ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗ ۟ۙثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ
پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then He eased the way for him;
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗ ۟ۙثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ
پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then He eased the way for him;
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
پھر اِس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی
پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا
پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا
پھر اس کے لیے راستہ بھی آسان بنادیا۔
پھر اسے راستہ آسان کیا
پھر (تشکیل، ارتقاء اور تکمیل کے بعد بطنِ مادر سے نکلنے کی) راہ اس کے لئے آسان فرما دی،
پھر اس کے لیے راستہ آسان کردیا۔
پھر اس کے لئے راستہ آسان کردیا
، پھر اس کے لئے راہ آسان کردی
پھر اس نے آسان فرما دیا اس کے لیے (زندگی کا) راستہ
پھر اس کے لئے راستہ آسان کردیا۔
پھر آسان کردیا اس پر راستہ۔
پھر اس کے لیے راستہ آسان کردیا
and then made the course of life easy for him,
then He made the way easy for him,
then He made the way easy for him,
Then He made the path easy for him.
Then maketh the way easy for him,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then He eased the way for him;
and made the path of guidance easy for him to follow.
Then (as for) the way-- He has made it easy (for him)
Then the way He made easy.
Then doth He make His path smooth for him;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 17–32
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…
Read the full tafseer →سورة عَبَس 13 یعنی دنیا میں وہ تمام اسباب و وسائل فراہم کیے جن سے یہ کام لے سکے، ورنہ اس کے جسم اور ذہن کی ساری قوتیں بےکار ثابت ہوتیں اگر خالق نے ان کو استعمال کرنے کے لیے زمین پر یہ سرو سامان مہیا نہ کردیا ہوتا اور یہ امکانات پیدا نہ کردیے ہوتے۔ مزید براں خالق نے اس کو یہ موقع بھی دے دیا کہ اپنے لیے خیر یا شر، شکر یا کفر، طاعت یا عصیان کی جو راہ بھی یہ اختیار کرنا چاہے کرسکے، اس نے دونوں راستے اس کے سامنے کھول کر رکھ دیے اور ہر راہ اس کے لیے ہموار کردی کہ جس پر بھی یہ چلنا چاہے چلے۔
Read the full tafseer →ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ ، یعنی حق تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے انسان کی تخلیق بطن مادر کی تین اندھیریوں اور ایسے محفوظ مقام میں فرمائی کہ جس کے پیٹ میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس کو بھی اس کی تخلیق کی تفصیل کی کچھ خبر نہیں، پھر یہ زندہ تمام اعضاء وجوارح سے مکمل انسان جس جگہ میں بنا ہے وہاں سے اس دنیا میں آنے کا راستہ بھی باوجود تنگ ہونیکے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہی نے آسان فرمادیا کہ چار پانچ پونڈ کا وزنی جسم صحیح سالم برآمد ہوجاتا ہے اور ماں کے وجود کو بھی اس سے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچتا۔ فتبرک اللہ احسن الخلقین
Read the full tafseer →تیسیر اپنے وسیع مفہوم میں: ’ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ‘۔ مفسرین نے عام طور پر اس تیسیر سے وہ تدبیر مراد لی ہے جو قدرت نے بچے کے بطن مادر سے برآمد ہونے کے لیے خود عورت اور بچہ کے نظام جسم میں ودیعت فرما دی ہے اور جو دونوں کی مدد کے لیے عین وقت پر نمودار ہوتی ہے۔ یہ بات غلط نہیں ہے۔ اس میں ذرا شبہ نہیں کہ یہ قدرتی انتظام نہ ہو تو کوئی دوسری تدبیر اس کا بدل نہیں ہے بلکہ زچہ و بچہ دونوں کے گھٹ کر مر جانے کا اندیشہ ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک تیسری کے مفہوم کو اس قدر محدود کر دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بچہ جس طرح بطن مادر کے اندر قدرت ہی کی تدبیر و تیسیر سے نشوونما پاتا ہے اسی طرح مہد سے لحد تک قدرت ہی…
