Abasa 80:18

Abasa · from ayah 18

80:18

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ ۟ؕمِنۡ اَىِّ شَىۡءٍ خَلَقَهٗؕ‏

اُسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

From what substance did He create him?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:18

کس چیز سے اللہ نے اِسے پیدا کیا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اُسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(وہ ذرا سوچے کہ) اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا فرمایا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے اسے کس چیز سے پیدا کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسے کس چیز سے پیدا کیا ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کس چیز سے پیدا کیا اس کو اس (قادر مطلق) نے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ نے) اسے کس (حقیر) چیز سے پیدا کیا !

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(ذرا سوچیے کہ) کس چیز سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اسے اللہ نے کس چیز سے بنایا

— محترمہ رفعت اعجاز

Out of what did Allah create him?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

From which stuff did He (Allah) create him?

— Muhammad Taqi Usmani

From which stuff did He (Allah) create him?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

From what thing did He create him

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

From what substance did He create him?

— Saheeh International

From what has God created him?

— Muhammad Sarwar

Of what thing did He create him?

— Muhammad Habib Shakir

Of what thing hath He created him?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 80:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–32

ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة عَبَس 8 یہاں سے عتاب کا رخ براہ راست ان کفار کی طرف پھرتا ہے جو حق سے بےنیازی برت رہے تھے۔ اس سے پہلے آغاز سورة سے آیت 16 تک خطاب نبی ﷺ سے تھا اور عتاب در پردہ کفار پر فرمایا جا رہا تھا۔ اس کا انداز بیان یہ تھا کہ اے نبی، ایک طالب حق کو چھوڑ کر آپ یہ کن لوگوں پر اپنی توجہ صرف کر رہے ہیں جو دعوت حق کے نقطہ نظر سے بالکل بےقدر و قیمت ہیں اور جن کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جیسا عظیم القدر پیغمبر قرآن جیسی بلند مرتبہ چیز کو ان کے آگے پیش کرے۔ سورة عَبَس 9 قرآن مجید میں ایسے تمام مقامات پر انسان سے مراد نوع انسانی کا ہر فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی ناپسندیدہ صفات کی مذمت کرنا مقصود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

سابقہ آیات میں قرآن کریم کا عالیشان واجب الایمان ہونا بیان کرنے کے بعد کافر انسان جو قرآن کے منکر ہیں ان پر لعنت اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کی تنبیہ ہے اور قرآن کا منجاب اللہ ایک نعمت عظیم ہونا تو ایک معنوی چیز ہے جس کو اہل علم وفہم ہی سمجھ سکتے ہیں آگے ان انعامات الہیہ کا ذکر ہے جو انسان کی تخلیق سے آخر تک انسان پر مبذول ہوتے رہتے ہیں۔ یہ مادی اور محسوس چیز ہے جسکو ادنی شعور والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں تخلیق انسانی کا ذکر فرمایا مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ 18؀ۭ مِنْ نُّطْفَةٍ پہلے تو اس میں ایک سوال کیا گیا کہ اے انسان تو غور کر تجھے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا ہے اور چونکہ اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ ان مغروروں کے کبر و غرور پر ضرب لگائی ہے لیکن مطالب کی ترتیب اس طرح ہے کہ چند چھوٹے چھوٹے جملوں میں انسان کی خِلقت، مادۂ خِلقت، مراحل خِلقت، وسائل معیشت غرض زندگی، موت، قبر سے لے کر حشر و نشر تک ساری باتوں کی طرف اشارہ کر دیا ہے تاکہ ان پر اپنے غرور کی بے ثباتی بھی واضح ہو جائے اور وہ خود اپنی زندگی کے آئینہ میں اس جزا و سزا کو بھی دیکھ لیں جس کی خبر قرآن ان کو دے رہا ہے۔ ’مِنْ أَیِّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ‘۔ یہ سوال تحقیر کے لیے بھی ہے اور زندگی بعد الموت کی طرف توجہ دلانے کے لیے بھی۔ ان متمردین کو زعم تھا کہ جس طرح اس دنیا میں وہ باعزت اور صاحب سیادت و قیادت ہیں اسی طرح آخرت ہوئی تو وہاں بھی ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–19

