Abasa 80:21

Abasa · from ayah 21

80:21

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ ۟ۙثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ

پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then He causes his death and provides a grave for him.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:21

پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اسے موت دی، اور قبر میں پہنچا دیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں (دفن) کر دیا گیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں رکھوایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اسے موت دی پھر اسے قبر میں رکھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

، پھر اس کو موت دی، پھر اس کو دن کرایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر وہی اس کو موت کے گھاٹ اتار کر قبر میں پہنچا دیتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اسے موت دی پھر اسے قبر میں لے گیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اس پر موت وارد کی اور اسے قبر میں داخل کردیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کروایا

— محترمہ رفعت اعجاز

then He caused him to die and brought him to the grave,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Later, he made him die, and put him into grave,

— Muhammad Taqi Usmani

Later, he made him die, and put him into grave,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then He causes him to die and puts him in his grave.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then causeth him to die, and burieth him;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then He causes his death and provides a grave for him.

— Saheeh International

Then He caused him to die and be buried

— Muhammad Sarwar

Then He causes him to die, then assigns to him a grave,

— Muhammad Habib Shakir

Then He caused him to die and made him to be buried.

— Abdul Majid Daryabadi

Then He causeth him to die, and putteth him in his grave;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 80:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–32

ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة عَبَس 14 یعنی اپنی پیدائش اور اپنی تقدیر کے معاملہ ہی میں نہیں بلکہ اپنی موت کے معاملہ میں بھی یہ اپنے خالق کے آگے بالکل بےبس ہے، نہ اپنے اختیار سے پیدا ہوسکتا ہے، نہ اپنے اختیار سے مر سکتا ہے، اور نہ اپنی موت کو ایک لمحہ کے لیے بھی ٹال سکتا ہے۔ جس وقت، جہاں، جس حال میں بھی اس کی موت کا فیصلہ کردیا گیا ہے اسی وقت، اسی جگہ اور اسی حال میں یہ مر کر رہتا ہے، اور جس نوعیت کی قبر بھی اس کے لیے طے کردی گئی ہے اسی نوعیت کی قبر میں ودیعت ہوجاتا ہے، خواہ وہ زمین کا پیٹ ہو، یا سمندر کی گہرائیاں، یا آگ کا الاؤ، یا کسی درندے کا معدہ انسان خود تو درکنار، ساری دنیا مل کر بھی اگر چاہے تو کسی شخص کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–22

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ ، تخلیق انسانی کی ابتدا بیان کرنے کے بعد اس کی انتہا موت اور قبر پر ہے اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں نعمت ہی ہے۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تحفتہ المومن الموت کو مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں اور فاقبرہ کے معنی پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مر گیا تو وہیں زمین پر سڑتا اور پھولتا پھٹتا ہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کہ نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کرکے احترام کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ثُمَّ أَمَاتَہُ فَاَقْبَرَہٗ‘۔ یہ زندگی کے آخری مرحلہ کی طرف اشارہ ہے کہ بالآخر وہ وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو موت دیتا اور دفن کراتا ہے۔ ہر پیدا ہونے والے کے لیے پیدا ہونے کے بعد سب سے زیادہ یقینی چیز موت ہی ہے۔ قدرت نے اس کو ایسے ضابطوں کے اندر جکڑ رکھا ہے کہ موت سے کسی کے لیے بھی مفر نہیں ہے۔ اس کی کمند بالکل بے خطا ہے۔ آخری مرحلہ: ’اَقْبَرَہٗ‘ کے معنی کسی کو قبر میں رکھوانا یا دفن کرنا ہے۔ اس لفظ میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ جو مرتا ہے وہ فنا نہیں ہو جاتا بلکہ قدرت اس کو زمین کی تحویل میں دے دیتی ہے۔ جو شے تحویل میں دی جاتی ہے وہ لازماً ایک دن واپس لی جاتی ہے چنانچہ جب…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–22

