اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّا ۟ۙاَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا
بے شک ہم ہی نے پانی برسایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
How We poured down water in torrents,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّا ۟ۙاَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا
بے شک ہم ہی نے پانی برسایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
How We poured down water in torrents,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
ہم نے خوب پانی لنڈھایا
بے شک ہم ہی نے پانی برسایا
کہ ہم نے خوب پانی برسایا
کہ ہم نے اوپر سے خوب پانی برسایا۔
کہ ہم نے اچھی طرح پانی ڈالا
بیشک ہم نے خوب زور سے پانی برسایا،
کہ بیشک ہم نے پانی برسایا، خوب برسانا۔
ہم نے ہی اوپر سے پانی برسایا
کہ ہم نے برسایا پانی اچھی طرح ،
کہ ہم نے (اس کی ضرورتوں کے لیے کیسے طرح طرح سے) پانی لنڈھایا
ہم نے خوب پانی برسایا
کہ ہم نے آسمان سے پانی برسایا جیسے کہ برسایا جاتا ہے۔
بیشک ہم ہی نے پانی برسایا
We poured water, pouring it in great abundance,
how well We poured water,
how well We poured water,
We pour forth water in abundance.
How We pour water in showers
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
How We poured down water in torrents,
We send down abundant water,
That We pour down the water, pouring (it) down in abundance,
It is We Who pour forth water, pouring,
For that We pour forth water in abundance,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 17–32
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…
Read the full tafseer →سورة عَبَس 18 اس سے مراد بارش ہے۔ سورج کی حرارت سے بےحد و حساب مقدار میں سمندروں سے پانی بھاپ بنا کر اٹھایا جاتا ہے، پھر اس سے کثیف بادل بنتے ہیں، پھر ہوائیں ان کو لے کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلاتی ہیں، پھر عالم بالا کی ٹھنڈک سے وہ بھاپیں از سرنو پانی کی شکل اختیار کرتی اور ہر علاقے میں ایک خاص حساب سے برستی ہیں، پھر وہ پانی براہ راست بھی زمین پر برستا ہے، زیر زمین کنوؤں اور چشموں کی شکل بھی اختیار کرتا ہے، دریاؤں اور ندی نالوں کی شکل میں بھی بہتا ہے، اور پہاڑوں پر برف کی شکل میں جم کر پھر پگھلتا ہے اور بارش کے موسم کے سوا دوسرے موسموں میں بھی دریاؤں کے اندر رواں ہوتا ہے۔ کیا یہ سارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ، اس میں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا اور ان میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور انعامات کا ذکر کرنے کے بعد منکر انسان کو تنبیہ کی گئی کہ ان آیات الیہہ اور انعامات کا تقاضا تھا کہ انسان ان میں غور کرکے اللہ پر ایمان لاتا اور اسکے احکام کی تعمیل کرتا مگر اس بدنصیب نے ایسا نہیں کیا، آگے پھر ان انعامات الیہہہ کا تذکر ہے جو تخلیق انسانی کی ابتداء و انتہا کے درمیانی زمانے میں انسانی پر مبذول ہوتے ہیں کہ انسان کا رزق کس طرح پیدا کیا جاتا ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے، بیج اور دانہ جو زمین میں مدفون ہے یہ بارش اس میں ایک حیات نباتی پیدا کرتی ہے جس کے ذریعہ ایک نحیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
غور کرنے کا طریقہ: صرف غور کرنے کی دعوت ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ غور کی لائن بھی معین کر دی کہ یوں غور کرے۔ فرمایا کہ یہ ہماری ہی قدرت و عنایت کا کرشمہ ہے کہ ہم اچھی طرح مینہ برساتے اور پھر زمین کے مسامات کو اس مینہ سے سیراب ہونے کے لیے اچھی طرح کھول دیتے ہیں۔ نہ آسمان سے پانی برسانا کسی کے بس میں ہے اور نہ زمین کے مسامات کو کھولنا کسی کے امکان میں، درآنحالیکہ انہی دونوں چیزوں پر زمین کی تمام فیض بخشی کا انحصار ہے۔ یہی مضمون سورۂ انبیاء میں یوں بیان ہوا ہے: ’اِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا‘ (الانبیاء ۲۱: ۳۰) (آسمان اور زمین دونوں بند ہوتے ہیں پس ہم ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–33
