96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsانوار البیان

Ayah 96:1

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو

(96:1) اقرأ باسم ربک الذی خلق : اقرا۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر قراء ۃ (باب فتح و نصر) مصدر سے تو پڑھ۔ اقرا کا مفعول ہے۔ ای اقرأ ما یوحی الیک۔ یعنی پڑھ جو تجھے وحی کیا جاتا ہے۔ باسم ربک متعلق بمحذوف، ب استعانت کے لئے ہے۔ حرف جار۔ اسم مجرور۔ مضاف، ربک مضاف مضاف الیہ۔ مل کر مضاف الیہ۔ اپنے رب کے نام کے ساتھ۔ الذی خلق : موصول و صفت مل کر جملہ صفت ہوا ربک کی۔ ترجمہ ہوگا :۔ پڑھ اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے (سب کچھ) پیدا کیا۔
Ayah 96:2

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جس نے (عالم کو پیدا کیا) جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا

(96:2) خلق الانسان من علق۔ جملہ سابقہ کی تفسیر ہے۔ علق عام خون وہ خون جو زیادہ سرخ ہو، یا جما ہوا خون۔ خون کی پھٹکی جو منی سے پیدا ہوتی ہے۔ جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔
Ayah 96:3

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے

(96:3) اقرا وربک الاکرم : اقرا دوبارہ تاکید کے لئے لایا ہے واؤ حالیہ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف۔ الاکرم سفت، بڑا کریم۔ کرم سے جس کے معنی باعزت ہونے اور سخاوت کرنے کے ہیں۔ اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ وربک الاکرم ضمیر اقراء سے حال ہے۔ پڑھ۔ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔
Ayah 96:4

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا

(96:4) الذی علم بالقلم : الذی اس موصول۔ علم بالقلم اس کا صلہ دونوں مل کر صفت ثانیہ ہوئی ربک کی۔ جس نے قلم کے واسطہ سے علم سکھایا۔
Ayah 96:5

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا

(96:5) علم الانسان مالم یعلم : علم، تعلیم (تفعیل) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے سکھایا، اس نے علم دیا۔ الانسا مفعول۔ ما مفعول ثانی علم کا۔ جس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
Ayah 96:6

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

مگر انسان سرکش ہوجاتا ہے

(96:6) کلا ان الانسان لیطغی : کلا کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) کلا بمعنی حقا ہے۔ یہ الکسائی کا مذہب ہے۔ (2) ابن حیان کا قول ہے کہ کلا تنبیہ کے طور پر بمعنی الا آیا ہے جیسا کہ آیت الا انھم ہم المفسدون (2:12) میں ہے۔ (3) علامہ پانی پتی (رح) تحریر فرماتے ہیں :۔ جو مشرک حد سے بڑھ کر رسالت کے منکر تھے اور نماز سے روکتے تھے۔ ان کو بازداشت کی گئی ہے اگرچہ اس کا ذکر کلام میں نہیں ہے۔ مگر سیاق کلام یا حال اس پر دلالت کر رہا ہے۔ (4) علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں :۔ ردع لمن کفر بنعمۃ اللہ بطغیانہ وان لم یذکر لدلالۃ الکلام علیہ۔ ردع اس کے لئے ہے جو سرکشی کرتا ہوا اللہ کی نعمت سے انکار کرتا ہے۔ اگرچہ اس کا ذکر کلام میں نہیں ہے۔ مگر کلام اس پر دلالت کر رہا ہے۔ ان حرف تحقیق ہے۔ حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ الانسان اسم ان لیطغی اس کی خبر۔ یطغی مضارع کا واحد مذکر غائب طغیان (باب فتح) مصدر سے بمعنی حد سے بڑھنا سرکشی کرنا۔ الانسان میں اگرچہ الف لام جنسی ہے مگر اس میں بعض افراد کا لحاظ پیش نظر ہے مدارک التنزیل میں ہے :۔ نزلت فی ابی جھل الیٰ اخر السورۃ (اس سورة کے اخیر تک کلام ابی جہل کے بارے میں نازل ہوا) لہٰذا بعض کے نزدیک الانسان سے مراد ابو جہل ہے اس لئے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ابو جہل کفر میں اور اللہ تعالیٰ کے مقابل غرور و سرکشی میں حد سے بڑھ رہا ہے۔ بعض نے الانسان سے مراد عام انسان ہی لیا ہے۔
Ayah 96:7

