کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سب سے اوّل لکھنے والے حضرت ادریس ( علیہ السلام) تھے (یعنی تحریر حرفی حضرت ادریس ( علیہ السلام) کی ایجاد ہے) ۔ میں کہتا ہوں کہ بظاہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر یہ سورت نازل ہوئی کہ اے پیغمبر آپ قرآن کریم اپنے رب کا نام لے کر پڑھا کیجیے جس نے مخلوقات کو پیدا کیا، اور اولاد آدم کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا آپ نے جبریل امین سے فرمایا : کیا پڑھوں تو جبریل امین نے اس سورت کی پہلی چار آیات کو پڑھیں اور فرمایا کہ آپ قرآن پاک پڑھا کیجئے آپ کا رب بڑا کریم و حلیم ہے جس نے نوشتہ قلم سے تعلیم دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 3–4

(1) اقرا و ربک الاکرم…: رسول اللہ ﷺ کے دہشت زدہ ہوجانے کی وجہ یس دوبارہ فرمایا، پڑھ ! تجھے وہ پڑھا رہا ہے جس سے زیادہ کرم والا کوئی نہیں۔ (2) یہ اس کے کرم کی انتہا ہے کہ اتنی حقیر چیز سے پیدا ہونے والے انسان کو علم جیسی بلند ترین صفت سے نواز دیا، بلکہ قلم کے ساتھ علم سکھایا، جس سے علم محفوظ ہوتا اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے۔ یہ نہ ہوتا تو علم محدود اور پھر معدوم ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الذی علم بالقلم۔ اس میں تین مسائل ہیں : قلم علم اور دین کو محفوظ رکھنے اور منتقل کرنے کا ذریعہ۔ مسئلہ نمبر 1۔ الذی علم بالقلم۔ خط و کتاب کی تعلیم دی یعنی انسان کو قلم کے ساتھ خط کی تعلیم دی، سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے قلم اللہ تعالیٰ کی جانب سے عظیم نعمت ہے اگر یہ نہ ہوتاتودین قائم نہ ہوتا اور زندگی درست نہ ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کمال کرم پر دال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس چیز کی تعلیم دی جسے وہ نہیں جانتا تھا اور انہیں جہالت کی ظلمت سے علم کے نور کی طرف نکالا اور علم کتابت کی فضیلت پر آگاہ کیا کیونکہ اس میں ایسے عظیم منافع ہیں جس کا احاطہ اس ذات کے سوا کوئی نہیں کرسکتا، نہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–19

1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–5

﴿اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ003﴾ (آپ پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے) ﴿الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِۙ004﴾ (جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا) ۔ ﴿عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْؕ005﴾ (اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا) ۔ ارشاد فرمایا کہ آپ پڑھیے، اس کا خیال نہ کیجئے کہ آپ نے مخلوق سے نہیں پڑھا۔ آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے اسے علم دینے کے لیے اسباب کی حاجت نہیں ہے اس نے قلم کے ذریعہ سکھایا اور جسے چاہا بغیر قلم کے بھی سکھا دیا انسانوں کے پاس جو علم ہے سارا استاد اور کتاب اور قلم ہی سے تو نہیں ہے جس ذات پاک نے اسباب کے ذریعہ علم دیا اسے بلا اسباب بھی علم دینے پر قدرت ہے آپ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–4

3:۔ ” خلق الانسان “ انسان کو اللہ نے جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، کیونکہ رحم مادر میں نطفہ سب سے پہلے ” علقہ “ (جمے ہوئے خون) کی شکل اختیار کرتا ہے۔ جبکہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” فخلقنا النطفۃ علقۃ “ (مومنون رکوع 1) ۔ ” اقرا “ اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ ” وربک الاکرم “ تیرا رب بڑا کریم ہے جو مجرموں کو فورًا نہیں پکڑتا۔ ” الذی علم بالقلم “ اس نے ایک چھوٹی سی چیز یعنی قلم کے ذریعے سے تعلیم دی۔ کیونکہ تمام کتابیں قلم ہی سے لکھی جاتی ہیں۔ اس طرح قلم تعلیم و تعلم کا ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

