Al-Alaq 96:5

Al-Alaq · from ayah 5

96:5

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ۟ؕعَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡؕ

اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Taught man that which he knew not.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Alaq

All translations of 96:5

انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

انسان کو اس بات کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس نے انسان کو (اس کے علاوہ بھی) وہ (کچھ) سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (یا- جس نے (سب سے بلند رتبہ) انسان (محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (بغیر ذریعۂ قلم کے) وہ سارا علم عطا فرما دیا جو وہ پہلے نہ جانتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انسان کو وہ کچھ سکھادیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے سکھایا انسان کو وہ کچھ جو وہ نہیں جانتا تھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس نے سکھایا انسان کو وہ کچھ جو وہ نہیں جانتا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

(جس نے) انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دے دی جنہیں وہ نہیں جانتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انسان کو وہ کچھ سکھایا ہے جو وہ نہیں جانتا تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا

— محترمہ رفعت اعجاز

taught man what he did not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He taught man what he did not know.

— Muhammad Taqi Usmani

He taught man what he did not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He has taught man that which he knew not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Taught man that which he knew not.

— Saheeh International

He taught the human being what he did not know.

— Muhammad Sarwar

Taught man what he knew not.

— Muhammad Habib Shakir

Hath taught man that which he knew not.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 96:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتا پھر آپ نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہی عبادت میں گذارا کرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک وہیں شروع شروع میں وحی آیہ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا اقرا یعنی پڑھئیے آپ فرماتے ہیں، میں نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ فرشتے نے مجھے دوبارہ دبوچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور فرمایا پڑھو میں نے پھر یہی کہا کہ میں پڑھنے والا نہیں اس نے مجھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العلق 6 یعنی انسان اصل میں بالکل بےعلم تھا۔ اسے جو کچھ بھی علم حاصل ہوا اللہ کے دینے سے حاصل ہوا۔ اللہ ہی نے جس مرحلے پر انسان کے لیے علم کے جو دروازے کھولنے چاہے وہ اس پر کھلتے چلے گئے۔ یہی بات ہے جو آیۃ الکرسی میں اس طرح فرمائی گئی ہے کہ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ۔ " اور لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے سوائے اس کے جو وہ خود چاہے "۔ (البقرہ، 255) جن جن چیزوں کو بھی انسان اپنی علمی دریافت سمجھتا ہے، درحقیقت وہ پہلے اس کے علم میں نہ تھیں، اللہ تعالیٰ ہی نے جب چاہا ان کا علم اسے دیا بغیر اس کے کہ انسان یہ محسوس کرتا کہ یہ علم اللہ اسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

الذی علم بالقلم تخلیق انسانی کے بعد اس کی تعلیم کا بیان ہے کیونکہ تعلیم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز اور تمام مخلوقات سے اشرف و اعلیٰ بناتی ہے پھر تعلیم کی عام صورتیں دو ہیں ایک زبانی تعلیم دوسرے بذریعہ قلم تحریر و خط سے ابتدائے سورت میں لفظ اقراء میں اگرچہ زبانی تعلیم ہی کی ابتدا ہے مگر اس آیت میں جہاں تعلیم دینے کا بیان آیا ہے اس میں قلمی تعلیم کو مقدم کر کے بیان فرمایا ہے۔ تعلیم کا سب سے پہلا اور اہم ذریعہ قلم اور کتابت ہے۔ ایک صحیح حدیث حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لما خلق اللہ الخلق کتب فی کتابہ فھو عندہ فوق العرش، ان رحمتی غلبت غضبی،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اسی انعام و احسان کا ایک اور پہلو ہے کہ صرف تعلیم بالقلم ہی کا احسان امیوں پر نہیں کیا بلکہ مزید احسان یہ بھی کیا کہ ان کو وہ باتیں بتائیں اور سکھائیں جو وہ نہیں جانتے تھے۔ لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن قرآن کے پہلے مخاطب چونکہ امی عرب ہی تھے اس وجہ سے یہاں اصلاً وہی مراد ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ان کو جاہلیت کی تاریکی سے نکالنے کے لیے ان پر اپنی یہ کامل ہدایت نازل فرمائی ہے۔ ان پر حق ہے کہ وہ اس کی قدر کریں۔ سورۂ جمعہ میں یہی مضمون یوں آیا ہے: ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّیْنَ رَسُوۡلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوۡا عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–9

