كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤی ۟ۙكَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰٓىۙ
مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! [But] indeed, man transgresses
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤی ۟ۙكَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰٓىۙ
مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! [But] indeed, man transgresses
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Alaq
ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے
مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے
سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلی سرکشی کر رہا ہے۔
ہاں ہاں بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے،
(مگر) حقیقت یہ ہے کہ (نافرمان) انسان سر کشی کرتا ہے،
ہرگز نہیں، بیشک انسان یقینا حد سے نکل جاتا ہے۔
ہرگز ایسا نہیں چاہیے کہ انسان سرکشی کرنے لگتا ہے
ہرگز نہیں، بیشک انسان سرکشی کر رہا ہے
ہرگز نہیں بیشک انسان بڑا سرکش ہوجاتا ہے
ہاں ہاں بیشک انسان حد سے نکل جاتا ہے
کوئی نہیں ! انسان سرکشی پر آمادہ ہو ہی جاتا ہے۔
مگر انسان سرکش ہوجاتا ہے
Nay, surely man transgresses;
In fact, man crosses the limits,
In fact, man crosses the limits,
Nay! Verily, man does transgress.
Nay, but verily man is rebellious
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
No! [But] indeed, man transgresses
Despite this, the human being still tends to rebel
Nay! man is most surely inordinate,
By no means: Verily man exorbitateth.
Nay, but man doth transgress all bounds,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 6–19
طالب علم اور طالب دنیا : فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…
Read the full tafseer →سورة العلق 7 یعنی ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ جس خدائے کریم نے انسان پر اتنا بڑا کرم فرمایا ہے اس کے مقابلہ میں وہ جہالت برت کر وہ رویہ اختیار کرے جو آگے بیان ہورہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
کلا ان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی، اس آیت کا روئے سخن اگرچہ ایک خاص شخص یعنی ابوجہل کی طرف ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی مگر عنوان عام رکھا ہے جس میں عام انسانوں کی ایک کمزوری بیان کی گئی وہ یہ ہے کہ انسان جب تک دوسروں کا محتاج رہتا ہے تو سیدھا چلتا ہے اور جب اس کو یہ گمان ہوجائے کہ میں کسی کا محتاج نہیں سب سے بےنیاز ہوں تو اس کے نفس میں طغیان یعنی سرکشی وغیرہ اور دوسروں پر ظلم وجور کے رجحانات پیدا ہوجاتے ہیں، جیسا کہ عموماً مالداروں اور اقتدار حکومت والوں اور اولاد و احباب یا خدام کی کثرت رکھنے الوں میں اس کا بکثرت مشاہدہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمول اور جماعت جتھے کی طاقت میں…
Read the full tafseer →یہ ان کے اس رویہ کا بیان ہے جو انھوں نے اس ہدایت کے معاملے میں اختیار کیا۔ فرمایا کہ وہ اس رحمت کی قدر کرنے کے بجائے نہایت سرکشی کے ساتھ اس کی تکذیب کر رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو جو مال و اسباب حاصل ہے اس کو پا کر وہ اب خدا سے اپنے کو بالکل مستغنی خیال کرنے لگے ہیں۔ قریش کے رویہ کا بیان: اس آیت کا آغاز ’کَلَّا‘ سے جو ہوا ہے اس سے مقصود قریش کی ان سخن سازیوں کی تردید ہے جو وہ آنحضرت ﷺ اور قرآن مجید کی تکذیب کے لیے کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
4۔ 1 قلم کا معنی ہے قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے۔ اس لیے آلہ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔
Read the full tafseer →3: اس کے بعد سورت کے آخر تک جو آیتیں ہیں، وہ غار حراء کے مذکورہ بالا واقعے کے کافی بعد نازل ہوئی تھیں، اور ان کا واقعہ یہ ہے کہ ابوجہل آنحضرت ﷺ کا سخت دشمن تھا، ایک دن آنحضرت ﷺ حرم میں نماز پڑھ رہے تھے، اس نے آپ کو نماز پڑھنے سے منع کیا، اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ نے نماز پڑھی تو میں (معاذاللہ) آپ کی گردن کو پاؤں سے کچل دوں گا، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