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

جب کہ اپنے تئیں غنی دیکھتا ہے

(96:7) ان راہ استغنی : ان اصل میں لان تھا۔ لام تعلیل کا اور ان مصدریہ ہے لام کو حذف کردیا گیا ہے۔ لان (یہ) اس لئے کہ۔ اس بناء پر کہ۔ اس وجہ سے کہ۔ ضمیر فاعل ابوجہل کی طرف راجع ہے یا الانسان کی طرف راجع ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب بھی ابوجہل کے لئے یا الانسان کے لئے ہے۔ رای ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب جس کا معنی دیکھنا ہے لیکن یہاں رؤیۃ بمعنی علم آیا ہے۔ یا دل کی آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے۔ آنکھوں سے دیکھنا مراد نہیں ورنہ مرفوع اور منصوب دونوں ضمیروں کا مرجع ایک ہوگا اور ناممکن ہے۔ استغنی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب استغناء (استفعال) مصدر سے بمعنی مستغنی ہونا، بےنیاز ہونا، یہ رای کا مفعول ثانی ہے اب آیات 6-7 کا ترجمہ ہوگا :۔ انسان (یا ابوجہل) اللہ کے مقابل غرور اور سرکشی کر رہا ہے اس لئے کہ اپنے آپ کو بےپرواہ جان رہا ہے۔
Ayah 96:8

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

(96:8) ان الی ربک الرجعی : ان حرف مشبہ بالفعل۔ الرجعی اس کا اسم۔ الی ربک اس کی خبر۔ رجعی بروزن بشری (باب ضرب) مصدر ہے۔ الرجعی میں الف لام مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔ ربک مضاف مضاف الیہ ک ضمیر واحد مذکر حاضر الانسان کے لئے ہے ۔ (بیضاوی، کشاف) اے طاغی انسان تیری و ایسی تیرے رب ہی کی طرف ہوگی (وہ تجھے اس طغیان کی سزا دیگا) ۔
Ayah 96:9

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو منع کرتا ہے

(96:9) ارایت الذی ینھی
Ayah 96:10

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے

(96:10) عبدا اذا صلی : ارایت (کیا تو نے دیکھا) بمعنی اخبرنی (تو مجھے بتا) آیا ہے۔ اس میں ہمزہ اولی محض استفہام کے لئے نہیں ہے بلکہ تقریر و تنبیہ کے لئے ہے۔ رایت کا فاعل ضمیر مستتر ہے یعنی انت الذی اسم موصول ینھی عبدا اس کا صلہ۔ (عبدا مفعول فعل ینہی کا) ۔ ینہی فعل مضارع واحد مذکر غائب نہی (باب فتح) مصدر سے۔ وہ منع کرتا ہے۔ وہ روکتا ہے) موصول اور صلہ مل کر ارایت کا مفعول ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اے مخاطب : یعنی رسول کریم ﷺ کیا تو نے دیکھا بھلا بتاؤ تو سہی اس شخص کے متعلق جو منع کرتا ہے یا روکتا ہے ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ اس میں نماز پڑھنے والے سے مراد رسول کریم ﷺ ہیں اور روکنے والا ابو جہل لعین ہے۔ ان العبد المصلی ھو رسول اللہ ﷺ والنا ہی ھو اللعین ابو جھل۔ (روح المعانی) الذی ینہی سے مراد ابو جہل ہے اور عبدا سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے۔ (تفسیر مظہری) جب نبی کریم ﷺ نے حکم خداوندی کے تحت کعبہ میں نماز پڑھنا شروع کی تو خبر ابوجہل تک پہنچی تو اس نے قریش کے لوگوں سے دریافت کیا تصدیق ہونے پر اس نے آپ کو دھمکایا اور کہا کہ حرم میں اس طریقہ پر عبادت نہ کریں اور کہا کہ اگر میں نے اس طرح حرم کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لیا تو گردن پر پاؤں رکھ کر منہ زمین میں رگڑ دوں گا پھر ایسا ہوا کہ اس نے حضور ﷺ کو ایسے نماز پڑھتے دیکھ لیا۔ تو وہ آگے بڑھا تاکہ آپ کی گردن مبارک پر پاؤں رکھے مگر یکایک لوگوں نے دیکھا کہ وہ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ لوگوں کے دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ میرے اور ان کے درمیان آگ کی خندق تھی جس نے مجھے ان کے قریب نہ جانے دیا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 96:11

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر یہ راہ راست پر ہو

(96:11) ارایت ان کان علی الھدی۔
Ayah 96:12

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا پرہیزگاری کا حکم کرے (تو منع کرنا کیسا)

(96:12) اوامر بالتقوی۔ بھلا دیکھئے تو اگر وہ ہدایت پر ہے۔ یا پرہیزگاری کا حکم دیتا ہے۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور دونوں جملہ شرطیہ ہیں اور دونوں میں جواب شرط محذوف ہے۔ کلام یوں ہوگا :۔ بھلا بتاؤ تو اگر وہ شخص جس کو نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے ہدایت پر ہے یعنی خود بھی راہ حق پر چل رہا ہے اور دوسروں کو بھی راہ حق پر چلنے کی تلقین کرتا ہے تو کیا یہ دوسرے شخص کے لئے جائز ہے کہ اسے اس فعل سے روکے یا اگر وہ شخص پرہیزگاری کی تبلیغ کرتا ہے تو کیا یہ جائز ہے کہ اس اس کام سے منع کیا جائے۔
Ayah 96:13

