Explained with ayahs 17–32
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی
جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…
Read the full tafseer →سورة عَبَس 16
حکم سے مراد وہ حکم بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فطری ہدایت کی صورت میں ہر انسان کے اندر ودیعت کردیا ہے۔ وہ حکم بھی جس کی طرف انسان کا اپنا وجود اور زمین سے لے کر آسمان تک کائنات کا ہر ذرہ اور قدرت الہی کا ہر مظہر اشارہ کر رہا ہے اور وہ حکم بھی جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے بھیجا اور ہر دور کے صالحین کے ذریعہ سے پھیلایا ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، تفسیر سورة دہر، حاشیہ 5)۔ اس سلسلہ بیان میں یہ بات اس معنی میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جو حقائق اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئے ہیں ان کی بنا پر فرض تو یہ تھا کہ انسان اپنے خالق کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ، اس میں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا اور ان میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور انعامات کا ذکر کرنے کے بعد منکر انسان کو تنبیہ کی گئی کہ ان آیات الیہہ اور انعامات کا تقاضا تھا کہ انسان ان میں غور کرکے اللہ پر ایمان لاتا اور اسکے احکام کی تعمیل کرتا مگر اس بدنصیب نے ایسا نہیں کیا، آگے پھر ان انعامات الیہہہ کا تذکر ہے جو تخلیق انسانی کی ابتداء و انتہا کے درمیانی زمانے میں انسانی پر مبذول ہوتے ہیں کہ انسان کا رزق کس طرح پیدا کیا جاتا ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے، بیج اور دانہ جو زمین میں مدفون ہے یہ بارش اس میں ایک حیات نباتی پیدا کرتی ہے جس کے ذریعہ ایک نحیف…
Read the full tafseer →یہ آیت اوپر والی آیت ’قُتِلَ الْإِنۡسَانُ مَا أَکْفَرَہٗ‘ کے بالکل متوازی آیت ہے جس طرح اس میں ہٹ دھرموں کی ہٹ دھرمی پر اظہار تعجب اور پھر ان کے اپنے وجود سے اس قیامت پر دلیل ہے جس کو وہ ناممکن سمجھ رہے تھے اسی طرح اس آیت میں ان کی کج فہمی پر بانداز زجر ملامت اور اس کے بعد قیامت اور جزا و سزا پر اس اہتمام ربوبیت سے دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے گرد و پیش میں پھیلا رکھا ہے اور جو زبان حال سے یہ شہادت دے رہا ہے کہ جس انسان کے لیے رب کریم نے یہ خوان نعمت بچھایا ہے وہ غیرمسؤل نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اس کے لیے لازماً ایک روز حساب آنے والا ہے۔
’لَمَّا یَقْضِ مَا أَمَرَہٗ‘ کے اسلوب بیان سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
23۔ 1 یعنی معاملہ اس طرح نہیں ہے، جس طرح یہ کافر کہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
7: اس سے مراد کافر بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کی نافرمانی بالکل ظاہر ہے، اور اگر مسلمان مراد ہوں تب بھی یہ بات صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کا پورا پورا حق کون ادا کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →کلا ............ ما امرہ (23:80) ” ہرگز نہیں ، اس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا “۔ بات مطلق انسان کی ہورہی ہے ، تمام افراد انسان کی بہر دور کے انسان اللہ کے احکام بجا لانے میں کوتاہی کرتے ہیں ، اپنی پوری زندگی میں ان کی روش یہی ہوتی ہے۔ ” لما “ سے اس مفہوم کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ ہرگز نہیں ، انسان ہر صورت میں قصور وار ہے ، یہ اپنے فرائض ادا نہیں کرتا ، وہ اپنی اصلیت اور حقیقت کو بھی پیش نظر نہیں رکھتا ، حالانکہ یہ بات ہر وقت اس کے پیش نظر ہونی چاہیے۔ نیز وہ اپنے خالق ، اپنے ہادی اور اپنے کفیل کا حق شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور اس زندگی کا مختصر سا سفر اس طرح نہیں طے کرتا کہ…
