Explained with ayahs 17–32
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی
جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…
Read the full tafseer →سورة عَبَس 11
یعنی پہلے تو ذرا یہ اپنی حقیقت پر غور کرے کہ کس چیز سے یہ وجود میں آیا ؟ کس جگہ اس نے پرورش پائی ؟ کس راستے سے یہ دنیا میں آیا ؟ اور کس بےبسی کی حالت سے دنیا میں اس کی زندگی کی ابتدا ہوئی ؟ اپنی اس اصل کو بھول کر یہ ہمچو ما دیگرے نیست کی غلط فہمی میں کیسے مبتلا ہوجاتا ہے اور کہاں سے اس کے دماغ میں یہ ہوا بھرتی ہے کہ اپنے خالق کے منہ آئے ؟ (یہی بات سورة یسین، آیات 77۔ 78 میں فرمائی گئی ہے)۔
سورة عَبَس 12
یعنی یہ ابھی ماں کے پیٹ ہی میں بن رہا تھا کہ اس کی تقدیر طے کردی گئی۔ اس کی جنس کیا ہوگی۔ اس کا رنگ کیا ہوگا۔ اس کا قد کتنا ہوگا۔ اس کی جسامت کیسی اور کس قدر ہوگی۔ اس کے اعضاء کس…
Read the full tafseer →اور لفظ قدرہ سے یہاں یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ انسان جس وقت بطن مادر میں زیر تخلیق ہوتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ اس کی چار چیزوں کی مقدار لکھ دیتے ہیں وہ یہ کہ وہ کیا کیا اور کیسے کیسے عمل کریگا، اس کی عمر کتنی ہوگی، اس کو رزق کتنا ملے گا، اور انجام کار سعید ونیک بخث ہوگا یا شقی بدبخث (کمافی حدیث ابن مسعود عندالشیخین)
Read the full tafseer →’مِنْ نُّطْفَۃٍ خَلَقَہُ فَقَدَّرَہ‘۔ سوال کا جواب چونکہ بالکل واضح تھا جس سے کسی کے لیے بھی انکار کی گنجائش نہیں تھی اس وجہ سے جواب خود ہی دے دیا کہ پانی کی ایک بوند سے انسان کو پیدا کیا۔ اس پانی کی صفت قرآن کے دوسرے مقام میں ’مھین‘ آئی ہے جس کے معنی حقیر و ذلیل کے ہیں۔ یعنی نہ اپنی کمیت کے اعتبار سے کوئی بڑی چیز نہ قدر و قیمت کے اعتبار سے کوئی گوہر گراں مایہ! تو ایسے نجس قطرے سے وجود میں آنے والے انسان کو زیادہ اترانا کس طرح زیب دیتا ہے!
انسان کی خلقت میں تدبیر و حکمت کا پہلو: ’خَلَقَہُ فَقَدَّرَہٗ‘۔ تحقیر کے مضمون کے بعد کلام کا رخ اس تقدیر، تدبیر اور تیسیر کے بیان کی طرف مڑ گیا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
19۔ 1 یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرہ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →5: یعنی ماں کے پیٹ میں اس کے ایسے اعضاء اور ایسی صورت بنائی جو حیرت انگیز توازن کی حامل ہے۔ نیز اس کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اس کی تقدیر طے فرمائی۔
Read the full tafseer →من نطفة ................ فقدرہ (19:80) ” نطفہ کی ایک بوند سے۔ اللہ نے اسے پیدا کیا ، پھر اس کی تقدیر مقرر کی “۔ یعنی ایک ایسے نطفے سے جس کی کوئی قیمت نہیں ہے اور اس اصل جرثومے سے جس کے اندر کوئی قوت نہیں ، وہ خود نہ آسکتا تھا ، یہ تو خالق تھا جس نے اس کا آنا مقدر کیا۔ پھر اس کی صنعت اور تخلیق میں مضبوطی پیدا کی۔ پھر اسے ایک تندرست و توانا مخلوق بنایا اور اسے تمام مخلوقات پر ترجیح دی اور مکرم بنایا ، اور اس حقیر جرثومے کو اس زمین پر مختار ٹھہرایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
7 یعنی ذرا اپنی اصل پر تو غور کیا ہوتا کہ وہ پیدا کس چیز سے ہوا ہے۔ ایک ناچیز اور بےقدر قطرہ آب سے جس میں حس و شعور، حسن و جمال اور عقل و ادراک کچھ نہ تھا۔ سب کچھ اللہ نے اپنی مہربانی سے عطا فرمایا۔ جس کی حقیقت کل اتنی ہو کیا اسے یہ طمطراق زیبا ہے کہ خالق و منعم حقیقی ایسی عظیم الشان نصیحت اتارے اور یہ بےشرم اپنی اصل حقیقت اور مالک کی سب نعمتوں کو فراموش کر کے اس کی کچھ پروا نہ کرے۔ اور احسان فراموش ! کچھ تو شرمایا ہوتا۔
8 یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ سب اعضاء وقویٰ ایک خاص اسلوب اور اندازے سے رکھے۔ کوئی چیزیوں ہی بےتکی اور بےڈھنگی خلاف حکمت نہیں رکھ دی۔