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

اور دیکھ تو اگر اس نے دین حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا (تو کیا ہوا)

(96:13) ارایت ان کذب وتولی۔ یہ جملہ بھی شرطیہ ہے جس کا جواب شرط محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بھلا بتاؤ تو اگر یہ شخص (جو اللہ کے بندے کو اس نیک کام سے روک رہا ہے) حق کو جھٹلائے یا منہ موڑے (تو کیا اپنے اس فعل کی پاداش سے بچ سکے گا۔
Ayah 96:14

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے ؟

(96:14) الم یعلم بان اللہ یری۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے ۔ لم یعلم مضارع منفی جحد بلم ہے۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ لم یعلم کی ضمیر فاعل اس شخص کے لئے ہے جو کہ دوسرے کو ہدایت اور تقوی کے کام سے روک رہا ہے۔ یری کی ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے اس کا مفعول محذوف ہے۔ مراد ہر دونوں شخص ہیں اللہ ہدایت پر چلنے والے کو بھی دیکھ رہا ہے اور کاذب سرکش کو بھی دیکھ رہا ہے۔ ہر دو کو اپنے اپنے اعمال کی جزاء و سزا مل کر رہے گی۔ یہ جملہ مستانفہ وعید یہ ہے۔
Ayah 96:15

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

دیکھو تو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اسکی) پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے

(96:15) کلا۔ ہرگز نہیں ۔ یہ شخص جو دھمکی دیتا ہے کہ اگر محمد ﷺ نماز پڑھیں گے تو وہ ان کی گردن پاؤں سے دبا دوں گا۔ یہ ہرگز ایسا نہ کرسکے گا۔ ردع للنا ہی اللعین وزجر لہ۔ (روح المعانی) منع کرنے والے لعین کی باز داشت اور ڈانٹ کے لئے ہے۔ یہاں لعین سے مراد ابو جہل ہے لئن لم ینتہ لام موطئۃ للقسیم ہے ای واللہ : ان شرطیہ۔ لم ینتہ مضارع نفی جحد بلم کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ انتھاء (افتعال) مصدر سے وہ نہیں رکا۔ وہ باز نہیں آیا۔ ینتہ اصل میں ینتھی تھا۔ عمل لم کی وجہ سے ی ساقط ہوگئی۔ خدا کی قسم اگر وہ باز نہ آیا۔ لنسفعا۔ اصل میں لنسفعن تھا۔ مضارع بلام تاکید جواب شرط کا ہے۔ ونون تاکید کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ قرآن کے رسم الخط کا اتباع کرتے ہوئے اسے لنسفعا کی صورت میں لکھا گیا ہے۔ یہ سفع (باب فتح) مصدر سے ہے جس کے معنی کسی چیز کو زور کے ساتھ کھینچ کر گھسیٹنے کے ہیں۔ الناصیۃ : اسم نکرہ ، مفرد، پیشانی، مراد پور آدمی۔ (اطلاق جزء علی کل جزء کا اطلاق کل پر) لنسفعا بالناصیۃ جملہ جواب شرط میں ہے۔ ہم (اس کو) پیشانی (کے بالوں) سے پکڑ کر ضرور گھسٹیں گے۔
Ayah 96:16

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

یعنی اس جھوٹے خطا کار کی پیشانی کے بال

(96:16) ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ : وہ پیشانی جو جھوٹی (اور) خطاکار ہے پیشانی پر جو بال ہوتے ہیں اس کو ناصیۃ کہا جاتا ہے لیکن مراد اس سے پورا شخص بھی لیا جاتا ہے۔ اس لئے آیت کا مطلب ہوگا :۔ یہ ناہنجار سراسر جھوٹا اور خطاکار ہے۔ کاذبۃ : کذب سے (باب ضرب) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے جھوٹی۔ خاطئۃ : خطاء (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ خطاکار گنہگار۔ ناصیۃ بدل ہے الناصیۃ (آیت 15 مذکورہ بالا) سے۔
Ayah 96:17

