Explained with ayahs 46–47
غلط گو غلط کار کفار و منافق
عذر کرنے والوں کے غلط ہونے کی ایک ظاہری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو کم از کم سامان سفر تو تیار کرلیتے لیکن یہ تو اعلان اور حکم کے بعد بھی کئی دن گذرنے کے باوجود ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ایک تنکا بھی ادھر سے ادھر نہ کیا دراصل اللہ کو ان کا تمہارے ساتھ نکلنا پسند ہی نہ تھا اس لئے انہیں پیچھے ہٹا دیا اور قدرتی طور پر ان سے کہہ دیا گیا کہ تم تو بیٹھنے والوں کا ہی ساتھ دو۔ ان کے ساتھ کو ناپسند رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ پورے نامراد اعلیٰ درجے کے بزدل بڑے ہی ڈرپوک ہیں اگر یہ تمہارے ساتھ ہوتے تو پتہ کھڑکا اور بندہ سرکا کی مثل کو اصل کردکھاتے اور ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
سورة التَّوْبَة 47
یعنی بادل ناخواستہ اٹھنا اللہ کو پسند نہیں تھا۔ کیونکہ جب وہ شرکت جہاد کے جذبے اور نیت سے خالی تھے اور ان کے اندر دین کی سربلندی کے لیے جاں فشانی کرنے کی کوئی خواہش نہ تھی، تو وہ صرف مسلمانوں کی شرما شرمی سے بددلی کے ساتھ یا کسی شرارت کی نیت سے مستعدی کے ساتھ اٹھتے اور یہ چیز ہزار خرابیوں کی موجب ہوتی جیسا کہ بعد والی آیت میں بتصریح فرما دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں ان کا عذر غلط ہونے کا ایک قرینہ یہ بتلایا گیا ہے کہ (آیت) وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً یعنی اگر واقعی یہ لوگ جہاد کے لئے نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لئے ضروری تھا کہ کچھ تیاری بھی تو کرتے، لیکن انہوں نے کوئی تیاری نہیں کی، جس سے معلوم ہوا کہ عذر کا بہانہ غلط تھا، درحقیقت ان کا ارادہ ہی جہاد کے لئے نکلنے کا نہیں تھا۔
عذر معقول اور نامعقول میں امتیاز
اس آیت سے ایک اہم اصول مستفاد ہوا، جس سے معقول اور نامعقول عذر میں امتیاز کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ عذر انہی لوگوں کا قابل قبول ہوسکتا ہے جو تعمیل حکم کے لئے تیار ہوں، پھر کسی اتفاقی حادثہ کے سبب معذور ہوگئے،…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّلٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ۔
توفیق باندازہ ہمت : یعنی ان کے سارے عذرات محض بناوتی ہیں۔ اگر ان کے اندر جہاد کے لیے اٹھنے کا ارادہ موجود ہوتا تو کچھ نہ کچھ سامان تو یہ کر ہی لیتے۔ اگر بھرپور نہیں تو معمولی سامان، بقدر ضرورت مہای کرلینا تو ان کے لیے کچھ دشوار نہ ہوتا لیکن ان کے اندر ارادہ ہی موجود نہیں تھا اور سنت الٰہی ازل سے یہ مقرر ہے کہ جو لوگ نیکی کمانے کے لیے خود اپنے ارادے کو حرکت میں نہیں لائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو توفیق بھی ارزانی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اپنے…
Read the full tafseer →46۔ 1 یہ انہیں منافقوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے جنہوں نے جھوٹ بول کر اجازت حاصل کی تھی کہ اگر وہ جہاد میں جانے کا ارادہ رکھتے تو یقینا اس کے لئے تیاری کرتے۔
46۔ 2 فثبطھم کے معنی ہیں انکو روک دیا، پیچھے رہنا ان کے لئے پسندیدہ بنادیا گیا، پس وہ سست ہوگئے اور مسلمانوں کے ساتھ نہیں نکلے مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علم میں ان کی شرارتیں اور سازشیں تھیں، اس لئے اللہ کی تقدیری مشیت یہی تھی کہ وہ نہ جائیں۔ (2) یہ یا تو اسی مشیت الٰہی کی تعبیر ہے جو تقدیرا لکھی ہوئی تھی یا بطور ناراضگی اور غضب کے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اچھا ٹھیک ہے تم عورتوں، بچوں، بیماروں اور بوڑھوں کی صف میں شامل ہو کر ان کی…
