قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗ ۟ؕقُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗؕ
انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Cursed is man; how disbelieving is he.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗ ۟ؕقُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗؕ
انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Cursed is man; how disbelieving is he.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
لعنت ہو انسان پر، کیسا سخت منکر حق ہے یہ
انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے
اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے
خدا کی مار ہو ایسے انسان پر، وہ کتنا ناشکرا ہے۔
آدمی مارا جائیو کیا ناشکر ہے
ہلاک ہو (وہ بد بخت منکر) انسان کیسا نا شکرا ہے (جو اتنی عظیم نعمت پا کر بھی اس کی قدر نہیں کرتا)،
مارا جائے انسان ! وہ کس قدر ناشکرا ہے۔
لعنت ہو انسان پر وہ کیسا منکر حق ہے ؟
برا ہوآدمی کا، یہ کتنا ناشکرا ہے !
خدا کی مار (اور پھٹکار ہو) اس انسان پر کیسا ناشکرا (اور کس قدر بےانصاف) ہے یہ ؟
انسان پر اللہ کی مار وہ کیسا ناشکرا ہے !
ہلاک ہوجائے انسان یہ کس قدر ناشکرا ہے !
انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے
Accursed be man! How stubbornly he denies the Truth.
Damned is the man! How ungrateful he is!
Damned is the man! How ungrateful he is!
Qutila mankind! How ungrateful he is!
Man is (self-)destroyed: how ungrateful!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Cursed is man; how disbelieving is he.
May (the disbelieving) human being be condemned! What makes him disbelieve?
Cursed be man! how ungrateful is he!
Perish man! how ungrateful he is!
Woe to man! What hath made him reject Allah;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 17–32
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة عَبَس 8 یہاں سے عتاب کا رخ براہ راست ان کفار کی طرف پھرتا ہے جو حق سے بےنیازی برت رہے تھے۔ اس سے پہلے آغاز سورة سے آیت 16 تک خطاب نبی ﷺ سے تھا اور عتاب در پردہ کفار پر فرمایا جا رہا تھا۔ اس کا انداز بیان یہ تھا کہ اے نبی، ایک طالب حق کو چھوڑ کر آپ یہ کن لوگوں پر اپنی توجہ صرف کر رہے ہیں جو دعوت حق کے نقطہ نظر سے بالکل بےقدر و قیمت ہیں اور جن کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جیسا عظیم القدر پیغمبر قرآن جیسی بلند مرتبہ چیز کو ان کے آگے پیش کرے۔ سورة عَبَس 9 قرآن مجید میں ایسے تمام مقامات پر انسان سے مراد نوع انسانی کا ہر فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی ناپسندیدہ صفات کی مذمت کرنا مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ۙبِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ 15ۙكِرَامٍۢ بَرَرَة۔ بفتحتین سافر کی جمع بھی ہوسکتی ہے جس کے معنی کاتب کے ہیں، اس صورت میں اس سے مراد فرشتے، کرام کاتبین یا انبیا (علیہم السلام) اور ان کی وحی کو لکھنے والے حضرات ہوں گے۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد سے یہی تفسیر منقول ہے۔ اور لفظ سفرہ، سفیر بمعنے قاصد کی جمع بھی ہوسکتے ہے، اس صورت میں اس سے مراد ملائیکہ اور انبیا (علیہم السلام) اور وحی کی کتابت کرنے والے حضرات صحابہ ہوں گے، اور علمائے امت بھی اس میں داخل ہیں، کیونکہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ اور امت کے درمیان سفیر اور قاصد ہیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرات میں بھی ماہر ہے…
