وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا ۟ۙوَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا
اور میوے اور چارا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And fruit and grass -
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا ۟ۙوَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا
اور میوے اور چارا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And fruit and grass -
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
اور طرح طرح کے پھل، اور چارے
اور میوے اور چارا
اور میوه اور (گھاس) چاره (بھی اگایا)
اور میوے اور چارہ۔
اور میوے اور دُوب (گھاس)
اور (طرح طرح کے) پھل میوے اور (جانوروں کا) چارہ،
وحآئق غلباً :”حذدآئق“ ”حیقۃ“ کی جمع ہے، پھل دار درختوں کا باغ جس کے گرد دیوار ہو۔”حدق یحدق“ (ض) گھیرنا۔”غلباً“ ”اغلب“ اور ”غلباًئ“ کی جمع ہعے۔ ”غلب یغلب“ (س) مٹوی گردن والا ہونا، مراد گھنے باغ۔
اور پھل اور چارہ (بھی) اگائے
میوے اور سبزہ ،
اور طرح طرح کے (لذیذ) پھل اور چارے
اور میوے اور چارے
اور میوے اور چارہ۔
میوے اور چارا
and fruits and pastures –
and fruits and fodder,
and fruits and fodder,
And fruits (Fakihah) and herbage (Abb).
And fruits and grasses:
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And fruit and grass -
fruits, and grass.
And fruits and herbage
And fruits and herbage:
And fruits and fodder,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 17–32
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
سورة عَبَس 19 زمین کو پھاڑنے سے مراد اس کو اس طرح پھاڑنا ہے کہ جو بیج یا گھٹلیاں یا نباتات کی پنیریاں انسان اس کے اندر بوئے، یا جو ہواؤں اور پرندوں کے ذریعہ سے، یا کسی اور طریقے سے اس کے اندر پہنچ جائیں، وہ کونپلیں نکال سکیں۔ انسان اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا کہ زمین کو کھودتا ہے یا اس میں ہل چلاتا ہے اور جو تخم خدا نے پیدا کردیے ہیں، انہیں زمین کے اندر اتار دیتا ہے، اس کے سوا سب کچھ خدا کا کام ہے۔ اسی نے بیشمار اقسام کی نباتات کے تخم پیدا کیے ہیں۔ اسی نے ان تخموں میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ زمین میں پہنچ کر وہ پھوٹیں اور ہر تخم سے اسی کی جنس کی نباتات اگے۔ اور اسی نے زمین میں یہ صلاحیت پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ، اس میں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا اور ان میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور انعامات کا ذکر کرنے کے بعد منکر انسان کو تنبیہ کی گئی کہ ان آیات الیہہ اور انعامات کا تقاضا تھا کہ انسان ان میں غور کرکے اللہ پر ایمان لاتا اور اسکے احکام کی تعمیل کرتا مگر اس بدنصیب نے ایسا نہیں کیا، آگے پھر ان انعامات الیہہہ کا تذکر ہے جو تخلیق انسانی کی ابتداء و انتہا کے درمیانی زمانے میں انسانی پر مبذول ہوتے ہیں کہ انسان کا رزق کس طرح پیدا کیا جاتا ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے، بیج اور دانہ جو زمین میں مدفون ہے یہ بارش اس میں ایک حیات نباتی پیدا کرتی ہے جس کے ذریعہ ایک نحیف…
Read the full tafseer →’وَفَاکِہَۃً وَاَبًّا‘۔ یہ اس عام کو عام تر کر دیا تا کہ قدرت کے اس خوان کرم کا دائرہ انسانوں کے ساتھ ان حیوانات تک وسیع ہو جائے جو بلاواسطہ یا بالواسطہ اس کے کام آتے ہیں۔ اوپر میووں میں سے صرف خاص خاص کا ذکر نام کی تصریح کے ساتھ ہوا تھا، یہاں لفظ ’فَاکِہَۃٌ‘ استعمال کر کے تمام میووں کی طرف اشارہ فرما دیا، خواہ عرب میں پیدا ہوتے ہوں یا عجم میں، خواہ وہ اعلیٰ درجے کے ہوں یا ادنیٰ درجے کے اور خواہ وہ پرندوں ہی کے لیے مخصوص ہوں یا انسان بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہوں۔ علاوہ ازیں اوپر صرف انہی نعمتوں کا ذکر ہے جو انسانوں کو حاصل ہیں، درآنحالیکہ انسانوں کے ساتھ ان کی خدمت کرنے والے چوپائے بھی ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–33
33۔ 1 یعنی قیامت وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