6: اس کی ایک تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ بچے کو ماں کے پیٹ سے باہر آنے کا راستہ اللہ تعالیٰ نے آسان بنادیا کہ وہ ایک تنگ جگہ سے بہ آسانی باہر آجاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ انسان کے دنیا میں جینے کا راستہ آسان بنادیا، اور اس کی ساری ضروریات دنیا میں مہیا فرما دیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم ................ فاقبرہ (21:80) ” پھرا سے موت دی اور قبر میں پہنچایا “۔ لہٰذا جس طرح اس کا آنا اللہ کے امر سے ہے ، اس کا یہ انجام بھی اللہ کے امر سے ہے۔ اللہ نے جب چاہا اسے زندگی میں لے آیا اور جب چاہا زندگی کا سلسلہ ختم کردیا۔ اور قبر کے پیٹ میں رکھوادیا۔ یہ قبر بھی اس کے لئے اس کی شرافت کی خاطر اور اس پر مہربانی کرتے ہوئے مقرر کی۔ یوں نہ چھوڑا کہ جہاں مرجائے ، وہیں چھوڑ دیا جائے اور جانور اسے نوچتے رہیں۔ انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی کہ مردہ انسانوں کی لاش کو قبر میں چھپایا جائے۔ یہ بھی اللہ کی تدبیر اور تقدیر اور احکام کا ایک حصہ ہے کہ مردوں کو دفن کیا جائے۔ اور جب اللہ کی مشیت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی مرنے کے بعد اس کی لاش کو قبر میں رکھنے کی ہدایت کردی۔ تاکہ زندوں کے سامنے یوں ہی بےحرمت نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 20–21

آیت 20{ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ۔ } ”پھر آسان کردیا اس پر راستہ۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں ایسا ماحول فراہم کیا ہے اور اسے ایسی سہولیات سے نوازا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں زندگی بسر کرنا اس کے لیے بہت آسان ہوگیا ہے۔ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ماں کے پیٹ سے انسان کے دنیا میں آنے کا راستہ اللہ تعالیٰ نے آسان کردیا ہے۔ یعنی وضع حمل کا بظاہر انتہائی پیچیدہ اور مشکل مرحلہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آسان ہوگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 انسان کو موت دینا اور قبر مہیا کرنا بھی اللہ کا احسان ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا انسان کو موت دینا بھی اس کا احسان ہے اور اسے قبر مہیا کرنا بھی۔ موت کے احسان ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ایک بیمار بستر مرگ پر پڑا ایڑیاں رگڑ رہا ہوتا ہے۔ تکلیف سے سخت بےتاب ہوتا ہے مگر اسے موت نہیں آتی۔ گھر والے اس کی مرض کی طوالت کی وجہ سے الگ پریشان ہوتے ہیں۔ بیماری پر بےبہا مصارف اٹھتے ہیں اور وہ کوئی دوسرا کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔ اس وقت دل سے بھی دعا مانگتے ہیں کہ مرنے والے کو موت آجائے تاکہ اسے بھی تکلیف سے نجات حاصل ہو اور اس کے گھر والے بھی پریشانیوں سے نجات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ یہ اشارہ ہے، زندگی کی مختلف منزلوں کی طرف، پہلے انسان بہترین قوی و استعداد لے کر وجود میں آتا ہے۔ پھر ایک مدت تک زندگی بسر کرنے کے بعد اسے موت آتی ہے، پھر وہ عالم قبر میں جاتا ہے۔ (آیت) ” اقبرہ “۔ اس سے مراد انسان کا قبر میں لے جایا جانا ہے۔ اس کے مصداق کے لیے تدفین ظاہری لازم نہیں۔ آگ میں جل کر، پانی میں غرق ہوکردرندوں کی غذا بن کر ہر حال میں اور ہر صورت سے انسان جاتا عالم قبر ہی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–36

ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم اماتہ فاقبرہ . چونکہ موت دارالقرار تک پہنچانے والی ہے ‘ اس لیے اماتت کا شمار نعمتوں میں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : موت مؤمن کے لیے تحفہ ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے یہ حدیث طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور حاکم نے اور ابو نعیم نے حلیہ میں نقل کی ہے ‘ دنیا کا راہ جہنم ہونا صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ انسان (راہ زندگی کا) انتخاب خراب کرتا ہے ‘ جبر تو بہرحال نہیں ہے (ہر انسان راہ زندگی کو اختیار کرنے میں آزاد ہے) ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھ سے کہا گیا کہ کسی سردار قوم نے ایک مکان بنایا ‘ اس میں دستر خوان چنا اور ایک پکارنے والے کو (عمومی دعوت کا اعلان کرنے کے لیے) بھیج دیا۔ اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–22