Read the full tafseer →39: یہ آیت بتارہی ہے کہ انسان کا کوئی عذر اس وقت مانا جاسکتا ہے جب اس نے اپنی طرف سے اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش اور تیاری پوری کی ہو، پھر کوئی غیر اختیاری وجہ ایسی پیش آگئی ہو جس کی بنا پر وہ اپنا فریضہ ادا نہیں کرسکا۔ لیکن کسی قسم کی کوشش اور تیاری کے بغیر یہ کہہ دینا کہ ہم معذور ہیں، قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ مثلاً کوئی شخص فجر کے وقت بیدار ہونے کی تیاری پوری کرے، الارم لگائے، یا کسی کو بیدار کرنے پر مقرر کرے، پھر آنکھ نہ کھلے تو بیشک معزور ہے، لیکن تیاری کچھ نہ کی ہو، اور پھر آنکھ نہ کھلنے کا عذر پیش کرے تو یہ عذر معتبر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →اس موقعہ پر جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ لشکر کشی کی قدرت رکھتے تھے۔ ان کے پاس وسائل سفر موجود تھے ، سازوسامان بھی موجود تھا۔
وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا : " اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے " ایسے لوگوں کے سرخیل عبداللہ ابن ابی ابن سلول تھے ، جد ابن قیس بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ یہ اپنے قبائل کے معتبرین میں سے تھے اور با اثر اور مالدار تھے۔
وَّلٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ : " لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا۔ اس لیے اس نے انہیں سست کردیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے…
Read the full tafseer →2 ان کا ارادہ ہی گھر سے نکلنے کا نہیں۔ ورنہ اس کا کچھ تو سامان کرتے حکم جہاد سنتے ہی جھوٹے عذر نہ لے دوڑتے۔ واقعہ یہ ہے کہ خدا نے ان کی شرکت کو پسند ہی نہیں کیا۔ یہ جاتے تو وہاں فتنے اٹھاتے۔ نہ جانے کی صورت میں انہیں پتہ لگ جائے گا کہ مومنین کو خدا کے فضل سے ایک تنکے کے برابر ان کی پروا نہیں۔ اسی لیے خدا نے صفوف مجاہدین میں شامل ہونے سے روک دیا اس طرح کہ رکنے کا وبال انہی کے سر پر رہے۔ گویا ان کو تکویناً کہہ دیا گیا کہ جاؤ، عورتوں بچوں اور اپاہج آدمیوں کے ساتھ گھر میں گھس کر بیٹھ رہو۔ اور پیغمبر ﷺ نے ان کے اعذارِ کا ذبہ کے جواب میں جو گھر بیٹھ رہنے کی اجازت دے دی، یہ بھی ایک طرح خدا ہی کا…
Read the full tafseer →آیت 46 وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃً
ایسے طویل اور کٹھن سفر کے لیے بھر پور تیاری کی ضرورت تھی ‘ بہت سا سازوسامان درکار تھا ‘ مگر اس کے لیے ان کا کچھ بھی تیاری نہ کرنا اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا خود ہی ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے جانے کا ارادہ تک نہیں کیا۔
وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَہُمْ فَثَبَّطَہُمْ وَقِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ
اس فرمان میں جو حکمت تھی اس کی تفصیل اس طرح بیان فرمائی گئی :
Read the full tafseer →49 منافقوں کی سچائی کا معیار :۔ اگر انہوں نے جہاد کی تیاری مکمل طور پر کرلی ہوتی تو پھر کوئی ایسا حادثہ پیش آجاتا جس کی وجہ سے وہ فی الواقع جہاد پر جانے سے معذور ہوتے تو اس صورت میں تو ان کی سچائی پر اعتماد کیا جاسکتا تھا۔ لیکن جس صورت میں انہیں کوئی ایسی فکر لاحق ہی نہ ہوتی ہو اور ان کا سارا دار و مدار صرف حیلوں بہانوں پر ہی موقوف ہو تو اس صورت میں انہیں سچا کیسے سمجھا جاسکتا ہے ؟ اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی جہاد میں شمولیت اللہ کو پسند بھی نہیں جس سے اسلامی فوج کو ان سے کسی فائدہ کے بجائے نقصان کا خطرہ زیادہ ہو۔ چناچہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھروں میں ہی بیٹھ رہنا ان کے نصیب ہوا۔