33۔ 1 یعنی قیامت وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
7: اس سے مراد کافر بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کی نافرمانی بالکل ظاہر ہے، اور اگر مسلمان مراد ہوں تب بھی یہ بات صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کا پورا پورا حق کون ادا کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →انا ............ صبا (25:80) ” ہم نے خوب پانی لنڈھایا “۔ پانی کا بارش کی صورت میں گرایا جانا ایک ایسا عمل ہے ، جس سے ہر دور کا انسان واقف تھا۔ علم و تجربہ کے ابتدائی اور انتہائی مراحل کے انسان اس سے واقف تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے جو انسان ، ہر انسان کے سامنے پیش کی جاتی ہے لیکن جب انسان نے ترقی کرلی تو اسے معلوم ہوا کہ اس آیت کے مفہوم میں کیا کیا وسعتیں ہیں۔ آج کل کے ماہرین ماحولیات اس زمین کے اوپر پانی کے اس اجتماع کے بارے میں جو مفروضے پیش کرتے ہیں ، ان میں سے قریب ترین یہ ہے کہ یہ پانی ہمارے اوپر فضا میں تھا اور یہ بارش کی شکل میں زمین پر گرا اور سمندروں کی شکل اختیار کرگیا۔ دور حاضر کے سائنس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
14 یعنی ایک گھاس کے تنکے کی کیا طاقت تھی کہ زمین کو چیر پھاڑ کر باہر نکل آتا، یہ قدرت کا ہاتھ ہے جو زمین کو پھاڑ کر اس سے طرح طرح کے غلے، پھل اور سبزے، ترکاریاں وغیرہ باہر نکالتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 24{ فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖٓ۔ } ”تو انسان ذرا اپنے کھانے ہی کو دیکھ لے۔“ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں اگر پھر بھی کسی کو شک ہو تو وہ اپنی غذا پر ہی غور کرلے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کرنے کے بعد کس کس انداز میں اس کی غذا کا انتظام کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
16 اسے حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بن کر رہے۔ یہ حکم اس کی فطرت میں بھی ودیعت کیا گیا تھا پھر اسے پیغمبروں اور کتابوں کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم دیا تھا۔ اگر وہ اپنے مندرجہ بالا حالات پر غور کرتا تو اس کے لیے اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مگر اس نے ان تقاضوں کو مطلقاً پورا نہیں کیا۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو ایک الگ مستقل آیت سمجھنے کے بجائے سابقہ آیت سے مربوط کیا ہے۔ اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ جب چاہے گا زندہ کرکے اٹھائے گا لیکن ابھی ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ابھی تک اس دنیا کی آبادی اور کائنات کی تکمیل سے متعلق اس کا جو طے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
12۔ گویا نباتیات کا یہ سارا نظام، انسان بلکہ اس کے خادم چوپایوں ہی کی خدمت اور ضرورت کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر…
Read the full tafseer →انا صببنا الماء صبا . ہم نے ہی آسمان سے خوب پانی برسایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
(25۔ 32) اب اس تحویل کو بیان کرتا ہے کہ ہم نے عجیب طور سے زمین پر پانی برسایا اور پھر نباتات کے ذریعے سے پھاڑا پھر ہم نے اس زمین میں ہمہ قسم کے غلے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گنجان باغ اور میوے اور چارہ پیدا کیا، غلے تمہارے فائدے کے لیے اور چارہ تمہارے جانوروں کے لیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(فلینظر الانسان…: پہلے آیت (17) سے (22) تک ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو انسان کی پیدائش اور اس کی ذات سے تعلق رکھتی تھیں، اب ان نعمتوں کا ذکر ہے جو اس کی ذات سے تو تعلق نہیں رکھتیں مگر ان کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ فرمایا اپنی قریب ترین چیز کھانے ہی کو دیکھ لو کہ اس کی تیاری کے لئے ہم نے کائنات کی کتنی قوتوں کو مصروف کار کر رکھا ہے۔”انا صببنا المآء صباً“ میں مصدر کے ساتھ فعل کی تاکید فرمائی۔ ترجمہ میں اس تاکید کو ”خوب برسانا“ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →اناصببنا الماء صبا۔ عام قراء کی قرات انا کی سورت میں ہے کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے کو فیوں اور رومیوں نے یعقوب سے روایت کی ہے انا ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ محل جر میں ہے کیونکہ یہ طعام سے بدل ہے گویا یوں کلام کی گئی ہے ؟ فلینظرالانسان الی طعامہ، اناصبناالماء صبا۔ اس قرات میں طعامہ پر وقف کرنا اچھا نہیں اس طرح جب آپ اسے محل رفع میں رکھیں اور ھو ضمیر مانیں کیونکہ رفع کی صورت میں بھی طعام کی وضاحت کرے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے کیونکہ ہم نے پانی برسایا اور اس کے ذریعے کھانا نکالا، یعنی یہ اس طرح تھا، حسین بن علی نے اسے انی پڑھا ہے جو کیف کے معنی میں ہے جس نے اس قرات کو اپنایا ہے، اس نے طعامہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
19۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا صببنا الماء صبا کہ ہم نے اوپر سے مینہ برسایا۔ یعنی بارش آیت ثم شققنا الرض شقا پھر ہم نے زمین کو چیر کر پھاڑا یعنی نباتات کے ساتھ۔ 20۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقضبا۔ اور ترکاریاں یعنی سبز گھاس اگائی آیت وحدائق غلبا۔ اور گھنے باغ یعنی لمبے باغ آیت وفاکۃ وابا۔ اور میوے اور گھاس یعنی تازہ پھل اگائے۔ 21۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حدائق سے مراد ہے گھنے اور جڑے ہوئے باغات اور غلب سے مراد ہے جو موٹے ہوں اور الاب سے مراد ہے جو زمین اگاتی ہے ان چیزوں…
Read the full tafseer →[انا صَبَبْنَا الْمَاۗءَ صَبًّا : بیشک ہم نے ہی برسایا پانی جیسے برساتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–31
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے انسان کو غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے، ارشاد فرمایا کہ انسان اپنے کھانے کی چیزوں میں غور کرے، یہ چیزیں زمین سے نکلتی ہیں۔ ان میں غلے بھی ہیں اور پھل بھی، انگور بھی ہیں اور زیتون بھی، کھجوریں بھی ہیں اور سبزیاں ترکاریاں بھی، نیز فواکہ بھی ہیں جنہیں بطور تفکہ کھاتے ہیں اور گھاس پھوس بھی ہے جو جانوروں کا چارہ بن جاتا ہے، جن درختوں پر پھل آتے ہیں وہ صرف یہی نہیں کہ اکا دُكا کوئی درخت کہیں نکل آیا بلکہ ان کے باغ ہیں جن میں بڑے بڑے درخت ہیں، ان میں خوب کثرت سے پھل پیدا ہوتے ہیں، لفظ حدائق حدیقہ کی جمع ہے جس باغ کی چار دیواری بنا دی گئی ہو وہ حدیقہ ہے اور جس کی چار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
8:۔ ” فلینظر الانسان “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ ” قضبا “ ترکاریاں۔ ” غلبا “ گنجان۔ ” ابا “ گھاس۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے پینے کی اشیاء کو دیکھئے کس طرح ہم نے ان کو پیدا کیا ہے ہم نے آسمان سے مینہ برسایا، پھر زمین کو شق کردیا اور اس میں غلے انگور، ترکاریاں، زیتون، کھجوریں، ہر قسم کے گنجان باغات، میوہ جات اور گھاس پیدا کی۔ یہ تمام چیزیں تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لیے سامان زندگی ہیں۔ یہ سارے انعامات کس نے عطاء کیے ہیں ذرا غور تو کرو اور بتاؤ جو مردہ زمین کو زندہ کر کے اس میں انواع و اقسام نبات پیدا کرسکتا ہے کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ضرور کرسکتا ہے اور کرے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
(گذشتہ سے پیوسنہ ) اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔ اس کے…
Read the full tafseer →اَنَّا صَبَبْنَا الْمَاۗءَ صَبًّا 25 ۙ صبب صَبُّ الماء : إراقته من أعلی، يقال : صَبَّهُ فَانْصَبَّ ، وصَبَبْتُهُ فَتَصَبَّبَ. قال تعالی: أَنَّا صَبَبْنَا الْماءَ صَبًّا [ عبس/ 25] ، فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذابٍ [ الفجر/ 13] ، يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19] ، وصبا إلى كذا صبابة : مالت نفسه نحوه محبّة له، وخصّ اسم الفاعل منه بِالصَّبِّ ، فقیل : فلان صَبٌّ بکذا، والصُّبَّةُ کالصرمة «1» ، والصَّبِيبُ : الْمَصْبُوبُ من المطر، ومن عصارة الشیء، ومن الدّم، والصُّبَابَةُ والصُّبَّةُ : البقيّة التي من شأنها أن تصبّ ، وتَصَابَبْتُ الإناء : شربت صُبَابَتَهُ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