Read the full tafseer →12 یعنی انسان نے ہرگز اپنے مالک کا حق نہیں پہچانا اور جو کچھ حکم ہوا تھا ابھی تک اس کو بجا نہیں لایا (تنبیہ) ابن کثیر نے " کلا لما یقض ما امرہ " کو " ثم اذا شاء انشرہ " سے متعلق رکھا ہے یعنی جب چاہے گا زندہ کر کے اٹھائے گا۔ ابھی ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دنیا کی آبادی کے متعلق اس کا جو حکم کونی و قدری ہے وہ ابھی تک اس نے ختم نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت 22{ ثُمَّ اِذَا شَآئَ اَنْشَرَہٗ۔ } ”پھر جب وہ چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔“
دراصل یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ جس ہستی نے انسان کی تخلیق اور اس کی زندگی سے متعلق یہ سب کچھ کیا ہے اس کے لیے انسان کو دوبارہ اٹھانا کیا مشکل ہے۔ چناچہ اگر انسان خود اپنی تخلیق کے پورے عمل پر غور کرلے تو اس کے پاس بعث بعد الموت سے انکار کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
16 اسے حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بن کر رہے۔ یہ حکم اس کی فطرت میں بھی ودیعت کیا گیا تھا پھر اسے پیغمبروں اور کتابوں کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم دیا تھا۔ اگر وہ اپنے مندرجہ بالا حالات پر غور کرتا تو اس کے لیے اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مگر اس نے ان تقاضوں کو مطلقاً پورا نہیں کیا۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو ایک الگ مستقل آیت سمجھنے کے بجائے سابقہ آیت سے مربوط کیا ہے۔ اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ جب چاہے گا زندہ کرکے اٹھائے گا لیکن ابھی ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ابھی تک اس دنیا کی آبادی اور کائنات کی تکمیل سے متعلق اس کا جو طے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
11۔ (کہ اس کی غذا کی تیاری کے لیے ہم نے کیسے کیسے انتظامات کیے ہیں، اور فطرت کی بڑی بڑی قوتوں کو کس طرح کام میں لگا رکھا ہے۔ ربوبیت ورزاقیت کی اتنی زبردست مشنری کے مشاہدہ کے بعد بھی اعراض اور ادائے شکر سے انکار کیسی شدید ناشکری ہے۔ ایجاد و تخلیق کا ذکر پہلے ہوچکا۔ اب انسان کو توجہ اس کے سامان پرورش وبقاء کی طرف دلائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر…
Read the full tafseer →کلا . ایسا ہرگز نہ کرنا چاہیے ‘ موجب ایمان دلائل اور موجب شکر نعمتوں کے ہوتے ہوئے ناشکری اور انکار کرنے سے
کافر کو بازداشت کی گئی۔
لما یقض ما امرہ . عظیم الشان نعمتوں اور روشن دلائل کو جانے کے بعد بھی اللہ کے حکم کو اس نے ابھی تک
پورا نہیں کیا ‘ نہ ایمان لایا ‘ نہ شکر کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(23۔ 24) اللہ تعالیٰ نے جو اسے توحید کا حکم دیا تھا ہرگز اس نے اس کی بجا آوری نہیں کی سو اس کافر کو اپنے کھانے ہی میں ذرا غور کرنا چاہیے کہ کیسے ایک حالت سے وہ دوسری حالت اختیار کرتا ہے پھر اس کے بعد اسے کھاتا ہے۔
Read the full tafseer →کلا لما یقض ما امرہ :”کلا“ ہرگز نہیں۔ ابن جریر ؒ نے فرمایا کہ یہ کافر انسان جو سمجھتا ہے کہ اس کے مال و جان پر اللہ کا جو حق تھا وہ اس نے ادا کردیا ہے، یہ ہرگز درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان نے بھی ابھی تک وہ فرئاض ہی پورے ادا نہیں کئے جن کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا تھا، حق کا ادا کرنا تو بہت دور ہے۔ ”لم یقض“ پورا نہیں کای۔”لما یقض“ ابھی تک پورا نہیں کیا۔ مجاہد ؒ نے فرمایا :”لا یقضی احد ماامربہ“ (بخاری، التفسیر، باب سورة عبس، بعد ج : 3936)”کوئی بھی شخص وہ کام پورا نہیں کرتا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے (کمی رہ ہی جاتی ہے۔)“