Read the full tafseer →آیت 19{ مِنْ نُّطْفَۃٍط } ”ایک بوند سے۔“
{ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ۔ } ”اس نے اسے پیدا کیا اور اس کا ایک اندازہ مقرر کردیا۔“
”اندازے“ سے مراد یہاں ہر انسان کا ”شاکلہ“ ہے ‘ جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل کی آیت 84 میں آیا ہے۔ انسان کا شاکلہ دراصل اس کی فطری یا جبلی خصوصیات اور اس کے ماحول کے اس کی شخصیت پر مرتب ہونے والے اثرات کے مجموعے سے تشکیل پاتا ہے۔ یعنی ہر انسان کی وہ شخصیت جو اسے پیدائشی طور پر جینز genes کی صورت میں اپنے والدین کی طرف سے ملتی ہے ‘ عملی زندگی میں آکر اپنے ماحول کے مخصوص اثرات کی وجہ سے ایک خاص ”قالب“ میں ڈھل جاتی ہے۔ انسانی شخصیت کے اسی قالب کو اس انسان کا شاکلہ کہا جائے گا۔…
Read the full tafseer →12 وہ اگر یہ سوچتا کہ وہ کس چیز سے پیدا ہوا۔ کس جگہ وہ پرورش پاکر نطفہ سے بچہ بنا پھر کس بےبسی کی حالت میں ماں کے پیٹ سے باہر نکلا تو اسے ہرگز یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ اپنے خالق کے منہ کو آئے اور اس کا کلام سن کر اس کا انکار کردے ؟ پھر جب وہ ماں کے پیٹ میں نشوونما پا رہا تھا تو اس کی تقدیر طے کردی گئی۔ اس کی عمر کتنی ہوگی ؟ وہ کہاں مرے گا اور کہاں دفن ہوگا ؟ وہ تنگدست رہے گا یا خوشحال ہوگا۔ اسے ایمان میسر آئے گا یا نہیں ؟ وہ کفر کی حالت میں مرے گا یا ایمان کی حالت میں۔ یہ سب تفصیلات تو رحم مادر میں ہی طے کردی تھیں اور اس مقررہ تقدیر کے آگے وہ بالکل بےبس ہے لیکن ان باتوں کے باوجود وہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
7۔ اور پھر کیسی کیسی نعمتوں سے سرفراز وسربلند کیا ! مطلب یہ ہوا کہ اگر اور کچھ نہیں تو انسان انہیں چیزوں کا خیال کرلے، جب بھی اس میں ادائے شکر نعمت کی تحریک پیدا ہوسکتی ہے۔ (آیت) ” قتل “۔ صیغہ ماضی میں، عربی محاورہ میں، بددعاء کے لیے آتا ہے۔ (آیت) ” الانسان “۔ مراد کافر انسان ہے (آیت) ” من ای ..... نطفۃ “۔ نطفہ کی تحقیر سے ضمنا ان جاہلی قوموں کی تردید بھی نکل آئی، جنہوں نے اسے ایک مقدس شے قرار دیا ہے۔
8۔ یعنی نہ صرف عمل تخلیق بلکہ ترکیب انسانی میں تناسب و توازن اور قوی، اعضاء وغیرہ کی ساخت ترتیب، ہر شے قدرت الہی و حکمت کاملہ پر دلیل کا کام دے رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
خلقہ فقدرہ، یعنی یہی نہیں کہ نطفہ سے ایک جاندار کا وجود بنادیا بلکہ اس کو ایک خاص اندازہ اور بڑی حکمت سے بنایا، اس کے قد و قامت اور جسامت اور شکل و صورت اور اعضاء کا طول و عرض اور جوڑ و بند، آنکھ، ناک وغیرہ کی تخلیق میں ایسا اندازہ قائم کیا کہ ذرا اس کے خلاف ہوجائے تو انسان کی صورت بگڑ جائے۔
Read the full tafseer →من نطفۃ . من ای شی ءٍ میں جو مضمون مبہم تھا ‘ یہ اس کی تشریح ہے یعنی اللہ نے انسانوں کو نطفہ سے بنایا ‘ اس کے
بعد آغاز تخلیق سے لے کر انتہاء حیات تک تمام احوال انسانی کو بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا۔
خلقہ . اوّل اس کو رحم کے اندر نیست سے ہست کیا۔
فقدرہ . اس کے بعد اس کے لیے ایک اندازہ مقرر کردیا یعنی اللہ کے حکم سے مؤکل فرشتے نے اس کے لیے
چار باتیں لکھ دیں : 1) مقدار عمل ‘ 2) مدت زندگی ‘ 3) رزق ‘ 4) اور شقی یا سعید ہونا جیسا کہ ہم سورة المرسلات میں حضرت ابن مسعود کی روایت کردہ حدیث نقل کرچکے ہیں اور مسلم و بخاری اس کے ناقل ہیں۔ بعض اہل تفسیر نے آیت کی تشریح اس طرح کی ہے کہ تقدیر سے اعضاء و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
(17۔ 22) عتبہ بن ابی لہب کافر پر اللہ کی مار وہ اللہ تعالیٰ کا کیسا ناشکرا ہے، یا یہ کہ اس کا کفر کیسا سخت ہے اسے اپنے وجود پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسی حقیر چیز سے پیدا کیا۔ آگے بیان ہے کہ نطفہ سے پیدا کیا پھر اس کے ہاتھ، پیر، کان اور تمام اعضاء بنائے پھر خیر اور شر کا راستہ اس کو بیان کردیا یا یہ کہ رحم مادر سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا، پھر اس کے بعد اس کو موت دی اور پھر قبر میں لے گیا پھر اس کو قبر سے دوبارہ زندہ کردے گا۔