8: ایک ننھے سے پودے کی کونپل اتنی بھاری زمین کو پھاڑ کر جس طرح باہر نکل آتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لانے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔
Read the full tafseer →فاکھة وہ میوہ جو باغات اسے حاصل ہو۔ ابا (31:80) کا مفہوم غالباً وہ جسے انسان چارے کے لئے کاشت ونگہداشت کریں۔ اس کے مفہوم کے بارے میں حضرت عمر ؓ سے پوچھا گیا۔ انہوں نے اس کے بارے میں اپنے آپ کو ملامت کیا تھا جیسا کہ سورة نازعات میں گزر گیا ہے۔ یہ تو تھا انسان کے طعام کا قصہ ، اور انسانی طعام کی تمام ضروریات صرف اللہ فراہم کرتا ہے اور اس میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس میں انسان کا کوئی دخل نہیں بلکہ انسان دخیل ہونے کا مدعی ہی نہیں ہے کہ وہ اس کے مختلف مراحل میں سے کسی مرحلے میں دخیل ہے۔ یہاں تک کہ زمین کے اندر وہ جو بیج بوتا ہے اس کی نشوونما میں بھی وہ دخیل نہیں ہے۔ نہ انسان نے بیج پیدا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
15 یعنی بعض چیزیں تمہارے کام آتی ہیں اور بعض تمہارے جانوروں کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
آیت 26{ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۔ } ”پھر ہم نے زمین کو پھاڑا جیسے کہ وہ پھٹتی ہے۔“ زمین پھٹتی ہے اور اس میں سے کو نپلیں برآمد ہوتی ہیں ‘ جو رفتہ رفتہ پورے پودے بلکہ تناور درخت کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
17 بارش کا زمین پر اثر : یعنی انسان اگر اپنے کھانے کی چیزوں میں ہی غور کرلیتا تو اسے اپنے پروردگار کی ناشکری کی کبھی جرأت نہ ہوسکتی تھی۔ انسان کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ زمین میں سطح زمین سے تھوڑا سا نیچے بیج اتار دے۔ بس اس کے بعد اس کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ خواہ انسان یہ کام زمین میں ہل چلا کر کرے یا کسی دوسرے ذریعہ سے کرے۔ زمین پر بارش برسانا اللہ کا کام ہے۔ یہی بارش کا پانی کبھی ندی نالوں، دریاؤں اور نہروں سے حاصل ہوتا ہے اور کبھی چشموں اور کنووں سے۔ بہرحال وہ بارش ہی کا جمع شدہ پانی ہوتا ہے۔ خ زمین میں بالیدگی :۔ پانی اور زمین کی اوپر کی سطح جب مل جاتے ہیں تو ایسی مٹی میں اللہ تعالیٰ نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
12۔ گویا نباتیات کا یہ سارا نظام، انسان بلکہ اس کے خادم چوپایوں ہی کی خدمت اور ضرورت کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر…
Read the full tafseer →و فاکھۃ اور وہ پھل جن کو مزہ کے لیے کھایا جاتا ہے اسی جگہ سے فقہاء نے کہا ہے کہ اگر کسی نے فاکہہ نہ کھانے کی قسم کھا لی تو کھجور ‘ انگور اور زیتون کھانے سے اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی (کیونکہ یہ پھل طاقت کے لیے کھائے جاتے ہیں ‘ تنہا مزہ کے لیے نہیں کھائے جاتے) اسی طرح اس پھل کو کھانے سے بھی قسم نہیں ٹوٹے گی جس سے مقصود غذائیت اور دوائیت دونوں ہوتے ہیں جیسے انار۔ اس کے علاوہ فاکہہ کا عطف حَبًّا وَّ عِنَبًا وغیرہ پر ہے اور عطف مغایرت کو چاہتا ہے (معطوف علیہ اور چیز ہو اور معطوف اور چیز) وابا . اور گھاس ‘ چراگاہ۔ (قاموس)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
(25۔ 32) اب اس تحویل کو بیان کرتا ہے کہ ہم نے عجیب طور سے زمین پر پانی برسایا اور پھر نباتات کے ذریعے سے پھاڑا پھر ہم نے اس زمین میں ہمہ قسم کے غلے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گنجان باغ اور میوے اور چارہ پیدا کیا، غلے تمہارے فائدے کے لیے اور چارہ تمہارے جانوروں کے لیے۔
Read the full tafseer →(وفاکھۃ واباً :”ابا“ زمین سے اگنے والی وہ نباتات جسے جانور کھاتے ہیں، لوگ نہیں کھاتے۔ (طبری عن ابن عباس وغیرہ) یہ ”اب“ (ن) (قصد کرنا) سے مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی ”قصد کیا ہوا“ کیونکہ جانور اس کی طرف لکپتے ہیں۔
