Abasa 80:32

Abasa · from ayah 32

80:32

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ ۟ؕمَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡؕ‏

(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

[As] enjoyment for you and your grazing livestock.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:32

تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان زیست کے طور پر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمہارے استعمال وفائدے کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

سب کچھ تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کی خاطر۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہارے فائدے کو اور تمہارے چوپایوں کے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

خود تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے لئے متاعِ (زیست)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے زندگی کا سامان۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان حیات ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تمہاری اور تمہارے مویشیوں کی نفع رسائی کے لئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور یہ سب کچھ) فائدہ پہنچانے کے لیے تمہیں اور تمہارے مویشیوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدہ کے لئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ضرورت کا سامان تمہارے لیے بھی اور تمہارے مویشیوں کے لیے بھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا

— محترمہ رفعت اعجاز

all this as a provision for you and your cattle.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

as a benefit for you and your cattle.

— Muhammad Taqi Usmani

as a benefit for you and your cattle.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A provision and benefit for you and your cattle.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

[As] enjoyment for you and your grazing livestock.

— Saheeh International

(These are made so as to be) means of enjoyment for you and your cattle.

— Muhammad Sarwar

A provision for you and for your cattle.

— Muhammad Habib Shakir

A provision for you and for your cattle.

— Abdul Majid Daryabadi

For use and convenience to you and your cattle.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 80:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–32

ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة عَبَس 20 یعنی تمہارے ہی لیے نہیں بلکہ ان جانوروں کے لیے بھی جن سے تم کو گوشت، چربی، دودھ، مکھن وغیرہ سامان خوراک حاصل ہوتا ہے اور جو تمہاری معیشت کے لیے۔ بیشمار دوسری خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اس سروسامان سے متمتع ہو اور جس خدا کے رزق پر پل رہے ہو اسی سے کفر کرو ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–32

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ، اس میں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا اور ان میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور انعامات کا ذکر کرنے کے بعد منکر انسان کو تنبیہ کی گئی کہ ان آیات الیہہ اور انعامات کا تقاضا تھا کہ انسان ان میں غور کرکے اللہ پر ایمان لاتا اور اسکے احکام کی تعمیل کرتا مگر اس بدنصیب نے ایسا نہیں کیا، آگے پھر ان انعامات الیہہہ کا تذکر ہے جو تخلیق انسانی کی ابتداء و انتہا کے درمیانی زمانے میں انسانی پر مبذول ہوتے ہیں کہ انسان کا رزق کس طرح پیدا کیا جاتا ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے، بیج اور دانہ جو زمین میں مدفون ہے یہ بارش اس میں ایک حیات نباتی پیدا کرتی ہے جس کے ذریعہ ایک نحیف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرمایا کہ یہ چیزیں ہم نے تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے برتنے کے لیے پیدا کی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کا تمہاری نفع رسانی کے لیے ہونا تو بالکل واضح ہے اور اس امر میں بھی کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ سب نعمتیں تمہارے پروردگار کے فضل سے حاصل ہوتی ہیں تو اب تم سوچو کہ ان انعامات کے بعد تمہارے اوپر خدا کی طرف سے کوئی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے یا نہیں؟ یہ آخری بات اگرچہ لفظوں میں مذکور نہیں ہے لیکن سیاق کلام سے یہ خود واضح ہے، اس لیے کہ اوپر سے اصل بحث ہی یہی چلی آ رہی ہے کہ یہ ضدی اور مغرور لوگ اپنے رب کی ناشکری اس وجہ سے نہیں کر رہے ہیں کہ ان پر خدا کے حقوق واضح نہیں ہیں یا یہ اپنی ذمہ داریوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–33

33۔ 1 یعنی قیامت وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 26–32

8: ایک ننھے سے پودے کی کونپل اتنی بھاری زمین کو پھاڑ کر جس طرح باہر نکل آتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لانے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

متاعا ................ مکم (32:80) ” تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے سامان زیست کے طور پر “۔ ایک مقررہ وقت تک ۔ اور جب یہ دنیا ختم ہوگی تو یہ سامان زیست بھی ختم ہوگا کیونکہ اللہ نے اسے متاع حیات کے طور پر بنایا ہے۔ اس کے بعد پھر ایک دوسرا عظیم واقعہ ہوگا۔ وہ کیا ہوگا ؟ انسان کو چاہئے کہ اس کے واقع ہونے سے قبل ہی اس کے بارے میں غور کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–32

