اسی مضمون کی آیت کریمہ گذر چکی ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ لکھ دی گئی ہے جس کے دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
سورة التَّوْبَة 88
تبوک سے واپسی پر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین مر گیا۔ اس کے بیٹے عبد اللہ بن عبداللہ جو مخلص مسلمانوں میں سے تھے، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کفن میں لگانے کے لیے آپ کا کرتہ مانگا۔ آپ نے کمال فراخ دلی کے ساتھ عطا کردیا۔ پھر انہوں نے درخواست کی کہ آپ ہی اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ آپ اس کے لیے بھی تیار ہوگئے۔ حضرت عمر ؓ نے باصرار عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ، کیا آپ اس شخص پر نماز جنازہ پڑھیں گے جو یہ اور یہ کرچکا ہے۔ مگر حضور ﷺ ان کی یہ سب باتیں سن کر مسکراتے رہے اور اپنی اس رحمت کی بنا پر جو دوست دشمن سب کے لیے عام تھی، آپ نے اس بدترین دشمن کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ان کے اموال اور اولاد آپ کو (اس) تعجب میں نہ ڈالیں (کہ ایسے مبغوضین پر یہ نعمتیں کیسے ہوئیں، سو یہ واقع میں ان کے لئے نعمتیں نہیں بلکہ آلات عذاب ہیں کیونکہ) اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان (مذکورہ) چیزوں کی وجہ سے دنیا میں (بھی) ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کا دم حالت کفر ہی میں نکل جائے (جس سے آخرت میں بھی مبتلائے عذاب رہیں) اور جب کبھی کوئی ٹکڑا قرآن کا اس مضمون میں نازل کیا جاتا ہے کہ تم (خلوص دل سے) اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ ہو کر جہاد کرو تو ان میں کے مقدور والے آپ سے رخصت مانگتے ہیں اور (رخصت کا یہ مضمون ہوتا ہے کہ) کہتے ہیں کہ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم بھی…
Read the full tafseer →وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ۔ اس آیت کی وضاحت اسی سورة میں پیچھے گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 55
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
84۔ 1 یہ آیت اگرچہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی۔ لیکن اس کا حکم عام ہے ہر شخص جس کی موت کفر و نفاق پر ہو وہ اس میں شامل ہے۔ اس کا شان نزول یہ ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوگیا تو اس کے بیٹے عبد اللہ (جو مسلمان اور باپ ہی کا ہم نام تھے) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ (بطور تبرک) اپنی قمیض عنایت فرما دیں تاکہ میں اپنے باپ کو کفنا دوں۔ دوسرا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ نے قمیض بھی عنایت فرما دی اور نماز جنازہ پڑھانے کے لئے تشریف لے گئے۔ حضرت عمر نے آپ ﷺ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھانے سے روکا ہے، آپ کیوں اس کے حق میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
70: دیکھئے آیت نمبر 55 کا حاشیہ
Read the full tafseer →تحریک اقامت دین کے لیے یہ ہمہ گیر ہدایت ہے کہ کسی کے مال و دولت کی وجہ سے اسے اعزاز نہ دیا جائے۔ نہ دل اور شعور میں ایسے لوگوں سے کوئی تاثر لیا جائے۔ یہ مال خود ان کے لیے وبال جان ہوں گے۔ کیونکہ اگر کوئی ان کے ظاہری مال سے متاثر ہوگا تو یہ بھی ان کے لیے اکرام ہوگا۔ دل کے اندر بھی ایسے لوگوں کی تکریم کا شعور نہ آنے پائے۔ ان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے۔
Read the full tafseer →5 چار رکوع پہلے اسی مضمون کی آیت گزر چکی، اس کا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت 85 وَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُہُمْ وَاَوْلاَدُہُمْ ط
یعنی آپ ﷺ ان کے مال اور اولاد کو وقعت مت دیجیے۔ یہ آیت اسی سورت میں 55 نمبر پر معمولی فرق کے ساتھ پہلے بھی آچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