شان نزول : قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ (الخ)
ابن منذر نے عکرمہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کی گئی ہے کہ یہ عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
من ای شیء خلفہ…: یعنی اس شخص کو تکبر اور ناشکری کس طرح زیب دیتی ہے جسے اس کے بنانے والے نے مٹی کے ایک حقیر قطرے سے پیدا فرمایا ؟ پیدا کرنے کے دوران اس کی ہر چیز کا اندازہ مقرر فرمایا کہ اتنی مدت نطفہ رہے گا، پھر علقہ، پھر مضغہ بےروح، پھر جاندار اور خبوصورت انسان بنے گا۔ پھر اس کی ہر چیز اندازے کے ساتھ بنائی، کوئی چیز بےڈھب نہیں۔ پھر ماں کے شکم ہی میں وہ سب کچھ فرشتے کو لکھوا دیا جو اس نے زندگی بھر کرنا تھا۔”فقدرہ“ میں تینوں چیزیں شامل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
من ای شئی خلقہ، من نطفۃ خلقہ فقدرہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کافر کو کس چیز سے پیدا کیا ہے کہ وہ تکبر کا اظہار کرتا ہے ؟ یعنی اس کی خلقت پر تعجب کا اظہار کرو، تھوڑے سے پانی سے جو حقیر ہے، جامد ہے تو وہ اپنے بارے میں کس وجہ سے مغالطہ کا شکار ہوتا ہے ؟ حضرت حسن بصری نے کہا، وہ آدمی جو بول کے راستہ دو دفعہ دنکلا وہ کیسے تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی ماں کے پیٹ میں مقدر کیا۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس کے ہاتھوں، اس کے پاؤں، اس کی آنکھوں، تمام اعضا بدصورتی، لمبا، چھوٹا، بدبخت اور سعادت مند ہونے کو مقدر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فقدرہ کا معنی ہے اسے کامل بنایاجس طرح ارشاد فرمایا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1۔ ابن المنذرنے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قتل الانسان ما اکفرہ۔ انسان پر خدا کی مار وہ کیسا ناشکرا ہے یہ آیت عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے کہا میں ستارے کے رب کا انکار کرتا ہوں جب وہ اوپر سے نیچے گرتا ہے۔ نبی ﷺ نے اس پر بددعا فرمائی تو شام کے راستے میں ایک شیر اس پر حملہ آور ہوا اور اسے نگل گیا۔
2۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جو آیت قتل الانسان ہے۔ اس سے مراد کافر ہے۔
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما اکفرہ یعنی کتنا شدید ہے اس کا کفر۔ آیت فقدرہ۔ پھر اس کا اندازہ مقرر فرمایا یعنی نطفہ سے پھر علقہ پھر مضغہ پھر اس طرح مختلف مراحل…
Read the full tafseer →مِنْ نُّطْفَةٍ ۭ: (پانی کی) ایک بوند سے ][ خَلَقَهٗ : اس نے تخلیق کی اس کی ][ فَقَدَّرَهٗ : پھر اس نے تقدیر مقرر کی اس کی ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 19 ۔ میں فَقَدَّرَہٗ کا مطلب یہ ہے کہ انسان ابھی ماں کے پیٹ میں بن رہا ہوتا ہے تو اس کی تقدیر طے کردی جاتی ہے۔ اس کی جنس کیا ہوگی۔ اس کا رنگ، قد، جسامت وغیر کیسی ہوگی۔ اس کی شکل و صورت اور آواز کیسی ہوگی۔ اس کے جسم کی طاقت اور ذہنی صلاحیتیں کیا ہوں گی۔ کس سرزمین، کس خاندان اور کس ماحول میں یہ پیدا ہوگا، پرورش اور تربیت پائے گا۔ اور کتنا وقت اسے زمین میں کام کرنے کے لیے دیا جائے گا۔ اس تقدیر سے یہ بال برابر بھی ہٹ نہیں سکتا اور نہ اس میں ذرہ برابر ردوبدل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
