Al-Alaq 96:7

Al-Alaq · from ayah 7

96:7

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰی ۟ؕاَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰىؕ

جب کہ اپنے تیئں غنی دیکھتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Because he sees himself self-sufficient.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Alaq

All translations of 96:7

اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب کہ اپنے تیئں غنی دیکھتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس لئے کہ وه اپنے آپ کو بے پروا (یا تونگر) سمجھتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیونکہ اس نے اپنے آپ کو بےنیاز سمجھ لیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو (دنیا میں ظاہراً) بے نیاز دیکھتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس لیے وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی ہوگیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بےنیاز دیکھتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اپنے تائیں، بےنیاز سمجھ کر

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب کہ وہ اپنے آپ کو غنی (اور بےنیاز) سمجھنے لگتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اس بناء پر کہ اپنے کو مستغنی سمجھتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی دیکھتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب کہ خود کو غنی دیکھتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

for he believes himself to be self-sufficient.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

because he deems himself to be free of need.

— Muhammad Taqi Usmani

because he deems himself to be free of need.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Because he considers himself self-sufficient.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Because he sees himself self-sufficient.

— Saheeh International

because he thinks that he is independent.

— Muhammad Sarwar

Because he sees himself free from want.

— Muhammad Habib Shakir

As he bethinkest himself selfsufficient.

— Abdul Majid Daryabadi

In that he looketh upon himself as self-sufficient.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 96:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–19

طالب علم اور طالب دنیا : فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العلق 8 یعنی یہ دیکھ کر کہ مال، دولت، عزت و جاہ اور جو کچھ بھی دنیا میں وہ چاہتا تھا وہ اسے حاصل ہوگیا ہے، شکر گزار ہونے کے بجائے وہ سرکشی پر اتر آتا ہے اور حد بندگی سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–7

کلا ان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی، اس آیت کا روئے سخن اگرچہ ایک خاص شخص یعنی ابوجہل کی طرف ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی مگر عنوان عام رکھا ہے جس میں عام انسانوں کی ایک کمزوری بیان کی گئی وہ یہ ہے کہ انسان جب تک دوسروں کا محتاج رہتا ہے تو سیدھا چلتا ہے اور جب اس کو یہ گمان ہوجائے کہ میں کسی کا محتاج نہیں سب سے بےنیاز ہوں تو اس کے نفس میں طغیان یعنی سرکشی وغیرہ اور دوسروں پر ظلم وجور کے رجحانات پیدا ہوجاتے ہیں، جیسا کہ عموماً مالداروں اور اقتدار حکومت والوں اور اولاد و احباب یا خدام کی کثرت رکھنے الوں میں اس کا بکثرت مشاہدہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمول اور جماعت جتھے کی طاقت میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرمایا کہ ان کی یہ سخن سازیاں محض حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے ہیں۔ ان کے انکار کی اصل علت ہے تو خدا سے ان کی بے نیازی اور دنیا کی محبت لیکن نمائش یہ کر رہے ہیں کہ گویا ان کے پاس کچھ شبہات ہیں جن کا کوئی تسلی بخش جواب ان کو نہیں مل رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–9

4۔ 1 قلم کا معنی ہے قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے۔ اس لیے آلہ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–17

4: یعنی اپنے مال و دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو بےنیاز اور بےپرواہ سمجھتا ہے کہ کوئی مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب کو آخر کار اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے، وہاں یہ ساری بےنیازی اور بےپروائی دھری رہ جائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–7

انسان یہ نہیں سوچتا کہ اسے دینے والا اور غنی کرنے والا تو اللہ ہی ہے۔ اس سے قبل اسے پیدا بھی اللہ نے کیا اور تمام مخلوقات سے مکرم بھی بنایا اور اسے تعلم بھی دی لیکن انسان کا عمومی رویہ یہ ہے کہ جب اسے دیا جاتا ہے اور غنی بنا دیا جاتا ہے تو یہ بالمعموم شکر رب ادا نہیں کرتا الایہ کہ کسی کو اس کا ایمان اس ناشکری سے بچادے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو اس سرچشمے کا احساس بھی نہیں ہوتا جس سے یہ عطا اور غنا آرہی ہوتی ہے ، حالانکہ اس کو دینے والا اور غنی بنانے والا وہی ہوتا ہے جس نے اسے پیدا کیا ، عزت بخشی اور علم دیا۔ لیکن انسان نہ صرف یہ کہ اس منعم کا احساس مند نہیں ہوتا بلکہ وہ نہایت سرکشی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 6–7

