Explained with ayahs 6–19
طالب علم اور طالب دنیا :
فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة العلق 9
یعنی خواہ کچھ بھی اس نے دنیا میں حاصل کرلیا ہو جس کے بل پر وہ تمرد اور سرکشی کر رہا ہے۔ آخر کار اسے جانا تو تیرے رب ہی کے پاس ہے۔ پھر اسے معلوم ہوجائے گا کہ اس روش کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ان الی ربک الرجعی، رجعی مثل بشریٰ کے اسم مصدر ہے۔ معنے یہ ہیں کہ سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اس کے ظاہر معنے تو یہی ہیں کہ مرنے کے بعد سب کو اللہ کے پاس جانا اور اچھے برے اعمال کا حساب دینا ہی اس وقت اس طغیانی اور سرکشی کے انجام بد کو آنکھوں سے دیکھ لیگا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اس جملے میں مغرور انسان کے غرور کا علاج بتلایا گیا ہو کہ اے احمق تو اپنے آپ کو سب سے بےنیاز خود مختار سمجھتا ہے اگر غور کرے گا تو اپنی ہر حالت بلکہ ہر حرکت و سکون میں تو اپنے آپ کو رب تعالیٰ کا محتاج پائیگا، اگر اس نے تجھے کسی انسان کا محاتج بظاہر نہیں بنایا تو کم از کم اس کو تو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا تو ہر چیز…
Read the full tafseer →’رُجْعٰی‘ مصدر ہے ’بُشْرٰی‘ کے وزن پر، لوٹنے کے معنی میں۔
تنبیہ اور آخرت کی یاددہانی: فرمایا کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں کرنے دو بالآخر ان کو لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے جس سے یہ مستغنی اور بے خوف ہیں۔ اس وقت ان کے طغیان کی حقیقت ان کے سامنے کھل جائے گی۔ اگر ان کو گمان ہے کہ ان کے مزعومہ شرکاء ان کے مولیٰ و مرجع بنیں گے تو ان کے اس وہم سے بھی پردہ اٹھ جائے گا۔ اس دن بادشاہی صرف اللہ کی ہو گی اور اس کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
4۔ 1 قلم کا معنی ہے قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے۔ اس لیے آلہ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
4: یعنی اپنے مال و دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو بےنیاز اور بےپرواہ سمجھتا ہے کہ کوئی مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب کو آخر کار اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے، وہاں یہ ساری بےنیازی اور بےپروائی دھری رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →ان الی ........................ الرجعی (8:96) ” بیشک پلٹنا تیرے رب کی طرف ہی ہے “۔ آخر یہ غافل اور سرکش بھاگے گا کہاں ، آخر آنا تو اللہ ہی کے سامنے ہے۔
لکن اس تہدید کے ساتھ ساتھ اسلامی تصور حیات کا ایک بنیادی اصول اور نظریہ بھی پیش کردیا جاتا ہے ، یہ کہ سب نے اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے۔ سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے ، ہر چیز میں ہر بات کے حوالے سے ، ہر نیت و ارادہ میں اور ہر فعل و حرکت میں ، کیونکہ اللہ کے سوا اور کوء یجائے پناہ اور مرجع ہے ہی نہیں۔ اگر کوئی نیک ہے یا بد ہے ، سب نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ اگر کوئی فرمان بردار ہے یا معصیت کیش ہے ، حق پر ہے یا باطل پر ہے ، اچھا ہے ، یا شریر ہے۔…
Read the full tafseer →14 یعنی اول بھی اس نے پیدا کیا اور آخر بھی اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ اسی وقت اس تکبر اور خود فراموشی کی حقیقت کھلے گی۔
Read the full tafseer →آیت 8{ اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی۔ } ”یقینا تجھے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“
گویا انسان کو راہ راست پر رکھنے کا جو موثر ترین علاج ہے وہ ہے عقیدئہ آخرت پر پختہ یقین۔ یعنی یہ یقین کہ ایک دن اسے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے اور وہ عدالت بھی ایسی ہے جہاں ذرّہ برابر بھی کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکے گی : { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ - وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } الزلزال ”جس کسی نے ذرّے کے ہم وزن نیکی کمائی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس کسی نے ذرّے کے ہم وزن برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا“۔ گویا یہ…
