96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 96:1–5

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

اے پیغمبر (علیہ السلام) آپ پڑھیں اپنے رب کا نام لے کر وہ رب جس نے پیدا کیا ۔

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جس نے انسان کو بستہ خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

آپ پڑھیں اور آپ کا رب بڑا کریم ہے ۔

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

وہ جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

وحی کی ابتداء بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور ﷺ کا عطائے نبوت کا وقت قریب آ گیا تو حبب الیہ الخلآء آپ تنہائی پسند فرمانے لگے۔ شہر سے دور نکل جاتے اور تنہائی میں اللہ کا ذکر کرتے۔ آپ کا عام معمول یہ ہوگیا تھا کہ جبل نور پر واقع غار حرا میں تشریف لے جاتے اور چار پانچ دن یا ہفتہ بھر وہیں قیام فرماتے۔ بعض اوقات آپ مہینہ بھر بھی ٹھہر جاتے۔ جب گھر تشریف لاتے تو ام المئومنین حضرت خدیجہ آپ کو توشہ وغیرہ باندھ دیتیں اور پھر تنہائی میں قیام پذیر ہوجاتے۔ نزول وحی سے چھ ماہ قبل آپ کو رئویائے صادقہ یعنی ایسے سچے خوا ب آنے لگے جو کچھ خواب میں دیکھتے اس کا نتیجہ روز روشن کی طرح سامنے آجاتا تو یہ وہ غیر معمولی باتیں تھیں جو نزول وحی کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ روایات میں آتا ہے۔ کہ آپ حسب معمول غار حرا میں تشریف فرما تھے۔ آپ اچانک غار سے باہر تشریف لائے۔ آپ پانی کے قریب تھے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے پہاڑ پر پانی کی موجودگی کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو وہ ایسا بارشی پانی ہوگا جو پہاڑ کے کسی نشیبی حصہ میں جمع ہوگیا ہوگا۔ یا پھر وہ پانی ہوگا ، جو آپ استعمال کے لئے ساتھ لے گئے تھے الغرض جبرائیل (علیہ السلام) نے حضور ﷺ کو پہلی مرتبہ فضا سے خطاب کیا ” یا محمد “ آپ ادھر ادھر دیکھنے لگے اتنے میں فرشتہ انسانی صورت میں متشکل ہو کر سامنے آ گیا اور آپ سے دوبارہ خطاب کیا اقرا یعنی پڑھئے۔ بعض روایات میں یوں آتا ہے کہ یہ آیات کسی ٹکڑے پر لکھی ہوئی تھی۔ اور جبرائیل (علیہ السلام) نے وہ ٹکڑا حضور ﷺ کے سامنے رکھ کر کہا اقرا حضور ﷺ نے جواباً فرمایا ما انا بقاری میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں بلاشبہ آپ تو امی تھے النبی الامی آپ کی خصوصیت ہے۔ اسی لئے آپ نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ کیونکہ آپ نے کسی مکتب سے یا کسی استاد سے پڑھنا لھکنا ہی نہ تھا۔ الغرض آپ کے اس جواب پر جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو اپنے سینے سے لگا کر زور سے اتنا دبایا کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے تکلیف ہونے لگی۔ اس کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے چھوڑ دیا اور پھر کہا پڑھئے۔ میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے دوبارہ پکڑ کر مجھے زور سے دبایا۔ پھر چھوڑ کر کہا اقرا میرا جواب دوسری مرتبہ بھی یہی تھا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرماتے ہیں کہ تیسری دفعہ جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے پکڑ کر اتنا زور کے ساتھ دبایا۔ جو پہلی دونوں مرتبہ سے زیادہ شدید تھا اور جس سے مجھے سخت تکلیف ہوئی۔ اس نے مجھے چھوڑا پھر کہا اقرا باسم ربک الذی خلق اب کے میری زبان جاری ہوگئی اور جو کچھ جبرائیل علیہ السلم نے تلفظ کیا وہ میں نے پڑھا۔ یعنی یہ ابتدائی پانچ آیتیں میں نے پڑھ لیں۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو سینے سے لگا کر کیوں دبایا تھا۔ یہ اثر ڈالنے کے لئے تھا۔ اس کو توجہ بھی کہتے ہیں۔ دوسرے کے طلب کرنے پر کاملین حضرات جو توجہ ڈالتے ہیں۔ وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اب انسلاخ ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو ملکیت کی طرف لیجایا جا رہا ہے لہٰذا فرشتے نے آپ کو دبا کر آپ پر اثر ڈالا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ نے پڑھنا شروع کردیا حالانکہ امی شخص تو پڑھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ مگر یہاں اس کی وجہ بیھ بیان کردی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ وہ ایسا بھی کرسکتا ہے۔ تو گویا یہ پانچ آیتیں سب سے پہلے وحی کے طور پر نازل ہوئیں۔ نماز کا حکم تفسیر اتقان ، روح المعانی اور دیگر تفاسیر میں مذکور ہے کہ حضرت علی کی روایت کے مطابق پہلی وحی سے متصل ہی حضور ﷺ کو طہارت اور وضو کا طریقہ بتایا گیا اور پھر آپ کو حکم ہوا ، استعذ باللہ یعنی اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کے ذریعے استعاذہ کریں اور پھر اللہ کا نام لیں یعنی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو سورة فاتحہ بھی پڑھائی گئی اور پھر آپ کو نماز کے لئے کھڑا ہونے کا حکم ہوا۔ یہ سب کچھ پہلی وحی کے بعد متصلاً ہوا۔ وحی کے اثرات اس عجیب و غریب اور حیرت ناک واقعہ کا حضور پر گہرا اثر ہوا ، اور آپ کو بخار ہوگیا۔ کسی قدر آپ پر دہشت بھی طاری ہوئی۔ اسی حالت میں آپ گھر تشریف لائے۔ آپ پر کپکپی طاری تھی ، رفیقہ حیات سے فرمایا ، مجھے سردی لگ رہی ہے۔ زملونی مجھ پر کپڑا ڈال دو ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ حضور ﷺ نے اس واقعہ کے پیش نظر پریشانی کا اظہار فرمایا۔ ام المئومنین آپ کے حالات سے بخوبی واقف تھیں۔ انہوں نے آپ کو تسلی دی۔ بیوی سے بات کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ دیکھیں وہ کس حد تک ایمان لاتی ہیں۔ اگر بیوی ہی انکار کر دے تو دوسروں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ تاہم انہوں نے تسلی دی ۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ آپ کو ساتھ لے کر اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس پہنچیں۔ ورقہ ضعیف آدمی اور پرانے تجربہ کار تھے۔ انہوں نے مشرکوں کا دین چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرلی تھی۔ پڑھے لکھے آدمی تھے۔ پرانی کتابوں کا مطالعہ تھا۔ انہوں نے انجیل کو عبرانی زبان سے عربی میں نقل کیا تھا۔ ام المومنین نے ان سے کہا۔ یعنی اے بھائی ! اپنے بھتیجے کی بات سنو ، کہ یہ کیا کہتے ہیں۔ ورقہ نے کہا یا بن اخی ماذا تری یعنی اے میرے بھتیجے کیا بات ہے۔ حضور ﷺ نے پیش آنے والا سارا واقعہ بتا دیا۔ وہ فوراً بول اٹھا ھذا الناموس الذی انزل علی موسیٰ ۔ خدا کی قسم یہ تو وہی ناموس اکبر ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر آیا تھا اور جو سارے نبیوں پر آتا رہا۔ اس نے تصدیق کردی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر کہا کاش ! میں اس وقت جواب ہوتا جب یہ لوگ آپ کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ آپ نے تعجب سے کہا او مخرجی کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے۔ حالانکہ میں تو ان کی خدمت کرتا رہتا ہوں اور ان کے ساتھ اخلاق سے پیش آتا ہوں۔ ورقہ نے کہا کہ ہاں ! جو بھی یہ چیز لایا ، جو تم لائے ہو ، اس کے ساتھ دشمنی کی گئی اور اسے نکالا گیا اگر میں اس وقت زندہ رہا تو آپ کی مدد کروں گا۔ اس واقعہ کے تین روز بعد ورقہ فوت ہوگئے۔ حضور ﷺ نے انہیں خواب میں دیکھا کہ سفید لباس پہنے ہوئے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اس کے حالات اچھے ہیں۔ بہرحال اگرچہ اسے موقع نہ ملا ، مگر وہ حضور ﷺ کی تصدیق کر گیا۔ ان پانچ ابتدائی آیات کے بعد نازل ہونیوالی دوسری سورتیں جیسا کہ بیان ہوا ، سب سے پہلے سورة علق کی یہ پانچ آیات نازل ہوئیں اور ان سے متصل اعوذ باللہ اور بسم اللہ اور سورة فاتحہ نازل ہوئی اس ک بعد مزمل کا پہلا رکوع نازل ہوا۔ ” یایھا المزمل “ اے چادر پوش ! قم الیل “ تکمیل ذات کے لئے رات کو اٹھ کر نماز پڑھیں۔ گویا آپ کو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے بعدفرت وحی کا زمانہ آتا ہے۔ تقریباً تین سال تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سورة ” ن “ وغیرہ۔ بھی ابتدائی سورتوں کے ساتھ نازل ہوئی ۔ تاہم مذکورہ بالا کے متعلق سب کا اتفاق ہے کہ یہ پہلے مرحلے میں نازل ہوئیں۔ تین سال کے انقطاع کے بعد سورة مدثر کا نزول ہوا۔ ” یایھا المدثر “ آپ کو حکم ہوا ” قم فانذر “ آپ اٹھ کھڑے ہوں اور مخلوق خدا کو عذاب سے ڈرائیں۔ گویا آپ کو تبلیغ دین کا حکم دیا گیا تاکہ اپنے ساتھ کچھی ساتھی پیدا کرلیں۔ جو قرآن پاک کے پروگرام کو لے کر آگے چل سکیں اور دنیا میں اسلامی انقلاب کی ابتداء کرسکیں۔ توحید اور شرک میں حد فاصل الغرض یہ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) پر پہلی وحی تھی۔ جس میں ارشاد ہوا۔ اقرا آپ پڑھیں۔ باسم ربک اپنے رب کے نام کی برکت سے سی اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں۔ الذی خلق وہ رب جس نے پیدا کیا۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ توحید کے چار درجے ہیں۔ ان میں سے دو درجوں میں تو تمام انسان متفق ہیں اور دو میں اہل توحید اور مشرک مختلف ہوجاتے ہیں۔ متفق علیہ درجات میں اللہ تعالیٰ کی صفت خلق اور اس کا واجب الوجود ہونا ہے۔ دہریوں کی ایک قلیل تعداد کے سوا اہل توحید کا فر ، مشرک اور دیگر تمام اہل مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ خالق صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ قرآن پاک میں اس بات کو جگہ جگہ دہرایا گیا ہے کہ آپ ان سے پوچھیں کہ ارض و سما اور ہر چیز کا خالق کون ہے ؟ تو وہ کہیں گے ، اللہ ہی اس کے سوا کوئی خالق نہیں۔ اسی طرح اس بات کو بھی تمام انسانیت تسلیم کرتی ہے کہ واجب الوجود بھی صرف خدا کی ذات ہے۔ اس کا وجود خود بخود ہے کسی کا عطا کیا ہوا نہیں۔ یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ اس میں بھی کسی مذہب والے کو اختلاف نہیں۔ توحید کے دوسرے دو درجے جن میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ وہ ہیں تدبیر اور عبادت یہاں آ کر مشرکین اہل توحید سے الگ ہوجاتے ہیں۔ اہل ایمان کا عقیدہ ہے کہ مدبر بھی صرف ذات خداوندی ہے۔ مگر مشرکین اس میں دوسروں کو بھی شریک کرلیتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے ” ومن یدبر الامر “ کو تدبیر کون کرتا ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے ” یدبر الامر من السمآء الی الارض “ بلندیوں سے پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر اللہ ہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی تدبیر کرنے والا نہیں ہے۔ مگر یہاں حالت یہ ہے کہ کوئی انبیاء (علیہم السلام) کو تدبیر میں شریک کرتا ہے۔ کوئی جنات کو ، کوئی فرشتوں کو اور کوئی دیگر مخلوق میں سے کسی اور کو کہ یہ بھی کچھ تدبیر کرتے ہیں۔ لہٰذا شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ عبادت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ یہ بھی صرف اللہ ہی کی ہو سکتی ہے۔ عبادت سے مراد وہ انتہائی درجے کی تعظیم ہے جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ جس ہستی کی تعظیم کی جا رہی ہے ……… وہ نافع اور ضار ہے اور مافوق الاسباب متصرف ہے۔ یعنی اسے عالم اسباب پر کنٹرول حاصل ہے۔ یہ تعظیم زبان کے ذریعے بھی ہوتی ہے۔ عمل سے بھی ہوتی ہے اور مال سے بھی۔ یہی چیز عبادت ہے اور جو کوئی یہ عمل اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے سامنے کرے گا۔ شرک میں مبتلا ہوجائے گا اور یہ شرک فی العبادت ہوگا۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم لفظ اقرا اپنے اندر تعلیم کا وسیع پروگرام رکھتا ہے۔ اب تعلیم کی دو قسمیں ہیں یعنی ابتدائی اور ثانوی اسے پرائمری اور ہاتھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اقرا باسم ربک میں اپنے رب کا نام لے کر پڑھنا ابتدائی تعلیم ہے۔ یہ اس تعلیم کا پہلا نصاب ہے۔ الذی خلق میں اجمال تھا یعنی وہ رب جس نے پیدا کیا آگے خلق الانسان من علق میں تفصیل ہے کہ اس نے انسان کو بستہ خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ قطرہ آب چلایس دن کے بعد خون کے لوتھڑے میں تبدیل ہوتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت میں تبدیل ہوتا ہے۔ پھر ہڈیاں اور اعضاء بنتے ہیں۔ تو یہاں پر یہی تعلیم دی جا رہی ہے کہ ذرا غور کریں کہ جو ذات حق تعالیٰ انسان کو علق سے پیدا کرسکتی ہے۔ حقیر اور ناقص چیز سے انسان جیسی اشرف المخلوقات ہستی کو پیدا کرسکتی ہے۔ وہ ذات امی اور ان پڑھ ہستی کو عالم بنا سکتی ہے اور بلند ترین مرتبے پر فائز کرسکتی ہے۔ خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ وہ ناواقف اور نہ جاننے والے کو علم کی اعلیٰ منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ تو گویا رب کا نام یاد کرنا یہ ابتدائی تعلیم ہوگئی جیسا کہ سورة مزمل میں آتا ہے۔ ” واذکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلاً رب المشرق و المغرب لا الہ الا ھوفاتخذہ وکیلاً خدا کے سوا کوئی نہیں ، اسی کو اپنا کار ساز بنائو۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ثانوی یا ہائی تعلیم کا نمبر آتا ہے۔ یہ سلسلہ تعلیم ہر دور اور ہر سلطنت میں رائج رہا ہے۔ یونانیوں اور دیگر اقوام میں بھی یہی طریقہ جاری تھا۔ ثانوی یا اعلیٰ تعلیم میں الہیات کی تعلیم ہے۔ یا دوسرے فنون کی جو زیادہ کارآمد ہوتے ہیں اور ہر شعبے کی الگ الگ تعلیم ہوتی ہے۔ آج کل کی اعلیٰ تعلیم سے مراد ٹیکنالوجی یا دیگر فنون کی تعلیم ہے مگر یہاں پر اعلیٰ تعلیم سے مراد وہ تعلیم ہے۔ جس کے ذریعے انسان اپنے حقوق ، مخلوق کے حقوق اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کو پہچان سکے۔ لہٰذا جو شخص ان حقوق سے واقفیت حاصل کرلے گا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تصور ہوگا اور انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوگا۔ الغرض ابتدائی تعلیم اللہ کا نام لینا ہے۔ اور یہ ابتدائی نوشت و خواند ہے کہ آدمی کچھ پڑھ لکھ کر جہالت کی تاریکی سے باہر نکل جائے کیونکہ ؎ بےعلم نتواں خدا را شناخت علم کے بغیر انسان نہ خود شناس ہو سکتا ہے اور نہ خدا کو پہچان سکتا ہے اور نہ دوسروں کو پہچان سکتا ہے اس ابتدائی تعلیم کے بعد جب اعلیٰ تعلیم حاصل کریگا تو انسانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوجائیگا۔ قلم کا فیضان
Ayahs 96:6–19