13 یعنی آدمی کی اصل تو اتنی ہے کہ جمے ہوئے خون سے بنا اور جاہل محض تھا۔ خدا نے علم دیا، مگر وہ اپنی اصل حقیقت کو ذرا یاد نہیں رکھتا دنیا کے مال و دولت پر مغرور ہو کر سرکشی اختیار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے کسی کی پرواہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی۔ } ”اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی دیکھتا ہے۔“ وہ دیکھتا ہے کہ اس پر کوئی پکڑ نہیں۔ دنیا میں نہ تو ظالم کو اس کے ظلم کی قرار واقعی سزا ملتی ہے اور نہ ہی مظلوم کی کماحقہ داد رسی ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس دنیاکا نظام محض طبعی قوانین و ضوابط physical laws کے مطابق چل رہا ہے اور یہ کہ یہاں اخلاقی قوانین moral laws کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انسان کی روز مرہ زندگی کا تجربہ بھی اسے یہی بتاتا ہے کہ زہر کھانے سے تو آدمی ہلاک ہوجاتا ہے لیکن حرام کھانے سے اسے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ چناچہ جب معاشرے کے عام آدمی کو نیکی ‘ انصاف ‘ دیانت داری جیسے الفاظ عملی طور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 آیت نمبر 6 اور آیت نمبر 7 میں انسانوں کی اکثریت یا خدا فراموش انسان کی ایک عام خصلت بیان کی گئی ہے کہ جب کسی کو سیر ہو کر کھانے کو ملنے لگتا ہے اور اس پر خوش حالی کا دور آتا ہے تو وہ اپنے جیسے انسانوں کو درکنارا اپنے خالق ومالک کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اور اس کی سرکشی اور بغاوت پر اتر آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–7

5۔ یہاں یہ بتایا کہ انسان کے حد عبودیت سے نکل جانے اور سرکشی اور طغیان کی اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے کو اپنے خالق کی طرف سے بےنیاز سمجھنے لگتا ہے۔ (آیت) ” کلا “۔ ہمیشہ تردید ہی کے معنی میں نہیں، بلکہ کبھی زور وتاکید کے موقع پر ” یقیناً “ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ وقد جاء بمعنی حقا (ابوالبقاء)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–19

دوسرے حصہ کا شان نزول : کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان راہ استغنی . اس لیے کہ وہ اپنے کو غنی پاتا ہے ‘ ان سے پہلے لام مقدر ہے پس ان رای علت طغیان ہوگا یا اس سے پہلے لفظ وقت محذوف ہوگا۔ اس وقت رویت طغیان کے لیے ظرف زمان ہوگی ‘ یعنی احساس استغناء کے وقت وہ طغیان کرتا ہے۔ رویت سے مراد ہے دل سے دیکھنا (یعنی پانا اور احساس کرنا) آنکھوں سے دیکھنا مراد نہیں ہے ‘ ورنہ مرفوع اور منصوب دونوں ضمیروں کا مرجع ایک ہی ہوگا اور یہ ناممکن ہے ‘ ابوجہل کو مال مل جاتا تھا تو وہ کھانے ‘ پہننے اور سواری میں (دوسروں پر) اپنا امتیاز قائم کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–8

(6۔ 7) کافر کھانے، پینے، لباس اور سواری میں حد آدمیت سے نکل جاتا ہے اسوجہ سے کہ وہ اپنے آپ کو مال کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے مستغنی سمجھتا ہے آخر میں سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا ہوگا۔ شان نزول : كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى الخ ابن منذر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوجہل کہنے لگا کیا محمد ﷺ تمہارے درمیان نماز پڑھتے ہیں جواب میں کہا گیا ہاں ! تو وہ بدبخت کہنے لگا لات و عزی کی قسم اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو نعوذ باللہ ان کی گردن پر پیر رکھ دوں گا ان کے چہرہ انور کو مٹی میں رگڑ دوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 6–8

(1) کلا ان الانسان لیطغی …:”کلا“ کا معنی ”ہرگز نہیں“ ،”خبر ’ ار“ اور ”حق یہ ہے“ میں سے موقع کی مناسبت سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔”الرجعی“”رجع یرجع“) (ض) سے ”بشری“ کے وزن پر مصدر ہے۔ (2) یہ آیات پہلی پانچ آیات کے بعد وقفہ سے نازل ہوئیں، جب ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آیا اور کہنے لگا :”کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا ؟“ یہ بات اس نے تین بار کہی۔ نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اسے ڈانٹا، اس پر ابوجہل کہنے لگا :”تم جانتے ہو اس شہر میں مجلس کے ساتھ مجھ سے زیادہ کسی کے نہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں :(فلیدع نادیہ، سندع…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

