Abasa 80:24

Abasa · from ayah 24

80:24

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤ ۟ۙفَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ

تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then let mankind look at his food -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:24

پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کو دیکھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ذرا انسان اپنے کھانے ہی کو دیکھ لے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو آدمی کو چاہیے اپنے کھانوں کو دیکھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس انسان کو چاہیے کہ اپنی غذا کی طرف دیکھے (اور غور کرے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انسان کو لازم ہے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

، پس انسان اپنی غذا پر دھیان کرے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر یہ (حضرت) انسان ذرا اپنی خوراک (کے نظام) ہی میں غور کرلے

— مولانا اسحاق مدنی

سو انسان ذرا دیکھے تو اپنے کھانے کی طرف۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انسان ذرا اپنے کھانے ہی کو دیکھ لے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

— محترمہ رفعت اعجاز

So let man just consider his food:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, the man should consider his food,

— Muhammad Taqi Usmani

So, the man should consider his food,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then let man look at his food:

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then let mankind look at his food -

— Saheeh International

Let the human being think about (how We produce) his food.

— Muhammad Sarwar

Then let man look to his food,

— Muhammad Habib Shakir

Let man look at his food:

— Abdul Majid Daryabadi

Then let man look at his food, (and how We provide it):

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 80:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–32

ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة عَبَس 17 یعنی جس خوراک کو وہ ایک معمولی چیز سمجھتا ہے، اس پر ذرا غور کرے کہ یہ آخر پیدا کیسے ہوتی ہے۔ اگر خدا نے اس کے اسباب فراہم نہ کیے ہوتے تو کیا انسان کے بس میں یہ تھا کہ زمین پر یہ غذا وہ خود پیدا کرلیتا ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–32

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ، اس میں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا اور ان میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور انعامات کا ذکر کرنے کے بعد منکر انسان کو تنبیہ کی گئی کہ ان آیات الیہہ اور انعامات کا تقاضا تھا کہ انسان ان میں غور کرکے اللہ پر ایمان لاتا اور اسکے احکام کی تعمیل کرتا مگر اس بدنصیب نے ایسا نہیں کیا، آگے پھر ان انعامات الیہہہ کا تذکر ہے جو تخلیق انسانی کی ابتداء و انتہا کے درمیانی زمانے میں انسانی پر مبذول ہوتے ہیں کہ انسان کا رزق کس طرح پیدا کیا جاتا ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے، بیج اور دانہ جو زمین میں مدفون ہے یہ بارش اس میں ایک حیات نباتی پیدا کرتی ہے جس کے ذریعہ ایک نحیف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

غور کرنے والے کے لیے دلائل کی کمی نہیں ہے: یعنی اگر وہ دلیل ان کی سمجھ میں نہیں آئی جو بیان ہوئی تو دلیلوں کی کمی نہیں ہے۔ انسان اپنی غذا ہی کے مسئلہ پر ذرا غور کی نگاہ ڈالے جس پر اس کی زندگی کا انحصار ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرتا پھر کس وسعت، کس تنوع اور ضروریات کی نوعیت کے لحاظ سے کتنی گوناگوں شکلوں میں اس کو پھیلا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اس پر غور کرے گا تو ضد کی بات اور ہے لیکن اس کی عقل میں فتور نہیں ہے تو وہ نہایت آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں کو مرنے کے بعد زندہ کر دینا ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ جو بارش اس کی غذا کا ذریعہ ہے وہی برابر اس کا مشاہدہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24۔ 1 کہ اسے اللہ نے کس طرح پیدا کیا، جو اس کی زندگی کا سبب ہے اور کس طرح اس کے لئے اسباب معاش مہیا کئے تاکہ وہ ان کے ذریعے سعادت آخروی حاصل کرسکے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–25