Read the full tafseer →20۔ 1 یعنی خیر اور شر کے راستے اس کے لئے واضح کردیئے، بعض کہتے ہیں اس سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
6: اس کی ایک تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ بچے کو ماں کے پیٹ سے باہر آنے کا راستہ اللہ تعالیٰ نے آسان بنادیا کہ وہ ایک تنگ جگہ سے بہ آسانی باہر آجاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ انسان کے دنیا میں جینے کا راستہ آسان بنادیا، اور اس کی ساری ضروریات دنیا میں مہیا فرما دیں۔
Read the full tafseer →ثم ................ یسرہ (20:80) ” پھر اس کے لئے راہ میسر کی “۔ زندگی کی راہ یا ہدایت کی راہ ۔ زندگی کی راہ یا ہدایت کی راہوں پر چلنے کے لئے اس کے اندر استعداد اور صلاحتیں ودیعت فرمائیں۔ اور جب زندگی کا یہ سفر ختم ہوا تو یہ انسان بھی اس انجام تک جاپہنچا جس تک تمام زندہ مخلوق کو پہنچنا ہے۔ اس انجام تک پہنچنے سے رکنا اس کے اختیار میں نہیں ہے اور اس انجام سے کوئی راہ فرار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →9 یعنی ایمان و کفر اور بھلے برے کی سمجھ دی یا ماں کے پیٹ میں سے نکالا آسانی سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت 20{ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ۔ } ”پھر آسان کردیا اس پر راستہ۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں ایسا ماحول فراہم کیا ہے اور اسے ایسی سہولیات سے نوازا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں زندگی بسر کرنا اس کے لیے بہت آسان ہوگیا ہے۔ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ماں کے پیٹ سے انسان کے دنیا میں آنے کا راستہ اللہ تعالیٰ نے آسان کردیا ہے۔ یعنی وضع حمل کا بظاہر انتہائی پیچیدہ اور مشکل مرحلہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آسان ہوگیا ہے۔
Read the full tafseer →13 اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ماں کے پیٹ سے باہر آنا اس کے لیے آسان بنادیا۔ جب رحم مادر میں بچے کی نشوونما پوری ہوچکتی ہے تو ماں اس کو اپنے پیٹ سے باہر نکالنے کے لیے بےقرار ہوجاتی ہے اور جب تک اسے جن نہ لے اسے قرار نہیں آتا۔ راستہ تنگ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ وضع حمل کے وقت اس راستہ میں اتنی لچک پیدا کردیتا ہے کہ ماں کے لئے اس کا جننا آسان ہوجاتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمام ایسی قوتیں عطا کردیں اور استعداد مہیا کردی کہ وہ دنیا میں موجود وسائل و اسباب سے کام لے کر اپنی زندگی گزار سکے اور تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خیر و شر کے دونوں راستے سمجھا دیے۔ اس کی…
Read the full tafseer →9۔ (تحصیل خیروشرکا، تحقیق حق و باطل کا اور معرفت نفع وضرر کا) (آیت) ” السبیل “ سے مراد وہ نظر مستقیم ہے جو انسان کو ایمان کی طرف لاتی ہے، اور انسان کو جو نعمت عقل عطاہوئی ہے، یہ اس میں آسانی پیدا کردیتی ہے، السبیل اے النظر القویم المؤدی الی الایمان وتیسیرہ لہ ھوھبۃ العقل (بحر، عن ابن عباس ؓ وقتادۃ ابی صالح والسدی) السبیل العام اسم الجنس فی ھدی وضلال اے یسرقوما بھذا (بحر۔ عن مجاہد والحسن وعطاء وابن عباس ؓ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
خلقہ فقدرہ، یعنی یہی نہیں کہ نطفہ سے ایک جاندار کا وجود بنادیا بلکہ اس کو ایک خاص اندازہ اور بڑی حکمت سے بنایا، اس کے قد و قامت اور جسامت اور شکل و صورت اور اعضاء کا طول و عرض اور جوڑ و بند، آنکھ، ناک وغیرہ کی تخلیق میں ایسا اندازہ قائم کیا کہ ذرا اس کے خلاف ہوجائے تو انسان کی صورت بگڑ جائے۔
