فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ ۟ؗفَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ
تو جب (قیامت کا) غل مچے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
But when there comes the Deafening Blast
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ ۟ؗفَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ
تو جب (قیامت کا) غل مچے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
But when there comes the Deafening Blast
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
آخرکار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی
تو جب (قیامت کا) غل مچے گا
پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی
آخر جب وہ کان پھاڑنے والی آواز آ ہی جائے گی۔ (اس وقت اس ناشکری کی حقیقت پتہ چل جائے گی)
پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ
پھر جب کان پھاڑ دینے والی آواز آئے گی،
پس جب کانوں کو بہرا کرنے والی (قیامت) آجائے گی۔
پھر جب کانوں کو بہرا کردینے والی آپہنچے گی
پس جب وہ کانوں کو بہرا کردینے والی آواز آئے گی ! (تب وہ شدنی ظاہر ہوگی)
پھر جب آپہنچے گی کانوں کو بہرا کردینے والی وہ سب سے بڑی (ہولناک) آواز
تو جس وقت شدید شور برپا ہوجائے
تو جب وہ آجائے گی کان پھوڑنے والی (آواز)۔
تو جب قیامت کا غل مچے گا
But when the deafening cry shall be sounded
So when the Deafening Noise will occur,
So when the Deafening Noise will occur,
Then when there comes As-Sakhkhah
But when the Shout cometh
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
But when there comes the Deafening Blast
When the trumpet sounds,
But when the deafening cry comes,
Then when cometh the Deafening Cry-
At length, when there comes the Deafening Noise,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 33–42
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا…
Read the full tafseer →سورة عَبَس 21 مراد ہے آخری نفخ صور کی قیامت خیز آواز جس کے بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان جی اٹھیں گے۔
Read the full tafseer →فَاِذَا جَاۗءَتِ الصَّاۗخَّةُ ، صاخہ ایسے شور اور شخت آواز کو کہتے ہیں جس سے انسان کے کان بہرے ہوجائیں مراد اس سے شور قیامت یعنی نفخ صور ہے۔
Read the full tafseer →قیامت کی یاددہانی: ’صَآخَّۃٌ‘ کے معنی بہری کر دینے والی کڑک یا چیخ کے ہیں۔ جس طرح سورۂ نازعات میں لفظ ’طَآمَّۃٌ‘ آیا ہے اسی طرح اس سورہ میں لفظ ’صَآخَّۃٌ‘ آیا ہے۔ یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ صور قیامت کی پہلی کڑک ہی ایسی ہولناک ہو گی کہ کانوں کو بہرا کر دے گی۔ ’اِذَا‘ کا جواب، جیسا کہ سورۂ نازعات کی آیات ۳۰-۳۵ کے تحت بیان ہو چکا ہے بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ پیغمبر کے انذار سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہیں لیکن اس دن کیا کریں گے جس دن خدا کا منادی اتنے قریب سے ان کو پکارے گا کہ اس کی آواز سب کے کانوں کے پردے پھاڑ دے گی!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–33
33۔ 1 یعنی قیامت وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
9: اس سے مراد قیامت ہے جس کا آغاز صور کی آواز سے ہوگا۔
Read the full tafseer →یہ دنیا کے سازو سامان کا خاتمہ ہے۔ یہ اللہ کی طویل اسکیم ، اور ایک کلی اور جامع تدبیر کے ساتھ موافق ہے ، جس کے مطابق اللہ نے انسان کو مرحلہ وار پیدا کیا اور اس اسکیم کے مطابق آگے بڑھایا اور یوں آغاز کے عین مطابق اس کا خاتمہ ہوا۔ یہ آخری منظر ابتدائی منظر کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں ایک شخص دوڑتا ہوا آیا ، اس کا پیمانہ خوف خدا سے لبریز تھا اور اس کے مقابلے میں ایک شخص تھا جو لاپرواہ اور ہدایت سے منہ موڑنے والا تھا۔ یہ دونوں کردار اللہ کے پیمانوں میں جو مقام رکھتے تھے اور یہ دونوں کا انجام ہے سورت کا آخر میں : الصاخة ایک ایسا لفظ ہے جو معنی کے ساتھ ساتھ آواز بھی سخت وکرخت رکھتا ہے۔ قریب ہے کہ کان…