(17۔ 22) عتبہ بن ابی لہب کافر پر اللہ کی مار وہ اللہ تعالیٰ کا کیسا ناشکرا ہے، یا یہ کہ اس کا کفر کیسا سخت ہے اسے اپنے وجود پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسی حقیر چیز سے پیدا کیا۔ آگے بیان ہے کہ نطفہ سے پیدا کیا پھر اس کے ہاتھ، پیر، کان اور تمام اعضاء بنائے پھر خیر اور شر کا راستہ اس کو بیان کردیا یا یہ کہ رحم مادر سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا، پھر اس کے بعد اس کو موت دی اور پھر قبر میں لے گیا پھر اس کو قبر سے دوبارہ زندہ کردے گا۔ شان نزول : قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کی گئی ہے کہ یہ عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ثم اماتہ فاقبرہ : پھر اسے موت دی جو آخرت کی مصلحت کے تحت ضروری تھی، پھر اسے قبر میں رکھوایا، اگر وہ یہ احسان نہ کرتا تو یہ جانوروں کیطرح زمین پر پڑا رہتا، متعفن ہو کر اللہ کی مخلوق کے لئے باعث آزار بنتا۔ اس کی بےحرمتی ہوتی، بےپردہ ہوتا اور اسے درندے نوچتے۔ ”قبرہ“ قبر میں رکھا اور ”اقبرہ“ قبر میں رکھوایا۔ کوئی جل جائے، غرق ہوجائے یا اسے درندے کھا جائیں تو اس کے اجزا جہاں بھی ہیں وہ اس کے لئے قبر ہے۔ اگر کسی کو دفن نہ کیا جاسکے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے قبر نہیں ملی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ثم اماتہ فاقبرہ۔ یعنی اس کے لیے قبربنائی تاکہ اس میں چھپایاجائے، یہ حکم اس کی تکریم کے لیے دیا اور اسے ان چیزوں میں سے نہیں بنایا جن کو زمین پر پھینک دیا جاتا ہے، جسے پرندے اور درندے کھاتے ہیں، یہ فراء نے کہا، ابوعبیدہ نے کہا، اقبرہ کا معنی ہے اس کے لیے قبربنائی اور حکم دیا کہ اسے قبر میں دفن کردیاجائے، ابوعبیدہ نے کہا، جب عمر بن ہبیرہ نے صالح بن عبدالرحمن کو قتل کیا توبنوتمیم نے کہا، جبکہ وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، اقبرنا صالحا، تو جواب میں کہا، دونکموہ خود ہی یہ ذمہ داری ادا کرلو، اقبرہ، قبرہ نہیں کہا، کیو کہ قبرہ اسے کہتے ہیں جو اپنے ہاتھوں سے دفن کرے یہ جملہ بولا جاتا ہے، قبرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–22

5۔ ابن جریر نے عورفی کے طریق سے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ پھر اس پر راستہ آسان کردیا۔ یعنی اس کی ماں کے پیٹ سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا۔ 6۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ یعنی اس کا رحم سے نکلنا آسان کردیا۔ 7۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ سے مراد ہے کہ اس کی ماں کے پیٹ سے اس کا نکلنا آسان کردیا۔ 8۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 9۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ یعنی اس کا رحم سے نکلنا آسان کردیا۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ اَمَاتَهٗ : پھر اس نے موت دی اس کو ][ فَاَقْبَرَهٗ : تو اس نے دفن کرایا اس کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ0021﴾ (پھر اسے موت دی پھر اسے قبر میں چھپا دیا) مرنا اور جینا انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے اور موت کے بعد تو بالکل ہی بےبس ہوجاتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ کے دوسرے بندے بحکم الٰہی تشر یعا وتکوینا قبر میں پہنچا دیتے ہیں، چونکہ عموماً بنی آدم مردوں کو دفن ہی کرتے ہیں اس لیے لفظ اقبرہ فرمایا انسان کے دفن کیے جانے میں اس کا اکرام ہے اگر میدان میں پڑا رہے اور جانور کھاتے رہیں اور ادھر ادھر ہڈیاں پڑی رہیں اس کی بجائے اس کی نعش کو زمین کے حوالے کردیا جاتا ہے وہ اسے سنبھال لیتی ہے۔ یہ ظاہری اکرام ہے اس کے بعد قبر میں کیا ہوتا ہے اس کا تعلق مرنے والے کے ایمان اور کفر اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–23

7:۔ ” من ای شیء خلقہ “ استفہام بمعنی تقریر ہے اور ” ای شیء “ سے مراد بیان تحقیر ہے یعنی نہایت حقیر چیز سے اللہ نے اس کو پیدا فرمایا ہے ” من نطفۃ “ یہ اس حقیر چیز کا بیان ہے۔ نطفہ سے اس کو رحم مادر میں پیدا کیا اور اس کی اجل، اس کے عمل، اس کے رزق اور اس کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ کیا پھر ایام حمل گذر جانے کے بعد رحم مادر سے اس کے باہر نکلنے کا راستہ آسان فرمایا پھر اس کو موت دی اور قبر میں اتروا دیا پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما لے گا۔ ” کلا “ بمعنی ” حقا “ ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ انسان کافر نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل نہیں کی۔ حالانکہ اس کا فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات جلیلہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–32