Read the full tafseer →انسان کی بددماغی پر اظہار افسوس: اگرچہ لفظ ’اَلْإِنسَانُ‘ عام ہے لیکن کلام کا رخ انہی مستکبرین کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ ہم پیچھے مناسب مواقع پر زبان کے اس اسلوب کی طرف توجہ دلا چکے ہیں کہ بعض مرتبہ کلام کا رخ ہوتا تو کسی خاص شخص یا کسی مخصوص گروہ ہی کی طرف ہے لیکن بات ان سے منہ پھیر کر عام صیغے سے کہہ دی جاتی ہے جس سے متکلم کی بے زاری کا اظہار ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت ہے۔ فرمایا کہ یہ انسان بھی عجیب مخلوق ہے! غارت ہو! کتنا ناشکرا بن کے رہ گیا ہے! اس کی بددماغی کا حال یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کو اللہ کا کلام اور پیغام بھی سنایا جائے تو اس کے آگے جھک کر اور نیاز مند بن کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
19۔ 1 یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرہ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
4: اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو لوح محفوظ پر مقرر ہیں۔
Read the full tafseer →قتل الانسان (17:80) ” انسان قتل ہو “۔ کیونکہ وہ اپنے ان قابل تعجب اعمال کی وجہ سے اس بات کا مستحق ہے کہ اسے قتل کردیا جائے۔ یہ سرزنش اور طعن وتشنیع کا ایک انداز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جو کچھ کررہا ہے وہ اس قدر برا ہے کہ اگر اس پر اسے سزائے موت دے دی جائے تو قابل تعجب نہ ہوگی۔ ما اکفرہ (17:80) ” کس قدر ناشکرا ہے “۔ وہ کفر ، انکار میں بہت شدید ہے ، اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا تو اپنے خالق کا شکرادا کرتا۔ دنیا میں تواضع اختیار کرتا اور آخرت کا خیال رکھتا۔ یہ انسان کس بات پر مست ہے۔ اپنے آپ کو بےپرواہ سمجھتا ہے ، اور ہدایت سے منہ موڑتا ہے۔ ذرا اپنی اصلیت اور آغاز وجود کے حالات پر تو غور کرے۔
Read the full tafseer →6 یعنی قرآن جیسی نعمت عظمیٰ کی کچھ قدر نہ کی اور اللہ کا حق کچھ نہ پہچانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
آیت 16{ کِرَامٍم بَرَرَۃٍ۔ } ”جو بڑے معزز اور نیک ہیں۔“ اس سے ملتی جلتی بات ہم سورة الواقعہ کی اس آیت میں بھی پڑھ آئے ہیں : { لاَ یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ۔ } ”اسے چھو نہیں سکتے مگر وہی جو بالکل پاک ہیں“۔ مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کا مقام بہت بلند ہے۔ تو اے نبی ﷺ آپ قرآن مجید کے مقام اور مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان لوگوں سے معاملہ کیجیے اور جو شخص قرآن مجید سے اعراض کرتا ہے آپ بھی اس کو منہ نہ لگایئے۔ ان کے مقابلے میں آپ زیادہ توجہ ان لوگوں پر دیجیے جو ہدایت کی تلاش میں آپ کے پاس چل کر خود آتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
10 اس آیت میں اگرچہ مخاطب تمام نوع انسان کو کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے مراد انسانوں کی اکثریت یا قرآن کو جھٹلانے والے کافر ہیں۔ اور یہ قرآن کا مخصوص اور مہذبانہ انداز خطاب ہے۔ تاکہ منکرین حق ضد میں آکر مزید چڑ نہ جائیں بلکہ اصل حقائق پر غور و فکر کریں۔ 11 اس کا ایک معنی تو وہی ہے جو ترجمہ سے واضح ہے یعنی وہ کس قدر زیادہ حق کا انکار کرنے والا واقع ہوا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے جس نے اسے کفر پر آمادہ کیا ؟ آخر وہ کس بل بوتے پر اللہ کی آیات سے انکار کرتا اور اس کی ناشکری کرتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
7۔ اور پھر کیسی کیسی نعمتوں سے سرفراز وسربلند کیا ! مطلب یہ ہوا کہ اگر اور کچھ نہیں تو انسان انہیں چیزوں کا خیال کرلے، جب بھی اس میں ادائے شکر نعمت کی تحریک پیدا ہوسکتی ہے۔ (آیت) ” قتل “۔ صیغہ ماضی میں، عربی محاورہ میں، بددعاء کے لیے آتا ہے۔ (آیت) ” الانسان “۔ مراد کافر انسان ہے (آیت) ” من ای ..... نطفۃ “۔ نطفہ کی تحقیر سے ضمنا ان جاہلی قوموں کی تردید بھی نکل آئی، جنہوں نے اسے ایک مقدس شے قرار دیا ہے۔ 8۔ یعنی نہ صرف عمل تخلیق بلکہ ترکیب انسانی میں تناسب و توازن اور قوی، اعضاء وغیرہ کی ساخت ترتیب، ہر شے قدرت الہی و حکمت کاملہ پر دلیل کا کام دے رہی ہے۔