﴿ مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗؕ0018﴾ (اسے کس چیز سے پیدا فرمایا) ﴿مِنْ نُّطْفَۃٍ﴾ (نطفہ سے پیدا فرمایا) جو حقیر اور ذلیل مادہ ہے اگر اپنی اصل کو دیکھے تو شرم سے آنکھیں نیچی ہوجائیں اور خالق کائنات جل مجدہ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہو جس نے ذلیل پانی سے ایسی اچھی جیتی جاگتی گوشت اور ہڈی اور بال اور کھال والی مورتی بنا دی۔ ﴿خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ﴾ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر اس کے اعضاء کو ایک خاص انداز سے بنایا اور ترتیب سے لگایا (كما فی سورة القیامة ثم کان علقة فلق فسوی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
7:۔ ” من ای شیء خلقہ “ استفہام بمعنی تقریر ہے اور ” ای شیء “ سے مراد بیان تحقیر ہے یعنی نہایت حقیر چیز سے اللہ نے اس کو پیدا فرمایا ہے ” من نطفۃ “ یہ اس حقیر چیز کا بیان ہے۔ نطفہ سے اس کو رحم مادر میں پیدا کیا اور اس کی اجل، اس کے عمل، اس کے رزق اور اس کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ کیا پھر ایام حمل گذر جانے کے بعد رحم مادر سے اس کے باہر نکلنے کا راستہ آسان فرمایا پھر اس کو موت دی اور قبر میں اتروا دیا پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما لے گا۔ ” کلا “ بمعنی ” حقا “ ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ انسان کافر نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل نہیں کی۔ حالانکہ اس کا فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات جلیلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
(گذشتہ سے پیوسنہ )
اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔
اس کے…
Read the full tafseer →مِنْ نُّطْفَۃٍ 0 ۭ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ 19 ۙ
نطف
النُّطْفَةُ : الماءُ الصافي، ويُعَبَّرُ بها عن ماء الرَّجُل . قال تعالی: ثُمَّ جَعَلْناهُ نُطْفَةً فِي قَرارٍ مَكِينٍ
[ المؤمنون/ 13] ، وقال : مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ [ الإنسان/ 2] ، أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنى [ القیامة/ 37] ويُكَنَّى عن اللُّؤْلُؤَةِ بالنَّطَفَة، ومنه : صَبِيٌّ مُنَطَّفٌ: إذا کان في أُذُنِهِ لُؤْلُؤَةٌ ، والنَّطَفُ : اللُّؤْلُؤ . الواحدةُ : نُطْفَةٌ ، ولیلة نَطُوفٌ: يجيء فيها المطرُ حتی الصباح، والنَّاطِفُ : السائلُ من المائعات، ومنه : النَّاطِفُ المعروفُ ، وفلانٌ مَنْطِفُ المعروف، وفلان يَنْطِفُ بسُوء کذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
ترکیب ¦ قتل الانسان الجملۃ فی الظاھر خبرو فی المعنی انشاء وھی دعاء علیہ وھی من اشنع دعوات العرب لان القتل اشد مصائب الدنیا۔ والدعاء علی الانسان یلیق بالعاجز واللہ سبحانہ قادر فوجھم انما اور دہ علی اسلوب کلام العرب ومحاوراتھم ما اکفرہ صیغۃ التعجب۔ والجملۃ انشایۃ انما اور دھا علی مح اور تھم من ای شی خلقہ استفھام والغرض زیادۃ التقریر فی التحقیر ومن تتعلق بخلق من نطفہ جواب الاستفھام والوقف علی جید من تتعلق بخلق خلقہ الخ کلام مبتداء لبیان خلقۃ الانسان السبیل منصوب بفعل مضمر یدل علیہ المذکور ای یسر السبیل یسرہ کلا۔ روع وزجر للانسان الکافر عما ھو علیہ من التکبر والاصرار علی الکفر۔ لما بمعنی لم وفاعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
مِنْ اَیِّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ ۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ ط خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۔ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ ۔ ثُمَّ اَمَاتَـہٗ فَاَقْبَرَہٗ ۔ ثُمَّ اِذَا شَـآئَ اَنْشَرَہٗ ۔ (عبس : 18 تا 22)
اسے ( اللہ نے) کس چیز سے پیدا کیا ؟ پانی کی ایک بوند سے، اللہ نے اسے پیدا کیا، پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔ پھر اس کے لیے راہ آسان کردی۔ پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔ )
انسان پر احسانات سے استدلال