4۔ 1 قلم کا معنی ہے قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے۔ اس لیے آلہ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگرچہ تعلیم دینے کا عام طریقہ یہی ہے کہ قلم سے لکھی ہوئی کوئی تحریر پڑھوائی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے بغیر بھی کسی کو تعلیم دے سکتا ہے، چنانچہ حضور اقدس ﷺ کو امی ہونے کے باوجود وہ علوم عطا فرمائے گا جو کتاب سے پڑھنے والوں کے خیال میں بھی نہیں آئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

علم الانسان مالم یعلم (5:96) ” اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو انسان نہ جانتا تھا “۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک نے عالم بالا کے ابتدائی لمحات ہی میں اس حقیقت کو اخذ فرمایا اور آپ کی سوچ ، آپ کے تصرفات ، آپ کے کلام اور آپ کے عمل اور آپ کے رخ پر اور آپکی پوری زندگی میں یہ شعور چھایا رہا۔ کیونکہ یہ ایمان کا پہلا اصول تھا۔ امام شمس الدین ابو عبداللہ محمد ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب ” زادالمعاد فی ہدی خیر العباد “ میں رسول ﷺ کی سیرت کے اہم خدوخال کے بارے میں یوں فرماتے ہیں : ” اللہ کی یاد اور اس کے ذکر کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ ایک نہایت ہی مکمل انسان تھے ، آپ کی گفتگو کا اہم حصہ ذکر الٰہی اور ذات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی انسان کا بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے تو کچھ نہیں جانتا۔ آخر اسے رفتہ رفتہ کون سکھاتا ہے۔ بس وہی رب قدیر جو انسان کو جاہل سے عالم بناتا ہے، اپنے ایک امی کو عارف کامل بلکہ تمام عارفوں کا سردار بنا دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۔ } ”اور انسان کو وہ کچھ سکھایا ہے جو وہ نہیں جانتا تھا۔“ پہلی وحی ان پانچ آیات پر مشتمل تھی۔ اس وحی میں حضور ﷺ کو تبلیغ و انذار سے متعلق کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ البتہ اس وحی کی خاص اہمیت یہ ہے کہ اس سے آپ ﷺ کی نبوت کا ظہور ہوا ہر نبی اگرچہ پیدائشی طور پر ہی نبی ہوتا ہے لیکن اس کی نبوت کا باقاعدہ ظہور پہلی وحی کے وقت ہوتا ہے۔ تبلیغ کا باقاعدہ حکم آپ ﷺ کو سورة المدثر کی ان آیات میں دیا گیا : { یٰٓــاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ - قُمْ فَاَنْذِرْ - وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔ } کہ اے لحاف میں لپٹ کرلیٹنے والے ﷺ کھڑے ہو جائو اور اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کرو۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

6 انسان جب ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے اس وقت وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ اسے قلم کے استعمال سے پہلے ہی بہت سی باتیں سکھا دیتا ہے۔ یہ پہلی وحی کی آخری آیت ہے جس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ آپ ﷺ کو وہ علم دیا جارہا ہے جو جاننے کے لیے آپ ﷺ عرصہ سے بےتاب تھے اور اس نے آپ کو اپنا نبی بنا لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ نوع بشر کو ماضی وحال میں جو کچھ بھی معلوم ہوا ہے، یا آئندہ جو کچھ بھی معلوم ہوسکے گا، یہ سب اگر فیضان الہی کا پرتو نہیں تو اور کیا ہے ؟ انسان کو اپنے جن جن علوم وفنون، معارف وصنائع پر ناز ہے، یہ سب اگر حق تعالیٰ ہی کے سکھائے ہوئے، بتائے ہوئے، سمجھائے ہوئے نہیں تو اور کیا ہیں ؟ قرآن مجید نے یہاں ایس گہری حقیقت کو یاد دلایا ہے۔ (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے مراد جنس انسانی ہے۔ (آیت) ” مالم یعلم “۔ سے مراد بعض نے وہ قواعد علمی لئے ہیں جن سے ہر مجہول معلوم بن سکتا ہے، اور بعض نے وہ اسرار وعلوم نبوت مراد لیے ہیں، جن کے لئے عقل و حواس بشری کافی نہ تھے صرف حق تعالیٰ نے انہیں رسول پر وحی کرکے سارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پڑھو (اے نبی ﷺ ! ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے مخلوق کو پیدا کیا جنس انسان کو دم بستہ سے علق، علقۃ کی جمع ہے اور وہ دم بستہ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے پڑھو، یہ پہلے اقراء کی تاکید ہے، آپ ﷺ کا رب بڑا کریم ہے اس کی برابری کوئی نہیں کرسکتا، (وربک) اقراء کی ضمیر سے حال ہے، جس نے قلم کے ذریعہ لکھنا سکھایا اور سب سے پہلے جس نے قلم سے لکھا وہ ادریس (علیہ الصلوۃ والسلام) ہیں جنس انسان کو وہ علم سکھایا جسے وہ سکھانے سے پہلے نہیں جانتا تھا، (مثلاً ) ہدایت اور کتابت اور صنعت وغیرہ، درحققیت انسان سرکشی کرتا ہے اس بنا پر کہ وہ خود کو مال کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