100 اس آیت کا پورا مضمون اسی سورة کی آیت نمبر 55 میں گزر چکا ہے لہذا اس کی تشریح کے لیے آیت نمبر 55 کا حاشیہ نمبر 59 دیکھ لیا جائے۔
Read the full tafseer →157 ۔ (کہ جب یہ مبغوض ومردود ہیں تو ان پر یہ نعمتیں کیسی ؟ ) ملاحظہ ہو حاشیہ 102 بالا۔
158 ۔ (جس سے آخرت میں بھی وہ مبتلائے عذاب ہی رہیں) (آیت) ” یریداللہ “۔ اللہ کے اس ارادہ سے ظاہر ہے کہ اس کی مشیت تکوینی ہی مراد ہے۔ آیت ابھی چند سطریں قبل اوپر آچکی تھی، تکرار سے مقصود اور زور دینا ہے۔ التکریر للمبالغۃ والتاکید (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
آیت نمبر 81 تا 89
ترجمہ : غزوہ تبوک سے پیچھے چھوڑے گئے لوگ رسول اللہ ﷺ کے (نکلنے) کے بعد اپنے (گھروں) میں بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، اور انہیں یہ بات ناگوار گذری کہ وہ اپنی جان ومال سے اللہ کے راستہ میں جہاد کریں، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا گرمی میں جہاد کے لئے نہ نکلو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ تبوک کی گرمی سے زیادہ سخت ہے لہٰذا بہتر ہے کہ تم ترک تخلف کر کے اس آگ سے بچو، اگر وہ اس حقیقت کو سمجھتے (تو غزوہ میں شرکت سے) پیچھے نہ رہتے، تھوڑے دنوں دنیا میں ہنس لیں آخرت میں بہت روئیں گے اور یہ رونا ان کے اعمال کی بدولت ہوگا یہ (خبر) بصیغہ امران کی حالت کی خبر ہے پس اگر اللہ آپ کو…
Read the full tafseer →ولا تعجبک اموالھم واولادھم انما یرید اللہ ان یعذبھم بھا فی الدنیا وتزھق انفسھم وھم کٰفرون۔ اور ان کے اموال و اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے دنیا میں بھی ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کا دم حالت کفر ہی میں نکل جائے۔
یہ مکرر تاکید ہے (یعنی منافقوں کا وہی فریق مراد ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں کیا گیا۔ اسی کی مزید حالت اس آیت میں بیان کی گئی ہے جس سے پہلے مضمون کی تاکید ہو رہی ہے) اور مقام کا تقاضا بھی یہی تھی۔ انسان کی نظر مال و اولاد پر لگی رہتی ہے اور کسی کا دل اس کو چھوڑنے کو نہیں چاہتا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مذکورۂ بالا فریق کے علاوہ اس آیت سے…
Read the full tafseer →(85) اور آپ کو ان کے اموال کی کثرت اور ان کی اولاد کی زیادتی کسی قسم کے تعجب میں نہ ڈالے کیوں کہ ان چیزوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انکو دنیا میں بھی گرفتار عذاب رکھنا اور آخرت میں عذاب دینا چاہتا ہے اور یہ کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہی ہو۔
Read the full tafseer →وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ : اس سے پہلے آیت (55) میں بھی چند الفاظ کے فرق کے ساتھ یہ آیت گزری ہے، یہاں دوبارہ لانے کا مقصد یہ ہے کہ نفاق انھی چیزوں کی محبت اور حرص سے پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ سورة منافقون میں ان کے اعمال بد کے تذکرے کے بعد آخر میں یہی تلقین فرمائی : (لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ) [ المنافقون : 9 ] ”دیکھنا کہیں تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں۔“ یہاں بھی گزشتہ آیت کو دوبارہ لانے سے مقصود دنیا کی فراوانی پر رشک سے بچنے کی تاکید اور منافقین کے لیے اموال واولاد کی فراوانی کے ان کے لیے نقصان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 85
اسے تاکید کے لیے مکرر ذکر کیا۔ اور اس بارے میں بحث پہلے گرزچ کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
منافقین کی نماز جنازہ سے ممانعت :