Read the full tafseer →وفاکھۃ وابا۔ جسے لوگ کھاتے ہیں جیسے درختوں کے پھل جس طرح انجیر، اخروٹ، وغیرہ، اب، سے مراد ایسی گھاس جسے جانور کھاتے ہیں حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری نے کہا، اب ان چیزوں کو کہتے ہیں جنہیں زمین اگاتی ہے لوگ اسے نہیں کھاتے، جسے انسان کھاتے ہیں اسے حصید کہتے ہیں اسی معنی میں شاعر کا قول ہے جو اس نے نبی کریم کی مدح میں کہا : لہ دعوہ میمونہ ریھا الضبا، بھاینبت اللہ الحصیدۃ والابا۔ آپ کی دعوت مبارک ہے اس کی خوشبو بادصبا جیسی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ حصیدہ اور اب اگاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کو اب اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کا قصد کیا جاتا ہے اور اسے کاٹنے کے لیے اس کی طرف جایا جاتا ہے اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
29۔ ابو عبید نے اپنے فضائل میں اور عبد بن حمید نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ آیت ” وابا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کون سا آسمان جو مجھ کو سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھ کو اٹھائے گی۔ جب کہ میں اللہ کی کتاب کے بارے میں ایسی بات کہوں جس کو میں نہیں جانتے۔ 30۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن سعد وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان والخطیب والحاکم وصححہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے منبر پر یہ آیت پڑھی آیت فانبتنا فیہا حبا وعنبا وقضبا سے لے کر ” وابا “ تک پھر فرمایا یہ سب وہ ہے جس کو ہم پہچانتے ہیں مگر ” اب “ کیا ہے۔ پھر آپ نے…
Read the full tafseer →[وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا : اور میوہ اور مویشی کا چارہ ] ء ب ب [اَبًّا : (ض) کسی کام کے لیے تیار ہونا۔] اَبٌّ ایسی گھاس جو کٹنے کے لیے تیار ہو۔ مویشی کا چارہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 31 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–31
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے انسان کو غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے، ارشاد فرمایا کہ انسان اپنے کھانے کی چیزوں میں غور کرے، یہ چیزیں زمین سے نکلتی ہیں۔ ان میں غلے بھی ہیں اور پھل بھی، انگور بھی ہیں اور زیتون بھی، کھجوریں بھی ہیں اور سبزیاں ترکاریاں بھی، نیز فواکہ بھی ہیں جنہیں بطور تفکہ کھاتے ہیں اور گھاس پھوس بھی ہے جو جانوروں کا چارہ بن جاتا ہے، جن درختوں پر پھل آتے ہیں وہ صرف یہی نہیں کہ اکا دُكا کوئی درخت کہیں نکل آیا بلکہ ان کے باغ ہیں جن میں بڑے بڑے درخت ہیں، ان میں خوب کثرت سے پھل پیدا ہوتے ہیں، لفظ حدائق حدیقہ کی جمع ہے جس باغ کی چار دیواری بنا دی گئی ہو وہ حدیقہ ہے اور جس کی چار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
8:۔ ” فلینظر الانسان “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ ” قضبا “ ترکاریاں۔ ” غلبا “ گنجان۔ ” ابا “ گھاس۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے پینے کی اشیاء کو دیکھئے کس طرح ہم نے ان کو پیدا کیا ہے ہم نے آسمان سے مینہ برسایا، پھر زمین کو شق کردیا اور اس میں غلے انگور، ترکاریاں، زیتون، کھجوریں، ہر قسم کے گنجان باغات، میوہ جات اور گھاس پیدا کی۔ یہ تمام چیزیں تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لیے سامان زندگی ہیں۔ یہ سارے انعامات کس نے عطاء کیے ہیں ذرا غور تو کرو اور بتاؤ جو مردہ زمین کو زندہ کر کے اس میں انواع و اقسام نبات پیدا کرسکتا ہے کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ضرور کرسکتا ہے اور کرے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
(گذشتہ سے پیوسنہ ) اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔ اس کے…
Read the full tafseer →وَّفَاكِہَۃً وَّاَبًّا 31 ۙ فكه الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ : حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل : تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ رَبُّهُمْ [ الطور/ 18] . (ک ہ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