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلا لے

(96:17) فلیدع نادیۃ : فلیدع میںمحذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے ۔ ترمذی اور ابن حریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے :۔ کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابو جہل آگیا۔ اور کہنے لگا کہ کیا میں نے اس (نماز) سے منع نہیں کردیا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جھڑک دیا۔ وہ کہنے لگا کہ تو خوب جانتا ہے کہ مکہ میں میری چوپال (نشست گاہ، مجلس) سے بڑی کوئی چوپال نہیں (یعنی میرا جتھا بڑا ہے) تو مجھے جھڑکتا ہے۔ خدا کی قسم ! میں اس وادی کو تیرے خلاف اعلیٰ گھوڑوں کے سواروں اور نوجوان پیادوں سے بھر دوں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (تفسیر مظہری) روح المعانی میں ہے :۔ ومر ابوجھل برسول اللہ ﷺ وھو یصلی فقال الم انھک فاغلظ علیہ الصلوٰہ والسلام لہ۔ فقال اتھدنی وانا اکثر اہل الوادی نادیا۔ ابو جہل کا گذر رسول اللہ ﷺ پر ہوا جب کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، بولا : کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا ہوا۔ حضور ﷺ نے سختی سے جواب دیا۔ بولا کیا آپ مجھے جھڑکتے ہیں حالانکہ میں وادی کے رہنے والوں میں جھتے کے لحاظ سے سب سے زیادہ کثرت رکھتا ہوں۔ لیدع امر کا صیغہ واحد مذکر غائب دعاء (باب نصر) مصدر سے۔ چاہیے کہ وہ پکارے۔ چاہیے کہ وہ بلائے۔ نادیہ ۔ نادی اسم مضاف، ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اپنی مجلس، (نشستگاہ۔ چوپال) کے ساتھیوں کو۔ نادی مفعول سے لیدع کا۔ یعنی : اس کو اگر اپنی چوپال پر اتنا ہی گھمنڈ ہے تو بولالے اپنی چوپال کو۔
Ayah 96:18

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی اپنے مؤکلان دوزخ کو بلائیں گے

(96:18) سندع الزبانیۃ۔ شرط محذوف کا جواب ہے۔ س جب مضارع پر داخل ہوتا ہے تو اسے مستقبل قریب کے معنی میں کردیتا ہے ندع مضارع جمع متکلم دعوۃ (باب نصر) مصدر سے۔ ہم بلالیں ” یا “ ہم بلالیں گے۔ الزبانیۃ : سیاست کے پیارے۔ دوزخ کے فرشتے زبانیۃ۔ عربی زبان میں سیاست کے پیارے ۔ یعنی پولیس کے سپاہی کو کہتے ہیں۔ یہ زبنی کی جمع ہے جو زین (باب ضرب) مصدر سے ماخوذ ہے جس کے معنی دفع کرنا۔ ہٹا نا کے ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ ہم بھی دوزخ کے فرشتوں کو بلالیں گے۔ زبانیۃ، قہر الٰہی کے وہ فرشتے ہیں جن کے مقابلہ کی کسی کو بھی طاقت نہیں۔
Ayah 96:19

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور سجدے کر کے قرب (خدا) حاصل کرتے رہنا

(96:19) کلا۔ روع لذلک اللعین (روح المعانی) ای ارتدع ایہا الکافر الکاذب (ایسر التفاسیر) یہ جھڑک ہے ملعون ابو جہل کے لئے۔ اے چھوٹے کافر باز رہ۔ (ایسی بےجا حرکتوں سے باز رہ) لاتطعہ : لا تطع فعل نہی واحد مذکر حاضر اطاعۃ (افعال) مصدر سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ تو اس کی اطاعت نہ کر۔ تو اس کا کہنا مت مان۔ نماز پڑھتا رہ۔ اسے مت چھوڑ۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے سوال ہوسکتا تھا کہ جب یہ روکتا ہے تو میں کیا کروں ؟ اس کا جواب دے دیا کہ اس کی بات مت مانو۔ واسجد۔ یہ لفظا لاتطعہ پر معطوف ہے اور معنوی اعتبار سے لاتطع کے معنی کی تاکید ہے۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اسجد فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر سجود (باب نصر) مصدر سے۔ واقترب۔ اس کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔ فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر اقتراب (افتعال) مصدر سے۔ تو نزدیک ہو۔ تو قربت حاصل کر۔ یعنی نماز کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرو۔ علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔ سورة انشقت میں سجدہ تلاوت کے مبحث میں ہم لکھ چکے ہیں کہ اس جگہ لفظ اسجد اللہ کی طرف سے سجدہ تلاوت کا حکم ہے اور رسول اللہ ﷺ کا عمل اس کی دلیل ہے۔ کیونکہ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اذا السماء انشقت (84:21) اور اقرأ (سورۃ زیر مطالعہ) میں سجدہ کیا۔ جمہور کے نزدیک اسجد کا عطف جو لاتطعہ پر ہے اس لئے اس سجدہ سے مراد نماز ہے۔ جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے ۔ پس یہ نماز پڑھنے کا حکم ہے (سجدہ کا حکم نہیں ہے) اور رسول اللہ ﷺ نے جو اقرأ میں سجدہ کیا ہے تو آپ کے عمل کا اتباع سنت ہے۔ اس سے سجدہ اقرأ کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے وجوب نہیں۔