Abasa 80:22

Abasa · from ayah 22

80:22

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗ ۟ؕثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗؕ‏

پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then when He wills, He will resurrect him.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:22

پھر جب چاہے وہ اِسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر جب چاہے گا اسے زنده کر دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب چاہے گا اسے دوربارہ اٹھا کر کھڑا کردے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب چاہا اسے باہر نکالا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب وہ چاہے گا اسے (دوبارہ زندہ کر کے) کھڑا کرے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب وہ چاہے گا اسے اٹھائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب چاہے گا دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر وہی جب چاہے گا اسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کردے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب وہ چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

and then, whenever He wishes, He will raise him back to life.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thereafter, when He will intend, He will raise him up.

— Muhammad Taqi Usmani

Thereafter, when He will intend, He will raise him up.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then when it is His will, He will resurrect him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, when He will, He bringeth him again to life.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then when He wills, He will resurrect him.

— Saheeh International

and He will resurrect him whenever He wants.

— Muhammad Sarwar

Then when He pleases, He will raise him to life again.

— Muhammad Habib Shakir

Then when He listeth, He shall raise him to life.

— Abdul Majid Daryabadi

Then, when it is His Will, He will raise him up (again).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 80:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–32

ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة عَبَس 15 یعنی اس کی یہ مجال بھی نہیں ہے کہ خالق جب اسے موت کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا چاہے تو یہ اٹھنے سے انکار کرسکے۔ پہلے جب اسے پیدا کیا گیا تھا تو اس سے پوچھ کر پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے رائے نہیں لی گئی تھی کہ تو پیدا ہونا چاہتا ہے یا نہیں۔ یہ انکار بھی کردیتا تو پیدا ہو کر رہتا۔ اسی طرح اب دوبارہ پیدائش بھی اس کی مرضی پر موقوف نہیں ہے کہ یہ مر کر اٹھنا چاہے تو اٹھے اور اٹھنے سے انکار کر دے تو نہ اٹھے۔ خالق کی مرضی کے آگے اس معاملہ میں بھی یہ قطعی بےبس ہے۔ جب بھی وہ چاہے گا اسے ا ٹھا کھڑا کرے گا اور اس کو اٹھنا ہوگا، خواہ یہ راضی ہو یا نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–22

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ ، تخلیق انسانی کی ابتدا بیان کرنے کے بعد اس کی انتہا موت اور قبر پر ہے اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں نعمت ہی ہے۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تحفتہ المومن الموت کو مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں اور فاقبرہ کے معنی پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مر گیا تو وہیں زمین پر سڑتا اور پھولتا پھٹتا ہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کہ نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کرکے احترام کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ثُمَّ إِذَا شَآءَ اَنشَرَہٗ‘۔ ’اِنْشَارٌ‘ کے معنی کھولنے، پھیلانے، چھینٹنے اور ازسرنو اٹھا کھڑا کرنے کے ہیں۔ یعنی جب وہ چاہے گا اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس کام میں اس کو ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ جب پانی کی ایک بوند کو رحم مادر کے اندر اس نے ایک انسان کی شکل دے دی اور اس کام میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو اسی انسان کو زمین میں دفن کرانے کے بعد اس سے ازسرنو برآمد کر لینا کیوں محال ہو جائے گا!

