94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 94:1–2

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

کیا ہم نے کھول نہیں دیا آپ ﷺ کے لئے آپ ﷺ کے سینے کو ؟

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

اور کیا ہم نے اتار نہیں دیا آپ ﷺ سے آپ ﷺ کا وہ بھاری بوجھ ؟

(1) شرح صدر کی نعمت کا ذکر اور اس سے مقصود ؟ سو شرح صدر کی نعمت سے سرفرازی کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور تقریر و تاکید کی غرض سے بطور سوال و استفہام ذکر فرمایا گیا کہ " کیا ہم نے کھول نہیں دیا آپ کے لیے ( پیغمبر) آپ کے سینے کو ؟ " جس سے آپ کا قلب مبارک پوری طرح مطمئن ہوگیا کہ اسلام ہی دین حق ہے، اور اسی کی تعلیمات مقدسہ ہیں جو کہ ہر طرح سے حق اور صدق ہیں، اور ظاہر ہے کہ یہ شرح صدر اللہ پاک کی ایک عظیم الشان نعمت ہے، جیسا کہ سورة انعام کی آیت نمبر 125 میں فرمایا گیا ( آیت، الانعام 125 پ 8) یعنی " اللہ جس کو ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے "۔ اور جیسا کہ سورة زمر کی آیت نمبر 22 میں فرمایا گیا ( آیت، الزمر 22 پ 23) بھال جس کا سینہ اللہ اسلام کے لیے کھول دے اور اس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور پر ہو "۔ نیز شرح کا دوسرا معنی ہے حوصلہ اور قوت اور آنحضرت ﷺ کو شرح صدر کی اس نعمت سے بھی نوازا اور سرفراز فرمایا گیا کہ آپ کو حوصلہ اتنا بڑھا دیا گیا کہ راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرنے میں آپ کو کوئی تامل و تردد نہ ہو، اور کار نبوت کی ادائیگی اور اس کی عظیم ذمہ داریوں کو سنبھلانے کی ہمت پیدا ہوجائے، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور اسی شرح صدر کی دعا و درخواست پیش کرتے ہوئے عرض کیا تھا ( آیت، طہ 25, 26 پ 16) یعنی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرے کام کو آسان فرمادے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ آپ کو ( اے پیغمبر ﷺ شرح صدر کی یہ دونوں صورتیں عطا فرمائی گئیں اور آپ کی طرف سے کسی دعا و درخواست کے بغیر از خود پہلے ہی عطا فرما دی گئیں، بعض مفسرین نے جو شرح صدر کے معنی میں لیا ہے، وہ صحیح نہیں، کیونکہ عربی لغت کے اعتبار سے شرح صدر کا اطلاق شق صدر پر نہیں ہوتا، اسی لیے علامہ آلوسی (رح) جیسے محققین نے اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے، چناچہ آپ اس کی تصریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں " وحمل الشرح فی الایۃ علی شق الصدر ضعیف عند المحققین " سو شق صدر کے معجزے کا ثبوت اور اس کا مدارو انحصار آثار و روایات پر ہے، قرآن پاک سے اس کو ثابت کرنے کی کوشش کرنا صحیح نہیں، شرح صدر جس کی دو صورتیں اوپر بیان کی گئی ہیں، یعنی اطمینان قلب اور حوصلہ و برداشت، یہ قدرت کی ایک عظیم الشان نعمت ہے، اور اس کے ذریعہ ملنے والی بصیرت و معرفت ایمان صحیح کا ایک عظیم الشان ثمرہ ہے، اسی سے انسان کے اندر اللہ تعالیٰ پر وہ اعتماد اور توکل پیدا ہوتا ہے، جو تمام قوت اور عزم و ہمت کا سرچشمہ ہے اور یہ ایمان اور اس کی یہ قوت موجود ہو تو بڑی سے بڑی مزاحمت بھی انسان کے عزم و ہمت کو متزلزل نہیں کرسکتی، اور اگر یہ نہ ہو والعیاذ باللہ العظیم۔ تو انسان بغیر کسی مزاحمت کے بھی شکست کھا جاتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم، سو اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو شرح صدر کی وہ دونوں صورتیں جو ہم نے اوپر بیان کی ہیں آپس میں لازم و ملزوم قرار پاتی ہیں، بہرکیف شرح صدر کی یہ نعمت ایک عظیم الشان نعمت ہے، جس سے حق تعالیٰ کی طرف سے نوازا جاتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل وعلیہ نتوکل وبہ نسعتین، فی کل ان و حین وھو العزیز الرحیم۔
Ayah 94:3