15 یعنی بعض چیزیں تمہارے کام آتی ہیں اور بعض تمہارے جانوروں کے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32{ مَّتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ۔ } ”ضرورت کا سامان تمہارے لیے بھی اور تمہارے مویشیوں کے لیے بھی۔“ یہ آیت ہوبہو سورة النازعات میں آیت 33 کے طور پر بھی آچکی ہے۔ جوڑا ہونے کے اعتبار سے ان دونوں سورتوں کے مضمون اور اسلوب میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 ہر طرح کی نباتات اور پھل :۔ پھر ہم نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ انسان کے لیے حیات بخش اشیاء اگا دیں بلکہ اس پر مزید احسان یہ کیا کہ ایسی اشیاء پیدا کیں جو حیات بخش ہونے کے ساتھ ساتھ خوشگوار لذیذ اور مزیدار بھی تھیں تاکہ انسان ایک ہی طرح کی خوراک سے اکتا نہ جائے۔ اس کے لیے طرح طرح کی سبزیاں اور ترکاریاں اگائیں۔ پھر ایسے پودے بھی اگائے جن سے انسان روغن حاصل کرسکے اور ایسے انواع و اقسام کے پھل بھی جن کے کھانے سے اسے لذت و سرور بھی حاصل ہو۔ پھر اس کے لیے مویشی پیدا کیے جن سے وہ گوشت، دودھ اور کئی دوسرے فوائد حاصل کرتا ہے۔ پھر ہر پودے اور درخت سے حاصل ہونے والی غذا کا بہترین حصہ تو انسان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–32

12۔ گویا نباتیات کا یہ سارا نظام، انسان بلکہ اس کے خادم چوپایوں ہی کی خدمت اور ضرورت کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–36

ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

متاعا لکم ولانعامکم . یہ اَنْبَتْنَا کی علت ہے۔ ان چیزوں کو ہم نے تمہارے لیے اگایا ہے جیسے گیہوں اور دوسرا غلہ اور تمہارے چوپایوں کے لیے جیسے گھاس۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–32

(25۔ 32) اب اس تحویل کو بیان کرتا ہے کہ ہم نے عجیب طور سے زمین پر پانی برسایا اور پھر نباتات کے ذریعے سے پھاڑا پھر ہم نے اس زمین میں ہمہ قسم کے غلے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گنجان باغ اور میوے اور چارہ پیدا کیا، غلے تمہارے فائدے کے لیے اور چارہ تمہارے جانوروں کے لیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

متاعاً لکم ولا نعامکم : کائنات کا یہ عظیم الشان سلسلہ اور یہ تمام چیزیں تمہاری اور تمہارے ہی کام آنے والے جانوروں کی زندگی کے سامان کے لئے بنائی گئی ہیں۔ اب اپنے کفران نعمت کو دیکھو کہ میں تمہاری خاطر یہ سب کچھ بنا سکتا ہوں مگر تمہارے خیال میں تمہیں مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا۔ نہیں، میں تمہیں ضرور دوبارہ زندہ کروں گا۔ آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

متاعالکم۔ یہ مفعول مطلق کے طور منصوب ہے برائے تاکید ہے کیونکہ ان تمام چیزوں کا اگانا تمام حیوانات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ یہ ضرب المثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے قبروں سے مردوں کو اٹھانے کے لیے بیان فرمائی جس طرح کھیتیاں جبکہ وہ پہلے ختم ہوچکی تھیں جس کی وضاحت کئی مواقع پر گزرچکی ہے اس میں احسان کا بھی ذکر کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں پر انعام فرمایا یہ بھی کئی مواقع پر گزرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–32