Read the full tafseer →87 ۔ یہ منافقین اب بعد کو عذر یہ کرنے لگے کہ چلنے کا ارادہ تو ہمارا پختہ تھا لیکن عین وقت پر فلاں فلاں ضرورتیں اور مجبوریاں پیش آگئیں۔ جرح ان کے اس بیان پر ہورہی ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ انہوں نے سفر کی تیاریاں بھی کچھ کی تھیں ؟ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تعطل علامت ہے عدم ارادہ کی چناچہ بہت سے لوگ اپنے نفس کے دھوکے میں پڑے ہوئے طاعات کی رغبت کا دعوی کرتے ہیں۔ حالانکہ جھوٹے ہوتے ہیں۔
88 ۔ سارے افعال کا حق تعالیٰ کا اپنی جانب منسوب کرنا اسی معلوم ومعروف قرآنی محاورہ واسلوب بیان کے مطابق ہے کہ بندہ کے ہر فعل تکوینی کی نسبت مسبب الاسباب کی جانب کردینی درست ہے۔ (آیت) ” لکن کرہ اللہ انبعاثھم “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
لا یَسْتَاذِنُکَ الَّذِیْنَ یؤمنون باللہ الخ جب منافقوں نے جہاد میں عدم شرکت کی اجازت چاہی اور آپ نے اجازت دے دی جیسا کہ اوپر مذکور ہے، اب اس کے بعد مومنین مخلصین کا ذکر فرمایا، کہ جو مومنین مخلصین ہیں آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی گھر میں بیٹھے رہنے کی اجازت نہیں چاہتے۔ انہیں تو یہی پسند ہے کہ جس طرح ممکن ہو جان سے مال سے جہاد میں شریک ہوں بلکہ اگر ان کو رخصت دے دی جائے تو ان پر شاق گذرتی ہے، چناچہ صحیح بخاری کے حوالہ سے سعد بن عبادہ کی حدیث گذر چکی ہے کہ حضرت علی ؓ کو آنحضرت نے غزوہ تبوک ہی میں حکم دیا کہ تم مدینہ ہی رہ کر اہل و عیال کی نگرانی کرو حضرت علی پر یہ حکم نہایت گراں گذرا، جب…
Read the full tafseer →ولو ارادوا الخروج لا عدوا لہ عدۃ اور اگر وہ (جہاد کو) چلنے کا ارادہ کرتے تو اس کیلئے کچھ سامان تو تیار کرتے۔ عُدَّۃً سے مراد ہے : سفر اور جہاد کا سامان ‘ ہتھیار ‘ گھوڑے ‘ اونٹ (وغیرہ) ۔
ولکن کرہ اللہ انبعاثھم فثبطھم وقیل اقعدوا مع القعدین۔ لیکن (خیر ہوئی) اللہ تعالیٰ نے ان کے اٹھنے (یعنی جہاد کیلئے جانے) کو پسند نہیں کیا ‘ اسی لئے ان کو توفیق نہ دی اور (بحکم تکوینی) کہہ دیا گیا کہ اپاہج لوگوں کے ساتھ تم بھی یہاں بیٹھے رہو۔ وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ الخ سے یہ استدراک ہے ‘ گویا کلام یوں ہوا کہ انہوں نے جہاد کو نکلنے کا ارادہ نہیں کیا اور رکے رہے کیونکہ اللہ کو ان کا نکلنا پسند نہ تھا ‘ اللہ…
Read the full tafseer →(46) اور اگر یہ منافق غزوہ تبوک میں آپ کے ساتھ چلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے سازو سامان اور کچھ ہتھیار تو تیار کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے مفسدوں کا غزوہ تبوک میں آپ کے ساتھ جانا پسند ہی نہیں کیا، لہٰذا ان کو جانے کی توفیق ہی نہیں بخشی اور بحکم تکوینی یوں کہہ دیا کہ جو بغیر عذر کے شرکت نہیں کرتے تم بھی ان ہی کے ساتھ دھرے رہو۔ یہ چیز ان کے دلوں میں خود تھی،
Read the full tafseer →وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنگ تبوک کے موقع پر منافقین اور ان تمام جھوٹے دعوے داروں کی حقیقت کھول دی جو کہتے ہیں کہ ہم بھی مجاہد ہیں اور ہر وقت جہاد کے لیے نکلنے کو تیار ہیں، مگر ساٹھ ستر برس کی عمر تک پہنچ جانے کے باوجود کبھی نہ مجاہدین کے ساتھ نکلے، نہ نشانہ بازی سیکھی، نہ تیراکی، نہ فنون حرب میں سے کوئی فن سیکھا، نہ کسی معرکے میں شریک ہوئے، نہ جہاد کے لیے جسم تیار کیا، نہ جہاد کے لیے درکار سامان جمع کیا۔ بس ڈگریوں کے حصول، ملازمت، کفار کی غلامی، کاروبار اور حلال و حرام ہر طرح دنیا کمانے میں لگے رہے، یا پیری فقیری اور ھُو حق میں لگے…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : ولو ارادوا الخروج لاعدوا لہ عدۃ یعنی اگر انہوں نے جہاد کا ارادہ کیا ہوتا تو وہ سامان سفر ضرور تیار کرتے۔ پس ان کا تیاری کو ترک کرنا ہی ان کے پیچھے رہنے کے ارادہ پر دلیل ہے۔