یہ کفار جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کے سامنے تکبر کا اظہار کرتے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے سامنے سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ کاش انھیں کبھی ان باتوں پر غور کرنے کا موقع ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا ہیجس شخص نے قرآن کی نصیحت سے انکار کیا وہ تباہ ہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے کہ انسان اس پر اخلاص کے ساتھ عمل پیرا ہو کر قیامت کی جوابدہی کی تیاری کرے اور دنیا میں رہ کر اپنے فکر وعمل کو سنوار لے۔ جس نے اس کا انکار کیا وہ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور جو قیامت کے دن پکڑا گیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کون پیدا کرے گا ؟ کیا انکار کرنے والے کو یہ معلوم نہیں کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اللہ…
Read the full tafseer →19 : مِنْ نُّطْفَۃٍ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ (نطفہ سے اس کی صورت بنائی پھر اس کو اندازہ سے بنایا) جیسا اس کو بنانا چاہا تخلیق کردی۔
Read the full tafseer →18 ۔” من ای شیء خلقہ “ اس کا لفظ استفہام ہے اور اس کا معنی تقریر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کے قبول کرنے کی موجب ہے لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ ) انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے ؟ اس نے اللہ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی ؟ حق کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا ؟ حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے اللہ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کرکے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قوی کو مہارت بنایا۔
Read the full tafseer →(16) منکرین کے کبر و غرور پر ایک ضرب : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور مغرور و متکبر انسان کے کبر و غرور پر ایک ضرب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کو اس سے کس چیز سے پیدا کیا ؟ ایک حقیر سی بوند سے اس نے پیدا کیا "۔ سو کہاں مادہ تولید کی وہ حقیر سی بوند اور کہاں اس سے بننے والا اتنی خوبیوں اور ایسی قوتوں کا مالک یہ انسان جو ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی فکر میں ہے، اس قادر مطلق جل جلالہ نے اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور اپنی بےپایاں رحمتوں اور عنایتوں سے اس کو کیا سے کیا بنایا اور کہاں سے کہاں پہنچایا۔ مگر یہ پھر بھی اس کے احسان بےکراں اور انعام بےنہایت کا منکر، اس کے حقوق و فرائض سے غافل، اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق
تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔
1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔
2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔
3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔
اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔
آیات 1 تا 42۔
اسرار ومعارف۔
چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔
نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔
اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 6 یہاں قدر، بمعنی ” صلح “ ہے یعنی اس کے ہاتھ پائوں، کان ناک اور دوسرے اعضاء درست ہے۔
Read the full tafseer →(80:19) من نفطۃ : من ای شیء خلقہ (آیت سابقہ) کے استفہام کا جواب ہے یعنی انسان کی قطرہ منی سے پیدا کیا۔
خلقہ فقدرہ۔ ہ ضمیر واحد مزکر غائب الانسان کے لئے ہے۔ قدر ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تقدیر (تفعیل) مصدر۔ جس کا معنی ہے :۔ سوچ کر ، سمجھ کر، غور کرکے اندازہ کرنا۔ ہر پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر چیز کا اندازہ کرنا۔