7: اس سے مراد کافر بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کی نافرمانی بالکل ظاہر ہے، اور اگر مسلمان مراد ہوں تب بھی یہ بات صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کا پورا پورا حق کون ادا کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ہے قصہ انسان اور اس کے مویشیوں کی خوراک کا ، جس کی تیاری کے تمام مراحل مختصر ، یہاں بیان کردیئے گئے ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ وہ ان پر غور کرے۔ کیا ان انتظامات میں خود اس کا اپنا بھی کوئی دخل ہے۔ کیا یہ سب کچھ اس کی تدبیر سے ہورہا ہے۔ جس ذات باری نے اسے پیدا کیا اور اس دنیا اور زمین پر لاکر کھڑا کردیا۔ یہ وہی ذات ہے جس نے یہ تمام انتظامات کیے۔ فلینظر ................ طعامہ (24:80) ” پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے “۔ یہ نظام خوراک براہ راست اس کے ساتھ متعلق ہے ، اس کے قریب ہے ، اس کے ساتھ لازم وملزوم ہے ، اسے چاہئے کہ وہ اس حاضر وموجود اور لازم ومکرر نظام پر غور کرے۔ اس کا قصہ اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 پہلے انسان کے پیدا کرنے اور مارنے کا ذکر تھا۔ اب اس کی زندگی اور بقاء کے سامان یاد دلاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 24{ فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖٓ۔ } ”تو انسان ذرا اپنے کھانے ہی کو دیکھ لے۔“ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں اگر پھر بھی کسی کو شک ہو تو وہ اپنی غذا پر ہی غور کرلے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کرنے کے بعد کس کس انداز میں اس کی غذا کا انتظام کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 23–25

16 اسے حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بن کر رہے۔ یہ حکم اس کی فطرت میں بھی ودیعت کیا گیا تھا پھر اسے پیغمبروں اور کتابوں کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم دیا تھا۔ اگر وہ اپنے مندرجہ بالا حالات پر غور کرتا تو اس کے لیے اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مگر اس نے ان تقاضوں کو مطلقاً پورا نہیں کیا۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو ایک الگ مستقل آیت سمجھنے کے بجائے سابقہ آیت سے مربوط کیا ہے۔ اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ جب چاہے گا زندہ کرکے اٹھائے گا لیکن ابھی ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ابھی تک اس دنیا کی آبادی اور کائنات کی تکمیل سے متعلق اس کا جو طے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–24

11۔ (کہ اس کی غذا کی تیاری کے لیے ہم نے کیسے کیسے انتظامات کیے ہیں، اور فطرت کی بڑی بڑی قوتوں کو کس طرح کام میں لگا رکھا ہے۔ ربوبیت ورزاقیت کی اتنی زبردست مشنری کے مشاہدہ کے بعد بھی اعراض اور ادائے شکر سے انکار کیسی شدید ناشکری ہے۔ ایجاد و تخلیق کا ذکر پہلے ہوچکا۔ اب انسان کو توجہ اس کے سامان پرورش وبقاء کی طرف دلائی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–36

ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلینظر الانسان الی طعامہ . کلام سابق کے مفہوم پر عطف ہے۔ یعنی انسان کو اوّل آغاز خلقت سے آخر حیات تک اپنے اوپر غور کرنا چاہیے۔ پھر اپنی غذا کو دیکھنا چاہیے کہ ہم نے اس کی غذا کیسے پیدا کی اور کس طرح اس کو بہرہ اندوز ہونے کا موقع دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–24

(23۔ 24) اللہ تعالیٰ نے جو اسے توحید کا حکم دیا تھا ہرگز اس نے اس کی بجا آوری نہیں کی سو اس کافر کو اپنے کھانے ہی میں ذرا غور کرنا چاہیے کہ کیسے ایک حالت سے وہ دوسری حالت اختیار کرتا ہے پھر اس کے بعد اسے کھاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 24–25

(فلینظر الانسان…: پہلے آیت (17) سے (22) تک ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو انسان کی پیدائش اور اس کی ذات سے تعلق رکھتی تھیں، اب ان نعمتوں کا ذکر ہے جو اس کی ذات سے تو تعلق نہیں رکھتیں مگر ان کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ فرمایا اپنی قریب ترین چیز کھانے ہی کو دیکھ لو کہ اس کی تیاری کے لئے ہم نے کائنات کی کتنی قوتوں کو مصروف کار کر رکھا ہے۔”انا صببنا المآء صباً“ میں مصدر کے ساتھ فعل کی تاکید فرمائی۔ ترجمہ میں اس تاکید کو ”خوب برسانا“ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فلنظرالانسان الی طعامہ۔۔۔ تا۔۔۔ ولانعامکم۔ فلنظرالانسان الی طعامہ۔ جب اللہ تعایل نے انسان کی تخلیق کے آغاذ کا ذکر کیا پھر اسے جو رزق دیا گیا اس کا ذکر کیا تو اے انسان دیکھے توسہی اللہ تعالیٰ نے اس کا کھانا کیسے پیدا کیا یہ نظر دل کی نظر ہے کہ وہ فکر کرے یعنی وہ غوروفکر کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کھانے کو کیسے پیدا کیا جو اس کی زندگی کا سہارا ہے اور اس کے لیے کیسے زندگی کے اسباب کو بنایا تاکہ وہ آخرت کی تیاری کرے حضرت حسن بصری اور مجاہد سے مروی ہے دونوں نے کہا، کہ وہ اپنے کھانے اور قضائے حاجت کی طرف دیکھے، ابن ابی خیثمہ نے ضحاک بن سفیان کلابی سے روایت نقل کی ہے کہ مجھے نبی کریم نے ارشاد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