کلاان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں سے لے کر سورت کے آخرتک آیات ابوجہل کے حق میں نازل ہوئیں ایک قول یہ کیا گیا تمام سورت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم ﷺ کو نماز سے منع کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ مسجد میں نماز پڑھیں اور یہ سورت پڑھی، اس تاویل کی بنا پر سورت ان سورتوں میں سے نہ ہوئی جو ابتداء میں نازل ہوئیں، یہ بھی جائز ہے اس کی پہلی پانچ آیات سب سے پہلے نازل ہوئی ہوں پھر باقی آیات ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی ہوں اور نبی کریم کو حکم دیا گیا ہو کہ انہیں سورت کے پہلے حصہ کے ساتھ ملالیں۔ کیونکہ سورتوں کی ترکیب و تالیف اللہ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–19

1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–7

روایت احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئیں۔ ابو جہل کو رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ دشمنی تھی رسول اللہ ﷺ مسجد حرام میں تشریف لاتے تھے اور نماز ادا فرماتے تھے ایک دن ابو جہل نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ محمد ﷺ مٹی میں اپنا چہرہ ملائیں گے (یعنی سجدہ میں جائیں گے) تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اس نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ کی گردن مبارک پر پاؤں رکھنے کے لیے آگے بڑھا فوراً الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور وہ ہاتھوں کو اس طرح ہلا رہا تھا جیسے کسی چیز سے بچاؤ کر رہا ہو، لوگوں نے کہا کیا ہوا ؟ کہنے لگا کے میرے اور محمد ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–7

5:۔ ” کلا ان الانسان “ یہاں الانسان سے اکثر مفسرین کے نزدیک ابو جہل مراد ہے یا اس سے جنس مشرک انسان مراد ہے۔ کلا بمعنی حقا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ایسے انعامات اور ایسے واضح بیانات کے باوجود مشرک انسان سرکشی کرتا اور عصیان و فسوق میں حد سے تجاوز کرتا ہے۔ ” ان راہ استغنی “ لام تعلیل مقدر ہے۔ ای لان رای نفسہ استغنی ای صار ذا مال وثروۃ (قرطبی ج 20 ص 123) ۔ مشرک انسان اس لیے سرکش اور طاغی ہوا ہے کہ وہ دولت مند ہے اس لیے اسے دین و ایمان کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ نادان بدبخت یہ سمجھتا ہے کہ پس دنیا کی دولت ہی اصل چیز ہے اسی سے انسان کی عزت و عظمت ہے

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–19

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰى۝ 7 ۭ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ کلا فیہا اقوال (1) انھا بمعنی حقاد ھو مذہب الکسائی۔ لانہ لیس قبلھا رولا بعدھا شیء تکون کلار دًالہ ذکرہ الجر جانی صاحب النظم (2) روع دزجر لمن کفر الغامہ تعالیٰ بطغیا نہ وان لم یتقدم لہ ذکر (3) مذھب ابی حبان انھا بمعنی اَلَا التنبیہ نحوالا انھم ھم المفسدون فیقف علی ما قبلھا و علی الاول الوقف علیھا ان راہ بالنصب قال الاخفش اصلہ لان راہ فخذفت اللام کما یقال انکم لتطغون أن رایتم غناء کم۔ وقال ابن الصائغ ھو مفعول لہ ای یطغی لذاک۔ والرویۃ ھٰھنا بمعنی العلم ولو کانت بصریۃ لا تمنع الجمع بین الضمیرین فی فعلھا لشیء واحد لان ذلک من خواص علم و مثلہ فالمفعول الاول الضمیر فی رآء والثانی استغنیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–7

کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓے۔ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰے۔ (العلق : 6، 7) (ہرگز نہیں، بیشک انسان سرکشی کرتا ہے۔ اس بناء پر کہ وہ اپنے آپ کو بےنیاز دیکھتا ہے۔ ) احسانات کے جواب میں قریش کا رویہ اور اس کا سبب ان آیات میں اشرافِ قریش کے اس رویئے کا بیان ہے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کے بدلے میں اختیار کیا جو آیات بالا میں مذکور ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والی وحی اہل عرب کے لیے خصوصاً اور پوری نوع انسانی کے لیے عموماً اللہ تعالیٰ کی نعمت غیرمترقبہ تھی۔ ان نعمتوں کا مورد چونکہ براہ راست قریش اور ان کا شہر بنا، اس لیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ سب سے پہلے اس پر ایمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اسے علم اور فہم کے ذریعے دوسری مخلوق سے معزز بنایا لیکن انسان اپنے رب کا تابعدار ہونے کی بجائے اس کا باغی بن جاتا ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ سورة التّین میں چار قسمیں اٹھاکر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے نہ صرف اسے بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے بلکہ انسان کو قلم کے ذریعے علم کی دولت سے مالا مال فرمایا۔ اس بنا پر انسان دوسری مخلوق کو اپنے تابع بنا لیتا ہے، چاہیے تو یہ کہ انسان اپنے رب کا تابع فرمان اور شکرگزار ہوتا لیکن اکثر انسانوں کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں کچھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی (اس وجہ سے کہ اپنے کو مستغنی دیکھتا ہے) اے ان رای نفسہ : یہ کہ وہ اپنے نفس کو دیکھتا ہے۔ ایک قاعدہ : افعال قلوب میں کہتے ہیں۔ رأیتنی وعلمتنی۔ یہاں معنی رؤیت کا علم ہی ہوتا ہے اگر یہ ابصارؔ کے معنی میں ہو تو پھر اس کے فعل میں دو ضمیروں کا اجتماع ممنوع ہوتا ہے۔ (حالانکہ یہاں دو ضمیریں موجود ہیں۔ پس یہ بصر کے معنی میں نہ ہوا) اسْتَغْنٰی۔ نحو : یہ مفعول ثانی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” ان “ اس لئے کہ ” راہ استغنیٰ “ کہ وہ اپنے نفس کو غنی دیکھتا ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں لباس دکھانے وغیرہ میں ایک مرتبہ سے دوسرے مرتبہ کی طرف بلند ہوتا ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ جس اس کو مال حاصل ہوتا تو اپنے کپڑوں اور سواریوں اور کھانوں میں اضافہ کرتا تو یہ اس کی سرکشی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–19

6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–10

(اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک ہے بہت زیادہ کرم و احسان اور بےپایاں جودو والا ہے جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور (الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۝ۭ ) قلم کے ذریعے سے سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا اس کو سماعت بصارت اور عقل سے بہرور کیا اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے اسے قرآن کی تعلیم دی حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

8 ۔ طغیانی و سرکشی خرابی و فساد کی جڑ بنیاد والعیاذ باللہ : ارشاد فرمایا گیا اور خرابی و فساد کی جڑ بنیاد کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ بیشک انسان بڑا سرکش ہوجاتا ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو بےنیاز سمجھنے لگتا ہے اور وہ حدود وطاعت و بندگی سے باہر نکل جاتا ہے، جبکہ وہ اپنے آپ کو نور حق سے مستغنی اور بےنیاز سمجھنے لگتا ہے اور اس طرح وہ تباہی اور بربادی کی راہ پر چل نکلتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان بدبخت منکروں کے رویے کو آشکار فرما دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت و عنایت کی قدر کرنے اور دل و جان سے اس کی طرف لپکنے اور آگے بڑھنے کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–19

انسان کی سرکشی اور اس کا انجام تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

ف 7 یعنی اپنی پیدائش کی حقیقت کو بھول جاتا ہے اور ذرا دولت ملے تو سرکشی پر اتر آتا ہے … بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ابوجہل کی سرکشی کی طرف اشارہ ہے اور آخر سورة تک اسی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ آیات اوپر کی پانچ آیتوں کے بعد نازل ہوئیں۔ (فتح قدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(96:7) ان راہ استغنی : ان اصل میں لان تھا۔ لام تعلیل کا اور ان مصدریہ ہے لام کو حذف کردیا گیا ہے۔ لان (یہ) اس لئے کہ۔ اس بناء پر کہ۔ اس وجہ سے کہ۔ ضمیر فاعل ابوجہل کی طرف راجع ہے یا الانسان کی طرف راجع ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب بھی ابوجہل کے لئے یا الانسان کے لئے ہے۔ رای ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب جس کا معنی دیکھنا ہے لیکن یہاں رؤیۃ بمعنی علم آیا ہے۔ یا دل کی آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے۔ آنکھوں سے دیکھنا مراد نہیں ورنہ مرفوع اور منصوب دونوں ضمیروں کا مرجع ایک ہوگا اور ناممکن ہے۔ استغنی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب استغناء (استفعال) مصدر سے بمعنی مستغنی ہونا، بےنیاز ہونا، یہ رای کا مفعول…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–9