Read the full tafseer →16 یعنی ایسی سخت آواز جس سے کان بہرے ہوجائیں۔ اس سے مراد نفخہ صور کی آواز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
آیت 33{ فَاِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ۔ } ”تو جب وہ آجائے گی کان پھوڑنے والی آواز۔“ یعنی جب قیامت برپا کرنے کے لیے صور میں پھونکا جائے گا تو اس کی آواز سے کان پھٹ جائیں گے۔ اس آیت کی مشابہت سورة النازعات کی اس آیت سے ہے : { فَاِذَا جَآئَ تِ الطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی۔ } ”پھر جب وہ آجائے گا بڑا ہنگامہ۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
19 الصَّاخَّۃُ ، صخّ ایسی آواز کو کہتے ہیں جو کانوں کو بہرہ کردے۔ ایسی سخت اور کرخت آواز جس سے کانوں کے پردے پھٹ جائیں اور الصاخہ سے مراد قیامت ہے اور یہ کیفیت پہلے نفخہ صور کے وقت ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
13۔ یہ وقت وہ ہوگا، جب قریب ساقریب عزیز اور عزیز ساعزیز دوست و رشتہ دار، نہ کسی کے کام آئے گا، اور نہ اس سے ہمدردی تک کرسکے گا) (آیت) ” المرء “۔ انسان سے ایسے سارے موقعوں پر مراد کافر ہی انسان سے ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر…
Read the full tafseer →فاذا جاءت الصاخۃ . سخت چیخ ‘ قاموس۔ مراد صور پھونکنے کی آواز۔ صحاح میں ہے کہ ناطق کی سخت چیخ کو صاخۃٌ کہتے ہیں۔ اس صورت میں نفخۂ صور پر صاخۃٌ کا اطلاق مجازی ہوگا۔ یعنی صور کی آواز سے لوگ سخت چیخ پکار مچائیں گے۔ جب صور پھونکنے کی آواز آئے گی تو اس شرط کی جزاء محذوف ہے اور پورا جملہ شرطیہ انھا تذکرۃ سے مربوط ہے یا قتل الانسان مَا اکفرہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اوّل صورت میں پورا معنی اس طرح ہوگا کہ قرآن ایک یادداشت اور نصیحت ہے جب صور کی آواز آئے گی۔ اس وقت نصیحت قبول کرنے والوں کا حال نصیحت نہ قبول کرنے والوں کے حال سے جدا ہوگا۔ اختلاف حال کیا ہوگا ‘ اس کا بیان آئندہ آیات وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ.... میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
(33۔ 36) پھر جس وقت قیامت قائم ہوگی اور اس کا شور برپا ہوگا جس کا ہر ایک چیز جواب دے گی اور جان لیں گے کہ یقینا قیام قائم ہورہی ہے، اب وہ کب قائم ہوگی تو جس دن مومن اپنے کافر بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ یا یہ کہ ہابیل قابیل سے اور محمد حضرت آمنہ سے اور ابراہیم اپنے باپ سے اور لوط اپنی بیوی سے اور نوح اپنے بیٹے کنعان سے بھاگیں گے۔
Read the full tafseer →فاذا جآء ت الضاحۃ : ”الضآختہ“ یعنی کانوں کو بہرا کردینے والی نفخ صور کی ہولناک آواز جس سے قیامت قائم ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →فاذا جاءت الصاخہ۔۔۔ تا۔۔ الفجرہ۔ فاذا جاءت الصاخہ۔ جب اس زندگی کے امر کا ذکر کیا تو آخرت کے امر کا ذکر کیا تاکہ اوہ اعمال صالحہ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو احسانات کیے ہیں اسے صرف کرکے زاد راہ تیار کریں، صاخہ سے مراد چیخ ہے جس سے قیامت برپا ہوگی یہاں اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جو کانوں کو بہر اکردے گی وہ وکئی اور آواز نہیں سنیں گے مگر جس چیز کے ساتھ انہیں زندہ ہونے کی دعوت دے جائے گی، کئی مفسرین نے ذکر کیا کان اس کی طرف متوجہ ہوں گے یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے، اصاخ الی کذا۔ یعنی اسے سنا اسی معنی میں ایک حدیث ہے، یہ جانور جمعہ کے روز کان لگا کر سنتا ہے اسے قیامت کا ڈرہوتا ہے مگر جن اور انسان کے۔