19۔ 1 یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرہ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

من ................ خلقہ (18:80) ” کس چیز سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے “۔ اس کی اصلیت تو نہایت معمولی ، متواضع اور حقیر ہے۔ اور یہ اللہ کا فضل وکرم ہی ہے جس نے اپنی تقدیر اور تدبیر سے اس جرثومے سے انسان بنایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 18–19

7 یعنی ذرا اپنی اصل پر تو غور کیا ہوتا کہ وہ پیدا کس چیز سے ہوا ہے۔ ایک ناچیز اور بےقدر قطرہ آب سے جس میں حس و شعور، حسن و جمال اور عقل و ادراک کچھ نہ تھا۔ سب کچھ اللہ نے اپنی مہربانی سے عطا فرمایا۔ جس کی حقیقت کل اتنی ہو کیا اسے یہ طمطراق زیبا ہے کہ خالق و منعم حقیقی ایسی عظیم الشان نصیحت اتارے اور یہ بےشرم اپنی اصل حقیقت اور مالک کی سب نعمتوں کو فراموش کر کے اس کی کچھ پروا نہ کرے۔ اور احسان فراموش ! کچھ تو شرمایا ہوتا۔ 8 یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ سب اعضاء وقویٰ ایک خاص اسلوب اور اندازے سے رکھے۔ کوئی چیزیوں ہی بےتکی اور بےڈھنگی خلاف حکمت نہیں رکھ دی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

آیت 16{ کِرَامٍم بَرَرَۃٍ۔ } ”جو بڑے معزز اور نیک ہیں۔“ اس سے ملتی جلتی بات ہم سورة الواقعہ کی اس آیت میں بھی پڑھ آئے ہیں : { لاَ یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ۔ } ”اسے چھو نہیں سکتے مگر وہی جو بالکل پاک ہیں“۔ مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کا مقام بہت بلند ہے۔ تو اے نبی ﷺ آپ قرآن مجید کے مقام اور مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان لوگوں سے معاملہ کیجیے اور جو شخص قرآن مجید سے اعراض کرتا ہے آپ بھی اس کو منہ نہ لگایئے۔ ان کے مقابلے میں آپ زیادہ توجہ ان لوگوں پر دیجیے جو ہدایت کی تلاش میں آپ کے پاس چل کر خود آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 17–18

10 اس آیت میں اگرچہ مخاطب تمام نوع انسان کو کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے مراد انسانوں کی اکثریت یا قرآن کو جھٹلانے والے کافر ہیں۔ اور یہ قرآن کا مخصوص اور مہذبانہ انداز خطاب ہے۔ تاکہ منکرین حق ضد میں آکر مزید چڑ نہ جائیں بلکہ اصل حقائق پر غور و فکر کریں۔ 11 اس کا ایک معنی تو وہی ہے جو ترجمہ سے واضح ہے یعنی وہ کس قدر زیادہ حق کا انکار کرنے والا واقع ہوا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے جس نے اسے کفر پر آمادہ کیا ؟ آخر وہ کس بل بوتے پر اللہ کی آیات سے انکار کرتا اور اس کی ناشکری کرتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–19

7۔ اور پھر کیسی کیسی نعمتوں سے سرفراز وسربلند کیا ! مطلب یہ ہوا کہ اگر اور کچھ نہیں تو انسان انہیں چیزوں کا خیال کرلے، جب بھی اس میں ادائے شکر نعمت کی تحریک پیدا ہوسکتی ہے۔ (آیت) ” قتل “۔ صیغہ ماضی میں، عربی محاورہ میں، بددعاء کے لیے آتا ہے۔ (آیت) ” الانسان “۔ مراد کافر انسان ہے (آیت) ” من ای ..... نطفۃ “۔ نطفہ کی تحقیر سے ضمنا ان جاہلی قوموں کی تردید بھی نکل آئی، جنہوں نے اسے ایک مقدس شے قرار دیا ہے۔ 8۔ یعنی نہ صرف عمل تخلیق بلکہ ترکیب انسانی میں تناسب و توازن اور قوی، اعضاء وغیرہ کی ساخت ترتیب، ہر شے قدرت الہی و حکمت کاملہ پر دلیل کا کام دے رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