ولکن کرہ اللہ انبعا ثھم لیکن ان کے آپ کے ساتھ نکلنے کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند کیا۔ فثبطھم اس لیے اس نے انہیں آپ سے روک دیا اور انہیں رسوا کردیا ‘ کیونکہ انہوں نے یہ کہا تھا : اگر آپ نے ہمیں بیٹھے رہنے کی اجازت نہ دی تو ہم فساد برپا کریں گے اور ہم مومنین کے خلاف (لوگوں کو) اکسائیں گے ‘ برانگیخۃ کریں گے۔ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ اس کے بعد اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو بجز فساد کے تم میں کچھ اضافہ نہ کرتے۔ وقیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولکن کرہ اللہ انبعاثہم “ یعنی ان کے نکلنے کو (اللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایا)
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انبعاثہم “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو روک لیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لوخرجوا فیکم ما زادوکم الا خبالا “ یعنی غزوہ تبوک میں جو منافق تھے ان کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنے نبی کریم ﷺ اور ایمان والوں سے سوال فرمایا اور فرمایا کون سی چیز تم کو غمگین کررہی ہے۔ (آیت) ” لوخرجوا فیکم ما زادوکم الاخبالا “ یعنی تمہارے لئے وہ لوگ (اگر) جمع ہونے اور عملاشریک…
Read the full tafseer →وَلَوْ [ اور اگر ] اَرَادُوا [ وہ ارادہ رکھتے ] الْخُرُوْجَ [ نکلنے کا ] لَاَعَدُّوْا [ تو ضرور تیار کرتے ] لَهٗ [ اس کے لیے ] عُدَّةً [ کچھ سامان ] وَّلٰكِنْ [ اور لیکن ] كَرِهَ [ ناپسند کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] انْۢبِعَاثَهُمْ [ ان کے اٹھنے کو ] فَثَبَّطَهُمْ [ تو اس نے چپکا کے رکھ دیا ان کو ] وَقِيْلَ [ اور ان سے کہا گیا ] اقْعُدُوْا [ کہ تم لوگ بیٹھو ] مَعَ الْقٰعِدِيْنَ [ بیٹھنے والوں کے ساتھ ]
ث ب ط : (ن) ثبطا ۔ کسی کو کسی کام سے باز رکھنا ۔ روک دینا ۔ (تفعیل ) تشبیطا ۔ بالکل یا قطعی طور پر روک دینا ۔ ہلنے نہ دینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 46 ۔
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 46 میں ہے کہ غزوہ تبوک میں شرکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُھُمْ ) (جہاد میں نہ جانے کی وہی لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دلوں میں شک ہے) (فَھُمْ فِیْ رَیْبِھِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ ) (سو وہ اپنے شک میں حیران ہو رہے ہیں) کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ساتھ چلے جائیں تو اچھا ہے تاکہ منافقت کا بھرم نہ کھلے اور کبھی سوچتے ہیں کہ سفر میں اور دھوپ کی مصیبت بہت بڑی ہے اس لیے نہ جائیں تو اچھا رہے گا۔
صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
بیان احوال واقوال منافقین متخلفین
قال اللہ تعالیٰ ۔ لو کان عرضا قریبا۔۔۔ الی۔۔۔ وظہر امر اللہ وھم کرھون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اس غزوہ کے متعلق مومنین کو خطاب تھا اب آگے منافقین کے احوال واقوال کا بیان ہے کہ وہ آں حضرت ﷺ کے ہمراہ جانے سے حیلے اور بہانے ڈھونڈتے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح جہاد میں جانا نہ پڑے اخیر سورت تک زیادہ تر منافقین ہی کے اقوال کا ذکر ہے کہ باوجود عذر نہ ہونے کے نفاق کے سبب غزوہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے اور اس درمیاں میں کسی مناسبت کی بنا پر دوسرے مضامین کا بھی ذکر آگیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اگر ہوتی وہ چیز جس کی طرف آپ نے ان کو بلایا نفع قریب الحصول یعنی سہل الحصول…