وحی کی ابتداء بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور ﷺ کا عطائے نبوت کا وقت قریب آ گیا تو حبب الیہ الخلآء آپ تنہائی پسند فرمانے لگے۔ شہر سے دور نکل جاتے اور تنہائی میں اللہ کا ذکر کرتے۔ آپ کا عام معمول یہ ہوگیا تھا کہ جبل نور پر واقع غار حرا میں تشریف لے جاتے اور چار پانچ دن یا ہفتہ بھر وہیں قیام فرماتے۔ بعض اوقات آپ مہینہ بھر بھی ٹھہر جاتے۔ جب گھر تشریف لاتے تو ام المئومنین حضرت خدیجہ آپ کو توشہ وغیرہ باندھ دیتیں اور پھر تنہائی میں قیام پذیر ہوجاتے۔ نزول وحی سے چھ ماہ قبل آپ کو رئویائے صادقہ یعنی ایسے سچے خوا ب آنے لگے جو کچھ خواب میں دیکھتے اس کا نتیجہ روز روشن کی طرح سامنے آجاتا تو یہ وہ غیر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۝ 4 علم ( تعلیم) اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، فمن التَّعْلِيمُ قوله : الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] ، عَلَّمَ بِالْقَلَمِ [ العلق/ 4] ، وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] ، عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ، وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَ [ البقرة/ 129] ، ونحو ذلك . وقوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ اقرء عند المجھور بسکون الھمزۃ ھو امر من القراءۃ وعند البعض بفتح الراء علی انہ قلب الھمزۃ الفًا ثم حذفھا للامر۔ ومفعول اقرء محدوف ای مایوحی الیک باسم ربک متعلق بمحذوف وھو حال ای اقراء متلبسًا باسم ربک۔ وقال ابو عبیدۃ الباء زائدۃ فھو مفعول اقرء والاسم صلۃ ایضاً والمعنی اذکرربک وقیل الباء بمعنی علیٰ والمعنی اقرء ما تیلی علیک علی اسم اللہ۔ وقیل الباء للاستعانۃ ای مستعینًا بہ۔ الذی الخ الجملۃ صفۃ لربک خلق الانسان الجملۃ تفسیر للجملۃ الاولیٰ وھی الذی خلق وقیل تخصیص بعد التعمیم۔ تشریفا للانسان لمافیہ من بدیع الخلق وعجیب الصنع من علق الجار متعلق بخلق والعلق جمع علقۃ م وھی الدم الجامد واذا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 3–4

اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ (العلق : 3، 4) (پڑھیے، اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔ ) سابقہ مضمون کی تاکید اور اللہ تعالیٰ کے ایک احسان کا تذکرہ یہ اقرأ سابق اقرأ سے بدل کے طور پر آیا ہے اور یہ اسی حکم کی تاکید ہے جو اوپر دیا گیا ہے۔ البتہ اس میں اظہارِاحسان کا پہلو غالب ہے۔ خطاب چونکہ آنحضرت ﷺ کو ہے اس لیے براہ راست آپ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کا یہ کلام لوگوں کو پڑھ کر سنایئے اور ساتھ ہی اس بات کا احساس توانا رکھئے کہ جس طرح پروردگار نے آپ کی غیرمعمولی تربیت کے ذریعے آپ کے اندر بےپناہ صلاحیتوں کا خزانہ رکھ دیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے اور اسی نے انسان کو قلم کے ذریعے لکھنا پڑھنا سکھلایا ہے۔ سورة التّین کے آخر میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، اس نے اپنا حکم قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا ہے جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ نبوت سے پہلے حضرت محمد ﷺ مکہ کے قریب غار حرا میں تشریف فرما تھے کہ اچانک جبریل امین آئے اور اس نے آپ کے سامنے اس سورت کی ابتدائی پانچ تلاوت کیں۔ نبی ﷺ نے اس واقعہ کی تفصیل سے یوں بیان فرمائی ہے۔ (وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْوَحْیِ ۔۔ فَرَجَعَ بِھَا رَسُوْلُ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (وہ جس نے قلم سے تعلیم دی) جس ذات نے لکھنا سکھایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ اکثر مفسرین کے قول کے موافق سب سے پہلے اقراء سے مالم یعلم تک یہی پانچ آیتیں نازل ہوئی ہیں پھر سورة نون والقلم۔ مسند امام احمد صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں جو حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ نزول وحی سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچے خواب دکھانے شروع کئے پھر آپ ﷺ کو تنہائی کا شوق ہوا۔ چناچہ غار حرا میں جا کر آپ ایک مہینہ تک تنہا رہے اور اللہ کی عبادت کیا کرتے۔ اسی تنہائی میں جبرئیل (علیہ السلام) یہ پانچ آیتیں لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے کہا پڑھو۔ آپ ﷺ نے جواب دیا میں تو کچھ پڑھنا نہیں جانتا۔ اس پر حضرت جبرئیل نے آپ ﷺ کو تین دفعہ دبوچا اور یہ پانچوں آیتیں آپ ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–10

(اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک ہے بہت زیادہ کرم و احسان اور بےپایاں جودو والا ہے جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور (الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۝ۭ ) قلم کے ذریعے سے سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا اس کو سماعت بصارت اور عقل سے بہرور کیا اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے اسے قرآن کی تعلیم دی حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–4

4 ۔ رب کے کرم و احسان کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا پڑھو اور تمہارا رب بڑا ہی کرم وال ا ہے، اتنا بڑا کہ اس کے کرم و عطا کی کوئی حد نہیں، پھر اس کا نام پاک لے کر پڑھنے سے آپ کو علم کی بےمثال و لازوال دولت سے سرفرازی کیوں نصیب نہ ہوگی، جل مجدہ و تبارک اسمہ، اور اس کے کرم بےپایاں کا ایک مظہر خود یہ انسان ہے، جس کو اس نے ایک حقیر ترین مادے سے وجود بخشا، ایک حقیر ترین حالت سے ابتداء کر کے اس کو اعلی ترین مقام تک پہنچایا، مضغہ محض سے ترقی دے کر اس کو صاحب فہم و ادراک بنایا، پھر اس کو علم کے نور سے منور کیا جو کہ ایک عظیم الشان نور اور بےمثال دولت اور مخلوق کی بلند ترین صفت ہے، اور اس نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

رسول اللّٰہ ﷺ اور پہلی وحی تشریح : ان آیات میں پانچ بڑے زبردست حقائق بڑی مختصر آیات میں سمجھائے گئے ہیں۔ 1 ۔ نبوت ملنے کا آغاز اور اللہ کا پیغام 2 ۔ اللہ کی عظمت اور قادر مطلق ہونے کا ثبوت۔ 3 ۔ انسان کی تخلیق کا ابتدائی راز اور اس کی حقیقت کا بیان۔ 4 ۔ رب العزت کی صفات میں سے ایک بڑی صفت اکرام کا ذکر یعنی مہربانی اور حد سے زیادہ رحم کا بیان۔ کہ اس نے انسان کو علم وعرفان سے مالا مال کیا یعنی عقل و فہم اور علم و ارادہ دیا۔ 5 ۔ اور انسان کو اتنی عظمت دی کہ اس کو فرشتوں سے زیادہ علم اور فرشتوں سے بڑا درجہ دیا۔ اور ان آیات کے نازل ہونے کا انداز اور واقعہ بڑی تفصیل سے بتایا جا چکا ہے سورت کے تعارف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–4