13۔ ابن المنذر نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلینظر الانسان الی طعامہ۔ پس انسان کو اپنے کھانے کی طرف غور کرنا چاہیے۔ یعنی انسان کو اپنے داخل ہوں اور نکلنے کی جگہ کے بارے میں غور وفکر کرنا چاہیے۔ 14۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 15۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب التواضع میں کلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت فلینظر الانسان الی طعامہ کے بارے میں روایت کیا یعنی انسان کو اپنے پاخانے کے بارے میں غورفکر کرنا چاہیے۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلینظر الانسان الی طعامہ۔ سے وہ فرشت مراد ہے جو ابن آدم کی گردن کو موٹ کر کہتا ہے جب وہ بیت الخلاء میں بیٹھتا ہے جو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلْيَنْظُرِ الْانسَان : پس چاہیے کہ دیکھے انسان ][ اِلٰى طَعَامِهٖٓ : اپنے کھانے کی طرف ] نوٹ۔ 1: انسان اپنی غذا کے مسئلہ پر ذرا غور کی نگاہ ڈالے جس پر اس کی زندگی کا انحصار ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرتا ہے، پھر ضروریات کی نوعیت کے لحاظ سے کتنی گوناگوں شکلوں میں اس کو پھیلا دیتا ہے۔ اگر وہ اس پر غور کرے گا اور اس کی عقل میں فتور نہیں ہے تو نہایت آسانی سے یہ نکتہ اس کی سمجھ میں آجائے گا کہ ربوبیت کا یہ وسیع نظام تقاضہ کرتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے آگے جوابدہ ہو اور اس سے پوچھا جائے کہ ان نعمتوں کا حق ادا کیا یا نہیں۔ (تدبر قرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–31

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے انسان کو غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے، ارشاد فرمایا کہ انسان اپنے کھانے کی چیزوں میں غور کرے، یہ چیزیں زمین سے نکلتی ہیں۔ ان میں غلے بھی ہیں اور پھل بھی، انگور بھی ہیں اور زیتون بھی، کھجوریں بھی ہیں اور سبزیاں ترکاریاں بھی، نیز فواکہ بھی ہیں جنہیں بطور تفکہ کھاتے ہیں اور گھاس پھوس بھی ہے جو جانوروں کا چارہ بن جاتا ہے، جن درختوں پر پھل آتے ہیں وہ صرف یہی نہیں کہ اکا دُكا کوئی درخت کہیں نکل آیا بلکہ ان کے باغ ہیں جن میں بڑے بڑے درخت ہیں، ان میں خوب کثرت سے پھل پیدا ہوتے ہیں، لفظ حدائق حدیقہ کی جمع ہے جس باغ کی چار دیواری بنا دی گئی ہو وہ حدیقہ ہے اور جس کی چار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–32

8:۔ ” فلینظر الانسان “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ ” قضبا “ ترکاریاں۔ ” غلبا “ گنجان۔ ” ابا “ گھاس۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے پینے کی اشیاء کو دیکھئے کس طرح ہم نے ان کو پیدا کیا ہے ہم نے آسمان سے مینہ برسایا، پھر زمین کو شق کردیا اور اس میں غلے انگور، ترکاریاں، زیتون، کھجوریں، ہر قسم کے گنجان باغات، میوہ جات اور گھاس پیدا کی۔ یہ تمام چیزیں تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لیے سامان زندگی ہیں۔ یہ سارے انعامات کس نے عطاء کیے ہیں ذرا غور تو کرو اور بتاؤ جو مردہ زمین کو زندہ کر کے اس میں انواع و اقسام نبات پیدا کرسکتا ہے کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ضرور کرسکتا ہے اور کرے گا اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–32