Read the full tafseer →8 رُجْعٰی بمعنی لوٹ کر واپس جانے کا مقام، یعنی انسان دنیا میں خواہ کتنی ہی سرکشی اختیار کرلے۔ بالآخر اسے اپنے پروردگار کے پاس جانا پڑے گا۔ اس وقت اسے معلوم ہوجائے گا کہ اس کی اس متکبرانہ روش کا انجام کیسا ہوتا ہے ؟
Read the full tafseer →6۔ (تو اے مخاطب تو اس پروردگار سے مستغنی کیسے رہ سکتا ہے ؟ ) قلب میں انابت وشکستگی پیدا کرنے کا اس سے زیادہ مؤثر کوئی طریقہ نہیں کہ استحضار اپنے اسی انجام وعاقبت کا ہوتا رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
دوسرے حصہ کا شان نزول :
کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…
Read the full tafseer →ان الی ربک الرجعی . رجعٰی بروزن بشرٰی مصدر ہے۔ یہ جملہ مفید تہدید و تخویف ہے اور مستانفہ ہے
(سوال ہوتا تھا کہ پھر اس طاغی کا انجام کیا ہے ‘ تو یہ جواب دیا گیا) ۔
کلام کا رخ موڑ کر اسی طاغی انسان کو خطاب کیا۔ الرجعٰی میں الف لام مضاف الیہ کے عوض ہے۔ یعنی اے طاغی ! تیری واپسی تیرے رب ہی کی طرف ہوگی وہ تجھے اس طغیان کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(6۔ 7) کافر کھانے، پینے، لباس اور سواری میں حد آدمیت سے نکل جاتا ہے اسوجہ سے کہ وہ اپنے آپ کو مال کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے مستغنی سمجھتا ہے آخر میں سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا ہوگا۔
شان نزول : كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى الخ
ابن منذر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوجہل کہنے لگا کیا محمد ﷺ تمہارے درمیان نماز پڑھتے ہیں جواب میں کہا گیا ہاں ! تو وہ بدبخت کہنے لگا لات و عزی کی قسم اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو نعوذ باللہ ان کی گردن پر پیر رکھ دوں گا ان کے چہرہ انور کو مٹی میں رگڑ دوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(1) کلا ان الانسان لیطغی …:”کلا“ کا معنی ”ہرگز نہیں“ ،”خبر ’ ار“ اور ”حق یہ ہے“ میں سے موقع کی مناسبت سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔”الرجعی“”رجع یرجع“) (ض) سے ”بشری“ کے وزن پر مصدر ہے۔
(2) یہ آیات پہلی پانچ آیات کے بعد وقفہ سے نازل ہوئیں، جب ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آیا اور کہنے لگا :”کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا ؟“ یہ بات اس نے تین بار کہی۔ نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اسے ڈانٹا، اس پر ابوجہل کہنے لگا :”تم جانتے ہو اس شہر میں مجلس کے ساتھ مجھ سے زیادہ کسی کے نہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں :(فلیدع نادیہ، سندع…
Read the full tafseer →ان الی ربک الرجعیٰ ۔
یعنی جس کے مذکور اوصاف ہیں اس کالوٹنا تیرے رب کی طرف ہے تو ہم اسے بدلہ دیں گے، رجعی، مرجع، اور رجوع، سب مصادر ہیں یوباب چلایا جاتا ہے، رجع الیہ، رجوجا، مرجعا، رجعی یہ فعلی کے وزن پر ہے۔
ارء یت الذی ینھی، عبدا اذا صلی۔
الذی ینھی۔ سے مراد ابوجہل ہے عبدا سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے کیونکہ ابوجہل نے کہا، اگر میں نے حضرت محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیاتو میں اس کی گردن روند دوں گا یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے نازل کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا کلام میں حذف ہے معنی یہ ہے کیا نماز سے روکنے والا سزا سے امن میں ہے ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔
3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →[ان اِلٰى رَبِكَ : بیشک آپ ﷺ کے رب کی طرف ہی ][ الرُّجْعٰى: لوٹنا ہے (سب کو)]