Read the full tafseer →قتل الانسان ما اکفرہ، یہاں سے عتاب کا رخ براہ راست ان کفار کی طرف پھرتا ہے جو حق سے بےنیازی برت رہے تھے۔ اس سے پہلے ابتداء سورت سے آیت 16 تک خطاب نبی ﷺ سے تھا اور تعاب در پردہ کفار پر، اس کا انداز بیان یہ تھا کہ اے نبی ایک طالب حق کو چھوڑ کر آپ ﷺ یہ کن لوگوں پر اپنی توجہ صرف کر رہوے ہیں، جو دعوت حق کے نقطہ نظر سے بالکل بےقدر و قیمت ہیں ؟ اور جن کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ ﷺ جیسا عظیم القدر پیغمبر قرآن جیسی بلند مرتبہ چیز کو ان کے آگے پیش کرے۔
Read the full tafseer →قتل الانسان ما اکفرہ . انسان پر لعنت ہو کہ یہ کیسا سخت ناشکرا ہے۔ لفظ قتل انسان کے لیے بدترین بددعا ہے اور تعجب ہے کہ شکر گزاری اور ایمان کے تمام اسباب موجود ہونے کے بعد بھی انسان انتہائی ناشکری کرتا ہے یہ الفاظ انتہائی مختصر ہونے کے باوجود اللہ کے انتہائی غضب اور خدا تعالیٰ کی طرف سے پوری پوری مذمت 1 پر دلالت کر رہے ہیں۔ مقاتل کا قول ہے اور ....... 1 یعنی لفظ قُتِلَ ضرور بددعا کا کلمہ ہے اور ما اکفرہٗ کا صیغہ تعجب ہے مگر بددعا وہ شخص کرتا ہے جو انتقام سے عاجز ہو اور تعجب وہ کرتا ہے جس کی نظر کے سامنے اس سے زیادہ تعجب انگیز چیزیں نہ ہوں اور خدا نہ عاجز ہے ‘ نہ جاہل اس لیے محاورۂ عربیہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
(17۔ 22) عتبہ بن ابی لہب کافر پر اللہ کی مار وہ اللہ تعالیٰ کا کیسا ناشکرا ہے، یا یہ کہ اس کا کفر کیسا سخت ہے اسے اپنے وجود پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسی حقیر چیز سے پیدا کیا۔ آگے بیان ہے کہ نطفہ سے پیدا کیا پھر اس کے ہاتھ، پیر، کان اور تمام اعضاء بنائے پھر خیر اور شر کا راستہ اس کو بیان کردیا یا یہ کہ رحم مادر سے اس کے نکلنے کا راستہ آسان کردیا، پھر اس کے بعد اس کو موت دی اور پھر قبر میں لے گیا پھر اس کو قبر سے دوبارہ زندہ کردے گا۔ شان نزول : قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کی گئی ہے کہ یہ عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل…
Read the full tafseer →(1) قتل الانسان ما اکفرہ : پچھلی آیات میں ان متکبر کا ذکر گزرا ہے جو حق بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں، اب انھی کافروں پر بد دعا کی گئی ہے، فرمایا :(قتل الانسان)”انسان مارا جائے“ یہ سخت سے سخت بد دعا ہے جو کسی کے لئے کی جاسکتی ہے، کیونکہ دنیا میں سب سے آخری سزا یہ ہے کہ کسی کو ختم ہی کردیا جائے۔ (زمخشری) (2) سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو توبددعا کرنے کی ضرورت ہی نہیں، تو اس طرح کیوں فرمایا ؟ جواب یہ ہے کہ یہ عرب کے اسلوب پر فرمایا ہے جو ان الفاظ میں بد دعا کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود یہ انسان جس طرح ناشکیر کر رہا ہے اس پر کوئی بھی غور کرے گا تو اس کے منہ سے یہ بد…
Read the full tafseer →قتل الانسان ما۔۔۔ تا۔۔ ما امرہ۔ قتل الانسان ما اکفرہ۔ قتل لعن کے معنی میں ہے یعنی اس پر لعنت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اسے عذاب دیا جائے انسان سے مراد کافر ہے، اعمش نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے کہ قرآن میں جہاں بھی قتل الانسان کے الفاظ ہیں اس سے مراد کافر ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ عتبہ بن ابی لہب کے حق میں نازل ہوئی وہ ایمان لایا تھا جب سورة نجم نازل ہوئی تو وہ مرتد ہوگیا تھا اس نے کہا، میں تمام قرآن پر ایمان لایا سوائے سورة النجم کے، اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں یعنی عتبہ پر لعنت ہو کیونکہ اس نے قرآن کا انکار کیا رسول اللہ ﷺ نے اس کے حق میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1۔ ابن المنذرنے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قتل الانسان ما اکفرہ۔ انسان پر خدا کی مار وہ کیسا ناشکرا ہے یہ آیت عتبہ بن ابی لہب کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے کہا میں ستارے کے رب کا انکار کرتا ہوں جب وہ اوپر سے نیچے گرتا ہے۔ نبی ﷺ نے اس پر بددعا فرمائی تو شام کے راستے میں ایک شیر اس پر حملہ آور ہوا اور اسے نگل گیا۔ 2۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جو آیت قتل الانسان ہے۔ اس سے مراد کافر ہے۔ 3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما اکفرہ یعنی کتنا شدید ہے اس کا کفر۔ آیت فقدرہ۔ پھر اس کا اندازہ مقرر فرمایا یعنی نطفہ سے پھر علقہ پھر مضغہ پھر اس طرح مختلف مراحل…