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–22

6: اس کی ایک تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ بچے کو ماں کے پیٹ سے باہر آنے کا راستہ اللہ تعالیٰ نے آسان بنادیا کہ وہ ایک تنگ جگہ سے بہ آسانی باہر آجاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ انسان کے دنیا میں جینے کا راستہ آسان بنادیا، اور اس کی ساری ضروریات دنیا میں مہیا فرما دیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم اذا ............ انشرہ (22:80) ” اور پھر جب چاہے اسے دوبارہ اٹھا کر کھڑا کردے “۔ کیونکہ وہ یونہی بےکار چھوڑا جانے والا نہیں ہے اور نہ بغیر حساب و کتاب کے اسے یونہی زمین کا حصہ بنادیا جائے گا۔ لہٰذا ذرا غور کرو کہ یہ انسان اسی حساب و کتاب کے لئے کچھ تیاری کررہا ہے دیکھو کہ یہ انسان اسی حساب و کتاب کے لئے کچھ تیاری کررہا ہے یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی جس نے ایک مرتبہ جلایا اور مارا۔ اسی کو اختیار ہے کہ جب چاہے دوبارہ زندہ کر کے قبر سے نکالے۔ کیونکہ اس کی قدرت اب کسی نے سلب نہیں کرلی۔ (العیاذ باللہ) بہرحال پیدا کر کے دنیا میں لانا، پھر مار کر برزخ میں لے جانا، پھر زندہ کر کے میدان حشر میں کھڑا کردینا، یہ امور جس کے قبضہ میں ہوئے کیا اس کی نصیحت سے اعراض وانکار اور اس کی نعمتوں کا استحقار کسی آدمی کے لئے زیبا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 22{ ثُمَّ اِذَا شَآئَ اَنْشَرَہٗ۔ } ”پھر جب وہ چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔“ دراصل یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ جس ہستی نے انسان کی تخلیق اور اس کی زندگی سے متعلق یہ سب کچھ کیا ہے اس کے لیے انسان کو دوبارہ اٹھانا کیا مشکل ہے۔ چناچہ اگر انسان خود اپنی تخلیق کے پورے عمل پر غور کرلے تو اس کے پاس بعث بعد الموت سے انکار کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 یعنی جس طرح انسان اپنے پیدا ہونے اور مرنے کے معاملہ میں بےبس تھا اسی طرح وہ دوبارہ پیدائش کے معاملہ میں بھی اللہ کے حکم کے سامنے بےبس ہوگا اسے نہ پیدا ہونے کے وقت یہ پوچھا گیا تھا اگر تم پیدا ہونا چاہتے ہو تو تمہیں پیدا کردیں ورنہ نہ کریں۔ اور نہ موت کے وقت پوچھا گیا تھا کہ اگر تم چاہو تو تمہیں موت دے دیں ورنہ زندہ رہنے دیں۔ اسی طرح دوبارہ پیدا کرنے کے وقت بھی اس سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔ اللہ جب چاہے گا اسے زندہ کرکے کھڑا کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–24

11۔ (کہ اس کی غذا کی تیاری کے لیے ہم نے کیسے کیسے انتظامات کیے ہیں، اور فطرت کی بڑی بڑی قوتوں کو کس طرح کام میں لگا رکھا ہے۔ ربوبیت ورزاقیت کی اتنی زبردست مشنری کے مشاہدہ کے بعد بھی اعراض اور ادائے شکر سے انکار کیسی شدید ناشکری ہے۔ ایجاد و تخلیق کا ذکر پہلے ہوچکا۔ اب انسان کو توجہ اس کے سامان پرورش وبقاء کی طرف دلائی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–36

ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم اذا شاء انشرہ . پھر جب اللہ اس کو قبر سے اٹھانا چاہے گا تو موت کے بعد زندگی عطا فرما دے گا کیونکہ جو خدا اوّل تخلیق کی قدرت رکھتا ہے وہ قبر سے زندہ اٹھانے کی بھی قدرت رکھتا ہے۔ اس کی اطلاع پیغمبروں کی زبانی اللہ دے چکا ہے۔ اگر حشر اور جزاء نہ ہو تو شاکر بھی کافر کی طرح ہوجائے گا (نہ شاکر کو جزا ‘ نہ کافر کو سزا) اور یہ (عقلاً ) قبیح ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–22

(17۔ 22) عتبہ بن ابی لہب کافر پر اللہ کی مار وہ اللہ تعالیٰ کا کیسا ناشکرا ہے، یا یہ کہ اس کا کفر کیسا سخت ہے اسے اپنے وجود پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسی حقیر چیز سے پیدا کیا۔ آگے بیان ہے کہ نطفہ سے پیدا کیا پھر اس کے ہاتھ، پیر، کان اور تمام اعضاء بنائے پھر خیر اور شر کا راستہ اس کو بیان کردیا یا یہ کہ رحم مادر سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا، پھر اس کے بعد اس کو موت دی اور پھر قبر میں لے گیا پھر اس کو قبر سے دوبارہ زندہ کردے گا۔ شان نزول : قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کی گئی ہے کہ یہ عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثم اذا شآء انشرہ : ان تمام قدرتوں کو دیکھ کر کیا یہ تمہاری سمجھ میں نہیں اتنا کہ دنیا میں آدمی جو بھی کام کرتا ہے اس کا کوئی نہ کوئی انجام ضرور سوچتا ہے، تو پروردگار نے اتنا بڑا سلسلہ کیا اس لئے پیدا فرمایا ہے کہ کوئی اس اکیلے کی پرستش کرے، کوئی اس کی نعمتوں کو بھول کر بتوں کی پرستش کرتا رہے اور کوئی ظلم کرے یا کسی پر ظلم ہو، مرنے کے بعد سب برابر ہوجائیں ؟ نہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کر کے باز پرس فرمائے اور نہ کسی کو اس کے عمل کا بدلا ملے۔ نہیں، اللہ کے بارے میں یہ سوچنا ہی بےادبی اور کفران نعمت ہے۔ ان آیات میں اس بےادبی پر اللہ تعالیٰ نے ”قتل الانسان ما اکفرہ“ کہہ کر خشکی کا اظہار فرمایا اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ثم اذا شاء انشرہ۔ جب چاہے گا موت کے بعد زندہ کرے گا، عام قراء کی قرات انشرہ ہے، ابوحیوۃ نے نافع اور شعیب بن ابی حمزہ سے شاء نشرہ نقل کی ہے یہ دونوں فصیح لغتیں ہیں یہ جملہ کہا جاتا ہے، انشرہ اللہ المیت ونشرہ۔ اللہ تعالیٰ نے مردہ کو زندہ کردیا، اعشی نے کہا، حتی یقول الناس مماراو، یاعجیبا للمیت الناشر۔ لوگوں نے جو دیکھا اس کی وجہ سے وہ کہیں اس میت پر تعجب ہے جو اٹھنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–22