علم الانسان مالم یعلم . اللہ نے عقل اور (عملی و علمی) قوّ تیں پیدا کیں (اندرونی اور بیرونی) دلائل قائم کیے (انبیاء کے پاس) وحی بھیجی (اولیاء اور صلحاء امت کو) الہام کیا (عوام و خواص کے) ذہنوں میں بدیہی علوم پیدا کیے (آسمانی) کتابیں نازل کیں ‘ پیغمبروں کو بھیجا ‘ اخبار متواترہ کے ذریعہ سے اطلاعات بہم پہنچائیں اور ان تمام ذرائع سے انسان کو وہ علوم سکھائے ‘ جن سے وہ ناواقف تھا۔ اگر الاکرم اور الذی کو ربک کی صفات مانا جائے تو یہ جملہ خبریہ ہوگا اور اگر الذیہ علم بالقلم کو خبر کہا جائے تو یہ جملہ اس سے بدل ہوگا۔ علّم بالقلم میں چونکہ تعمیم مفعول مقصود تھی ‘ اسلئے کوئی خاص مفعول ذکر نہیں کیا لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور انسان کو اس تعلیم سے پہلے اس کی خبر نہیں تھی یا کہ آدم ؑ کو ہر ایک چیز کے نام بتلائے کہ اس سے پہلے وہ ان کو جاننے والے نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(علم الانسان مالم یعلم): انسان پیدا ہوتا ہے تو کچھ بھی نہیں جانتا (دیکھیے نحل : 78) اللہ تعالیٰ ہی اسے آہستہ آہستہ سب کچھ سکھاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی اپنے ایک ان پڑھ بندے کو اعلم بلکہ عالموں کا استاذ بنائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

علم الانسان مالم یعلم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذات ہے اسے ہر شی کے ناموں کا علم سکھایاجس طرح قرآن حکیم میں ہے، وعلم آدم الاسماء کلھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام چیزوں کے اسماء کا علم سکھایا، کوئی چیز باقی نہ رہی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ہر لغت میں اس کا نام سکھادیا، حضرت آدم (علیہ السلام) نے وہ نام فرشتوں کو بتادیے جس طرح آپ کو بتائے گئے تھے اس طرح ان کی فضیلت ظاہر ہوگئی ان کی قدر واضح ہوگئی اور ان کی نبوت ثابت ہوئی ملائکہ پر اللہ تعالیٰ کی حجت، اور حضرت آدم کا غلبہ قائم ہوگیا فرشتوں نے حکم کی اطاعت کی کیونکہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–19

1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عَلَّمَ الْانسَان : اس نے علم دیا انسان کو ][ مَا : اس کا جس کو ][ لَمْ يَعْلَمْ : اس نے جانا ہی نہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–5

﴿اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ003﴾ (آپ پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے) ﴿الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِۙ004﴾ (جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا) ۔ ﴿عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْؕ005﴾ (اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا) ۔ ارشاد فرمایا کہ آپ پڑھیے، اس کا خیال نہ کیجئے کہ آپ نے مخلوق سے نہیں پڑھا۔ آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے اسے علم دینے کے لیے اسباب کی حاجت نہیں ہے اس نے قلم کے ذریعہ سکھایا اور جسے چاہا بغیر قلم کے بھی سکھا دیا انسانوں کے پاس جو علم ہے سارا استاد اور کتاب اور قلم ہی سے تو نہیں ہے جس ذات پاک نے اسباب کے ذریعہ علم دیا اسے بلا اسباب بھی علم دینے پر قدرت ہے آپ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” علم الانسان “ الانسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسماء کی تعلیم دی یا آنحضرت ﷺ مراد ہیں اور مطلب یہ ہے جو امور اسباب ظاہرہ سے معلوم نہ ہوں ان کا علم وحی کے ذریعہ عطا فرماتا ہے۔ اور مراد صرف وہی باتیں ہیں جن کا رسالت سے تعلق ہے۔ اس سے کلی علم غیب مراد لینا غلط اور باطل ہے کیونکہ کلی علم غیب کا فریضہ رسالت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ پانچ آیتیں آنحضرت ﷺ پر سب سے پہلے نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