ترکیب : (آیت۔ 8) اَلرُّ جْعیٰ فُعْلٰی کا وزن ہے لیکن یہ افعل تفضیل میں واحد مونث نہیں ہے بلکہ یہ رَجَعَ ۔ یَرْجِعُ کا ایک مصدر ہے۔ فُعْلٰی کے وزن پر کچھ مصدر بھی آتے ہیں۔
Read the full tafseer →﴿ اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ008﴾ (اے مخاطب بیشک تجھے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے) یہ سرکشی کرنے والا بھی اپنے رب کی طرف واپس ہوگا، دنیاوی مالداری کو نہ دیکھے اور اموال دنیا پر نظر کر کے اپنے رب کو نہ بھولے کیونکہ ہر حال میں مرنا ہے مر کر جہاں جائے گا وہاں مال و اولاد کوئی کسی کے کام نہ آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔
یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →6:۔ ” ان الی “ یہ تخویف اخروی ہے اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس دنیوی زندگی کے بعد اور کوئی زندگی نہیں مگر اس کا یہ خیال غلط ہے بلکہ مرنے کے بعد برزخ میں اور قیامت کے دن میدان حشر میں خدا کی طرف اس کی واپسی اور اس کے سامنے اس کی پیشی ہوگی وہاں اس کو اس کے عصیان طغیان کی پوری پوری سزا ملے گی اور دولت و ثروت وہاں کام نہیں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
گزشتہ سے پیوستہ
سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰى 8 ۭ
إلى
إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ کلا فیہا اقوال (1) انھا بمعنی حقاد ھو مذہب الکسائی۔ لانہ لیس قبلھا رولا بعدھا شیء تکون کلار دًالہ ذکرہ الجر جانی صاحب النظم (2) روع دزجر لمن کفر الغامہ تعالیٰ بطغیا نہ وان لم یتقدم لہ ذکر (3) مذھب ابی حبان انھا بمعنی اَلَا التنبیہ نحوالا انھم ھم المفسدون فیقف علی ما قبلھا و علی الاول الوقف علیھا ان راہ بالنصب قال الاخفش اصلہ لان راہ فخذفت اللام کما یقال انکم لتطغون أن رایتم غناء کم۔ وقال ابن الصائغ ھو مفعول لہ ای یطغی لذاک۔ والرویۃ ھٰھنا بمعنی العلم ولو کانت بصریۃ لا تمنع الجمع بین الضمیرین فی فعلھا لشیء واحد لان ذلک من خواص علم و مثلہ فالمفعول الاول الضمیر فی رآء والثانی استغنیٰ…
Read the full tafseer →اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی۔ (العلق : 8)
(بیشک آپ کے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ )
رُجْعٰی … بشریٰ کے وزن پر مصدر ہے۔ اس کا معنی رجوع کرنا اور لوٹنا ہے۔
قریش کی نادانی پر تنبیہ
کاش پندارِدولت کے ان مریضوں کو اس بات کا احساس ہوتا کہ لوٹنا تو انھیں بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے۔ موت سے کسے رستگاری ہے۔ سب اکڑی ہوئی گردنیں فرشتہ اجل کے سامنے ٹوٹ جائیں گی۔ شاہجہاں اور جہانگیر کہلانے والے بھی موت کے ہاتھ سے بےبس ہوں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری ہوگی تو وہاں ایمان و عمل کے سوا کوئی سہارا نہ ہوگا۔ تب انھیں اندازہ ہوگا کہ ان کی سرکشی ان کے لیے کتنی مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ اور آج جن قوتوں کے سہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اسے علم اور فہم کے ذریعے دوسری مخلوق سے معزز بنایا لیکن انسان اپنے رب کا تابعدار ہونے کی بجائے اس کا باغی بن جاتا ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ سورة التّین میں چار قسمیں اٹھاکر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے نہ صرف اسے بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے بلکہ انسان کو قلم کے ذریعے علم کی دولت سے مالا مال فرمایا۔ اس بنا پر انسان دوسری مخلوق کو اپنے تابع بنا لیتا ہے، چاہیے تو یہ کہ انسان اپنے رب کا تابع فرمان اور شکرگزار ہوتا لیکن اکثر انسانوں کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں کچھ…