Read the full tafseer →[قُتِلَ الْانسَان : مارا جائے انسان ][ مَآ اَكْفَرَهٗ : کس قدر ناشکرا ہے وہ ]
Read the full tafseer →ان آیات میں انسان کی ناشکری کا اور اس کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا : ﴿قُتِلَ الْاِنْسَانُ﴾ (انسان پر خدا کی مار ہو) یعنی وہ اس لائق ہے کہ ذلیل ہو اور اس پر اللہ کی لعنت ہو (قال فی معالم التنزیل ای لعن الکافر) ﴿ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ0017﴾ (وہ کتنا بڑا ناشکرا ہے) اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا کتنی نعمتوں سے نوازا۔ نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور سب سے بڑی ناشکری یہ ہے کہ ایمان کے بجائے کفر اختیار کیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور یہ بھی معلوم ہے کہ کس چیز سے پیدا کیا ہے، لیکن نافرمانی پر تلا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →6:۔ ” قتل الانسان “ یہ زجر ہے۔ ” الانسان “ سے انسان کافر مراد ہے اور یہ اس پر بد دعاء ہے۔ ” قتل “ ای لعن، خدا کی رحمت سے دور ہو۔ یہ سب سے بڑی بد دعا ہے۔ ” ما اکفرہ “ فعل تعجب ہے یا استفہام برائے توبیخ ہے۔ ایمان و تسلیم کے اس قدر اسباب و دواعی کے باوجود اس کا کفر نہایت ہی قابل تعجب ہے۔ دعاء علیہ باشنع الدعوات و تعجب من افراطہ فی الکفر بعد ھجوم الدواعی علی التشکر والایمان (مظہری ج 10 ص 200) ۔ استفہام توبیح ای ای شیء حملہ علی الکفر او ھو تعجب ای ما اشد کفرہ (مدارک) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
(گذشتہ سے پیوسنہ ) اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔ اس کے…
Read the full tafseer →قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَہٗ 17 ۭ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
ترکیب ¦ قتل الانسان الجملۃ فی الظاھر خبرو فی المعنی انشاء وھی دعاء علیہ وھی من اشنع دعوات العرب لان القتل اشد مصائب الدنیا۔ والدعاء علی الانسان یلیق بالعاجز واللہ سبحانہ قادر فوجھم انما اور دہ علی اسلوب کلام العرب ومحاوراتھم ما اکفرہ صیغۃ التعجب۔ والجملۃ انشایۃ انما اور دھا علی مح اور تھم من ای شی خلقہ استفھام والغرض زیادۃ التقریر فی التحقیر ومن تتعلق بخلق من نطفہ جواب الاستفھام والوقف علی جید من تتعلق بخلق خلقہ الخ کلام مبتداء لبیان خلقۃ الانسان السبیل منصوب بفعل مضمر یدل علیہ المذکور ای یسر السبیل یسرہ کلا۔ روع وزجر للانسان الکافر عما ھو علیہ من التکبر والاصرار علی الکفر۔ لما بمعنی لم وفاعل…
Read the full tafseer →قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَـآ اَکْفَرَہٗ ۔ (عبس : 17) (ہلاک ہو انسان یہ کتنا ناشکرا ہے۔ ) کفار پر براہ راست عتاب اس سے پہلے کی آیات میں خطاب نبی کریم ﷺ سے تھا لیکن عتاب درپردہ کفار پر تھا۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا تھا کہ آپ ان لوگوں پر توجہ دے رہے ہیں جو درحقیقت اس قابل نہیں ہیں۔ وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے انسان کی عظمت کھو چکے ہیں۔ اب وہ اس قابل ہرگز نہیں رہے کہ آپ اپنا قیمتی وقت اور قرآن کریم جیسی عظیم کتاب ان کے سامنے پیش کریں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں عتاب ان کفار پر براہ راست ہورہا ہے۔ اور عتاب کے تیور اتنے تیکھے ہیں کہ پہلے جملے ہی سے ان پر لعنت کی جارہی ہے اور غضب کا اظہار فرمایا جارہا ہے۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا ہیجس شخص نے قرآن کی نصیحت سے انکار کیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے کہ انسان اس پر اخلاص کے ساتھ عمل پیرا ہو کر قیامت کی جوابدہی کی تیاری کرے اور دنیا میں رہ کر اپنے فکر وعمل کو سنوار لے۔ جس نے اس کا انکار کیا وہ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور جو قیامت کے دن پکڑا گیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کون پیدا کرے گا ؟ کیا انکار کرنے والے کو یہ معلوم نہیں کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اللہ…