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جو توڑے ڈال رہا تھا آپ کی کمر کو ؟

(2) وضع وزر کی عنایت اور اس کا مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے اتار نہیں دیا آپ سے آپ کا وہ بوجھ جو توڑے ڈال رہا تھا آپ کی کمر کو ؟ یعنی وہ معنوی بوجھ جو کہ لوگوں کو راہ حق و ہدایت پر لانے کے سلسلہ میں آپ کی انتہائی رحمت و شفقت کی بنا پر آپ کی حد درجہ حساس گرامی پر قوم کے فساد و بگاڑ کی وجہ سے سوار تھا، کہ ان کی اصلاح ہو تو کیسے ہو ؟ کفر و شرک اور بت پرستی کی اس گرم بازاری کا خاتمہ اور قلع قمع ہو تو کس طرح ہو ؟ اخلاق و کردار کے لحاظ سے حددرجہ بگڑی ہوئی اس قوم کو راہ راست پر لایا جائے تو کس طرح ؟ اور اس کے اس فساد و بگاڑ کو ختم کیا جائے تو کس طرح ؟ اور ان کو دوزخ کی آگ اور ابدی عذاب سے بچایا جائے تو کس طرح ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو آپ کے رب نے آپ ﷺ کو شرف رسالت سے مشرف فرما کر اور نور نبوت سے نواز کر اس کا طریقہ و راستہ اور صحیح علاج آپ کو بتادیا کہ اس تمام فساد و بگاڑ کے خاتمے اور اصلاح کا راز صرف و صرف اس امر میں مضمر ہے کہ ان لوگوں کو اپنے خالق ومالک کی صحیح معرفت حاصل ہوجائے اور ان کو اس پر سچا پکا ایمان و یقین نصیب ہوجائے، اور اسی طرح ان کو بعث بعد الموت اور عقیدہ آخرت و معاد اور نبوت و رسالت پر سچا پکا ایمان و یقین نصیب ہوجائے، سو توحیدو رسالت اور آخرت و قیامت اور بعث بعد الموت پر ایمان و یقین ہی وہ شاہ کلید ہے جس سے تمام فساد و بگاڑ کا بالکلیہ خاتمہ ہوسکتا ہے، چناچہ ایسے ہی ہوا کہ اللہ پاک کی توفیق و عنایت اور آپ کی جہد مسلسل اور سعی بلیغ سے جب وہ قوم ایمان و یقین کی قوت سے سرشار و سرفراز ہوئی تو ان لوگوں کی زندگیوں میں ایسا انقلاب آیا کہ چشم فلک نے اس کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ اس کے بعد قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی، اور وہ قوم جو کفر و شرک کی نجاستوں میں لت پت اور بت پرستی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی وہ توحید کی علم بردار بن گئی اور دنیا نے دیکھا کہ وہ قوم جو اخلاق و کردار کے فساد میں بری طرح ڈوبی اور ہر طرح سے اس میں گھری ہوئی تھی اور کفر و ضلالت کے اندھیروں میں مستغرق تھی وہ اخلاقیات کی تعلیم و تربیت میں دنیا کی امام و پیشوا بن گئی اور جن کو اونٹ چرانا نہیں آتا تھا وہ دنیا کے ہادی اور راہنما بن گئے، عام طور پر حضرات مفسرین کرام جو اس مقام پر کہتے ہیں کہ یہاں پر " وزر " سے ماد وہ چھوٹے چھوٹے گناہ و قصور ہیں جو آنحضرت ﷺ سے نبوت کے پہلے کی زندگی میں سرزد ہوگئے تھے، سو یہ بات اگرچہ عام طور پر اس موقع پر کہی جاتی ہے اور مشہور ہے، لیکن یہ نہ تو دل کو لگتی ہے اور نہ ہی صحیح معلوم ہوتی ہے، ایک تو اس لیے کہ " وزر " کے اصل معنی گناہ کے نہیں بوجھ کے ہیں، سو بلا دلیل و قرینہ اس کو گناہ کے بوجھ کے معنی میں لینا لفظ کے لغوی معنی و مفہوم میں ایک خود ساختہ اور ناروا اضافہ کرنا ہے والعیاذ باللہ العظیم۔ اور دوسرے اس لیے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کا نبوت سے پہلے کا دور بھی اتنا عمدہ و ممتاز اور اس قدر ستھرا اور پاکیزہ تھا کہ اس میں بھی اس طرح کا کوئی دھبہ آپ کی پاکیزہ زندگی میں نہیں مل سکتا، یہاں تک کہ دشمنوں کی طرف سے بھی آپ پر اس طرح کا کوئی الزام کبھی نہیں لگا تھا، اسی لیے اس دور کے بارے میں کفار کو مخاطب کر کے آپ ﷺ سے یوں کہلوایا گیا (یونس 16 پ 11) یعنی لوگو " میں اس قرآن کے پیش کرنے سے پہلے بھی اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ تمہارے درمیان گزار چکا ہوں "۔ سو جب اس سے قبل تم نے مجھ پر کسی طرح کا داغ دھبہ کبھی نہیں دیکھا تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اب چالیس سال کی عمر کے بعد اس طرح کا کوئی افتراء اور جھوٹ باندھنے لگوں اور وہ بھی اللہ اپنے خالق ومالک پر ؟ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے ؟ سو جس ہستی کی زندگی اس طرح کی مثال بلکہ بےمثال زندگی رہی ہو، اس کے بارے میں یہ بات کس طرح جوڑ کھا سکتی ہے کہ نبوت سے پہلے ان سے اس طرح کے کچھ قصور اور گناہ سرزد ہوگئے تھے جو آپ کی کمر توڑے ڈال رہے تھے ؟ اس لیے اس ارشاد ربانی کا صحیح معنی ومطلبوہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا والحمدللہ۔ بہرکیف اس " وزر " سے مراد جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا وہ بارغم ہے جو بعثت سے پہلے آپ کے قلب مبارک پر اپنی قوم کی ہدایت سے متعلق سوار تھا، آپ حقیقت میں حیراں و سرگرداں تھے، مگر اس کا کوئی سراغ آپ کو نہیں مل رہا تھا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے شرف نبوت سے سرفراز فرما کر آپ پر ہدایت کی راہ کھولی، تو اب مزید غم اس بنا پر لاحق ہوگیا کہ آپ کی پوری قوم اس دعوت حق کی دشمن بن کر کھڑی ہوگئی، اور جب دعوت حق میں صدمہ لاحق ہوگیا کہ کہیں یہ میری جدوجہد میں کسی کمی یا خامی کا نتیجہ تو نہیں تو اس بنا پر میری یہ دعوت اثر انداز نہیں ہورہی، جس کی بنا پر آپ کو حق تعالیٰ کی طرف سے تسلی دی جاتی، کہ نہیں ایسا نہیں آپ کی دعوت میں کوئی تقصیر اور کوتاہی نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے کہ یہ راہ حق و ہدایت سے اس طرح منہ موڑے ہوئے ہیں، جیسا کہ قرآن حکیم کے دوسرے مختلف مقامات میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ مثلا ایک مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا " فلا تذھب نفسک علیھم حسرات " یعنی آپ ان لوگوں کے پیچھے غم اور افسوس میں اپنی جان جو ہلکان نہ کریں۔
Ayahs 94:4–6