Read the full tafseer →8 : اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی (اے مخاطب تیرے رب ہی کی طرف سب کا لوٹنا ہوگا) بطور التفات انسان کو سرکشی کے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔ الرُّجْعٰی یہ مصدر بمعنی الرجوع ہے یعنی تم نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پس وہ تمہاری سرکشی پر تمہیں بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →8 ۔” ان الی ربک الرجعیٰ “ یعنی آخرت میں لوٹنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
(اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ ) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک ہے بہت زیادہ کرم و احسان اور بےپایاں جودو والا ہے جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور (الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۭ ) قلم کے ذریعے سے سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا اس کو سماعت بصارت اور عقل سے بہرور کیا اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے اسے قرآن کی تعلیم دی حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
9 ۔ سب کا رجوع اللہ تعالیٰ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ آخر کار لوٹنا سب کو تمہارے رب ہی کی طرف ہے کہ آنا بھی ہر کسی کا ادھر ہی سے ہوا تھا اور جانا بھی ادھر ہی ہوگا، نہ آنا اپنی مرضی اور اختیار سے تھا، اور نہ جانا اپنی مرضی و اختیار سے ہوگا کہ ہم سب ملکیت اور مال بہرحال اسی خالق کل اور مالک مطلق کا ہیں، جیسا کہ " انا للہ وانا الیہ راجعون " کے دعائیہ کلمات میں بھی یہی درس دیا گیا ہے، اور وہاں جانے کے بعد ہر کسی نے اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور پورا پورا بدلہ پانا ہوگا، پس جنہوں نے دنیاوی زندگی کی اس مختصر و محدود فرصت کو اپنے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
انسان کی سرکشی اور اس کا انجام
تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔
حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔
آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
ف 8 مطلب یہ ہے کہ ابوجہل مردود چاہے سیدھے راستہ پر ہو (جیسا کہ وہ اپنے آپ کو سمجھتا تھا اور چاہے دین حق کا منکر دونوں صورتوں میں اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے اور وہ یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے کسی بندے کو نماز پڑھنے سے روکا جائے۔
Read the full tafseer →(96:8) ان الی ربک الرجعی : ان حرف مشبہ بالفعل۔ الرجعی اس کا اسم۔ الی ربک اس کی خبر۔
رجعی بروزن بشری (باب ضرب) مصدر ہے۔ الرجعی میں الف لام مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔
ربک مضاف مضاف الیہ ک ضمیر واحد مذکر حاضر الانسان کے لئے ہے ۔ (بیضاوی، کشاف)
اے طاغی انسان تیری و ایسی تیرے رب ہی کی طرف ہوگی (وہ تجھے اس طغیان کی سزا دیگا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔
تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(ف 2) شان نزول : جب ابوجہل نے نبی ﷺ کو نماز سے منع کیا توحضورنے اس کو سختی سے جھڑک دیا اس پر اس نے کہا کہ آپ مجھے جھرکتے ہو خدا کی قسم میں آپ کے مقابل نوجوان سواروں اور پیادوں سے اس جنگل کو بھردوں گا، آپ جانتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں مجھ سے زیادہ بڑے جتھے اور مجلس والا کوئی نہیں اس پری آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اب وہ اپنی مجلس والے ساتھیوں کو بلائے اور ہم بھی اس کی گوشمالی کے لیے اپنے سپاہی بلاتے ہیں دیکھیں کون غالب رہتا ہے چند روز بعد بدر کی لڑائی میں دیکھ لیا کہ اسلام کے سپاہیوں نے اسے کس طرح گھسیٹ کر قلیب بدر میں پھینک دیا باقی اصل وقت گھسیٹنے کا آخرت ہے جب دوزخ کے فرشتے اس کو نہایت ذلت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