Read the full tafseer →17 : قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَکْفَرَہٗ (آدمی پر اللہ تعالیٰ کی مار وہ کیسا ناشکرا ہے) الْاِنْسَانُ اس میں کافر پر لعنت کی گئی ہے۔ نمبر 2۔ امیہ قریشی مراد ہے۔ نمبر 3۔ عتبہ۔ مَآ اَکْفَرَہٗ یہ استفہام تو بیخ کیلئے ہے یعنی (اس کو کس بات نے کفر پر آمادہ کیا) نمبر 2۔ استفہام تعجبی ہے یعنی اس پر تعجب ہے کہ اس کا کفر کس قدر سخت ہے۔
Read the full tafseer →16 ۔ پھر ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ” کرام م بررۃ “ یعنی اللہ کے ہاں معزز ہیں نیک فرمانبردار ہیں ” بار “ کی جمع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کے قبول کرنے کی موجب ہے لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ ) انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے ؟ اس نے اللہ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی ؟ حق کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا ؟ حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے اللہ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کرکے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قوی کو مہارت بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(15) انسان کی ناشکری پر اظہار تعجب و افسوس : چناچہ ارشاد فرمایا گیا انسان کی ناشکری اور اس کی بد دماغی پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ خدا کی مار ہو اس انسان پر کیسا ناشکرا ہے ؟ کہ یہ اپنے اس خالق ومالک جل جلالہ کے حقوق سے ہی غافل و لاپروا ہے جس کے انعامات و احسانات میں اس کے جسم و جان کا رواں رواں ڈوبا ہوا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ انسان کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن اس سے مراد وہی منکر اور متکبر انسان ہے جو اس کلام حکیم سے اعراض اور روگردانی برتتا ہے، جس کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے، یعنی اس کو کس قدر عظیم الشان کلام اور بےبہا رحمت سے نوازا گیا اور اس کی عظمت شان اور بےمثال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →ف 5 مراد وہ آدمی ہے جو قرآن جیسی نعمت کی قدر نہیں کرتا اور اس سے نصیحت حاصل نہیں کرتا، یا عام لوگ مراد ہیں۔
Read the full tafseer →(80:17) قتل الانسان ما اکفرہ : لفظی ترجمہ ۔ مارا گیا انسان، غارت ہوا انسان۔ لعنت ہو انسان پر۔ یہ اللہ کی طرف سے انسان کے لئے برترین بددعا ہے۔ (مجاہد کہتے ہیں قرآن مجید میں جہاں بھی قتل الانسان آیا ہے وہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ ضیاء القرآن ۔ یہ جملہ قرآن مجید میں صرف اسی جگہ آیا ہے) ۔ ما اکفرہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ استفہام توبیخی ہے۔ ای ای شیء حملہ علی الکفر۔ مرادک التنزیل، خازن (السیر التفاسیر) کسی شے نے اس کو اس کفر پر ابھارا۔ (2) یہ صیغہ تعجب ہے : ای ما اشد کفرہ وہ (انسان ) کیسا ناشکرا ہے۔ (مدارک التنزیل) ما اشد کفرہ باللہ مع کثرۃ احسانہ الیہ (الخازن) باوجود اللہ کے احسانات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کا حشر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر کی ایتوں میں گزرا ہے بلکہ انسان تو ایسا بڑاناشکرا ہے اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند یعنی منی سے مناسب اعضا میں بنایا، پیدائش کا وقت اس پر ایک مشکل کا وقت تھا اس کو آسان کیا اور پھر طرح طرح کی چیزیں اس کی عمر بھر کی ضرورت کی پیدا کیں اور جب اس کی عمر پوری ہوگئی توعقبی کے انتظام کی مصلحت سے اس کی روح قبض کی اور اس کی لاش کو رواں دواں نہیں ہونے دیا کہ کتے کوے اس کو کھاجائیں بلکہ مردوں کو زمین میں دفن کرنے کی حکمت دنیا میں ایجاد کردی تاکہ مردہ کی لاش کا پردہ ڈھکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