ترجمہ ہوگا :۔ اللہ نے اسے پیدا کیا۔ پھر اس کو ہر چیز اندازہ سے بنائی پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔
صاحب تفہیم القرآن یوں تشریح فرماتے ہیں۔ یہ ابھی ماں کے پیٹ میں بن ہی رہا تھا کہ اس کی تقدیر طے کردی گئی۔ اس کی جنس کیا ہوگی۔ اس کا رنگ کیا ہوگا ؟ اس کا قد کتنا ہوگا۔ اس کی جسامت کیسی اور کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن
الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کا حشر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر کی ایتوں میں گزرا ہے بلکہ انسان تو ایسا بڑاناشکرا ہے اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند یعنی منی سے مناسب اعضا میں بنایا، پیدائش کا وقت اس پر ایک مشکل کا وقت تھا اس کو آسان کیا اور پھر طرح طرح کی چیزیں اس کی عمر بھر کی ضرورت کی پیدا کیں اور جب اس کی عمر پوری ہوگئی توعقبی کے انتظام کی مصلحت سے اس کی روح قبض کی اور اس کی لاش کو رواں دواں نہیں ہونے دیا کہ کتے کوے اس کو کھاجائیں بلکہ مردوں کو زمین میں دفن کرنے کی حکمت دنیا میں ایجاد کردی تاکہ مردہ کی لاش کا پردہ ڈھکا…
Read the full tafseer →[5] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فرقان حاشیہ 2 صفحہ 856۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔
حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(19) پیدا کیا ایک قط رہے اور بوند سے یعنی نطفہ سے بنایا اس کو پھر اس کی ہر ایک چیز کا ایک خاص انداز مقرر کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17 تا 23:
بہ ناقدر اور نا شناس انسان جو کہ پاکبازوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتا اور چیں بجیں ہوتا ہے اور انہیں ڈانٹنا ہے خودذلیل و رسوا ہے اسے اپنی پیدائش یاد نہیں کہ کس گندے پانی سے اسے بنایا ہے۔ آخر اسے نطفہ ہی سے بنایا گیا ہے جو پشت سے ہوتا ہوا کہاں سے کہاں جا نکلتا ہے ۔ پھر وہ طوراً بعد طور حالات بدلتا ہوا کیا سے کیا بنتا رہتا ہے اور اس کے یہ حالات پیٹوں میں اللہ پاک کی قدرتوں سے اول بدل ہوتے ہوئے ایک کامل انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جس کے اعضاء متناسب اور شکل نہایت اچھی ہوتی ہے پھر وہ اسی طرح پر رفتہ رفتہ جوان ہو کر اللہ پاک کا مخاطب ٹھہر کر اس کے احکام کا مکلف قرار پاتا ہے جیسے…
Read the full tafseer →خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ (He created him, and designed him in due proportion..80:19). In other words, He has made him with a special design and with great wisdom. His stature, body-structure, his face, his length and breadth of the limbs, his joints, his eyes, nose and ears are all well-proportioned in their creation. If any limb or organ loses its proportion, man's face will go awry, and every activity will become a problem.
The word qaddara is derived from taqdir which is also used in the sense of 'predestination'. Taking the word in this sense, the verse may also mean here that when man is…
Read the full tafseer →11 That is, let him first consider out of what he was created, where he was nourished and developed, by what way he came into the world, and from what helpless state he began his life in the world. Why dces he forget his such beginning and becomes involved in conceit and haughtiness and why does he feel so puffed up as to resist his Creator and stand before Him as an adversary? (The same theme has been expressed in Ya Sin 77-78 above) .
12 That is, he was yet developing and taking shape in his mother's womb when his destiny was set for him. It was determined what would be his sex, his colour,…
Read the full tafseer →