ترکیب ¦ انا قرء الجمہور بالکسر علی الاستیناف والکوفیوں بالفتح علی انہ بدل من طعامہ الاشتمال لان نزول المطر سبب لحصول الطعام فھو کالمشتمل علیہ او بتقدیر اللام ای لانہ والمعنی فلینظر الانسان الی اناصببنا الماء صباء وعنبا معطوف علی حباء وابنات العنب باعتبار شجرتہ وکذا قضبا فیہ قولان الاول انہ الرطبۃ وھی التی اذایبست سمیت بالقت واھل مکۃ یسمونھا بالقضب واصلہ من القطع وذلک لانہ یقضب مرۃ بعد اخرٰی وھذا قول ابن عباس ؓ والثانیؔ ھو قول المبردانہ العلف بعینہ وبہ قال الحسن البصری (رح) قضیب اقتضاب بریدن واقتصاب الکلام ارتجالہ وقضبہ ای قطعہ قضب وقضبہ سپت مقبضہ سپست زار۔ قضیب شاخ درخت قضبان جمع و نرہ خرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
اَنَّا صَبَبْنَا الْمَـآئَ صَبًّا۔ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۔ فَاَنْبَتْنَا فِیْھَا حَبًّا۔ وَّعِنَـبًاوَّقَضْبًا۔ وَّزَیْتُوْنًا وَّنَخْلاً ۔ وَّحَدَآئِقَ غُلْـبًا۔ وَّفَاکِھَۃً وَّاَبًّا۔ مَّتَاعًا لَّـکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ ۔ (عبس : 25 تا 32) (ہم نے خوب پانی برسایا۔ پھر اچھی طرح زمین کو پھاڑا۔ پھر اس کے اندر غلے اگائے۔ اور انگور اور ترکاریاں۔ اور زیتون اور کھجوریں۔ اور گھنے باغات۔ اور طرح طرح کے پھل اور چارے۔ سامانِ زیست تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔ ) سابقہ آیت میں انسان کو اپنے کھانے پر غور کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اب اس کھانے اور غذا کو بہم پہنچانے کے لیے جس بنیادی چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
فہم القرآن ربط کلام : انسان کی خوراک سے قیامت کا ثبوت۔ اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر فرما کر قیامت کے دن اٹھائے جانے کا ثبوت مہیا فرمایا۔ اب انسان کو اس کی خوراک کے حوالے سے سمجھایا جارہا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنے کھانے پینے پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تیری خوراک کا کس طرح بندوبست کرتا ہے ؟ ارشاد ہوا کہ یقیناً ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے زمین کو پھاڑا، پھر ہم نے اس میں اناج اگایا، اناج میں انگور، سبزیاں، زیتون، کھجوریں، گنجان اور لہلاتے ہوئے باغ، ہر قسم کے پھل اور چارہ پیدا کیا، انہیں تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ انسان کو اس…
Read the full tafseer →25 : اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآ ئَ صَبًّا (ہم نے عجیب طور پر پانی برسایا) نحو، قراءت : اَنَّا فتحہ کے ساتھ کوفی قراء نے پڑھا اور اس کو طعامؔ سے بدل الا شتمال قرار دیا۔ نمبر 2۔ اِنَّا دیگر قراء نے پڑھا اور جملہ مستانفہ قرار دیا۔ صَبَبْنَا الْمَآ ئَ صَبًّا یعنی بادلوں سے بارش برسائی۔
Read the full tafseer →24 ۔” پس فرمایا ” فلینظر الانسان الی طعامہ “ کیسے اس کا اندازہ کیا اس کے رب نے اور اس کے لئے اس کا انتظام کیا اور اس کو اس کی زندگی کا سبب بنادیا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کھانے کے داخل اور خارج ہونے کی جگہ کو دیکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
پھر اللہ تبارک وتعالی نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا ؟ چناچہ فرمایا (فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖٓ۔ اَنَّا صَبَبْنَا الْمَاۗءَ صَبًّا) پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بیشک ہم ہی نے پانی برسایا۔ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(23) اپنی خوراک میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور انسان کے دل و دماغ پر ایک دستک کے طور پر اور اس کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " انسان ذرا اپنے نظام خوراک ہی میں غور کرلے "۔ تاکہ اس میں کارفرما اس قادر مطلق کی قدرت کاملہ، عنایت شاملہ اور رحمت بےنہایت کے عظیم الشان آثار و نشان دیکھ کر یہ عبرت حاصل کرسکے، اور اس کے نتیجہ میں یہ اپنے اس خالق ومالک اور رب رحمن و رحیم کے حضور دل و جان سے جھک جائے، اور اس طرح خود اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکے۔ وباللہ التوفیق وھو الھادی الی سواء الصراط۔ سو نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لیے دلائل ڈھونڈنے کی غرض سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 11 یعنی خود بیج کی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ زمین کو پھاڑ کر باہر نکل سکتا۔ اس میں یہ طاقت ہم نے رکھی ہے۔
Read the full tafseer →(80:25) انا صببنا الماء صبا : جملہ مستانفہ ہے انا تحقیق ہم نے صببنا ماضٰ کا صیغہ جمع متکلم صب (باب نصر) مصدر سے بمعنی اوپر سے بہانا۔ متعدی ہے۔ اسی مصدر سے باب ضرب سے بمعنی اوپر سے بہنا (فعل لازم) آیا ہے ۔ لیکن قرآن مجید میں یہ متعدی آیا ہے۔ صبا مفعول مطلق۔ مبالغہ کے لئے ۔ ہم نے آسمان سے خوب (مینہ) برسایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
(ف 2) یعنی ایک گھاس کے تنکے کی کیا طاقت تھی کہ زمین کو چیڑ پھاڑ کر باہرنکل آتا یہ قدرت کا ہاتھ ہے جو زمین کو پھاڑ کر اس سے طرح طرح کے غلہ پھل اور سبزی ترکاریاں وغیرہ باہرنکالتا ہے پھر بعض چیزیں تمہارے کام آتی ہیں اور بعض تمہارے جانوروں کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
[7] حکم سے مراد وہ حکم بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فطری ہدایت کی صورت میں ہر انسان کے اندر ودیعت کردیا ہے اور وہ حکم بھی جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور کتابوں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(25) کہ ہم نے خوب پانی برسایا اور ہم نے ڈالا پانی اوپر سے گرتا۔ یعنی خوب بارشیں برسائیں اور بہائو پانی برسایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
آیت 24 تا 32: انسان کو اپنے کھانے پینے اور لباس و دیگر ضروریات زندگی پر خوب اچھی طرح سے غور و فکر کرنا مناسب ہے کہ ہم انہیں کس طرح پیدا کرتے ہیں پہلے پانی بھرے بادل چھا جاتے ہیں پھر موسلا دھار بارش برستی ہے اور زمین کی خشکی دور ہو کر تری پھیلتی ہے پھر بیج پھٹتا ہے اور زمین شق ہوتی ہے اور طرح طرح کی خوشنما اور خوش وضع سبزیاں پیدا ہوتی ہیں جس میں طرح طرح کا دانہ نیچے اوپر چڑھا ہوا پیدا ہوتا ہے جو کہ سٹوں بھٹوں میں محفوظ ہوتا ہے اور انسان اسے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے اور صبح و شام سے اپنی غذا بناتا ہے جیسے گندم جو کئی قسم کی ہوتی ہے اور بےچھلکا جو اور چھلکا دار جو اور مکئی اور باجرہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ (No! He has not yet fulfilled what He [ Allah ] had commanded him...80:23). Having mentioned in the preceding verses the beginning and the end of human life, Divine Omnipotence and Divine blessings, the current verses warn the non-believing man that the demand of Divine Signs and blessings was to carefully ponder and believe in Allah, and comply with His injunctions, but the unfortunate creature failed to do so. Further, the Divine favours are mentioned that were conferred on man between the beginning and end of his life. Man is then asked to consider the…
Read the full tafseer →18 This refers to rainwater: water vapours are raised in vast quantities from the oceans by the heat of the sun: then they are turned into thick clouds; then the winds blow and spread them over different parts of the earth; then because of the coolness in the upper atmosphere the vapours turn back to water and fall as rain in every area in a particular measure. The water not only falls as rain directly on the earth but also collects underground in the shape of wells and fountains, flows in the form of rivers and streams, freezes on the mountains as snow and melts and flows into rivers in…
Read the full tafseer →