Read the full tafseer →ثم السبیل یسرہ . السبیل فعل محذوف کا مفعول ہے اور یَسَّرَہٗ اس کی تشریح ہے یعنی پھر اللہ نے پیٹ سے نکلنے کا راستہ اس کے لیے آسان کردیا۔ سدی اور مقاتل نے یہی معنی بیان کیے یا پیغمبر اور کتابیں بھیج کر اللہ نے راہ حق اور خدا تک پہنچنے کی سبیل آسان کردی تاکہ تکمیل حجت ہوجائے ‘ اسی مضمون پر دلالت کر رہی ہے یہ آیت : فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی وَ کَذَّبَ بالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی ‘ یا اللہ نے انسان کے لیے دنیوی زندگی اور وہ (مآل و نتیجہ) جو دنیوی زندگی پر موقوف ہے ‘ آسان کردیا کیونکہ دنیا یا جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
(17۔ 22) عتبہ بن ابی لہب کافر پر اللہ کی مار وہ اللہ تعالیٰ کا کیسا ناشکرا ہے، یا یہ کہ اس کا کفر کیسا سخت ہے اسے اپنے وجود پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسی حقیر چیز سے پیدا کیا۔ آگے بیان ہے کہ نطفہ سے پیدا کیا پھر اس کے ہاتھ، پیر، کان اور تمام اعضاء بنائے پھر خیر اور شر کا راستہ اس کو بیان کردیا یا یہ کہ رحم مادر سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا، پھر اس کے بعد اس کو موت دی اور پھر قبر میں لے گیا پھر اس کو قبر سے دوبارہ زندہ کردے گا۔ شان نزول : قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کی گئی ہے کہ یہ عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل…
Read the full tafseer →ثم السبیل یسرہ : پھر اس کے لئے راستہ آسان کردیا۔ اس کے تین معانی ہوسکتے ہیں، پہلا یہ کہ ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا، ورنہ ان تنگ ہڈیوں کے حصار سے نکل ہی نہ سکتا اور وہیں خود بھی مرجاتا اور ماں کی موت کا بھی باعث بنتا، دوسرا یہ کہ خیر و شر میں سے جس راستے پر چلنا چاہے ، وہی اس کے لئے آسان کردیا اور تیسرا یہ کہ صحیح راستے کی پہچان اس کے لئے آسان کردی، جس سے وہ اپنے پیدا کرنے والے پر ایمان لاسکتا ہے۔ تینوں معانی دسرت ہیں، مگر ”من نطفۃ خلقہ فقدرہ“ کی مناسبت سے پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ (التسہیل)
Read the full tafseer →ثم السبیل یسرہ۔ عطا، قتادہ، سدی اور مقاتل نے کہا، ماں کے پیٹ سے نکلنے کو آسان کردیا، مجاہد نے کہا، اس کے لیے خیر اور شر کے راستہ کو واضح کردیا، اس کی دلیل، انا ھدینہ السبیل۔ الانسان 3) ہم نے اسکی راستہ کی طرف راہنمائی کی، وھدینہ النجدین۔ البلد) ہم نے اسے دونوں راستے دکھادیے، یہ حضرت حسن بصری، عطاء اور حضرت ابن عباس کا قول ہے، جو ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے مجاہد نے یہ بھی کہا، شقاوت اور سعادت کا راستہ، ابن زید نے کہا، اسلام کا راستہ، ابوبکر بن ظاہر نے کہا، اللہ تعالیٰ نے ہر ایک لیے اس چیز کو آسان کردیا جس کے لیے اسے پیدا کیا تھا اور اس پر اسے قدرت دے دی، اس پر دلیل رسول اللہ کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
5۔ ابن جریر نے عورفی کے طریق سے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ پھر اس پر راستہ آسان کردیا۔ یعنی اس کی ماں کے پیٹ سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا۔ 6۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ یعنی اس کا رحم سے نکلنا آسان کردیا۔ 7۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ سے مراد ہے کہ اس کی ماں کے پیٹ سے اس کا نکلنا آسان کردیا۔ 8۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 9۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم السبیل یسرہ یعنی اس کا رحم سے نکلنا آسان کردیا۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد…