(گذشتہ سے پیوسنہ ) اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 20–21

ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَہٗ۝ 20 ۙ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ يسر اليُسْرُ : ضدّ العسر . قال تعالی: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] ، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] ، فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] وتَيَسَّرَ كذا واسْتَيْسَرَ أي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–23

ترکیب ¦ قتل الانسان الجملۃ فی الظاھر خبرو فی المعنی انشاء وھی دعاء علیہ وھی من اشنع دعوات العرب لان القتل اشد مصائب الدنیا۔ والدعاء علی الانسان یلیق بالعاجز واللہ سبحانہ قادر فوجھم انما اور دہ علی اسلوب کلام العرب ومحاوراتھم ما اکفرہ صیغۃ التعجب۔ والجملۃ انشایۃ انما اور دھا علی مح اور تھم من ای شی خلقہ استفھام والغرض زیادۃ التقریر فی التحقیر ومن تتعلق بخلق من نطفہ جواب الاستفھام والوقف علی جید من تتعلق بخلق خلقہ الخ کلام مبتداء لبیان خلقۃ الانسان السبیل منصوب بفعل مضمر یدل علیہ المذکور ای یسر السبیل یسرہ کلا۔ روع وزجر للانسان الکافر عما ھو علیہ من التکبر والاصرار علی الکفر۔ لما بمعنی لم وفاعل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–22

مِنْ اَیِّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ ۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ ط خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۔ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ ۔ ثُمَّ اَمَاتَـہٗ فَاَقْبَرَہٗ ۔ ثُمَّ اِذَا شَـآئَ اَنْشَرَہٗ ۔ (عبس : 18 تا 22) اسے ( اللہ نے) کس چیز سے پیدا کیا ؟ پانی کی ایک بوند سے، اللہ نے اسے پیدا کیا، پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔ پھر اس کے لیے راہ آسان کردی۔ پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔ ) انسان پر احسانات سے استدلال یہ کفار جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کے سامنے تکبر کا اظہار کرتے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے سامنے سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ کاش انھیں کبھی ان باتوں پر غور کرنے کا موقع ملے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–23

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا ہیجس شخص نے قرآن کی نصیحت سے انکار کیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے کہ انسان اس پر اخلاص کے ساتھ عمل پیرا ہو کر قیامت کی جوابدہی کی تیاری کرے اور دنیا میں رہ کر اپنے فکر وعمل کو سنوار لے۔ جس نے اس کا انکار کیا وہ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور جو قیامت کے دن پکڑا گیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کون پیدا کرے گا ؟ کیا انکار کرنے والے کو یہ معلوم نہیں کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21 : ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ (پھر اس کو موت دی پھر اس کو قبر میں لے گیا) اس کو قبر والا بنایا جس میں اس کو چھپایا جاتا ہے۔ حیوانات کی طرح نہیں کہ کھلا چھوڑ دیا جائے یہ اس کی تکریم کی گئی۔ قبرا لمیتؔ : اس کو دفن کا مقام۔ اقبرہٗ اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کو قبر میں رکھا جائے اور اس کو اس پر قدرت و اختیار بھی دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20 ۔” م السبیل یسرہ “ یعنی اس کے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ۔ سدی اور مقاتل رحمہم اللہ نے فرمایا ہے اور حسن اور مجاہد رحمہم اللہ فرماتے ہیں یعنی حق اور باطل کا راستہ اس کے لئے اس کا علم آسان کیا۔ جیسا کہ فرمایا ” انا ھدیناہ السبیل، وھدیناہ النجدین “ اور کہا گیا ہے ہر ایک پر وہ آسان ہے جس کے لئے اس کو پیدا کیا اور اس کا اندازہ کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–31

17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ ) پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس کے مردہ جسم کی تکریم کی تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا۔ جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

(19) زندگی کے آخری مرحلے کی تذکیر ویاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور خاتمۃ المطاف یعنی زندگی کے آخری مرحلے کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہی اس کو موت کے گھاٹ اتار کر قبر میں پہنچا دیتا ہے، تاکہ اس کا اس دنیا سے کوچ بھی عزت و احترام اور تعظیم و تکریم سے ہو، ورنہ ذرا سوچو کہ اگر ایسے نہ ہوتا اور باضابطہ تجہیز و تکفین کے بغیر اس کی لاش کو یونہی باہر ڈال دیا جاتا، جہاں درندو پرند اس کی لاش کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہوتے جس طرح کہ وہ دوسرے مردہ جانوروں کو کھاتے ہیں تو اس کا کیا حال ہوتا ؟ نیز اس میں یہ بڑا عظیم الشان درس بھی ہے کہ انسان اپنی پیدائش اور زندگی اور موت سب ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–42

انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 تاکہ ایسا نہ ہو کہ زمین پر پڑے رہنے سے درندے اور پرندے اس کا گوشت نوچیں اور زندوں کے سامنے اس کی بےحرمتی ہو۔ معلوم ہوا کہ میت کو دفن کرنا مشروع ہے اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے یہاں تک ابتداء سے لے کر انتہا تک انسان کے تمام احولا بالاجمال بیان کردیئے ہیں اب اس کے بعد جزائے اعمال کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:21) ثم امانۃ فاقبرہ : ثم حرف عطف ہے پھر۔ اماتہ ، امات ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اماتہ (افعال) مصدر۔ بمعنی موت دینا۔ مار ڈالنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان کے لئے ہے۔ ترجمہ :۔ پھر اس (خدا) نے اسے (انسان کو) موت دی۔ فاقبر :تعقیب کا۔ اقبر : ماضی واحد مذکر غائب اقبار (افعال) بمعنی قبر میں رکھوانا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب پھر اس کو قبر میں رکھوایا۔ یعنی امر ان یقبر حکم دیا کہ اس کو قبر میں دفن کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–23

خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کا حشر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر کی ایتوں میں گزرا ہے بلکہ انسان تو ایسا بڑاناشکرا ہے اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند یعنی منی سے مناسب اعضا میں بنایا، پیدائش کا وقت اس پر ایک مشکل کا وقت تھا اس کو آسان کیا اور پھر طرح طرح کی چیزیں اس کی عمر بھر کی ضرورت کی پیدا کیں اور جب اس کی عمر پوری ہوگئی توعقبی کے انتظام کی مصلحت سے اس کی روح قبض کی اور اس کی لاش کو رواں دواں نہیں ہونے دیا کہ کتے کوے اس کو کھاجائیں بلکہ مردوں کو زمین میں دفن کرنے کی حکمت دنیا میں ایجاد کردی تاکہ مردہ کی لاش کا پردہ ڈھکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–22

[6] یعنی اس کی فطرت کی ہر مانگ پوری کی اور وہ تمام اسباب و وسائل فراہم کئے جو زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–36

ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 17–23

آیت 17 تا 23: بہ ناقدر اور نا شناس انسان جو کہ پاکبازوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتا اور چیں بجیں ہوتا ہے اور انہیں ڈانٹنا ہے خودذلیل و رسوا ہے اسے اپنی پیدائش یاد نہیں کہ کس گندے پانی سے اسے بنایا ہے۔ آخر اسے نطفہ ہی سے بنایا گیا ہے جو پشت سے ہوتا ہوا کہاں سے کہاں جا نکلتا ہے ۔ پھر وہ طوراً بعد طور حالات بدلتا ہوا کیا سے کیا بنتا رہتا ہے اور اس کے یہ حالات پیٹوں میں اللہ پاک کی قدرتوں سے اول بدل ہوتے ہوئے ایک کامل انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جس کے اعضاء متناسب اور شکل نہایت اچھی ہوتی ہے پھر وہ اسی طرح پر رفتہ رفتہ جوان ہو کر اللہ پاک کا مخاطب ٹھہر کر اس کے احکام کا مکلف قرار پاتا ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–22

ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَ‌هُ (Later, he made him die, and put him into the grave..80:21) After mentioning the inception of human life, Allah points to its end, that is, death and grave. Death has been mentioned here in the context of blessings of Allah. It indicates that death is a blessing rather than a calamity. The Holy Prophet ﷺ is reported to have put it thus: تحفَۃ المؤمِن الموت "The gift of a believer is death." Moreover, there is a profound wisdom in death at macro level for the entire world. The phrase فَأَقْبَرَ‌هُ fa-aqbarah (and put him into the grave) describes another blessing…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 That is, not only in the matter of birth and destiny but in the matter of death also he is absolutely helpless before his Creator. Neither he can take birth by his choice nor die by his choice, nor can defer his death even by a moment. He dies precisely at the appointed time, in the appointed place, under the appointed circumstances that have been decreed for his death, and he is deposited in the type of grave destined for him whether it is the belly of the earth, the depths of the sea, a bonfire. or the stomach of a beast. Nothing to say of the man, even the whole world together cannot…

Read the full tafseer →