انسان یہ نہیں سوچتا کہ اسے دینے والا اور غنی کرنے والا تو اللہ ہی ہے۔ اس سے قبل اسے پیدا بھی اللہ نے کیا اور تمام مخلوقات سے مکرم بھی بنایا اور اسے تعلم بھی دی لیکن انسان کا عمومی رویہ یہ ہے کہ جب اسے دیا جاتا ہے اور غنی بنا دیا جاتا ہے تو یہ بالمعموم شکر رب ادا نہیں کرتا الایہ کہ کسی کو اس کا ایمان اس ناشکری سے بچادے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو اس سرچشمے کا احساس بھی نہیں ہوتا جس سے یہ عطا اور غنا آرہی ہوتی ہے ، حالانکہ اس کو دینے والا اور غنی بنانے والا وہی ہوتا ہے جس نے اسے پیدا کیا ، عزت بخشی اور علم دیا۔ لیکن انسان نہ صرف یہ کہ اس منعم کا احساس مند نہیں ہوتا بلکہ وہ نہایت سرکشی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
13 یعنی آدمی کی اصل تو اتنی ہے کہ جمے ہوئے خون سے بنا اور جاہل محض تھا۔ خدا نے علم دیا، مگر وہ اپنی اصل حقیقت کو ذرا یاد نہیں رکھتا دنیا کے مال و دولت پر مغرور ہو کر سرکشی اختیار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے کسی کی پرواہی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 6{ کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی۔ } ”کوئی نہیں ! انسان سرکشی پر آمادہ ہو ہی جاتا ہے۔“ انسان سرکشی اور ظلم و زیادتی پر کیوں اتر آتا ہے ؟ اس کی وجہ اگلی آیت میں بتائی گئی :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6 انسان جب ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے اس وقت وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ اسے قلم کے استعمال سے پہلے ہی بہت سی باتیں سکھا دیتا ہے۔ یہ پہلی وحی کی آخری آیت ہے جس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ آپ ﷺ کو وہ علم دیا جارہا ہے جو جاننے کے لیے آپ ﷺ عرصہ سے بےتاب تھے اور اس نے آپ کو اپنا نبی بنا لیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5۔ یہاں یہ بتایا کہ انسان کے حد عبودیت سے نکل جانے اور سرکشی اور طغیان کی اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے کو اپنے خالق کی طرف سے بےنیاز سمجھنے لگتا ہے۔ (آیت) ” کلا “۔ ہمیشہ تردید ہی کے معنی میں نہیں، بلکہ کبھی زور وتاکید کے موقع پر ” یقیناً “ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ وقد جاء بمعنی حقا (ابوالبقاء)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
دوسرے حصہ کا شان نزول : کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…
Read the full tafseer →کلا . جو مشرک حد (حقانیت) سے آگے بڑھ کر رسالت کے منکر تھے اور نماز سے روکتے تھے ‘ انکو بازداشت کی گئی اگرچہ اسکا ذکر کلام میں نہیں مگر (سیاق) کلام یا حال اس پر دلالت کر رہا ہے یا کلاّ کا معنی ہے حقًّا اس سے آئندہ کلام کی حقانیت کا اظہار ہوتا ہے۔ ان الانسان . (اگرچہ الانسان میں الف لام جنسی ہے لیکن) اس میں بعض افراد کا لحاظ پیش نظر ہے ‘ اسلئے مراد ابوجہل ہے۔ لیطغی . ابوجہل کفر میں اور اللہ کے مقابل غرور میں حد سے بڑھ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(6۔ 7) کافر کھانے، پینے، لباس اور سواری میں حد آدمیت سے نکل جاتا ہے اسوجہ سے کہ وہ اپنے آپ کو مال کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے مستغنی سمجھتا ہے آخر میں سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا ہوگا۔ شان نزول : كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى الخ ابن منذر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوجہل کہنے لگا کیا محمد ﷺ تمہارے درمیان نماز پڑھتے ہیں جواب میں کہا گیا ہاں ! تو وہ بدبخت کہنے لگا لات و عزی کی قسم اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو نعوذ باللہ ان کی گردن پر پیر رکھ دوں گا ان کے چہرہ انور کو مٹی میں رگڑ دوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(1) کلا ان الانسان لیطغی …:”کلا“ کا معنی ”ہرگز نہیں“ ،”خبر ’ ار“ اور ”حق یہ ہے“ میں سے موقع کی مناسبت سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔”الرجعی“”رجع یرجع“) (ض) سے ”بشری“ کے وزن پر مصدر ہے۔ (2) یہ آیات پہلی پانچ آیات کے بعد وقفہ سے نازل ہوئیں، جب ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آیا اور کہنے لگا :”کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا ؟“ یہ بات اس نے تین بار کہی۔ نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اسے ڈانٹا، اس پر ابوجہل کہنے لگا :”تم جانتے ہو اس شہر میں مجلس کے ساتھ مجھ سے زیادہ کسی کے نہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں :(فلیدع نادیہ، سندع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