…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر وابن المنذر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الصاخۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ قیامت کے میدان میں جسم پر لباس نہ ہوگا 2۔ عبد بن حمید والترمذی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ اکٹھے کیے جاؤ گے۔ آپ کی بیوی نے عرض کیا کیا ہمارے بعض، بعض کی شرم گاہ کو دیکھے گا ؟ آپ نے فرمایا اے فلانی آیت لکل امری منہم یومئذ شان یغنیہ ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی۔ جو اوروں کی طرف سے بےپرواہ کردے گی۔
Read the full tafseer →[فَاِذَا جَاۗءَتِ الصَّاۗخَّةُ : پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چیخ (نفخۂ صور)] ص خ خ [صَخًّا : (ن) کرخت آواز کا کان کو بہرا کردینا۔] [ صَاخَّۃٌ بہرا کردینے والی چیخ۔ زیر مطالعہ ۔ 33 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر بیان فرمائے ہیں۔ الصاخہ سخت آواز سے بولنے والی چیز کو کہتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ ایسی سخت آواز کو کہتے ہیں جو کانوں کو بہرا کر دے اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جب یہ سخت آؤاز آئے گی تو انسان اپنی مصیبت میں ایسا مبتلا ہوگا کہ اسے کسی کی طرف کوئی توجہ نہ ہوگی جو خاص اپنے لوگ تھے ان سے بھی بھاگے گا ہر شخص کا اپنا حال جدا ہوگا۔ ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے نیک بندوں کے چہرے روشن ہوں گے ان کی صورتوں سے بشاشت اور خوشی ظاہر ہو رہی ہوگی اور جن نالائقوں نے دنیا میں خدا کو فراموش کیا ایمان اور اعمال صالحہ کے نور سے علیحدہ رہے اور کفر و فجور کی سیاہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
9:۔ ” فاذا جاءت “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں سورت کا دعوی مذکور ہے علی سبیل الترقی۔ یہاں قیامت کی شدت اور ہولناکی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ہر شخص کو صرف اپنی جان کی فکر ہوگی یہاں تک آدمی اپنے بھائی، اپنے باپ اور اپنے بیوی بچوں سے بھی دور بھاگے گا اور کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ ہر شخص کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوں گے اور وہ اپنے انجام کی فکر میں دوسروں سے بالکل بیخبر اور غافل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں پہلے ایک نابینا شخص کا حال بیان کر کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کی توجہ اس بات کی طرف دلائی گئی ۔ کہ کمزروں اور ناداروں کا خیال رکھنا مقدم ہے ۔ کیونکہ وہ ہدایت کے طالب ہیں اور کمال شوق سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ برخلاف اس کے سرمایہ دارحضرات ناشکرگذرای کرتے ہیں ۔ ہدایت کے طالب نہیں ۔ لہذا ان کی طرف زیادہ توجہ نہ دیجائے ۔ یہی لوگ ہیں جو بےپروا اور متکبر ہیں ۔ انہیں تزکیہ حاصل کرنے کا بھی شوق نہیں ہے ۔ پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے متعلق فرمایا ” ھل لک الی ان تزکی “ کیا تیرے اندر اس بات کی رغبت ہے کہ تو پاک ہوجائے ۔ اور تاکہ…
Read the full tafseer →فَاِذَا جَاۗءَتِ الصَّاۗخَّۃُ 33 ۡ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ترکیب ¦ فاذا حرف الشرط جاءت فعل الصاخۃ فاعلہ والجملۃ شرطیۃ والجواب محذوف یدل علیہ الکلام الاتی وھو لکل امری منہم الخ الصاخۃ الصیحۃ وسمیت بھا لشدۃ صو تھا کانھا تصخ الاذان ای تصمھا فلا تسمع واصل الکلمۃ من الصخ وھو الطعن والصک بقال صخ راسہ بحجرای شدخہ والغراب یصخ بمنقارہ فی وبرالبعیر ای یطعن وھی النفخۃ الاخیرۃ والفاء للدلالۃ علی ترتیب مابعدھا علی ما قبلھا یوم منصوب بمقدر ای اعنی ویکون تفسیراً للصاخۃ اوبدل من اذا جاءت لکل امری منہم خبر شان یغنیہ مبتدء یومئذ ظرف لہ والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لبیان سبب الفرار۔ وجوہ مبتداء والنکرۃ لوقوعھا فی مقام التفصیل والتوزیع صلحت للابتداء یومئذ متعلق بہ مسفرۃ خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
فَاِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ ۔ یَوْمَ یَفِرُّالْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ ۔ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ ۔ لِکُلِّ امْرِیًٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ۔ (عبس : 33 تا 37) (پس جب وہ کان بہرے کردینے والی آواز آئے گی۔ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے۔ ہر آدمی کے لیے اس دن ایسا حال ہوگا جو اس کے لیے کافی ہوگا (یعنی اس روز ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی) ۔ ) قیامت کی ہولناکی الصَّآخَّۃُکا معنی ہے بہری کردینے والی کڑک یا چیخ۔ مراد اس سے آخری نفخ صور کی قیامت خیز آواز ہے جس کے بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان جی اٹھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور اس کی خوراک کا حوالہ دے کر اس کا قیامت کے دن زندہ ہونا ثابت کیا اور اب محشر کے دن دوسرے نفخہ کے بعد لوگوں کی حالت بیان کی جاتی ہے۔ سورت النّازعات کی آیت 34 میں قیامت کو ایک بڑی آفت قرار دیا گیا ہے قیامت کے بنیادی طور پر دو مرحلے ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں ہر چیز تباہ کردی جائے گی اور اس کے بعد نامعلوم کتنے عرصے کے بعد قیامت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ دوسرے مرحلہ کی ابتدا بھی اسرافیل کے صور پھونکنے پر ہوگی جس سے ایک مرتبہ پھر پوری زمین ہل جائے گی اور لوگ اپنے اپنے مدفن سے نکل کر محشر کے میدان میں اکٹھے ہوجائیں گے جس کی تفصیل قرآن مجید اور…
Read the full tafseer →33 : فَاِذَا جَآ ئَ تِ الصَّآخَّۃُ (پھر جس وقت کانوں کا بہرہ کردینے والاشور برپا ہوگا) اس سے قیامت کی چیخ مراد ہے کیونکہ وہی کانوں کو پھاڑ ڈالے گی یعنی بہرہ کردے گی۔ اذاؔ کی شرط کا جواب ظاہر ہونے کی وجہ سے محذوف ہے (اس وقت انسان کو اپنی ناشکری کا نتیجہ ملے گا)
Read the full tafseer →32 ۔” متاعالکم “ تمہارے لئے نفع ہے یعنی میوے۔ ” ولانعامکم “ یعنی گھاس پوس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–42
32۔ 41۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی زیست بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی زیست بھر کے انتظام اسی انجام کے لئے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک و بد کا حساب و کتاب ہو کر ہر ایک کی جزا و سزا کا فیصلہ اخیر صادر ہوجائے۔ حاصل یہ کہ دنیا فیصلہ اخیر کی روداد جمع ہوجانے کے لئے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ اخیر صادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کے مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ اخیر ایک ہی وقت ہوگا اس لئے دنیا کے ختم کے بعد کی یہ وسیع تاریخ پیشی…
Read the full tafseer →یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی جس کے ہول سے کان بہرے ہوجائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انہیں اعمال کی سخت ضرورت ہوگی تو دل دہل جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