Read the full tafseer →45: ی بھی ان کی منافقت کی دلیل ہے کہ انہوں نے وسعت کے باوجود جہاد کے لیے کوئی سامان تیار نہیں کیا تھا۔ اگر نیک نیتی سے ان کا ارادہ جہاد میں شریک ہونیکا ہوتا تو وہ جہاد کے لیے کچھ سامان تو تیار کرتے لیکن اللہ تعالیٰ کو پسند اور منظور ہی نہ تھا کہ وہ جہاد میں شریک ہوں اس لیے اس نے ان کے دلوں سستی، ضعف اور بزدلی ڈال دی تاکہ وہ جہاد میں شریک ہی نہ ہوں۔ “ انبعاث ” جہاد کے لیے اٹھنا۔ “ فثبط ” ان کو بٹھا دیا اور بوجہ مہر جباریت ان کے دلوں سے جہاد کا شوق چھین لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
ربط آیات :
یہ غزوہ تبوک ہی کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے جہاد کی ترغیب دی اور پھر اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ اس معامالہ میں سستی نہ دکھائیں بلکہ ہر حالت میں جہاد میں شریک ہوں۔ پھر جہاد کی حکمت بھی بیان فرمائی کہ اس سے مقصود اللہ کے کلمے کی بلندی ہے ایمان والوں کو اسی وجہ سے عزت نصیب ہوتی ہے۔ اگر ایمان والے آگے نہیں بڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ دین کا کام کسی اور جماعت سے لے لیگا اور یہ چیز پیچھے رہ جانے والوں کے لیے تذلیل کا باعث ہوگی۔ پھر اللہ نے منافقین کا حال بیان کیا کہ جہاں انہیں کوئی مفاد نظر آتا ہے وہاں حضور ﷺ کے ساتھ چل نکلتے ہیں اور جہاں کوئی مشقت طلب کام ہوتا ہے وہاں جانے سے…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃً وَّلٰكِنْ كَرِہَ اللہُ انْۢبِعَاثَہُمْ فَثَبَّطَہُمْ وَقِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ 46
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–48
1 ؎ کہ اجازت مانگ کر بہانہ بنا کر جہاد سے بیٹھ رہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَلَوْاَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃً وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَھُمْ فَثَبَّطَھُمْ وَقِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ (التوبۃ : 46 )
(اگر انھوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو انھوں نے تیار کیا ہوتا کچھ سامان لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اٹھنے کو پسند نہ کیا پس انھیں پست ہمت کردیا اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھے رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔ )
منافقین کے جھوٹ پر دلیل
بعض منافقین ایسے بھی تھے جو آنحضرت ﷺ کے سامنے جنگ میں ساتھ نہ چلنے کا یہ عذر پیش کرتے کہ ہم تو ہمیشہ آپ کی ہم رکابی کو اپنے لیے نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہیں اور جہاد میں شرکت تو ایک مومن کے لیے بہت بڑی سعادت ہے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کی مزید عادات۔
منافق نقصان کے خوف یا کسی مفاد کے حصول کے لیے ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھتا ہے اس کے دینی کاموں میں اخلاص نہیں پایا جاتا وہ مفاد کا بندہ اور ابن الوقت ہونے کی وجہ سے موقعہ کی تلاش میں رہتا ہے۔ جونہی اسے موقعہ ملتا ہے تو وہ معمولی مفاد کی خاطر ملت کو نقصان پہنچانے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ یہی حال رسول کریم ﷺ کے دور میں منافقین کا تھا۔ غزوۂ احد کے موقعہ پر جب کفار کا لشکر مسلمانوں کے خلاف مورچہ زن ہوچکا تھا تو مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے تین سو منافق ٹولیوں کی شکل میں مدینہ کی طرف بھاگ نکلے۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر بھی منافقین کی ہمدردیاں…
Read the full tafseer →اگر بول سچے ہیں تو کچھ تیاری کرتے :
آیت 46: وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَ عَدُّوْا لَہٗ (اگر وہ چلنے کا ارادہ کرتے تو اس کا سامان درست کرتے) خروج یا جہاد کیلئے