[4] یہ اوصاف ان فرشتوں کے بیان ہوئے جو قرآن کو لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو کام فرشتوں کے سپرد کیا گیا ہے اس میں ذرہ برابر خیانت کا امکان نہیں اور وہ اپنی ذمہ داری پوری دیانت کے ساتھ پوری کرتے ہیں۔ قرآن اور اس کے کاتبین کی صفات کے ذکر سے مقصود رسول اکرم ﷺ کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے کہ متکبر لوگوں کے سامنے منت و سماجت کر کے پیش کیا جائے اور ان سے یہ چاہا جائے کہ وہ اسے شرف قبولیت عطا کریں۔ یہ ان کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ اس کے محتاج ہیں۔ اگر وہ اپنی بھلائی چاہتے ہیں تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ورنہ جس قدر وہ اس سے بےنیاز بنتے ہیں اس سے بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(17) غارت کیا جائے آدمی وہ کیسا ناشکرا اور ناسپاس ہے۔ یعنی یہ منکر انسان جو قرآن سے تذکرہ حاصل نہ کرے اور آپ کے سمجھانے اور نصیحت کرنے کے باوجود اپنی شرارت سے باز نہ آئے تو ایسے انسان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہو کہ وہ کیسا ناسپاس ہے کیا اس کو اپنی حقیقت نہیں معلوم جو وہ اس قدر تکبر اور نخوت کا اظہار کرتا ہے اس سے مراد ابوجہل یا عتبہ ابن ابی لہب یا اور اسی قسم کا کوئی سرکش کافر ہے آگے انسانی پیدائش کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17 تا 23: بہ ناقدر اور نا شناس انسان جو کہ پاکبازوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتا اور چیں بجیں ہوتا ہے اور انہیں ڈانٹنا ہے خودذلیل و رسوا ہے اسے اپنی پیدائش یاد نہیں کہ کس گندے پانی سے اسے بنایا ہے۔ آخر اسے نطفہ ہی سے بنایا گیا ہے جو پشت سے ہوتا ہوا کہاں سے کہاں جا نکلتا ہے ۔ پھر وہ طوراً بعد طور حالات بدلتا ہوا کیا سے کیا بنتا رہتا ہے اور اس کے یہ حالات پیٹوں میں اللہ پاک کی قدرتوں سے اول بدل ہوتے ہوئے ایک کامل انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جس کے اعضاء متناسب اور شکل نہایت اچھی ہوتی ہے پھر وہ اسی طرح پر رفتہ رفتہ جوان ہو کر اللہ پاک کا مخاطب ٹھہر کر اس کے احکام کا مکلف قرار پاتا ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ (in the hands of those scribes who are honourable, righteous. [ 80:15-16] ) The word safarah, with fathah [=a+a ] on the first two letters, may be the plural of safir which means a 'scribe'. In this case, it would refer to the recording angels, or to the Prophets (علیہم السلام) and those of their aides who write down the revelation. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and Mujahid (رح) hold this view.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
8 From here the rebuke turns directly against the disbelievers, who were treating the message of the Truth with scant attention. Before this, from the beginning of the Surah to verse 16, the address though apparently directed to the Holy Prophet (upon whom be peace) , was actually meant to reprimand the disbelievers, as if to say: "O Prophet, why are you ignoring a seeker after truth and paying all your attention to those who are worthless from your mission's point of view? they do not deserve that a great Prophet like you should present a sublime thing like the Qur'an before them." 9 At all…
Read the full tafseer →