(27) سب چیزیں انسان کے بھلے اور فائدہ کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سب کچھ ہم نے تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لیے کیا "۔ سو ان تمام چیزوں سے تم لوگ طرح طرح کے فوائد و منافع حاصل کرتے ہو، اور دن رات حاصل رکتے، اور ان سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو، مگر اس کے باوجود تم اپنے منعم سے غافل ہو، سو کیسی بےانصافی اور کتنی بڑی ناشکری ہے یہ جس کا ارتکاب تم لوگ کرتے ہو ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس قدر مطلق رب رحمن سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ اور عنایت شاملہ سے تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے جانوروں کی خوراک کا بھی ایسا حکمتوں بھرا انتظام فرمایا ہے، سو یہ بھی اس کا ایک عظیم الشان کرم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →ف 14 مراد صور پھونکے جانے کی آواز ہے۔
Read the full tafseer →(80:33) فاذا جاءت الصاخۃ :ترتیب کا۔ مابعد کی ماقبل پر ترتیب کی دلالت کرتا ہے اذا ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے گو کبھی زمانہ ماضی کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے واذا رأوا تجارۃ او لھوا ن انفضوا الیہا (62:11) اور جب انہوں نے سودا بکتا دیکھا یا تماشہ ہوتا دیکھا تو جھٹک کر اسی طرف چل دئیے۔ اذا اکثر و بیشتر شرط ہی ہوتا ہے۔ مفاجات کے لئے بھی آتا ہے۔ آیت ہذا میں بطور ظرف زمان آیا ہے بمعنی جب (شرطیہ) الصاخۃ : (ص خ خ مادہ) یہ صخ یصخ صخا فھو صاخ سے ہے جس کے معنی کسی ذی نطق کی آواز کی سختی اور کرخت پن کے ہیں۔ پھر جب قیامت کا غل مچے گا۔ غل۔ کان پھوڑ دینے والی چیخ۔ ابو اسحاق نے کہا ہے کہ :۔ صاخہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
نفسانفسی کا ذکر۔ (ف 3) اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی عمر بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا، ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی عمر بھر کے انتطام اسی انجام کے لیے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک وبد کا حساب وکتاب ہوکرہر ایک کی جزا وسزا کا فیصلہ آخر صادر ہوجائے حاصل یہ ہے کہ دنیا فیصلہ آخر کی روداد جمع ہوجانے کے لیے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ آخرصادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کی مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ آخر ایک ہی وقت ہوگا، اس لیے دنیا کے ختم ہونے کے بعد کی یہ وسیع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
[9] مراد ہے صور کی ہولناک آواز جس کے بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان جی اٹھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(33) پھر جب کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی سخت آواز برپا ہوگی - مراد اس سے نفخہ صور کی آواز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
آیت 33 تا 42: طامہ حاقہ خاصہ جیسے اسم فاعل کے وزن پر صاخہ بھی مصدر ہے جس کا معنی ایک چیخ اور پکار ہے اور مرد اس سے قیامت ہے۔ جب وہ بپا ہوگی تو اس وقت ماں باپ بھائی بہن بیوی بچے شوہر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جب ماں باپ جیسے قریبی رشتے کام نہیں دیں گے تو دوستوں یاروں کا قصہ ہی کیا ہے کہ کوئی کسی کے کام آسکے جس طرح دوست یار و رشتہ دار کام نہیں دیں گے اسی طرح پر مال و دولت بھی کام نہیں دیں گے۔ جس پر بھی کوئی سنگین مقدمہ کھڑا ہوا اور جرم ثابت ہوا تو وہ اپنے ماں باپ بیوی یچوں شوہر بہن بھائی اور رشتہ داروں سے بھاگتا پھرے گا کہ کہیں مجھے چھوڑا جائے مجھے کسی سے کیا مطلب…
Read the full tafseer →فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ ( So when there will come the Deafening Noise..80:33). The word sakhkhah means 'deafening cry or shout' and it refers to the blowing of the trumpet, which will be a deafening sound.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
21 The final terrible sounding of the Trumpet at which all dead men shall be ressurected to life.
Read the full tafseer →