1:۔ بخاری ومسلم وابن ابی حاتم وابن منذر وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب عبداللہ بن ابی سلول کی وفات ہوئی تو اس کا بیٹا عبد اللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ اپنی قمیص عطاء فرمائیے تاکہ اس میں کفن دیا جائے۔ آپ نے عطا فرما دی پھر اس نے سوال کیا کہ آپ اس پر نماز بھی پڑھایئے۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو عمر بن خطاب ؓ کھڑے ہوئے اور آپ کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے منافقین پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا آپ نے فرمایا میرے رب نے مجھے اختیار دیتے ہوئے فرمایا…
Read the full tafseer →وَلَا تُعْجِبْكَ [ اور چاہیے کہ حیرت میں نہ ڈالیں آپ کو ] اَمْوَالُهُمْ [ ان کے اموال ] وَاَوْلَادُهُمْ ۭ [ اور ان کی اولاد ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُرِيْدُ [ چاہتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَنْ [ کہ ] يُّعَذِّبَهُمْ [ وہ عذاب دے ان کو ] بِهَا [ ان سے ] فِي الدُّنْيَا [ دنیا میں ] وَتَزْهَقَ [ اور نکلیں ] اَنْفُسُهُمْ [ ان کی جانیں ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] كٰفِرُوْنَ [ کفر کرنے والوں میں ہوں ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (وَ لَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَ اَوْلَا دُھُمْ ) (الآیۃ) یہ آیت تھوڑے سے لفظی اختلافات کے ساتھ چند صفحات پہلے گزر چکی ہے۔ وہاں اس کی تفسیر دیکھ لی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
کفار اور منافقین کا ایک شبہ اور اس کا ازالہ
قال اللہ تعالیٰ ۔ ولا تعجبک اموالھم واولادھم۔۔۔ الی۔۔۔ ذالک الفوز العظیم
(ربط): گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کا مبغوض عنداللہ ہونا بتلایا اب اس بارے میں ایک شبہ کا ازالہ فرماتے ہیں وہ یہ کہ ان کے پاس جو کچھ مال اور اولاد ہے وہ ان کے محبوب ہونے کی دلیل نہیں بلکہ ان کے مبغوض ہونے کی علامت ہے اور ان کو جو مال و دولت دیا گیا ہے وہ ان کے حق میں ذریعہ عذاب ہے سو اے مسلمانو تمہیں ان کے مال و دولت سے دھوکہ میں نہ پڑنا چاہئے مال کو اگر خدا تعالیٰ کی اطاعت اور جہاد فی سبیل اللہ کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ نعمت ہے اور اگر اس کو معصیت کا ذریعہ بنایاجائے تو وہ…
Read the full tafseer →81:“ وَ لَا تُعْجِبُکَ الخ ” اس کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ 54 ص 441 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
ربط آیات :
جہاد سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے منافقین کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ منافقین رسول اللہ ﷺ کے بعد پیچھے بیٹھے رہنے پر بڑے خوش ہوئے کہ اچھا ہوا ہم اس دور دراز کے سفر پر نہیں گئے گویا کہ انہوں نے اللہ کے راستے میں مال وجان کھپا دینے کو ناپسند کیا ، وہ ایک دوسرے کو گرمی کی شدت میں سفر کرنے سے منع کرتے تھے مگر اللہ نے فرمایا کہ جہنم کی آگ تو بہت سخت ہے ، اگر اس دنیا کی گرمی برداشت نہیں کرسکتے تو دوزخ کی تپش کیسے برداشت کرو گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آئیں گے تو منافق لوگ آئندہ جہاد میں شمولیت کی پیش کش کریں گے مگر حضور ﷺ…
Read the full tafseer →وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُہُمْ وَاَوْلَادُہُمْ 0 ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ اَنْ يُّعَذِّبَہُمْ بِہَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْہَقَ اَنْفُسُہُمْ وَہُمْ كٰفِرُوْنَ 85
عجب
العَجَبُ والتَّعَجُّبُ : حالةٌ تعرض للإنسان عند الجهل بسبب الشیء، ولهذا قال بعض الحکماء : العَجَبُ ما لا يُعرف سببه، ولهذا قيل : لا يصحّ علی اللہ التَّعَجُّبُ ، إذ هو علّام الغیوب لا تخفی عليه خافية . يقال : عَجِبْتُ عَجَباً ، ويقال للشیء الذي يُتَعَجَّبُ منه : عَجَبٌ ، ولما لم يعهد مثله عَجِيبٌ. قال تعالی: أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا
[يونس/ 2] ، تنبيها أنهم قد عهدوا مثل ذلک قبله، وقوله : بَلْ عَجِبُوا أَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ترکیب : منہم ومات دونوں احد کی صفت ہیں ابدا ظرف ہے لاتصل کا اذا انزلت شرط استاذن جواب۔ خوالف جمع خالفۃ ہے المراۃ لھم اعد سے متعلق جنت موصوف تجری الخ صفت خالدین حال ہے ضمیر لہم سے۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقین کے لئے آنحضرت ﷺ کو استغفار سے منع کیا تھا اب یہاں ان کی نماز جنازہ اور ان کی قبر پر دعا کے لئے کھڑا ہونے سے بھی منع فرماتا ہے جو انسان کے لئے نجات کا بڑا وسیلہ تھا یعنی مغفرت اور رسول کی شفاعت کے دائرہ سے خارج کردیا گیا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین مرگیا تو آنحضرت ﷺ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے لوگوں نے بلایا۔ آپ پڑھنے کو کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا…
Read the full tafseer →وَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَاَوْلَادُھُمْ ط اِنَّمَا یُرِیْدُاللّٰہُ اَنْ یُّعَذِّبَھُمْ بِھَافِی الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اَنْفُسُھُمْ وَھُمْ کٰفِرُوْنَ (التوبۃ : 85)
(اور تعجب میں نہ ڈالیں آپ کو ان کے مال اور ان کی اولاد۔ اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں کے سبب سے ان کو دنیا میں عذاب دے اور ان کی جانیں کفر کے حال میں نکلیں۔ )
آنحضرت ﷺ سے خطاب
اس آیت کی وضاحت آیت نمبر 55 میں بھی گزر چکی ہے۔ لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ لایا گیا ہے۔ اس میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کو ہے لیکن حقیقت میں مسلمان اس کے مخاطب ہیں۔ لیکن اس بات کا ایک پہلو چونکہ آنحضرت ﷺ سے متعلق تھا اس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافق کے انجام میں اس کے مال اور اولاد کا کردار۔
منافقین کے مال اور اولاد پر تعجب نہ کرنے کا حکم اس سورة میں دوسری مرتبہ نازل ہوا ہے چند الفاظ کے اضافے کے ساتھ یہ حکم آیت 55 میں گزر چکا ہے اب پھر قریب، قریب انھی الفاظ کے ساتھ حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ! منافقین کے مال و اسباب اور ان کی اولاد پر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی مسلسل نافرمانیوں اور دائمی منافقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انھیں ان کے مال اور اولاد کے ساتھ دنیا میں سزا دے اور کفر کی حالت میں ہی ان کی جانیں نکل جائیں۔ یہ بات پہلے عرض ہوئی ہے کہ منافقین کے اکثر لوگ مال اور اولاد کے حوالے سے بہت…
Read the full tafseer →ان کا مال و اولاد ان کے حق میں سوہان روح ہیں :
آیت 85: وَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُہُمْ وَاَوْلَادُھُمْ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اَنْفُسُھُمْ وَھُمْ کٰفِرُوْنَ (اور ان کے اموال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں اللہ تعالیٰ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے ان کو دنیا میں بھی عذاب میں گرفتار رکھے اور ان کا آخری سانس حالت کفر ہی میں نکلے) مبالغہ اور تاکید کیلئے دوبارہ لائے۔ تاکہ مخاطب بھولنے نہ پائے۔ اور اس کو یقین ہوجائے کہ یہ اہم ترین بات ہے اور ہر آیت میں ایک گروہ کا تذکرہ ہے جو دوسرے گروہ سے مختلف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