عُدَّۃً (کسی قدر) تیاری، کیونکہ وہ خوشحال تھے۔ لوارادوا الخروج کیونکہ خروج اور غزوہ کیلئے تیاری کرنے کی نفی کا معنی دے رہا تھا۔ تو فرمایا : وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْچبِعَاثَھُمْ (لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے جانے کو پسند نہیں کیا) انکا خروج کیلئے اٹھنا اللہ تعالیٰ نے ناپسند کیا۔ گویا اس طرح فرمایا ماخرجوا ولکن تثبطوا عن الخروج لکراہۃ انبعاثہم۔ وہ نہیں نکلے لیکن خروج سے باز رہے۔ کیونکہ وہ اٹھنا پسند نہیں کرتے۔ فَثَبَّطَھُمْ (اس لئے…
Read the full tafseer →تفسیر 46۔” ولو ار ا دو الخروج جنگ کی طرف ” لا عدوا لہ “ یعنی اس کیلئے تیاری کریں ” عدۃ “ تیاری اور قوت ہتھیاروں اور گھوڑوں وغیرہ کے ذریعے ” ولکن کرہ اللہ انبعاثھم “ ان کا نکلنا ” فثبطھم “ ان کو نکلنے سے روک دیا ” وقیل اقعدوا “ اپنے گھروں میں ” مع القعدین “ مریضوں اور اپاہجوں کے ساتھ اور بعض نے کہا عورتوں اور بچوں کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ کا قول ( وقیل) یعنی ان میں سے بعض نے بعض کو کہا تم بیٹھ جائو اور کہا گیا ہے کہ ان کے دلوں میں وحی کی اور رسوائی کے اسباب کا ان کو ابہام کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
46۔ 47۔ اس آیت میں بھی اللہ پاک نے منافقوں کا حال بیان فرمایا کہ ان لوگوں کا ارادہ پہلے ہی سے اس لڑائی میں شریک ہونے کا بالکل نہ تھا اگر یہ لوگ لڑائی میں شریک ہونا چاہتے تو ضرور سامان جنگ کرتے جس طرح اور لوگوں نے اس کی تیاری کی تھی پھر یہ فرمایا کہ اللہ کو بھی انکا شریک ہونا پسند نہیں تھا اسی واسطے اس نے ان کے دلوں میں نامردی پیدا کردی اور یہ عذر و حیلہ کر کے رہ گئے اور جس طرح عورتیں بچے بیمار اور معذور گھروں میں رہ جاتے ہیں انہیں بھی رہ جانا پڑا یہ خدا کی بہت بڑی مصلحت تھی کیونکہ اگر یہ لوگ بھی لڑائی میں جاتے تو بجائے مدد کے فتنہ و فساد بر پا کرتے مسلمانوں کو خوف دلاتے اور ایسی ایسی باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
آیت 46
اللہ تبارک و تعالیٰ بیان فرماتا ہے، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہ جانے والے منافقین کی علامات اور قرآئن سے ظاہر ہوگیا ہے کہ جہاد کے لئے نکلنے کا ان کا ارادہ ہی نہ تھا اور ان کی وہ معذرتیں جو وہ پیش کر رہے ہیں سب باطل ہیں، کیونکہ عذر جہاد کے لئے نکلنے سے تب مانع ہوتا ہے جب بندہ مومن پوری کوشش کر کے جہاد کے لئے نکلنے کے تمام اسباب استعمال کرنے کی سعی کرتا ہے، پھر کسی شرعی مانع کی وجہ سے جاد کے لئے نکل نہیں سکتا تو یہی وہ شخص ہے جس کا عذر قبول ہے۔ (3) ” اور “ یہ منافقین (لو ارادوا الخروج لا عدوا لہ عدۃ) ” اگر نکلنے کا ارادہ کرتے، تو اس کے لئے ضرور کچھ سامان تیار کرتے “ یعنی وہ تیاری کرتے اور…
Read the full tafseer →قول باری ہے (ولو ارادوا الخروج لاعدوا لہ عدۃ۔ اگر ان کا جہاد پر نکلنے کا ارادہ ہوتا تو وہ اس کے لئے تیاری کرلیتے) عدۃ اس سامان اور اسباب کا نام ہے جو انسان اپنے لئے مستقبل میں سرانجام پانے والے کاموں کی خاطر تیار کرتا ہے۔ لفظ ’ اھبہ ‘ کے بھی یہی معنی ہیں۔ یہ قول باری دشمن کے ساتھ جنگ چھڑنے سے قبل ہی جنگ کی تیاریوں کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (واعدوا لھم مااستطعتم من قوۃ ومن رباطا الخیل اور تم سے جہاں تک ہوسکے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ کے لئے مہیا رکھو)
قول باری ہے (ولکن کرہ اللہ انبعاثم فثبتھم۔ لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ…