من ای شیء خلقہ اس آیت میں سرکش اور خدا کے باغی انسان کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ پہلے وہ ذرا اپنی حقیقت پر غور کرے کہ وہ کس چیز سے وجود میں آیاڈ کس جگہ اس نے پرورش پائی ؟ اور کس راستے سے وہ دنیا میں آیا ؟ اور رحم مادر میں اس نے کیا غذا کھائی ؟ اور کس بےبسی کی حالت میں اس کی زندگی کی ابتدا ہوئی ؟ اپنی اس اصل اور حقیقت کو بھول کر ” ہمچومن دیگرے نیست “ کی غلط فہمی میں کیسے مبتلاء ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من ای شی ءٍ خلقہ اللہ نے اس کو کس چیز سے بنایا ‘ یہاں سے ایمان و شکر کے دواعی (اسباب مقتضی) کا بیان ہے ‘ مبدء تخلیق کا سب سے پہلے ذکر اس لیے کیا کہ تمام نعمتوں سے پہلے اسی کا درجہ (اور زمانہ) ہے ‘ استفہام تقریری ہے یعنی مخاطب کو آمادہ کیا ہے کہ وہ اقرار کرے کہ اللہ نے اس کو نطفہ سے بنایا ہے۔ ما اکفرہٗ میں مَا استفہامیہ ہے اس کا بیان من ای شی ءٍ سے کیا ‘ اس طرح کلام کا اثر زیادہ دل نشین ہوگیا ‘ پھر نطفہ سے تخلیق کو بیان کر کے انسان کی حقارت کو ظاہر فرمایا ہے اور یہ خلقی تحقیر تکبّر کے منافی ہے (اس لیے انسان کا تکبّر بےبنیاد اور نازیبا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–22

(17۔ 22) عتبہ بن ابی لہب کافر پر اللہ کی مار وہ اللہ تعالیٰ کا کیسا ناشکرا ہے، یا یہ کہ اس کا کفر کیسا سخت ہے اسے اپنے وجود پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسی حقیر چیز سے پیدا کیا۔ آگے بیان ہے کہ نطفہ سے پیدا کیا پھر اس کے ہاتھ، پیر، کان اور تمام اعضاء بنائے پھر خیر اور شر کا راستہ اس کو بیان کردیا یا یہ کہ رحم مادر سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا، پھر اس کے بعد اس کو موت دی اور پھر قبر میں لے گیا پھر اس کو قبر سے دوبارہ زندہ کردے گا۔ شان نزول : قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کی گئی ہے کہ یہ عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 18–19

من ای شیء خلفہ…: یعنی اس شخص کو تکبر اور ناشکری کس طرح زیب دیتی ہے جسے اس کے بنانے والے نے مٹی کے ایک حقیر قطرے سے پیدا فرمایا ؟ پیدا کرنے کے دوران اس کی ہر چیز کا اندازہ مقرر فرمایا کہ اتنی مدت نطفہ رہے گا، پھر علقہ، پھر مضغہ بےروح، پھر جاندار اور خبوصورت انسان بنے گا۔ پھر اس کی ہر چیز اندازے کے ساتھ بنائی، کوئی چیز بےڈھب نہیں۔ پھر ماں کے شکم ہی میں وہ سب کچھ فرشتے کو لکھوا دیا جو اس نے زندگی بھر کرنا تھا۔”فقدرہ“ میں تینوں چیزیں شامل ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–19

من ای شئی خلقہ، من نطفۃ خلقہ فقدرہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کافر کو کس چیز سے پیدا کیا ہے کہ وہ تکبر کا اظہار کرتا ہے ؟ یعنی اس کی خلقت پر تعجب کا اظہار کرو، تھوڑے سے پانی سے جو حقیر ہے، جامد ہے تو وہ اپنے بارے میں کس وجہ سے مغالطہ کا شکار ہوتا ہے ؟ حضرت حسن بصری نے کہا، وہ آدمی جو بول کے راستہ دو دفعہ دنکلا وہ کیسے تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی ماں کے پیٹ میں مقدر کیا۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس کے ہاتھوں، اس کے پاؤں، اس کی آنکھوں، تمام اعضا بدصورتی، لمبا، چھوٹا، بدبخت اور سعادت مند ہونے کو مقدر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فقدرہ کا معنی ہے اسے کامل بنایاجس طرح ارشاد فرمایا،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–19