تفسیر 84 :” ولا تصل علی احد منھم مات ابدا “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول نے حالت مرض میں رسول اللہ ﷺ کو پیغام بھیجا۔ جب آپ (علیہ السلام) اس پر داخل ہوئے تو اس کو فرمایا کہ تجھے یہود کی محبت نے ہلاک کردیا تو وہ کہنے لگا یا رسول اللہ میں نے آپ کے پاس پیغام اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ مجھے تنبیہ کریں ‘ میں نے اس لیے پیغام بھیجا تھا کہ آپ (علیہ السلام) میرے لیے استغفار کریں اور آپ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ (علیہ السلام) اس کو اپنی قمیص میں دفن کریں اور اس پر نماز پڑھیں۔ عبد اللہ بن عباس ؓ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ جب عبد اللہ بن…
Read the full tafseer →85۔ اس آیت کی تفسیر بعینہ اس سے پہلے گزر چکی ہے یہ دوبارہ تاکید کے ساتھ اللہ پاک نے حکم دیا کہ کفار کے مال واولاد کو دیکھ کر تعجب نہ کرو خدا ان لوگوں کو انہیں چیزوں کے ساتھ عذاب کرے گا ان کے مال انہیں کے واسطے وبال جان ہوجائیں گے ان کی اولاد انہیں کے لئے موجب ہلاکت ہوگی اور یہ لوگ مرتے دم تک کافر کے کافر ہی رہیں گے کبھی ایمان نہیں لائیں گے بعضے مفسروں نے اس آیت اور اس سے پہلے کی آیت میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ دونوں آیتیں دو قوم کے حق میں نازل ہوئیں بال کی زیادتی نے ثعلبہ بن حاطب کی دینداری میں جو کچھ فتور ڈالا اس کا ذکر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت سے اوپر گزر چکا ہے۔ اسی طرح ترمذی اور…
Read the full tafseer →آیت 85
اللہ تعالیٰ نے ان کو جو مال اور اولاد سے نواز رکھا ہے اس سے دھوکہ نہ کھایئے، کیونکہ یہ مال اور اولاد ان کی تکریم کے لئے نہیں، یہ ان کی تحقیر اور اہانت کے لئے ہے۔ فرمایا : (آیت) ” اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ ان کو ان چیزوں کی وجہ سے دنیا میں عذاب میں رکھے “ پس وہ اس کے حصول کے پیچھے لگے رہتے ہیں اس کے زوال سے خائف رہتے ہیں اور وہ اس مال سے لطف نہیں اٹھا سکتے، بلکہ وہ مال کے حصول میں تکالیف اور مشقتیں برداشت کرتے رہتے ہیں، مال اور اولاد ان کو اللہ تعالیٰ اور آخرت سے غافل کردیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ کر چل دیتے ہیں۔ (وتزھق انفسھم وھم کفرون) ” اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
قول باری ہے ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ً ولا تقم علی قبرہ اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا آیت میں کئی احکام پر دلالت ہو رہی ہے ۔ مسلمانوں کے مردوں کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی کافروں کے مردوں کی نماز جنازہ کی ممانعت ہے، اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ تدفین کا کام مکمل ہوجانے تک قبر کے پاس کھڑے رہنا چاہیے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ تدفین کے وقت قبر کے پاس کھڑے رہتے تھے۔ وکیع نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے عمیر بن سعد سے روایت کی ہے کہ حضر ت علی ؓ تدفین کا کام مکمل ہونے تک ایک قبر کے پاسکھڑے رہتے۔ سفیان ثوری نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
170 کافروں اور منکروں کا مال و متاع انکے لیے باعث عذاب و وبال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم منکرین کے اموال و اولاد سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا کہ اللہ چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو انہی چیزوں کے ذریعے عذاب میں ڈالے۔ دنیا میں اور اس کے نتیجے میں ان کی جانیں بھی نکلیں تو کفر ہی کی حالت میں۔ یہ دراصل بیان ہے اللہ پاک کی ان سنن کونیہ میں سے ایک سنت عظیم کا جو کہ اس کارخانہ ہست و بود میں کارفرما ہیں کہ جب انسان اس وحدہ لا شریک کی طرف سے منہ موڑ کر اسی دنیائے دوں کے متاع فانی اور حطام زائل کے جوڑنے اور جمع کرنے میں لگ جاتا ہے اور اپنے خالق ومالک کو بھول جاتا ہے تو اس کا انجام یہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
بہانے تراشنے والے منافق