29۔ ابو عبید نے اپنے فضائل میں اور عبد بن حمید نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ آیت ” وابا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کون سا آسمان جو مجھ کو سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھ کو اٹھائے گی۔ جب کہ میں اللہ کی کتاب کے بارے میں ایسی بات کہوں جس کو میں نہیں جانتے۔ 30۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن سعد وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان والخطیب والحاکم وصححہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے منبر پر یہ آیت پڑھی آیت فانبتنا فیہا حبا وعنبا وقضبا سے لے کر ” وابا “ تک پھر فرمایا یہ سب وہ ہے جس کو ہم پہچانتے ہیں مگر ” اب “ کیا ہے۔ پھر آپ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَّتَاعًا لَكُمْ وَلِانعامکُمْ : برتنے کا سامان ہوتے ہوئے تمہارے لیے اور تمہارے چوپایوں کے لیے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ0032﴾ اوپر جن چیزوں کا بیان ہوا انہیں تمہارے لیے اور تمہارے جانوروں کے فائدہ کے لیے پیدا فرمایا ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں ان کے ذریعہ انسان جیتا ہے زندگی گزارتا ہے اس پر لازم ہے کہ ان چیزوں میں غور کرے اور ان کے اور اپنے خالق کی طرف رجوع ہو۔ قولہ تعالیٰ ﴿وَّ اَبًّا ﴾ اختلف فی معناہ علٰی اقوال کثیرة فقیل ھو ماتا کلہ البھائم من العشب قال ابن عباس والحسن الابُّ كل ما انبتت الارض ممالا یاکلہ الناس ومایا کلہ الادمیون ھو الحصید، وعن ابن عباس ایضا وابن ابی طلحة الاب الثمار الرطبة، وقال الضحاک ھو التین خاصة وھو محکی عن ان عباس ایضا، وقال ابراھیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–32

8:۔ ” فلینظر الانسان “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ ” قضبا “ ترکاریاں۔ ” غلبا “ گنجان۔ ” ابا “ گھاس۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے پینے کی اشیاء کو دیکھئے کس طرح ہم نے ان کو پیدا کیا ہے ہم نے آسمان سے مینہ برسایا، پھر زمین کو شق کردیا اور اس میں غلے انگور، ترکاریاں، زیتون، کھجوریں، ہر قسم کے گنجان باغات، میوہ جات اور گھاس پیدا کی۔ یہ تمام چیزیں تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لیے سامان زندگی ہیں۔ یہ سارے انعامات کس نے عطاء کیے ہیں ذرا غور تو کرو اور بتاؤ جو مردہ زمین کو زندہ کر کے اس میں انواع و اقسام نبات پیدا کرسکتا ہے کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ضرور کرسکتا ہے اور کرے گا اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–32

(گذشتہ سے پیوسنہ ) اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ۝ 32 ۭ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–32

ترکیب ¦ انا قرء الجمہور بالکسر علی الاستیناف والکوفیوں بالفتح علی انہ بدل من طعامہ الاشتمال لان نزول المطر سبب لحصول الطعام فھو کالمشتمل علیہ او بتقدیر اللام ای لانہ والمعنی فلینظر الانسان الی اناصببنا الماء صباء وعنبا معطوف علی حباء وابنات العنب باعتبار شجرتہ وکذا قضبا فیہ قولان الاول انہ الرطبۃ وھی التی اذایبست سمیت بالقت واھل مکۃ یسمونھا بالقضب واصلہ من القطع وذلک لانہ یقضب مرۃ بعد اخرٰی وھذا قول ابن عباس ؓ والثانیؔ ھو قول المبردانہ العلف بعینہ وبہ قال الحسن البصری (رح) قضیب اقتضاب بریدن واقتصاب الکلام ارتجالہ وقضبہ ای قطعہ قضب وقضبہ سپت مقبضہ سپست زار۔ قضیب شاخ درخت قضبان جمع و نرہ خرد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–32

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَـآئَ صَبًّا۔ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۔ فَاَنْبَتْنَا فِیْھَا حَبًّا۔ وَّعِنَـبًاوَّقَضْبًا۔ وَّزَیْتُوْنًا وَّنَخْلاً ۔ وَّحَدَآئِقَ غُلْـبًا۔ وَّفَاکِھَۃً وَّاَبًّا۔ مَّتَاعًا لَّـکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ ۔ (عبس : 25 تا 32) (ہم نے خوب پانی برسایا۔ پھر اچھی طرح زمین کو پھاڑا۔ پھر اس کے اندر غلے اگائے۔ اور انگور اور ترکاریاں۔ اور زیتون اور کھجوریں۔ اور گھنے باغات۔ اور طرح طرح کے پھل اور چارے۔ سامانِ زیست تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔ ) سابقہ آیت میں انسان کو اپنے کھانے پر غور کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اب اس کھانے اور غذا کو بہم پہنچانے کے لیے جس بنیادی چیز کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–32