1۔ ابن المنذرنے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قتل الانسان ما اکفرہ۔ انسان پر خدا کی مار وہ کیسا ناشکرا ہے یہ آیت عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے کہا میں ستارے کے رب کا انکار کرتا ہوں جب وہ اوپر سے نیچے گرتا ہے۔ نبی ﷺ نے اس پر بددعا فرمائی تو شام کے راستے میں ایک شیر اس پر حملہ آور ہوا اور اسے نگل گیا۔ 2۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جو آیت قتل الانسان ہے۔ اس سے مراد کافر ہے۔ 3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما اکفرہ یعنی کتنا شدید ہے اس کا کفر۔ آیت فقدرہ۔ پھر اس کا اندازہ مقرر فرمایا یعنی نطفہ سے پھر علقہ پھر مضغہ پھر اس طرح مختلف مراحل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 18–19

﴿ مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗؕ0018﴾ (اسے کس چیز سے پیدا فرمایا) ﴿مِنْ نُّطْفَۃٍ﴾ (نطفہ سے پیدا فرمایا) جو حقیر اور ذلیل مادہ ہے اگر اپنی اصل کو دیکھے تو شرم سے آنکھیں نیچی ہوجائیں اور خالق کائنات جل مجدہ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہو جس نے ذلیل پانی سے ایسی اچھی جیتی جاگتی گوشت اور ہڈی اور بال اور کھال والی مورتی بنا دی۔ ﴿خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ﴾ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر اس کے اعضاء کو ایک خاص انداز سے بنایا اور ترتیب سے لگایا (كما فی سورة القیامة ثم کان علقة فلق فسوی) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–23

7:۔ ” من ای شیء خلقہ “ استفہام بمعنی تقریر ہے اور ” ای شیء “ سے مراد بیان تحقیر ہے یعنی نہایت حقیر چیز سے اللہ نے اس کو پیدا فرمایا ہے ” من نطفۃ “ یہ اس حقیر چیز کا بیان ہے۔ نطفہ سے اس کو رحم مادر میں پیدا کیا اور اس کی اجل، اس کے عمل، اس کے رزق اور اس کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ کیا پھر ایام حمل گذر جانے کے بعد رحم مادر سے اس کے باہر نکلنے کا راستہ آسان فرمایا پھر اس کو موت دی اور قبر میں اتروا دیا پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما لے گا۔ ” کلا “ بمعنی ” حقا “ ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ انسان کافر نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل نہیں کی۔ حالانکہ اس کا فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات جلیلہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–32

(گذشتہ سے پیوسنہ ) اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَہٗ۝ 18 ۭ أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–23

ترکیب ¦ قتل الانسان الجملۃ فی الظاھر خبرو فی المعنی انشاء وھی دعاء علیہ وھی من اشنع دعوات العرب لان القتل اشد مصائب الدنیا۔ والدعاء علی الانسان یلیق بالعاجز واللہ سبحانہ قادر فوجھم انما اور دہ علی اسلوب کلام العرب ومحاوراتھم ما اکفرہ صیغۃ التعجب۔ والجملۃ انشایۃ انما اور دھا علی مح اور تھم من ای شی خلقہ استفھام والغرض زیادۃ التقریر فی التحقیر ومن تتعلق بخلق من نطفہ جواب الاستفھام والوقف علی جید من تتعلق بخلق خلقہ الخ کلام مبتداء لبیان خلقۃ الانسان السبیل منصوب بفعل مضمر یدل علیہ المذکور ای یسر السبیل یسرہ کلا۔ روع وزجر للانسان الکافر عما ھو علیہ من التکبر والاصرار علی الکفر۔ لما بمعنی لم وفاعل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–22