وحی کی ابتداء بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور ﷺ کا عطائے نبوت کا وقت قریب آ گیا تو حبب الیہ الخلآء آپ تنہائی پسند فرمانے لگے۔ شہر سے دور نکل جاتے اور تنہائی میں اللہ کا ذکر کرتے۔ آپ کا عام معمول یہ ہوگیا تھا کہ جبل نور پر واقع غار حرا میں تشریف لے جاتے اور چار پانچ دن یا ہفتہ بھر وہیں قیام فرماتے۔ بعض اوقات آپ مہینہ بھر بھی ٹھہر جاتے۔ جب گھر تشریف لاتے تو ام المئومنین حضرت خدیجہ آپ کو توشہ وغیرہ باندھ دیتیں اور پھر تنہائی میں قیام پذیر ہوجاتے۔ نزول وحی سے چھ ماہ قبل آپ کو رئویائے صادقہ یعنی ایسے سچے خوا ب آنے لگے جو کچھ خواب میں دیکھتے اس کا نتیجہ روز روشن کی طرح سامنے آجاتا تو یہ وہ غیر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۝ 5 ۭ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ اقرء عند المجھور بسکون الھمزۃ ھو امر من القراءۃ وعند البعض بفتح الراء علی انہ قلب الھمزۃ الفًا ثم حذفھا للامر۔ ومفعول اقرء محدوف ای مایوحی الیک باسم ربک متعلق بمحذوف وھو حال ای اقراء متلبسًا باسم ربک۔ وقال ابو عبیدۃ الباء زائدۃ فھو مفعول اقرء والاسم صلۃ ایضاً والمعنی اذکرربک وقیل الباء بمعنی علیٰ والمعنی اقرء ما تیلی علیک علی اسم اللہ۔ وقیل الباء للاستعانۃ ای مستعینًا بہ۔ الذی الخ الجملۃ صفۃ لربک خلق الانسان الجملۃ تفسیر للجملۃ الاولیٰ وھی الذی خلق وقیل تخصیص بعد التعمیم۔ تشریفا للانسان لمافیہ من بدیع الخلق وعجیب الصنع من علق الجار متعلق بخلق والعلق جمع علقۃ م وھی الدم الجامد واذا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ۔ (العلق : 5) (انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ ) مزید ایک احسان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اپنے مزید ایک احسان کا ذکر فرمایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انسان کی ایک غلط فہمی کو بھی دور کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا احسان یہ ہے کہ انسان درحقیقت جب دنیا میں آیا تو وہ کچھ نہ جانتا تھا۔ حتیٰ کہ جن ماں باپ کے اتصال سے اس کی تخلیق ہوئی وہ انھیں پہچانتا تک نہ تھا، وہ اپنی غذا کے سرچشمے سے بیخبر تھا، اسے رونے اور بھوک کے احساس کے علاوہ کسی چیز کا ہوش نہ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے آہستہ آہستہ حواس عطا فرمائے۔ پھر آگے چل کر عقل سے نوازا۔ تو پھر وہ یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے اور اسی نے انسان کو قلم کے ذریعے لکھنا پڑھنا سکھلایا ہے۔ سورة التّین کے آخر میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، اس نے اپنا حکم قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا ہے جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ نبوت سے پہلے حضرت محمد ﷺ مکہ کے قریب غار حرا میں تشریف فرما تھے کہ اچانک جبریل امین آئے اور اس نے آپ کے سامنے اس سورت کی ابتدائی پانچ تلاوت کیں۔ نبی ﷺ نے اس واقعہ کی تفصیل سے یوں بیان فرمائی ہے۔ (وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْوَحْیِ ۔۔ فَرَجَعَ بِھَا رَسُوْلُ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ (انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہ جانتا تھا) اپنے کمال کرم سے یہ راہنمائی فرما دی کہ اس نے اپنے بندوں کو وہ کچھ سکھلا دیا۔ جو وہ نہ جانتے تھے۔ کتابت کے فائدے : اور ان کو نور علم کی طرف جہالت کے اندھیروں سے نکال دیا۔ اس نے علم کتابت کی فضیلت پر خبردار فرمایا۔ اس لئے کہ اس میں بیشمار فوائد ہیں۔ کتابت سے پہلے علوم مدون ہوئے حکمتیں اور عبرتیں لکھی گئی۔ پہلے لوگوں کی خبریں حیطہ تحریر میں لائیں گئیں۔ کتب منزلہ بھی کتابت سے لوگوں کے ہاتھوں میں آئیں۔ اگر کتابت نہ ہوتی تو دنیا و دین کے کام ادھورے رہ جاتے۔ اللہ تعالیٰ کی دقیق حکمتوں پر اگر اور کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” علم الانسان مالم یعلم “ ہدایت اور بیان کی اقسام میں سے اور کہا گیا ہے آدم (علیہ السلام) کو تمام اسماء سکھائے اور کہا گیا ہے یہاں انسان سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ اس کا بیان ” وعلمک مالم تکن تعلم “ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ اکثر مفسرین کے قول کے موافق سب سے پہلے اقراء سے مالم یعلم تک یہی پانچ آیتیں نازل ہوئی ہیں پھر سورة نون والقلم۔ مسند امام احمد صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں جو حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ نزول وحی سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچے خواب دکھانے شروع کئے پھر آپ ﷺ کو تنہائی کا شوق ہوا۔ چناچہ غار حرا میں جا کر آپ ایک مہینہ تک تنہا رہے اور اللہ کی عبادت کیا کرتے۔ اسی تنہائی میں جبرئیل (علیہ السلام) یہ پانچ آیتیں لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے کہا پڑھو۔ آپ ﷺ نے جواب دیا میں تو کچھ پڑھنا نہیں جانتا۔ اس پر حضرت جبرئیل نے آپ ﷺ کو تین دفعہ دبوچا اور یہ پانچوں آیتیں آپ ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–10

(اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک ہے بہت زیادہ کرم و احسان اور بےپایاں جودو والا ہے جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور (الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۝ۭ ) قلم کے ذریعے سے سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا اس کو سماعت بصارت اور عقل سے بہرور کیا اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے اسے قرآن کی تعلیم دی حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 ۔ دولت علم سے سرفرازی کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا، قلم کے واسطے سے بھی اور اس کے بغیر الہام وغیرہ کے دوسرے طریقوں سے بھی، پھر وہ آپ کو اے پیغمبر علم اور قرات کی دولت سے کیوں نہ نوازے گا ؟ سو اس نے اپنے کرم سے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا، انسان کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن قرآن حکیم کے اولین مخاطب چونکہ امی عرب ہی تھے، اس لیے اس کا پہلا اور اہم مصداق یہی لوگ تھے سو ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے جہالت اور جاہلیت کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیے ان پر خاص فضل فرمایا کہ اس مالک الملک نے قرآن حکیم کے ذریعے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

رسول اللّٰہ ﷺ اور پہلی وحی تشریح : ان آیات میں پانچ بڑے زبردست حقائق بڑی مختصر آیات میں سمجھائے گئے ہیں۔ 1 ۔ نبوت ملنے کا آغاز اور اللہ کا پیغام 2 ۔ اللہ کی عظمت اور قادر مطلق ہونے کا ثبوت۔ 3 ۔ انسان کی تخلیق کا ابتدائی راز اور اس کی حقیقت کا بیان۔ 4 ۔ رب العزت کی صفات میں سے ایک بڑی صفت اکرام کا ذکر یعنی مہربانی اور حد سے زیادہ رحم کا بیان۔ کہ اس نے انسان کو علم وعرفان سے مالا مال کیا یعنی عقل و فہم اور علم و ارادہ دیا۔ 5 ۔ اور انسان کو اتنی عظمت دی کہ اس کو فرشتوں سے زیادہ علم اور فرشتوں سے بڑا درجہ دیا۔ اور ان آیات کے نازل ہونے کا انداز اور واقعہ بڑی تفصیل سے بتایا جا چکا ہے سورت کے تعارف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی آدمی کا بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو کچھ نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ ہی آہستہ آہستہ اسے سکھاتا ہے۔ لہٰذا وہی اپنے ایک ان پڑھ بندے کو عالم بلکہ عالموں کا سردار بنائے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(96:5) علم الانسان مالم یعلم : علم، تعلیم (تفعیل) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے سکھایا، اس نے علم دیا۔ الانسا مفعول۔ ما مفعول ثانی علم کا۔ جس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 5) یعنی انسان کی اصل تو اتنی ہے کہ جمے ہوئے خون سے بنا اور وہ اپنی اصل حقیقت کو ذرایاد نہیں رکھتا، دنیا کے مال و دولت پر مغرور ہوکرسرکشی اختیار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے کسی کی پرواہی نہیں یہ آیتیں ابوجہل کے حق میں نازل ہوئیں اس کو کچھ مال ہاتھ آگیا اس نے لباس اور سواری اور کھانے پینے میں تکلفات شروع کیے اور اس کا غرور وتکبر بہت بڑھ گیا فرمایا کہ انسان کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اول بھی اس نے پیدا کیا اور آخر بھی اسی کے پاس لوٹ کرجانا ہے اس وقت اس تکبر اور سرکشی کی حقیقت کھل جائے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