ترکیب ¦ انا قرء الجمہور بالکسر علی الاستیناف والکوفیوں بالفتح علی انہ بدل من طعامہ الاشتمال لان نزول المطر سبب لحصول الطعام فھو کالمشتمل علیہ او بتقدیر اللام ای لانہ والمعنی فلینظر الانسان الی اناصببنا الماء صباء وعنبا معطوف علی حباء وابنات العنب باعتبار شجرتہ وکذا قضبا فیہ قولان الاول انہ الرطبۃ وھی التی اذایبست سمیت بالقت واھل مکۃ یسمونھا بالقضب واصلہ من القطع وذلک لانہ یقضب مرۃ بعد اخرٰی وھذا قول ابن عباس ؓ والثانیؔ ھو قول المبردانہ العلف بعینہ وبہ قال الحسن البصری (رح) قضیب اقتضاب بریدن واقتصاب الکلام ارتجالہ وقضبہ ای قطعہ قضب وقضبہ سپت مقبضہ سپست زار۔ قضیب شاخ درخت قضبان جمع و نرہ خرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
اَنَّا صَبَبْنَا الْمَـآئَ صَبًّا۔ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۔ فَاَنْبَتْنَا فِیْھَا حَبًّا۔ وَّعِنَـبًاوَّقَضْبًا۔ وَّزَیْتُوْنًا وَّنَخْلاً ۔ وَّحَدَآئِقَ غُلْـبًا۔ وَّفَاکِھَۃً وَّاَبًّا۔ مَّتَاعًا لَّـکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ ۔ (عبس : 25 تا 32) (ہم نے خوب پانی برسایا۔ پھر اچھی طرح زمین کو پھاڑا۔ پھر اس کے اندر غلے اگائے۔ اور انگور اور ترکاریاں۔ اور زیتون اور کھجوریں۔ اور گھنے باغات۔ اور طرح طرح کے پھل اور چارے۔ سامانِ زیست تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔ ) سابقہ آیت میں انسان کو اپنے کھانے پر غور کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اب اس کھانے اور غذا کو بہم پہنچانے کے لیے جس بنیادی چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
فہم القرآن ربط کلام : انسان کی خوراک سے قیامت کا ثبوت۔ اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر فرما کر قیامت کے دن اٹھائے جانے کا ثبوت مہیا فرمایا۔ اب انسان کو اس کی خوراک کے حوالے سے سمجھایا جارہا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنے کھانے پینے پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تیری خوراک کا کس طرح بندوبست کرتا ہے ؟ ارشاد ہوا کہ یقیناً ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے زمین کو پھاڑا، پھر ہم نے اس میں اناج اگایا، اناج میں انگور، سبزیاں، زیتون، کھجوریں، گنجان اور لہلاتے ہوئے باغ، ہر قسم کے پھل اور چارہ پیدا کیا، انہیں تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ انسان کو اس…
Read the full tafseer →31 : وَّفَا کِھَۃً وَّاَبًّا ( اور میوے اور چارہ پیدا کیا) فاکھۃؔ میوے تمہاری خاطر واباًؔ یعنی چارہ تمہارے چوپایوں کیلئے۔
Read the full tafseer →30 ۔” وحدائق غلبا “ گھنے درختوں والے اس کا واحدا غلب ہے اور اسی سے کہا جاتا ہے گھنی گردن والے شیر کو اغلب اور مجاہد و مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں الغلب درختوں جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں لمبے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا) الفاکھہ۔ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے۔ مثلا انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ الاب۔ چارا۔ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں اس لیے فرمایا (مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ ) تمہارے اور تمہارے چوپاؤں کے لیے سامان زندگی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرکے تمہارے لیے مسخر کردیا۔ جو کوئی ان نعمتوں پر غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(26) گھنے باغوں کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور قسما قسم کے گھنے باغ بھی، جن میں تمہارے لیے طرح طرح کے فوائد اور قسما قسم کے منافع ہیں " سو سوچو اور اندازہ کرو اے لوگو کس قدر کریم اور رحمن و رحیم اور مہربان ہے تمہارا وہ رب جس نے تم کو اور ان عظیم الشان نعمتوں سے اس کثرت اور پر حکمت طریقے سے نوازا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " غلب " جمع ہے " اغلب " کی جس کے اصل معنی موٹی گردنوں والے کے ہوتے ہیں، اور جب یہ باغ کی صفت کے طور پر آتا ہے تو اس سے مقصود درختوں کی شادابی کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے، اور ایسا باغ چونکہ گھنا اور گنجان ہوتا ہے اس لیے اس کا معنی ہوگیا " گھنے باغ " اور ان طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