Read the full tafseer →کلالما یقض ما امرہ۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا، کسی نے بھی اس کا حق ادا نہ کیا جو اسے حکم دیا گیا تھا، حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے، اس کا معنی ہے اس نے اس وعدہ کو پورا نہیں کیا، جو اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے نکال کر اس سے لیا گیا تھا، پھر کہا گیا، کلایہ جھڑکنے کے لیے ہے یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح کافر کہتا ہے کیونکہ کافر کو جب دوبارہ اٹھنے کی خبر دی جائے گی تو وہ کہے گا، اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو میرے لیے اس کے ہاں اچھاٹھکانہ ہوگا، بعض اوقات وہ کہے گا مجھے جو حکم دیا گیا تھا میں نے اس کا حق ادا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں اس نے آج تک کوئی چیز پوری نہیں کی…
Read the full tafseer →12۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لما یقض ما امرہ اس نے تعمیل نہیں کی جو اس کو حکم دیا تھا یعنی کسی نے ہمیشہ ہر اس عمل کی کماحقہ تعمیل نہیں کی جو اس پر فرض کیا گیا۔
Read the full tafseer →[كَلَّا : ہرگز نہیں ][ لَمَا يَقْضِ : ابھی تک اس نے پورا نہیں کیا ][ مَآ : اس کو ][ اَمَرَهٗ : جس کا اس نے حکم دیا اسے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
﴿ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ0022﴾ (پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما دے گا) یعنی دنیا میں جینا اور مرجانا اسی پر بس نہیں ہے اس کے بعد پھر زندہ ہونا ہے اور دنیا والی زندگی کے اعمال کا حساب دینا ہے۔ ﴿ كَلَّا ﴾ (انسان نے ہرگز شکر ادا نہیں کیا) (قال صاحب الروح : ردع للانسان عما ھو علیہ من کفران النعم البالغ نھایتہ) ۔
﴿لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ0023﴾ (اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا انسان اس حکم کو نہیں بجالایا) ۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اس سے عہد ﴿اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾ کی خلاف ورزی مراد ہے، اللہ تعالیٰ کے رب ماننے کا اقرار کیا پھر دنیا میں آئے تو خلاف ورزی کی اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
7:۔ ” من ای شیء خلقہ “ استفہام بمعنی تقریر ہے اور ” ای شیء “ سے مراد بیان تحقیر ہے یعنی نہایت حقیر چیز سے اللہ نے اس کو پیدا فرمایا ہے ” من نطفۃ “ یہ اس حقیر چیز کا بیان ہے۔ نطفہ سے اس کو رحم مادر میں پیدا کیا اور اس کی اجل، اس کے عمل، اس کے رزق اور اس کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ کیا پھر ایام حمل گذر جانے کے بعد رحم مادر سے اس کے باہر نکلنے کا راستہ آسان فرمایا پھر اس کو موت دی اور قبر میں اتروا دیا پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما لے گا۔ ” کلا “ بمعنی ” حقا “ ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ انسان کافر نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل نہیں کی۔ حالانکہ اس کا فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات جلیلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
(گذشتہ سے پیوسنہ )
اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔
اس کے…
Read the full tafseer →كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ 23 ۭ
كلا
كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] .
کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
ترکیب ¦ قتل الانسان الجملۃ فی الظاھر خبرو فی المعنی انشاء وھی دعاء علیہ وھی من اشنع دعوات العرب لان القتل اشد مصائب الدنیا۔ والدعاء علی الانسان یلیق بالعاجز واللہ سبحانہ قادر فوجھم انما اور دہ علی اسلوب کلام العرب ومحاوراتھم ما اکفرہ صیغۃ التعجب۔ والجملۃ انشایۃ انما اور دھا علی مح اور تھم من ای شی خلقہ استفھام والغرض زیادۃ التقریر فی التحقیر ومن تتعلق بخلق من نطفہ جواب الاستفھام والوقف علی جید من تتعلق بخلق خلقہ الخ کلام مبتداء لبیان خلقۃ الانسان السبیل منصوب بفعل مضمر یدل علیہ المذکور ای یسر السبیل یسرہ کلا۔ روع وزجر للانسان الکافر عما ھو علیہ من التکبر والاصرار علی الکفر۔ لما بمعنی لم وفاعل…
Read the full tafseer →کَلاَّ لَمَّا یَقْضِ مَـآ اَمَرَہٗ ۔ (عبس : 23)
(ہرگز نہیں ! اس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا۔ )
انسان کو تنبیہ
گزشتہ آیات میں تخلیقِ انسانی کی ابتداء اور انتہاء اور ان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور انعامات کا ذکر کرنے کے بعد تنبیہ کرتے ہوئے اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ایسے واضح احسانات اور قدرت کے ایسے نمایاں شواہد کے بعد تو اس بات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کردے یا اس کی نعمتوں کی قدردانی اور ادائے شکر میں کوتاہی کرے۔ کیونکہ اس کے تخلیقی عمل، پھر اس کی زندگی کے امکانات اور بقاء کے انتظامات اور رہنمائی کے تمام اسباب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا ہیجس شخص نے قرآن کی نصیحت سے انکار کیا وہ تباہ ہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے کہ انسان اس پر اخلاص کے ساتھ عمل پیرا ہو کر قیامت کی جوابدہی کی تیاری کرے اور دنیا میں رہ کر اپنے فکر وعمل کو سنوار لے۔ جس نے اس کا انکار کیا وہ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور جو قیامت کے دن پکڑا گیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کون پیدا کرے گا ؟ کیا انکار کرنے والے کو یہ معلوم نہیں کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اللہ…
Read the full tafseer →23 : کَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ ( ہرگز نہیں اس کو جو حکم کیا تھا اس کو بجا نہیں لایا) اس میں انسان کو کفر سے روکا گیا کہ اس کو ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے۔ لما یقض ما امرہ اس کافر انسان نے جو اس کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کا حکم دیا اس کو پورا نہیں کیا۔
Read the full tafseer →22 ۔” ثم اذا شاء انشرہ “ اس کے مرنے کے بعداس کو زندہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(ثُمَّ اِذَا شَاۗءَ اَنْشَرَهٗ ) پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزاوسزا کے لیے اس کو اٹھا کر کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے اس میں کوئی اس کا شریک نہیں بایں ہم انسان کو اللہ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔
Read the full tafseer →(21) منکرین کی کج فہمی پر زجر و ملامت کا ذکرو بیان : سو اس سب کے باوجود جو لوگ بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں، ان کی کج فہمی پر ان کی زجر و توبیخ اور ان کی ملامت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " ہرگز نہیں "۔ یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا کہ ان منکرین آخرت نے سمجھ رکھا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ انسان یونہی مرکھپ کر ختم ہوجائے گا، اور اس سے قدرت کی ان نعمتوں کے بارے میں کبھی پوچھ نہیں ہوگی جن سے اس نے اس کو طرح طرح سے نوازا اور مالا مال فرمایا ہے، اور یہ کہ ہم یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، جیسے کہ برسات کے مینڈک اور زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑے ختم ہوجاتے ہیں، سو کلا کے حرف ردع سے اس کی تردید کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق
تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔
1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔
2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔
3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔
اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔
آیات 1 تا 42۔
اسرار ومعارف۔
چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔
نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔
اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 9 یعنی کافروں کا یہ خیال غلط ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے وہ تمام حقوق ادا کردیئے جو ان پر عائد ہوتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آدمی نے بحیثیت مجموعی ہرگز اپنے مالک کا حق نہیں پہنچانا اور اس کے وہ فرائض ادا نہیں کئے جو اس پر عائد کئے تھے۔ آیت کا یہی مطلب اکثر قدیم مفسرین نے بیان کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس کا تعلق پچھلی آیت سے سمجھا ہے اور لما نقص اور ما امرہ، کا فاعل اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جب چاہے گا آدمی کو زندہ کرکے اٹھائے گا لیکن ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ ابھی اس نے وہ حکم پورا نہیں کیا جو دنیا میں انسانی زندگی کے متعلق اس نے کوئی قدری لحاظ سے دیا تھا جب دنیا…