ان پانچ آیتوں میں جو سب سے پہلے نازل ہوئیں ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ علم کا حصول ایک مذہبی اور دینی فریضہ ہے اور پیغمبر کو جس بات کی اولاً تلقین کی جاتی ہے ، وہ یہی ہے کہ اقرا ۔ ہاں یہ حلم اس نہج سے ہو کہ خالق کی طرف راہنمائی کرے ۔ گمراہی اور ضلات کو نہ پھیلائے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اس نیانسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہیں جانتا تھا - یعنی ایک قلم ہی پر کیا موقوف اس نے انسان کو مختلف ذرائع سے وہ وہ چیزیں سکھائیں اور بتائیں جن کو وہ بالکل نہیں جانتا تھا ۔ روحانی تعلیم کی تو کوئی انتہا ہی نہیں۔ مادی تعلیم کی یہ حالت ہے کہ ہر روز نئی نئی چیزیں اور نئی نئی قوتیں معلوم ہورہی ہیں اور ہر روز ان کا سلسلہ جاری ہے خود انسان نے انسان کی تباہی کے وہ سامان مہیا کئے ہیں کہ العیاذ باللہ غرض حقیقی طور پر تو علوم کا افاضہ ہم سے ہوتا ہے اگرچہ آپ لکھنا نہیں جانتے اور نہ پڑھنا جانتے ہیں لیکن جب ہم نے آپ کو امر گیا ہے تو ہم دوسرے ذرائع سے آپ کو قراءت اور حفظ علوم پر قدرت عطا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–9

ف 3۔ مطلب یہ کہ اول تو تعلیم کچھ کتابت میں منحصر نہیں، دوسرے اسباب سے بھی تعلیم ہو رہی ہے، ثنیا اسباب موثر بالذات نہیں، سبب حقیقی و مفیض علوم ہم ہیں۔ پس گو آپ لکھنا نہیں جانتے مگر ہم نے جب آپ کو قرات کا امر کیا ہے تو ہم دوسرے ذریعہ سے آپ کو قرات اور حفظ علوم وحی پر قدرت دیدیں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس نے انسان کہ وہ کچھ سکھایا جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا 5 ؎ ” انسان “ کے معنی آدمی کے ہیں اور مذکر و مؤنث دونوں ہی پر بولا جاتا ہے اور دونوں اس کے اندر ایک ہی طرح سے داخل ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو جو سکھایا ہے اللہ تعالیٰ ہی نے سکھایا ہے کیونکہ سارے علوم و فنون ، اسرار و معارف ، انکشافات و ایجادات اسی کے بےپایاں علم کی شاخیں ہیں وہ جتنا چاہتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق سکھا دیتا ہے اور اس کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ کی آیت 31 کے تحت بیان کردی ہے وضاحت دیکھناہو تو اس مقام کی طرف مراجعت کریں ۔ سارے انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور انسان کا اصل آلہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

Verse [ 4] الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (Who imparted knowledge by means of the Pen.) The preceding verse spoke of the creation of man. The current verse speaks of man's education or literacy, because knowledge, as part of education and literacy, distinguishes man from all other animals and creatures, and occupies the position of the crown of creation. There are two means, methods or media through which knowledge is imparted: [ 1] oral or spoken method or by word of mouth; and [ 2] Pen or written method. The command iqra' [ read ] at the beginning of Surah refers to the oral or spoken method.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 That is, Man originally was absolutely illiterate. Whatever of knowledge he obtained, he obtained it as a gift from Allah. Whatever doors of knowledge at any stage did Allah will to open for man, they went on opining up before him. This same thing has been expressed in the verse of the Throne, thus: "And the people cannot comprehend anything of His knowledge save what He Himself may please to reveal." (Al-Baqarah: 255) . Whatever man looks upon as his own scientific discovery was, in fact, unknown to him before. Allah gave him its knowledge whenever He willed without his realizing that…

Read the full tafseer →