ف 12 اب سے مراد دراصل وہ گھاس یا چارہ ہے جسے لوگ نہیں کھاتے بلکہ جانور کھاتے ہیں اور وہ زمین سے آدمی کی کوشش کے بغیر خود بخود پیدا ہوتا ہے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(80:31) وفاکہۃ وابا۔ اور پھل (جن کو مزہ کے لئے کھایا جاتا ہے) فقہاء نے کہا ہے کہ اگر کسی نے فاکھۃ نہ کھانے کی قسم کھالی تو کھجور۔ انگور زیتون کھانے سے قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ یہ پھل طاقت کے لئے کھائے جاتے ہیں۔ تنہا مزے کے لئے نہیں کھائے جاتے۔ اسی طرح اس پھل کو کھانے سے بھی قسم نہیں ٹوٹے گی جس سے مقصود غذا اور دواء دونوں ہوتے ہیں۔ جیسے انار۔ ابا۔ گھاس۔ چراگاہ۔ جانوروں کے کھانے کی گھاس اور چارہ : فاکھۃ وابا کا عطف بھی حبا پر ہے۔ اور ہم نے پھل اور چارہ (بھی) اگائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
(ف 2) یعنی ایک گھاس کے تنکے کی کیا طاقت تھی کہ زمین کو چیڑ پھاڑ کر باہرنکل آتا یہ قدرت کا ہاتھ ہے جو زمین کو پھاڑ کر اس سے طرح طرح کے غلہ پھل اور سبزی ترکاریاں وغیرہ باہرنکالتا ہے پھر بعض چیزیں تمہارے کام آتی ہیں اور بعض تمہارے جانوروں کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
[8] زمین کو پھاڑنے کی دو صورتیں ہیں، ایک تو جوتنا دوسرے بیج کا پھوٹنا۔ کیونکہ دونوں کام اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں اس لئے فرمایا کہ ہم نے پھاڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(31) اور مختلف میوے اور گھاس یعنی چارا پیدا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
آیت 24 تا 32: انسان کو اپنے کھانے پینے اور لباس و دیگر ضروریات زندگی پر خوب اچھی طرح سے غور و فکر کرنا مناسب ہے کہ ہم انہیں کس طرح پیدا کرتے ہیں پہلے پانی بھرے بادل چھا جاتے ہیں پھر موسلا دھار بارش برستی ہے اور زمین کی خشکی دور ہو کر تری پھیلتی ہے پھر بیج پھٹتا ہے اور زمین شق ہوتی ہے اور طرح طرح کی خوشنما اور خوش وضع سبزیاں پیدا ہوتی ہیں جس میں طرح طرح کا دانہ نیچے اوپر چڑھا ہوا پیدا ہوتا ہے جو کہ سٹوں بھٹوں میں محفوظ ہوتا ہے اور انسان اسے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے اور صبح و شام سے اپنی غذا بناتا ہے جیسے گندم جو کئی قسم کی ہوتی ہے اور بےچھلکا جو اور چھلکا دار جو اور مکئی اور باجرہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ (No! He has not yet fulfilled what He [ Allah ] had commanded him...80:23). Having mentioned in the preceding verses the beginning and the end of human life, Divine Omnipotence and Divine blessings, the current verses warn the non-believing man that the demand of Divine Signs and blessings was to carefully ponder and believe in Allah, and comply with His injunctions, but the unfortunate creature failed to do so. Further, the Divine favours are mentioned that were conferred on man between the beginning and end of his life. Man is then asked to consider the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
19 "Cleaving the earth asunder" implies cleaving it in a way that the seeds, or seed-stones, or vegetable seedlings that man sows or plants in it, or which are deposited in it by winds or birds, or by some other means, should sprout up. Man can do nothing more than to dig the soil, or plough it, and bury in it the seeds that God has already created. Beyond this everything is done by God. It is He Who has created the seeds of countless species of vegetable; it is He Who has endowed these seeds with the quality that when they are sown in the soil, they should sprout up and from every seed…
Read the full tafseer →