[5] یعنی انسان کو ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے کہ جس رب کریم نے اس پر اتنا بڑا کرم فرمایا ہے اس کے مقابلے میں وہ رویہ اختیار کرے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ یہاں سے سورت کے آخر تک کا حصہ اس وقت نازل ہوا جب نبی ﷺ نے حرم پاک میں اسلامی طریقے سے نماز پڑھنی شروع کی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھا دیا تھا لیکن اس طریقے کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ پر صرف وہ وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی آپ ﷺ کو وحی کے ذریعہ ایسی باتوں کی تعلیم دی جاتی تھی جو قرآن میں درج نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ان پانچ آیتوں میں جو سب سے پہلے نازل ہوئیں ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ علم کا حصول ایک مذہبی اور دینی فریضہ ہے اور پیغمبر کو جس بات کی اولاً تلقین کی جاتی ہے ، وہ یہی ہے کہ اقرا ۔ ہاں یہ حلم اس نہج سے ہو کہ خالق کی طرف راہنمائی کرے ۔ گمراہی اور ضلات کو نہ پھیلائے ۔
Read the full tafseer →(8) بے شک اے مخاطب تیرے پروردگار کی ہی حضور میں سب کو پلٹ کر جانا ہے - جب اس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے تو اس سے کوئی کس طرح مستغنی اور بےنیاز ہوسکتا ہے جس طرح اس زندگی میں اس کی قدرت سے خارج نہیں اسی طرح اس زندگی میں بھی اسی کے احاطہ قدرت میں گھرا ہوا ہے پھر بھلا اس سے کوئی سرکش اور متکبر کیسے بےنیاز ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ف 3۔ مطلب یہ کہ اول تو تعلیم کچھ کتابت میں منحصر نہیں، دوسرے اسباب سے بھی تعلیم ہو رہی ہے، ثنیا اسباب موثر بالذات نہیں، سبب حقیقی و مفیض علوم ہم ہیں۔ پس گو آپ لکھنا نہیں جانتے مگر ہم نے جب آپ کو قرات کا امر کیا ہے تو ہم دوسرے ذریعہ سے آپ کو قرات اور حفظ علوم وحی پر قدرت دیدیں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا۔
Read the full tafseer →بلا اے انسان تو نے لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہے
8 ؎ (رجعی) پھرجانا لوٹنا۔ رجع یرجع کا مصدر ہے لازم آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ہفت اقلیم کا مالک ہے اور دنیا کی دولت ان گنت اس کے پاس موجود ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ہم چوما دیگرے نیست اور نخوت وتکبر میں وہ ڈوبا ہوا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں بھی اور پھر کوئی اور بھی اس طرح وہ بھولتا بھالتا کہیں کا کہیں نکل گیا ہے اور اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ میرے مقابلہ میں نہ کوئی ہے اور نہ ہی کسی کے ہونے کا امکان ہے تو یہ اس کی نہایت سخت بھول ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ کچھ بھی ہے بہر حال اس کو لوٹ کر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا ہے اور ہر حال میں لوٹنا ہے۔ وہ تسلیم…
Read the full tafseer →Verse [ 8] إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الرُّجْعَىٰ إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الرُّجْعَىٰ (Surely to your Lord is the Return.) The word rufa, like bushra, is the verbal noun of infinitive - meaning all will be returning to their Lord. The apparent meaning is 'returning to the Lord after death and giving account of good and bad deeds and seeing with their own eyes the evil consequences of arrogance.' The profounder meaning of the verse is that though man has been endowed with great natural powers and has been created in the best make, he errs grievously if he thinks that he can ignore Allah's help and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
9 That is, "Whatever he might have attained in the world, which makes ,him behave arrogantly and rebelliously, in the end he has to return to your Lord. Then he will realize what fate awaits him in consequence of his such attitude and behaviour."
Read the full tafseer →