Read the full tafseer →[ثُمَّ السَّبِيْلَ : پھر راہ کو ][ يَسَّرَهٗ : اس نے آسان کیا اس کے لیے ] نوٹ۔ 4: آیت۔ 20 ۔ میں راستہ کو آسان کردینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں وہ تمام اسباب اور وسائل فراہم کیے جن سے یہ کام لے سکے۔ ورنہ اس کے جسم اور ذہن کی ساری قوتیں بےکار ثابت ہوتیں اگر خالق نے ان کو استعمال کرنے کے لیے زمین پر یہ سروسامان مہیا نہ کردیا ہوتا اور یہ امکانات پیدا نہ کر دئیے ہوتے۔ مزید برآں خالق نے اس کو یہ موقع بھی دیا کہ اپنے لیے خیر یا شر، شکر یا کفر، طاعت یا نافرمانی کی جو راہ بھی اختیار کرنا چاہے کرسکے۔ اس نے دونوں راستے اس کے سامنے کھول کر رکھ دئیے اور ہر راہ اس کے لیے ہموار کردی کہ جس پر بھی چلنا چاہے…
Read the full tafseer →﴿ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗۙ0020﴾ (پھر اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا) ماں کے رحم میں نطفہ سے خون کے لوتھڑے سے شکل و صورت بنتی ہے پھر اس میں جان ڈالی جاتی ہے یہ جاندار بچہ جس کا اچھا خاصا جسمانی وجود ہوتا ہے ایک تنگ راستہ سے باہر آجاتا ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ ہے اسی نے اندر مادر رحم میں تخلیق فرمائی اور اسی نے باہر آنے کا راستہ بنایا اور باوجود تنگ راستہ ہونے کے بچہ کے باہر آنے میں آسانی فرما دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
7:۔ ” من ای شیء خلقہ “ استفہام بمعنی تقریر ہے اور ” ای شیء “ سے مراد بیان تحقیر ہے یعنی نہایت حقیر چیز سے اللہ نے اس کو پیدا فرمایا ہے ” من نطفۃ “ یہ اس حقیر چیز کا بیان ہے۔ نطفہ سے اس کو رحم مادر میں پیدا کیا اور اس کی اجل، اس کے عمل، اس کے رزق اور اس کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ کیا پھر ایام حمل گذر جانے کے بعد رحم مادر سے اس کے باہر نکلنے کا راستہ آسان فرمایا پھر اس کو موت دی اور قبر میں اتروا دیا پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما لے گا۔ ” کلا “ بمعنی ” حقا “ ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ انسان کافر نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل نہیں کی۔ حالانکہ اس کا فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات جلیلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
(گذشتہ سے پیوسنہ ) اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَہٗ 20 ۙ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ يسر اليُسْرُ : ضدّ العسر . قال تعالی: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] ، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] ، فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] وتَيَسَّرَ كذا واسْتَيْسَرَ أي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
ترکیب ¦ قتل الانسان الجملۃ فی الظاھر خبرو فی المعنی انشاء وھی دعاء علیہ وھی من اشنع دعوات العرب لان القتل اشد مصائب الدنیا۔ والدعاء علی الانسان یلیق بالعاجز واللہ سبحانہ قادر فوجھم انما اور دہ علی اسلوب کلام العرب ومحاوراتھم ما اکفرہ صیغۃ التعجب۔ والجملۃ انشایۃ انما اور دھا علی مح اور تھم من ای شی خلقہ استفھام والغرض زیادۃ التقریر فی التحقیر ومن تتعلق بخلق من نطفہ جواب الاستفھام والوقف علی جید من تتعلق بخلق خلقہ الخ کلام مبتداء لبیان خلقۃ الانسان السبیل منصوب بفعل مضمر یدل علیہ المذکور ای یسر السبیل یسرہ کلا۔ روع وزجر للانسان الکافر عما ھو علیہ من التکبر والاصرار علی الکفر۔ لما بمعنی لم وفاعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