Read the full tafseer →102 فساد نیت محرومی کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ان کو بٹھا دیا ان کی اس بدنیتی اور خبث باطن کی بناء پر، جس کے نتیجے میں یہ لوگ اس کار خیر میں حصہ لینے کے قابل ہی نہ رہے۔ ان کے دل بیٹھ گئے۔ اور یہ ایسے عظیم الشان اجرو ثواب سے محروم ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نیت کا فساد محرومی کی جڑ بنیاد ہے اور حسن نیت توفیق کی اصل و اساس۔ جیسا کہ فرمایا گیا " نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ " ۔ فَوَفِّقْنَا یَا رَبَّنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی یَا مَنْ لَّاحَدَّ لِجُوْدِہٖ وَلا نِہَایَۃَ لِکَرَمِہٖ واِحْسَانِہٖ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
منافقوں کی پہچان اور بہانے
تشریح : ان آیات میں منافقین کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر سفر تھوڑا اور مال غنیمت کی امید ہوتی تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ چل پڑتے۔ مگر غزوئہ تبوک مسافت، موسم کی گرمی اور ہرقل جیسی بڑی طاقت کا مقابلہ تھا جو کہ مسلمانوں کے لیے بڑی آزمائش کا وقت تھا۔ ویسے بھی جہاد منافقین کی پہچان کا بہت بڑا ذریعہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ یہاں یہ لوگ آپ سے اجازت لینے کے لیے بڑے بہانے کریں گے اور اس طرح یہ صرف اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ پھر اللہ فرماتا ہے کہ آپ نے ان کو ابھی رخصت کی اجازت نہیں دینی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59
اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔
رشتہ قلبی کے انداز
یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…
Read the full tafseer →ف 1 اس سے مقصود زجر وتو بیخ اور مذمت ہے۔ ( کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(9:45) ارتابت قلوبھم۔ ان کے دل شک میں پڑگئے ۔ ارتابت ماضی واحد مؤنث غائب۔ ارتیاب (افتعال) مصدر۔ ریب مادہ۔ شک۔ یترددون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ترددو (تفعل) مصدر۔ ڈانواں ڈول ہیں۔ تردد میں پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 46
عرض (اسباب، مال غنیمت) سفر قاصد (آرام والا سفر) ، لاتبعوک (البتہ وہ آپ کے پیچھے چل پڑتے) بعدت (دور لگا) الشقۃ (فاصلہ، حصہ) استطعنا (ہماری استطاعت ہوتی) عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا ) لم اذنت (آپ نے کیوں اجازت دی ؟ ) حتی یتبین (جب تک واضح نہ ہوجاتا) صدقوا (جنہوں نے سچ کہا) لا یستاذنو (وہ اجازت نہیں مانگتے ) ارتابت (شک کیا) ریب (شک) یترددون (وہ بھٹک رہے ہیں) لاعدوا (البتہ وہ تیاری کرتے) کرہ اللہ (اللہ نے پسند نہیں کیا) انبعاث (اٹھنا) ثبط (ہم نے جما دیا، روک دیا) افعدوا (بیٹھے رہو)
تشریح آیت نمبر 42 تا 46
تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگیں لڑی جاتی ہیں تو ان میں موسم، وسائل،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
منافقوں کا جاسوسی کرنے کا ذکر
اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا حال بیان فرمایا کہ ان لوگوں کا ارادہ پہلے ہی سے اس لڑائی میں شرک ہونے کا بالکل نہ تھا۔ اگر یہ لوگ لڑائی میں شریک ہونا چاہتے تو ضرور سامان جنگ کرتے۔ جس طرح اور لوگوں نے اس کی تیاری کی تھی۔ پھر یہ فرمایا کہ اللہ کو بھی ان کا شریک ہونا پسند نہیں تھا۔ اسی واسطے اس نے ان کے دلوں میں نامردی پیدا کردی اور یہ عذع وحیلہ کرکے رہ گئے۔ جس طرح عورتیں بچے بیمار اور معذور گھروں میں رہ جاتے ہیں انہیں بھی رہ جانا پڑا۔ یہ خدا کی بہت بڑی مصلحت تھی کیونکہ اگر یہ لوگ بھی لڑائی میں جاتے تو بجائے مدد کے فتنہ و فساد برپا کرتے۔ مسلمانوں کو خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