تشریح : اللہ کے حضور میں منافق و فاسق انتہائی ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اللہ کی راہ کو چھوڑ کر شیطان کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ کفر و شرک اور منافقت کی اتنی گہری تہہ انکے دلوں پر جم گئی ہے کہ اب وہ گہری ہی ہوتی چلی جائے گی کم نہ ہوگی۔ اسی لیے اللہ نے کہا ہے کہ انکے دلوں پر مہر لگ گئی ہے اب وہ نیکی اور ایمان قبول ہی نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
آیات 81 تا 89
اسرار و معارف
نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے محرومی بہت بڑی بدنصیبی ہے خواہ نہ کرنے والا یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ آرام سے ہے اور خواہ مخواہ کی مصیبت نماز روزہ جہاد سے بچا ہوا ہے اپنے گھر میں اپنی پسند سے وقت بسر کررہا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک بہت بڑی مصیبت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جیسے تبوک پہ حاضرنہ ہونے والے آپ ﷺ کی اطاعت سے جی چراکر خوش بیٹھے تھے کہ ہم مزے میں ہیں مال بھی بچا جان کو بھی تکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ انھیں جان ومال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گواراہی نہیں اور گناہ کا اثرہی یہ ہوتا ہے کہ نیکی کے لئے دل میں جگہ نہیں رہتی بلکہ دوسروں سے بھی کہتے ہیں کیوں گرمی میں ہلاک ہوتے ہو مت جاؤ یہ…
Read the full tafseer →ف 4 کہ اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نگا ہوں میں ناپسند یدہ ہوتے تو وہ انہیں اتنا خوش حال کیوں بناتا۔5 یعنی دن رات مال جمع کرنے اور اولاد کی فکر میں لگے رہیں اور آخری دم تک انہیں توبہ کرنے اور سچے دل سے ایمان لانے کی توفیق نصیب نہ ہو۔ بلکہ یہ مریں تو اپنے مال اور اپنی اولاد ہی کی طرف ان کا دھیان ہو نہ آخرت کی فکر اور نہ خدا سے کوئی غرض اگرچہ ایک مومن کو بھی اپنے مال اور اولاد کی فکر ہوتی ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی اس کے نزدیک ہر چیز پر مقدم ہوتی ہے اس لیے یہ چیزیں اس کے لیے نعمت ہی ہوتی ہیں جان کا وبال نہیں ہوتیں۔
Read the full tafseer →(9:85) یعذبھم بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اموال واولاد کے لئے ہے۔ تزھق وہ نکلے یا نکالے گئے۔ (باب فتح) زھوق سے جس کے معنی غم سے جان نکلنے اور کسی شے کے مٹ جانے کے ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 9:55 ۔
تذھق انفسہم۔ ان کے دم نکلیں۔ ان کی جانیں نکلیں۔ وہم کفرون۔ میں واؤ حالیہ ہے درآنحالیکہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
لغات القرآن آیت نمبر 85 تا 89
تزھق (نکلے، نکالے) اولو الطول (طاقت والے) ذرنا (ہمیں چھوڑ دے) طبع (مہر لگا دی گئی) لایفقھون (وہ نہیں سمجھتے ہیں) المفلحون (کامیابی حاصل کرنے والے) اعد ت (تیار کر رکھا ہے)
تشریح : آیت نمبر 85 تا 89
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں ہی فرما دیا تھا کہ ان کے اموال اور اولادیں مومنوں کے لئے تو رحمت ہی رحمت ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی لیکن کفار اور منافقین کے لئے بڑی آفت ہیں چونکہ وہ ساری زندگی اسی میں پھنسے رہتے ہیں۔ جہاد تو بڑی بات ہے انہیں اسلام کی معمولی عملی خدمت کی توفیق بھی نہیں ہوتی وہ مرتے دم تک دین اسلام اور اس کے عملی پہلوؤں سے بھاگتے پھرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →کفار کی کثرت مال واولاد کے عذاب کا ذکر
اس آیت میں دوبارہ تاکید کے ساتھ اللہ نے حکم دیا کہ کفار کے مال و اولاد دیکھ کر تعجب نہ کرو، خدا ان لوگوں کو انہیں چیزوں کے ساتھ عذاب کرے گا۔ ان کے مال انہیں کے واسطے وبال جان ہوجائیں گے۔ ان کی اولاد انہیں کے لئے موجب ہلاکت ہوگی اور یہ مرتے دم تک کافر کے کافر رہیں گے، کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–94