(گذشتہ سے پیوسنہ ) اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِہٖٓ۝ 24 ۙ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–32

ترکیب ¦ انا قرء الجمہور بالکسر علی الاستیناف والکوفیوں بالفتح علی انہ بدل من طعامہ الاشتمال لان نزول المطر سبب لحصول الطعام فھو کالمشتمل علیہ او بتقدیر اللام ای لانہ والمعنی فلینظر الانسان الی اناصببنا الماء صباء وعنبا معطوف علی حباء وابنات العنب باعتبار شجرتہ وکذا قضبا فیہ قولان الاول انہ الرطبۃ وھی التی اذایبست سمیت بالقت واھل مکۃ یسمونھا بالقضب واصلہ من القطع وذلک لانہ یقضب مرۃ بعد اخرٰی وھذا قول ابن عباس ؓ والثانیؔ ھو قول المبردانہ العلف بعینہ وبہ قال الحسن البصری (رح) قضیب اقتضاب بریدن واقتصاب الکلام ارتجالہ وقضبہ ای قطعہ قضب وقضبہ سپت مقبضہ سپست زار۔ قضیب شاخ درخت قضبان جمع و نرہ خرد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلْیَنْظُرِالْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖٓ۔ (عبس : 24) (پس انسان ذرا اپنی خوراک کو دیکھے۔ ) تدبر کی نگاہ ہو تو دلائل کی کمی نہیں سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی کوئی انتہاء ہے اور نہ اس کے احسانات کا کوئی شمار۔ انسان اپنی غذا ہی کو دیکھے کیونکہ انسان اپنی تمام تر صلاحیتوں اور وجاہتوں کے باوجود غذا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر باہمہ جلالتِ قدر کھانے پینے کی احتیاج رکھتے تھے، اس لیے کافروں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا مَالِھٰذَالرَّسُوْلِ یَاکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ” یہ کیسے رسول ہوسکتا ہے، یہ کھانا کھاتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–32

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی خوراک سے قیامت کا ثبوت۔ اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر فرما کر قیامت کے دن اٹھائے جانے کا ثبوت مہیا فرمایا۔ اب انسان کو اس کی خوراک کے حوالے سے سمجھایا جارہا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنے کھانے پینے پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تیری خوراک کا کس طرح بندوبست کرتا ہے ؟ ارشاد ہوا کہ یقیناً ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے زمین کو پھاڑا، پھر ہم نے اس میں اناج اگایا، اناج میں انگور، سبزیاں، زیتون، کھجوریں، گنجان اور لہلاتے ہوئے باغ، ہر قسم کے پھل اور چارہ پیدا کیا، انہیں تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ انسان کو اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدرتِ باری تعالیٰ : 24 : فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖ (پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے) نحو : جب ان نعمتوں کو شمار کردیا جو انسان کی ابتدائے حدوث سے انتہاء تک اس کے وجود میں پائی جاتی تھیں اب اس کے بعد ان نعمتوں کا ذکر کیا جن کی انسان کو زندگی میں ضرورت پڑتی ہے۔ فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖ پس انسان کو اپنا وہ کھانا دیکھنا اور اس پر غور کرنا چاہیے جو وہ کھاتا اور جس سے زندگی گزارتا ہے۔ کہ ہم نے اس کا انتظام کس طرح فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23 ۔” کلا “ اس کی تردید کی ہے۔ یعنی معاملہ ویسے نہیں جیسے اس نے کہا اور جیسے یہ کافر گمان کرتا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں حق ہے۔ ” لما یقض ما امرہ “ یعنی اس نے وہ نہیں کیا جس کا اس کو اس کے رب نے حکم دیا ہے اور اس کو ادا نہیں کیا جو اس پر فرض کیا گیا ہے اور جب ابن آدم کی تخلیق کو ذکر کیا تو اس کے رزق کو ذکر کیا تاکہ وہ عبرت حاصل کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–31

17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–25

پھر اللہ تبارک وتعالی نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا ؟ چناچہ فرمایا (فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖٓ۔ اَنَّا صَبَبْنَا الْمَاۗءَ صَبًّا) پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بیشک ہم ہی نے پانی برسایا۔ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–25

