94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsاحکام القرآن

Ayah 94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا

Ayah 94:2

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

بیشک کھول دیا اور تم سے بوجھ بھی اتار دیا

Ayah 94:3

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی

Ayah 94:4

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور تمہارا ذکر بلند کیا

Ayahs 94:5–6

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

(اور) بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

(اور) بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

زندگی میں تنگی اور فراخی قول باری ہے (فان مع العسریسر ان مع العسر یسرا۔ پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد المروزی نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے حسن سے قول باری (ان مع العسر یسرا) کی تفسیر میں بیان کیا کہ ایک دن حضور ﷺ مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے (لن یغلب عسر یسرین، لن یغلب عسر یسرین ان مع العسریسرا۔ ایک تنگی دو فراخی پر غالب نہیں آسکتی، ایک تنگی دو فراخی پر غالب نہیں آسکتی۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے جس تنگی کا ابتداء میں ذکر کیا ہے، دوسری مرتبہ ذکر سے یہی تنگی مراد ہے کیونکہ یہ معرف باللام سے اسی بنا پر دوسری تنگی بھی اسی تنگی کی طرف راجع ہوگی جس کا ذکر ہوچکا ہے اور جو معہود یعنی معلوم ہے۔ اس کے بالمقابل فراخی کو یسر یعنی اسم نکرہ کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس بنا پر پہلی فراخی دوسری فراخی سے مختلف ہوگی۔ اگر دوسری فراخی سے پہلی فراخی مراد ہوتی تو اسے معروف باللام کی صورت میں ذکر کیا جاتا ۔
Ayahs 94:7–8

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

تو جب فارغ ہوا کرو تو (عبادت میں) محنت کیا کرو

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوجایا کرو

فرصت کے بعد عبادت قول باری ہے (فاذافرغت فانصب۔ لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جائو) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” جب تم فرائض سے فارغ ہوجائو تو ان اعمال میں لگ جائو جن کی اللہ تعالیٰ نے تمہیں ترغیب دی ہے۔ “ حسن کا قول ہے ” جب تم اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب کی عبادت میں لگ جائو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” تم جب اپنی نماز سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب سے دعائیں مانگنے میں لگ جائو۔ مجاہد کا قول ہے ” جب تم اپنے دنیاوی کاموں سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب کی عبادت میں لگ جائو) آیت کے الفاظ میں ان تمام معافی کا احتمال ہے اور درست صورت یہ ہے کہ لفظ کو ان تمام معانی پر محمول کیا جائے اس طرح تمام معانی مراد لیے جائیں ۔ اگرچہ اس میں حضور ﷺ کو خطاب ہے تاہم تمام مکلفین مراد ہیں۔