ف 5 قتادہ کہتے ہیں کہ ’ دقلم اللہ تعالیٰ کی بات بڑی نعمت ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو کوئی دین قائم ہوتا اور نہ زندگی کی اصلاح ہوئی (فتح القدیر) شاہ صاحب فرماتے ہیں :’ حضرت ﷺ نے کبھی لکھا پڑھا نہ تھا۔ فرمایا کہ قلم سے بھی وہی علم دیتا ہے۔ یوں عقبی وہی دے گا۔ “ (موضع)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(96:4) الذی علم بالقلم : الذی اس موصول۔ علم بالقلم اس کا صلہ دونوں مل کر صفت ثانیہ ہوئی ربک کی۔ جس نے قلم کے واسطہ سے علم سکھایا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) اس سے کتابت کی فضیلت ثابت ہوئی اور درحقیقت کتابت میں بڑے منافع ہیں کتابت ہی سے علوم ضبط میں آتے ہیں گذرے ہوئے لوگوں کی خبریں اور ان کے احوال اور ان کے کلام محفوظ رہتے ہیں کتابت نہ ہوتی تو دین ودنیا کے کام قائم نہ رہ سکتے۔ (ف 4) آدمی سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور جو انہیں سکھایا اس سے مراد علم الاسمائ، ایک قول یہ بھی ہے کہ آدمی سے مراد یہاں سید عالم ہیں آپ کو اللہ تعالیٰ نے جمیع اشیاء کے علوم عطا فرمائے۔ (معالم و خازن) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] یعنی یہ اس کی شان کریمی ہے کہ انسان کی ابتداء ایک حقیر ترین حالت سے کر کے اس کو صاحب علم بنایا جو مخلوقات کی بلند ترین صفت ہے اور ساتھ ہی اس کو قلم کا استعمال سکھایا جو بڑے پیمانے پر علم کی اشاعت کا ذریعہ بنا۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) اس نے قلم سے تعلیم دی یعنی پڑھے لکھوں کو نوشتہ قلم سے تعلیم دی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول جبرئیل وحی لائے تو یہی پانچ آیتیں حضرت نے کبھی پڑھا نہ تھا فرمایا کہ قلم سے بھی علم دیتا ہے یوں بھی وہی دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–4

ف 2۔ اس وصف کی تخصیص میں یہ نکتہ ہے کہ نعمت کے لحاظ سے انسان پر حق تعالیٰ کا تمام دوسری مخلوقات سے زیادہ انعام و اکرام ہے کہ عقلہ سے کہ جماد محض تھا اس کو کس درجہ تک ترقی دی کہ صورت بنائی عقل و علم سے مشرف فرمایا، پس انسان کو زیادہ شکر اور ذکر کرنا چاہئے اور تخصیص علق کی شاید اس لئے ہے کہ یہ ایک برزخی حالت ہے کہ اس کے قبل نطفہ اور غذا و عنصر ہے اور اس کے بعد مضغہ اور ترکیب عظام و نفخ روح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس نے قلم سے علم سکھایا ہے 4 ؎ فرمایا اس نے جب بلا عرض انعام و اکرام کیے ہیں تو آپ ﷺ پر وہ علوم کھول دیئے ہیں جو عام انسانوں کے لیے قلم کے واسطہ سے کھولے جاتے ہیں ۔ اس کی شان کریمی کا جلوہ یہ ہے کہ اس نے دوسرے سارے انسانوں کے لیے قلم کو تعلیم کا واسطہ بنا دیا کہ علم کی نشرو اشاعت میں قلم کا جو حصہ ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے لیکن آپ ﷺ کے لیے قلم کی بجائے محض ایک قوت کے دیا نے سے وہ چیز اجاگر کردی ہے جو دوسرے انسانوں کے لیے قلم کے واسطہ سے اجاگر کی جاتی ہے ۔ اب غور کرو کہ قدیم زمانہ میں اگر علماء و فضلاء کے علوم کو قلم کے ذریعہ سے اگر صفحہ قرطاس پر تحریر نہ کردیا جاتا تو صد ہا سال بعد آج ہم ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

Verse [ 4] الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (Who imparted knowledge by means of the Pen.) The preceding verse spoke of the creation of man. The current verse speaks of man's education or literacy, because knowledge, as part of education and literacy, distinguishes man from all other animals and creatures, and occupies the position of the crown of creation. There are two means, methods or media through which knowledge is imparted: [ 1] oral or spoken method or by word of mouth; and [ 2] Pen or written method. The command iqra' [ read ] at the beginning of Surah refers to the oral or spoken method.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 That is, "It is a great favour of Allah that starting man's creation from a most insignificant state He made him possessor of knowledge which is the noblest attribute of creation, and He made him not only possessor of knowledge but also taught him the art of writing by the use of pen, which became the means of propagation, progress, dissemination and preservation of knowledge on a large scale. Had He not given tnan the knowledge of the art of pen and writing (by inspiration) his intellectual faculty would have stagnated, and it would have had no opportunity to develop, expand and become a…

Read the full tafseer →