(ف 2) شان نزول : جب ابوجہل نے نبی ﷺ کو نماز سے منع کیا توحضورنے اس کو سختی سے جھڑک دیا اس پر اس نے کہا کہ آپ مجھے جھرکتے ہو خدا کی قسم میں آپ کے مقابل نوجوان سواروں اور پیادوں سے اس جنگل کو بھردوں گا، آپ جانتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں مجھ سے زیادہ بڑے جتھے اور مجلس والا کوئی نہیں اس پری آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اب وہ اپنی مجلس والے ساتھیوں کو بلائے اور ہم بھی اس کی گوشمالی کے لیے اپنے سپاہی بلاتے ہیں دیکھیں کون غالب رہتا ہے چند روز بعد بدر کی لڑائی میں دیکھ لیا کہ اسلام کے سپاہیوں نے اسے کس طرح گھسیٹ کر قلیب بدر میں پھینک دیا باقی اصل وقت گھسیٹنے کا آخرت ہے جب دوزخ کے فرشتے اس کو نہایت ذلت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–9

[5] یعنی انسان کو ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے کہ جس رب کریم نے اس پر اتنا بڑا کرم فرمایا ہے اس کے مقابلے میں وہ رویہ اختیار کرے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ یہاں سے سورت کے آخر تک کا حصہ اس وقت نازل ہوا جب نبی ﷺ نے حرم پاک میں اسلامی طریقے سے نماز پڑھنی شروع کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھا دیا تھا لیکن اس طریقے کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ پر صرف وہ وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی آپ ﷺ کو وحی کے ذریعہ ایسی باتوں کی تعلیم دی جاتی تھی جو قرآن میں درج نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

ان پانچ آیتوں میں جو سب سے پہلے نازل ہوئیں ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ علم کا حصول ایک مذہبی اور دینی فریضہ ہے اور پیغمبر کو جس بات کی اولاً تلقین کی جاتی ہے ، وہ یہی ہے کہ اقرا ۔ ہاں یہ حلم اس نہج سے ہو کہ خالق کی طرف راہنمائی کرے ۔ گمراہی اور ضلات کو نہ پھیلائے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اس سبب سے کہ وہ اپنے کو توانگر اور بےنیاز دیکھتا ہے ۔ یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی ہے جب اس نے اپنے آپ کو مالدار اور مال میں بڑھا ہوا دیکھا تو لگاتکبر کرنے اور یہ سمجھا کہ میں اب اللہ تعالیٰ سے بھی بےنیاز ہوں حالانکہ کوئی کتنا ہی دولت مند ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ اس نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا کہ میں اس کو کئی بار منع کرچکا ہوں لیکن یہ باز نہیں آتا اب کے اگر نماز پڑھتے دیکھا تو میں اس کی گردن پر پائوں رکھ کر کھڑا ہوجائوں گا میرے ساتھی اور میرے حمایتی بہت ہیں اس پر حق تعالیٰ نے اس کی مذمت فرمائی چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–9

ف 3۔ مطلب یہ کہ اول تو تعلیم کچھ کتابت میں منحصر نہیں، دوسرے اسباب سے بھی تعلیم ہو رہی ہے، ثنیا اسباب موثر بالذات نہیں، سبب حقیقی و مفیض علوم ہم ہیں۔ پس گو آپ لکھنا نہیں جانتے مگر ہم نے جب آپ کو قرات کا امر کیا ہے تو ہم دوسرے ذریعہ سے آپ کو قرات اور حفظ علوم وحی پر قدرت دیدیں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس طرح کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی سمجھتا ہے ہے 7 ؎ ( زاہ) اس نے اس کو دیکھا رای رویۃ سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہ ٗ ضمیر واحد مذکر غائب اس جگہ مراد ہے اس انسان نے اپنے آپ کو دیکھا ( استغنیٰ ) اس نے بےپروائی کی استغناء سے جس کے معنی بےپرواہ ہونے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ سر کش انسان نے اپنے آپ کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے بھی بےنیاز کرلیا اور کچھ نہ ہونے کے باوجود اس نے اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھ لیا اور اس نے بندہ ہو کر بندہ نواز سے متکا لگا لیا حالانکہ اس کی ہستی ہی کیا تھا اس بات کو اس نے پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا اور حقتقا کو ایسا بھول کہ اس کو بھول کر بھی کبھی یاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

Verses [ 6-7] كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ أَن رَّ‌آهُ اسْتَغْنَىٰ (The fact is that man crosses the limits, because he deems himself to be free of need.) Although the verse immediately refers to a particular person, namely, Abu Jahl who insulted the Holy Prophet ﷺ ، the statement is general which draws man's attention to one of his weaknesses. So long as man is in need of others, he walks straight; but when he thinks that he does not need anyone, he tends towards transgression, and develops the tendency to wrong-doing, tyranny and oppression. This is generally the behavior of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 That is, when the man has attained wealth, honour and rank and whatever else he desired to attain in the world, he becomes rebellious instead of being grateful and transgresses the boundaries of servitude to Allah.

Read the full tafseer →