5۔ ابن جریر نے عورفی کے طریق سے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ پھر اس پر راستہ آسان کردیا۔ یعنی اس کی ماں کے پیٹ سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا۔ 6۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ یعنی اس کا رحم سے نکلنا آسان کردیا۔ 7۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ سے مراد ہے کہ اس کی ماں کے پیٹ سے اس کا نکلنا آسان کردیا۔ 8۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 9۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ یعنی اس کا رحم سے نکلنا آسان کردیا۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ اِذَا شَاۗءَ : پھر جب وہ چاہے گا ][ انشَرَهٗ : تو وہ دوبارہ زندہ کرے گا اس کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 22–23

﴿ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ0022﴾ (پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما دے گا) یعنی دنیا میں جینا اور مرجانا اسی پر بس نہیں ہے اس کے بعد پھر زندہ ہونا ہے اور دنیا والی زندگی کے اعمال کا حساب دینا ہے۔ ﴿ كَلَّا ﴾ (انسان نے ہرگز شکر ادا نہیں کیا) (قال صاحب الروح : ردع للانسان عما ھو علیہ من کفران النعم البالغ نھایتہ) ۔ ﴿لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ0023﴾ (اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا انسان اس حکم کو نہیں بجالایا) ۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اس سے عہد ﴿اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾ کی خلاف ورزی مراد ہے، اللہ تعالیٰ کے رب ماننے کا اقرار کیا پھر دنیا میں آئے تو خلاف ورزی کی اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–23

7:۔ ” من ای شیء خلقہ “ استفہام بمعنی تقریر ہے اور ” ای شیء “ سے مراد بیان تحقیر ہے یعنی نہایت حقیر چیز سے اللہ نے اس کو پیدا فرمایا ہے ” من نطفۃ “ یہ اس حقیر چیز کا بیان ہے۔ نطفہ سے اس کو رحم مادر میں پیدا کیا اور اس کی اجل، اس کے عمل، اس کے رزق اور اس کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ کیا پھر ایام حمل گذر جانے کے بعد رحم مادر سے اس کے باہر نکلنے کا راستہ آسان فرمایا پھر اس کو موت دی اور قبر میں اتروا دیا پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما لے گا۔ ” کلا “ بمعنی ” حقا “ ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ انسان کافر نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل نہیں کی۔ حالانکہ اس کا فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات جلیلہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–32

(گذشتہ سے پیوسنہ ) اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اِذَا شَاۗءَ اَنْشَرَہٗ۝ 22 ۭ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–23

ترکیب ¦ قتل الانسان الجملۃ فی الظاھر خبرو فی المعنی انشاء وھی دعاء علیہ وھی من اشنع دعوات العرب لان القتل اشد مصائب الدنیا۔ والدعاء علی الانسان یلیق بالعاجز واللہ سبحانہ قادر فوجھم انما اور دہ علی اسلوب کلام العرب ومحاوراتھم ما اکفرہ صیغۃ التعجب۔ والجملۃ انشایۃ انما اور دھا علی مح اور تھم من ای شی خلقہ استفھام والغرض زیادۃ التقریر فی التحقیر ومن تتعلق بخلق من نطفہ جواب الاستفھام والوقف علی جید من تتعلق بخلق خلقہ الخ کلام مبتداء لبیان خلقۃ الانسان السبیل منصوب بفعل مضمر یدل علیہ المذکور ای یسر السبیل یسرہ کلا۔ روع وزجر للانسان الکافر عما ھو علیہ من التکبر والاصرار علی الکفر۔ لما بمعنی لم وفاعل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–22