[26] یعنی خوشی یا گرانی سے، سرو سامان کے ساتھ یا بےسروسامانی سے، حالات خواہ موافق ہوں یا ناموافق، جب نکلنے کا حکم ہوچکا تو جس حال میں ہو نکل کھڑے ہو۔ یہ آیت اس باب میں قطعی ہے کہ دفاع کے لئے جب امام بلائے تو بجزان معذوروں کے جنہیں آگے چل کر آیت 91 میں مستثنیٰ کردیا ہے ہر شخص پر واجب ہوجاتا ہے کہ جان و مال سے شریک جہاد ہو اور اس بارے میں کسی عذر کی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ اذن طلبی میں مخلص نہیں منافق ہیں ، اگر جہاد کے لئے پہلے سے تیار ہوتے اور ان کے دلوں میں ایمان کی حرارت موجود ہوتی ، تو عذر ومعذرت کی قطعی ضرورت نہ تھی ، یہ تردد یہ بےچینی یہ حیص بیص ان میں بالکل نظر نہ آنا ، اور اصل بات یہ ہے کہ اللہ کو یہ منظور ہی نہیں تھا کہ اس قسم کے کمزور لوگ جہاد میں نکلیں ۔
Read the full tafseer →46 اور اگر یہ لوگ غزوئہ تبوک میں جانے کو آمادہ ہوتے تو اس کے لئے کچھ سامان کی تیاری تو کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے جہاد کے لئے ان کے اٹھنے اور نکلنے کو پسند نہیں کیا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کو بوجھل کردیا اور ان کو روک دیا اور ان کو توفیق ہی نہیں دی اور ان کو کہا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ یعنی جب کوئی سفر کا سامان نہیں کیا تو معلوم ہو ان کی نیت ہی کوچ کرنے کی نہ تھی اسی بنا پر ان سے توفیق الٰہی سلب کرلی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ایسے نیک کام میں ان کی شرکت کو پسند نہیں کیا اور تکوینی طور پر کہا گیا کہ جس طرح اپاہج اور معذور لوگ بیٹھتے ہیں تم بھی انہی کی طرح ان کے ساتھ بیٹھے رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
ف 1۔ یہاں سے غزوہ تبوک کا بیان ہے تبوک ایک مقام ہے ملک شام میں رسول اللہ جب فتح مکہ و غزوہ حنین وغیرہما سے فارغ ہوئے تو آپ کو خبر ہوئی کہ روم کا بادشاہ مدینہ پر فوج بھیجنی چاہتا ہے اور وہ فوج تبوک میں جمع کی جائے گی آپ نے خود ہی قصد سفر کا مقابلہ کے لیے فرمایا اور مسلمانوں میں اس کا اعلان عام کردیا چونکہ وہ زمانہ گرمی کی شدت کا تھا اور مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا اور سفر بھی دوردراز کا تھا اس لیے اس غزوہ میں جانا بڑی ہمت کا کام تھا اس لیے ان آیا میں اس کی بہت ترغیب دی گئی اور چونکہ منافقین بوجہ عدم ایمان وعدم اخلاص کے اس میں طرح طرح کے بہانے پیش کرنے لگے اور ان کی طرح طرح کی خباثتیں ظاہر…
Read the full tafseer →گر واقعی یہ لوگ معذور ہوتے تو ان کا عذر روز روشن کی طرح عیاں ہوتا :
67: واقعات و حالات خود بتا دیتے ہیں کہ یہ آدمی اپنی بات میں کس طرح سچا ہے اور کیا بات اس نے جھوٹ گھڑی ہے۔ اگر غور کرو گے تو تم کو خود بخود سمجھ آجائے گا کہ ان کے سارے عذرات محض بناوٹی ہیں اگر ان کے اندر جہاد کے لئے اٹھنے کا ارادہ موجود ہوتا تو کچھ نہ کچھ سامان تو یہ کر ہی لیتے اگر بھرپور تیاری نہیں تو معمولی سامان بقدر ضرورت مہیا کرلینا تو ان کے لئے کچھ دشوار نہ تھا چونکہ ان کے اندر ہی موجود نہ تھا اور سنت الٰہی ازل سے یہ مقرر ہے کہ جو لوگ نیکی کمانے کے لئے خود اپنے ارادے کو حرکت میں نہیں لائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
At least, one aspect of why their excuse was false has been given in the fourth (46) where it has been said: وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً (And had they [ really ] wished to set out [ for Jihad ], they would have [ of necessity ] made [ at least ] some preparation for it [ but they made none ] - 46). This shows that the plea of having an excuse was false. The truth of the matter was that they just did not have any intention to come out for Jihad.
How do we know if an excuse is reasonable or unreasonable?
An important principle comes out from this verse, a principle…
Read the full tafseer →