[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
دریائے رحمت کی طغیانی :
(ف 1) عبداللہ بن ابی ابن سلول جو راس المنافقین تھا ، جب مرا ہے تو اس کا لڑکا حضور ﷺ کے پاس آیا ، اور تبرکا آپ سے کرتہ مانگا ، یہ بھی درخواست کی کہ آپ نماز جنازہ پڑھائیں ، آپ تیار ہوگئے ، حضرت عمر ؓ نے روکا ، اور کہا اللہ نے تو استغفار سے روکا ہے منافق کا جنازہ نہ پڑھنا چاہئے ، مگر رحمت جوش پر آئی ہوئی کب رکتی ہے حضور ﷺ نے فرمایا مجھے اختیار دیا گیا ہے ، روکا نہیں گیا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضور ﷺ کی رحمت کی اس فراوانی کو طغیانی سے تعبیر کیا گیا ، اور عمر ؓ کی فراست دینی کی داد میں ۔
حل لغات :
القعود : تخلف ہے گناہ ہے ۔
Read the full tafseer →85 اور ان کے اموال اور اولاد آپ کے لئے موجبِ تعجب نہ ہوں اور یہ چیزیں آپ کو تعجب میں ڈالیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد ہی یہ ہے اور اللہ کو یہی منظور ہے کہ وہ ان چیزوں کے ذریعہ ان کافروں کو دنیا میں بھی مبتلائے عذاب رکھے اور ان کی جان کفر ہی کی حالت میں نکلے۔ اس آیت کا مفہوم اوپر گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ اوپر غزوہ تبوک کے متعلق منافقین کے تخلف واستیذان باعذار باطلہ کا بیان تھا آگے ان کی اس عادت کا مستمر ہونا کہ ہر غزوہ میں ان کی یہی حالت ہے اور ان کے مقابلہ میں اہل ایمان کی جانبازی اور اس کی فضیلت بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام یا اے مخاطب ! ان کے مال و اولاد پر تم کو تعجب نہ ہو :
114: اس میں تعجب کی بات کیا ہے ؟ تعجب کی بات یہ کہ جب یہ لوگ مبغوض و مردود ہیں تو ان پر یہ نعمتیں کیوں ؟ فرمایا ان کی آزمائش کے لئے یہ مال ، اولاد ان کو مزید بےراہ کرتی ہے یا سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے لیکن اکثر ہوتا ایسا ہی ہے کہ اللہ کے انعامات ان کے لئے ترقی و عروج کی کمندیں نہیں بلکہ غلامی ان کے پھندے ثابت ہوتے ہیں اور یہ لوگ اللہ کے انہی انعامات کے باعث دنیا میں بھی اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی موت بھی کفر و نفاق ہی پر ہوتی ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ مال و اولاد کی قدر و قیمت بھی ایمان ہی کے ساتھ ہے۔ جن…
Read the full tafseer →Commentary
Once again, the present verses carry the description of hypocrites who had avoided participating in the battle of Tabuk under one or the other pretext. Among such hypocrites, there were some rich people as well. Their affluent life could have made Muslims ask, ` when these people are so unacceptable with Allah, why did they have to get all those blessings in this world?'
In response, it was said that a little thinking would unfold the reality behind what they possess in the form of wealth and children. These are no mercy and blessing for them. Instead, these are their trial and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
88. This verse was sent down to prevent the Prophet (peace be upon him) from saying funeral prayers for Abdullah bin Ubayy, the ringleader of the hypocrites, who died a short while after the Tabuk expedition. His son Abdullah who was a sincere Muslim called on the Prophet (peace be upon him) and requested him to give his shirt for his father’s shroud. The Prophet (peace be upon him) very generously granted his request. Then he begged the Prophet (peace be upon him) to lead his father’s funeral prayer. The Prophet (peace be upon him) agreed to this also but Umar (may Allah be pleased with him)…
Read the full tafseer →