(23) اپنی خوراک میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور انسان کے دل و دماغ پر ایک دستک کے طور پر اور اس کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " انسان ذرا اپنے نظام خوراک ہی میں غور کرلے "۔ تاکہ اس میں کارفرما اس قادر مطلق کی قدرت کاملہ، عنایت شاملہ اور رحمت بےنہایت کے عظیم الشان آثار و نشان دیکھ کر یہ عبرت حاصل کرسکے، اور اس کے نتیجہ میں یہ اپنے اس خالق ومالک اور رب رحمن و رحیم کے حضور دل و جان سے جھک جائے، اور اس طرح خود اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکے۔ وباللہ التوفیق وھو الھادی الی سواء الصراط۔ سو نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لیے دلائل ڈھونڈنے کی غرض سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–42

انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

۔10 یعنی اپنے اس کھانے پر جس کے سہارے وہ زندہ رہتا ہے شاید اس پر غور کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ادا کرنے کے لئے تیار ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:24) فلینظر الانسان الی طعامہ (قرآن مجید کا اسلوب بیان یہ ہے کہ کسی مقصد کے لئے دلائل انفسی کے بعد دلائل آفاقی بیان فرمایا کرتا ہے تاکہ دل میں زیادہ اثر پیدا کرے۔ یہاں غرور انسان کا ابطال کیا تھا اور زیادہ تر مقصود اپنی قدرت کاملہ کا اظہار تھا کہ جس میں کسی کو بھی شرکت نہیں جس سے رد شرک اور اثبات توحید ظاہر و عیاں تھا۔ اور اس مقصود کے اثبات سے یہ مطلوب تھا کہ وہی خدائے قادر وحدہ لاشریک انسان کو مارنے کے بعد بھی دوبارہ زندہ کرسکتا ہے اور اس کے اعمال نیک و بد کی جزا و سزا بھی دے سکتا ہے۔ اس مقصود کے اثبات کے لئے پہلے پہلے وہ دلائل بیان فرمائے تھے کہ جن سے خود انسان کی پیدائش اور اس کے حالات…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اوپر انسان کے پیدا کرنے اور مارنے کا ذکر تھا اب اس کی زندگی اور بقا کے سامان یاد دلاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–25

[7] حکم سے مراد وہ حکم بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فطری ہدایت کی صورت میں ہر انسان کے اندر ودیعت کردیا ہے اور وہ حکم بھی جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور کتابوں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–36

ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) سو آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے اور اپنی خوراک پر غور کرے اور نگاہ فکر ڈالے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 24–32

آیت 24 تا 32: انسان کو اپنے کھانے پینے اور لباس و دیگر ضروریات زندگی پر خوب اچھی طرح سے غور و فکر کرنا مناسب ہے کہ ہم انہیں کس طرح پیدا کرتے ہیں پہلے پانی بھرے بادل چھا جاتے ہیں پھر موسلا دھار بارش برستی ہے اور زمین کی خشکی دور ہو کر تری پھیلتی ہے پھر بیج پھٹتا ہے اور زمین شق ہوتی ہے اور طرح طرح کی خوشنما اور خوش وضع سبزیاں پیدا ہوتی ہیں جس میں طرح طرح کا دانہ نیچے اوپر چڑھا ہوا پیدا ہوتا ہے جو کہ سٹوں بھٹوں میں محفوظ ہوتا ہے اور انسان اسے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے اور صبح و شام سے اپنی غذا بناتا ہے جیسے گندم جو کئی قسم کی ہوتی ہے اور بےچھلکا جو اور چھلکا دار جو اور مکئی اور باجرہ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–32

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَ‌هُ (No! He has not yet fulfilled what He [ Allah ] had commanded him...80:23). Having mentioned in the preceding verses the beginning and the end of human life, Divine Omnipotence and Divine blessings, the current verses warn the non-believing man that the demand of Divine Signs and blessings was to carefully ponder and believe in Allah, and comply with His injunctions, but the unfortunate creature failed to do so. Further, the Divine favours are mentioned that were conferred on man between the beginning and end of his life. Man is then asked to consider the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17 That is, let him consider the food, which he regards as an ordinary thing, how it is created. Had God not provided the means for it, it was not in the power of man himself to have created the food on the earth in any way.

Read the full tafseer →