مِنْ اَیِّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ ۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ ط خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۔ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ ۔ ثُمَّ اَمَاتَـہٗ فَاَقْبَرَہٗ ۔ ثُمَّ اِذَا شَـآئَ اَنْشَرَہٗ ۔ (عبس : 18 تا 22) اسے ( اللہ نے) کس چیز سے پیدا کیا ؟ پانی کی ایک بوند سے، اللہ نے اسے پیدا کیا، پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔ پھر اس کے لیے راہ آسان کردی۔ پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔ ) انسان پر احسانات سے استدلال یہ کفار جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کے سامنے تکبر کا اظہار کرتے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے سامنے سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ کاش انھیں کبھی ان باتوں پر غور کرنے کا موقع ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا ہیجس شخص نے قرآن کی نصیحت سے انکار کیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے کہ انسان اس پر اخلاص کے ساتھ عمل پیرا ہو کر قیامت کی جوابدہی کی تیاری کرے اور دنیا میں رہ کر اپنے فکر وعمل کو سنوار لے۔ جس نے اس کا انکار کیا وہ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور جو قیامت کے دن پکڑا گیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کون پیدا کرے گا ؟ کیا انکار کرنے والے کو یہ معلوم نہیں کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اللہ…
Read the full tafseer →20 : ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ (پھر اس کا راستہ آسان کردیا) نحو : السبیل یہ یسَّر مضمر کی وجہ سے منصوب ہے ای ثم سہل لہٗ سبیل الخروج من بطن امہ یعنی پھر اس کے لئے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کردیا۔ یا اس کے سامنے خیرو شر کو کھول کر بیان کردیا۔
Read the full tafseer →19 ۔” پھر تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ” من نطفۃ خلقہ فقدرہ “ مختلف مراحل میں، نطفہ پھر جما ہوا خون خلقت کے آخر تک۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کی تخلیق کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کیا اس کے سر اور آنکھوں اور دونوں ہاتھوں پائوں کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…
Read the full tafseer →(ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ ) یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کردیے اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کردیا اور امر ونہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا۔
Read the full tafseer →(18) تیسیر سبیل اپنے وسیع مفہوم میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور تیسیر سبیل کی نعمت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس نے آسان فرمادیا اس کے لیئے اس کے راستے کو " سب سے پہلے اس کے لیے بطن مادر سے اس عالم ہست و بود میں آنے کی راہ کو آسان فرمایا۔ اسی لیے حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ جو دو پیشاب گاہوں یعنی مرد اور عورت کے ذریعے اس دنیا میں آیا ہو اس کو اکڑنے اور تکبر کرنے کا حق پہنچتا ہے ؟ (ابن کثیر، قرطبی وغیرہ) نیز اس کے لیے اس نے ہدایت کا وہ عظیم الشان راستہ بھی آسان فرما دیا جو دارین کی سعادتوں اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کا ذریعہ ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →ف 7 یا۔ (خیر اور شرکاراستہ اس پر آسان کیا۔ اس لحاظ سے آیت اس آیت کے مشابہ ہے جس میں ارشاد ہے۔ وھدیناہ النجدین۔ اور ہم نے اسے دونوں راستے دکھانے۔۔