مِنْ اَیِّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ ۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ ط خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۔ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ ۔ ثُمَّ اَمَاتَـہٗ فَاَقْبَرَہٗ ۔ ثُمَّ اِذَا شَـآئَ اَنْشَرَہٗ ۔ (عبس : 18 تا 22) اسے ( اللہ نے) کس چیز سے پیدا کیا ؟ پانی کی ایک بوند سے، اللہ نے اسے پیدا کیا، پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔ پھر اس کے لیے راہ آسان کردی۔ پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔ ) انسان پر احسانات سے استدلال یہ کفار جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کے سامنے تکبر کا اظہار کرتے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے سامنے سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ کاش انھیں کبھی ان باتوں پر غور کرنے کا موقع ملے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–23

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا ہیجس شخص نے قرآن کی نصیحت سے انکار کیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے کہ انسان اس پر اخلاص کے ساتھ عمل پیرا ہو کر قیامت کی جوابدہی کی تیاری کرے اور دنیا میں رہ کر اپنے فکر وعمل کو سنوار لے۔ جس نے اس کا انکار کیا وہ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور جو قیامت کے دن پکڑا گیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کون پیدا کرے گا ؟ کیا انکار کرنے والے کو یہ معلوم نہیں کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18 : مِنْ اَیِّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ (اللہ تعالیٰ نے اس کو کیسی چیز سے پیدا کیا) کیسی حقیر سے حقیر ترین شئی سے اس کو بنایا یہ بظاہر استفہام ہے اور تقریرکیلئے آیا ہے۔ یعنی انسان کو اقرار کرنا چاہیے کہ اس کو نطفہ سے بنایا ہے۔ پھر اگلی آیت میں اس کی وضاحت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” قتل الانسان “ یعنی کافر لعنت کیا جائے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازلہوئی۔ ” مااکفرہ “ اس کا کفر کتنا سخت ہے اس پر کثرت احسانات اور بیشمار نعمتوں کے باوجود۔ یہ تعجب کے طریقہ پر کہا ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے تم اس کے کفر سے تعجب کرو۔ کلبی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ” ما “ استفہام کی ہے یعنی کس چیز نے اس کو کفر پر ابھارا ؟ پھر اس کے امر میں سے وہ بیان کیا جو اس کے مناسب تھا کہ وہ جانے کہ اللہ اس کا خالق ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–31

17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–19

یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کے قبول کرنے کی موجب ہے لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ ) انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے ؟ اس نے اللہ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی ؟ حق کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا ؟ حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے اللہ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کرکے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قوی کو مہارت بنایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

(15) انسان کی ناشکری پر اظہار تعجب و افسوس : چناچہ ارشاد فرمایا گیا انسان کی ناشکری اور اس کی بد دماغی پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ خدا کی مار ہو اس انسان پر کیسا ناشکرا ہے ؟ کہ یہ اپنے اس خالق ومالک جل جلالہ کے حقوق سے ہی غافل و لاپروا ہے جس کے انعامات و احسانات میں اس کے جسم و جان کا رواں رواں ڈوبا ہوا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ انسان کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن اس سے مراد وہی منکر اور متکبر انسان ہے جو اس کلام حکیم سے اعراض اور روگردانی برتتا ہے، جس کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے، یعنی اس کو کس قدر عظیم الشان کلام اور بےبہا رحمت سے نوازا گیا اور اس کی عظمت شان اور بےمثال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–42

انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 18–19

ف 6 یہاں قدر، بمعنی ” صلح “ ہے یعنی اس کے ہاتھ پائوں، کان ناک اور دوسرے اعضاء درست ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:18) من ای شیء خلقہ صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ اللہ نے اس کا کس چیز سے بنایا۔ یہاں سے ایمان و شکر کے دواعی (اسباب مقتضی) کا بیان ہے۔ مبدأ تخلیق کا ذکر سب سے پہلے اس لئے کیا کہ تمام نعمتوں سے پہلے اسی کا درجہ (یا زمانہ) ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے یعنی مخاطب کو آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ اقرار کرے کہ اللہ نے اس کو نطفہ سے بنایا ہے۔ ما اکفرہ میں جو استفہام ہے اس کا بیان من ای شیء سے کیا۔ اس طرح کلام کا اثر زیادہ دل نشین ہوگیا۔ پھر نطفہ سے تخلیق کو بیان کرکے انسان کی حقارت کو ظاہر فرمایا ہے اور یہ خلقی تحقیر تکبر کے منافی ہے۔ (اس لئے انسان کا تکبر بےبنیاد اور نازیبا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–23

خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کا حشر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر کی ایتوں میں گزرا ہے بلکہ انسان تو ایسا بڑاناشکرا ہے اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند یعنی منی سے مناسب اعضا میں بنایا، پیدائش کا وقت اس پر ایک مشکل کا وقت تھا اس کو آسان کیا اور پھر طرح طرح کی چیزیں اس کی عمر بھر کی ضرورت کی پیدا کیں اور جب اس کی عمر پوری ہوگئی توعقبی کے انتظام کی مصلحت سے اس کی روح قبض کی اور اس کی لاش کو رواں دواں نہیں ہونے دیا کہ کتے کوے اس کو کھاجائیں بلکہ مردوں کو زمین میں دفن کرنے کی حکمت دنیا میں ایجاد کردی تاکہ مردہ کی لاش کا پردہ ڈھکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–18

[4] یہ اوصاف ان فرشتوں کے بیان ہوئے جو قرآن کو لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو کام فرشتوں کے سپرد کیا گیا ہے اس میں ذرہ برابر خیانت کا امکان نہیں اور وہ اپنی ذمہ داری پوری دیانت کے ساتھ پوری کرتے ہیں۔ قرآن اور اس کے کاتبین کی صفات کے ذکر سے مقصود رسول اکرم ﷺ کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے کہ متکبر لوگوں کے سامنے منت و سماجت کر کے پیش کیا جائے اور ان سے یہ چاہا جائے کہ وہ اسے شرف قبولیت عطا کریں۔ یہ ان کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ اس کے محتاج ہیں۔ اگر وہ اپنی بھلائی چاہتے ہیں تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ورنہ جس قدر وہ اس سے بےنیاز بنتے ہیں اس سے بہت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–36

ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 17–23

آیت 17 تا 23: بہ ناقدر اور نا شناس انسان جو کہ پاکبازوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتا اور چیں بجیں ہوتا ہے اور انہیں ڈانٹنا ہے خودذلیل و رسوا ہے اسے اپنی پیدائش یاد نہیں کہ کس گندے پانی سے اسے بنایا ہے۔ آخر اسے نطفہ ہی سے بنایا گیا ہے جو پشت سے ہوتا ہوا کہاں سے کہاں جا نکلتا ہے ۔ پھر وہ طوراً بعد طور حالات بدلتا ہوا کیا سے کیا بنتا رہتا ہے اور اس کے یہ حالات پیٹوں میں اللہ پاک کی قدرتوں سے اول بدل ہوتے ہوئے ایک کامل انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جس کے اعضاء متناسب اور شکل نہایت اچھی ہوتی ہے پھر وہ اسی طرح پر رفتہ رفتہ جوان ہو کر اللہ پاک کا مخاطب ٹھہر کر اس کے احکام کا مکلف قرار پاتا ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The word safarah may be used as the plural of safir in the sense of 'envoy'. In this case, it would refer to the angels who convey the revelation, and Prophets ﷺ and their companions who write the revelation. The ` ulama' (knowledgeable persons) of the Muslim community' are also included in this term, because they too are envoys between the Holy Prophet and the Muslim community. The messenger of Allah is reported to have said that he who recites the Qur’ an and is an expert in the art of recitation, he will be with the honorable, righteous envoys. He who is not an expert in the art of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

8 From here the rebuke turns directly against the disbelievers, who were treating the message of the Truth with scant attention. Before this, from the beginning of the Surah to verse 16, the address though apparently directed to the Holy Prophet (upon whom be peace) , was actually meant to reprimand the disbelievers, as if to say: "O Prophet, why are you ignoring a seeker after truth and paying all your attention to those who are worthless from your mission's point of view? they do not deserve that a great Prophet like you should present a sublime thing like the Qur'an before them." 9 At all…

Read the full tafseer →