مِنْ اَیِّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ ۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ ط خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۔ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ ۔ ثُمَّ اَمَاتَـہٗ فَاَقْبَرَہٗ ۔ ثُمَّ اِذَا شَـآئَ اَنْشَرَہٗ ۔ (عبس : 18 تا 22) اسے ( اللہ نے) کس چیز سے پیدا کیا ؟ پانی کی ایک بوند سے، اللہ نے اسے پیدا کیا، پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔ پھر اس کے لیے راہ آسان کردی۔ پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔ ) انسان پر احسانات سے استدلال یہ کفار جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کے سامنے تکبر کا اظہار کرتے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے سامنے سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ کاش انھیں کبھی ان باتوں پر غور کرنے کا موقع ملے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–23

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا ہیجس شخص نے قرآن کی نصیحت سے انکار کیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے کہ انسان اس پر اخلاص کے ساتھ عمل پیرا ہو کر قیامت کی جوابدہی کی تیاری کرے اور دنیا میں رہ کر اپنے فکر وعمل کو سنوار لے۔ جس نے اس کا انکار کیا وہ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور جو قیامت کے دن پکڑا گیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کون پیدا کرے گا ؟ کیا انکار کرنے والے کو یہ معلوم نہیں کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : ثُمَّ اِذَا شَآ ئَ اَنْشَرَہٗ (پھرجب اللہ تعالیٰ چاہے گا اس کو دوبارہ زندہ کردے گا) اس کی موت کے بعد زندہ کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” ثم اماتہ فاقبرہ “ اس کے لئے قبر بنائی جو اس کو چھپالے۔ فرائؒ فرماتے ہیں اس کی قبر میں پوشیدہ کیا۔ اس کو ایسے پھینک نہیں دیا جاتا جیسے درندوں اور پرندوں کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے ” قبرت المیت “ جب تو اس کو دفن کردے ” اقبرہ اللہ “ یعنی اس کو اس حیثیت میں بنادیا کہ اس کو دفنایا جائے اور اس کو قبر والا بنادیا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” طردت فلانا واللہ اطردہ “ یعنی اللہ نے اس کو پھینکا ہوا بنادیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–31

17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–23

(ثُمَّ اِذَا شَاۗءَ اَنْشَرَهٗ ) پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزاوسزا کے لیے اس کو اٹھا کر کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے اس میں کوئی اس کا شریک نہیں بایں ہم انسان کو اللہ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

(19) زندگی کے آخری مرحلے کی تذکیر ویاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور خاتمۃ المطاف یعنی زندگی کے آخری مرحلے کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہی اس کو موت کے گھاٹ اتار کر قبر میں پہنچا دیتا ہے، تاکہ اس کا اس دنیا سے کوچ بھی عزت و احترام اور تعظیم و تکریم سے ہو، ورنہ ذرا سوچو کہ اگر ایسے نہ ہوتا اور باضابطہ تجہیز و تکفین کے بغیر اس کی لاش کو یونہی باہر ڈال دیا جاتا، جہاں درندو پرند اس کی لاش کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہوتے جس طرح کہ وہ دوسرے مردہ جانوروں کو کھاتے ہیں تو اس کا کیا حال ہوتا ؟ نیز اس میں یہ بڑا عظیم الشان درس بھی ہے کہ انسان اپنی پیدائش اور زندگی اور موت سب ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–42

انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–23

ف 9 یعنی کافروں کا یہ خیال غلط ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے وہ تمام حقوق ادا کردیئے جو ان پر عائد ہوتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آدمی نے بحیثیت مجموعی ہرگز اپنے مالک کا حق نہیں پہنچانا اور اس کے وہ فرائض ادا نہیں کئے جو اس پر عائد کئے تھے۔ آیت کا یہی مطلب اکثر قدیم مفسرین نے بیان کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس کا تعلق پچھلی آیت سے سمجھا ہے اور لما نقص اور ما امرہ، کا فاعل اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جب چاہے گا آدمی کو زندہ کرکے اٹھائے گا لیکن ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ ابھی اس نے وہ حکم پورا نہیں کیا جو دنیا میں انسانی زندگی کے متعلق اس نے کوئی قدری لحاظ سے دیا تھا جب دنیا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:22) ثم اذا شاء انشرہ : انشر ماضی واحد مذکر غائب انشاء (افعال) مصدر۔ بمعنی زندہ کرنا۔ اٹھا کھڑا کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان مصدر سے۔ مشیئۃ (ش ی ء مادہ) سے شاء اصل میں شیء تھا۔ ی متحرک ماقبل مفتوح ی کو الف سے بدلا۔ اس نے چاہا۔ اس نے ارادہ کیا۔ پھر جب وہ چاہے گا اس کو دوبارہ زندہ کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–23

خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کا حشر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر کی ایتوں میں گزرا ہے بلکہ انسان تو ایسا بڑاناشکرا ہے اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند یعنی منی سے مناسب اعضا میں بنایا، پیدائش کا وقت اس پر ایک مشکل کا وقت تھا اس کو آسان کیا اور پھر طرح طرح کی چیزیں اس کی عمر بھر کی ضرورت کی پیدا کیں اور جب اس کی عمر پوری ہوگئی توعقبی کے انتظام کی مصلحت سے اس کی روح قبض کی اور اس کی لاش کو رواں دواں نہیں ہونے دیا کہ کتے کوے اس کو کھاجائیں بلکہ مردوں کو زمین میں دفن کرنے کی حکمت دنیا میں ایجاد کردی تاکہ مردہ کی لاش کا پردہ ڈھکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–22

[6] یعنی اس کی فطرت کی ہر مانگ پوری کی اور وہ تمام اسباب و وسائل فراہم کئے جو زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–36

ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) پھر جب اللہ تعالیٰ چاہے گا اس کو دوبارہ زندہ کردیگا - یعنی اللہ تعالیٰ نے اس انسان کو کیسی چیز سے پیدا کیا اس کو ایک منی کے قطرہ سے بنایا۔ اس قطرے کو مختلف اطوار وادوار سے گذار کر انسانی صورت عطا فرمائی اس کے بنانے کا اندازہ لگایا یعنی اس کے اعضاء کو صحیح انداز پر رکھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہاتھ پائوں کو اسلوب پر رکھا نہ ایک بہت برا نہ ایک بہت چھوٹا۔ غرض اس کے اعضاء کو درست اور سڈول بنایا پھر ماں کے رحم سے نکلنے کو آسان کیا ماں کے پیٹ سے آسانی کے ساتھ نکالا۔ یا یہ کہ برے بھلے کی سمجھ دی پھر عمر کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کو مار دیا اور موت دیدی اور گور میں رکھوایا یعنی سپرد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 17–23

آیت 17 تا 23: بہ ناقدر اور نا شناس انسان جو کہ پاکبازوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتا اور چیں بجیں ہوتا ہے اور انہیں ڈانٹنا ہے خودذلیل و رسوا ہے اسے اپنی پیدائش یاد نہیں کہ کس گندے پانی سے اسے بنایا ہے۔ آخر اسے نطفہ ہی سے بنایا گیا ہے جو پشت سے ہوتا ہوا کہاں سے کہاں جا نکلتا ہے ۔ پھر وہ طوراً بعد طور حالات بدلتا ہوا کیا سے کیا بنتا رہتا ہے اور اس کے یہ حالات پیٹوں میں اللہ پاک کی قدرتوں سے اول بدل ہوتے ہوئے ایک کامل انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جس کے اعضاء متناسب اور شکل نہایت اچھی ہوتی ہے پھر وہ اسی طرح پر رفتہ رفتہ جوان ہو کر اللہ پاک کا مخاطب ٹھہر کر اس کے احکام کا مکلف قرار پاتا ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–22

ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَ‌هُ (Later, he made him die, and put him into the grave..80:21) After mentioning the inception of human life, Allah points to its end, that is, death and grave. Death has been mentioned here in the context of blessings of Allah. It indicates that death is a blessing rather than a calamity. The Holy Prophet ﷺ is reported to have put it thus: تحفَۃ المؤمِن الموت "The gift of a believer is death." Moreover, there is a profound wisdom in death at macro level for the entire world. The phrase فَأَقْبَرَ‌هُ fa-aqbarah (and put him into the grave) describes another blessing…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 That is, he does not either have the power to refuse to rise up when the Creator may will to resurrect him after death. When he was first created, he was not consulted: he was not asked whether he wanted to be created or not. Even if he had refused, he would have been created. Likewise, his resurrection also is not dependent upon his will and assent that he may rise from death if he so likes, or refuse to rise if he does not like. In this matter also he is absolutely helpless before the Creator's will. Whenever He wills He will resurrect him, and he will have to rise whether he likes it or…

Read the full tafseer →