Read the full tafseer →(80:20) ثم السبیل یسرہ : ثم تراخی زمان کے لئے ہے۔ پھر۔ اس کے بعد ۔ السبیل فعل محذوف کا مفعول ہے لہٰذا منصوب ہے۔ تقدیر کلام یوں ہوگی :۔ ثم یسرا السبیل یسرہ : ثم تراخی وقت کے لئے ۔ پھر۔ ازاں بعد۔ السبیل۔ راستہ، راہ، سبیل اصل میں اس راہ کو کہتے ہیں جو واضح ہو اور اس میں سہولت ہو۔ امام راغب (رح) لکھتے ہیں :۔ سبیل کا استعمال ہر اس شے کے لئے ہوتا ہے جس کے ذریعے کسی شے تک پہنچا جاسکے۔ خواہ وہ شے شر ہو یا خیر۔ نیز واضح راستہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے یہ لفظ مذکر بھی استعمال ہوتا ہے اور مؤنث بھی۔ اس کا تذکیر ارشاد الٰہی ہے :۔ وان یروا سبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا (7:146) اور اس کی تانیث : ارشاد الٰہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کا حشر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر کی ایتوں میں گزرا ہے بلکہ انسان تو ایسا بڑاناشکرا ہے اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند یعنی منی سے مناسب اعضا میں بنایا، پیدائش کا وقت اس پر ایک مشکل کا وقت تھا اس کو آسان کیا اور پھر طرح طرح کی چیزیں اس کی عمر بھر کی ضرورت کی پیدا کیں اور جب اس کی عمر پوری ہوگئی توعقبی کے انتظام کی مصلحت سے اس کی روح قبض کی اور اس کی لاش کو رواں دواں نہیں ہونے دیا کہ کتے کوے اس کو کھاجائیں بلکہ مردوں کو زمین میں دفن کرنے کی حکمت دنیا میں ایجاد کردی تاکہ مردہ کی لاش کا پردہ ڈھکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
[6] یعنی اس کی فطرت کی ہر مانگ پوری کی اور وہ تمام اسباب و وسائل فراہم کئے جو زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(20) پھر راستہ اس کو آسان کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17 تا 23: بہ ناقدر اور نا شناس انسان جو کہ پاکبازوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتا اور چیں بجیں ہوتا ہے اور انہیں ڈانٹنا ہے خودذلیل و رسوا ہے اسے اپنی پیدائش یاد نہیں کہ کس گندے پانی سے اسے بنایا ہے۔ آخر اسے نطفہ ہی سے بنایا گیا ہے جو پشت سے ہوتا ہوا کہاں سے کہاں جا نکلتا ہے ۔ پھر وہ طوراً بعد طور حالات بدلتا ہوا کیا سے کیا بنتا رہتا ہے اور اس کے یہ حالات پیٹوں میں اللہ پاک کی قدرتوں سے اول بدل ہوتے ہوئے ایک کامل انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جس کے اعضاء متناسب اور شکل نہایت اچھی ہوتی ہے پھر وہ اسی طرح پر رفتہ رفتہ جوان ہو کر اللہ پاک کا مخاطب ٹھہر کر اس کے احکام کا مکلف قرار پاتا ہے جیسے…
Read the full tafseer →ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ (then He made the way easy for him...80:20) Allah through His consummate wisdom creates man in his mother's womb, creation after creation, within three layers of darkness [ i.e. the belly, the womb and the amniotic membrane ]. It is kept in a safe place in the belly. The mother in whose belly all this is happening is totally unaware of any of the details of this process. Thereafter, when the baby becomes perfect with all its limbs and organs, Allah made it possible that a body weighing 3 to 4 kg comes out through an extremely narrow passage, and the mother does not…
Read the full tafseer →13 That is, He created all those means and provisions in the world, which he could utilize, otherwise all the capabilities of his body and mind would have remained useless, had not the Creator provided the. means and created the possibilities on the earth to employ them. Furthermore, the Creator also gave him the opportunity to choose and adopt for himself whichever of the ways, good or evil, of gratitude or ingratitude, of obedience or disobedience, that he pleased. He opened up both the ways before him and made each way smooth and easy so that he could follow any way that he liked.
Read the full tafseer →