96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 96:1–4

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اپنے مالک کے نام سے جس نے سب خلقت کو پیدا کیا

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

(قرآن پڑھ اسی نے آدمی کو خن کی پھٹکی سے بنادیا

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) پڑھ اور یہ خیال نہ کر کہ میں ان پڑھ ہوں تیرا مالک بڑے کرم والا ہے

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

اسی نے آدمی کو قلم کے ذریعہ سے لکھنا سکھایا5

ف 5 قتادہ کہتے ہیں کہ ’ دقلم اللہ تعالیٰ کی بات بڑی نعمت ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو کوئی دین قائم ہوتا اور نہ زندگی کی اصلاح ہوئی (فتح القدیر) شاہ صاحب فرماتے ہیں :’ حضرت ﷺ نے کبھی لکھا پڑھا نہ تھا۔ فرمایا کہ قلم سے بھی وہی علم دیتا ہے۔ یوں عقبی وہی دے گا۔ “ (موضع)
Ayah 96:5

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

آدمی کو وہ باتیں سکھائیں جن کو وہ نہیں جانتا تھا6

ف 6 یعنی آدمی کا بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو کچھ نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ ہی آہستہ آہستہ اسے سکھاتا ہے۔ لہٰذا وہی اپنے ایک ان پڑھ بندے کو عالم بلکہ عالموں کا سردار بنائے گا۔
Ayahs 96:6–7

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

سچ یہ ہے کہ آدمی اپنے نئیں تو سمجھ کر مگر ابن جاتا ہے

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

اس سے کہ دیکھتا ہے اپنی تئیں بےپروا،7

ف 7 یعنی اپنی پیدائش کی حقیقت کو بھول جاتا ہے اور ذرا دولت ملے تو سرکشی پر اتر آتا ہے … بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ابوجہل کی سرکشی کی طرف اشارہ ہے اور آخر سورة تک اسی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ آیات اوپر کی پانچ آیتوں کے بعد نازل ہوئیں۔ (فتح قدیر)
Ayahs 96:8–15

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

آخر ایک روز تیرے مالک کی طرف سب کو لوٹ جاتا ہے

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

تو نے دیکھا و وہ اس کو روکتا ہے

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

جب ایک بندہ حضرت محمد نماز پڑھے

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

بھلا بتلا تو سہی اگر وہ بالفرض ہدایت پر ہو

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا اچھی بات کا حکم کر رہا ہو تب بھی

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

بھلا بلاتو سہی اگر وہ سچے دنی جو جھٹلاتا ہو اور اس سے منہ موڑ رہا ہو

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

تب بھی دونوں صورتوں میں وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کے سب کاموں کو دیکھ رہا

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

وہ یہ سمجھ لے اگر ایسی شرارتوں سے باز نہ آئے گا ت و ہم قیامت کے دن8 اس کی چوٹی پکڑ کر گھسیٹیں گے

ف 8 مطلب یہ ہے کہ ابوجہل مردود چاہے سیدھے راستہ پر ہو (جیسا کہ وہ اپنے آپ کو سمجھتا تھا اور چاہے دین حق کا منکر دونوں صورتوں میں اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے اور وہ یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے کسی بندے کو نماز پڑھنے سے روکا جائے۔
Ayahs 96:16–18

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

چوٹی کیسی کمبخت جھوٹی بدکار

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

اس کو چاہیے اپنے یار دوستوں کو بلائے

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی اب اپنے سخت جلاد فرشتوں کو اس کی سزا دینے کے لئے بلا لیں گے9

ف 9 یعنی میرے مقابلہ کے لئے اپنے حمایتوں کو بلا لے۔
Ayah 96:19

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہرگز اس کا کہنا مت مان10 اور اللہ کی راہ میں سجدہ کرتا رہ (نماز پڑھتا رہ) اور اس کی نزدیکی حاصل کرتا رہ11

ف 10 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ ادھر ابوجہل آگیا اور کہنے لگا :’ د کیا میں نے تمہیں اس حرکت (نماز سے منع کیا تھا تم جانتے ہو کہ مکہ کی سر زمین میں مجھ سے زیادہ کسی کے ساتھی اور حمایتی نہیں ہیں “ اسی کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں دیا ہے (ترمذی ابن جریر وغیرہ) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ابوجہل کہنے لگا :” کیا محمد (ﷺ) تمہارے درمیان اپنا چہرہ زمین پر رکھتا (یعنی سجدہ کرتا) ہے ؟ “ لوگوں نے کہا ” ہاں “ بولا ” مجھے لات و عزی کی قسم اگر میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا تم میں اس کی گردن دبوچ لوں گا اور اس کا چہرہ زمین میں گاڑ دوں گا۔ پھر وہ اس ارادہ سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہ آگے بڑھنے کے بجائے پیھچے ہٹ رہا ہے اور ہاتھوں سے اپنی روک کر رہا ہے۔ لوگوں نے پوچھا ” کیا ہوا ؟ “ کہنے لگا ” میرے اور اس شخص کے درمیان آگ کی ایک خناق اور دہشت اور بہت سے پر ہیں۔ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کی تکا بوٹی کر ڈالتے۔ “ (مسلم نسائی احمد وغیرہ) فتح القدیر11 اس مقام پر سجدہ تلاوت ہے (ابن کثیر) بحوالہ صحیح مسلم عن ابی ہریرہ)