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی خوراک سے قیامت کا ثبوت۔ اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر فرما کر قیامت کے دن اٹھائے جانے کا ثبوت مہیا فرمایا۔ اب انسان کو اس کی خوراک کے حوالے سے سمجھایا جارہا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنے کھانے پینے پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تیری خوراک کا کس طرح بندوبست کرتا ہے ؟ ارشاد ہوا کہ یقیناً ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے زمین کو پھاڑا، پھر ہم نے اس میں اناج اگایا، اناج میں انگور، سبزیاں، زیتون، کھجوریں، گنجان اور لہلاتے ہوئے باغ، ہر قسم کے پھل اور چارہ پیدا کیا، انہیں تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ انسان کو اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32 : مَّتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَ نْعَامِکُمْ (تمہارے اور تمہارے مواشی کے فائدہ کیلئے) متاعاًؔ یہ مصدر ہے فائدہ پہنچانے کیلئے تمہیں اور تمہارے جانوروں کو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31 ۔” وفاکھۃ “ مختلف قسم کے میوے مراد ہیں۔ ” وابا “ یعنی گھاس پھوس اور جڑی بوٹیاں جن کو لوگ کاشت نہیں کرتے۔ جن کو چوپائے اور مویشی کھاتے ہیں۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ” الفاکھہ “ جس کو لوگ کھاتے ہیں اور ” الاب “ جس کو مویشی کھاتے ہیں اور اس کی مثال قتادہ (رح) سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں ” فاکھۃ “ تمہارے لئے اور اب تمہارے مویشیوں کے لئے۔ سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جو کچھ زمین اگائے ان چیزوں میں سے جن کو لوگوں اور مویشی کھاتے ہیں اور ابراہیم تیمی نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” وافاکھۃ وابا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کون سا آسمان مجھے سایہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–42

32۔ 41۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی زیست بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی زیست بھر کے انتظام اسی انجام کے لئے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک و بد کا حساب و کتاب ہو کر ہر ایک کی جزا و سزا کا فیصلہ اخیر صادر ہوجائے۔ حاصل یہ کہ دنیا فیصلہ اخیر کی روداد جمع ہوجانے کے لئے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ اخیر صادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کے مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ اخیر ایک ہی وقت ہوگا اس لئے دنیا کے ختم کے بعد کی یہ وسیع تاریخ پیشی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–32

(وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا) الفاکھہ۔ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے۔ مثلا انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ الاب۔ چارا۔ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں اس لیے فرمایا (مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ ) تمہارے اور تمہارے چوپاؤں کے لیے سامان زندگی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرکے تمہارے لیے مسخر کردیا۔ جو کوئی ان نعمتوں پر غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–36

(27) سب چیزیں انسان کے بھلے اور فائدہ کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سب کچھ ہم نے تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لیے کیا "۔ سو ان تمام چیزوں سے تم لوگ طرح طرح کے فوائد و منافع حاصل کرتے ہو، اور دن رات حاصل رکتے، اور ان سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو، مگر اس کے باوجود تم اپنے منعم سے غافل ہو، سو کیسی بےانصافی اور کتنی بڑی ناشکری ہے یہ جس کا ارتکاب تم لوگ کرتے ہو ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس قدر مطلق رب رحمن سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ اور عنایت شاملہ سے تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے جانوروں کی خوراک کا بھی ایسا حکمتوں بھرا انتظام فرمایا ہے، سو یہ بھی اس کا ایک عظیم الشان کرم اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–42

انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 یعنی ان میں سے بعض چیزیں ایسی ہیں جو تمہارے کام آتی ہیں اور بعض ایسی جو تمہارے جانوروں کے کام آتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:32) متاعا لکم ولانعامکم یہ انبتنا کی علت ہے۔ ان چیزوں کو ہم نے تمہارے لئے اور تمہارے چوپاؤں کے لئے اگایا۔ متاعا منصوب ہے کیونکہ :۔ (1) یہ انبتنا کا مفعول لہ ہے۔ (2) یہ انبتنا کے لئے بطور مؤکدہ آیا ہے۔ کیونکہ اشیاء کا پیدا کرنا انسان اور حیوان دونوں کے لئے متاع حیات ہے۔ انعامکم : مضاف مضاف الیہ، تمہارے مویشی، بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ مویشی کو اس وقت انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک ان میں اونٹ داخل نہ ہوں۔ یہ نعم کی جمع ہے جس کے معنی اصل میں تو اونٹ کے ہیں مگر بھیڑ بکری اور گائے بھینس پر بھی بولا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–32

(ف 2) یعنی ایک گھاس کے تنکے کی کیا طاقت تھی کہ زمین کو چیڑ پھاڑ کر باہرنکل آتا یہ قدرت کا ہاتھ ہے جو زمین کو پھاڑ کر اس سے طرح طرح کے غلہ پھل اور سبزی ترکاریاں وغیرہ باہرنکالتا ہے پھر بعض چیزیں تمہارے کام آتی ہیں اور بعض تمہارے جانوروں کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–32

[8] زمین کو پھاڑنے کی دو صورتیں ہیں، ایک تو جوتنا دوسرے بیج کا پھوٹنا۔ کیونکہ دونوں کام اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں اس لئے فرمایا کہ ہم نے پھاڑا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–36

ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) یہ سب تمہارے اور تمہارے مواشی کے فائدہ کے لئے - یعنی اس نباتات میں سے کچھ تم کھاتے ہو اور بعضی چیزیں تمہارے سے مواشی کھاتے ہیں یعنی غلہ تم کھاتے ہو اور بھوسا تمہارے ڈھو کھاتے ہیں، میوے تم کھاتے ہو اور پتے تمہارے مویشی کھاتے ہیں یہاں تک نعمتیں بیان فرمائیں جن میں ہر نعمت کا مقتضیٰ یہ ہے کہ انسان شکربجا لائے اور اس کی نعمتوں کی قدر کرے آگے قیامت کا اور ہرناشکرے کے لئے عقوبت اور شکر گزار کے لئے ثواب کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 24–32

آیت 24 تا 32: انسان کو اپنے کھانے پینے اور لباس و دیگر ضروریات زندگی پر خوب اچھی طرح سے غور و فکر کرنا مناسب ہے کہ ہم انہیں کس طرح پیدا کرتے ہیں پہلے پانی بھرے بادل چھا جاتے ہیں پھر موسلا دھار بارش برستی ہے اور زمین کی خشکی دور ہو کر تری پھیلتی ہے پھر بیج پھٹتا ہے اور زمین شق ہوتی ہے اور طرح طرح کی خوشنما اور خوش وضع سبزیاں پیدا ہوتی ہیں جس میں طرح طرح کا دانہ نیچے اوپر چڑھا ہوا پیدا ہوتا ہے جو کہ سٹوں بھٹوں میں محفوظ ہوتا ہے اور انسان اسے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے اور صبح و شام سے اپنی غذا بناتا ہے جیسے گندم جو کئی قسم کی ہوتی ہے اور بےچھلکا جو اور چھلکا دار جو اور مکئی اور باجرہ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–32

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَ‌هُ (No! He has not yet fulfilled what He [ Allah ] had commanded him...80:23). Having mentioned in the preceding verses the beginning and the end of human life, Divine Omnipotence and Divine blessings, the current verses warn the non-believing man that the demand of Divine Signs and blessings was to carefully ponder and believe in Allah, and comply with His injunctions, but the unfortunate creature failed to do so. Further, the Divine favours are mentioned that were conferred on man between the beginning and end of his life. Man is then asked to consider the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

20 That is, "A means of sustenance not only for you but also for those animals from which you obtain items of food like meat, fat, milk, butter, etc. and which perform countless other services also for your living. You benefit by all this and yet you disbelieve in God Whose provisions sustain you."

Read the full tafseer →