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور کیا ہم نے بلند نہیں کردیا آپ کی خاطر آپ کے ذکر (و آوازہ) کو ؟

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

پس یقینا تنگی (اور مشکل) کے ساتھ آسانی ہے

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

یقینا تنگی (اور مشکل) کے ساتھ آسانی ہے

(3) رفع ذکر کی عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا ہم نے آپ کی خاطر بلند نہیں کردیا، آپ کے ذکر و آواز کو ؟ " سو کلمہ طیبہ میں اذان و اقامت میں، نماز ودرود میں، حج وعمرہ میں، خطبوں اور تقریروں میں، کتابوں اور رسالوں میں، جلسوں اور جلوسوں میں، ہر جگہ آپ کا نام نامی کمال ادب و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، اور اتنا اور اس قدر کہ چوبیس گھنٹوں کے پورے دور ایسے میں نہ کوئی وقت اس سے خالی ہے نہ کوئی جگہ، کیونکہ پورے کرہ ارضی پر ہر جگہ اپنے اپنے وقت پر اذان ہورہی ہوتی ہے، اور اسی طرح ہر جگہ اور ہر وقت اقامت ہورہی ہے، اور اسی طرح ہر جگہ اور ہر وقت اللہ پاک کی وحدانیت اور آنجناب کی رسالت کی شہادت کا اعلان و اقرار لگاتار اور مسلسل ہوتا رہا، سبحانہ اللہ۔ کیسی عظمت شان ہے آپ کے اس رفع ذکر کیا کیا اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال کبھی بھی اور کہیں بھی پائی گئی ہے ؟ یا پائی جانی ممکن ہوسکتی ہے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر آپ کی بلندی شان اور رفعت مکان کے کہنے ہی کیا ؟ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وتمرد اللیابی والایام۔ سو کہاں وہ وقت تھا کہ اس دین حنیف کی آواز کو مکہ میں بھی نہیں اٹھنے دیا جارہا تھا، اور کہاں اب یہ صورتحال ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں اور اس کے چپے چپے پر شب و روز کے چوبیس گھنٹوں میں ہر وقت اللہ اکبر کی صدا گونج رہی ہے اور بحر و بر اس سے منور و معمور ہیں۔ فالحمدللہ رب العالمین۔
Ayah 94:7

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

پس جونہی آپ فارغ ہوا کریں ریاضت میں لگ جایا کریں

(4) راہ حق میں جہد مسلسل کی ہدایت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا جونہی آپ فارغ ہوا کریں تو ریاضت و مشقت میں لگ جایا کریں، یعنی جب آپ تبلیغ و ارشاد کے اپنے فرض منصبی سے اور دوسرے ہر طرح کے شغل و عمل سے، پس جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ " عسر و یسر " آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور اس سلسلہ میں کہیں ٹھہراؤ نہیں، تو جہد مسلسل میں لگ جایا کریں، لہذا اگر کسی نے ایک گھاٹی پار کرلی تو وہ اس سے یہ نہ سمجھے کہ اب کسی اور گھاٹی سے سابقہ پیش آنے والا نہیں، کیونکہ زندی جہد مسلسل سے عبارت ہے، اس جہاں میں ہر مسافر کو نشیب و فراز سے سابقہ پیش آنا ہے، اور ان سے گزرنے کے بعد ہی کوئی مسافر اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے، لہذا اس میں مسلسل مصروف عمل رہنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل۔ بہرکیف دعوت حق اور راہ حق میں جہد مسلسل کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب آپ فارغ ہوا کریں تو ریاضت میں لگ جایا کریں۔ یہاں پر " فانصب " کا لفظ استعمال ہوا ہے جو کہ نصب سے مشتق و ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی ٹھک جانے اور گاڑھ دینے کے ہیں تو اس اعتبار سے اس کا اصل اور صحیح ترجمہ بنتا ہے کہ جب فارغ ہوجاؤ تو ٹھک جاؤ جس میں بڑی معنویت بھی ہے اور قوت و زور بھی، ہم نے ادب کے تقاجوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کا ترجمہ " ریاضت میں لگ جایا کرو " کے الفاظ سے کیا ہے۔ بہرکیف اللہ کی طرف رجوع اور اس کے لیے ریاضت میں لگ جانا ہی اصل مقصود اور گوہر مطلوب ہے، اور اسی میں دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے اور یہی شاہ کلید ہے، حقیقی فوز و فلاح کی۔ اللہ توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فعلیک نتوکل وبہ نستعین، تبارکت وتعالیت وانت العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، جل جلالہ وعم نوالہ۔
Ayah 94:8

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے رب ہی کی طرف راغب (و رجوع) رہا کریں

( 5) اپنے رب ہی کی طرف رغبت و رجوع کا حکم و ارشاد : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور اپنے رب ہی کی طرف راغب و رجوع رہا کرو، کہ اصل اور حقیقی مقصود وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے، اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت اختیار میں ہے، سبحانہ وتعالی۔ پس دل کی توجہ اور رجوع ہمیشہ اسی کی طرف ہے۔ فکن اللھم لنا واجعلنا لک فی کل موطن من المواطن و بکل حال من الاحوال۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔ سو ان آیات کریمات میں بیک وقت دو باتوں کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ایک یہ کہ مہمات دعوت سے فراغت پاتے ہی آپ ﷺ اپنی آخری منزل کی تیاری کے لیے جدوجہد میں لگ جائیں، اور دوسری یہ کہ ایسے موقع پر آپ ﷺ کامل اور مکمل طور پر اپنے رب کی طرف جھک پڑیں، اور اسی کی طرف راغب و رجوع ہوجائیں۔