Read the full tafseer →(80:23) کلا۔ حرف ردع وزجر ہے۔ کافر انسان کے لئے ڈانٹ ہے کہ اسے ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے تھا۔ یعنی خدا کی متذکرہ بالا قدرتوں اور اس کی گونا گوں نعمتوں کے باوجود اسے متکبر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اور نہ ہی کفر پر اصرار کرنا چاہیے تھا۔
بعض کے نزدیک کلا بمعنی حقا ہے۔ یعنی حق یہ ہے کہ لما یقض ما امرہ جو اللہ نے اسے حکم دیا وہ اسے بجانہ لایا۔
لما یقض : لما حرف جازم ہے لم کی طرح فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو جزم دیتا ہے ۔ اور مضارع کو ماضی منفی میں کردیتا ہے۔ لما سے جس نفی کا حصول ہوتا ہے وہ زمانہ حال تک مبتداء مسلسل اور مستمر ہوتی ہے ۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:214)
یقض مضارع مجزوم واحد مذکر غائب، قضاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن
الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کا حشر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر کی ایتوں میں گزرا ہے بلکہ انسان تو ایسا بڑاناشکرا ہے اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند یعنی منی سے مناسب اعضا میں بنایا، پیدائش کا وقت اس پر ایک مشکل کا وقت تھا اس کو آسان کیا اور پھر طرح طرح کی چیزیں اس کی عمر بھر کی ضرورت کی پیدا کیں اور جب اس کی عمر پوری ہوگئی توعقبی کے انتظام کی مصلحت سے اس کی روح قبض کی اور اس کی لاش کو رواں دواں نہیں ہونے دیا کہ کتے کوے اس کو کھاجائیں بلکہ مردوں کو زمین میں دفن کرنے کی حکمت دنیا میں ایجاد کردی تاکہ مردہ کی لاش کا پردہ ڈھکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
[7] حکم سے مراد وہ حکم بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فطری ہدایت کی صورت میں ہر انسان کے اندر ودیعت کردیا ہے اور وہ حکم بھی جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور کتابوں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔
حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(23) ہرگز نہیں اس انسان کو جو حکم دیا تھا اس نے اس کو پورا نہیں کیا۔ یعنی اس دین حق کے منکر نے ہرگز شکر نہیں ادا کیا اور اس کو جو حکم دیا تھا اس کو بجا نہیں لایا اور پورا نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17 تا 23:
بہ ناقدر اور نا شناس انسان جو کہ پاکبازوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتا اور چیں بجیں ہوتا ہے اور انہیں ڈانٹنا ہے خودذلیل و رسوا ہے اسے اپنی پیدائش یاد نہیں کہ کس گندے پانی سے اسے بنایا ہے۔ آخر اسے نطفہ ہی سے بنایا گیا ہے جو پشت سے ہوتا ہوا کہاں سے کہاں جا نکلتا ہے ۔ پھر وہ طوراً بعد طور حالات بدلتا ہوا کیا سے کیا بنتا رہتا ہے اور اس کے یہ حالات پیٹوں میں اللہ پاک کی قدرتوں سے اول بدل ہوتے ہوئے ایک کامل انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جس کے اعضاء متناسب اور شکل نہایت اچھی ہوتی ہے پھر وہ اسی طرح پر رفتہ رفتہ جوان ہو کر اللہ پاک کا مخاطب ٹھہر کر اس کے احکام کا مکلف قرار پاتا ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ (No! He has not yet fulfilled what He [ Allah ] had commanded him...80:23).
Having mentioned in the preceding verses the beginning and the end of human life, Divine Omnipotence and Divine blessings, the current verses warn the non-believing man that the demand of Divine Signs and blessings was to carefully ponder and believe in Allah, and comply with His injunctions, but the unfortunate creature failed to do so. Further, the Divine favours are mentioned that were conferred on man between the beginning and end of his life. Man is then asked to consider the…
Read the full tafseer →16 "Duty" implies the duty that Allah has enjoined on every man in the form of natural guidance as well as the duty to which man's own existence and every particle of the universe, from the earth to the heavens, and every manifestation of Divine power are pointing, and that duty also which Allah has conveyed in every age through His Prophets and Books and disseminated through the righteous people of every period. (For explanation, see E.N. 5 of Surah Ad- Dahr) . In the present context the object is to express the meaning that on the basis of the truths stated in the above verses, it was man's…
Read the full tafseer →