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

خبردار بیشک انسان البتہ سرکشی کرتا ہے

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی خیال کرتا ہے

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

بیشک سب کا تیرے رب کی طرف ہی لوٹنا ہے

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو منع کرتا ہے

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

آپ بتلائیں کہ اگر نماز پڑھنے والا بندہ ہدایت پر ہو

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا وہ تقویٰ کا حکم دیتا ہو

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

آپ بتلائیں کہ اگر یہ منع کرنے والا شخص تکذیب کرتا ہے اور روگردانی کرتا ہے

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اس (طاغی کی تمام حرکات) کو دیکھ رہا ہے

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

خبردار ! اگر یہ باز نہ آیا تو پھر ہم اسے پیشانی سے پکڑ کر گھسیٹیں گے

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

جو پیشانی جھوٹی اور خطا کار ہے

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

بھر بلائے وہ اپنی مجلس والوں کو

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

عنقریب ہم اس کے مقابلے میں پیدل سیاست کرنے والے فرشتوں کو بلائیں گے

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

خبردار ! آپ اس کی اطاعت نہ کریں اور (اللہ تعالیٰ کے حضور) سجدہ ریز ہوجائیں اور خدا کا قرب حاصل کریں۔

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ لہٰذا علم حاصل کرنا فرض عین ہے چونکہ قرآن پاک انسان کے بارے میں بحث کرتا ہے اور اسے درجہ کمال تک پہنچانے والے اور اسے مرتبہ انسانیت سے گرانے والے امور کو واضح کرتا ہے ، لہٰذا سورة کے ابتدائی حصے میں انسان کا ذکر بھی ہوگیا اور اس کی تعلیم کی اہمیت بھی واضح ہوئی۔ مومن یا طاغی اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے انسانوں کا تذکرہ یہاں بیان فرمایا ہے۔ ایک قسم کے وہ انسان ہیں جو اپنی فطرت کے مطابق قرآن کریم کے بتلائے ہوئے پروگرام کو تسلیم کرتے ہیں۔ تعلیم حاصل کر کے نیکی کو اپناتے ہیں جو انہیں درجہ کمال تک پہنچاتی ہیں۔ ایسے لوگ مومن کہلاتے ہیں۔ دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں ، جو قرآنی تعلیم سے روگردانی کرتے ہیں ۔ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور اسے ناکام بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ طاغی یا سرکش کہلاتے ہیں۔ مومن کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی ہے۔ لہٰذا اس کو کمال نصیب ہوگا۔ حظیرۃ القدس میں پہنچے گا ، جنت میں جائے گا اور اس طرح اسے فلاح نصیب ہوگی۔ اسے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی مکمل اطاعت کرتا ہے۔ فکر کو پاک رکھتا ہے اور اعمال کو صحیح طور پر انجام دیتا ہے۔ یہی شخص ایماندار ہے برخلاف اس کے جو شخص قرآنی تعلیم سے اعراض کرتا ہے اس کے حصول میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ وہ طاغی کہلاتا ہے۔ طاغی کا معنی سرکش ہے۔ کیونکہ طغیان کا معنی سرکشی یعنی حد سے بڑھنا ہے۔ ایسے لوگ انسانیت کی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اشارۃً وہ اسباب بھی بیان فرمائے ، جن کی بناء پر ایسے لوگ سرکشی کا راستہ اختیار کرتے ہیں پھر ان کو وعید بھی سنائی کہ اگر یہ اپنی مذموم حرکات سے باز نہیں آئیں گے تو انہیں اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی سزا میں مبتلا کریں گے اور آخرت کے عذاب کے متعلق تو یوں فرمایا۔ ” ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون۔ “ سرکش انسان فرمایا کلا خبردار ! سارے انسان قرآنی تعلیم حاصل کرنے والے نہیں بلکہ کچھ لوگ اس کے خلاف کرنے والے بھی ہیں۔ اسی قسم کے انسان کے متعلق فرمایا ان الانسان لیطغی بیشک انسان البتہ سرکشی کرتا ہے۔ قوم ثمود کی سرکشی کے متعلق فرمایا ” کذبت ثمود بطغوئھا “ قوم ثمود نے سرکشی کی وجہ سے اللہ کے نبی کو جھٹلایا۔ اس کے پروگرام کو تسلیم نہ کیا۔ اسی طرح فرمایا کہ حضو رعلیہ السلام کے دور میں بھی کچھ لوگ سرکشی اختیار کئے ہوئے ہیں جو آپ کے پروگرام کو تسلیم نہیں کرتے ، بلکہ الٹا اس کی مخالفت کرتے ہیں اور طرح طرح کی تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔ استغناء کی وجوہات فرمایا ، کس سرکش کی سرکشی کی وجہ یہ ہے ان راہ استغنی کہ وہ اپنے آپ کو مستغی خیال کرتا ہے۔ اب استغناء کی کئی وجوہات ہیں۔ جن کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو مستغنی خیال کرتے ہیں۔ ان میں مال و جاہ ہے ، حکومت ہے ، جسمانی قوت ہے۔ کوئی ہنر ہے یا اچھی شکل و صورت ہے جس کی وجہ سے وہ بےپروا ہے۔ ان تمام وجوہات میں مال و جاہ کو اولیت حاصل ہے۔ عام طور پر انہیں کی بدولت انسان اپنے آپ کو مستغنی سمجھنے لگتا ہے دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھتا ہے ۔ سورة النزعت میں فرعون کی مثال گذر چکی ہے اور یہاں پر ابوجہل کی طرف اشارہ ہے یہ اور اس قسم کے دوسرے لوگ مال کی وجہ سے اپنے آپ کو مستغنی خیال کرتے ہیں کہ ہمارے پاس مال و دولت ہے۔ ہم کسی کے محتاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام کے حالات بھی بیان فرمائے ۔ جو کہتے تھے نحن اکثر ا موالاً و اولاد و ما نحن بمعذبین “ ہمارے پاس مال اور اولاد کی کثرت ہے۔ ہمیں کس بات کا فکر ہے۔ کفار مکہ میں بھی ایک شخص ایسا تھا۔ جس کے دس بیٹے جوان تھے اور مجلس میں حاضر ہوتے تھے۔ بڑا مالدار تھا اس کا لاکھوں کا کاروبار تھا وہ بھی دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو مستغنی خیال کرتا تھا۔ ایسے ہی لوگ اپنے آپ کو باعزت اور دوسروں کو ذلیل سمجھتے ہیں کسی کو اپنے کام میں مزاحم نہیں ہونے دیتے نیکی سے روکتے ہیں۔ بلکہ نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔ اپنے آپ کو مستغنی خیال کرتے ہیں حالانکہ کائنات میں کوئی چیز مستغنی نہیں ہے۔ سارے کے سارے انسان محتاج ہیں۔ صرف ذات خداوندی ہی واحد ذات ہے۔ جو ہر لحاظ سے مستغنی ہے۔ ” یایھا الناس انتقم الفقرآء الی اللہ ج واللہ ھوالغنی الحمید “ اے نبی نوع انسان ! تم سب محتاج ہو اور بےنیاز اور مستغنی صرف اللہ کی ذات ہے۔ جو انسان ہو کر اپنے آپ کو مستغنی سمجھتا ہے۔ وہ خدا کا نافرمان اور طاغی ہے۔ اللہ کے حضور پیشی حقیقت یہ ہے کہ اس تمام تر سرکشی اور نافرمانی کے باوجود ان الی ربک الرجعی سب کا تیرے رب کی طرف ہی رجوع ہوگا۔ ہر شخص اللہ کے حضور پیش ہوگا۔ لہٰذا تما مانسان کو چاہئے کہ وہ اپنی توجہ اسی مالک الملک کی طرف رکھیں۔ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے عاجز اور محتاج خیال کریں۔ جو شخص اللہ کی طرف رجوع کرے گا۔ وہ اس کا بندہ ہوگا۔ وہ اللہ کی مخلوق کو حقیر نہیں جانے گا۔ وہ ضرور خیال کرے گا کہ جس طرح میں اللہ کا محتاج ہوں اسی طرح ساری مخلوق اس کی محتاج ہے۔ اسی طرح توحید اور ایمان کی فکر سے آپس میں مساوات پیدا ہوگی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بلحاظ انسانیت سب انسان برابر ہیں۔ اس لئے کوئی کسی پر ظلم نہیں کرسکے گا۔ طاغی لوگ مال و جاہ کی بدولت اپنے آپ کو مستغنی سمجھتے ہیں۔ اکڑ دکھاتے ہیں۔ نبی نوع انسان کے حقوق ضائع کرتے ہیں۔ مگر عبد مومن کبھی ظلم و زیادتی کا ارتکاب نہیں کریگا کیونکہ اس کی توجہ خظیرۃ القدس کی طرف لگی ہوئی ہے وہ اپنے آپ کو خدا کا عاجز بندہ سمجھتا ہے اور مخلوق کا خادم خیال کرتا ہے۔ لہٰذا وہ سرکشی اختیار نہیں کرے گا۔ نماز سے روکنے والا فرمایا ارءیت الذی کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے ینھی عبداً اذا صلی جو منع کرتا ہے روکتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے ۔ مکی زندگی میں حضور ﷺ کے ساتھ ایسے کئی واقعات پیش آئے۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ابوجہل نے دیکھا تو کہنے لگا کہ اگر میں نے محمد کو دوبارہ سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن کو روند ڈالوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس شخص کو دیکھا ، جو آپ کی نماز میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ مگر قابل غور بات یہ ہے کہ اسے نماز سے کیوں ضد ہے وہ نماز سے کیوں روکتا تھا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل آگے بڑھا تاکہ آپ کو تکلیف پہنچائے مگر فوراً ہی پیچھے ہٹ گیا۔ لوگوں نے پوچھا کیا بات ہوئی ، تم جلدی واپس لوٹ آئے کہنے لگا مجھے خندق نظر آئی جس میں آگ تھی۔ وہاں پر مجھے پر نظر آئے ، اس لئے میں آگے نہیں جاسکا۔ ابوجہل ، حضور ﷺ کے دور کا بہت بڑا طاغی تھا۔ بلکہ یہ اپنے زمانے کا فرعون تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ شخص آگے بڑھ کر مجھے تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتا تو فرشتے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتے۔ اس پر خدا کا قہر نازل ہوتا کہ یہ نماز سے روکتا ہے۔ نماز سے روکنے کی وجہ نماز سے روکنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ نماز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے تلاوت قرآن نماز کا اعلیٰ رکن ہے اور قرآن پاک کی تلاوت سے انسان کو یہ پروگرام ملتا ہے کہ وہ خدا کی طرف رجوع رکھے ، اس کی وحدانیت کو تسلیم کرے۔ مخلوق پر ظلم نہ کرے کسی کا حق غضب نہ کرے ، تکبر اور غرور نہ کرے۔ وحی اور الہام کا علم حاصل کرے۔ اسی لئے سب سے پہلے وحی کا آغاز اقرا سے کیا علم القرآن کا حکم دیا۔ یہ قرآن پاک ہی ہے جو انسان کو من مانی کرنے سے روکتا ہے۔ لہٰذا وہ شخص نماز سے روکتا ہے۔ تاکہ قرآن پاک کی آواز کو بلند ہونے سے روکا جاسکے۔ نماز کی مخالفت کی یہی وجہ ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی مذمت میں فرمایا کہ جب آپ قرآن پڑھتے تو یہ لوگ کہتے ” والغوافیہ لعلکم تغلبون “ تم اس وقت شور و غوغا کیا کرو۔ تاکہ قرآن کی آواز دب کر رہ جائے۔ اور کوئی اسے سن نہ سکے کہتے تھے تم اس صورت میں اسلام پر غالب آسکتے ہو کہ اس کی آواز کو دسوروں تک پہنچنے سے روک دیا۔ ایک اور مقام پر آتا ہے کہ جب آپ قرآن کی آیات ڑھتے تو کفار طیش میں آجاتے ایسا معلوم ہوتا کہ حملہ آور ہوجائیں گے اور مار ڈالیں گے۔ کیونکہ قرآن کی تعلیم تو یہی ہے کہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائو۔ تم سب محتاج ہو ، غنی فقط وہی ہے۔ مال و دولت محض آزمائش کا ذریعہ ہیں ۔ یہ مکمل کامیابی کی ضمانت نہیں ہیں۔ یہ تو اللہ کی حکمت ہے کسی کو کم دے دیا کسی کو زیادہ عطا کردیا ۔ مال و جاہ کی وجہ سے دوسروں کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے ، غرور نہیں کرنا چاہئے اسی لئے فرمایا کہ طاغی شخص نماز سے روکتا ہے۔ تاکہ قرآن پاک کا پروگرام لوگوں کے کانوں تک نہ پہنچنے پائے۔ نماز کی برکات فرمایا ارء یت ان کان علی الھدی اگر نماز پڑھنے والا بندہ ہدایت پر ہوا وامر بالتقوی یا وہ تقویٰ کا حکم دیتا ہو تو کیا پھر یہ نماز سے منع کرے گا۔ اب تقویٰ میں عدل بھی آتا ہے۔ غنیتہ الطالبین میں کہ شیخ عبدالقادر جیلانی سے دریافت کیا گیا کہ تقویٰ کیا چیز ہے تو آپ نے اس کے جواب میں یہ آیت پڑھی۔ ” ان اللہ یا مر بالعدل والاحسان وایتای ذی القربی “ مطلب یہ کہ تقوی اسی صورت میں حاصل ہوگا۔ جب عدل و انصاف کو قائم کریگا اگر ظلم کا بازار گرم کرے گا تو تقویٰ سے محروم ہوگا۔ تقوی ظلم ، شرک اور منافقفت کے خلاف ہے جہاں تقویٰ ہوگا۔ وہاں عدل قائم ہوگا۔ مخلوق خدا اور قرابت داروں کے ساتھ احسان ہوگا۔ پھر وینھی عن الفحشآء و المنکر والبغی “ فواحش ، منکرات اور سرکشی کو روک دے گا۔ اب دیکھیے نماز بہت بڑی چیز ہے۔ ہم تو پروا ہی نہیں کرتے ، بس رواداری میں پڑھ جاتے ہیں۔ حالانکہ لاپرواہی سے نمازپڑھنے والوں کے لئے بڑی وعید ہے۔ فویل للمصلین “ ان نمازیوں کے لئے جہنم ہے ” الذین ھم عن صلاتھم ساھون “ جو اپنی نماز سے بیخبر ہیں۔ اسی طرح منافقوں کی نماز کی مذمت بیا ن کی ” واذا قاموآ الی الصلوۃ قامرا اکسالی “ جب وہ نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وقت ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہرحال نماز ایک بہت بڑی چیز ہے جو نماز کے مقصد کو سمجھے گا وہ توحید کے مقام کو پائے گا۔ وہ اپنی عاجزی اور خدا کی بےنیازی کو سمجھے گا اور مخلوق پر کبھی ظلم نہیں کرے گا۔ اگر نمازی ہو کر ظلم و زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے تو جان لو کہ وہ نماز کا مطلب ہی نہیں سمجھا جس نے نماز کے مقصد کو پا لیا ، وہ ہر قسم کی معصیت سے بچ گیا ، الغرض فرمایا کہ یہ نماز پڑھنے سے روکے گا۔ اگرچہ نمازی ہدایت پر ہو یا تقویٰ کا حک دیتا ہو۔ مکذبین کی دھمکی آگے فرمایا ارء یت ان کذب وتولی آپ بتلائیں کہ اگر یہ منع کرنے والا شخص تکذیب کرتا ہے۔ قرآن پاک کی آواز اور اس کی تعلیم سے روگردانی کرتا ہے تو الم یعلم بان اللہ یری کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اس طاغی کی تمام حرکات کو دیکھ رہا ہے کہ کس طرح مخلوق کو تنگ کرتا ہے۔ نمازی کو نماز پڑھنے سے اور قرآن کریم کی تلاوت سے روکتا ہے انہیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے روکتا ہے۔ اسے جان لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر فعل سے واقف ہے۔ اس کے بعد تنبیہ کے انداز میں فرمایا کلا خبردار ! لئن لم بینتہ اگر یہ آدمی اپنی اس گندی حرکت سے باز نہ آیا تو پھر لنسفعاً بالناصیۃ ہم اسے پیشانی سے پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ ناصیہہ بپیشانی کو کہتے ہیں۔ ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ یہ پیشانی جھوٹی اور خطا کار ہے۔ ہم اسی سے پکڑ کر اسے ذلیل کریں گے۔ اس نے بال تو شریف آدمیوں کی طرح رکھے ہیں۔ مگر حقیقت میں جھوٹا ، ظالم اور طاغی ہے۔ اس کے اندر ظلم ، زیادتی اور کفر بھرا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سب سے پہلی سورة میں ہی دھمکی دے دی کہ اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو انہیں ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔ چناچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ بدر کے میدان میں ابوجہل اور دیگر مقتولین کفار کو ان کے بالوں سے پکڑا گیا اور گھسیٹ کر اندھے کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ دنیا میں تو ان کا یہ حشر ہوا اور آخرت میں فرشتے انہیں گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالیں گے۔ نماز سے روکنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سخت وعید سنائی کیونکہ یہ روکنا اللہ کے حکم کے خلاف تھا۔ ہاں ! بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں۔ جب نماز پڑھنے سے شرعاً روکا جاتا ہے۔ مثلاً سورج کے طلوع یا غروب کے وقت ، زوال کے وقت ، عصر کے بعد نفل پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ حضرت عمر آدمی کو بھیجا کرتے تھے کہ دیکھو جو شخص نماز عصر کے بعد نفل پڑھتا ہے۔ اس کو درے مار دو ۔ مگر یہ حکم اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق تھا۔ یہ تو اللہ کے حکم کی تعمیل تھی۔ مگر مشرک اور طاغی کی ممانعت اللہ کے حکم کی خلاف ورزی تھی۔ اس لئے اسے سخت تنبیہہ کی گئی کہ اسے پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جائے گا کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سر کے بالوں کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور انہیں جا ن کے برابر خیال کیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی سر منڈانے والوں اور بال کترانے والوں کو مخلفین اور مقصرین فرما کر ان کی تعریف فرمائی ہے۔ غرضیکہ بالوں کا بڑا احترام کیا جاتا تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بڑی سخت تنبیہ کی کہ تمہیں انہیں باعزت بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ اگر تم نمازی کو نماز سے روکنے سے باز نہ آئے۔ مشرکین سے مقابلہ ایک دفعہ اس بدبخت نے حضور ﷺ کو نماز سے روکنا چاہا۔ تو آپ نے سختی سے منع فرمایا وہ کہنے لگا تم مجھے دھمکاتے ہو ، میں شہر کا سب سے معزز آدمی ہوں ۔ میری مجلس بھری رہتی ہے اور میں اس وادی کو اپنے حامیوں سے بھر سکتا ہوں۔ وہ سب میری حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جب یہ شخص ہماری گرفت میں آئے گا۔ فلیدع نادیۃ تو اپنی مجلس والوں کو بلائے اور ہم ان کے مقابلے میں سندع الزبانیۃ پیدل سیاست کرنے والے فرشتوں کو بلا لیں گے۔ وہ اسے پکڑ کر ذلیل و رسوا کردیں گے۔ اور اس کا کوئی حامی اس کی مدد کو نہیں پہنچ سکے گا۔ زبانیہ پکڑنے اولے یا دھکیلنے والے کو کہتے ہیں جو پکڑ کر اور باندھ کر جیل میں ڈال دیں۔ اس دنیا میں زبانیہ حضور ﷺ کے پیروکاروں کو بتایا گیا ۔ جنہوں نے نہایت بہادری اور جرأت کے ساتھ کفار کا مقابلہ کیا۔ اور مشرکوں کو مارا۔ ان میں انصار مدینہ بھی شامل ہیں۔ آخرت میں زبانیہ سے مراد اللہ کے فرشتے ہیں ، جو مجرموں کو پکڑ کرلے جائیں گے۔ مصالحت سے انکار فرمایا کلا خبردار ! یہ طاغی لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے لاتطعہ آپ ان کی اطاعت نہ کریں یعنی مصالحت نہ کریں کیونکہ ان کی بات مان لی گئی تو اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ سارا پروگرام نا تمام رہ جائے گا لہٰذا آپ ان کی بات مان لی گی تو اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ سارا پروگرام نا تمام رہ جائے گا۔ لہٰذا آپ اپنے پروگرام پر قائم رہیں اور ان سے صلح ہرگز نہ کریں۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ” ودوا لوتدھن فیدھنن “ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے پڑجائیں ، تو وہ بھی ڈھیلے ہوجائیں گے۔ یعنی آپ شرک اور ظلم کی مذمت کرنا چھوڑ دیں۔ فرمایا یہ نہیں ہو سکتا۔ ” ولا تطع منھم اثماً او کفوراً “ آپ ان میں سے کسی گنہگار ، مجرم اور ناشکر گزار کی بات نہ مانیں ، کیونکہ ان کا پر وگام سراسر غلط ہے۔ ان کی بات مان کر آپ اپنا صحیح پروگرام نہ چھوڑ دیں۔ اس کی بالکل اجازت نیہں۔ یہ لوگ آپ کو طرح طرح کے لالچ دیتے ہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں اور مخالفت میں پورا زور لگاتے ہیں۔ مگر آپ کو حکم یہی ہے کہ ان کی بات ہرگز نہیں مانتی۔ سجدہ کمال اطاعت کی نشانی ہے فرمایا ان مشرکین سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے وساجد آپ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں۔ کیونکہ سجدہ کمال اطاعت کی نشانی ہے اور بہت بڑی عبادت ہے۔ آپ ہر وقت اللہ کی اطاعت میں مصروف رہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ اقرب مایکون العبد من ربہ و ھو ساجد یعنی سجدہ بندے کو اللہ سے قریب تر کرنے والی حالت ہے لہٰذا آپ کثرت سے سجدہ کریں واقترب اور خدا کا قرب تلاش کریں۔ یعنی کثرت سے نماز پڑھیں جس میں کثرت سے سجدے آئیں گے اور آپ کو قرب خداوندی حاصل ہوگا۔ آپ ان کے کہنعے سے نماز میں کمی نہ کریں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سب سے پہلی سورة میں ہی اس بات کی طرف اشارہ کردیا گیا کہ کفار کے ساتھ مقابلے کی جنگ ضرور ہوگی۔ ان طاغیوں کے ساتھ صلح کی کوئی گنجائش نہیں آپ قرآن پاک کے پروگرام کو کامیاب کرنے کے لئے مستعد رہیں۔ کمزوری دکھانے سے کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ اگر اپنے پروگرام پر جمے رہیں گے تو ” وانتم الاعلون ان کنتم مئومنین “ تو پھر کامیابی تمہارے ہی قدم چومے گی۔ تم ہی ان پر حاوی ہو گے۔ تمہارا پروگرام غالب آئے گا۔ سجدہ تلاوت حدیث شریف 1۔ میں صحابہ کرام سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ” اذا السمآء انشقت “ والی سورة پڑھ کر سجدہ کیا۔ اور یہ اقرا والی سورة پڑھ کر بھی آخر میں سجدہ کیا۔ یہ سجدہ پڑھنے اور سننے والوں سب پر واجب ہوجاتا ہے۔ پورے قرآن پاک میں کل چودہ سجدے ہیں۔ جب ان مقامات کی آیات پڑھی یا سنی جائیں تو سجدہ ضروری ہوجاتا ہے۔ تاہم یہ اجازت ہے کہ اگر فوری طور پر سجدہ کے لئے تیار نہ ہو تو جس وقت بھی موقع ملے سجدہ کرلے اور اگر پڑھنے یا سننے کے وقت سجدہ کے لئے تیار ہو اور سجدہ کا وقت بھی ہو تو اسی وقت سجدہ کرلینا چاہئے۔ تاہم یہ مئوخر بھی کیا جاسکتا ہے۔