کلاان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں سے لے کر سورت کے آخرتک آیات ابوجہل کے حق میں نازل ہوئیں ایک قول یہ کیا گیا تمام سورت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم ﷺ کو نماز سے منع کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ مسجد میں نماز پڑھیں اور یہ سورت پڑھی، اس تاویل کی بنا پر سورت ان سورتوں میں سے نہ ہوئی جو ابتداء میں نازل ہوئیں، یہ بھی جائز ہے اس کی پہلی پانچ آیات سب سے پہلے نازل ہوئی ہوں پھر باقی آیات ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی ہوں اور نبی کریم کو حکم دیا گیا ہو کہ انہیں سورت کے پہلے حصہ کے ساتھ ملالیں۔ کیونکہ سورتوں کی ترکیب و تالیف اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →[كَلَّآ ان الْانسَان : ہرگز نہیں ! بیشک انسان ][ لَيَطْغٰٓى: ضرور سرکشی کرتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
روایت احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئیں۔ ابو جہل کو رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ دشمنی تھی رسول اللہ ﷺ مسجد حرام میں تشریف لاتے تھے اور نماز ادا فرماتے تھے ایک دن ابو جہل نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ محمد ﷺ مٹی میں اپنا چہرہ ملائیں گے (یعنی سجدہ میں جائیں گے) تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اس نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ کی گردن مبارک پر پاؤں رکھنے کے لیے آگے بڑھا فوراً الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور وہ ہاتھوں کو اس طرح ہلا رہا تھا جیسے کسی چیز سے بچاؤ کر رہا ہو، لوگوں نے کہا کیا ہوا ؟ کہنے لگا کے میرے اور محمد ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5:۔ ” کلا ان الانسان “ یہاں الانسان سے اکثر مفسرین کے نزدیک ابو جہل مراد ہے یا اس سے جنس مشرک انسان مراد ہے۔ کلا بمعنی حقا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ایسے انعامات اور ایسے واضح بیانات کے باوجود مشرک انسان سرکشی کرتا اور عصیان و فسوق میں حد سے تجاوز کرتا ہے۔ ” ان راہ استغنی “ لام تعلیل مقدر ہے۔ ای لان رای نفسہ استغنی ای صار ذا مال وثروۃ (قرطبی ج 20 ص 123) ۔ مشرک انسان اس لیے سرکش اور طاغی ہوا ہے کہ وہ دولت مند ہے اس لیے اسے دین و ایمان کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ نادان بدبخت یہ سمجھتا ہے کہ پس دنیا کی دولت ہی اصل چیز ہے اسی سے انسان کی عزت و عظمت ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى 6 ۙ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ کلا فیہا اقوال (1) انھا بمعنی حقاد ھو مذہب الکسائی۔ لانہ لیس قبلھا رولا بعدھا شیء تکون کلار دًالہ ذکرہ الجر جانی صاحب النظم (2) روع دزجر لمن کفر الغامہ تعالیٰ بطغیا نہ وان لم یتقدم لہ ذکر (3) مذھب ابی حبان انھا بمعنی اَلَا التنبیہ نحوالا انھم ھم المفسدون فیقف علی ما قبلھا و علی الاول الوقف علیھا ان راہ بالنصب قال الاخفش اصلہ لان راہ فخذفت اللام کما یقال انکم لتطغون أن رایتم غناء کم۔ وقال ابن الصائغ ھو مفعول لہ ای یطغی لذاک۔ والرویۃ ھٰھنا بمعنی العلم ولو کانت بصریۃ لا تمنع الجمع بین الضمیرین فی فعلھا لشیء واحد لان ذلک من خواص علم و مثلہ فالمفعول الاول الضمیر فی رآء والثانی استغنیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓے۔ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰے۔ (العلق : 6، 7) (ہرگز نہیں، بیشک انسان سرکشی کرتا ہے۔ اس بناء پر کہ وہ اپنے آپ کو بےنیاز دیکھتا ہے۔ ) احسانات کے جواب میں قریش کا رویہ اور اس کا سبب ان آیات میں اشرافِ قریش کے اس رویئے کا بیان ہے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کے بدلے میں اختیار کیا جو آیات بالا میں مذکور ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والی وحی اہل عرب کے لیے خصوصاً اور پوری نوع انسانی کے لیے عموماً اللہ تعالیٰ کی نعمت غیرمترقبہ تھی۔ ان نعمتوں کا مورد چونکہ براہ راست قریش اور ان کا شہر بنا، اس لیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ سب سے پہلے اس پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اسے علم اور فہم کے ذریعے دوسری مخلوق سے معزز بنایا لیکن انسان اپنے رب کا تابعدار ہونے کی بجائے اس کا باغی بن جاتا ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ سورة التّین میں چار قسمیں اٹھاکر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے نہ صرف اسے بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے بلکہ انسان کو قلم کے ذریعے علم کی دولت سے مالا مال فرمایا۔ اس بنا پر انسان دوسری مخلوق کو اپنے تابع بنا لیتا ہے، چاہیے تو یہ کہ انسان اپنے رب کا تابع فرمان اور شکرگزار ہوتا لیکن اکثر انسانوں کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں کچھ…
Read the full tafseer →6 : کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی (سچ مچ بیشک آدمی حد سے نکل جاتا ہے) اس میں ان کو ڈانٹ پلائی گئی۔ جو سرکشی کے باعث اس کی نعمتوں کی ناشکری اختیار کرے۔ اگرچہ تذکرہ نہیں کیونکہ کلام کی دلالت اس پر واضح ہے۔ ان الانسان سے آخر سورت تک ابوجہل کے متعلق اتری۔
Read the full tafseer →6 ۔” کلا “ حق وثابت ہے۔ ” ان الانسان لیطغیٰ “ اپنی حد سے بڑھتا ہے اور اپنے رب پر تکبر کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
(اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک ہے بہت زیادہ کرم و احسان اور بےپایاں جودو والا ہے جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور (الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۭ ) قلم کے ذریعے سے سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا اس کو سماعت بصارت اور عقل سے بہرور کیا اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے اسے قرآن کی تعلیم دی حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا…
Read the full tafseer →7 ۔ منکرین و مکذبین کے مزاعم باطلہ کی تردید : سو منکرین و مکذبین کے مزاعم باطمہ کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا اور " کلا " کے حرف ردع کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا کہ نور حق و ہدایت سے محروم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، نیز یہ کہ حق کو جھٹلانے اور اس سے منہ موڑنے کی نہ کوئی معقول وجہ ہے نہ ہوسکتی ہے، کہ حق بہرحال حق اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور دنیا و آخرت کی سعادتوں اور کامرانیوں کا ضامن و کفیل ہے، ور جھٹلانے والے جو اس کو جھٹلاتے ہیں تو وہ محض اپنی سرکشی اور عناد کی بنا پر جھٹلاتے ہیں، جو کہ ان کی اپنی شقاوت و بدبختی کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
انسان کی سرکشی اور اس کا انجام تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 7 یعنی اپنی پیدائش کی حقیقت کو بھول جاتا ہے اور ذرا دولت ملے تو سرکشی پر اتر آتا ہے … بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ابوجہل کی سرکشی کی طرف اشارہ ہے اور آخر سورة تک اسی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ آیات اوپر کی پانچ آیتوں کے بعد نازل ہوئیں۔ (فتح قدیر)
Read the full tafseer →(96:6) کلا ان الانسان لیطغی : کلا کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) کلا بمعنی حقا ہے۔ یہ الکسائی کا مذہب ہے۔ (2) ابن حیان کا قول ہے کہ کلا تنبیہ کے طور پر بمعنی الا آیا ہے جیسا کہ آیت الا انھم ہم المفسدون (2:12) میں ہے۔ (3) علامہ پانی پتی (رح) تحریر فرماتے ہیں :۔ جو مشرک حد سے بڑھ کر رسالت کے منکر تھے اور نماز سے روکتے تھے۔ ان کو بازداشت کی گئی ہے اگرچہ اس کا ذکر کلام میں نہیں ہے۔ مگر سیاق کلام یا حال اس پر دلالت کر رہا ہے۔ (4) علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں :۔ ردع لمن کفر بنعمۃ اللہ بطغیانہ وان لم یذکر لدلالۃ الکلام علیہ۔ ردع اس کے لئے ہے جو سرکشی کرتا ہوا اللہ کی نعمت سے انکار کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →حضور ﷺ کا دشمن ضرور ہلاک ہوتا ہے۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت بھی ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی اس نے نبی ﷺ کو نماز پڑھنے سے منع کیا تھا اور لوگوں سے کہا تھا کہ اگر میں انہیں ایسا کرتا دیکھوں گا تو (معاذ اللہ) گردن پاؤں سے کچل ڈالوں گا اور چہرہ خاک میں ملادوں گا پھر وہ اسی ارادہ فاسد سے حضور کے نماز پڑھتے میں آی اور حضور کے قریب پہنچ کر الٹے پاؤں پیچھے بھاگا، ہاتھ آگے بڑھائے ہوئے جیسے کوئی کسی مصیبت کو روکنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے چہرہ کا رنگ اڑگیا اعضاء کانپنے لگے لوگوں نے کہا، کیا حال ہے کہنے لگا، میرے اور محمد ﷺ کے درمیان ایک خندق ہے جس میں آگ بھری ہوئی ہے اور دہشت ناک پرند بازو پھیلائے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
[5] یعنی انسان کو ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے کہ جس رب کریم نے اس پر اتنا بڑا کرم فرمایا ہے اس کے مقابلے میں وہ رویہ اختیار کرے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ یہاں سے سورت کے آخر تک کا حصہ اس وقت نازل ہوا جب نبی ﷺ نے حرم پاک میں اسلامی طریقے سے نماز پڑھنی شروع کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھا دیا تھا لیکن اس طریقے کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ پر صرف وہ وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی آپ ﷺ کو وحی کے ذریعہ ایسی باتوں کی تعلیم دی جاتی تھی جو قرآن میں درج نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ان پانچ آیتوں میں جو سب سے پہلے نازل ہوئیں ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ علم کا حصول ایک مذہبی اور دینی فریضہ ہے اور پیغمبر کو جس بات کی اولاً تلقین کی جاتی ہے ، وہ یہی ہے کہ اقرا ۔ ہاں یہ حلم اس نہج سے ہو کہ خالق کی طرف راہنمائی کرے ۔ گمراہی اور ضلات کو نہ پھیلائے ۔
Read the full tafseer →(6) سچ تو یہ ہے کہ انسان حد سے بڑھ جاتا ہے - یعنی آدمیت اور انسانیت کی حد سے نکل جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ف 3۔ مطلب یہ کہ اول تو تعلیم کچھ کتابت میں منحصر نہیں، دوسرے اسباب سے بھی تعلیم ہو رہی ہے، ثنیا اسباب موثر بالذات نہیں، سبب حقیقی و مفیض علوم ہم ہیں۔ پس گو آپ لکھنا نہیں جانتے مگر ہم نے جب آپ کو قرات کا امر کیا ہے تو ہم دوسرے ذریعہ سے آپ کو قرات اور حفظ علوم وحی پر قدرت دیدیں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا۔
Read the full tafseer →ہرگز نہیں انسان بلا شبہ حد سے اکثر تجاوز کر جاتا ہے 6 ؎ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے جن انعامات کا ذکر کیا گیا ہے ان انعامات میں سر فہرست علم سیکھنا ہے لیکن انسان کا رویہ بڑا عجیب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کا بہت ہی کم خیال کرتا ہے بلکہ وہ سب کچھ جھٹک کر رکھ دیتا ہے خصوصاً جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو علم و دولت کی فروانی حاصل ہوتی ہے تو وہ سر کشی پر اتر آتا ہے اور انسانوں میں بہت ہی کم ایسے انسان ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن جائیں ۔ یہ آیات پہلی پانچ آیتوں کے ایک عرصہ بعد نازل ہوئیں پہلے تو یہ بتایا کہ کم ظرف انسان کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ جب اس کے پاس مال و دولت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
Verses [ 6-7] كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ (The fact is that man crosses the limits, because he deems himself to be free of need.) Although the verse immediately refers to a particular person, namely, Abu Jahl who insulted the Holy Prophet ﷺ ، the statement is general which draws man's attention to one of his weaknesses. So long as man is in need of others, he walks straight; but when he thinks that he does not need anyone, he tends towards transgression, and develops the tendency to wrong-doing, tyranny and oppression. This is generally the behavior of the…
Read the full tafseer →7 That is, man should never adopt an attitude of ignorance and rebellion against the Bountiful God Who has been so generous to him
Read the full tafseer →